مکاتیب

ادارہ

(۱)

جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

دسمبر کے الشریعہ میں ایک مضمون ’’ پاکستانی جامعات میں قرآنیات کا مطالعہ‘‘ نظر سے گزرا۔عنوان پڑھ کر دل باغ باغ ہو گیا اور اس امید کے ساتھ پڑھنا شروع کیا کہ اس میں پاکستانی جامعات کے نصابِ تفسیر وعلومِ تفسیر کے حوالے سے ایک جامع استقرا سے کام لیا گیا ہو گا اور اس کے محاسن و معائب کو نمایاں کیا گیا ہوگا، لیکن افسوس ہے کہ ’’پاکستانی جامعات ‘‘ کے عنوان کے اعتبار سے موضوع جس وسعت کا متقاضی تھا، وہ زیرِ نظر مضمون میں نظر نہیں آیا۔

اصولِ تفسیر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:’’اس وقت ہماری جامعات میں قرآن کا جو مطالعہ کیا جا رہا ہے، عموما ہر یونیورسٹی کے اندر نصاب یکساں ہے اور اس کے نصاب میں اصولِ تفسیر اور قرآنیات یا تفسیر اور متن تفسیر شامل ہیں۔اصولِ تفسیر میں جو مرکزی کتاب پڑھائی جاتی ہے، وہ شاہ ولی اللہ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ ہے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے اس کتاب کی اصولِ تفسیر کے پہلو سے اہمیت بیان کی ہے اور کہا ہے کہ اس کی تدریس ہماری جامعات میں اس طرح نہیں ہوتی جیسی اس کتاب کا حق ہے۔پنجاب یونیورسٹی کے حوالے سے کہا ہے کہ ہم نے گذشتہ سالوں میں امام ابن تیمیہ کا رسالہ بھی شامل کیا ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب کا یہ ارشاد 1980ء سے اسلام آباد میں قائم، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے حوالے سے سخت مغالطہ پیدا کرنے والا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ پاکستان میں یونیورسٹیوں میں علومِ اسلامی کے نصاب کے حوالے سے اسلامی یونیورسٹی ایک بالکل منفرد تجربہ ہے جس کی نظیر اگر پیش کی جا سکتی ہے تو عرب جامعات کی صورت میں پیش کی جا سکتی ہے، جن کے تعلیمی منہج اور اسلوب کی گہری چھاپ اس یونی ورسٹی کے علومِ اسلامی کے نصاب پر نظر آتی ہے۔زیرِ بحث اس وقت چوں کہ قرآنیات سے متعلقہ علوم ہیں، اس لیے مذکورہ اقتباسات کے حوالے سے عرض ہے کہ اصولِ تفسیر کے سلسلے میں اسلامی یونی ورسٹی کے نصاب میں اس سلسلے میں اب تک ہونے والی جملہ کاوشوں سے طالب علم کو نہ صرف روشناس کروایا جاتا ہے، بلکہ عملاً اس کو ان سے استفادہ بھی کروایا جاتا ہے۔چناں چہ اس سلسلے میں جدید عرب علما نے جو کام کیا ہے، اس سے ہماری یونی ورسٹیوں میں عمومی شناسائی نہیں ہے۔مثال کے طور پر شیخ عبدالرحمان حسن حبنکہ المیدانی کی ’’قواعد التدبر الامثل لکتاب اللہ عز و جل‘‘، خالد بن عثمان السبت کی ’’قواعد التفسیر‘‘، خالد عبدالرحمان العک کی کتاب ’’اصول التفسیر و قواعدہ‘‘ اور مساعد بن سلیمان الطیار کی ’’فصول فی اصول التفسیر‘‘اس سلسلے کی نہایت اہم اور جامع کتابیں ہیں جس سے ایک طالب علم پہلی بار اصولِ تفسیر اور علوم القرآن کی ابحاث میں واضع امتیازات سے واقف ہوتا ہے۔اسلامی یونی ورسٹی میں اصول تفسیر کا استاد ان کتابوں کے منتخب ابواب طلبا میں تقسیم کرتا ہے جس سے اس کو موضوع پر خاطر خواہ واقفیت ہو جاتی ہے۔ مذکورہ بالا کتابوں میں سے کوئی کتاب (مثلا’’ فصول فی اصول التفسیر‘‘)بہ طور نصاب کے طے کر دی جاتی ہیاور اس کے ساتھ باقی کتابوں سے معاون کتب کے طور پر استفادہ کیا جاتا ہے، اس طرح اس میں مدارس کا قدیم کتابی طرز اور جدید موضوعی طرز خوب صورتی کے ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔شاہ ولی اللہ کی ’’الفوز الکبیر‘‘ یقیناًایک علمی کتاب ہے لیکن اگر گستاخی نہ ہو تو یہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ وہ اصولِ تفسیر سے زیادہ علوم القران کی کتاب ہے۔اصولِ تفسیر کے حوالے سے اس کو دریا بہ کوزہ کا مصداق قرار دینا شاید مبالغہ ہو۔ شاید دیگر جامعات میں اصولِ تفسیر کے نام پر علوم القرآن ہی کی تدریس ہو رہی ہے۔ 

یہاں ضمناً اس بات کا ذکر غالبا غیر مناسب نہیں ہو گا کہ اصولِ تفسیر وہ مضمون ہے جس کے لیے ہمارے علما عام طور پر اصولِ فقہ ہی کو کافی سمجھتے رہے ہیں، کیوں کہ ان میں کتاب اللہ کے فہم کے اصولوں ہی سے بحث ہوتی ہے، جس کی وجہ سے عام طور پر امت میں اس فن کی تدوین کی طرف توجہ نہیں دی گئی، لیکن متاخرین میں اس ضرورت کا پوری قوت کے ساتھ احساس ترجمان القرآن علامہ حمیدالدین فراہی کو ہوا اور پھر انھوں نے عملاً اس فن کی طرف توجہ بھی کی۔ان کے افکار سے اختلاف کی پوری گنجائش کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف ناانصافی ہو گی کہ ان کے کام میں قرآن کے اسالیب، اس کی بلاغت ،تفسیر کے اصول، ترجیح کے اصول وغیرہ مباحث بے حد قیمتی ہیں۔آج عرب علما نے اس کی طرف توجہ کی ہے تو اس کام سے استفادے کی بہت ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

تاریخ تفسیر کے حوالے سے بھی ہمیں اسلامی یونی ورسٹی کے نصاب میں باقی جامعات کے نصاب سے بہت اختلاف دیکھنے کو ملتا ہے۔چناں چہ یہاں ’’مناہج المفسرین و تاریخ التفسیر‘‘ کے نام سے مستقل مادہ پڑھایا جاتا ہے جس میں اصل بنیاد کی حیثیت محمدحسین الذہبی کی کتاب ’’التفسیر و المفسرون‘‘ کو یا مناہج مفسرین پر لکھی کسی جدید عربی کتاب کو حاصل ہوتی ہے اور معاون کے طور پر دیگر کتابوں کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔اس نصاب میں طالب مشہور مدارسِ تفسیر، تاریخ کے بڑے بڑے مفسرین،تفسیرِ ماثور اور تفسیر بالراے کے رجحانات کے تحت لکھی گئی نمائندہ تفاسیر، تفسیر کے منحرف رجحانات وغیرہ امور سے کافی واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔باقی یونی ورسٹیوں میں عام طور پر ذہبی کی کتاب کے ترجموں اور تلخیصوں (جیسے غلام احمد حریری کی ’’تاریخ تفسیر اور مفسرین‘‘) پر ہی نصاب کا مدار ہوتا ہے۔

مذکورہ دو امور کے علاوہ تفسیر میں دخیل (یعنی ماثور میں موضوعات اور اسرائیلیات اور تفسیر بالرائے میں غلط اصولوں کے تحت کی گئی تفسیر )، علوم القرآن ، اعجازِ قرآن وغیرہ مستقل مادوں کی حیثیت سے پڑھائے جاتے ہیں، جس سے ایک طالب علم پہلی بار قرآنیات کے ایک وسیع تنوع سے آشنا ہوتا ہے۔برصغیر میں تفسیر اور علومِ قرآن ایک مستقل موضوع ہے جو یہاں پڑھایا جاتا ہے۔ متن تفسیر کے حوالے سے بھی اسلامی یونی ورسٹی کا نصاب موضوعاتی نوعیت کا ہے۔مثلا تفسیر بیانی میں علامہ طاہر ابن عاشور کی ’’التحریر و التنویر‘‘، تفسیر کلامی میں ’’تفسیرِ رازی‘‘، ماثور میں ’’تفسیر نسفی‘‘ وغیرہ تفاسیر کے منتخب حصے داخل نصاب کیے جاتے ہیں جن سے طالب علم تفسیر کی نمائندہ کتابوں کا ذوق آشنا ضرور ہو جاتا ہے۔

نصاب کی اس جامعیت کے علاوہ یہ سب کچھ علومِ اسلامیہ کی اصل زبان عربی میں ہوتا ہے۔طلبہ کو مشقی کام کی تفویض ، پریزنٹیشن، تھیسس وغیرہ سب امور عربی میں کرنا پڑتا ہے۔اس سے معیار اور استعداد کا جو بین فرق سامنے آتا ہے وہ محتاجِ وضاحت نہیں، جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے عام جامعات میں طلبا کی استعداد کی غریب الحالی کو خود واضح فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی یونی ورسٹی کا علومِ اسلامیہ (تفسیر وعلومِ تفسیر، حدیث و علومِ حدیث، فقہ و شریعہ، عقیدہ و کلام، سیرت، تقابلِ ادیان وغیرہ) کا نصاب ایک مستقل تجزیاتی بحث اور نقد کا متقاضی ہے اور پاکستان کی کسی بھی جامعہ کے نصاب کے مقابلے میں زیادہ جامعیت، وسعت، گہرائی اور گیرائی کا حامل ہے۔

محمد وقاص، ایم فل اسکالر (شعبہ تفسیر)

اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد

(۲)

مولانا ابو عمار زاہد الراشدی ، رئیس التحریر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

’’الشریعہ‘‘ باقاعدہ مل رہا ہے جس سے جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ مستفید ہوتے ہیں۔ اس عنایت پر ازحد شکریہ۔ جزاکم اللہ

ماہ جنوری ۲۰۱۴ء کا شمارہ موصول ہوا جس میں جناب ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی کا نواب صدیق حسن خان پر تفصیلی مضمون نظر سے گزرا۔ انھوں نے بہت خوب لکھا۔ اللہ تعالیٰ جزا عطا فرمائے، آمین۔ البتہ مضمون میں دو باتیں ایسی ہیں جن کی وضاحت ازحد ضروری ہے۔ امید ہے ڈاکٹر صاحب تک نیک خواہشات کے ساتھ یہ وضاحت بھی پہنچا دیں گے۔

(۱) ڈاکٹر صاحب رقم طراز ہیں: ’’باوثوق ذریعہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عبادات وغیرہ میں نواب صاحب مسلک محدثین پر عمل پیرا تھا یا فقہ حنفی کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔ تاہم اپنے فکری منہج کے بارے میں نواب صدیق حسن کا ذہن بالکل صاف تھا۔ انھوں نے صراحت سے لکھا ہے: میں تو مشہور اہل الحدیث ہوں اور تقویۃ الایمان اور رسائل توحید کا پابند ہوں۔‘‘

عبادات میں نواب صاحب کا مسلک مذکورہ پیرا گراف سے ہی واضح ہو جاتا ہے۔ جو شخص اتنی صراحت کے ساتھ اہل الحدیث ہونے کا دعویٰ کرے، وہ کیونکر محدثین کا مسلک چھوڑ کر کوئی دوسرا طریقہ اختیار کرے گا؟ یقیناًنواب صاحب کا فکری منہج کی طرح عبادات اور سلوک میں محدثین والا مسلک تھا۔ بفرض محال اگر پھر بھی وثوق حاصل نہ ہو تو ان کا تحریر کردہ کتابچہ ’’تعلیم الصلوٰۃ‘‘ دیکھ لینا چاہیے۔ اس کے بعد تو ذرا بھی گنجائش نہیں رہتی کہ جاہ والا کس مسلک کے مطابق نماز ادا کرتے تھے۔ اس میں انھوں نے وہی موقف اختیار کیا ہے جو محدثین کا ہے۔ نماز میں ہل حدیث اور احناف کے درمیان جو اختلافی مسائل ہیں، انھی کا تذکرہ کر کے اپنا موقف واضح کیا ہے۔


(۲) مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صاحب تحریر فرماتے ہیں: ’’یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ فرقہ اہل حدیث میں جو جمود فکر پایا جاتا ہے اور ائمہ اربعہ خاص کر امام ابوحنیفہ کی جو تنقیص کر رہے ہیں، اس کے پیش نظر ان کا اپنے آپ کو نواب صدیق حسن خان کی طرف منسوب کرنا حقیقت سے دور معلوم ہوتا ہے۔‘‘

ہم ڈاکٹر صاحب کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں، لیکن یہ پڑھ کر افسوس ہوا کہ انھوں نے رواجی جملے تحریر فرما دیے جو زبان زد عام ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اہل حدیث کوئی فرقہ نہیں، بلکہ محدثین اور اسلاف کے اعلیٰ افکار اور منہج پر کاربند جماعت ہے جو اس عظیم الشان ورثے کی محافظ ہے جو اسلاف نے بے پناہ قربانیوں کے بعد امت کے لیے چھوڑا ہے۔ رہی بات ائمہ اربعہ اور خاص کر امام ابو حنیفہ رحمہم اللہ کی تنقیص کی تو عرض ہے کہ ہذا بہتان عظیم۔ ہم واشگاف الفاظ میں اعلان کرتے ہیں کہ اہل حدیث کا ہرگز ہرگز یہ منہج نہیں ہے کہ وہ متقدمین یا متاخرین میں سے کسی کی توہین یا تنقیص کریں۔ اس ضمن میں ہماری وہی فکر ہے جو نواب صدیق حسن خان کی ہے جس کا تذکرۂ جمیل ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں فرمایا ہے۔ ہم تمام ائمہ اور فقہاء کرام کادل وجان سے احترام کرتے ہیں اور ان کی آرا کو قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انھیں ہر دو حالت میں ماجور سمجھتے ہیں۔ امت محمدیہ کے لیے ان کی بے پناہ خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ جیسے مجھے یہ حق نہیں کہ میں دیگر ائمہ کرام کے بارے میں احناف کا موقف بیان کروں کہ ان کا طرز عمل کیا ہے، اسی طرح کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اہل حدیث کے موقف کو اپنی خواہش کے مطابق بیان کرے۔ ہم اپنا دوٹوک موقف اوپر بیان کر آئے ہیں۔ اس پر کسی کو تعلیق لگانے کی ضرورت نہیں۔

رہی بات فکری جمود کی تو امر واقعہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں اگر کوئی گروہ، جماعت یا مسلک فکری جمود سے خالی ہے تو صرف اور صرف اہل حدیث ہے، وللہ الحمد۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو گئی اور اسلام قیامت تک کے لیے آفاقی دین ہے جو آنے والوں کی مکمل راہنمائی کرے گا۔ جدید مسائل کے بارے میں اجتہاد کیا جا سکتا ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے اور یہ کام علماء امت کرتے رہے اور آئندہ بھی کریں گے۔ اس واضح موقف پر فکری جمود کا الزام بیمار ذہن ہی لگا سکتا ہے۔

اس سے بڑی حقیقت اور کیا ہوگی کہ تما م اہل حدیث مدارس میں رائج نصاب میں فقہ حنفی کی معتبر کتاب ہدایہ بالاستیعاب پڑھائی جاتی ہے اور ا س کے بعد فقہ مقارن مستقل مضمون ہے جو وفاق المدارس السلفیہ کے آخری تین سالوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ کیا حنفی مدارس یہ جرات کریں گے کہ وہ فقہ مقارن کی تعلیم اپنے طلبہ کو دیں؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے اول اور آخر ہیں۔ فکری جمود تو ان کے ہاں ہے جو صرف امام ابوحنیفہ پرانحصار کرتے ہیں۔ یہ فکری جمود ان کے ہاں کیسے ہو گیا جو نہ صرف ائمہ اربعہ بلکہ دیگر ائمہ اور فقہاء کے فقہی نقطہ نظر کو پڑھتے پڑھاتے اور ان پر عمل کرتے ہیں؟ 

اہل حدیث کایہ امتیاز ہے کہ وہ اپنے ہاں بڑی وسعت رکھتے ہیں۔ تمام ائمہ اور فقہاء کی آرا کاباریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور جو رائے اقرب الی الکتاب والسنۃ ہو، اسے قبول کرتے ہیں۔ اصل اساس اور بنیاد بہرحال قرآن وحدیث کی ہے۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کی رائے کی کیا اہمیت ہے؟ خود امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے ’’جب میں کوئی ایسی بات کہوں جو قرآن وحدیث کے خلاف ہو تو میری بات چھوڑ دو۔‘‘ اس تناظر میں اہل حدیث کا موقف اظہر من الشمس ہے۔ ان پر فکری جمود محض الزام ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

اس لیے ڈاکٹر صاحب کی خدمت اقدس میں مودبانہ التماس کروں گا کہ وہ دوبارہ بنظر غائر اس کا جائزہ لیں اور جو لوگ حقیقت میں فکری جمود، تقلید جامد کے شکار ہیں، ان کی اصلاح کریں اور کوئی نسخہ تجویز فرمائیں۔

محمد یاسین ظفر

ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان

پرنسپل جامعہ سلفیہ فیصل آباد

مکاتیب