مکاتیب

ادارہ

(۱)

بخدمت محترم مولانا زاہد الراشدی، تمغہ امتیاز

بعد از سلام مسنون، فقیر کا نام بھی مبارک باد دینے والوں میں شامل کیجیے۔ دعا ہے کہ مبارک ہی رہے۔

ایوارڈ کی خبر عزیزم جعفر نے مجھے روزنامہ اسلام کا اداریہ بھیج کر دی۔اور اس سے ایک ایسی بات معلوم ہوئی کہ ذرا سا فکر میں ڈال گئی۔ اور وہ تھی مرحوم اوج صاحب کے بارے میں آپ کے خیالات۔ میں موصوف سے نام کو بھی واقف نہ تھا۔ ان سے اولین واقفیت ان کے ایک مضمون نے کرائی جو معارف اعظم گڈھ میں نکلا تھا اور دوماہ ہوئے، میرے دوست ڈاکٹر سید سلمان ندوی نے اس کی نقل مجھے بھیجی۔ مضمون اسلام میں باندیوں (ما ملکت اَیمانکْم) کے مسئلہ سے متعلق تھا اور سلمان صاحب نے مجھے یہ بھیج کر یہ چاہا تھا کہ میں جو اس سے مختلف رائے رکھتا ہوں جس کا علم بھی انھیں معارف ہی سے ہوا تھا، اس پر از سر نو غور کروں۔ میں نے یہ مضمون پڑھ کر ڈاکٹر سلمان صاحب کو جو جواب لکھا، آپ کی تحریر مجھے اس کے بارے میں پریشانی میں ڈال گئی۔ میرے جواب کی روسے اوج صاحب قابلِ توجہ ہی نہ تھے جبکہ آپ کی تحریر سے پتہ چلا کہ وہ تو بڑی ذی علم ہستی تھی۔ میں ممنون ہوں گا اگر آپ ذرا وقت نکلا ل کریہاں اٹیچ کردہ میرا خط پڑھ لیں اور میں نے جس بنیاد پر مرحوم کے خیالات کو رد کیا، اس کے بارے میں بے تکلف بتائیں کہ کیا میں اس میں غلطی کا مرتکب ہوا ہوں۔ ڈاکٹر سلمان صاحب نے اختلاف کیا نہیں، دبے لہجے میں مان ہی لیا۔ امید ہے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے گا۔

والسلام 

نیازمند ، عتیق سنبھلی

(لندن)

(۲)

لندن ۲۴؍اگست ۲۰۱۴ء

بخدمت سیدِ والا جاہ محبِ مکرم مولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ،

میرا ای میل عریضہ مل گیا ہوگا۔ تو جناب وہ آپ کا مرسلہ مضمون ملا اورپڑھا گیا۔ آپ نے اس کے ساتھ یہ لکھ کر کہ آپ خود بھی اسی طرح سوچتے ہیں، مجھے مشکل میں ڈال دیا کہ اس مضمون کے بارے میں اپنا تأثر کیسے ظاہر کروں اور نہیں توکیسے نہ کروں۔ بہرحال عذاب ثواب آپ کے سر۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ ان پروفیسر صاحب نے ایک ایسی وادی میں قدم رکھ دیا ہے جس کی اہلیت نہیں بہم پہنچائی تھی۔ اس کی صرف ایک مثال کافی سمجھتا ہوں۔ وہ ہے موصوف کا ’’ما ملکت ایمانُکُم‘‘ میں صیغۂ ماضی سے اس دعوے پر استدلال کہ یہ ان باندیوں سے متعلق حکم ہے جو ماقبل اسلام سے چلی آرہی تھیں، ورنہ اسلامی جنگوں کے قیدیوں کو بھی اگرغلام باندی بنا کر رکھنا جائز ہوتا اور مسئلہ کا تعلق ان سے بھی ہوتاتو ماضی کے بجائے مضارع کا صیغہ لایا گیا ہوتا۔ مجھے لگتا ہے کہ آپ نے مضمون کو غور سے نہیں دیکھا، ورنہ یہ استدلال تو قرآن کی زبان سے بالکل بے خبری کا نتیجہ ہے۔ یہ اگر صحیح ہو تو جو لوگ قرآن نازل ہونے پر ایمان لائے، ماضی سے نہیں لائے ہوئے تھے، وہ تو قرآن کی اِنَّ الّذینَ اٰمَنُوا وعَمِلُوا الصٰلحات کے ذیل میں آنے سے رہے۔ ہم آپ کجا!کاش ان صاحب کو کوئی بتائے کہ قرآن تو مستقبل میں حشر و نشر اور جنت و دوزخ تک کے واقعات اور معاملات کے لیے ماضی کے صیغے استعمال کرتا ہے۔

سلمان صاحب! مجھے اگریہ نہ معلوم ہوتا کہ ارباب معارف بھی اسی طرح سوچتے ہیں تو میں کہتا کہ کیا معارف کا معیار اب یہ ہوگیا ہے کہ ایسے مضامین اس میں جگہ پائیں؟

یہ تو ہوئی پروفیسر صاحب سے متعلق گزارش۔ اب اجازت ہو تو آپ سے ایک سوال کی سورۂ مؤمنون کی آیت (۵) صریح طور پر قابلِ تمتّع عورتوں کی دو کیٹیگریز قائم کی گئی ہیں ۔اِلّا عَلیٰ ازواجِھِمْ او ما ملکتْ ایمانُھُم فَاِنَّھُم غَیرُ مَلومین آپ اس دوئی کو کس دلیل سے کالعدم کریں گے؟ 

والسلام

گستاخ نیازمند، عتیق

(۳)

باسمہ سبحانہ

محترمی حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب زیدت مکارمکم

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مبارک باد کا شکریہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اسے خیر کا ذریعہ بنا دیں۔ آمین

ڈاکٹر شکیل اوج مرحوم کے بارے میں ڈاکٹر سلمان ندوی صاحب کے نام آپ کا گرامی نامہ پڑھا۔ مجھے آیت کریمہ کے مصداق کے حوالے سے آپ کے موقف سے کلی اتفاق ہے اور میرا موقف بھی یہی ہے جس کا متعدد بار اظہار کر چکا ہوں، بلکہ کسی بھی قرآنی حکم پر جمہور اہل علم کے اجتماعی موقف سے انحراف کو درست نہیں سمجھتا۔

ڈاکٹر شکیل اوج صاحب کا تعلق بریلوی مکتب فکر سے تھا اور وہ یونیورسٹی کے ماحول میں کام کرنے والے ان حضرات میں سے تھے جو مطالعہ وتحقیق کا ذوق رکھتے ہیں اور اپنے ماحول کے مخصوص دائرہ سے باہر نکل کر کھلی فضا میں بھی افادہ واستفادہ کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ میری کمزوری یہ ہے کہ میں ایسے لوگوں کو غنیمت سمجھتا ہوں اور ان کی اس قسم کی فکری بے راہ روی پر گمراہی کا فتویٰ دینے کی بجائے افہام وتفہیم کے ذریعے رجوع کی طرف توجہ دلانے کو ترجیح دیتا ہوں جس پر بعض مفتیان کرام کے غیظ وغضب کا نشانہ بھی بنتا رہتا ہوں۔

میں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے افکار کی تائید نہیں کی بلکہ ان کے مطالعہ وتحقیق کے ذوق اور قدرے کھلے ماحول میں بحث ومباحثہ کی سرگرمیوں کا ذکر کیا ہے، بالخصوص اس پس منظر میں کہ اس قسم کے ذوق اور محنت پر ’’واجب القتل‘‘ ہونے کے فتووں کی بجائے افہام وتفہیم کا راستہ ہی میرے نزدیک صحیح راستہ ہے۔ اس لیے میری گذارشات کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

امید ہے کہ دعاؤں اور شفقتوں میں آئندہ بھی یاد رکھیں گے۔ شکریہ

والسلام

راشدی

۱۰؍ اکتوبر ۲۰۱۴ء

مکاتیب