مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم ومکرم جناب زاہدالراشدی صاحب زیدت معالیہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ،

الشریعۃ بابت جولائی ۲۰۱۱ء میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری صاحب کے مضمون بعنوان ’’دعوت اللہ کا فریضہ اور ہمارے دینی ادارے‘‘ کی دوسری قسط کا مطالعہ کیا۔ اگرچہ پہلی قسط ابھی تک نظروں سے نہیں گزری، لیکن اسی قسط سے پہلی قسط کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا محترم کے اس مضمون کا خلاصہ یہ لگتا ہے کہ یہ اُمت دعوت ہے! یہ بات سو فیصدی سچ ہے، لیکن اس بات کو موجودہ عالمی تناظر میں جس انداز سے پیش کیا گیاہے، اُس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پیش کرنے والا نہ صرف جہاد کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے بلکہ اس کو اُمت کی تباہی اور بربادی کا سبب قرار دے رہا ہے۔ سو اس فکر سے ہمیں شدید اختلاف ہے۔ گودعوت اسلام کی توسیع میں اصل کا رگر قوت ہے، لیکن اسلام سمیت کوئی نظریہ اور موقف ایسا نہیں جس کو اپنے مخالفین سے مخالفت بلکہ تصادم کا خطرہ نہ ہو۔ اسلام کتنا ہی فطری اور اپنے ہی ضمیر کی آواز کیوں نہ ہو، لیکن انسانی نفسیات کا یہ مسلمہ تو ہر کسی کو معلوم ہے کہ معاشرے کے جن طبقات کے مقام ومرتبے اور مفادات پر اس کی زد پڑتی ہے، وہ نرے وعظوں اور اخلاقی اپیل سے اس کا راستہ روکنے سے ہر گز باز نہیں آئیں گے۔ کیا نبی کریم علیہ السلام سے بڑھ کر حکیم اور انسانیت کا خیر خواہ نسل آدم میں کوئی ہوگا؟ لیکن اُن کو بھی اسی ضرورت سے ہتھیار اٹھانے پڑے۔ پھر سخت حیرت ہے اُن لوگوں پر جو نبی علیہ السلام کا نام لیتے ہیں اور انھی کے طریقے پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر بھی اسلام کی ایک ایسی ناقابل فہم اور ناقابل عمل تخیلاتی تعبیر پراصرار کررہے ہیں جو چودہ سو سالہ تاریخ میں اسلام کی کسی بھی مستند شخصیت کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔ 

دعوت اور جہاد دونوں اسلام کے اہم ترین ارکان ہیں اور سخت غلطی کر رہے ہیں وہ لوگ جو دعوت کی اہمیت کے بیان میں جہاد کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جہاد نے ہمیشہ مسلمانوں کو عزت اور وقعت کا مقام دیا ہے۔ یہ ترک جہاد کا ثمرہ ہے کہ آج ملت اسلامیہ کے لیے کفر کی بدترین غلامی میں سانس لینا مشکل ہو رہا ہے۔ سخت حیرت ہے کہ جہلا نہیں، بڑے بڑے خبردار اور علما قسم کے لوگ اس مہم میں بری طرح جتے ہوئے ہیں کہ اسلام دعوت کا مذہب ہے، جہاد کا نہیں۔ کیا نبی علیہ السلام کی یہ حدیث بھی ان کے پیش نظر نہیں ہے کہ"الجھاد ماض الی یوم القیمۃ‘‘؟ کیا اس میں کسی بھی دور کا استثنا ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں خواہ مخواہ کھینچ تان کر موجودہ دور کو اس سے نکال رہے ہیں؟ اور کیا یہ حدیث بھی کبھی کانوں سے نہیں ٹکرائی کہ ایک زمانہ آئے جب ’’قرا‘‘ قسم کے لوگ کہیں گے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں۔ حضورعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ جب تم ایسی بات سنو تو سمجھ لو کہ وہی جہاد کا زمانہ ہے۔ کسی نے حضور علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو ایسی بات کہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہا ں وہ شخص جس پر اللہ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو۔ قربان جاؤں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ؐ کی پیشین گوئیوں کے کہ جو الفاظ آپ نے استعمال فرمائے، وہی الفاظ آج بڑے بڑے دینداروں کے منہ سے بعینہ نکل رہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ یہ جہاد کا زمانہ نہیں ہے۔ 

قرآن کی آیات اور روایات حدیث سے تو بصراحت جہاد کی سخت ضرورت واہمیت معلوم ہورہی ہے اور ایک دُنیا اچانک جہاد کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ کیا یہ اُس کفر کا ایک مظہر تو نہیں جو عالم اسلام کے چپے چپے میں دکھائی دے رہا ہے؟ عام طور پر کفر اور خصوصاً دورحاضر کا کفر کتنے طریقوں اور حیلوں بہانوں سے ہمارے ذہنوں میں ایسے افکار انڈیل رہا ہے جو اُس کی عالمی بالا دستی اور مسلمانوں کی پستی وتنزل کاسبب بن رہے ہیں اور ہم سب بالخصوص ہمارا دانشوراور روشن خیال طبقہ انہی خیالات کو نئے رنگ وروغن کے ساتھ اُمت مسلمہ میں پھیلا رہا ہے۔ یورپ خود تو خون کی ندیا ں بہارہا ہے اور ہمیں کہہ رہا ہے کہ نظریے کی خاطر ہتھیار اُٹھانا دہشت گردی ہے۔ 

میں قرآن وحدیث کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ آج کل پشاور کے ایک مدرسے میں پڑھاتا ہوں۔ کسی زمانے میں مختلف رسائل میں تھوڑی بہت لکھنے کی عادت تھی، لیکن عرصہ ہوا یہ سلسلہ چھوٹ گیاہے ، لیکن جہاد کے خلاف اس عالمی مہم نے مجھے سخت بے قرار کردیا ہے۔ ہمارے ہاں تبلیغی جماعت کے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ چل پھر رہے ہیں۔ ان لوگوں سے دین کے بارے میں بہت توقعات تھیں، لیکن اب یہ دیکھ کر سخت کوفت ہوتی ہے کہ یہ پوری جماعت جو مشرق اور مغرب میں پھیلی ہوئی ہے، اس کے اصاغرواکابر سب بلاتفریق جہاد کے خلاف کمر بستہ ہیں اور جہا د کو فساد باور کرارہے ہیں اور جرات اور بے باکی اس حد تک پہنچی ہے کہ چونکہ قرآن وحدیث سے جہاد کے مضمون کوکھر چا نہیں جاسکتا، سو وہ قرآن وحدیث کے حلقوں کو خاموش اور موقوف کرنے کی شعوری کوششوں میں ہمہ تن مصروف ہیں اور ان کے بارے میں بہت ناگفتنی باتیں بنا رہے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ہم تو جوڑ پیدا کر رہے ہیں اور قرآن توڑ پیدا کررہا ہے۔ آپ بتائیں، یہ کافرانہ باتیں نہیں ہیں؟ قرآن وحدیث کی جگہ تبلیغی نصاب اورفضائل اعمال کو رواج دے رہے ہیں اور جو صریح آیات واحادیث قتال کے بارے میں ہیں، اُن میں سخت مجرمانہ تحریف کرکے بستر اٹھانے پر فٹ کر رہے ہیں۔ قرآن وحدیث سے تھوڑی سی شناسائی رکھنے والا بھی ایمانداری سے کہے کہ یہ اسلام کی خدمت ہے یا کفر کی؟ انگریزوں نے مسلمانوں کے دلوں سے جہاد کا تصور محو کرنے کے لیے ایک جعلی نبوت تیار کی، لیکن وہ مہم کچھ زیادہ کا میاب نہیں ہوسکی۔ اب کی بار اُنہوں نے تیر صحیح نشانے پر مارا ہے۔ مسلمانوں کی ایک عالمی جماعت کو پتہ نہیں، کس طرح سے جہاد کے خلاف کھڑا کیا اور مشرق ومغرب کے ان گنت مسلمان دانشوروں کو اُن کی فکری اور علمی مدد اور نصرت پر لگا دیا۔ یقیناًیہ مہم کسی درجے میں کامیاب ہوگی۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اب جب کہ جہاد کی برکت سے کفر کی کمر ٹوٹنے والی ہے اور مسلمانوں کا دور عروج دستک دے رہا ہے، کافر اور ان کے ایجنٹ یا اسلام کے احمق ترین دوست پورے زورو شور سے جہاد کے خلاف صف بندی کیے ہوئے ہیں۔ آج جہاد کے خلاف مہم چلانا ایسا ہے جیسے مجاہدین اسلام کی پیٹھ میں پیچھے سے چھرا گونپنا۔

مجھے مولانا منصوری سے شخصی تعارف بالکل نہیں۔ آج سے چار پانچ سال پہلے اُن کا ایک مضمون ’الحق‘ اکوڑہ خٹک میں چھپا تھا۔ اُس کو میں نے پڑھا تھا۔ اُس میں اسلام کی احیائی تحریکوں کے خلاف مواد تھا۔ اُس وقت بھی اس مضمون پر شدید تحفظات پیدا ہوئے تھے اور آج پھر اسی فکر کو نئے انداز میں الشر یعہ میں پڑھا۔ اگرچہ اُن کے مضامین میں کام کی باتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن اُن کے بنیادی فکر سے ہمیں شدید اختلاف ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بقول اُن کے اگر اُمت نے ماضی میں دعوت کے کئی مواقع ضائع کرکے نقصان کیا ہے تو آج جہاد کا انکا رکرکے ملت کو اس سے کہیں بڑھ کر نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ آج اُمت کو جہاد کی ضرورت ہے۔ افغانستان اور دُنیا کے بعض دیگر ملکوں میں کفر واسلام کا معرکہ برپاہے۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کی عظیم قوتوں اور بالخصوص حیرت انگیز ٹیکنالوجی کی طاقتوں کے توڑ کے لیے تاریخ انسانی کے سب سے زیادہ پر عزم اور پرجوش مجاہدین کو لا کھڑا کیا ہے۔ اب تمام مسلمانوں کو ان مجاہدین کی دامے درمے سخنے مدد کرنی چاہیے، نہ یہ کہ کفر کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں۔ 

الطاف الرحمن بنوی 

اُستاد جامعہ امداد العلوم، پشاور صدر

(۲)

ماہنامہ الشریعہ جولائی ۲۰۱۱ء کے ص۱۱ تا ۲۵ پر روشن خیالی سے بھرپور ایک مضمون بعنوان ’’سماجی، ثقافتی اور سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ شائع ہوا ہے جسے پڑھ کر خیال گزرا کہ مولانا وحید الدین خان، جناب ذاکر نائیک، جناب جاوید غامدی اور اسی قبیل کے روشن خیال، جدید مفکرین اور اسکالرز ہی کے تسلسل کا نام حافظ صفوان محمد چوہان ہے۔ مندرجہ بالا دینی اسکالرز سے اختلاف رائے کے باوجود ہمارے دل میں ان کا ادب و احترام ہے۔ ان کے تفرد و تجدد سے قطع نظر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے میدان کی قد آور شخصیات ہیں اور ان کی مثبت خدمات سے انکار کی کوئی صورت ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ حافظ صفوان کس بنیاد پر اپنا قد بڑھانے کے لیے یہ شگوفے چھوڑ رہے ہیں، یہ معاملہ ہماری فکرا ور سوچ سے ماورا ہے۔ گلاب جامن اور رس گلے میں جو زہر چھپا کر انہوں نے اس مضمون کے ذریعے عوام الناس کو دیا ہے، اس کے نتائج انتہائی بھیانک نکلیں گے۔ شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل چپکانا اور سور کے گوشت کو بکری کے گوشت سے تعبیر کرنا، یہ انداز بہت ہی خطرناک و المناک ہے۔ 

حافظ صفوان کا طریقہ بھی عجیب غریب ہے۔ کبھی تبلیغی جماعت کی آڑ لینا اور کبھی مجلس احرار اسلام کا نام لے کر اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرنا، چہرے پر ڈاڑھی سجا کر اور سر پر ٹوپی اوڑھ کر ڈاڑھی رکھنے اور ٹوپی پہننے والوں کا مذاق اڑانا، یہ تو مرزا غلام احمد قادیانی کے طرز فکر کو اپنانے جیسا فعل ہے۔ فکری و ذہنی انتشار کی عکاس یہ طویل تحریر پڑھ کر صفوان چوہان صاحب کے ژولیدہ فکر ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ تضادات کا مجموعہ یہ تحریر معلوم نہیں، انہوں نے کس ترنگ میں آ کر لکھی ہے۔ دینی مزاج، دینی ذوق اور دینی انداز فکر رکھنے والوں پر انہوں نے جو دست تطاول دراز کیا ہے، یہ ان کے چرغینہ پن پہ دلالت کرتا ہے۔ انہوں نے جس چترائی سے دینی حلقوں پہ ہاتھ صاف کیا ہے، اسے پڑھ کر ہم انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ وہی حافظ صفوان چوہان ہیں جو پروفیسر عابد صدیق مرحوم جیسے ولی اللہ کے بیٹے تھے، یہ وہی ہیں جو نواسۂ امیر شریعت، سیدذوالکفل بخاری شہید کے دوست تھے، یہ وہی ہیں جنہوں نے تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، یہ وہی ہیں جنہوں نے ماہنامہ الاحرار کی خصوصی اشاعت میں رئیس المبلغین حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ پر مضمون لکھا تھا؟ یا یہ کوئی روشن خیال اور جدت پسند قسم کے کوئی صفوان چوہان ہیں۔ معلوم نہیں کس کو خوش کرنے کے لیے اور کس سے اشیرباد حاصل کرنے کی خاطر انہوں نے یہ طرز تحریر اپنایا ہے۔ 

عورتوں کا دکانداری کرنا، عورتوں کا مسجد میں آ کر نماز باجماعت میں شریک ہونا، اس کے دلائل دینا، اسلامی لباس کا تمسخر اڑانا، دینداری کو جہالت سے تعبیر کرنا، دینی و معاشرتی زرّیں اقدار کو دیرینہ اسلامی لطیفہ قرار دے کر ان کا مذاق اڑانا، برقعے اور پردے پہ تنقید، مساجد کو کمیونٹی سنٹرز سے تعبیر کرنا، تحریک آزادی کے نامور رہنماؤں پہ غصہ نکالنا ، سر سید احمد خان کو سیدالقوم، سر آغا خان کو قومی و ملی تاریخ کے ڈیڑھ ہزار سالہ سفر میں آنے والی کہکشاؤں میں سے ایک بڑا نام اور انہیں ستاروں کے لیے نشان راہ قرار دینا، اقبال شکنی، قائد اعظم شکنی اور سر سید شکنی کے نام پر اہل حق سے اظہارِ بے زاری، علمائے حق کے مقام، مرتبہ اور عزت و عظمت پہ تنقیدات، یہ سب آخر کیا ہے اور کس بات کی غمازی کر رہا ہے؟ تحریک آزادی کے نامور قائدین، جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے جانفروش رہنماؤں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ آج کہاں کھڑے ہیں، آج ان کی کیا عزت ہے، ان کو آج کون جانتا ہے، یہ گھناؤنا انداز اور یہ پھکڑ بازیاں کس مکروہ اور کثیف سوچ کی عکاس ہیں؟ 

حافظ صفوان چوہان صاحب! سید ذوالکفل بخاری شہید کوئی صدیوں پرانے بزرگ نہیں۔ اُن کی حادثاتی وفات کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ مرحوم نے عرصۂ حیات کسی گمنام مقام پر نہیں گزاراکہ اُنھیں آپ کے علاوہ کوئی جانتا نہ ہو۔ میرے خیال میں آپ اس سے اتفاق کریں گے کہ جتنے انسانوں سے آپ کو ساری زندگی میں ملاقات کا موقع ملا ہے، مرحوم کے صرف مستفیدین کا حلقہ ہی تعداد میں اس سے وسیع تر ہے۔ مرحوم ایک صالح نوجوان تھے، اسکول و کالج بلکہ کسی ماحول میں بھی وہ سر سے ٹوپی نہیں اتارتے تھے۔ ایک بار کلاس ٹیچر نے جب اس حوالہ سے سختی کی تو انہوں نے اپنا سیکشن تبدیل کرا لیا تھا، مگر سر سے ٹوپی اتارنا گوارا نہ کیا۔ آپ اپنا ہودہ و بے ہودہ ان کے نام منسوب کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو یہ واہیات ارشاد فرمانے ہی ہیں تو براہ کرم کسی اور کندھے کو تلاش کیجیے۔ الفاظ آپ کے، سوچ آپ کی اور منسوب کر رہے ہیں سید ذوالکفل بخاری شہید کی طرف! یہ دوست کشی اور محسن کشی کی انتہا ہے۔ کیا اس سے آپ کا انکار ممکن ہے کہ آپ اپنی تحریرات میں ان سے رہنمائی لیتے تھے اور آپ کی باگیں اُنھی کے ہاتھ میں تھیں؟ بلا شبہ اُن کے انتقال کے بعد آپ بے پیر ے ہو گئے ہیں۔

آپ کا یہ فرمانا کہ ’’پتلون کو ٹھیٹھ فرنگی لباس سمجھنا بھی راہ اعتدال سے ہٹ جانا ہے۔ حضرت عمر اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی اسلامی فوج کے یونیفارم کی وضع یہی رہی ہے۔۔۔۔۔۔ٹائی کو صلیب سمجھنا بھی ایک دیرینہ اسلامی لطیفہ رہا ہے‘‘۔ آپ کے مضمون کی ہر سطر کا ہر لفظ شاہد عدل اور شاہد اہل ہے کہ نہ تو آپ کو مذہب کے بارے میں مطالعے کا موقع ملا ہے اورنہ ہی تاریخ سے آپ کو کچھ مس ہے۔ آپ تو نرے پروفیسرو ڈاکٹر ہیں، بلکہ اب تو اِس دال میں بھی کچھ کالا محسوس ہوتا ہے۔ اب آپ جس راہ اعتدال پہ قوم کو لانے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ پرویز مشرف اور آپ کی سوچ میں کتنی مماثلت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ 

’’برقعے والی جھانپو کبوتری‘‘ یہ کیا اصطلاح ہے؟ یہ واہیات لفظ چیخ چیخ کر پکاررہاہے کہ آپ ہی کے دہن شریف سے نکلا ہے اور یہ اصطلاح پیش کر کے برقعہ اوڑھنے والی عورتوں کے لیے آپ کس نئے نام کو متعارف کر وا رہے ہیں؟ آپ کی اس تحریر کو پڑھ کر اگر کل کوئی منچلا کسی برقعہ پوش عورت کو ان الفاظ سے پکارے گا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ آپ ہی ہوں گے! آپ اپنے اس ارشاد گرامی پر بھی غور فرمائیں کہ ’’عورتوں کو برقعے میں اتنا چھپا ہوا نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں پہچانا ہی نہ جا سکے‘‘ اور یہ بھی کیا طرفہ ارشاد ہوا ہے کہ ’’برقعے کا مقصد زینت کو چھپانا ہے نہ کہ عورت کی شناخت کو چھپانا‘‘ اور ساتھ ہی فتویٰ بھی دے دیا کہ ’’ شناخت کو چھپانا شرعاً اور قانوناً جرم ہے۔‘‘ شریعت اور قانون میںیہ در اندازی انتہائی واہیات ہے۔ جنابِ من! اپنی حیثیت کا تعین کر لیجیے۔آپ کے جُلسا سے سُنا ہے کہ آپ علم و جہل کے سیاق میں خود ہی بتایا کرتے ہیں کہ آپ کے تو بیٹے کا نام بھی عکرمہ ہے۔ ’’وطن کی محبت میرے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ایک حدیث پاک کے الفاظ ہیں۔‘‘ عربی کے اس مقولہ کو حدیث پاک کے الفاظ قرار دینے کی جرات عکرمہ کے ابو ہی کر سکتے ہیں۔ ’’پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہ ہونے والی جماعت‘‘ کا طنز آپ نے کس جماعت پر کیا ہے اور اس جماعت کے ذمہ داران کے ساتھ آپ کے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟

آخری التماس آپ سے یہ ہے کہ براہ کرم سید ذوالکفل بخاری شہید کے علوم و افکار کے وارث اور شارح آپ نہ بنیں، اپنے نظریات کے پرچار کے لیے ان کا نام استعمال نہ کریں، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے علوم و افکار کے شارح پروفیسر محمد سرور بنے اور انہیں ایک متنازعہ شخصیت بنا دیا۔ اب آپ سید ذوالکفل بخاری شہید کے شارح بن کر براہ کرم انہیں متنازعہ نہ بنائیں۔وہ بہت محترم انسان تھے۔شہادت کے بعد تو اور زیادہ لائق احترام ہو گئے ہیں۔ آپ اگر ان کا احترام نہیں کر سکتے تو نہ کریں، لیکن ایسی واہیات اور مکروہ باتیں ان کی طرف منسوب کر کے ان کی روح مبارکہ کو اذیت تو نہ پہنچائیں اور اُن کے چاہنے والوں کی دل آزاری بھی نہ کریں۔ اسی میں آپ کا بھلا ہے۔

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی 
خوفِ فسادِ خلق سے ناگفتہ رہ گئے

محمد عکاشہ سرور۔ ہری پور

(۳)

ماہنامہ الشریعہ کے جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان کا مضمون نظر سے گزرا۔ حافظ صفوان صاحب نے نماز، زکوٰۃ، حج، صدقہ، اعتکاف سے لے کر لباس، برقعہ، عدت، نکاح، تصویر، کرنسی کی قدر وقیمت اور قرض تک کئی موضوعات کا نہایت خوب صورتی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ زندگی کے عملی احوال سے متعلق ایسے حساس موضوعات پر ایک ہی مضمون میں حق ادا کرنے کی کوشش بجاے خود قابل تحسین ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ صفوان صاحب نے اپنے مخصوص اسلوب بیان سے قارئین کے دل موہ لیے ہیں۔ ہمارے دوست ڈاکٹر اکرم ورک صاحب بتا رہے تھے کہ انھوں نے اس مضمون کی بنیاد پر اپنی مسجد میں چار دروس دیے ہیں۔ اسی طرح الشریعہ کے ایک او ر قاری نے فرمایا کہ جب سے انھوں نے ’الشریعہ‘ کا مطالعہ شروع کر رکھا ہے، اس وقت سے اب تک یہ مضمون انھیں بہترین مضمون معلوم ہوا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ حافظ صفوان صاحب کا یہ فرمانا بالکل بجا ہے کہ ہمارے معاشرے کے مخصوص طور اطوار نے دین کی غلط تعبیریں دین کے سر منڈھ دی ہیں۔ رمضان المبارک میں روزوں کی کیفیت کو ہی دیکھ لیجیے۔ شاید ہی کوئی مسلمان ہو جو کثرت مواقع کے باوجود چھپ چھپا کر کھا پی لیتا ہو۔ اسی طرح شاید ہی کوئی مسلمان ہو جس کے رویے میں کھانے پینے سے پرہیز کے علاوہ کوئی تبدیلی رونما ہوتی ہو۔ ہم یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اللہ ناراض ہو جائے گا، لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ جھوٹ بولنے سے، بدنظری سے، بد عنوانی سے، لوٹ مار کرنے سے اور بدکلامی سے بھی روزہ، روزہ نہیں رہتا۔ یہاں بھی دین کی غلط تعبیر کام کر رہی ہے کہ اللہ روزے کے دوران میں کھانے پینے سے تو ناراض ہوتا ہے، لیکن دیگر کرداری امور سے اللہ کو کوئی سروکار نہیں، یعنی عملاً بس کھانے پینے سے پرہیز ہی حقیقی روزہ ہے۔ حافظ صفوان صاحب کے تتبع میں، میں بھی قارئین الشریعہ کے سامنے یہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ روزہ اپنی اصل روح کے ساتھ ہمارے ہاں آخر کب جلوہ گر ہوگا؟

پروفیسر میاں انعام الرحمن

inaam1970@yahoo.com

(۴)


Brother Ammar Sahib, Assalaam-o-alaikum.
I have read with keen interest the letters of Brothers Izhar and Zahid Mughal. I really appreciate the efforts of Al-Sharia in accommodating different, even opposite, opinions. Arguments are always good, but discussions between various schools of thought are best. I think argument is to find who is right but discussion is to know what is right. Lets say this is the main objective of Al-Sharia. Therefore I cannot endorse what Brother Izhar said about not publishing the views which he thinks are not correct.
However I could not justify the remarks of Brother Zahid Mughal that other people do not understand about science and technology and he is the only person who has perceived the actual understanding of Western or even Greek Philosophy. His own opinion about Western Philosophy or Science may be true according to his knowledge but I have no right to say that he jumps in to draw wrong conclusion without studying basic issues of philosophy of science, theory of knowledge etc.
If I am not bracketed or blended with an Ignorant Muslim or a modern man whose science is the deity, I think distinction can be made between science and technology and their results without the West as a cultural value system, which Mr. Mughal failed or did not like to perceive. I do not wish to horn with anybody over this issue but I see my religion and science as compatible and wish to bring all scientific investigations within the realm of Islam. Rather let me put bluntly that Islam flourish more within a scientific atmosphere than in a closed and one-sided blind society.
I agree that the materialistic philosophy, which set the agenda and goals for Western science and technology, produced corrupted results due to evil intentions. However correct intentions as proffered by Islam would permit the proper use of science and technology. Therefore it is utmost necessary that Muslims should study and use modern science and other social sciences without which I am afraid our future is dark.

M. Anwar Abbasi
anwarabbasi@hotmail.com


مکاتیب

ستمبر ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۹

دینی جدوجہد اور اس کی اخلاقیات
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

قومی ہم دردی اور ہم
مولانا محمد بدر عالم

مدارس میں تصنیف و تحقیق کی صورتحال
مولانا محمد وارث مظہری

عصر حاضر میں غلبۂ اسلام کے لیے جہاد
اویس پاشا قرنی

تشدد، محاذآرائی، علیحدگی اور غلبہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

حافظ صفوان محمد کے جواب میں
طلحہ احمد ثاقب

جناب محمد عمار خان ناصر کی خدمت میں
پروفیسر خالد شبیر احمد

مکاتیب
ادارہ