مکاتیب

ادارہ

(۱)

۲۲ نومبر۲۰۱۳ء

بگرامی خدمت محترم مولانا زاہد الراشدی زیدت مکارمہٗ

مولانا! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

جی تونومبر کے الشریعہ میں ’’۔۔۔ ہائڈ پارک ‘‘والا کلمہ حق پڑھ کر کچھ لکھنے کو چاہا تھا مگر اس کے لئے استخارے کی ضرورت تھی جو میں نہیں کرسکا،حتیٰ کہ نومبر کا نقیبِ ختمَِ نبوت آپہنچا ۔اس میں میرے والدِ ماجد ؒ کے ایک مضمو ن کے ساتھ آنجناب کے والدِماجدؒ کاایک فتویٰ بھی یزید کے بار ے میں چھپا ہے، اپنا جو نقطہ نظر یزید کے بارے میں ہے یہ فتویٰ تو اپنے الفاظ سے اسے بہت ہی تائید بہم پہنچاتا ہے ، کہ آجکل کے اعتبار سے تو وہ ولی تھا، مگر میں ان الفاظ کو ذرا وضاحت طلب پارہاہوں کہ ایک زمانہ کا’’ فاسق‘‘ کسی دوسرے زمانے میں فاسق کے بجائے ’’ولی‘‘ کہلانے کا مستحق ہو۔ مجھے کوئی شبہ نہیں حضرت ؒ نے یہ بات از روئے علم فرمائی ہوگی، مگر مجھ کم علم پر وہ عالما نہ نکتہ نہیں کھل رہا ہے، آپ سے بجا طور پر امید ہے کہ اسے کھول سکیں گے۔اور ایک بڑا نکتہ ہاتھ آئے گا۔ والسلام

نیازمند، عتیق سنبھلی 

(۲)

عزیز گرامی محمد عمار خان ناصر ! سلمک اللہ تعالیٰ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزارش ہے کہ ماہ نومبر کے ادارتی صفحات میں آپ کے گرامی قدر والد محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظ اللہ نے ’’الشریعۃ‘‘ کے مستقل عنوان ’’مباحثہ و مکالمہ‘‘ پر ایک معترض کے اعتراض کا جواب تحریر کرتے ہوئے اس پہلو کو اجاگر کیا ہے کہ اس کی اہمیت و افادیت اسی وقت ہے جب طرفین کی رائے ایک ہی جگہ شائع ہو تاکہ قارئین کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔ اس تحریر کا مطلب یہ ہے کہ ایک فریق کا موقف تو مکمل طور پر بیان کر دیا جائے، لیکن اس کی وضاحت میں دوسرا فریق اپنا موقف شائع کرنے کے لیے بھیجے تو وہ قطع و برید کی نذر ہو جائے اور اس کے دلائل کا معتد بہ حصہ شائع نہ کیا جائے، یہ مباحثہ و مکالمہ کی روح کے بھی خلاف ہے اور اس سے اس کالم کی افادیت و اہمیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

راقم کا جو مضمون نومبر کے حصۂ مکاتیب میں (جو مباحثہ و مکالمہ پر مشتمل ہے) شائع ہوا ہے، ’’الشریعۃ‘‘ کے مدیر محترم نے اس کے ساتھ یہی معاملہ کیا ہے۔ اس کے بہت سے دلائل حذف کر دیے گئے ہیں اور بعض جگہ عبارت میں بھی جھول اور بے ربطی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ مضمون اہل حدیث پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی وضاحت پر مشتمل تھا۔ جواب میں ظاہر بات ہے، جواب آں غزل کے طور پر مسلک دیوبند بھی زیر بحث آنا تھا کہ اس کے بغیر لگائے گئے الزامات کی صفائی ناممکن تھی۔ یہ ’اس نے غزل چھیڑی میں نے ساز چھیڑا‘ کا آئینہ دار تھا۔ تاہم راقم نے اپنے مضمون میں پوری کوشش کی کہ گفتگو سنجیدگی اور متانت کے دائرے سے نہ نکلے اور لب و لہجہ ایسا شوخ نہ ہو کہ فاضل مدیر کو ’’ایڈیٹنگ‘‘ کی ضرورت محسوس ہو۔ لیکن پھر بھی چونکہ یہ مدحت نگاری نہیں بلکہ تنقید نگاری تھی اور تنقید میں دلائل بھی تلخ ہی محسوس ہوتے ہیں، لیکن یہ تلخی ایسی ہوتی ہے جو علمی گفتگو میں ناقابل برداشت نہیں ہوتی اور فریق مخالف کو یہ جرعۂ تلخ نوش کرنا ہی پڑتا ہے، کیونکہ اس کے بغیر مکالمہ و مباحثہ کا مقصد ہی پورا نہیں ہوتا۔ اس لیے فاضل مدیر کو راقم کے دلائل میں (لہجے میں نہیں) تلخی محسوس ہوئی تو ان کو حذف کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا بلکہ اس کو بقول حافظ شیرازی :

جواب تلخ می زیبد لب لعل و شکر خارا

کا مصداق سمجھنا چاہیے تھا۔

راقم کے مضمون میں زیر بحث قطع و برید کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس کو بلی کے آگے چھوڑ دیا جائے یا ایک فریق کے ہاتھ باندھ کر فریق مقابل کے روبرو کھڑا کر دیا جائے۔ حافظ عبد الجبار سلفی صاحب اور فاضل مدیر دونوں ہم مسلک ہیں۔ راقم کے مضمون سے دلائل کے حذف سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فاضل مدیر نے مسلکی جانبداری کا مظاہرہ بھی کیا ہے اور علمی دیانت کا خون بھی۔ کیا فاضل مدیر اپنے مباحثہ و مکالمہ کے کالم کے حوالے سے اپنے بارے میں اس تاثر کو پسند کریں گے؟

بنا بریں فاضل مدیر سے استدعا ہے کہ وہ راقم کا مضمون مکمل طور پر شائع کریں، پھر اس کے جواب میں سلفی صاحب کا موقف بھی مکمل شائع کریں۔ اس علمی مباحثے کو قارئین کے لیے مفید اور نتیجہ خیز بنانے کا صحیح طریقہ یہی ہے۔ راقم کے مضمون کو مکمل طور پر شائع کیے بغیر فریق ثانی کے جواب کی اشاعت مسلکی جانبداری بھی ہوگی اور علمی دیانت کے منافی بھی۔ البتہ راقم کے مضمون میں کوئی نازیبا، ناشائستہ اور اخلاق سے گرا ہوا لفظ ہو تو اسے کاٹنے کا حق یقیناًآپ کو حاصل ہے۔ لیکن راقم کے مضمون میں خوردبین لگا کر بھی دیکھنے سے ایسا کوئی لفظ نہیں ملے گا جس کو آج کل کی اصطلاح میں غیر پارلیمانی کہا جا سکے۔ 

فاضل مدیر کانٹ چھانٹ کے جواز کے لیے ایک دلیل یا عذر ’’اختصار‘‘ کا بھی پیش کر سکتے ہیں لیکن اختصار کا جواز بھی اسی وقت ہو سکتا ہے جب مضمون میں غیر ضروری طوالت یا غیر متعلقہ چیزیں ہوں، ایک فریق کے پیش کردہ دلائل کو نہ طوالت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ غیر متعلقہ چیز، کیونکہ موقف کی وضاحت کے لیے حسب ضرورت مواد پیش کرنا ناگزیر ہے۔

راقم ادارتی ذمے داریوں سے بخوبی واقف ہے۔ تقریباً ربع صدی کا عرصہ راقم نے اسی دشت کی سیاحی میں گزرا ہے۔ راقم ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کا ۲۳، ۲۴ سال مدیر رہا ہے اور اس پر وہ فخر کر سکتا ہے کہ اس کے مؤقر قارئین میں ’’الشریعۃ‘‘ کے رئیس التحریر اور آپ کے والد محترم حفظہ اللہ بھی رہے ہیں جس کی آپ ان سے تصدیق فرما سکتے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی سے راقم کا ربط و تعلق تب سے ہی ہے جب آتش جواں تھا اور گاہے بگاہے دینی مکاتب فکر کی مشترکہ میٹنگوں اور علمی سیمیناروں میں مسلسل ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں جس کا سلسلہ کچھ عرصے سے راقم کی صحت کی خرابی کی وجہ سے موقوف ہے۔ راقم ان کو اپنا دوست بھی سمجھتا ہے اور بزرگ بھی، کیونکہ اس وقت وہ قلم و قرطاس اور دیگر علمی محاذوں پر جو خدمت سر انجام دے رہے ہیں، وہ نہایت وقیع اور بہت قابل قدر ہیں۔ متعنا اللّٰہ بطول عمرہ۔ اور وہ بھی راقم کو یقیناًدوست ہی نہیں، بزرگ بھی سمجھتے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس دینی محبت کو برقرار رکھے اور اس کو ذریعۂ قرب الٰہی بنائے (جیسا کہ احادیث میں یہ بشارت دی گئی ہے)۔

بہرحال بزرگوار محترم کا ذکر تو استطراداً نوک قلم پر آگیا، اس ذکر سے راقم کسی ’’مخصوص رعایت‘‘ کا طالب نہیں، البتہ صحافتی برادری کا ایک فرد ہونے کے حوالے سے ’’الشریعۃ‘‘ کے مدیر سے اپنے اس حق کا خواہش مند ضرور ہے کہ وہ صحافتی ذمے داریوں کے تقاضوں کے پیش نظر راقم کا مضمون مکمل شکل میں شائع فرمائیں۔ بصورت دیگر اس بحث کی بساط لپیٹ دی جائے اور فریق ثانی کی بھی جوابی تحریر کو ہرگز شائع نہ کیا جائے، کیونکہ یہ ’’ون وے ٹریفک‘‘ علمی دیانت کے یکسر خلاف ہوگا۔ 

حافظ صلاح الدین یوسف

مدیر: شعبۂ تحقیق و تالیف دارالسلام لاہور

(۳)

بزرگوارم جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب زید مجدہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

’الشریعہ‘ کے لیے آنجناب کی تحریریں اور شائع شدہ تحریروں کے حوالے سے آپ کا شکوہ نامہ موصول ہوا۔ اس بزرگانہ مواخذہ کے لیے بہت ممنون ہوں۔ 

’الشریعہ‘ جیسے کھلے بحث ومباحثہ کے فورم کے مدیر کے لیے کسی تحریر میں ایڈیٹنگ کا حق استعمال کرنے اور نہ کرنے، ہر دو صورتوں میں شکووں اور شکایتوں سے کوئی مفر نہیں۔ ہماری عمومی پالیسی یہی ہے کہ کم سے کم ایڈیٹنگ کی جائے، تاہم بعض صورتوں میں مخصوص وجوہ سے ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔ آپ نے اپنے مکاتیب میں جن مسائل: تقلید شخصی اور حیاۃ الانبیاء وغیرہ کو موضوع بنایا ہے، وہ بنیادی طور پر ’الشریعہ‘ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں اور نہ ان مسائل کو ہماری طرف سے بحث ومباحثہ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ برادرم مولانا عبدالجبار سلفی صاحب نے اہل تشیع پر ایک مضمون میں ضمنی طور پر ان مسائل پر چند جملے لکھے تھے۔ اس کے جواب میں آپ نے اہل حدیث کے نقطہ نظر کی وضاحت فرمائی جو آپ کا حق تھا اور اس کی اشاعت ہماری ذمہ داری۔ تاہم آپ کے دوسرے تفصیلی مکتوب میں گفتگو کا دائرہ موقف کی وضاحت تک محدود نہیں رہا تھا، بلکہ اس میں ایسے پہلو بھی چھیڑے گئے تھے جو ایک fully-fledged  بحث کی تمہید بن سکتے تھے، جبکہ آپ جانتے ہیں کہ اس نوعیت کے فروعی وکلامی اور مناظرانہ بحثوں کا موضوع بننے والے مسائل کو الشریعہ میں الا اللمم  کے درجے میں ہی جگہ دی جاتی ہے۔ اس وجہ سے آپ کے مکتوب کے بعض وہ حصے حذف کرنے کی جسارت کرنا پڑی جو دوسری طرف سے اسی طرح کی تفصیلی جوابی تحریروں کو دعوت دے رہے تھے۔ 

اس ضمن میں مجھ پر ’’مسلکی جانبداری‘‘ کی بدگمانی کم سے کم آنجناب کی طرف سے بالکل سمجھ میں نہیں آئی۔ آپ نے اپنی بعض حالیہ تحریروں میں میری نسبت جس مکتب فکر کی طرف کی ہے اور مجھے اس کی ’’ملحدانہ فکر‘‘ (غالباً یہی الفاظ ہیں) کا علم بردار قرار دیا ہے، وہ یقیناًآپ کو یاد ہوگا۔ ایسے آدمی کے بارے میں یہ الزام کہ اس نے تقلید شخصی اور حیاۃ الانبیاء جیسے مسائل میں مسلکی جانب داری سے کام لیتے ہوئے آپ کی تحریر کو استدلالی قوت سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے، بڑی ہی حیرت انگیز بات ہے۔ ایک بالکل سادہ ذہن شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ ’’الحادی‘‘ رجحان کی ہمدردی اگر ہو سکتی ہے تو ان مسائل میں آپ کے موقف سے ہو سکتی ہے، نہ کہ تقلید اور حیاۃ الانبیاء فی القبور کے موقف کو تقویت پہنچانے سے!!

آپ کے شکایت نامہ کے جواب میں یہ چند معروضات پیش کرنا مناسب محسوس ہوا۔ اگر پھر بھی شکایت باقی رہے تو میں نہایت مودبانہ طور پر معافی کا خواست گار ہوں۔

اپنی نیک دعاؤں میں یاد فرماتے رہیے۔ بے حد شکریہ!

محمد عمار خان ناصر

۲۴؍ نومبر ۲۰۱۳ء

(۴)

پاکستان کی دینی جماعتوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب خود ان کے اندر موجود ہے، لیکن افسوس وہ اسے باہر تلاش کرتی پھرتی ہیں۔ہماری دینی جماعتوں کی ناکامی کی سب سے بڑی اور بنیادی وجہ ان کے قول و فعل کا تضاد ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہماری یہ محترم جماعتیں جس عدل وقسط کوسارے ملک اور ساری دنیاپہ نافذ کرنے کی علمبردار ہیں، افسوس صد افسوس وہ اس عدل و قسط کو اپنی نہایت محدود جماعتی سطح پر نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں۔یہ وہ بنیادی ترین جرم ہے جس کی پاداش میں پاکستان کی دینی جماعتیں بدترین ناکامی سے دوچار ہیں اورگزشتہ 66سال سے تلاش منزل کے لیے بھٹک رہی ہیں۔

ہماری ان جماعتوں کا یہ وہ بھیانک جرم ہے جس نے نہ صرف پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہ کو کھوٹا کیاہوا ہے بلکہ اسی نحوست کی وجہ سے قدرت نے ’’اطمینان قلب اور روحانی سرور‘‘کی عظیم ترین دولت کے معاملہ میں انہیں قلاش اور مفلس کرکے رکھ دیا ہے۔سارے ملک اور سارے جہاں پر عدل وقسط اور نظام عدل اجتماعی قائم کرنے کے دعووں کے باوجود ہماری یہ جماعتیں(ان جماعتوں کے ذمہ دار) اپنے اندرونی معاملات اور اپنے باہمی اختلافات و نزاعات میں عدل و قسط سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں اورجبر،جھوٹ اور بلفنگ کے ناپاک ہتھکنڈے استعمال کرنے کے بعد وہی طرز عمل اختیار کرتے ہیں جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اختیار کیا تھا یعنی اپنی ذات یاذاتی اغراض کی تسکین کے لیے ظلم، دھوکہ اور جھوٹ کا بے دھڑک ارتکاب کرنا اور بعد میں نیکو کار بن جانے کی اداکاری کرنا۔کیا یوسف علیہ السلام کے احسن القصص میں ہماری دینی جماعتوں (کے ذمہ داروں)کے لیے کوئی سبق اور کوئی نصیحت نہیں؟

معاف کیجئے گا، ہمارا یہ نہایت تلخ مگر حقیقت پسندانہ تبصرہ پاکستان کی ان دینی جماعتوں (کے ذمہ داروں) کے بارے میں ہے جنہیں ہم پسند کرتے ہیں، جو ہمارے خیال میں قرآن و سنت کے زیادہ قریب رہ کر دعوت و اقامت دین کا کام کرنے کے داعی ہیں، یا دوسرے لفظوں میں جن میں بگاڑ کا لیول باقی دینی جماعتوں کے مقابلہ میں کم ہے۔عدل و قسط کے بیج کو اپنی محدود جماعتی سطح پر ہی کچل دینے کا اولین اظہار ہماری دینی جماعتیں اس طرح کرتی ہیں کہ ’’خوداحتسابی‘‘ اور اس کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو اپنی محدود جماعتی سطح پر ہی خاموش کرادیتی ہیں اور خوداحتسابی کے ماحول کو پنپنے اور پھلنے پھولنے نہیں دیتیں۔ہم پورے خلوص اور دردمندی سے اس حقیقت کا اظہار کررہے ہیں کہ جس عدل اجتماعی اور نظام عدل و قسط کو ہماری یہ محترم جماعتیں پورے ملک اور پورے عالم پر غالب و نافذ کرنے کی داعی وعلمبردار ہیں،اپنی محدود جماعتی سطح پر اسی ’’عدل وقسط‘‘ کے ننھے پودے کو مسلسل کچلتی اور برباد کرتی رہتی ہیں۔ان جماعتوں میں مخلص افراد کے اخلاص و معصومیت کا بے دریغ قتل کیاجاتا ہے۔ہم حیرت اور تاسف کے ناختم ہونے والے احساس میں ڈوب جاتے ہیں جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ جس اقامت دین اور نظام عدل وقسط کا پورا درخت ملک کے وسیع وعریض رقبے پر گاڑھ دینے کے شوق میں ہماری یہ محترم جماعتیں جنون کی حد تک مبتلا ہیں، اسی نظام عدل وقسط کے ننھے منے پودوں کو ہرروزیہ اپنی محدود جماعتی سطح پر نہایت بے دردی، بے رحمی اور بے حسی سے روندتی چلی جارہی ہیں۔

افراد ہو یا جماعتیں خود احتسابی کے بغیر ترقی اور روحانی ترفع ناممکن ہے۔مگر خوداحتسابی کے لیے تو ایک نہایت بیدار اور طاقتور ضمیرکی ضرورت ہوتی ہے۔جبکہ جماعتوں اور معاشروں کا ضمیر وہ صالح افراد ہوا کرتے ہیں جو جماعتوں اور معاشروں کے قول و فعل کے تضادات اور انحرافات کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اوراس کی اصلاح کے لیے قول حق کا فریضہ پوری دیانتداری سے ادا کرتے ہیں۔خوش نصیب ہیں وہ معاشرے اور وہ جماعتیں جو اپنے ضمیر(قول حق کا فریضہ ادا کرنے والے اصحاب خیراور جماعتوں کے بگاڑ سے لڑنے والے اصحاب عزیمت)کا گلا گھونٹنے سے نہ صرف اجتناب برتتے ہیں بلکہ اس ’’مبارک ضمیر‘‘کو،بگاڑ کے آگے بند باندھنے اور اصلاح کی راہ ہموار کرنے کے لیے،اپنا فریضہ اداکرنے کی مکمل آزادی عطا کرتے ہیں۔اور خوش نصیبی سے محروم ہیں وہ معاشرے اور جماعتیں جواس ’’ضمیر‘‘کی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں، اپنے تضادات اور انحرافات کو منطق کے زور پر منوانے کی کوشش کرتی ہیں اور اصلاح کی ہر آواز کو اجنبی جان کر اسے ’’شہر بدر‘‘یا کم از کم ’’جماعت بدر‘‘ کرنا اپنا حق سمجھتی ہیں۔

ہم نہایت کرب اور اذیت سے اپنے آپ کویہ عرض کرنے پر مجبورپاتے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اور اس کی تمام جماعتیں بشمول دینی ومذہبی جماعتیں’’ضمیر کی آواز دبانے ‘‘کے اسی المیہ سے دوچار ہیں۔پاکستان میں اسلام کی ترویج اور اس کے غلبہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قول و فعل کا تضاد( عدل و قسط کے بیج کو اپنی محدود جماعتی سطح پر ہی مار دینا اور کچل دینا ) اور ضمیر کی آواز دبانے کا یہی مرض ہے۔یہ وہ منحوس بیماری ہے جو کسی بھی معاشرے کو عام دنیاوی فوائداور نعمتوں سے بھی محروم کرکے رکھ دیتی ہے۔اس کی سب سے بڑی مثال عالم اسلام اور تیسری دنیا کے ممالک ہیں جہاں ہر تعمیری اور اصلاحی آواز کا گلا گھونٹ دیاجاتا ہے۔چنانچہ ان معاشروں میں غربت، جہالت، بیماریاں، بے روزگاری، جرائم، ملاوٹ، غذائی بحران،بھوک، افلاس، قانون شکنی، تعصب، تنگ نظری، گروہ بندیاں۔۔۔غرض فساد اور بگاڑکا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ ہے۔جو’’بیماری‘‘ اور ’’نحوست‘‘ کسی معاشرے کو عام دنیاوی فوائد ونعمتوں سے محروم کرکے رکھ دیتی ہے، بھلا اس کے ہوتے ہوئے کائنات کی اعلیٰ ترین نعمت’’ہدایت اور اسلام‘‘کے غلبہ کی راہ کیسے ہموار ہوسکتی ہے؟پاکستان کے دینی قائدین اور جماعتیں جب تک اس روگ اور اس منحوس بیماری سے جان نہیں چھڑاتیں اس وقت تک پاکستان میں اسلام کے غلبہ اور احیاء کی ان کی ہر آواز سوائے خود فریبی ، ذہنی عیاشی اور ضیاع اوقات کے اور کچھ بھی نہیں۔

ہماری مذہبی و دینی قیادت کو یا توقول و فعل کے تضادات اور ضمیر (اصلاح سیرت و کردار اور جماعتی لیول پرعدل و قسط کے لیے اٹھنے والی ہر مخلصانہ آواز)کا گلا گھونٹنے کی منحوس عادات سے جلد سے جلد جان چھڑا لینا چاہیے یا پھر اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو پھر وہ دینی قیادت کا منصب چھوڑ کر کوئی سا بھی دنیاوی کاروبار سنبھال لیں کہ اس سے روز آخرت کم از کم اسلام کی راہ روکنے اور اسلام کی بدنامی کے سنگین جرائم کی فرد جرم سے تو وہ بچ جائیں گے۔اگرچہ ہمیں اس بات کا افسوس ہوگا کہ دینی خدمت کے اعلیٰ منصب کو چھوڑ کر یہ محترم شخصیات دنیاوی کاروبار میں مشغول ہوجائیں گی۔تاہم دنیاوی کاروبار میں ضمیر کا گلا دبانے کی سزا کے مقابلے میں جب ہم دین کے کام میں ضمیر واصلاح کی آوازکا گلا دبانے کے سنگین جرم کے دنیاوی واخروی بھیانک سزا کا تصور کرتے ہیں تو ہم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔

آخر میں ہم یہ واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ معروضات کسی خاص جماعت، کسی خاص گروہ یا کسی خاص شخصیت کے لیے پیش نہیں کی جارہیں بلکہ قرآن حکیم اور سیرت رسولﷺ کے ایک نہایت ادنیٰ طالب علم کا اپنی زندگی کے گزشتہ بیس سال پر محیط پاکستانی معاشرے کے ناختم ہونے والے اخلاقی،ایمانی، معاشرتی،معاشی،سیاسی،تعلیمی اور مذہبی بگاڑ،فساد اور تنزل پر کڑھن ، کرب اور دینی ومذہبی جماعتوں کے تجربہ اور مطالعہ کا ماحصل ہے۔ ہم تمام دینی (خصوصاً قرآن وسنت کے نفاذ کی علمبردار) جماعتوں اور قائدین کا احترام کرتے ہیں اور ان سے دلی ہمدردی رکھتے ہیں۔ اسی احترام اور دلی ہمدردی ہی کا مخلصانہ تقاضا وہ قول حق ہے جس کا اظہار ہم نے سابقہ سطور میں کیا ہے۔

محمد رشید

(abu_munzir1999@yahoo.com)

(۵)

جناب رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ نے علامہ محمد اسد پر میرا مضمون الشریعہ کے ماہ اگست ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع کیا۔ شکریہ! اس سلسلے میں جناب محمد اکرام چغتائی صاحب نے اکتوبر کے شمارے میں جو طویل تبصرہ فرمایا ہے، اس کے بارے میں گزارش یہ ہے کہ حقیقت میں اس تحریر میں پنجاب یونیورسٹی سے محمد اسدکی وابستگی کے سلسلے میں ڈاکٹر زاہد منیر صاحب کے مضمون سے استفادہ کیا گیا تھا۔ ان کے نام اور ان کے مضمون کا حوالہ رہ جانا ایک فاش غلطی ہے جس کا مجھے اعتراف ہے اور اب اس کودرست کر دیا جائے گا۔ یہی مضمون کچھ اضافوں کے ساتھ میری کتاب ’’عالم اسلام کے بعض مشاہیر‘‘ میں شامل کیا جا رہا ہے جو عنقریب منظر عام پر آ جائے گی۔ اصل میں بہت مدت ہوئی، یہ مضمون ایک اخباری کالم کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اس کے بعد راقم نے اس میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔ غلطی یہ ہوئی کہ الشریعہ میں اشاعت کے لیے وہی پرانا ورژن ارسال کر دیا گیا۔ بہرحال یہ علطی کسی اور کی نہیں، میری ہے اور میں اس کا اعتراف صاف طور پر کرتا ہوں اور اس کی اصلاح کر رہا ہوں۔

محترم چغتائی صاحب نے جو دوسری غلطیوں اور کمیوں کی نشان دہی فرمائی ہے تو مجھے کہنا چاہیے کہ یہ میری معلومات کی کمی کا شاخسانہ ہیں۔ میرے مضمون پر اتنے تفصیلی اور ناقدانہ اظہار خیال کے لیے میں ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں اور ان کے اس فاضلانہ مراسلے کو سامنے رکھ کر ان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی کوتاہ علمی اور قلت معلومات کی تلافی کی پوری کوشش کروں گا۔ ان شاء اللہ

رومی پر ایک مقالہ تیار کرتے وقت محمد اکرام چغتائی صاحب کی کئی کتابیں بالاستیعاب پڑھنے کا موقع راقم کو ملا ہے۔ بہرحال انھوں نے جن نکات کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ بہت اہم ہیں جن سے مجھے اپنے مقالہ کی اصلاح اور اس کو مزید بہتر اور ثروت مند بنانے میں خاصی مدد ملے گی۔ 

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

mohammad.ghitreef@gmail.com

مکاتیب

دسمبر ۲۰۱۳ء

جلد ۲۴ ۔ شمارہ ۱۲

راولپنڈی کا الم ناک سانحہ
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

شہید کون؟ کی بحث
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

فقہائے احناف اور ان کا منہج استنباط
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اسلامی جمہوریت کا فلسفہ ۔ شریعت اور مقاصد شریعت کی روشنی میں (۱)
مولانا سمیع اللہ سعدی

’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

مولانا عبد المتینؒ ۔ حیات و خدمات کا مختصر تذکرہ
محمد عثمان فاروق

امام اہل سنتؒ کے دورۂ برطانیہ کی ایک جھلک
مولانا عبد الرؤف ربانی

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا انتقال
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

تعارف و تبصرہ
ادارہ

مکاتیب
ادارہ

نسوانیت کا دشمن لیکوریا
حکیم محمد عمران مغل