مکاتیب

ڈاکٹر محمد شہباز منج

محترم المقام جناب محمد عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

گستاخی معاف !"الشریعہ "کے فل فلیج مدیر بننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو مضامین کی عبارتوں میں کان کی جگہ آنکھ اور آنکھ کی جگہ کان لگانے کی اجازت مل گئی ہے۔ مدیر کا یہ اختیار تسلیم کہ وہ ضرورت کے تحت ایڈٹنگ کر لے ، لیکن یہ اختیار تو کوئی معقول آدمی قبول نہ کرے گا کہ متعلقہ مضمون میں سوال گندم اور جواب چنا کی کیفیت پیدا کر دی جائے۔ راقم الحروف نے "ممتاز قادری کی سزا: اپنی معروضات پر اعتراضات کا جائزہ" کے عنوان سے فروری 2016ء کے "الشریعہ" کے لیے جو مضمون بھیجا، اسے مکاتیب میں جس حالت میں شائع کیا گیا، اس پر (نرم سے نرم الفاظ میں) سخت کوفت ہوئی۔ ایک طرف تو مضمون کی عبارتوں کی عبارتیں حذف کر دی گئیں اور دوسری طرف ان کو باہم جوڑتے ہوئے یہ بھی خیال نہ رکھا گیا کہ معترضین کے کس سوال کا کیا جواب ہے! (الفاظ کے" حسن استعمال" کی "مہربانی" الگ ہے۔ پہلے ہی جملے سے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ مضمون کا کیا حشر کیا گیا ہوگا: "ممتاز قادری کی سزا کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے" ایک جملے میں "کے حوالے سے" کی اس تکرار نے ہی میرے کانوں سے دھواں نکال دیا تھا)۔ شائع شدہ مضمون دیکھ کر مضمون نگار کے بارے میں جو تاثر پید ہوتا ہے، وہ حرف و تحریر سے انس رکھنے والا کوئی فرد برداشت نہیں کر سکتا (حتی کہ آپ اپنے بارے میں بھی نہیں)۔ "الشریعہ" ایسے موقر رسالے میں اپنی تحریر کا یہ حال دیکھ کر پہلی دفعہ احساس ہوا کہ کاش میں نے یہ مضمون نہ بھیجا ہوتا یا آپ نے اسے شائع نہ کیا ہوتا! پوچھ ہی لیا ہوتا کہ جگہ کی تنگی کے باعث مختصر شائع کرنا ہے تو میں اختصار بھیج دیتا یا عرض کر دیتا کہ فلاں فلاں جگہ کو حذف کر دیں! میرا آپ سے پر زور مطالبہ ہے کہ اس خط اور وضاحت کے ساتھ مضمون کا درج ذیل حصہ دوبارہ شائع کریں، اور یہ اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ "الشریعہ" پر اپنے حق کا مان رکھتا ہوں۔

"ممتاز قادری کے حوالے سے سپریم کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس پر تحفظ شریعت کانفرنس کے عنوان سے، بعض علما کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ سزاقرآن و سنت اور چودہ سو سالہ اجماع کے خلاف ہے۔ راقم نے ان علما کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے ، دسمبر 2015ء کے 'الشریعہ " میں، "ممتاز قادری کی سزا: تحفظ شریعت کا نفرنس کے فیصلے پر ایک نظر" کے عنوان سے ایک مضمون میں دلائل سے ثابت کیا کہ توہین رسالت پر سزائے موت کے قانون کے ہوتے ہوئے، کسی شخص کا توہینِ رسالت کے کسی ملزم کوماوراے عدالت قتل کرنا ،شرعی نقطہ نظرسے غلط ہے؛ لہٰذا زیر بحث کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بے جواز نہیں۔اس پر بعض کرم فرماؤں کی جانب سے کچھ اختلافات واعتراضات سامنے آئے۔ان سطور میں ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جا رہی ہے۔میرے موقف سے متعلق معترضین کے افکار و دلائل کچھ اس طرح سے ہیں:

1) توہینِ رسالت کا مر تکب، فقہا کے نزدیک مباح الدم ہے جس کے قتل کرنے والے کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ تادیباً کوئی تعزیر ی سزا دی جائے گی؛ لہٰذا ممتاز قادری کو سزائے موت دینا غلط ہے؛ کوئی تعزیری سزا دی جا سکتی ہے۔

2) مقدمہ چلنے کے بعد، قرائن سے، جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ سلیمان تاثیر نے توہین رسالت کی تھی، تو اس کے قاتل کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

3) آپ ایسے لوگ، اس طرح کے دلائل سے، یہود و نصاریٰ کو خوش کرنا چاہتے ہیں؛ آپ ان کی پیروی ہی کیو ں نہیں کر لیتے تاکہ وہ خوش ہو جائیں!؛ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ وہ خوش نہیں ہوں گے۔

اب ہم ان اعتراضات و دلائل پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

جہاں تک آخری بات کا تعلق ہے، تو سچ یہ ہے کہ ہم خود کو ، اس معاملے پر کوئی دلیل پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں پاتے؛ اس لیے کہ کس کی کس کو خوش کرنے کی نیت ہے؟ اس کی دریافت اتنا مشکل کام ہے کہ ہمارے کرم فرما ہی اتنی آسانی سے کر سکتے ہیں!؛ہم لوگوں کے باطن میں اتر کر ان کے مسائل اور بیماریوں کی تشخیص کا(اگر کچھ جان بھی سکیں تو) اتنا فن نہیں جانتے کہ آدمی کو دیکھے ، ملے اور جانے بغیر اس کے باطن پر حکم لگا سکیں۔ہاں ! اپنی صفائی کی بات ہو سکتی ہے۔لیکن وہ بھی معترضین ایسے مسکت دلائل سے رد کر سکتے ہیں جن کا، ہمارے پاس، ہمیں اقرار ہے، کہ کوئی جواب نہیں ہو گا۔ مثلا: وہ کہہ سکتے ہیں: تم اوپر اوپر سے صفائیاں پیش کر رہے ہو؛ اندر تمھارے وہی کچھ ہے،جو ہم عرض کر رہے ہیں۔سو دوسری اور پہلی بات ہی کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہماری بساط میں ہے۔

دوسری دلیل کے حوالے سے عرض ہے کہ یہ مقدمے، ثبوت اور عدالتی کاروائی سے متعلق ایک بے مثل عجوبہ ہے۔ یعنی کسی کے جرم کے حق میں دلائل اس کا کام تمام کرنے کے بعد فراہم کیے جا سکتے ہیں !بعد میں اگر پتہ چلے کہ ملزم مجرم تھا،اور اس کی بنا پر کسی شخص نے اسے قتل کر دیا تھا، تو اب قاتل کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی!۔ثبوتِ جرم کا یہ طریقہ عدالتوں کو بہ طورِ رہنما اصول اپنانا چاہیے اور قاتل کو نہ صرف اس وقت تک مہلت دینی چاہیے، جب تک یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ قاتل مقتول کو قتل کرنے میں حق بہ جانب تھا؛ اور قاتل کو مقتول کے قتل پر سزا دینے اور سزا کے حق میں دلائل تلاش کرنے کی بجائے ان شواہد پر نظر رکھنی چاہیے، جو مقتول کے خلاف مرورِ زمانہ سے مہیا ہوئے ہیں۔کیا قانون ، عدالت اور مقتول کے ساتھ اس سے بڑا مذاق ممکن ہے!۔ ہو سکتا ہے کہ آپ یہ سوچ رہے ہوں : بھلا یہ دلیل بھی کوئی دے سکتا ہے!، لیکن یہ دلیل دی گئی ہے ؛ اور ایک مشہور صاحبِ" ماہنامہ" کی جانب سے دی گئی ہے۔

اس دلیل کی لغویت کو ایک طرف رکھیں اور صرف اس زمینی حقیقت ہی کو دیکھ لیں کہ زیر نظر کیس میں جب قاتل نے مقتول کو قتل کیا ؛ اس وقت قاتل کے حق میں فضا زیادہ تھی ، یا بعد میں زیادہ ہوئی!۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ بعد میں فضا قاتل کے مخالف ہوتی گئی؛ اور ان لوگوں کی طرف سے بھی اس کے اقدام کو غلط قرار دیا گیا ،جو واقعے کے ابتدائی دنوں میں اس کے حق میں دلائل دیتے اور نعرے لگاتے تھے۔راقم ایسے بیسیوں صاحبانِ علم کو جانتا ہے، جو ابتدا میں یہ کہتے تھے کہ سلیمان تاثیر کا قتل درست تھا؛ لیکن بعد میں اس کے قائل ہو گئے کہ یہ قتل غلط تھا؛ اس کے بر عکس میں ایک بھی بندے کو نہیں جانتا ، جو پہلے ممتاز قادری کے اقدام کو غلط سمجھتا تھا، لیکن بعد میں اس کا جواز پیش کرنے لگا۔ گویا بعد کے حالات نے تو یہ ثابت کیا کہ مقتول کو ایک فرضی اور غیر ثابت شدہ الزام پر،بہت سے دیگر محرکات اور اس کے خلاف ایک خاص فضا پیدا ہوجانے کے نتیجے میں ،رد عمل کی نفسیات کے تحت ،موت کے گھاٹ اتارا گیا؛ نہ کہ ایک صحیح الزام پر قتل کیا گیا!؛ تو اگر بعد کے ثبوتوں پر ہی جانا ہے، تو بھی مذکورہ کیس میں کورٹ کا فیصلہ درست قرار پاتا ہے، نہ کہ اس کے بر عکس۔ 

خود عدالت نے بھی ،اپنے تفصیلی فیصلے میں، یہ کہا ہے کہ ملزمِ توہینِ رسالت کو ایک فرضی توہین کے پیش نظر قتل کیا گیا؛ اس بات کا کوئی ثقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ مقتول نے واقعی توہین رسالت کی تھی۔میں نے اپنے محولہ مضمون میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ ایک مسلمان جج، جو قانون کے مطابق توہین رسالت پر سزائے موت دینے کا اختیار رکھتا ہے، وہ صرف اسی صورت میں سزاے موت کو ٹال سکتا ہے، جب اس کو یقین ہو کہ توہین نہیں ہوئی؛ یا اس میں شک ہے؛ اور صرف اسی صورت میں توہین سالت کے ملزم کو مار دینے والے کو سزاے موت دے سکتا ہے، جب اسے یقین ہو جائے کہ قاتل نے بغیر کسی یقینی بات کے کسی کو توہینِ رسالت کا مجرم سمجھ کر قتل کیا ہے۔ ایک مسلمان جج ،کتنا گیا گزرا بھی ہو، قانون کے ہوتے ہوئے توہین رسالت کے معاملے میں سمجھوتا نہیں کر سکتا! عدالت چاہتی تو صرف اس بنیاد پر بھی سزا سناسکتی تھی کہ قاتل نے قانون ہاتھ میں لیا؛ لیکن اس نے اس بات کو بہ طورِ خاص پیش نظر رکھا کہ قاتل نے بلا ثبوت اور بے جواز اقدام کیا؛ مقتول کے معاملے میں توہین کا کوئی واضح ثبوت نہیں تھا۔

اب آئیے مباح الدم کے مسئلے کی طرف۔مرتد یا گستاخِ رسول کے مرتد اور اس کے نتیجے میں مباح الدم ہو جانے میں علما کے اختلاف سے قطع نظر ، سوال یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے ، کسی شرعی امر کے تحت کسی کے مباح الدم ہو جانے کا، بہ طورِ خاص ایک نظم ریاست میں ، اور وہ بھی وہاں ، جہاں ایسے مسئلے پر باقاعدہ قانون موجود ہو،یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کو کوئی بھی شخص قتل کر سکتا ہے!؛اور ایسے قاتل کو عدالت سزاے موت نہیں دے سکتی!

کسی مسلم کے مباح الد م ہونے کے حوالے سے، شریعت کا عام طور پر بیان ہونے والا معروف ضابطہ یہ ہے کہ تمام مسلمان محفوظ الدم ہیں ، بغیر کسی شرعی سبب کے ان میں کسی کا خون حرام ہے۔وہ شرعی وجوہ جن سے کسی مسلمان کا خون حلال ہوتا ہے، حدیث کی رو سے تین بیان کی جاتی ہیں:

1۔ کسی کو نا حق قتل کرنا۔

2۔شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کا ارتکاب کرنا۔

3۔کسی مسلمان کا مرتد ہو جانا۔

حدیث کے الفاظ یوں ہیں:

عَنِ ابنِ مَسعْودٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسْولْ اللہِ صَلَّی اللہْ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: لا یَحِلّْ دَمْ امرِئ مْسلِمٍ اِلاَّ باِحدی ثَلاثٍ: الثَّیِّبْ الزَّانِی، وَالنَّفسْ بِالنَّفسِ، وَالتَّارک لِدِینِہِ المْفَارِقْ للجمَاعَۃِ (مسلم)
"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جومسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی جان بس ان تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے لی جا سکتی ہے: (1) جان کے بدلے جان۔ (2) شادی شدہ زانی۔ (3) دین کو ترک کرنے والا؛ جماعت سے الگ ہو جانے والا۔"

فقہا کے مطابق ان میں کوئی بھی وجہ ہو تو مسلمان محفوظ الدم نہیں رہتا؛مباح الدم ہو جاتا ہے۔لیکن ان میں سے کسی بھی وجہ کے تحت آنے والے کسی شخص کو سزاے موت دینے کا اختیار، انفرادی طور پر کسی فرد کے پاس نہیں ہے؛ بلکہ یہ امراسلامی حکومت یا نظم ریاست کے دائرہ کار میں آتا ہے۔اصولی طور پر ان وجوہ میں سے کسی بھی وجہ کے تحت مباح الدم ہونے والے کو انفرادی حیثیت میں قتل کرنا؛ اسی طرح قتلِ نا حق ہے ؛ جیسے کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنا۔

گستاخِ رسول کو عام مرتد سے مختلف بتا کر اس کے قاتل سے رعایت کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر گستاخ پر حد لاگو ہوتی ہے، تو حد کو انفرادی حیثیت سے میں کس دلیل سے جائز ٹھہرایا جا سکتا ہے!۔اس ضمن میں آں جناب اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب سے توہین رسالت کے مجرموں کو انفرادی حیثیت میں قتل کرنے اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، قاتل کوکسی سزا کا مستحق نہ ٹھہرانے کی، بعض مثالوں سے جو استدلال کیا جاتا ہے، اس استدلال کی غلطی کی طرف راقم نے اپنے محولہ مضمون میں اشارہ کیا تھا۔ بات دراصل یہ ہے کہ توہین رسالت پر قتل کے ایسے تمام واقعات اسلامی نظم و قانون سے ماورا اور ذاتی حیثیت میں اقدام ثابت ہی نہیں کیے جا سکتے!۔ اس سلسلے میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے ایک شخص کو قتل کر دینے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پر نکیر نہ فرمانے والے واقعے کے علاوہ، جو روایت کثرت سے پیش کی جاتی ہے، وہ ابوداود کی یہ روایت ہے:

"حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کے شان میں گستاخیاں کرتی تھی، یہ نابینا اس کو روکتا اور زجر وتو بیخ کرتا تھا،مگر وہ نہ رکتی تھی۔ یہ اسے ڈانٹتا تھا، مگر وہ نہیں مانتی تھی۔راوی کہتا ہے کہ جب اس نے ایک رات پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں اور آپ کو گالیاں دینا شروع کیں، تو اس نابینا نے ہتھیار لیا اور اسکے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا وزن ڈال کر دبا یا اور مار ڈالا، عورت کی ٹانگوں کے درمیان بچہ نکل آیا، جو کچھ وہاں تھا ، خون آلود ہوگیا۔جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر ہوا۔آپ نے لوگوں کو جمع کیا ، پھر فرمایا : اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے یہ کام کیا، جو کچھ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے،تو نابینا کھڑا ہوگیا؛ لوگوں کو پھلانگتا ہوا ، اس حالت میں آگے بڑھا کہ وہ کانپ رہا تھا، حتی کہ حضور کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا : یارسول اللہ! میں ہوں اسے مارنے والا!؛ وہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی؛ میں اسے روکتا تھا؛ وہ نہ رکتی تھی ؛ میں دھمکاتا تھا، وہ باز نہ آتی تھی ؛ اور اس سے میرے دو بچے ہیں جو موتیوں ایسے ہیں ؛اور وہ مجھ پر مہربان بھی تھی؛لیکن آج رات جب اس نے آپ کو گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا شروع کیا تو میں نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ پر رکھا اور زور لگا کر اسے مار ڈالا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! گواہ رہو، اس کا خون بے بدلہ ہے۔"

اب ذرا تصور کیجیے! ،اس سے ثابت کیا ہو رہا ہے!: ایک آدمی نے بار بار سمجھانے پر نہ سمجھنے والی اپنی ایک باندی کو توہین رسالت پر قتل کیا؛ معاملہ رسول اللہ کی عدالت میں لایا گیا؛ ملزم ڈر تا کانپتا پیش ہوا ( جس سے مترشح ہے کہ اسے حضور کی جانب سے سزا نافذ کیے جانے کا اندیشہ تھا)۔ آپ نے صورتِ حال کے تجزیے سے فیصلہ فرمایا کہ متعلقہ کیس میں باندی کا خون بے بدلہ ہے۔ اس سے یہ کس منطق کے تحت ثابت ہوا کہ اب قیامت تک،جس بھی شخص کے بارے میں، بعض لوگ یہ کہیں ، یا کوئی بھی شخص خود سے یہ سمجھے کہ اس نے توہین کی ہے، اور اس کو بلا کسی زجر وتوبیخ اور سمجھانے بجھانے اور یہ یقین کرنے کے کہ اس سے متعلق سنی سنائی بات کی کیا حقیقت ہے، توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر قتل کر دے، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حدیث میں مذکور واقعے کے ذیل میں آتا ہے!؛ اور اسی پر قیاس کرتے ہوئے، اس میں بھی مقتول کے خون کو بے بدلہ قرار دینا چاہیے! کیا شریعت اور اس کے فلسفہ جرم و سزا اور نفاذِ و حدود و تعزیرات پر، اس سے بڑا ظلم ہو سکتا ہے!اگر ایک یا چند مثالیں قیامت تک کے ہر رنگ کے واقعات پر سزا کے معاملے کو دو اور چار کی طرح طے کر دیتی ہیں،تو یہ ثبوت، گواہیاں ، عدالتیں ، قاضی کس مرض کی دوا ہیں؟ 

اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی فلاطونی عقل کی ضرورت نہیں کہ جو اقدام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا ہو اور آپ نے اس پر نکیر نہ فرمائی ہو، وہ انفرادی اور ماورائے عدالت قرار ہی نہیں دیا جا سکتا! کیا عدالت و حکومت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی چیز تھی! بدیہی حقیقت ہے کہ کسی اقدام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جائز قرار دینا، ریاست اور عدالت کا اسے جائز قرار دینا ہے۔اگر زیرِ بحث کیس میں بھی ریاست قاتل کے اقدام کو درست قرار دے ، تو ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے!؛ یہ رسول اللہ کے طریقے کے مطابق ہو گا۔ لیکن ماورائے ریاست ایسا اقدام آں جناب کی سنت و ہدایت کی پیروی نہیں؛ واضح طور پر اس کی مخالفت ہے۔"

بہ الفاظِ دیگر توہینِ رسالت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیانفرادی اقدامات کو یا اس تو حوالے سے قانونی تصور کرنا چاہیے کہ آں جناب نے خود اس پر نکیر نہ کر کے یا انہیں برداشت کرکے قانونی بنا دیا اور یا سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اقدامات استثنائی ہیں؛ اور استثنا سے قانون ثابت نہیں ہوتا۔ حضور اور مختلف صحابہ رضی اللہ عنہم کے مختلف اعمال کے حوالے سے بہت سی استثناآت ملتے ہیں جو خاص افراد کے لیے اور محدود تناظر کی حامل ہیں؛ساری امت اور اس کے تمام افراد کے لیے نہیں ہیں اور نہ ہی آفاقی ہیں کہ انہیں قیامت تک ہر شخص کے معاملے تک ممتد قرار دیا جائے۔ہماری عام مذہبی ذہنیت کا عجیب المیہ ہے کہ بعض استثنائی مثالوں کو لے کر اس پر ساری شریعت کا مدار رکھ لیتی ہے ،لیکن اس کے برعکس شریعت کے عام اور معلوم ومعروف اصول و قانون کو یکسر نظر انداز کر دیتی ہے۔شریعت کا یہ اصول مسلمہ ہے کہ ملزم کو صفائی اور اپنی پوزیشن کی وضاحت کا موقع ملنا چاہیے ؛اور عدالت کو معاملے کی تحقیق کے بعد ملزم کے مجرم ثابت ہونے پر اسے سزا دینی چاہیے۔یہ وہ اصول ہے جو قرآن و حدیث سے بھی واضح ہے اور عہد نبوی و خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم کے ملزموں سے متعلق فیصلوں اور عدالت و قضا کی مسلسل اور ان گنت کاروائیوں سے بھی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ بعض صحابہ کے انفرادی فیصلے تو ابدی قانون ہیں، لیکن قرآن و حدیث کے بیسیوں فرامین اور نبی اکرم اور خلفائے راشدین کے مسلسل اور ان گنت عملی فیصلے کوئی شرعی ضابطہ ہی نہیں!

یہ فیصلہ کہ مباح الد م کون ہے، کون کرے گا؟ یعنی کون یہ طے کرے گا کہ کسی مسلمان نے شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہے!؛ قتلِ ناحق کا ارتکاب کیا ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کی بنا پر یا کسی اور سبب سے مرتد ہو گیا ہے!؛ تا کہ اسے قتل کی سزا دی جائے؟ ظاہر ہے کہ یہ کام ریاست اور اس کا مجاز ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ علما یا شریعتِ اسلامی کے ماہرین کوئی تجویز یا مشورہ ہی دے سکتے ہیں؛ خود کوئی اقدام کر سکتے ہیں اور نہ کسی کو از خود اقدام کا کَہ سکتے ہیں۔خود اقدام کرنے والا قانونی اعتبار سے مجرم ہے ؛ اور اس کی قسمت کا فیصلہ ریاست کے سپرد ہے؛ جو اپنی سمجھ ، تحقیق اور قانون کے مطابق اس کو سزا دینے کا اختیار رکھتی ہے۔

اگرچہ یہ بات اپنی جگہ محل نظر ہے کہ مباح الدم کو ماوراے عدالت قتل کرنے پر قصاص نہیں ہو سکتا؛اس لیے کہ شریعت سے اس کا جواز ثابت نہیں کیا جا سکتا۔لیکن زیر بحث کیس میں،قاتل کو ازروئے شرع قصاص میں قتل کرنے کے عدم جواز کا فتویٰ، اگر درست بھی تسلیم کر لیا جائے، تو بھی یہ سوال اپنی جگہ رہے گا کہ مقتول نے توہین کی بھی تھی یا نہیں؟ جب توہین پر ناقابلِ تردید ثبوت ہی پیش نہ ہو سکا ہو، تو مقتول کا مباح الدم ہونا ثابت ہوتا ہے اور نہ ہی قاتل سے قصاص نہ لینے کے مطالبے کی کوئی حقیقت رہتی ہے۔

جہاں تک کوئی تعزیری سزا دینے کا تعلق ہے تو سوال ہے کہ تعزیری سزا کیا ہوتی ہے!؛ یہ عدالت اپنی مرضی سے نہیں دیتی کیا!؛ تو اگر عدالت ایک بندے کو سزاے موت دے دے؛ بلکہ اس پر کوئی جرمانہ وغیرہ بھی عائد کر دے ، تو آپ یہ کہیں گے کہ: نہیں! آپ کی یہ تعزیر ہم نہیں مانتے!؛ اس کو دوسال قید رکھ لیں؛ دس ہزار جرمانہ کر دیں! مزید برآں تادیب کیا صرف قاتل کی مطلوب ہے!؛ سوسائٹی اور ایسی ذہنیت رکھنے والے دیگر افراد اور ان کے محرکین کی نہیں!۔ تعزیر کو تو بہر حال، آپ کو عدالت پر ہی چھوڑنا پڑے گا کہ وہ جو سزا مناسب سمجھے دے دے۔لیکن تعزیری سزا کے موقف والوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے اصل کرم فرماؤں کا موقف تو یہ ہے کہ قاتل نے کوئی جرم کیا ہی نہیں؛ بلکہ اعلیٰ ترین نیکی انجام دی ہے؛ وہ سرے سے کسی سزا کا مستحق ہی نہیں؛ وہ تو انعام و اکرام کا مستحق ہے۔

مکاتیب

مارچ ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۳