مکاتیب

ادارہ

محترم المقام حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، رئیس التحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ السلام وبرکاتہ۔ 

مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔ آپ کے رسالہ الشریعہ کا دوسری دفعہ مطالعہ کا موقع ملا، بہت خوشی ہوئی۔ پہلے آپ کا نام جمعیۃ علماء اسلام کے رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا، پھر معلوم نہیں کیا وجہ بنی اور آپ کی دوری ہوگئی اور آپ نے کوئی نئی پارٹی بنائی ہے؟ اور کوئی اکیڈمی بھی بنائی ہے اور یہ شمارہ بھی نکال رہے ہیں۔ میں ایک چھوٹا سا طالب علم ہوں، حقائق و واقعات کو جاننے کا شوق ہے۔ اسلام کے نظام کا غلبہ باقی ادیان پر اور نظام اسلام کے نفاذ کے سلسلہ کا ایک ادنیٰ سا سپاہی ہوں۔ اس سلسلہ میں اگر میری جان بھی نذر ہو جائے تو میں تیار ہوں۔ میرے بیوی بچے گھر بار مال و دولت سب اس پر قربان کرنے کو تیار ہوں۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین

میں نے شمارہ ماہ ستمبر ۲۰۱۲ ء کے مطالعہ کے دوران میں مندرجہ ذیل اعتراضات محسوس کیے ہیں اور آپ کی تحریر کے مطابق: ’’اختلاف رائے کے موقع پر اختلاف کا اظہار کرنے کے باوجود عملاً وحدت اور اجتماعیت کو قائم رکھا جائے۔‘‘ (ٹائٹل الشریعہ ستمبر ۲۰۱۲ء)

(۱) کلمہ حق میں آپ نے انسانی حقوق کے زمرے میں کوئی واضح نظریہ پیش نہیں کیا، صرف اقوام متحدہ کی قرارداد اور اس کی آمریت و جابریت پر روشنی ڈالی ہے جبکہ آپ کو انسانی حقوق کے چارٹر کے حوالے سے انسانی حقوق واضح کرنے چاہیں تھے یا پھر عنوان ’’یو این او کی ریشہ دوانیاں‘‘ تحریر کرنا چاہیے تھا۔ عالم اسلام سے مسلمانوں کی حکومتیں مراد ہیں یا کسی ایک نظریہ پر قائم عالم اسلام؟ وہ عالم اسلام جو اکثریت میں امریکہ کا حامی اور اس کی تمام ظالمانہ کارروائیوں میں حصہ دار ہے جو وہ تمام عالم میں کرتا ہے؟ اسی کے کاسہ لیس ہیں اور ان کا آزادانہ کوئی کردار نہ انسانیت کے حوالے سے ہے اور نہ اسلام کے حوالے سے؟ آپ کون سے عالم اسلام کی بات کرتے ہیں؟ جو ظلم سہتے ہیں اور اف تک نہیں کرتے اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کا خون بہانے میں برابر کے شریک ہیں؟ انسانیت ان سے پناہ مانگتی ہے۔ 

(۲) دوسرا مضمون ہے: ’’شام لہو لہان اور عالم اسلام پر بے حسی طاری‘‘ از ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی۔ مضمون نگار نے یہ مضمون شام اور لیبیا کے حالات پر تحریر کیا ہے، جبکہ لیبیا پر باغیوں کا حملہ اور پھر کرنل قذافی کی شہادت اور اس کے پس منظر میں ساری امریکی کارروائی کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ باغیوں کی حمایت میں مضمون نگار لکھتا ہے کہ لیبیا میں انقلاب اس طرح نمودار ہوا، عوام نے اقتدار وقت کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور محض چند مہینوں میں قذافی کا خاتمہ کر دیا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مضمون نگار امریکی مفادات اور باغیوں کی زبان بول رہے ہیں۔ اسی طرح بشار الاسد کے خلاف تحریر کیا ہے کہ باغی بشار الاسد کا ساتھ چھوڑ کر انقلابیوں سے مل گئے ہیں۔ میں یہ سوچنے سے قاصر ہوں کہ عوامی حکومتوں کے خلاف بغاوت کرنے اور نظریاتی بنیادوں پر قائم عوامی حکومتوں کی مخالفت کرنے والے باغیوں کو، جن کی حمایت یورپ کر رہا ہے، مضمون نگار کس بنیاد پر انقلابی شمار کر رہے ہیں۔ ان کا نظریہ کیا ہے؟ کیا وہ شام اور لیبیا کے نظریاتی مخالف ہیں یا امریکی ایجنٹی کر رہے ہیں؟ 

یہ اس لیے تحریر کر رہا ہوں کہ کیا آپ کا نظریہ وہی ہے جو مضمون نگار نے اپنے مضمون میں تحریر کیا ہے یا اس کے برعکس جمعیۃ العلماء ہند کے واضح کردہ فلسفہ کے مطابق ہے؟ 

(۳) ’’منفی اقدار کے فروغ میں میڈیا کا کردار‘‘ از محمد رشید اور ’’خاطرات‘‘ از محمد عمار خان ناصر، دونوں اچھے مضامین ہیں۔ اس میں صرف تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر فرقہ واریت اور علماء کے کردار پر زیادہ روشنی ڈالنی چاہیے تا کہ ملک سے فرقہ واریت کا خاتمہ ہو سکے اور زیادہ زور اقلیت کے حقوق پر دینا چاہیے۔ ایک ملک میں دونوں کو ایک درجہ کی شہریت حاصل ہونی چاہیے۔ یہی نظریہ جمعیۃ الہند کے اکابرین کا تھا، اس پر عمل کریں اور اس نظریہ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے اور میڈیا کے منفی کردار کو زیادہ وضاحت سے تحریر کرنے کی ضرورت ہے۔ معاشرہ میں جو بد امنی پھیلی ہوئی ہے، اس میں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ حق کو حق کہو اور باطل کو باطل، سچ کو سچ تحریر کرو اور جھوٹ کو جھوٹ، ان کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط نہ کرو۔ یہی جہاد ہے، اس پر عمل کریں گے تو کامیابی ہوگی۔ 

(۴) ’’سرمایہ دارانہ انفرادیت کا حال اور مقام‘‘ از جاوید اکبر انصاری / زاہد صدیق مغل۔ انسان کی ترقی کا دارومدار اس کے نظام سے وابستہ ہے۔ مولانا عبید اللہ انورؒ فرماتے تھے کہ ہمارا نظام عبادت بھی نظام حکومت سے وابستہ ہے، اس کی تبدیلی کے بغیر نظام عبادت بھی قائم نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا پہلے اس کی تبدیلی کی کوششیں کی جائیں۔ (مجلس شیرانوالہ گیٹ لاہور) 

مضمون نگار نے غیر جانبدار (لبرل) کی تردید کی ہے کہ انسانی یا مسلمان ہو سکتا ہے یا کافر، غیر جانبدار کیا ہوتا ہے؟ کیا مسلمان انسان نہیں ہے؟ مسلمان کی غیر فرقہ واریت پر مبنی سوچ اور نظریہ کو لبرل، غیر جانبدار کہا جاتا ہے۔ 

مسلمان کی ذاتی اصلاح کی بجائے نظام حکومت کی تبدیلی ضروری ہے۔ مسلمان کی کامیابی بھی جماعت سے وابستہ ہے۔ اہل حق کی جماعت نبی کریمؐ اور صحابہ کرامؓ کے نقش قدم پر چلتی ہے۔ لہٰذا اکابرین دیوبند نے فرد کی بجائے صالح نظام کے قیام پر زور دیا، کیونکہ ذاتی اصلاح سے تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہاں، اگر نظام صالح نافذ ہے تو پھر انفرادی اصلاح پر توجہ اور کوششیں کی جائیں گی۔ اس مضمون کے ضمن میں سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں اور فرد پر اس کے اثرات پر بحث کرنی چاہیے تھی۔ 

(۵) مباحثہ و مکالمہ میں میاں انعام الرحمن کی تحریر ’’پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس مضمون کے ضمن میں فاضل مضمون نگار نے بڑی محنت کی ہے۔ دس اوراق پر طویل مضمون اپنی جگہ تعریف کے لائق ہے۔ اس مضمون میں فاضل مضمون نگار نے بڑی اچھی بحث کی ہے۔ پاکستان میں نفاذ اسلام کی کوئی مخلصانہ جدوجہد نہیں کی گئی۔ مختلف عنوانات کے تحت تحریکیں ضرور چلائی گئیں جن کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایجنسی ملوث رہی ہے۔ قومی اتحاد، متحدہ محاذ، ایم آر ڈی اور دیگر عوامی و جمہوری تحریکات، اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ سیاست دانوں کو مختلف حیلے بہانوں سے رقوم دی جاتی رہیں۔ سپریم کورٹ میں یہ رٹ چل رہی ہے اور منظر عام پر بہت سی ڈھکی چھپی باتیں ظاہر بھی ہوگئیں۔ 

اس مضمون میں زیادہ زور اسلام کی نئی تعریف، اجتہاد، دیانت داری، حیاء، علماء کرام کے طرز عمل، قانون اسلام، قرآن مجید کی ترتیب نزولی اور ترتیب نزولی کا فہم پر صرف کیا گیا ہے اور بے حیائی، بے ایمانی اور بد دیانتی کو مطمح نظر قرار دے کر مضمون کو ختم کیا گیا ہے۔ آخری فقرہ یہ ہے کہ:

’’اپنی صلاحیتوں کے دیانت دارانہ اظہار سے انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔‘‘

اگر آپ خود اس مضمون کا مطالعہ فرمائیں تو حقیقت کھل کر آپ کے سامنے آجائے گی کہ اس میں صرف چند ان باتوں پر زور دیا گیا ہے جن کا تبدیلی اور انقلاب سے کوئی تعلق نہیں۔ تبدیلی اور انقلاب کے لیے ایک نظریہ (ایمان) کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق جماعت تیار کی جائے، اس کی تربیت اس نظریہ پر رکھی جائے اور پھر وہ جماعت لائحہ عمل تیار کرے گی کہ انقلاب کیسے برپا کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظریہ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بیان کیا ہے جس کے نام پر آپ نے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ایک پورا فلسفہ اور پروگرام دیا ہے جو علماء کرام دیوبند طبقہ فکر خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ کو اس کے متعلق بتلانا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔ 

ان سطور کے تحریر کرنے کا مقصد صرف تنقید نہیں بلکہ اصلاح احوال اور نظر ثانی مطلوب ہے کہ آپ جیسے جید عالم دین جن کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہے اور جو پاکستان نہیں، بلکہ بیرون پاکستان بھی مشہور و معروف ہیں، آپ کے جریدہ میں جو مضامین شائع ہوں، وہ اس نظریہ و فلسفہ کے مطابق ہوں جس سے واقعی معاشرہ میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے اور واقعی اس سے دشمن اسلام قوتیں خائف اور پریشان ہوں اور سامراج اس سے خوف کھائے، امریکہ اور اس کے اتحادی اس کے مخالف ہوں اور اس کو ختم کرنے کے درپے ہوں۔ حضرت شیخ الہندؒ جو آپ کے بھی امام ہیں اور تمام اولیاء اللہ برصغیر پاک و ہند کے امام ہیں، ان کے نام سے سامراج کانپتا تھا۔ حضرت مدنی جن کے نام سے اب بھی انگریز ڈرتا ہے۔ حضرت مفتی کفایت اللہ دہلویؒ ، حضرت امام عبید اللہ سندھیؒ ۔ تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ نبی اکرمؐ نے اخلاق اور مذہب کی تبدیلی کی وجہ غربت اور معاشی استحصال کو فرمایا۔ حضرت حفظ الرحمن سیوہارویؒ اخلاق کی بربادی کا سبب برے اقتصادی حالات کو بتلاتے ہیں۔ حضرت شاہ اسحاق دہلویؒ اخلاق اور جسم کی بربادی کا باعث معاشیات اور اقتصادیات کو قرار دیتے ہیں اور فاضل مضمون نگار، حیا کو زندہ کرنے سے انقلاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ آپ خود اس پر غور فرمائیں، ان شاء اللہ امید ہے کہ آپ ان کے نقطہ نظر سے متفق نہ ہوں گے کیونکہ ذاتی اخلاقیات میں سدھار معاشرہ میں انقلاب کا سبب نہیں بن سکتا کیونکہ ان کے بگڑنے اور سدھرنے کا تعلق معاشیات کے ساتھ ہے اور آپ علم معاشیات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ 

میری اس طویل تحریر کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ اگر آپ کا نظریہ و فلسفہ اکابرین دیوبند کے مطابق ہے تو پھر اسی قسم کے مضامین اپنے رسالہ میں شائع کریں جن سے ان کے افکار و نظریات کی توسیع ہو اور ان کو فروغ حاصل ہو۔ اس قسم کے مضامین جن میں ان کے فلسفہ اور فکر کے برعکس تحریر کیا جا رہا ہو اور اس سے عوام الناس کو کوئی فائدہ نہ ہو اور ان کی کوئی ذہن سازی نہ ہو بلکہ اس سے برعکس ہو تو وہ ہمارے اکابرین کے پروگرام کے خلاف ہوگا۔ آپ اور ہمارے اکابرین ہمیشہ انگریز سامراج کے خلاف جنگیں کرتے رہے، پھانسی کی سزائیں ہوئیں، جلا وطن ہوئے، دربدر کیے گئے، قید کی سزائیں برداشت کی گئیں، جائیدادیں ختم کر دی گئیں، ان کا نام و نشان دنیا سے مٹانے کی ناکام اور ذلیل کوششیں کی گئیں، آپ کے اکابرین کی داڑھیوں پر شرابیں پھینکی گئیں، لیکن انہوں نے سامراج کی مخالفت نہ چھوڑی۔ آج ہم بڑے بڑے علماء کرام بن گئے، بڑی شان و شوکت مل گئی، نام، شہرت، دولت سب مل گیا لیکن افسوس بڑوں کا نام بیچ دیا، اس کو فروخت کر کے ادارے، یونیورسٹیاں اور مدارس ومساجد بنا لیں۔ ان کا نام زندہ نہیں رکھا، ان کے بتلائے ہوئے دشمن کو دوست اور دوست کو دشمن بنا لیا، ان کے پروگرام کو چھوڑ کر اپنا فلسفہ وفکر ایجاد کر لیا۔ آج ہم مودودی اور ڈاکٹر اسرار کی تعریفیں کر رہے ہیں اور ہماری زبان پر اور ہماری تحریر میں کبھی حضرت مدنیؒ ، حضرت شیخ الہندؒ ، حضرت سندھیؒ کا نام نہیں آیا۔ شیخ الہند کانفرنس، اسلام زندہ باد کانفرنس، دیوبندی زندہ باد کانفرنسیں بلاتے ہیں، ان کے نام پر پیسے کماتے ہیں اور ان کا پروگرام پیش نہیں کرتے۔ 

اگر آپ سچے ہیں، حق پرست ہیں اور علم دوست ہیں تو میرا یہ خط اپنے رسالہ میں من و عن شائع کریں اور اس کا جواب بھی ہو سکے تو مجھ جیسے ادنیٰ تاریخ و سیاست کے طالب علم کے نام تحریر کریں، خواہ وہ اپنے جریدہ ہی میں شائع کر دیں اور رسالہ کی کاپی اعزازی میرے پتہ پر ارسال فرما دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمت و توفیق دے، حق پر چلنے اور اس پر استقامت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 

احقر شکیل احمد ساجد

مکان 2001 / 2002 

کریمی سٹریٹ، بہاولنگر 62300

مکاتیب

Flag Counter