مکاتیب

ادارہ

(۱)

مکرمی جناب مدیر صاحب ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کے ماہنامہ کی وساطت سے محترم جناب خواجہ امتیاز احمد صاحب سابق ناظم اسلامی جمعیۃ طلبہ اسلام گوجرانوالہ نے ہمارے استفسار پر اپنے سوالات کا اظہار فرمایا۔ ہم ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قارئین کو تذبذب اور ابہام کی کیفیت سے نکالا ہے، کیونکہ ان کے پہلے اجمالی بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ شاید وہ کوئی ایسے علمی سوالات تھے جن کا جواب مفسر قرآن ؒ نہیں دے سکے تھے یا خدانخواستہ بلاوجہ انہوں نے جواب نہ دے کر اپنے منصب سے بے وفائی کی تھی۔ لیکن مئی کے شمارے میں محترم خواجہ صاحب نے اپنے بیان میں حیرت انگیز تبدیلی کرتے ہوئے اس عقدہ کو حل کر دیا ہے اور یہ اقرار بھی کر لیا ہے کہ ’’مفسر قرآنؒ ایک جید، با کردار اور صاحب عمل علماء میں سے تھے، ہمارے دل میں ان کا بہت مقام ہے، میرے استاد محترم صوفی عبد الحمید سواتی ؒ جن کا مقام و مرتبہ میرے نزدیک مولانا مودودیؒ سے کم نہیں ہے‘‘۔ 

قارئین کرام نے ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کو پڑھ کر خود ہی محسوس فرمالیا ہوگا کہ ان تمام باتوں کا جواب براہ راست مفسر قرآنؒ کے ذمے بنتا ہی نہیں تھا کیونکہ ہر آدمی صرف اپنے قول و فعل کا ذمہ دار ہوتا ہے، دوسروں کا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ولا تزر وازرۃ وزر اخریٰ  کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جناب نبی اکرمؐ نے بھی اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں زمانہ جاہلیت کی رسم کو ختم کرتے ہوئے اعلان کر دیا: الا، لا یجنی جان الا علیٰ نفسہ ہر جنایت کرنے والا خود ذمہ دار ہوگا۔ اور مشہور محاورہ بھی ہے کہ ’’جو کرے وہی بھرے‘‘۔ اور جس نے ایسا کام کیا ہی نہ ہو، اسے ’’جرم نا کردہ کی سزا‘‘ دینا روا نہیں ہے۔ یہ تو ’’کرے کوئی اور بھرے کوئی‘‘ والا معاملہ بن جاتا ہے۔ 

آپ نے جتنے سوالات اٹھائے ہیں، ان کا تعلق سیاسی بیانات سے ہے۔ مفسر قرآنؒ کا تعلق علماء حق کی اس جماعت سے تھا جو مذہبی، نظریاتی اور سیاسی اختلاف میں دلیل کی زبان سے بات کرنے کے قائل تھے۔ تہذیب و اخلاق کے دائرہ کو کبھی کراس نہیں کرتے تھے اور ایسے اختلافات میں وہ ذاتیات پر نہ تو خود اٹیک کرتے تھے اور نہ ہی اسے پسند کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی ابحاث سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ ان کے اس رویے کا ایک جہان گواہ اور مداح ہے۔ مودودی صاحب اور جماعت اسلامی سے بھی انہوں نے اپنے اکابرین کی طرح اختلاف کیا ہے۔ مودوی صاحب نے ’’تفہیم القرآن‘‘ کے جن جن مقامات میں ٹھوکریں کھائی ہیں، ان کا مدلل اور مہذب رد آپ ’’معالم العرفان فی دروس القرآن‘‘ میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ حضرت مدنی ؒ کے ’’خطبات صدارت‘‘ کے لیے لکھا ہوا ان کا مقدمہ جس میں مودودی صاحب پر انہوں نے عالمانہ تنقید کی ہے، پڑھنے کے قابل ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک فرد حافظ عبید اللہ صاحب نے خط لکھ کر مفسر قرآنؒ سے جامعہ نصرۃ العلوم میں داخلہ کے لیے مشورہ اور فارم طلب کیا جس میں جامعہ نصرۃ العلوم کا دو ٹوک مسلک لکھا ہواہے۔ حافظ صاحب موصوف نے خیانت کرتے ہوئے اسے ۲۲ مارچ ۱۹۶۸ء کے ’’آئین‘‘ میں تنقیدی نظر سے شائع کیا جس کے جواب میں مفسر قرآنؒ نے ایک طویل خط انہیں ارسال فرمایا۔ اس خط کی ایک کاپی ہمارے پاس محفوظ تھی۔ اسے ’’مقالات سواتی‘‘ میں بعنوان ’’مودودی صاحب کے بعض نظریات دین کے لیے نقصان دہ ہیں‘‘ شائع کیا گیا ہے۔ وہ خط بھی مطالعہ کے لائق ہے۔ اس میں وہ برملا لکھتے ہیں: 

’’محترم! آپ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ ہم لوگ مودودی صاحب کے ساتھ کسی قسم کا ذاتی عناد نہیں رکھتے اور نہ سیاسی دھڑا بندی کی بنا پر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔ ذاتی بغض و عناد یا دھڑا بندی اور دنیاوی مفاد کی خاطر کسی شخص سے عناد رکھنا ہم حرام سمجھتے ہیں۔ مودودی صاحب سے جو اختلاف ہے، وہ دین، شریعت اور آخرت کی وجہ سے ہے اور ہم مودودی صاحب کو مسلمان سمجھتے، لیکن ’’ضال و مضل‘‘ کہتے ہیں اور یہ ان کے خاص عقائد و خیالات اور مسائل و تعبیرات کی وجہ سے ہے جو انہوں نے جمہور علماء سلف و خلف کے خلاف لکھے ہیں اور پھر باوجود اس کے کہ مختلف علماء نے ان کو خبردار کیا، متنبہ کیا لیکن انہوں نے اپنی روش میں قطعاً تبدیلی نہیں کی اور مختلف غلط مسائل میں انہوں نے ہر جگہ تاویلات کے دامن میں پناہ لینے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔۔۔ میں نے ’’جماعت اسلامی‘‘ کے یوم ولادت سے لے کر آج تک اکثر تحریریں خود پڑھی ہیں اور پورے سیاق و سباق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’’محض شنید‘‘ پر مدار نہیں رکھا۔‘‘ (ص ۲۱۵، ۲۱۶)

اس سے آپ کو یہ تو پتہ چل گیا ہوگا کہ آپ کے استاذ محترمؒ کو مودودی صاحب اور جماعت اسلامی کے بارے میں کس قدر گہری معلومات حاصل تھیں اور وہ ہر سنی سنائی بات پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف مصدقہ بات کی تائید یا تردید فرماتے تھے۔ 

آپ کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دینا ہمارے ذمہ ضروری تو نہیں ہے، لیکن ان کے منظر عام پر آنے سے چونکہ علماء حق خصوصاً مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی حیثیت مجروح ہوئی ہے، اس لیے ہم ان سوالات کے مختصراور صرف الزامی جواب عرض کرنا چاہتے ہیں۔ بطور تمہید کے عرض ہے کہ آپ نے جتنے بھی سوالات اٹھائے ہیں، ان سب کے جواب میں قدر مشترک یہ ہے کہ یہ من و عن کسی نقل صحیح سے ثابت نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے حوالے کے طور پر جتنے بھی لوگوں کو پیش کیا ہے، وہ سب آنجہانی ہیں۔ اگر یہ باتیں آپ کسی معتمد کتاب سے نقل کرتے تو ان کی کوئی حیثیت بھی ہوتی۔ صرف آپ کی بات پر، وہ بھی سنی سنائی جو ایک سے دس تک منتقل ہوتے ہوئے کچھ سے کچھ بن جاتی ہے، اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص جبکہ آپ کو ان لوگوں کے ساتھ کوئی خوش عقیدگی بھی نہیں ہے اور آپ ان کی مخالف جماعت کے ایک اہم عہدہ دار بھی رہے ہیں۔ عربی کا شعر ہے کہ ؂

حبک الشیی یعمی و یصم
وبغضک الشیی یعمی و یصم

کسی چیز کی محبت اور کسی چیز سے بغض انسان کو اندھا اور بہرہ کر دیتا ہے۔ 

ہاں یہ بات بھی ضرور یاد رہے کہ مودودی صاحب اور ان کی جماعت اسلامی کے صرف علماء ہی مخالف نہیں تھے جس کا سارا غصہ آپ نے ’’نزلہ بر عضو ضعیف می ریزد‘‘ کے مصداق صرف علماء پر گرا دیا ہے۔ چنانچہ مودودی صاحب کا دفاع کرنے والے جناب عاصم نعمانی صاحب نے اس بات کا برملا اقرار کیا ہے جو ان کی کتاب ’’مولانا مودودی پر جھوٹے الزامات اور ان کے مدلل جوابات‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:

’’ان مخالفین میں مغرب زدہ لوگ، الحاد و دہریت پسند، ہر رنگ کے بے دین، سرمایہ داری کے حامی، سوشلسٹ اور کمیونسٹ، قادیانی اور منکرین سنت وغیرہ سبھی شامل ہیں اور ان میں سے ہر گروہ اپنی اپنی بساط کے مطابق مولانا مودودی کو لوگوں کی نظروں سے گرانے اور انہیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ افسوس ہے کہ ان میں کچھ ایسے علماء حضرات بھی شامل ہوگئے ہیں جو خود تو خدا کے دین کے لیے کچھ کرنے کی ہمت اور توفیق نہیں پاتے تھے، لیکن سید مودودی کو متحرک اور سرگرم عمل دیکھ کر ان کے اندر ایک ناقابل فہم حسد اور بغض پیدا ہوگیا ہے اور وہ مولانا کے دوسرے بے دین مخالفوں کے شانہ بشانہ کھڑے مولانا پر الزامات اور بہتانات کی گولہ باری کر رہے ہیں۔‘‘ (ص ۱۱)

اس سے معلوم ہوا کہ جماعت اسلامی اور مودودی صاحب کے مخالفین میں تمام اسلامی غیر اسلامی، مذہبی اور سیاسی جماعتیں تھیں۔ ان تمام کے الزامات و اتہامات اور ان کے طرز بیان کو صرف علماء پر چسپاں کر دینا کہاں کا انصاف ہے؟ جب مودودی صاحب سے یہ اختلافات ابتدائی دور میں چل رہے تھے، اس وقت علماء حق کی نمائندہ جماعت ’’جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کے امیر امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے برملا ایک اعلان جاری کیا تھا جو ان کی کتاب ‘‘حق پرست علماء کی مودودیت سے ناراضگی کے اسباب‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لکھتے ہیں: 

’’خدا کی قسم! مجھے مودودی صاحب سے کوئی عداوت نہیں ہے میں نے جو کچھ ان کے متعلق تحریر کیا ہے، وہ محض ساڑھے تیرہ سو سالہ اسلام کی مخالفت اور اس کے علمبرداروں کی توہین و تحقیر جو انہوں نے کی ہے، اسے برداشت نہیں کر سکا اور چونکہ وہ اپنے خیالات کا پراپیگنڈہ اپنی جماعت کے اخبارات و رسائل میں کر رہے ہیں، اس لیے قاعدہ یہ ہے کہ جو حربہ مخالف کے ہاتھ میں ہو، وہی حربہ ہمارے ہاتھ میں بھی ہونا چاہیے۔ اس لیے ان کی غلط روش سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنے خیالات کی اشاعت اخبار میں مناسب بلکہ ضروری سمجھی۔‘‘ (ص ۸۴)

اب ذرا ان اسباب پر بھی غور فرما لیجیے جن کی وجہ سے مودودی صاحب کے مخالفین نے مثبت یا منفی رویہ اختیار کیا۔

(۱) آپ کے سوال نمبر ۱ اور نمبر ۲ کا تعلق اسی سے ہے۔ مودودی صاحب نے امہات المومنین حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ کے بارے میں ہفت روزہ ایشیا لاہور ۱۹ نومبر ۶۷ء میں یہ لکھا کہ: 

’’نبی کے مقابلہ میں کچھ زیادہ جری ہوگئی تھیں اور حضورؐ سے زبان درازی کرنے لگی تھیں۔‘‘ الخ  (بحوالہ علمی محاسبہ صفحہ ۳۲۶ از حضرت مولاناقاضی مظہر حسینؒ)

جب علماء نے اس پر پکڑ کی اور سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ توہین آمیز جملہ ہے تو وہ تاویلات کا سہارا لینے لگے اور اپنی بات پر آخر تک مصر رہے اور’’تفہیم القرآن‘‘ میں پھر دوبارہ یہی لکھا کہ ’’حضورؐ سے زبان درازی نہ کیا کرو۔‘‘ (ج ۶ ص ۲۴)

اس کے جواب میں علما نے اپنے اپنے انداز میں ان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن علما کے علاوہ ان کے عام مخالفین نے مودودی صاحب کی اپنی بیٹیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ہمارے نزدیک مودودی صاحب کا اور ان کے ایسے مخالفین دونوں ہی کا طرز بیان غلط تھا، لیکن عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مودودی صاحب کے اپنے ہی رویے کا رد عمل تھا۔ مودودی صاحب اپنے سیاسی مخالفوں کی خواتین کو بھی برا بھلا کہنے سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ جناب حکیم عبد القوی دریابادی نے اپنی کتاب ’’معاصرین حضرت مولانا عبد الماجد دریابادی ؒ ‘‘ میں برملا لکھا ہے کہ :

’’جب صدر پاکستان کے الیکشن کا مسئلہ چھڑا اور سردار ایوب خان (صدر پاکستان) سے خفا ہوئے تو فرما دیا کہ ایک طرف ان میں کوئی خوبی اس کے سوا نہیں کہ وہ مرد ہیں اور دوسری طرف ان کے مقابل میں فاطمہ جناح ہیں جن میں کوئی برائی نہیں سوا اس کے کہ وہ عورت ہیں۔ زبان کی اس درجہ بے احتیاطی بجائے خود ایک قہر الٰہی ہے۔ اللہ اپنے اس قہر سے ہر مسلمان کو محفوظ فرمائے۔‘‘ (ص ۱۷۴)

ذرا غور فرمائیے، مودودی صاحب نے عورت کو مطلقاً برائی سے تعبیر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود مودودی صاحب کے اپنے ہی فرزند ارجمند سید حیدر فاروق مودودی صاحب نے روزنامہ پاکستان ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء میں انٹرویو دیا تھا جو سارے کا سارا پڑھنے کے قابل ہے، اس میں انہوں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ’’جماعت اسلامی نے ہمیشہ منفی کام کیے ہیں۔ میں نے پچاس سال جماعت کو اندر باہر سے دیکھا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر فساد کرتی ہے، آج بھی اس میں (ہسٹری شیئڑز) کو چن چن کر آگے لایا جا رہا ہے۔ روزنامہ پاکستان میں انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مولانا مودودی کو صرف علمی کام کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے جتنا سیاسی کام کیا، وہ تمام منفی تھا۔ علمی اور سیاسی جدوجہد کے تقاضے الگ الگ ہیں۔ جیل، جلسہ، جلوس اور کاغذ قلم کو بیک وقت ساتھ لے کر چلنا صرف انہی کا خاصہ ہے۔ اسی وجہ سے مولانا نے سیاسی مجبوری کے تحت بہت سی ایسی باتیں کہہ دیں جو نہیں کہنا چاہیے تھیں۔‘‘

یہ مقام عبرت ہے کہ مودودی صاحب نے دوسروں کی خواتین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا، قدرت نے ان کی اپنی اولاد کو ان کے خلاف کھڑا کر دیا۔ اسی صاحب زادہ نے ۷۔ اپریل ۱۹۸۳ء کے روزنامہ جنگ راولپنڈی کے پریس ریکارڈ پر موجود اس بیان میں مودودی صاحب کے درون خانہ کی قلعی یوں کھولی ہے :

’’مولانا مودودی مرحوم کے صاحبزادے سید حیدر فاروق مودودی نے اپنی والدہ محمودہ بیگم کے خلاف ۸۳ ہزار ۹۸۳ روپے کی عدم ادائیگی کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔ مدعی نے اپنے دعویٰ میں لکھا ہے کہ اس کی والدہ جانشینی کے سرٹیفکیٹ کے تحت اپنے والد کے ترکے میں سے اس کا حصہ ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مولانا مودودی کی بنکوں میں چھوڑی ہوئی رقم دس لاکھ ۳۷ ہزار روپے میں سے اس کا حصہ ایک لاکھ بیس ہزار ۹۸۳ روپے بنتا ہے جس میں سے اسے صرف ۳۷ ہزار روپے ادا کیا گیا ہے باقی رقم کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے۔‘‘ (بحوالہ دو بھائی ابوالاعلیٰ مودودی اور امام خمینی سنسنی خیز انکشافات ص ۴۸) 

فاعتبروا یا اولی الابصار۔ 

آپ نے مودودی صاحب کی بیٹیوں سے متعلق جو سوال لکھے ہیں، یہ ’’بات سے بتنگڑ‘‘ کی صورت اختیار کیے ہوئے ہیں، اس لیے کہ یہی اعتراض جناب عاصم نعمانی صاحب نے بھی اپنی سابقہ مذکورہ کتاب کے صفحہ ۲۵ میں نقل کیے ہیں۔ ان کے نقل کردہ اعتراضات اور آپ کے نقل کردہ سوالات میں بون بعید ہے۔ اس لیے حکم شریعت ہے کہ سنی سنائی باتوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے، اور حضورؐ نے تو کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع  سے وعید بھی فرمائی ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے۔ ان کے نقل کردہ الزامات اور اپنے نقل کردہ سوالات کا ذرا موازنہ کر لیں، وہ نقل کرتے ہیں: 

’’الزام: مودودی صاحب نے اپنی تحریروں میں مخلوط تعلیم کی سخت مذمت کی ہے مگر اپنی بیٹیوں کو انہوں نے مخلوط تعلیم کی درسگاہوں میں تعلیم دلوائی ہے اور اب بھی یونیورسٹی میں مخلوط تعلیم دلوا رہے ہیں۔ ان کی لڑکیاں مخلوط کلاسوں میں پڑھتی ہیں‘‘۔ 
’’الزام: مولانا مودودی صاحب کی لڑکیاں اور بیوی پردہ نہیں کرتیں‘‘۔ 

ایسے اعتراض کرنے والے مودودی صاحب کے جملہ مخالفین تھے جسے آپ نے صرف علماء کے ذمہ لگا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے۔ اب غور فرمائیں اگر لوگ مودودی صاحب کی بیٹیوں پر اعتراض کریں تو آپ ناراض ہوں، لیکن وہی مودودی صاحب دوسروں کی عورتوں پر اعتراض کریں تو یہ کس اخلاق اور شریعت میں جائز ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں کے لیے اسباب مودودی صاحب نے خود فراہم کیے تھے۔ دراصل مودودی صاحب کی لڑکیوں پر ان کے مخالفین کے اعتراض کی بنیادی وجہ ان کی اپنی ایک تحریر ہے۔ ’’ رسائل و مسائل حصہ اول ص ۱۳۲ بعنوان فقہیات میں لکھتے ہیں:

’’ آج کل کے میڈیکل کالجوں اور نرسنگ کی تربیت گاہوں اور ہسپتالوں میں مسلمان لڑکیوں کو بھیجنے سے لاکھ درجے بہتر یہ ہے کہ ان کو قبروں میں دفن کر دیا جائے۔ رائج الوقت گرلز کالجوں میں جا کر تعلیم حاصل کرنے اور پھر معلمات بننے کا معاملہ بھی اس سے کچھ بہت مختلف نہیں ہے۔‘‘ 

مخالفین کا اعتراض یہ تھا کہ جب لڑکیوں کو گرلز کالجوں میں تعلیم دلوانے سے زندہ درگور کرنا ہی بہتر ہے تو جناب والا کی اپنی بچیوں کے لیے اس کا جواز کیسے ہوگیا، یا یہ فرمان صرف ما و شما کی بچیوں کے لیے تھا؟ بعد ازاں ان کے عام مخالفین نے اس میں نمک مرچ لگا کر مخلوط تعلیم اور بے پردگی وغیرہ کی باتیں بھی ساتھ شامل کر لیں جسے ہم قطعاً درست نہیں سمجھتے۔ مذہبی یا سیاسی مخاصمت میں کسی کی ماں، بہن، بیٹی، بیوی یا کسی بھی خاتون پر ایسے اتہام لگانا بالکل ناروا ہے اوراسی طرح اس کا الزام صرف علماء پر لگانا اس سے بھی کہیں بڑا جرم ہے۔ 

(۲) آپ کے سوال نمبر ۳ سے متعلق عرض ہے کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں سیاسی مخالفین ایک دوسرے کو بہت ہی قبیح طریقے سے پکارتے ہیں اور اس میں کوئی بھی بچا ہوا نہیں ہے، الا ماشاء اللہ۔ یہ طریقہ سراسر غلط ہے، لیکن اس میں بھی صرف کسی ایک کو نشانہ بنانا اور دوسروں کو اسی جرم میں چھوڑ دینا کہاں کا انصاف ہے؟ مولانا عبدالصمد رحمانی صاحب اپنی کتاب ’’جماعت اسلامی کے دعوے، خدمات اور طریقۂ کار کا جائزہ‘‘ کے صفحہ ۳۵۳ پر لکھتے ہیں:

’’مولانا مودودی کا فتویٰ :
’’جو لوگ دستور جماعت اسلامی کے حدود سے باہر ہیں وہ دائرہ امت مسلمہ سے باہر ہیں۔‘‘
’’جو گروہ قرآن کی نصوص قطعیہ سے مرتب کیے ہوئے اس دستور جماعت اسلامی کی حدود کے اندر ہیں انہیں ہم امت مسلمہ کے اندر شمار کرتے ہیں، اور جن لوگوں نے ان حدود کو پھاند لیا ہے انہیں دائرہ امت کے باہر سمجھنے پر مجبور ہیں۔‘‘ (ترجمان القرآن ج ۲۶، ص ۲۷۷)

لیجیے آپ تو صرف فتویٰ فروشی کے لفظ سے چیں بجبیں ہو رہے ہیں، یہاں تو جماعت اسلامی کے علاوہ سب کو امت سے ہی خارج کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی آپ کی نظر میں نہ تو وہ فتویٰ فروش ہیں اور نہ ہی قصور وار ہیں، فیا للعجب۔ 

(۳) اس کا تعلق آپ کے سوال نمبر ۴ سے ہے۔ معروف صحافی جناب ممتاز علی عاصی صاحب اپنی کتاب ’’مولانا مودودی اور جماعت اسلامی ایک جائزہ‘‘ کے صفحہ نمبر ۱۹۷ میں لکھتے ہیں:

’’خود نمائی میں بعض دفعہ مولانا (مودودی)سوقیانہ باتوں پر اتر آتے تھے۔ مثلاً اس انٹرویو کا آخری پیرا پڑھیے جس میں لکھا ہے کہ جب ان سے تذکرہ کیا گیا کہ ’’حکمران‘‘ طبقہ آپ کے لٹریچر سے استفادہ توکرتا ہے، لیکن اس کا اقرار کرتے ہوئے ہچکچاتا ہے تو مولانا نے فرمایا ’’ان کی پوزیشن ان ہندو دیویوں جیسی ہے جو اپنے خاوندوں کا نام لیتے ہوئے شرماتی ہیں‘‘۔ کیا یہ الفاظ ایک عالم دین بلکہ اس زمانے کے بزعم خود (بہت بڑے مصلح) کے ہو سکتے ہیں۔ اس کا فیصلہ خود قاری کر سکتے ہیں۔‘‘ (نوائے وقت لاہور ۷ نومبر ۱۹۶۳ء)

لیجئے مودودی صاحب نے حکمران طبقہ کو ہندوؤں کی دیویاں اور اپنے آپ کو ان کا خاوند بنا لیا ہے، آپ چیل اور ہیر کا مسئلہ لیے بیٹھے ہیں۔

(۳) اس کا تعلق آپ کے سوال نمبر ۵ سے ہے۔ معروف صحافی جناب ممتاز علی عاصی صاحب اپنی کتاب ’’مولانا مودودی اور جماعت اسلامی ایک جائزہ‘‘ کے صفحہ نمبر ۵۷ میں لکھتے ہیں:

’’مولانا اور ادھر ان کے رفقاء کار مختلف رسائل، کتابچوں، خطبات اور تقریروں میں پاکستان پر اظہار خیال کر رہے تھے، مثلاً مضامین کے دو عنوان ملاحظہ ہوں: (۱)۔۔۔۔۔۔(۲) لنگڑا پاکستان‘‘ (کوثر لاہور ۱۳ جون ۱۹۴۷ء)

مولانا محمد عبد اللہ صاحب اپنی کتاب ’’صحابہ کرامؓ اور ان پر تنقید‘‘ کے حاشیہ صفحہ نمبر ۱۳۰ میں لکھتے ہیں:

’’مولانا مودودی کی زبان کی شستگی اور پاکیزگی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حضرات زحمت گوارا فرما کر ’’ترجمان القرآن‘‘ کے ان اوراق کا مطالعہ فرمائیں جن میں انہوں نے اپنے مخالف علماء کے حق میں کمینہ قسم کے مخالف، متعصب، حاسد، کینہ توز، کم ہمت، نا اہل، مناع للخیر، الزام اور بہتان تراش، غرض پرست اور دنی وغیرہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔‘‘

آپ صرف لنگڑا مودودیا سننے سے ہی گھبرا گئے، ادھر تو سارے پاکستان کو لنگڑا اور علماء کو طرح طرح کے القابات سے نوازا گیا ہے جس پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

(۴) اس کا تعلق آپ کے سوال نمبر ۶ سے ہے۔جناب سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب لکھتے ہیں۔

’’پھر جو لوگ مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اٹھتے ہیں، ان کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ادنیٰ جھلک تک نظر نہیں آتی، کہیں مکمل فرنگیت ہے، کہیں نہرو اور گاندھی کا اتباع ہے، کہیں جبوں اور عماموں میں سیاہ دل اور گندے اخلاق لپٹے ہوئے ہیں، زبان سے وعظ، عمل میں بدکاریاں، ظاہر میں خدمت دین اور باطن میں خیانتیں، غداریاں، نفسانی اغراض کی بندگیاں‘‘۔(تحریک آزادی ہند اور مسلمان(مشتمل برمسلمان اور موجودہ سیاسی کشمش حصہ اول و دوم اور مسئلہ قومیت ص ۱۰۳)

لیجئے، سیاہ دل ایک نہیں ساری امت کے علماء کو بغیر کسی امتیاز کے بیک جنبش قلم سیاہ دل قرار دے دیا گیا ہے، لیکن آپ کو اعتراض پھر بھی نہیں ہے۔ 

حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور مولانا محمد چراغ مرحوم دارالعلوم دیوبند میں کلاس فیلو تھے۔ دونوں نے محدث العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے ۱۹۱۸ء میں دورہ حدیث پڑھا تھا۔ مولانا ہزارویؒ مولانا چراغ مرحوم سے علم میں فائق بھی تھے۔ ان کی کلاس میں اول انڈیا کے ایک عالم جبکہ دوسرے نمبر پر مولانا ہزارویؒ آئے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند میں مدرس بھی متعین کیا گیا تھا اور پھر دارالعلوم نے اپنے نمائندہ کے طور پر قاضی کے عہدہ پر انہیں حیدر آباد بھیجا تھا۔ وہ مولانا چراغ مرحوم کو جتنا قریب سے جانتے تھے، ما و شما نہیں جانتے۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی علمی پوزیشن کے بارے میں بریگیڈیئر جناب فیوض الرحمن جدون اپنی کتاب ’’مشاہیر علماء ج ۲ ص ۵۴۷‘‘میں لکھتے ہیں:

’’ایک رسالہ پوسٹ مارٹم بھی لکھا جس میں جناب مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی تحریروں پر مضبوط علمی گرفت کی، ان میں سے بعض تحریروں سے مولانا نے رجوع فرما لیا ہے۔‘‘ 

(۵) آپ کے سوال نمبر ۷ کا اس سے تعلق ہے۔ مودودی صاحب کے فرزند ارجمند جناب سید حیدر فاروق مودودی صاحب روزنامہ پاکستان ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں: 

’’مولانا (مودودی)نے اپنی سیاسی مجبوریوں کی خاطر اپنی تحریر ’’دین میں حکمت عملی کا مقام‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک اسلامی تحریک کے قائد کو حکمت عملی کے تقاضوں کے تحت یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ جائز کو ناجائز اور ناجائز کو جائز ٹھہرا سکے اور شریعت کے کسی بھی حکم کو مقدم یا موخر قرار دے سکے۔ حیدرفاروق مودودی نے کہا یہ حق تو اللہ نے اپنے انبیاء کو بھی نہیں دیا جو مولانا مودودی کسی اسلامی تحریک کے قائد کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اب انجمن ستائش باہمی کی شوریٰ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کی تمام لیڈر شپ ’’تنخواہ دار‘‘ ہے جو قوم کے چندوں پر پل رہے ہیں۔‘‘

ایسے ہی افکار و نظریات کے بارے میں مولانا ضیاء القاسمیؒ نے اپنی تقریروں میں اکبر الٰہ آبادی کے مشہور شعر میں انتحال و تظمین کرتے ہوئے کیا ہی خوب اور بجا فرمایا: ؂

میں نے کہا کہ پردہ تمہارا وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مودودی کے پڑ گیا

(۶) آپ کے سوال نمبر ۸ سے اس کا تعلق ہے۔ انعام الحق مرحوم نے جو حرکت کی اس کا ذمہ علماء پر ڈالنا نہایت بے انصافی کی بات ہے۔ بلکہ کسی عام آدمی کے ابھارنے پر اس کا یہ حرکت کرنا تو اس کے ذہنی خلل کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایسی صفات کی لڑکی کا رشتہ طلب کر رہا ہے اور پھر اپنے والدین کا اعتماد حاصل کیے بغیر جا کر مودودی صاحب سے ان کی بیٹی کا رشتہ خود ہی پوچھتا ہے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

  •  سیاسی نوک جھونک میں مولانا ہزارویؒ کا اپنے مخالفین کو ’’مریم جمیلہ گروپ‘‘ کہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے جماعت اسلامی کے مولانا نعیم صدیقی صاحب نے اپنی کتاب ’’اسلامی سیاست‘‘ صفحہ نمبر ۱۳۱ پر علماء کا تمسخر اڑاتے ہوئے ’’مولوی رجمنٹ‘‘ لکھا ہے۔ (جماعت اسلامی کے دعوے، خدمات اور طریقۂ کار کا جائزہ۔ ص ۳۱۴)
    کیا مولانا ہزارویؒ کا فون نمبر مریم جمیلہ صاحبہ کے پاس تھا؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔ کیونکہ اس دور میں فون کا اتنا رواج نہ تھا اور پھر مولانا ہزارویؒ کے گھر یا دفتر میں اس کی سہولت موجود نہ تھی اور پھر وہ کسی ایک جگہ قیام بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کی تجارت طب تھی جو ایک تھیلے میں چند دوائیوں کی صورت میں ہر وقت ان کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ وہ مرد قلندر جب فوت ہوا تو مقروض تھا۔ میں نے جماعت اسلامی کے لوگوں کو مولانا ہزارویؒ کو نہایت قبیح الفاظ سے کوستے ہوئے بھی سنا ہے۔حویلیاں میں مودودیوں نے مولانا ہزاروی ؒ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا، العیاذ باللہ۔ یاد رہے کہ مریم جمیلہ صاحبہ کا اس سلسلہ میں اپنا بیان جسے عاصم نعمانی صاحب نے اپنی مذکورہ سابقہ کتاب کے آغاز میں نقل کیا، ہے آپ کے بیان سے بہت مختلف ہے ،انہوں نے شخصی طور پر کسی پر الزام نہیں لگایا۔
  • مولانا عبد القیوم ہزارویؒ کے بارے میں جو آپ نے تاثر دیا ہے کہ وہ خوامخواہ غصے میں آجاتے تھے، یہ قرین انصاف نہیں ہے۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ ان کے پاس گئے اور وہ بلا وجہ غصے میں آگئے۔ مخالفت میں اتنا بھی حد سے نہیں گزر جانا چاہیے۔ باقی پونڈاں والی مسجد کے بارے میں آپ کی معلومات نہایت ناقص ہیں، اس مسجد کے بارے میں دو دفعہ ہائی کورٹ سے دیوبندی مسلک کے حق میں فیصلہ ہو چکا ہے گو فریق مخالف کا جارحانہ قبضہ برقرار ہے اور تادم آخر پونڈاں والی مسجد کے نمازی مولانا ہزاروی ؒ سے ملنے کے لیے آتے رہے ہیں۔ 
  • مفسر قرآن ؒ کا نصف صدی تک معمول تھا کہ وہ جمعہ کے خطبہ کے اختتام پر موقع دیتے تھے کہ کسی نے کوئی بات پوچھنی ہو تو وہ چٹ لکھ کر پوچھ سکتا ہے۔ اس کے باوجودجماعت اسلامی کے یعقوب طاہر مرحوم کا جامع مسجد نور میں عین جمعہ کے خطبہ کے دوران اٹھ کر کھڑے ہونا اور پھر مفسر قرآنؒ کے رد میں اپنا بیان شروع کر دینا، کیا اسے عقلمندی قرار دیا جا سکتا ہے؟ کوئی ذی شعور آدمی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ کسی کی بات کا جواب دینے کے لیے اسے کون مہذب طریقہ قرار دے گا۔ آپ خود بھی تو مفسر قرآنؒ سے سوالات کرتے رہتے تھے۔ کیا آپ کو کبھی انہوں نے اپنی مجلس سے نکالا تھا؟ اگر آپ کو کبھی انہوں نے اپنی مجلس سے نہیں نکالا تو یعقوب طاہر مرحوم کے بارے میں آپ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ انہوں نے اسے مسجد سے باہر نکلوایا ہوگا؟ ہاں کسی نمازی نے ان کی ایسی بے ہودہ حرکت پر از خود پکڑ کر بٹھا دیا ہو یا باہر نکال دیا ہو تو یہ اس کا اپنا عمل ہے۔ آپ کی طرف سے جواب دینے کے لیے ایسے طریقے کی حوصلہ افزائی بجائے خود مضحکہ خیز ہے۔ 
  • مدارس کے طلبہ کے متعلق آپ نے پیرزادہ عطاء الحق قاسمی صاحب کے کندھے پر بندوق رکھ کر نہایت رکیک حملہ کیا ہے کہ مدارس والوں نے ان کی ایسی برین واشنگ کی ہوتی ہے کہ ان کے دماغ دولے شاہ کے چوہوں سے بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ میں ایک حوالہ پیش کر رہا ہوں اس سے آپ اندازہ لگا لیں گے کہ یہ مثال خود آپ کی جماعت پر کیسے فٹ آتی ہے جسے میں یوں تعبیر کروں گا کہ ’’گرو سے چیلے دو قدم آگے نکل گئے۔‘‘ مدیر ایشیا نصر اللہ خان عزیز صاحب جسے مودودی سٹیٹ کا وزیر داخلہ بنایا جانا تھا، اس نے امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے بارے میں لکھا ہے: (الاعتصام لاہور مورخہ ۱۸ نومبر ۵۵ء بحوالہ ایشیا)
    ’’جاہل، بہتان طراز، مفتری، اخلاقی تعلیمات سے بے بہرہ، تقویٰ، تقدس، للہیت اور تقرب الی اللہ کا ڈھونگ رچانے والے، غیر معقول مسمسی صورت والے، فریبی، جھوٹے تقدس و تقویٰ کی دھونس رچانے والے، مذبوحی حرکتیں کرنے والے، علم و اخلاق سے بے تعلق، فاسد ذہنیت کے مالک، پیشہ ور دیندار، عقل کے اندھے، غیر ذمے دار، قرآن کی فہم سے عاری، ناخدا ترس، بے حس، خدا اور مخلوق کی شرم سے بے بہرہ، بے حیا، بے وقوف گھناؤنے اور مکروہ اخلاق کے مالک، دیوبند کی چراگاہ سے نکلے ہوئے فریبی، دجل و کذب کے مالک، شور مچانے والے کفن چور، افیونی، شوریدہ سر۔ ‘‘ (نصر اللہ خان عزیز مدیر ایشیا لاہور، ماخوذ از ’’تحریک جماعت اسلامی اور مسلک اہل حدیث‘‘) (انکشافات ص ۱۱۲، ۱۱۳)
    حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اٹھائے ہوئے تمام سوالات کے جواب میں صرف یہ ہی ایک حوالہ کافی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ آپ کو ان بیانات اور تحریرات کے متعلق کبھی اخلاقی اور اسلامی اقدار معلوم کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ 

  • غلط فہمیاں دور کرنے کا حق مدارس والے نہیں دیتے، یہ بھی آپ کا اتہام ہے۔ آپ کے مضامین ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ میں طبع ہونا یہ مدارس ہی کا فیض ہے اور بجائے خود آپ کے دعویٰ کا ردہے۔ 

آپ کے والد محترم خواجہ بشیر احمد مرحوم مفسر قرآنؒ اور احقر کے مقتدی رہے ہیں، بہت نفیس مزاج، صاحب مطالعہ اور با اخلاق انسان تھے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے خلاف کتاب بھی لکھی تھی۔ یقیناً انہوں نے آپ کو بھی اس سلسلہ میں سمجھانے کی اپنی ذمہ داری پوری پوری ادا کی ہوگی۔ 

اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

محمد فیاض خان سواتی

مہتمم جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ


(۲)

(آئندہ سطور میں جناب عبد الفتاح محمد کے ایک عربی مکتوب کی تلخیص پیش کی گئی ہے جو انھوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے صدر جناب ڈاکٹر ممتاز احمد کے خط (شائع شدہ ’الشریعہ‘، مئی ۲۰۱۳ء) کے جواب میں تحریر کیا ہے۔ خط کا پورا عربی متن اگلے صفحات میں شائع کیا جا رہا ہے۔)

۱۔ شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر احمدی نژاد کے ساتھ آداب میزبانی کے خلاف کوئی گفتگو نہیں کی۔ انھوں نے صرف اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ ایرانی قیادت تقیے سے کام لیتے ہوئے اسلامی اخوت اور اتحاد بین المسلمین جیسے نعرے لگا کر، جن پر وہ دل سے یقین نہیں رکھتے، مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ شیعہ عقیدے کی رو سے غیر شیعہ، ان کے بھائی نہیں ہو سکتے اور نہ قابل احترام ہیں۔ ان پر لعن طعن، زبان درازی اور ان کے عیوب بیان کرنا شیعہ مذہب کا لازمی حصہ ہے۔ 

۲۔ ایرانی دستور کی رو سے ایران کی صدارت کا منصب اثنا عشریوں کے لیے خاص ہے، جبکہ طے شدہ حکومتی پالیسی کے تحت اثنا عشریوں کے علاوہ دوسرے مذہبی گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد کا کسی بلدیہ کی سربراہی کے منصب پر فائز ہونا بھی ممنوع ہے۔ بیشتر ایرانی شہروں میں اہل سنت کو مساجد بنانے کی اجازت نہیں، جبکہ بعض مقامات پر،مثلاً مشہد اور مغربی آذربیجان کے شہر سلماس میں سنی مساجد کو منہدم بھی کیا گیا ہے۔ اپنے ملک میں اہل سنت کو مذہبی وسیاسی حقوق نہ دینا اور دنیا کے دوسرے ممالک میں مظلوموں کی مدد کا ڈھنڈورا پیٹنا ایرانی قیادت کا ایک منافقانہ رویہ ہے۔

۳۔ ایرانی ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے مابین نفرت وعداوت کے جذبات کو برانگیختہ کرنے میں مسلسل مصروف ہیں۔ مثال کے طو رپر سیدہ فاطمہ زہراء کی شہادت کی مناسبت سے جو پروگرام نشر کیے جاتے ہیں، ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نہایت قریبی ساتھیوں کو ان کی شہادت کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا اور ان سے انتقام لینے کا جذبہ ابھارا جاتا ہے۔ پاکستان، تاجکستان، افغانستان، ترکی، شام، مصر، الجزائر اور تونس، ان تمام ممالک میں حتیٰ کہ غیر مسلم ممالک میں بھی ایرانی قیادت کی پالیسی یہی ہے کہ شیعہ سنی تفریق کو بڑھایا جائے۔

۴۔ صدر جامعہ نے لکھا ہے کہ ایران کو دوسرے ممالک اور خاص طور پر خلیجی ممالک (بحرین وغیرہ) کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کا الزام دینا غلط ہے اور یہ کہ اہل سنت کے ممالک میں تشیع کو فروغ دینا ایرانی حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران خطے میں اپنے مذہبی وسیاسی مفادات، دونوں کو بڑھانے کے لیے پورے جوش وجذبے سے سرگرم ہے۔ ایرانی قائدین، جن میں رفسنجانی، خاتمی اور احمدی نجاد شامل ہیں، متعدد مواقع پر یہ اظہار کر چکے ہیں کہ امریکا کے لیے افغانستان اور عراق پر قبضہ کرنا ان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ایرانی قیادت علانیہ یہ بھی کہتی ہے کہ عراق اور افغانستان میں معاملات کی درستی ایران کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ایران نے ہمیشہ خلیجی ممالک کو خوف زدہ کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ امریکا کی گود میں جا بیٹھنے اور اس سے بھاری رقم کے عوض اسلحہ خریدنے پر مجبور ہیں۔ 

۵۔ بحرین کے لوگوں کے اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہونے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں، لیکن اس کو ایک مخصوص مذہبی گروہ کی جدوجہد کا رنگ دینا جس کا فائدہ ایران کو پہنچے، درست نہیں۔ بحرین کے معاملات میں ایران کی دلچسپی بالکل کھلی ہوئی بات ہے۔ ایران ستمبر ۲۰۱۱ء اور اس کے بعد دسمبر ۲۰۱۲ء اور اب حال ہی میں اپریل ۲۰۱۳ء میں ’’اسلامی بیداری‘‘ کے نام سے عالمی میلے منعقد کر کے بحرین کی سیاسی تبدیلیوں کو دنیا کے سامنے لانے اور اہل تشیع کے مفادات کو تائید مہیا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ شیعہ عناصر ۱۴۰۶ھ، ۱۴۰۷ھ اور ۱۴۰۹ھ میں مکہ مکرمہ میں دھماکے کرنے میں ملوث تھے۔ یمن میں حکومت کے باغی حوثیوں کو بھیجے جانے والے اسلحہ کے جہازوں کا پکڑا جانا اور حزب اللہ اور ایران کے پاس داران انقلاب سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کا یمن میں موجود ہونا ساری دنیا کو معلوم ہے۔ 

۶۔ سنی اکثریت کے ممالک میں ہر جگہ شیعہ اقلیت اپنے جداگانہ مذہبی تشخص کو اجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ افغانستان میں شیعہ پانچ فی صد سے زیادہ نہیں، لیکن سال کے مخصوص دنوں میں پورا افغانی دار الحکومت سیاہ رنگ میں ملبوس دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر شیعہ قابض ہیں۔ ایران میں چوبیس مختلف زبانوں میں ٹی وی چینل کام کر رہے ہیں اور ۲۵ سے زائد چینل صرف عربی زبان میں ہیں۔ ایرانی قائدین جب کہتے ہیں کہ وہ ایران کے بجٹ کا ستر فی صد حصہ انقلاب کی برآمد پر خرچ کرتے ہیں تو آخر اس کا کیا مطلب ہے؟

۷۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں خانہ فرہنگ ایران ثقافتی سرگرمیوں کے عنوان سے متحرک ہے۔ صرف اسلام آباد میں سات شیعہ جامعات کام کر رہی ہیں اور شہر کے قلب میں واقع جامعۃ الکو ثر کے زیر اہتمام ’’الکوثر‘‘ ہی کے نام سے ایک ٹی وی چینل بھی قائم ہے۔ ایران کی طرف سے تعلیمی امداد کے تحت شیعہ طلبہ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم دلوائی جاتی ہے اور اس کے بعد انھیں تکمیل تعلیم کے لیے ایران بھیج دیا جاتا ہے۔ یوں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت ایرانی انقلاب کے کارندے تیار کیے جا رہے ہیں۔

۸۔ ایرانی قیادت، شیعہ مرجعیت کو ایران میں محدود کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اس نے نجف اشرف سمیت تمام ممالک میں شیعہ مراجع کی مذہبی حیثیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ آخر عرب، ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کے اہل تشیع اپنے اپنے مقامی مراجع مقرر کرنے کا حق کیوں نہیں رکھتے؟ شیعہ مذہب میں ’مرجع‘ کا جو مقام اور اختیارات ہیں، اس کی روشنی میں صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایران اپنے علاوہ کسی کو شیعہ دنیا کا قبلہ اور مرکز نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کے شیعہ دراصل پاکستان کے نہیں، بلکہ ایران کے وفادار ہیں اور اگر خدانخواستہ دونوں ملکوں میں جنگ ہو جائے تو وہ ایران کی طرف سے جنگ میں شامل ہوں گے۔

۹۔ اس سوال کا جواب بھی معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ برصغیر میں اہل تشیع اور اہل سنت ہمیشہ سے پرامن فضا میں رہتے چلے آ رہے تھے اور دونوں کے مابین مذہبی مباحثات کی ایک مثبت علمی فضا قائم تھی۔ ان کی آپس کی خانہ جنگی، مساجد اور امام بارگاہوں پر حملوں اور باہمی قتل وغارت کا سلسلہ آخر ایران میں شیعہ انقلاب کے بعد ہی کیوں شروع ہوا ہے؟

مکاتیب