مکاتیب

ادارہ

(۱)

مشفقی ومکرمی جناب عمار ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاجِ گرامی بخیر! 

مئی 2014ء کے شمارہ ’’الشریعہ‘‘ میں جناب عاصم بخشی کا مکتوب نظر سے گذرا جس میں غزالی اور ابنِ رشد کے حوالہ سے میرے مضمون (فروری، مارچ 2014ء) پر کچھ تعریضات پیش کی گئی ہیں۔ زیرِ نظر مکتوب کے اندر انہی تعریضات کے جواب میں کچھ توضیحات پیش کرنا مقصود ہیں۔ 

۱۔ مکتوب نگار کو اعتراض ہے کہ غزالی کا دفاع کرتے ہوئے میں نے اپنے مضمون میں ناقدینِ غزالی کے جس ’’فرضی حملہ‘‘ کے خلاف جوابی کار روائی کی ہے، اس حملہ کا کوئی حوالہ اور ماخذ نہیں بتایا اور نہ ہی اس حملہ کے کسی ذمہ دار کی نشان دہی کی ہے۔ اطلاعا عرض ہے کہ غزالی پر یہ ’’فرضی حملہ‘‘ آج روشن خیالوں کے ہر دوسرے جتھے کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اعتراف خود مکتوب نگار نے بھی چند سطروں کے بعد کیا ہے۔ ویسے میرے مضمون کی ابتداء میں ڈاکٹر سلیمان دنیا کی عبارت بھی موجود ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ غزالی پر یہ حملہ عالمی اور غیر علاقائی نوعیت کا ہے اور بعض اوقات اس میں بڑے بڑے دانش ور بھی ملوث ہوتے ہیں۔ اب وہ خود ہی بتائیں کہ اس صورتِ حال میں اس ’’حملہ‘‘ کی فی الواقع موجودگی کو ثابت کرنے کے لئے آخر کسی ایک مخصوص مقالہ کا حوالہ دینے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

۲۔ مکتوب نگار کی رائے میں غزالی پر مختلف الخیال حلقوں کی طرف سے مختلف نوعیت کی تنقیدات کی جاتی ہیں، ان میں سب سے غیر علمی اور سطحی تنقید وہی ہے جو ہمارے نام نہاد مسلم معقولیین اور متجددین کی طرف سے ہوتی ہے اور جس کے خلاف جوابی کارروائی کا بیڑا میں نے اٹھایا ہے۔ مذکورہ تنقیدی حملہ کو سطحی اور غیر علمی قرار دینا بالکل بجا، لیکن اگر اس طرح سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس غیر علمی تنقید کا جواب دینا بھی ایک فضول اور زائد از ضرورت کا م ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مکتوب نگار کی سادہ لوحی ہے۔ گم راہ کن غلط فہمیوں کو اگر صرف سطحی اور غیر علمی کہہ کر چھوڑ دیا جائے تو بعض اوقات وہ اتنی تناور ہوجاتی ہیں کہ ان کے خلاف بولنا بے اثر ہوجاتا ہے۔ غزالی کو پوری عقلی روایت کا مخالف گرداننا اور سائنس ومذہب کی ہم آہنگی کے خلاف سمجھنا ایک غلطی ہے اور یہ غلطی آج صرف غزالی کے نقد کاروں سے ہی نہیں، بلکہ غزالی کے بعض سادہ لوح مریدوں سے بھی اسی غلطی کا ارتکاب ہوتا ہے اور وہ بزعمِ خود اس ’’رویہ‘‘ کو غزالی کی خوبی سمجھتے ہیں۔ یعنی غزالی خود اپنی کتاب ’’تہافت‘‘ اور ’’المنقذ‘‘ میں جس رویہ کی باربار مذمت کرتے ہیں کہ ’’حکمت وفلسفہ‘‘ کی مطلق تنقید سے اسلام کو کوئی فائدہ پہنچنے والا نہیں، جس رویہ کو وہ ’’صدیق للاسلام جاہل‘‘ یعنی اسلام کے نادان دوست کا رویہ کہتے ہیں اور جس کے خلاف غزالی کے بعض مذمتی بیانات ہم اپنے مضمون میں نقل کرچکے ہیں، اسی رویہ کو غزالی کے ’’اپنے‘‘ اور مخالف، دونوں ہی غزالی کی طرف منسوب کرتے ہیں، اس کو ’’ثابت‘‘ کرنے کے لیے باقاعدہ مورچے لگاتے ہیں اور پھر داد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہمارے مکتوب نگار دوست کا خیال ہے کہ اپنوں اور غیروں کی اس سنگین علمی غلطی کو ابھی بھی صرف سطحی اور غیر علمی کہنے پر اکتفاء کیا جائے۔ 

۳۔ مسلم ’’حکیموں‘‘ اور فلسفیوں میں کچھ تو وہ تھے جنہوں نے خود کو غیر مابعد الطبیعیاتی علوم تک محدود رکھا، جبکہ کچھ نے ما بعد الطبیعیات (الہیات) میں بھی ٹانگ اڑائی اور یوں دین کے دائرہ میں دخل اندازی کی۔ یہ دخل اندازی کیوں ناروا تھی، اس موضوع پر کچھ گفتگو میں اپنے مضمون میں کرچکا ہوں۔ مکتوب نگار کا نکتہ اعتراض یہ ہے کہ’’مسلم ‘‘ حکماء کے مابین یہ خطِ تقسیم غیر حقیقی ہے۔ ’’مسلم‘‘ حکماء کا علمی منبع وماخذ یونانی علمیت تھی اور یونانی علمیت ایک اکائی کا نام تھاجس کا ایک لازمی جزو مابعدالطبیعیات بھی تھی۔ یونانی علمیت کا کوئی بھی قاری، متعلم اور ماہر اس کے کسی خاص جزو کو نظر سے گذارے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ بہت مشکل تھا کہ یونانی علمیت کے تمام اجزاء اس کی نظر سے گذریں مگر اسی علمیت کا ایک لازمی جزو ’’مابعد الطبیعیات‘‘ اس کی نظر سے اوجھل رہ جائے۔ مکتوب نگار کی یہ ساری گفتگو اغلبا درست ہے اور میں نے ایسی کوئی بات سرے سے نہیں کی جس کے جواب میں وہ یہ سب کہنے کی ضرورت محسوس کررہے ہیں۔ بعض حکماء کے بارہ میں میرا یہ موقف اور حسنِ ظن کہ’’ انہوں نے خود کو غیر الہیاتی علوم تک محدود رکھا‘‘ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ سرے سے یونانی الہیات ان کی نظر سے ہی نہیں گذری۔ اس کا م مفہوم اور مدعا فقط یہ تھا کہ انہوں نے اس مابعد الطبیعیات کے لئے تائید وحمایت کی کوئی پوزیشن اختیار نہیں کی اور اس معاملہ میں خود کو یونانی الہیات کا دفاعی فریق نہیں بننے دیا۔ یوں بھی دیکھا جائے تو فی نفسہ کفریات کا مطالعہ نہیں، بلکہ ان کی تائید وتصدیق اصل میں قابلِ اعتراض چیز ہے، ورنہ تو وہ بہت سے فلسفی بھی اس کی زد میں آجائیں گے جو در اصل یونانی الہیات کے ناقد ہیں مثلا خود غزالی اور ابوالبرکات بغدادی وغیرہ، کیونکہ یہ حضرات یونانی الہیات کا مطالعہ ہی نہیں، اس پہ عبور رکھتے تھے اور کم از کم ان لوگوں کو تو برے فلسفیوں کی کیٹیگری میں شامل کرنا ہمارا مدعا ہرگز نہیں تھا۔ اگر مضمون کے اندر میرے مدعا کے ابلاغ میں کوئی سقم رہ گیا تھا تو امید ہے کہ اب اس کا ازالہ ہوچکا ہوگا۔ میری پہلی قسط میں صفحہ ۱۶ کی ساری گفتگو کو اگر سیاق وسباق کے ساتھ پڑھ لیا جائے تو وہ ’’محدود رکھنے‘‘ کے اسی مفہوم کی متقاضی ہے اور اس میں مذکورہ حکماء کے ساتھ ہمارے حسنِ ظن کے قرائن بھی موجود ہیں جن سے مذکورہ بالا خط تقسیم کی موجودگی بھی ثابت ہوتی ہے۔

مکتوب نگار کی رائے میں، اِس راقم نے خود ہی سائنس اور فلسفہ کو گذشتہ تاریخ کے اعتبار سے مرتکز اور ہم معنی تک کہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یونانی علمیت بشمول اپنی الہیات وغیر الہیات کے ’’مسلم‘‘ حکماء کے سامنے ایک ’’کل‘‘ اور اکائی کی حیثیت سے موجود تھی اور مسلم حکماء کی اس سے مشغولیت بھی ایک اکائی ہی کی حیثیت سے تھی۔ اطلاعا عرض ہے کہ فلسفہ اور سائنس کے جس ارتکاز اور وحدتِ اطلاق کی بات مکتوب نگار میری طرف منسوب کرکے ’’خطِ تقسیم‘‘ کو غیر حقیقی ثابت کرنا چاہتے ہیں، اس حوالہ سے میرے مضمون کا مواد بھی در حقیقت ’’خطِ تقسیم‘‘ کی نشان دہی کرتا ہے اور اس بات کا قرینہ ہے کہ ’’مسلم‘‘ حکماء و فلاسفہ میں دلچسپی کے دائرے مختلف رہے تھے، وہ بے شک ’’جامع العلوم‘‘ رہے ہوں گے مگر ضروری نہیں کہ الٰہیات میں نفیاً یا اثباتاً ان کی دلچسپی بھی یکساں رہی ہو۔ چنانچہ پہلی قسط میں صفحہ۱۶ کے درمیانی پیراگراف کو دوبارہ پڑھ لیجئے۔ 

۴۔ بشمول کچھ اور فلاسفہ وحکماء کے، میں نے محمد بن زکریا رازی، البیرونی اور عباس بن فرناس (اس کا نام مسلم بن فرناس لکھنا شاید میری غلطی تھی) وغیرہ کے بارہ میں یہ لکھا تھا کہ ’’ہمارے علم کے مطابق‘‘ انہوں نے خود کو غیر مابعد الطبیعیاتی علوم تک محدود رکھا۔ اب ان میں سے کسی کے بارہ میں اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ فی الواقع خالصتا غیر الہیاتی ’’حکیم‘‘ نہیں تھا تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہمیں بھی ہر ایک کو بہ ہر صورت یہ ثابت کرنے پر اصرار نہیں اور اسی وجہ سے ہی ہم نے ڈھیلے ڈھالے انداز میں ’’ہمارے علم کے مطابق‘‘ کی شرط کا اضافہ مضمون کے متن میں ہی کردیا تھا۔ثابت تو صرف یہ کرنا مقصود تھا کہ کچھ حکماء بہر حال ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے خود کو غیر الہیاتی علوم تک محدود رکھا اور اس کے قرائن بھی موجود ہیں۔ باقی دی گئی مثالوں میں سے اگر کوئی مثال اس صورت کے مطابق نہیں ہے تو اس سے ہمارے اساسی موقف پر بہرحال کوئی زد نہیں پڑتی۔ رازی اور عباس بن فرناس کے بارہ میں مکتوب نگار کی دی گئی معلومات درست ہوسکتی ہیں کہ انہوں نے خود کو غیر الہیاتی علوم تک محدود نہیں رکھا، مگر البیرونی کے بارہ میں ان کا یہ کہنا کہ وہ ’’ہندویات‘‘ کا ماہر تھا، کیا معنی رکھتا ہے؟وہ ہندویات کا ماہر تو تھا، لیکن کیا ہندی کفریات کی کوئی تصدیق وتائید یا اس ضمن میں کوئی قابلِ اعتراض بیان بھی اس سے منقول ہے؟ اگر نہیں تو پھر اس کا شمار انہی ’’حکماء‘‘ میں ہونا چاہئے جنہوں نے خود کو الہیات میں کوئی نئی اور متنازعہ’’ ایجاد‘‘ پیش کرنے سے محفوظ رکھا اور جنہیں کبھی بھی مسلم معاشرہ میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مکتوب نگار کو یہاں پر ایک بار پھر ’’محدود رکھنے‘‘ کا معنی سمجھنے میں مغالطہ ہوا ہے۔

۵۔ مکتوب نگار کی رائے میں اگر ہم غیر متعصب ہوکر دیکھیں تو دیکھیں گے کہ بوعلی سینا وغیرہ مسلم فلاسفہ‘ افلاطونی روایت کے غضب ناک حملہ کے خلاف مسلسل بر سرِ پیکار ہیں جس کی بہرحال تحسین ہونی چاہئے۔ مکتوب نگار کو چاہئے کہ وہ خود ان کی اس جدوجہد پر ذرا تفصیلی کلام کریں اور یہ بھی بتادیں کہ اگر کسی ملحد میں صدقہ وسخاوت جیسی کچھ اچھی صفات پائی جاتی ہوں تو کیا ان کی وجہ سے اس کے الحاد وبے دینی سے چشم پوشی کرلینی چاہئے؟

۶۔ میں نے لکھا تھا کہ ایک مسلمان کے فلسفیانہ غور وفکر کو شرعی حدود وقواعد کا پابند ہونا چاہئے۔ مکتوب نگار کو اعتراض ہے کہ ’’قرآن میں باقاعدہ تلقین کی گئی ہے کہ حق وسچ کو تلاش کرنے لئے انفس وآفاق میں غور کیا جائے، لہذا فلسفیانہ غور وفکر کو نام نہاد شرعی حدود کا پابند بنانے کا کوئی جواز نہیں ہے اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ متجسس دماغ اس کو قبول کرلیں، الا یہ کہ ماضی کے کلیسائی جبر کی تاریخ دہرائی جائے۔‘‘ اطلاعا عرض ہے کہ فلسفیانہ غور وفکر میں حتمیت وقطعیت کوئی چیز نہیں ہوتی جس کا اعتراف خود مکتوب نگار بھی کریں گے اور یونانیوں و’’اسلامیوں‘‘ کا علمِ الہیات تمام کا تمام ظن وتخمین پر ہی مبنی ہے۔ اس میں ان مسائل کو قطعی عقائد کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے جن کی کوئی قطعی دلیل قطعا موجود نہیں ہے۔ جن چیزوں کا حتمی علم نہ ہو، ان کے بارہ میں فلسفیانہ غور وفکر جاری رکھنا اور پھر بالآخر محض ظن وتخمین کی بنیاد پر کوئی رائے بھی قائم کرلینا کیسا ہے اور قرآنی تعلیم اس کے بارہ میں کیا ہے؟ سنئے: ’’ولا تقف مالیس لک بہ علم، ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسؤلا‘‘ یعنی ’’جن چیزوں کا کوئی حتمی علم تمہیں نہیں ہے ان کے پیچھے مت پڑو اور نہ ان کی پیروری کرو، کیونکہ دید، شنید اور دھڑکتا دل، ان سب کو اپنی اپنی طرف سے جواب دہ ہونا ہے۔‘‘ (الاسراء:۳۶) یعنی اسی جواب دہی کا احساس کرتے ہوئے مشتبہ امور میں بے مقصد اور بے نتیجہ غور وفکر کرکے اپنی توانائیاں ضائع نہ کرو، خصوصا جبکہ معاملہ مقدس الہیاتی شعائر کا ہو تو غیبی حقائق کے بارہ میں اٹکل پچو لگانا ان مقدس شعائر کی بے حرمتی اور حق تلفی کا سبب بن کر ایمان کے لئے بھی خطر ناک ہوسکتا ہے۔ مشرکینِ مکہ کا ملائکہ کو مؤنث سمجھناظن وتخمین پر مبنی اسی فلسفیانہ غور وفکر کا ہی نتیجہ تھا اور اسی پہ اللہ نے فرمایا تھا کہ کیا تم فرشتوں کی تخلیق کے وقت سامنے موجود تھے؟ یونانیوں کی الہیات بھی تمام کی تمام ظنی وفرضی چیزوں پر مبنی ہے، معدودے چند باتوں کے علاوہ کسی بھی چیز کی کوئی قطعی وحتمی دلیل موجود نہیں ہے۔ غزالی کی تہافت کا ایک بڑا حصہ محض یہی ثابت کرنے کے لئے ہے جس کی تفصیلی نشان دہی ہم اپنے مضمون میں کرچکے ہیں۔ اسلام کا خدا فلسفیوں کے خدا کی طرح کوئی سائنسی فارمولا ٹائپ کی چیز نہیں ہے جس کاکوئی وقار اور احترام نہ ہو۔ یہاں تو ہر اس چیز کا بھی احترام ہے جو خدا کی طرف سچائی کے ساتھ منسوب ہوجائے۔ اسلامی عقائد اور غیبی تصورات جہاں تک ثابت ہیں، وہ سب کے سب عقلا بلکہ بداہۃ ثابت ہیں اور کسی بھی انسانی رشتہ سے زیادہ ان کا تقدس اور احترام واجب ہے۔ کیا کوئی بھی معقول انسان اپنے محترم اور عزیز رشتوں کو ظن وتخمین پر مبنی فلسفیانہ غور وفکر کا میدان بنانا پسند کرسکتا ہے؟ اگر نہیں تو قطعیت کے ساتھ ثابت ان اسلامی عقائد کو فلسفیانہ غور وفکر کا شوق پورا کرنے کے لئے تختہء مشق بنانا اور بنا کسی معقول دلیل کے ان کے بارہ میں رائے قائم کرلینا بھی قابلِ مذمت ہے اور مذکورہ بالا آیت کی رو سے اس پہ سخت جواب دہی کا اندیشہ ہے۔

قرآن میں انفس وآفاق اور کائنات کے اندر جو غور وفکر کرنے کی تلقین کی گئی ہے، اس کے حاصلِ معنی پر ہم اپنے مضمون ’’تدبرِ کائنات کے قرآنی فضائل‘‘ (الشریعہ۔ جون 2014ء) میں تفصیلی کلام کرچکے ہیں۔ اس سے نہ تو الہیاتی امور میں ہونے والا ظن وتخمین پر مبنی فلسفیانہ غور وفکر مراد ہے اور نہ ہی طبیعیاتی امور کے اندر ہونے والا سائنسی وتجرباتی غور وفکر۔ ہاں ، البتہ وہ روحانی اور الہیاتی غور وفکر ضرور مراد ہے کہ جس کی طرف خود کائنات بھی پورے زور وشور کے ساتھ انسان کو دعوتِ التفات دے رہی ہے،جس سے انسان میں خالقِ کائنات کی عظمت، قوت ، قدرت، بادشاہت، رحمت، حکمت، علمی وسعت اور لامحدود بڑائی کے تصورات راسخ ہوں، جس غور وفکر کے نتائج بالکل قطعی وعام فہم ہیں اور ان میں کوئی فلسفیانہ جھول یا اشتباہ نہیں پایا جاتا جیسے وجودِ باری تعالی، توحیداور خالق کی تقدس آمیز صفات (قدیر، عظیم، علیم، کریم وغیرہ) اور جس غور وفکر کے نتیجہ میں ہی اسلامی الہیاتی تصورات کا اتنا تقدس طے پایا ہے کہ ان کے بارہ میں اٹکل پچو لگانا، بغیر یقین کے لب کشائی کرنا اور فلسفیانہ غور وفکر کا میدان بنانا ان کی بے حرمتی قرار پاتا ہے۔ 

فلسفیانہ غوروفکر ایک مشغلہ ہے اور یہ مشغلہ کسی حد تک مباح بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ اپنی جائز حدود تک محدود رہے۔ الہیات کے تقدس کے پیشِ نظر اس میں ایسی کوئی رائے قابلِ قبول تو کجا ، قابلِ برداشت بھی نہیں ہے جو ظنی وتخمینی اندازوں پر مبنی ہو، صرف وہی آراء یہاں قابلِ قبول اور معتبر ہیں جو عقلا پوری قطعیت کے ساتھ ثابت ہوں یا پھر وحی کے قطعی ذریعہ سے ماخوذ ہوں، باقی جتنے مشتبہ احتمالات ہیں، ان کے بارہ میں کچھ کہنے اور سوچنے سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہی عافیت کا راستہ ہے اور کم از کم مقدس الہیاتی شعائر کے بارہ میں ایمان کے لئے خطرناک اور خدا کی ناراضگی کا باعث بننے والے ایسے رویہ کا تحمل کوئی مسلمان تو بالکل نہیں کرسکتا۔ مثلا وقت اور ’’زمان‘‘ کے ’’قِدم وحدوث‘‘ کی بحث کو لے لیجئے جو مکتوب نگار نے بلاوجہ چھیڑی ہے اور پھر خود اظہار کیا ہے کہ اس بحث کا کوئی تسلی بخش ، حتمی اور قطعی فلسفیانہ جواب ممکن نہیں ہے۔ یہ بحث مذکورہ آیت کی رو سے قابلِ مذمت ہے۔ اپنے ایمان کے لئے اتنی سی بات کافی ہے کہ ’’اللہ خالق کل شیء‘‘ یعنی ’’اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔ (الانعام: ۱۰۲) اس کی تفصیل میں جاکر ہم ان بہت سی چیزوں کا نام بھی لے سکتے ہیں جو عام فہم ہیں، جن کا تصور کرنے کے لئے کوئی فلسفیانہ پیچ وتاب کھانے کی ضرورت نہیں ہے اور جن کا ذکر خود خدا نے انسان کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کیا ہے، مثلا سورج وچاند، زمین وآسمان، ستارے اور سیارے، پہاڑ ودریا، بادل وبارش، گرمی وسردی، صحت وبیماری، جن وانسان، چرند پرند، شجر وحجر، دن ورات، ہفتے ومہینے اور دوسری بہت سی چیزیں۔ باقی رہیں ’’زمان‘‘ جیسی پیچیدہ تصوراتی اور خیالی چیزیں جن کے بارہ میں پہلے دن سے طے ہے کہ ان پر جتنی بھی بحث کرلی جائے وہ بے نتیجہ رہے گی، ان کا کوئی قطعی حل انسانی فہم وادراک کے پاس نہیں ہے (الا یہ کہ تانیثِ ملائکہ کی طرح کا کوئی ’’حل‘‘ فرض کرلیا جائے)، بلکہ محض ان جیسی چیزوں کا تصور کرنے کے لئے ہی انسانی عقل کا پہلے مصنوعی وغیر فطری تفکرات کا عادی ہونا ضروری ہے تو جب ایسی چیزوں کا تعلق مقدس دینیاتی امور سے بھی ہوتو ایسی چیزوں کے بارہ میں نہ سوچنا اور ان کے پیچھے نہ پڑنا ہی سلامتی کا راستہ ہے۔خود ساختہ ’’نتیجہ‘‘ اخذ کرنے میں اگر کوئی اونچ نیچ ہوگئی یا بارگاہِ الوہیت کے آداب کی کوئی حق تلفی ہوگئی تو اپنی نجات ہی خطرے میں پڑ جائے گی، کسی دوسرے کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ جبکہ دماغی بوکاٹوں کے وقتی تلذذ کے لئے اپنی ابدی نجات کو خطرے میں ڈالنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ بہ الفاظِ اقبال:

خرد ہوئی ہے زمان ومکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لاالہ الا اللہ 

رہا معاملہ متجسس دماغوں کا اور ماضی کے کلیسائی جبر کا تو گذارش یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر متجسس دماغوں کی پسندیدگی کو دیکھ کر طے نہیں کیا جاتا، البتہ سائنسی تدبر کے خلاف کلیساکے جبر کو ہم بھی قابلِ مذمت سمجھتے ہیں، لیکن مابعد الطبیعیاتی شعائر کے بارہ میں فلسفیانہ تخمینہ بازی پر عائد کی گئیں مدلل اور بامقصد شرعی قدغنوں کو ماضی کے کلیسائی جبر کے ساتھ جوڑنا ناقابلِ فہم اور افسوس ناک ہے۔ہمارے مسلم اہلِ علم مثلا غزالی وغیرہ تقریبا ایک ہزال سال پہلے ہی یہ وضاحتیں کرچکے ہیں کہ (جس طرح کی چیزوں میں کلیسا نے جبر کا مظاہرہ کیا تھا) ایسی چیزوں میں فلسفیوں کے ساتھ مناظرہ کرنا ہی نامعقول اور خود دین کے مقدمہ کو کم زور کرنے کے مترادف ہے۔ میری دوسری قسط کے آخری پیراگراف کو ذرا توجہ سے پڑھ لیجئے۔ 

۷۔ مکتوب نگار نے سائنس کی تعریف کا سوال بھی اٹھایا ہے تو ہمارے نزدیک سائنس نام ہے مادی کائنات پر غیر روحانی وغیر الہیاتی تدبر کرنے اور اس سے نتائج اخذ کرنے کا۔ اب اگر مابعد الطبیعیاتی سوالات سائنس کا جزو سمجھے جاتے ہیں تو ٹھیک ہے، ہمیں اس پہ کوئی اعتراض نہیں، مگر جو اعتراض پہلے فلسفہ پر ہوتا تھا، اب وہی سائنس پر ہوگا کیونکہ اصل اعتراض اس سرگرمی پر ہے جو الہیاتی تقدسات کے خلاف ہے، خواہ وہ فلسفہ کہلائے یا سائنس۔ الہیات میں صرف قطعی اور حتمی بات قابلِ قبول ہے، اگر فلسفہ یا سائنس کوئی قطعی اور نیا ’’انکشاف‘‘ کرتے ہیں جو واقعتا قطعی ہو اور نیا بھی تو اسلام کو اس پہ کیا اعتراض ہوسکتا ہے، مگر عملا کوئی انکشاف ایسا ہوگا نہیں۔ فلسفہ کہیں، سائنس کہیں، دماغی کاوش کہیں،عقلی روایت کہیں یا کچھ اور، اسلام کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کی یہی ایک صورت ہے کہ یہ قطعیت کے ساتھ ثابت اسلامی شعائر کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان پہ غیر یقینی مشتبہات کی نشانہ بازی سے باز رہیں، یہی ہم آہنگی منصفانہ ہے، مطلوب بھی اور اس کے اثبات ہم نے غزالی کے حق میں کیا تھا۔ 

۸۔ مکتوب نگار نے غزالی اور ابنِ رشد کے جن چند ضمنی اختلافات کی طرف اشارہ کیا ہے، وہ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ غزالی کا اصل مقدمہ جیسا کہ ہم مضمون میں عرض کرچکے ہیں، فارابی، بوعلی سینا اور ان کے پیروکاروں کے خلاف تھا۔ اس کے مقابلہ میں ابنِ رشد کا جواب اب اسی صورت میں جواب کہلانے کا مستحق ہوتا کہ وہ فارابی اور بوعلی سینا کی طرف سے کوئی تسلی بخش قسم کی صفائی دیتے، لیکن ہم عرض کرچکے ہیں کہ وہ اس حوالہ سے بالکل ناکام رہے ہیں۔ پس چند ضمنی اور لفظی اختلافات کو نمایاں کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟

میرا اندازہ ہے کہ مکتوب نگار نے میرے مضمون سے متعلق جو قابلِ ذکر اور دریافت طلب نکات اٹھائے تھے، ان کی مناسب وضاحت ہوچکی ہے۔ 

والسلام

محمد عبداللہ شارق 

mabdullah_87@hotmail.com

(۲)

برادرم جناب محمد مشتاق احمد صاحب

اسسٹنٹ پروفیسر قانون بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے آج (2جون 2014ء) کو ایک ای میل کے ذریعے ماہنامہ الشریعہ کے جون 2014ء کے شمارے میں صوبہ خیبر پختونخوا اسمبلی سے حال ہی میں صوبے میں نجی قرضوں پر سود کی روک تھام کے حوالے سے منظور کردہ بل پر آپ کا مضمون پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ آپ نے اس مضمون کا عنوان رکھا ہے ( خیبر پختونخوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش) اور اس میں ایک مقام پر آپ نے لکھا ہے کہ اس مسودہ قانون پر جناب سراج الحق صاحب کے دستخط بحیثیت منسٹر انچارج کے ثبت ہیں جو انہوں نے 14 اپریل 2014ء کو کیے ہیں یعنی جماعت اسلامی کے امیر کا حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہفتے میں۔ میں اس حوالے چند معروضات آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔

1۔ مضمون کے ابتدائیہ میں آپ نے سود کی ممانعت، حرمت اور شناعت کے حوالے سے جو تحریر کیا ہے، اس سے مجھ سمیت جماعت اسلامی پاکستان کے ہر کارکن اور ہر مسلمان کو اتفاق ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ربا اور سود کا حرام قطعی ہونا قرآن وسنت کی واضح نصوص سے ثابت ہے اور اس کی حرمت پر دور نبوی سے لے کر آج تک فقہاء دین اور ائمہ مجتہدین کا اجماع موجود ہے۔ قرآن کریم میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 275 ربا کے حرام قطعی ہونے کی صریح دلیل ہے اور اس آیت میں ہر قسم کے سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔(خواہ وہ سود مفرد ہو یا سود مرکب)۔ اسی طرح سود سے متعلق قرآنی آیات کی تشریح و توضیح اور قباحت میں احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ بھی موجود ہے۔

ان مختصر جملوں کو تحریر کرنے سے آپ جیسے صاحب علم کے سامنے سود کی حرمت پر دلائل دینا مقصود نہیں ہے بلکہ غرض صرف اور صرف یہ ہے کہ سود کی ممناعت اور حرمت پر ان واضح نصوص شرعیہ کی موجودگی میں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی کس طرح اس کی حرمت سے انکار کرسکتا ہے؟ یا دیدہ ودانستہ اور جان بوجھ کر سود کو جاری رکھنے کی مذموم کوشش کرسکتا ہے؟

2۔ اس موجودہ بل پر اپنا موقف دینے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس بل کو پیش کرنے کے اس بنیادی سبب کا اعادہ کروں جس کا ذکر آپ نے بھی اپنے مضمون میں واضح طور پر کیا ہے اور وہ یہ کہ سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جناب دوست محمد صاحب کے ریمارکس مختلف اخبارات میں چھپے تھے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نجی سود کے امتناع کے حوالے سے کسی قانونی خلاء کی وجہ سے ایسے سود خوروں کو عملاً سزا نہیں دی جاسکتی جنہوں نے معاشرے میں لوگوں کی مشکلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ظلم وبربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ 2012ء میں ایک ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران معزز سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے ریمارکس اور اظہار ناراضگی کا بھی آپ نے اپنے مضمون میں ذکر فرمایا ہے۔ میں نے آپ سے اسلام آباد کے سیمینار میں ملاقات سے قبل ایک تحریر (ریکارڈ میں موجود) کے ذریعے موجودہ سینئر وزیر(وزیر خزانہ) اور اس وقت جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر محترم جناب سراج الحق صاحب کی توجہ اس حوالے سے ضروری قانون سازی کے علاوہ کئی دیگر امور کی طرف بھی دلائی تھی جس پر انہوں نے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی۔ اس کمیٹی میں دیگر ماہرین کے علاوہ مجھ جیسے طالب علم کا نام بھی شامل تھا لیکن میں بیرون ملک سفر کی وجہ سے شرکت نہ کرسکا۔ 

3۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس موضوع پر توآپ کے والد محترم جناب اکرام اللہ شاہد صاحب کی طرف سے پیش کردہ بل جولائی 2007ء میں اس وقت کی صوبائی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہوچکا تھا اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اسکا علم اس وقت کے سینئروزیر محترم سراج الحق صاحب اور مجھے کیوں نہیں تھا جبکہ میں اس وقت ممبر قومی اسمبلی اور ایم ایم اے حکومت کی تشکیل کردہ نفاذ شریعت کونسل کا رکن بھی تھا۔ اپنے بارے میں آپکے تحریر کردہ تعریفی جملوں کو میں آپ کے حسن ظن سے تعبیر کرتا ہوں، ورنہ من آنم کہ من دانم کے مصداق میں اپنے آپکو اچھی طرح جانتا ہوں۔ بہر حال میں آپ کے اس حسن ظن کے لیے آپ کا مشکور ہوں اور آپ کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں( جس کا میں کئی مرتبہ دوستوں کی مجالس میں اظہار بھی کرچکا ہوں) کہ اللہ تعالی نے آپ کو علمی دانش وبصیرت سے نوازا ہے۔ نومبر 2013 کو اسلام آباد کے سیمینار میں میرے سابق کلاس فیلو اور اس پروگرام کے میزبان جناب ڈاکٹر ضیاء اللہ رحمانی صاحب کو میں نے بتا دیا تھا کہ اپنے موضوع پر مدلل، مربوط اور علمی مقالہ برادرم محمد مشتاق احمد نے پیش کیا ہے۔ 

جہاں تک شریعت کونسل کے ممبر ہونے کی حیثیت سے مجھے آپ کے والد محترم اور ہمارے مشفق بزرگ محترم اکرام اللہ شاہد صاحب کے پیش کردہ بل کا علم کیوں نہ ہوسکا تو اس حوالے سے میں عرض کروں کہ آپ کے والد محترم کے بل کا مسودہ شریعت کونسل میں برائے غور وخوض آیا ہی نہیں تھا۔ اس لیے اس پر رائے دینے یا اسکا علم ہونے کی بات تو یہیں پر ختم ہوجاتی ہے۔ جماعت اسلامی کی طرف سے اس وقت میرے علاوہ محترم پروفیسر محمد ابراہیم خان صاحب اور جناب ارباب عثمان صاحب ایڈوکیٹ بھی اس کونسل کے اراکین تھے اور ان سے اس بات کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے۔

آپ کے والد محترم اس وقت حکمران جماعت ایم ایم اے کی پارلیمانی پارٹی کے ایسے رکن تھے جن کو صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے ایک اہم اور باعزت منصب سے بھی نوازا گیا تھا۔ اس لیے مناسب تو یہی ہوتا کہ ایک سرکاری ممبر کی حیثیت سے باہمی مشاورت سے یہ بل اسمبلی میں آتا، لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر آپ کے جہاندیدہ اور پارلیمانی روایات سے اچھی طرح باخبر والد محترم نے ایسا نہیں کیا تو ان کے پاس اس کی معقول وجہ بھی ہوگی۔ میں ذاتی طور پر ان کی طرف سے اس اہم موضوع پر قانون سازی کی کاوش کو نہایت تحسین کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس دینی کاوش پر اجر عظیم سے نوازے،آمین۔

4۔ آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ آپکے والد محترم کے پیش کردہ اس بل کو ایم ایم اے حکومت میں دو سال تک لٹکائے رکھا گیا تو اگر واقعی کسی فنی، انتظامی یا کسی دیگر معقول وجہ کے بغیر ایسا ہوا ہے تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں اور یہ یقیناً اچھا نہیں ہوا ہے۔ لیکن اگر اس کو بالآخر اسی اسمبلی سے متفقہ طور پر پاس بھی کرایا گیا ہے تو دیر آید درست آید کے مصداق یہ بھی ایک قابل تحسین کام ہوا ہے۔

5۔ جہاں تک پھر بھی محترم سراج الحق صاحب اور ہماری طرف سے اس بل کے بارے میں ہماری لاعلمی کو ہماری ایک کمزوری کے طور پر بتاکر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے تو آپکو معلوم ہے کہ جب کسی اسمبلی سے کوئی بھی قانون بنتا ہے تو اسکو فوری طور پرقانون کی سرکاری کتاب یا دستاویز کا حصہ بنایا جاتا ہے اور جج حضرات سمیت وکلاء بھی ان قوانین سے اپنے آپکو باخبر رکھتے ہیں کیونکہ انہی قوانین سے تو انکو تقریبا روزانہ واسطہ پڑتا ہے۔ جبکہ آپکے والد محترم چونکہ خود ایک سیاست دان ہیں، اسلئے آپ یہ بھی یقیناًجانتے ہونگے کہ سیاست سے وابستہ ایسے لوگوں کا زیادہ وقت مختلف النوع مصروفیات اور خدمات کے حوالے سے عوامی میدان میں گزرتا ہے۔یہ پھر بھی اپنے آپکو باخبر نہ رکھنے کے لیے یہ کوئی Excuse اور معقول وجہ نہیں ہونی چاہیے، لیکن اگر واقعی ایسا ہے کہ امتناع سود کے حوالے سے واقعتا ایک مکمل اور قابل عمل قانون سازی موجود تھی اور اسکا ہمیں علم نہیں تھا تو مشتاق بھائی، از راہ تفنن عرض کردوں کہ سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سمیت صوبے کے ان دیگر جج اور وکلاء صاحبان کو اگر اسطرح کی قابل عمل قانون سازی کا علم نہ ہوسکا جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور قانونی پس منظر کی وجہ سے ہمہ وقت قانون کی تعبیر وتشریح اور مطالعے میں مصروف رہتے ہیں تو ہم جیسے کمزور انسانوں کی لاعلمی زیادہ اچنبھے کی بات نہیں ہونی چایے اور اس بنا پر ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری اس کمزوری اور غلطی پر ہمیں معافی مل جائے گی۔

6۔ لیکن امر واقعہ ایسا نہیں ہے بلکہ سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھی اس قانون کی موجودگی کا علم تھا جسکا حوالہ آپ نے دیا ہے اور سینئر وزیر صوبہ محترم سراج الحق صاحب کی قائم کردہ اس کمیٹی کو بھی علم تھا جس نے اس نئے بل کے مسودے پر اپنے اجلاس میں غور کیا تھا۔ اس اجلاس کے ریکارڈڈ منٹس کے علاوہ پشاور سے کمیٹی کے رکن پروفیسر سید محمد عباس صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کرائی جاسکتی ہے کہ بل کی منظوری سے قبل کمیٹی کے علم تھا کہ اس موضوع پر ایک قانون پہلے سے موجود ہے لیکن بقول سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ کے اس میں موجودنقص کی وجہ سے اس قانون کے مطابق مجرموں کو سزا نہیں دلائی جاسکتی۔ آپ نے لکھا ہے کہ( عدالت عالیہ کے متعلقہ آرڈر شیٹ نکال لینے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اس قانون کو مزید موثر بنانا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے حکومت کو احکامات جاری کیے تھے) سوال یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے سودی کاروبار والوں کو سزا دلوانا چاہتے تھے لہٰذا اگر مذکورہ قانون زیادہ موثر نہیں تھا تو تھوڑا موثر تو ضرور ہوگا لیکن ہم نے کسی ایسے مجرم کو اس قانون کے تحت تھوڑی سزا پاتے بھی نہیں دیکھا۔ اس لیے اس قانونی خلا کو پر کرنے یا آپ کے بقول اس قانون کو زیادہ موثر بنانے کے لیے نئی قانون سازی یہ کا اقدام کیا گیا۔

7۔ اب آیئے اس اہم نکتے کی طرف کہ اس بل میں تو ایک لحاظ سے سود کو جواز دینے کا تاثر پایا جاتا ہے تو میں بلاتامل اس بات سے متفق ہوں اور یہی تاثر میں نے بھی لیا ہے لیکن یہ تاثر میں نے آپ کا مضمون پڑھنے سے پہلے اس وقت لیا تھا جب میں نے 13 مئی 2014ء کے اخبارت میں اس بل کی منظوری سے متعلق پڑھا۔میرے پاس منظور شدہ بل کی نقل تو نہیں تھی لیکن بل سے متعلق اخبار میں موجود ایک جملے کو اسی وقت میں نے نوٹ کرکے 15 مئی 2014ء کو محترم سراج الحق صاحب کی خدمت میں ایک خط لکھ کر ای میل کیا اور اسکی کاپی جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر محترم پروفیسرمحمد ابراہیم خان صاحب کے ذاتی ای میل پر بھیج دی۔ (محترم سراج الحق صاحب کو ارسال کردہ خط کی نقل اس تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔ اخبارکے مطابق وہ جملہ جس سے میں نے یہ تاثر لیا کہ اس سے سود کو جواز فراہم ہورہا ہے، یوں ہے :’’نجی قرضوں پر سود کی روک تھام کے بل کے مطابق نجی سطح پر قرضوں کی فراہمی بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی پر مقرر کردہ شرح منافع سے زائد پر نہیں دیے جاسکیں گے۔‘‘

اس پر صوبائی وزیر خزانہ محترم سراج الحق صاحب کی خدمت میں تحریر کردہ خط میں عرض کیا تھا کہ ’’ لیکن اس بل میں اس نکتے سے مجھے پریشانی اور تشویش بھی پیدا ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے (یہاں اوپر والا جملہ نقل کیا گیا ہے)۔ ظاہر ہے کہ قرض پر جو منافع لیا جائے تو وہی تو سود ہے اور عملاً پاکستان کے بینکوں میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ بل کے مذکورہ جملے سے گویا ہم خود سود کو جواز فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ اور پھر میں نے اصلاح کی تجویز دی ہے جو آپ ملحقہ خط میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

اگر ہماری تربیت متعصبانہ ماحول میں ہوتی اور ہم جماعتی تعصب کا شکار ہوتے تو ہم اس غلطی کے لیے تاویلیں پیش کرکے اس کا دفاع کرتے لیکن الحمدللہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور بعد میں جماعت اسلامی میں اس لیے شامل ہیں کہ یہ ہمیں منہج رسول کے مطابق اقامت دین کے لیے مخلصانہ جدوجہد کرنے والی جماعت نظر آرہی ہے۔

8۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی جماعت اسلامی اقامت دین کے لیے کام کرنے والی جماعت ہے تو اس بل میں موجود اس غلطی کی وجہ کیا ہے؟ تو میں بالکل شرح صدر اور پورے اعتماد کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ اسکی وجہ یہ قطعا نہیں ہے کہ خدا نخواستہ جماعت اسلامی سودی نظام کو جائز سمجھتے ہوئے اسکو جاری رکھنے کے لیے ارادتاً کوشش کر رہی ہے۔ آپکو معلوم ہے کہ میرے والد مرحوم شیخ القرآن حضرت مولانا گوہررحمن رحمہ اللہ کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا لیکن نہوں نے 1991 میں وفاقی شرعی عدالت میں عملاً پیش ہوکر سودی نطام کے خاتمے اور حرمت سود پر مدلل اور جامع بیانات ریکارڈ کرائے تھے جس کی روشنی میں وفاقی شرعی عدالت نے 14 نومبر 1991ء کو متفقہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ بینکوں کا سود وہی ربا ہے جسے قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے بھی 23 دسمبر 1999ء کو اس فیصلے کی توثیق کردی تھی اور حکم دیا تھا کہ جون 2001ء تک سودی معیشت کا مکمل خاتمہ کردیا جائے۔ لیکن عملاً کیا ہوا؟ اس کی پوری تفصیل آپ کو معلوم ہے جس کے اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس وقت پھر اسی حوالے سے ایک پیٹیشن وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت ہے جس میں جماعت اسلامی کے دیگر افراد کے علاوہ میرا نام بھی عدالت کے سامنے پیش ہونے والے افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ لہٰذا یہ تو ایک کھلے تضاد کی کیفیت ہے کہ ایک طرف تو جماعت اسلامی سودی نظام کے خاتمے کی کوشش کررہی ہے اور دوسری طرف صوبہ خیبر پختونخوا کی اپنی وزارت میں سودی نظام کے تحفظ کی دانستہ کوشش کر رہی ہے۔

میرے نزدیک اسکی واحد وجہ بے توجہی ہے کہ متعلقہ ذمہ داران اور ارکان اسمبلی نے اسکا پورے انہماک اور توجہ سے مطالعہ نہیں کیا اور محض امتناع سود کا عنوان دیکھ کر اس کو ووٹ دیا۔ میرا یہ بھی اندازہ ہے کہ ہماری بیوروکریسی ابھی تک اسلامی نظام کے عملی نفاذ اور سودی نظام کے خاتمے کے لیے تیا رنہیں ہے اس لیے یہ بعید نہیں ہے کہ ڈرافٹنگ کے دوران متعلقہ بیوروکریسی نے اسکی یہ شکل بنادی ہو۔اس نکتے سے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ قانون سازی جیسے اہم معاملے میں بے توجہی بھی کوئی معمولی غلطی نہیں ہے لیکن عدم توجہ کی وجہ سے ایک کام کے ہوجانے اور عقیدہ وفکر کی بنیاد پر دانستہ طور پر ایک عمل کے اصدار میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔

9۔ میں نے اپنے والد مرحوم کے وقت سے لے کر اب تک جماعت اسلامی کے نظام کا جتنا مشاہدہ کیا ہے تو اسکی روشنی میں یہ کہ سکتا ہوں کہ جماعت کے شورائی اداروں اور مجالس میں جب کسی معاملے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک واضح صورت سامنے آجائے تو اسی کو اختیار کیا جاتا ہے، چاہے اس سے پہلے کسی غلط فہمی کی وجہ سے جماعتی طور پر کوئی دوسرا موقف ہی کیوں اختیار نہ کیا گیا ہو۔ یعنی انسانی کمزوری کی بنیاد پر کی گئی غلطی سے رجوع کرکے اسکی اصلاح کی جاتی ہے اور ایسا عملاً ہوتا رہا ہے جسکی میں آپکی خدمت میں ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ 1991ء میں جناب نواز شریف صاحب کی سابقہ حکومت میں اس وقت کے پارلیمنٹ سے نفاذ شریعت بل منظور کرایا گیا تھا۔ اس وقت میرے والد مرحوم پارلیمنٹ کے رکن نہیں تھے لیکن جماعت اسلامی کے دیگر اراکین پارلیمنٹ نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔جب اخبارات سے معلوم ہوا کہ اس بل میں خلاف اسلام دفعات بھی شامل ہیں تو میرے والد مرحوم نے جماعت اسلامی کے ایک اہم ذمہ دار اور مرکزی شوریٰ کا رکن ہوتے ہوئے ’’نفاذ شریعت ایکٹ 1991ء کا شرعی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مضمون لکھا (چھپی ہوئی شکل میں اب بھی موجود ہے) اور جماعت کے مرکزی شوری میں اس پر قرآن وحدیث کی روشنی میں دلائل پیش کے لیے جس کے بعد جماعت نے بطور وضاحت مرکزی شوری سے ایک باقاعدہ قرارداد منظور کرائی جس میں اس بل کو نفاذ شریعت سے فرار کا بل قرار دیا گیا۔

10۔ غلطیوں کا شکار ہونے کے اس معاملے پر بھی تنقید کی جاسکتی ہے لیکن ایک عرصے سے جماعت کے کارکنان اور ذمہ داران کو قریب سے جانتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس کی وجہ بھی وہ پیاس، تڑپ، لگن اور بے قراری ہے جو جماعت کے ذمہ داران اور تمام کارکنان کے دلوں میں شریعت کے عملی نفاذ کے حوالے سے موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی شریعت کے پیاسے یہ کارکنان شریعت کے حوالے سے کسی بھی پیشرفت کا موقع پاتے ہیں تو اس طرح بے اختیار دوڑتے ہیں جس طرح پیاسا کنویں کی طرف دوڑتا ہے۔ اس لیے موجودہ بل میں خامی کی وجہ یہ نہیں ہے کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق صاحب خدانخواستہ صوبے میں سودی نظام کی ترویج وبقاء چاہتے ہیں بلکہ اسکی وجہ محترم سراج الحق صاحب اور ان کے رفقاء کے دلوں میں شریعت کیلئے موجود وہ شدید پیاس اور تڑپ ہے جس نے محترم سراج الحق صاحب کو مجبور کیا کہ جونہی ان کو معلوم ہوا کہ نجی سود کے امتناع کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے تو انہوں نے فوری طور پر اس حوالے سے عمل درآمد کا آغاز کرایا اور اسی سرعت اور تیزی کی وجہ سے اس قانون سازی میں ایک ٹھوس غلطی صادر ہوگئی۔ میں پھر اس بات کا اعادہ کروں کہ سرعت یا بے توجہی کی وجہ سے کی گئی غلطی بھی بہر حال غلطی ہے جس کی اصلاح کی فوری کوشش ہونی چاہیے۔ میں دوبارہ اس طرف محترم امیر جماعت اور دیگر قائدین کی توجہ دلاؤں گا اور اپنی جماعت کو جانتے ہوئے مجھے امید ہے کہ اسکی اصلاح ضرور ہوگی، ان شاء اللہ۔

11۔ آخر میں بڑے ادب واحترام کے ساتھ آپکی خدمت میں یہ بھی عرض کروں کہ کسی خامی کی اصلاح یا کسی معاملے کی طرف توجہ دلانا آپکا حق بھی ہے اور بحیثیت مسلمان ایک ذمہ داری بھی ہے لیکن ایک رسالے میں اس تنقیدی انداز میں مضمون شائع کرانا میرے خیال میں مناسب نہیں تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان، جمعیت علماء اسلام(ف) اور (س) اور دیگر دینی جماعتوں کے درمیان بعض اختلافات کے باوجود کم ازکم اس اہم قدر مشترک پر تو اتفاق موجود ہے کہ یہ سب جماعتیں اپنے منشور اور پروگرام میں واضح طور پر ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتی ہیں اور پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے والی قوتوں کے راستے میں مزاحم ہیں۔ لہٰذا اسطرح کی پبلک تنقید سے ان سیکولر قوتوں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ مناسب ہوتا کہ اگر آپ اپنی اسی تحریر میں اٹھائے گئے نکات کو شائع کرانے سے قبل محترم سراج الحق صاحب اور جماعت کی قیادت کے علم میں لاتے اور پھر دیکھتے کہ اگر وہ اس غلطی کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتے یا ایک مناسب وقت گزرنے کے باجود اسکی اصلاح نہ کرتے تو پھر آپکو حق پہنچتا کہ اس طرح پبلک میں اس پر کھل کر تنقید کرتے۔

اللہ تعالی ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنے دین کی اتباع اور خدمت کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔ شکریہ

ڈاکٹر عطاء الرحمن

مدیرجامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان

رکن مرکزی مجلس شوریٰ وعاملہ جماعت اسلامی پاکستان

(۳)

برادرم محمد مشتاق احمد صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

14 جون 2014ء کوآپکا ای میل ملا جس میں آپ نے نجی قرضوں پر سود کی ممانعت کے حوالے سے صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے حال ہی میں پاس کردہ بل کے بارے آپکے نام میرے خط مورخہ 2 جون 2014ء کو ماہنامہ الشریعہ میں شائع کر وانے کے بارے میں پوچھا ہے۔ میں اس کے لیے آپ کا شکرگذار ہوں لیکن میرے خیال میں تو یہ کسی علمی اختلاف کا موضوع نہیں تھا اور نہ ہی بل میں موجود سقم اور غلطی کے بارے میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف تھابلکہ اس خط کا مقصد آپکے مضمون میں بعض نکات کے حوالے سے ایک خط کے ذریعے اپنے احساسات کا اظہار کرنا تھا جس پر آپ نے اپنے جوابی ای میل میں نہایت ہی اچھے انداز میں اپنے رد عمل کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس لیے میں اسکو شائع کرانے کے حق میں نہیں تھا، البتہ میں نے اس کی کاپی امیر جماعت اسلامی پاکستان و صوبائی وزیر خزانہ صوبہ خیبر پختونخوا محترم جناب سراج الحق صاحب کی خدمت میں صرف اس مقصد کے لیے ارسال کردی تھی کہ اس بل میں وہ اہم تبدیلیاں لائی جاسکیں جن کے بارے میں میں نے اپنے خط میں امید کا اظہار کیا تھا۔

بہر حال اگر آپ اس کو شائع کروانا چاہتے ہیں تو جواب درجواب کی صورت اختیار نہ کرنے کی صورت میں اس کی اشاعت میں کوئی حرج بھی نہیں ہے بلکہ اس وقت تو اس کی اشاعت اس لحاظ سے مفید بھی ہوگی کہ اس دوران ہونے والی ان مفید اور مثبت developments کا تذکرہ بھی ساتھ ہی شایع ہو جائے گا جن کے حوالے سے میں نے اپنی قیادت کے بارے میں حسن ظن اور مثبت امید کا اظہار کیا تھا، فالحمد للہ علی ذالک۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا کہ اخبارات کے ذریعے موجودہ بل کی صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بارے میں پڑھ کر میں نے 15 مئی 2014ء کو محترم جناب سراج الحق صاحب کو ایک خط کے ذریعے اپنی تشویش سے آگاہ کردیا تھا اور باقاعدہ ایکٹ بننے سے قبل اس پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی تھی۔ اسی طرح ماہنامہ الشریعہ میں آپکے مضمون اور اس حوالے سے اپنے اس خط سے بھی آگاہ کردیا تھا جس میں مذکورہ بل میں ضروری تبدیلیوں کے حوالے سے امید کا اظہار کیا تھا۔

مجھے بہت اطمینان حاصل ہوا اور میں اس بات پر اللہ رب العالمین کاشکر اداکرتا ہوں کہ محترم سراج الحق صاحب نے اس اہم معاملے کا فوری نوٹس لے کر 5 جون 2014ء کو پشاور میں ایک اہم اجلاس بلایا جس میں سرکاری ذمہ داران کے علاوہ بعض جید علماء کرام کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ مجھ جیسے طالب علم کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن میں بیرون ملک سفر کی وجہ سے اس اجلاس میں شرکت نہیں کرسکا۔ دعوت نامے کے ساتھ اسمبلی سے موجودہ منظور شدہ بل کی کاپی بھی ارسال کردی گئی تھی، لہٰذا میں نے 4 جون 2014ء کو دوران سفر کچھ ضروری تجاویز بذریعہ ای میل ارسال کردی تھیں۔ ان تجاویز میں ایک تجویز یہ بھی دی تھی کہ اس موضوع پر ایک نئے بل کی بجائے 2007ء والے ایکٹ میں ضروری ترامیم لائی جائیں۔ (میری طرف سے ارسال کردہ تجاویز کی نقل منسلک ہے)۔ اس بل کی اہمیت کے پیش نظر محترم جناب سراج الحق صاحب نے خود اس اجلاس کی صدارت کی اور صوبے سے سود کی اس لعنت کو دور کرنے کے لیے موجودہ بل میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کے لیے جید علماء کرام اور ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل کرنے کا اعلان کیا۔ مجھے امید ہے کہ ان مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ہم نجی سطح پر سود ی لین دین میں ملوث افراد کو قانوناً عبرت ناک سزا دلوانے میں کامیاب ہوجائیں گے، ان شاء اللہ۔

میری طرف سے محترم مولانا زاہد الراشدی مد ظلہ اور برادرم عمار ناصر حفظہ اللہ کی خدمت میں سلام عرض کیجیے گا۔

ڈاکٹر عطاء الرحمن

مہتمم جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان

ناظم اعلیٰ رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان

(۴)

"خیبر پختون خوا میں سود کی ترویج کی ایک مذموم کوشش : جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماے اسلام کا موقف؟ "کے عنوان سے ماہنامہ "الشریعہ" کے جون کے شمارے میں راقم کا مضمون شائع ہوا اور حسبِ توقع اس کی اشاعت بہت مفید ثابت ہوئی۔ یکم جون کو ہی ملک کے اندر اور باہر سے بعض دوستوں نے ای میل اور فون کے ذریعے رابطہ کرکے تفصیلات کا مطالبہ کیا۔ بعض دوستوں نے یہ مضمون سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیا جس کی وجہ سے بھی بہت سے لوگوں تک یہ مضمون پہنچا۔ زیادہ تر جماعتِ اسلامی ، یا یونی ورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے حلقے سے ہی لوگوں نے رابطہ کرکے اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور نہایت خوش آئند امر یہ رہا کہ یہ رد عمل بالعموم مثبت رہا۔ 2 جون کو ہمارے مخدوم جناب مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب نے دورانِ سفر ہی ملائشیا سے ایک طویل مراسلہ ای میل کے ذریعے بھیجا جسے اس شمارے میں شائع کیا جارہا ہے۔ زیر نظر مضمون میں "الشریعہ" کے معزز قارئین کو اس سلسلے میں حکومتی سطح پر کی گئی تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ تاہم اس سے پہلے ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے مکتوب میں اٹھائے گئے بعض نکات پر اپنے موقف کی توضیح کی جائے۔ مقصود مباحثہ یا مناظرہ نہیں ، بلکہ غلط فہمی کا ازالہ ہے۔ 

میں نے اپنے مضمون میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ، نہ ہی یہ میرا موقف ہے ، کہ جماعتِ اسلامی (یا جمعیت العلماء) خدانخواستہ "دیدہ و دانستہ" سودخوری کی ترویج کررہی ہے۔ پاکستان میں اسلامی قانون اور اسلامی معیشت کے نفاذ کے سلسلے میں جماعتِ اسلامی کے کام سے میں کیسے انکار کرسکتا ہوں ؟ مولانا گوہر رحمان رحمہ اللہ کو تو میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سمجھتا ہوں اور ہمیشہ ان سے کچھ سیکھنے کی ہی کوشش کی۔ ان کی حق گوئی و بیباکی کی تو ایک دنیا معترف ہے۔ نہ ہی خدا نخواستہ مجھے جناب سراج الحق صاحب کی دینداری پر کوئی شبہ ہے۔مسئلہ یہ نہیں تھا ، بلکہ صرف یہ تھا کہ ایسے دیندار شخص جو ایسی جماعت کے سربراہ ہیں کیسے بغیر پڑھے مسودۂ قانون پر دستخط کرکے اسے منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش ہونے دیتے ہیں ؟ جب میں نے یہ کہا کہ جماعت کے امیر کا حلف اٹھانے کے بعد پہلے ہفتے میں انھوں نے اس مسودے پر دستخط کیے ہیں تو مقصود یہی تھا کہ جماعت کا امیر بننے کے بعد تو ان کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اگر پہلے بھی وہ بغیر سوچے سمجھے اس مسودے پر دستخط کرتے تو غلط کرتے لیکن اب انھوں نے یہ کیا تو بہت ہی غلط کیا۔ آپ کہتے ہیں یہ عدم توجہی کی بنا پر ہوا ، نہ کہ دیدہ و دانستہ۔ مجھے اس سے سو فیصد اتفاق ہے ، اور میرا گلہ بھی بس یہی ہے ، اور کچھ نہیں ۔ 

اگر مضمون کے عنوان ، یا اس نوعیت کے بعض جملوں سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے تو مجھے افسوس ہے لیکن ازراہِ تفنن عرض ہے کہ اگر مضمون کا عنوان یہ نہ ہوتا ، یا مضمون میں یہ چند (بے ضرر قسم کے ) جملے نہ ہوتے تو کیا اس پر اس نوعیت کا فوری اور شدید ردعمل ہوتا؟ مجھے بچپن سے ہی ابنِ صفی کی تحریرات سے لگاو رہا ہے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ اگر کسی ادبی مضمون کا عنوان "جوش کی شاعری " ہو تو شاید ہی کوئی اسے پڑھنے کی زحمت گوارا کرے لیکن اگر عنوان ہو "جوش اور پاپوش" تو ہر کوئی اس پر کم ازکم ایک نظر تو ڈال ہی لیتا ہے۔ پشتو کے ایک مقولے کا مفہوم ہے کہ ماں بھی اس وقت تک بچے کو دودھ پلانے کے لیے گود میں نہیں لیتی جب تک بچہ رونا نہ شروع کردے۔ میرا مضمون بھی بس اسی نوعیت کا تھا۔ پشتو ہی کا ایک اور مقولہ ہیکہ گلہ اپنوں سے ہی ہوتا ہے اور چچا غالب نے بھی کہا تھا : 

جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

پس مجھے سراج صاحب ، یا جماعتِ اسلامی اور جمعیت علماے اسلام کے معزز ارکان ، سے گلہ تھا تو صرف اسی وجہ سے کہ ان سے یہ توقع نہیں تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس شکوے کا فائدہ بہرحال ہوا۔ 

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میرے مضمون کی اشاعت سے قبل ہی اس مسودۂ قانو ن کے بارے میں اخبار میں خبر پڑھ کر انھوں نے 15 مئی کو سراج صاحب کو خط لکھ کر عدم اطمینا ن کا اظہار کیا تھا۔ بالکل صحیح ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد بھی اس مسودۂ قانون کے حوالے سے کوئی پیش رفت اس وقت تک نہیں ہوئی جب تک "الشریعہ" میں میرا مضمون شائع نہیں ہوا۔ چنانچہ اس مضمون کی اشاعت کے بعد ہی 3 جون کو جناب سراج الحق صاحب نے اس مسودے کا جائزہ لینے اور نیا مسودہ بنانے کے لیے ایک سات رکنی کمیٹی بنائی جن میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ میرے والد محترم اور جناب پروفیسر سید محمد عباس صاحب بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی کا پہلا اجلاس 5 جون کو ہوا اور اجلاس کا جو ایجنڈا ارکان کو بھیجا گیا اس کے ساتھ میرا مضمون بھی منسلک تھا جس سے اس اجلاس کا "شان نزول" خود بخود معلوم ہوا۔جناب سراج الحق صاحب نے اس کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی اور اس میں متفقہ طور پر طے پایا کہ مسودے سے ایسی تمام شقیں دور کردی جائیں گی جن سے کسی طور بھی سود کو جواز ملتا ہے۔ جناب سراج الحق صاحب نے واشگاف الفاظ میں قرار دیا کہ سودی لین دین حرام ہے اور ہم اس نظام کو ختم کردیں گے۔ ( بحوالہ روزنامہ "ایکسپریس " پشاور ، مورخہ 7 جون 2014 ء) ڈاکٹر عطاء الرحمان صاحب بیرون ملک سفر کی وجہ سے اس میٹنگ میں شریک نہ ہوسکے لیکن انھوں نے اپنی تجاویز ای میل کیں۔ کمیٹی کی ایک اور میٹنگ 11 جون اوراس کے بعد 16 جون کو ہوئی جس میں نئے مسودے کے بنیادی خدوخال طے کیے گئے۔ بجٹ اجلاس کی وجہ سے اگلی میٹنگ میں تھوڑی تاخیر ہوئی لیکن امید ہے کہ جون کے آخری ہفتے میں مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ 

جمعیت علماے اسلام کے حلقے سے کسی نے بھی براہِ راست رابطہ نہیں کیا ، نہ ہی باضابطہ ردعمل سے آگاہ کیا۔ پچھلے مضمون میں یہ شکوہ بھی کیا گیا تھا کہ مضمون تحریر کیے جانے تک ( 24 مئی تک ) جمعیت علماے اسلام کے 16 ارکان میں کسی ایک نے بھی اس مسودے میں ترمیم کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ میں کوئی تجویز پیش نہیں کی۔ مضمون کی اشاعت کے بعد یہ ہوا کہ 6جون کو جمعیت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی جناب مولانا فضل غفور صاحب نے اس مسودۂ قانون میں ترامیم کے لیے اپنی بعض تجاویز اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرائیں۔ یہ تجاویز بنیادی طور پر انھی نکات پر مشتمل ہیں جو میرے پچھلے مضمون میں پیش کیے گئے تھے۔ 

اس دراز نفسی سے مقصود ہر گز یہ نہیں ہے کہ میں سارا "کریڈٹ" لینا چاہتا ہوں۔ اجر کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور وہ نیتوں اور اعمال سے بخوبی باخبر ہے۔ میں اصل میں یہ نکتہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ بعض اوقات "پبلک تنقید " سے وہ فائدہ ہوتا ہے جو نجی خطوط سے نہیں ہوتا۔ پچھلے مضمون میں بھی صراحت کی گئی تھی اور یہاں بھی مکرراً عرض ہے کہ یہ معاملہ فوری نوعیت کا تھا اور اس قانون کی منظوری کے نتائج انتہائی خطرناک ہوتے۔ اس لیے اس کا راستہ روکنے کے لیے "الشریعہ" سے زیادہ مناسب فورم اور کوئی نہیں تھا ، اور الحمد للہ اس کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا۔ 

باقی رہا اسلامی قانو ن کے نفاذ کے معاملے میں عدالتِ عالیہ اور بیوروکریسی کا رویہ اور انداز ، تو ان کے متعلق الگ سے اپنی معروضات تفصیلاً پیش کروں گا ، ان شاء اللہ۔ یار زندہ، صحبت باقی! 

محمد مشتاق احمد

mushtaqahmad@iiu.edu.pk

مکاتیب