مکاتیب

ادارہ

محترم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب 

السلام علیکم ۔ امید ہے آپ، محترم عمار صاحب اور دیگر احباب ادارہ خیریت سے ہوں گے۔ 

چند ماہ قبل ’’الشریعہ‘‘ کے ایک شمارے میں مفتی ابولبابہ صاحب کا ایک مضمون جو امیر عبد القادر الجزائری صاحب کے متعلق تھا، پڑھ کر قلب بے تاب تو ہوا کہ ایسی زبان جو کسی ان پڑھ آدمی کو بھی زیب نہیں دیتی، ایک مفتی کے قلم سے کیسے صفحۂ قرطاس پر آگئی؟ تاہم کچھ گھریلو کچھ سیاسی اور کچھ پیشہ وارانہ مصروفیات آڑے آتی ہیں اور قبلہ و کعبہ مفتی صاحب کی زبانِ قلم پر قلم نہ اٹھ سکا۔ 

ایک مدت سے سوچ رہا تھا کہ لکھے ہوئے عرصہ بیت گیا، کچھ لکھا جائے۔ محترم مجید نظامی صاحب کا بھی اصرار رہا کہ نوائے وقت کے سنڈے میگزین میں ’’جیل کے دن۔ جیل کی راتیں‘‘ لگ بھگ دس ماہ تک لکھنے کے بعد مزید کچھ لکھوں، مگر نہ جانے طبیعت اس طرف کیوں مائل نہ ہو سکی۔ اب حال ہی میں جماعت اسلامی کے سابق امیر ضلع گوجرانوالہ چوہدری محمد اسلم صاحب (اللہ ان کی عمر دراز کرے اور صحت مند رکھے) کی یادداشتیں جو کتابی شکل میں آئی ہیں، مجھ تک منور ہاشمی صاحب ایڈووکیٹ کے ذریعے پہنچیں جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔ چوہدری صاحب کی یادداشتیں پڑھیں تو ایک گزرا ہوا دور یاد آگیا۔ کتاب ’’میری تحریکی یادداستیں‘‘ کے نام سے چھپی ہے۔ خوشی ہوئی کہ نوے سال کے لگ بھگ عمر ہونے کے باوجود چوہدری اسلم صاحب کی صحت اور یادداشت دونوں اللہ کے فضل سے درست ہیں۔ اس لیے کتاب میں بیان کردہ واقعات عمر کے عذر سے نادرست نہیں ہو سکتے۔

چوہدری صاحب کی یادداشتوں کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ذاتی، خاندانی، جماعتی، سماجی اور تحریکی حصوں میں۔ مگر فکری لحاظ سے کتاب بڑی بانجھ ہے۔ شاید چوہدری صاحب بھی صرف تحریکی یادداشتیں ہی لکھنا چاہتے تھے، کوئی فکری کام کرنے کا ان کا کوئی ارادہ ہی نہ ہو۔ لیکن اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ہر بڑا آدمی اپنی یادداشتیں یا سوانح عمریاں لکھتا آیا ہے جس میں قاری کی دلچسپی بھی فکری معاملات سے زیادہ واقعاتی معاملات میں ہوتی ہے۔ اپنے تئیں چوہدری اسلم صاحب نے جو کچھ لکھا، دیانتداری سے لکھا مگر افسوس کہ کچھ واقعات میں انہوں نے اندھی محبت اور کچھ میں اندھی نفرت کا برملا اظہار کیا ہے۔ اور یہ دونوں رویے انسان کو اعتدال سے دور کر دیتے ہیں اور یوں جو کچھ کہا یا لکھا جاتا ہے، یقیناًبے اعتدالی کے زمرے میں آتا ہے۔ ’’میری تحریکی یادداشتیں‘‘ کے کچھ واقعات پر عرض کرنا چاہوں گا۔ 

صفحہ 106 پر جن چوہدری اسماعیل ایڈووکیٹ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لاہور ہائی کورٹ بارے میں ’’اسماعیل پھڈا‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ فوجداری مقدمات کا اچھا وکیل ہونے کے باوجود ذہنی طور پر بے اعتدالی ان کی شخصیت کا حصہ مرتے دم تک رہی۔ ویسے میرے 34 سالہ پیشہ وکالت کے تجربے میں کراچی سے پشاور تک ہر بار میں جماعت اسلامی کے اکثر وکلاء صاحبان انہی ’’خوبیوں‘‘ کے حامل ملے۔ چوہدری صاحب نے اگر ان کی ضمانت کے لیے سفارش کی تھی جو چوہدری صاحب کے بھائی نے منظور بھی کر لی تو اس واقعہ کا ذکر اگر وہ نہ بھی کرتے تو بہتر تھا۔ کیونکہ اس مظلوم عورت جو چوہدری اسماعیل کی بیوی تھی پر جو گزری، وہ بات چوہدری صاحب گول کر گئے۔ یاد رہے کہ ازاں بعد وہ خاتون پاگل ہوگئی تھی۔ کتاب میں صفحہ 135 پر جس ملت ہائی سکول گوجرانوالہ کا ذکر کیا گیا ہے، بے شک اس سکول نے اچھے طلبہ پیدا کیے مگر اخلاقی طور پر اس کا انجام بھی بد دیانتی پر ہوا۔ 

سکولوں کو قومیانے کے بعد جب ملت ہائی سکول کی بلڈنگ خالی کرالی گئی تو جماعت اسلامی کے یونس گھمن صاحب ایڈووکیٹ تب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کے صدر تھے۔ نیشنل سٹیڈیم کے صدر دروازے کے باہری طرف وکلاء کا ایک کلب تھا جہاں وہ اِن ڈور گیم اور ٹینس وغیرہ کھیلتے تھے۔ اس کلب کا نام گوجرانوالہ بار کے ایک صاحب ثروت ممبر لبھو رام ایڈووکیٹ کے نام پر ’’لبھو رام کلب‘‘ رکھا گیا تھا جنہوں نے یہ عظیم الشان بلڈنگ بار کو عنایت کر دی تھی۔ ادھر جونہی ملت ہائی سکول کی بلڈنگ خالی ہوئی، یونس گھمن صاحب نے بطور صدر بار فورًا لبھو رام کلب کی جگہ بلا اجازت بار ایسوسی ایشن کا کوئی اجلاس طلب کیے بغیر علامتی کرائے پر سکول انتظامیہ کے حوالے کر دی۔ اکثر وکلاء صاحبان نے اعتراض بھی کیا مگر چونکہ جماعت کے لوگ ’’پر عزم‘‘ ہوتے ہیں، اس لیے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ بعد میں وکلاء کلب کے لیے مخصوص یہ جگہ کرکٹ سٹیڈیم میں شامل کر لی گئی اور یوں ایک بد دیانتی کی قیمت بار کو ادا کرنا پڑی اور بار ایک ارب کی قیمتی جائیداد سے محروم ہوگئی۔ 

صفحہ نمبر 162 پر چوہدری اسلم صاحب نے خواتین ارکان جماعت کے باب میں محترمہ کنیز فاطمہ کے شوہر ملک محمد رفیق صاحب اور ان کی گرانقدر مالی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کچھ ایسا انداز اپنایا ہے کہ گویا ملک رفیق مرحوم آخر دم تک جماعت کے ساتھ چلے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ ملک محمد رفیق صاحب مرحوم نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر کے ’’تحریک استقلال‘‘ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ 1979ء کے انتخابات میں (جو ضیاء الحق نے ملتوی کر دیے تھے) ملک صاحب تحریک استقلال کے ٹکٹ پر گوجرانوالہ شہر کے صوبائی حلقے سے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میاں محمود علی قصوری ایڈووکیٹ اس پارلیمانی بورڈ کے سربراہ اور میں ایک ممبر تھا جس نے ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کرنا تھا۔ دیگر ممبران، ملک حامد سرفراز، ملک وزیر علی اور غالبًا ممتاز تارڑ نے جب ملک رفیق صاحب کا انٹرویو شروع کیا تو مرحوم نے اپنی بیگم صاحبہ کی خدمات گنوانا شروع کر دیں اور تحریک نظام مصطفی میں بیگم صاحبہ کے دلیرانہ کردار کو وضاحت سے پیش کیا تو میاں محمود علی قصوری صاحب نے اپنی روایتی گرجدار آواز میں اپنے مخصوص تکیہ کلام کو استعمال کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’اوئے بیبا کجھ تویں کیتا کہ نئیں‘‘ (اے بھلے آدمی! تو نے بھی کچھ کیا ہے کہ نہیں؟)۔ معلوم نہیں کہ جماعت اسلامی چھوڑ کر جانے والوں کی واپسی کے لیے جماعت کا دستور کیا کہتا ہے، چوہدری صاحب نے وضاحت نہیں کی۔

بارے ذکر رفیق تارڑ صاحب کا ہو جائے۔ صفحہ نمبر189، 190، 191 پر چوہدری صاحب نے سابق صدر پاکستان کو سمارٹ، محنتی، دیانتدار، مستعد دیانت دار، منتہائے مقصود، خدمت اسلام اور صاحب عظمت کے ’’معدودے چند‘‘ لفظوں سے یاد کیا ہے۔ شاید چوہدری اسلم صاحب کی زنبیل میں ان کے لیے اس سے زائد الفاظ نہ تھے، ورنہ یہ صفحات کھولتے ہی خوشامد کی بو آنے لگتی ہے۔

رفیق تارڑ صاحب ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے انتخابات میں ایک پولنگ سٹیشن پر ایوب خان کے پولنگ ایجنٹ تھے۔ گوجرانوالہ بار کے ممبر ہونے کے ناطے پرانے وکلاء کو اب بھی وہ ناگفتنی الفاظ یاد ہیں جو وہ قائد اعظم کے بارے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ پولنگ کا ’’ایجنٹ‘‘ ہونے کا انعام سپیکر ویسٹ پاکستان اسمبلی چوہدری محمد انور بھنڈر صاحب کے والد خان بہادر محمد حسین مرحوم نے گورنر مغربی پاکستان نواب کالا باغ سے یوں دلوایا کہ تارڑ صاحب کو ایڈیشنل سیشن جج بھرتی کر لیا گیا اور تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہیں پہلے دن سے ہی کنفرم کر دیا گیا۔ ضیاء الحق نے 5 جولائی 77ء کو اقتدار سنبھالا تو حضرت نے داڑھی بھی بڑھالی اور ضیاء الحق کے PCO کے تحت حلف بھی اٹھا لیا۔ جب سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ سجاد علی شاہ صاحب نے وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ میں طلب کیا تو یہ تارڑ صاحب ہی تھے جو ایک روایت کے مطابق ’’بریف کیس‘‘ لے کر کوئٹہ گئے اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو اپنے ہی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔ سنا ہے کہ تارڑ صاحب بڑی بذلہ سنج اور ’’مخولیہ‘‘ طبیعت کے مالک ہیں۔ عدلیہ سے فراغت کے بعد ان کا زیادہ وقت میاں شریف مرحوم کی صحبت میں گزرتا۔ تارڑ صاحب انہیں بہت سے گفتنی و نا گفتنی لطائف سے محظوظ کرتے اور یوں میاں صاحب مرحوم کا وقت بھی اچھا کٹ جاتا۔ یہ لطائف پھر پاکستان کی صدارت میں تبدیل ہوگئے۔ اللہ عمر دراز کرے عطاء الحق قاسمی صاحب کی کہ پہلے یہی کام کر کے لطائف و ’’مخولیہ پن‘‘ کی بنا پر وہ میاں نواز شریف سے ناروے اور تھائی لینڈ کی سفارت حاصل کر چکے تھے۔ تارڑ صاحب کے اوصاف حمیدہ میں سازش، خوشامد اور جمہوریت دشمنی شامل ہو تو ہو، جو اوصاف چوہدری صاحب نے گنوائے ہیں، دور دور تک نہیں ہیں۔ 

جب کوئی بھی چھوٹا بڑا آدمی اپنی یادداشتوں کو کتابی شکل دیتا ہے تو اس میں لکھا ہوا سچ یا جھوٹ ایک دستاویز بن جاتا ہے۔ اس خدشے کا اظہار میں اس لیے کر رہا ہوں کہ چوہدری اسلم صاحب کی ’’میری تحریکی یادداشتیں‘‘ کے کچھ واقعات جو ذاتی یا بالواسطہ طور پر مجھے معلوم ہیں، ایک قاری کے لیے ان کی تصحیح کر سکوں، ورنہ چوہدری صاحب نے تو زندگی بھر کا توشہ سامنے رکھ دیا ہے۔ مثلاً کتاب کے صفحہ نمبر 227 پر چوہدری صاحب نے بیان کیا کہ وہ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بننے والے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے صدر تھے۔ اس امر کی تصحیح ضروری ہے۔ گوجرانوالہ میں اس اتحاد کے صدر مسلم لیگ کے چوہدری فقیر اللہ ایڈووکیٹ تھے جو اس وقت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گوجرانوالہ کے بھی صدر تھے۔ 

جہاں تک کتاب کے فکری اور سیاسی پہلو کا تعلق ہے تو اس پر آئندہ وقت ملا تو قلم اٹھاؤں گا۔ یہاں ایک امر کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ذاتی طور پر ہمیشہ چوہدری اسلم صاحب کی سیاسی و انتظامی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ آج بھی پورے گوجرانوالہ میں میرا شمار یقیناًان لوگوں میں ہوگا جو چوہدری صاحب کی ذات پر لگنے والے ایک داغ کا دفاع کرتے آئے ہیں، ایک ایسا داغ جس سے چوہدری صاحب کی ذات قطعاً معصوم ہے۔ اللہ انہیں صحت مند رکھے اور ان کے سایۂ شفقت کو دراز کرے۔ آمین

محمد سلیمان کھوکھر ایڈووکیٹ، گوجرانوالہ 


مکاتیب

(جنوری ۲۰۱۴ء)

Flag Counter