مکاتیب

ادارہ

(۱)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لندن ۲۶؍اکتوبر ۱۴ٍ۲۰ء

بخدمت گرامی مرتبت مولا نا زاہد الراشدی دامت الطافہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

راقم نے آپ کے جوابِ باصواب کی رسید دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ رسید کے علاوہ مجھے کچھ اور بھی کہنا ہے جو ذرا ٹھہر کر۔ یہ عریضہ اسی سلسلہ کا ہے۔ عرض یہ کرنا تھا کہ اپنا روزنامہ اسلام والا محولہ کالم ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔ میری نظرمیں تو وہ اوج صاحب کو واضح طور علمی اعتبار عطا کرتا تھا۔ اسی کے باعث تو مجھے اندیشہ ہوا تھا کہ میں نے اپنی تنقید میں کہیں جہالت کا ثبوت تو نہیں دے دیا۔

اس گزارش کا مقصد اوج صاحب کے مسئلہ سے بحث نہیں ہے، بلکہ عرض کرنا ہے کہ آپ اس طرح کے لوگوں کے معاملہ میں جس درجہ وسعتِ قلبی کا سلوک اپنے اخلاقِ عالیہ کے زیر اثر کرتے ہیں، وہ ہم جیسے محبین کی نظر میں بھی نظر ثانی کا متقاضی ہے۔ مولانا سلیم اللہ خاں صاحب سے آپ کو انتہاء پسندی کی شکایت ہو سکتی ہے (اور میں فی الجملہ اتفاق کروں گا) لیکن اس اوج صاحب ہی کے معاملہ کو سامنے رکھ کر غور فرمائیے کہ اس وقت کے سب سے بزرگ دیوبندی شیخ کی حیثیت سے (یہ الفاظ ملحوظ رہیں) ان پر اگر آپ کے اس طرح کے ’’فی الجملہ‘‘ انتہا پسندانہ رویہ کا رد عمل سخت ہوا تو کچھ ذمہ داری اس کی دوسری طرف بھی ہے کہ نہیں؟ اوج صاحب نے اپنے مضمون میں جس چیز کے خلاف دادِ تحقیق دی تھی، وہ موقفِ جمہور ہی نہیں، امر منصوص تھا۔ مگر آپ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسعتِ قلب اس کی سمائی کے لیے بھی تنگ نہ تھی۔

مولانا! محبانہ عرض ہے کہ ذرا نظر ثانی کی ضرورت سمجھیں۔ ہم تو خود اچھے خاصے آزاد خیال ہیں جس کا آپ کو ضرور اندازہ ہوگا، مگر پھر بھی آپ کے معاملہ میں ایسا محسوس کریں تو کچھ تو وجہ ہونی چاہیے۔ کوئی بات اپنی حد سے بڑھ کر لکھ دی ہو تو در گزر فرمائیے گا۔ گزارش کا محرک ’’الدین النصیحۃ‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ والسلام 

نیازمند، عتیق سنبھلی

(۲)

باسمہ سبحانہ

محترمی حضرت مولانا عتیق الرحمن سنبھلی صاحب دامت فیوضکم

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

مکرر یاد فرمائی اور خیر خواہی کا صمیم قلب سے شکریہ!

آپ کا ارشاد میرے لیے مشورہ کا نہیں، بلکہ راہ نمائی کا درجہ رکھتا ہے جس کا آئندہ ان شاء اللہ لحاظ رکھا جائے گا۔ البتہ اس سے ہٹ کر اس حوالہ سے بھی راہ نمائی کا طالب ہوں کہ کیا گمراہی کی طرف جانے والوں کو جانے دینے کی بجائے واپس لانے کی کوشش زیادہ بہتر حکمت عملی نہیں ہے؟ تاریخ کے طالب علم کے طور پر میرے ذہن میں ایک بات مسلسل اٹکی ہوئی ہے کہ واصل بن عطا کو اگر امام التابعین حضرت حسن بصریؒ کی بجائے حضرت امام ابوحنیفہؒ کی مجلس میسر آ جاتی اور بحث ومباحثہ کا کھلا ماحول مل جاتا تو شاید اعتزل عنا کی نوبت نہ آتی۔ ہم نے اپنے دور میں اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے کہ غلام احمد پرویز کو فتووں کا سامنا تھا اس لیے دوسری طرف لڑھک گئے، جبکہ ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کو براہ راست فتوے کی جائے کسی حد تک مکالمہ کا ماحول میسر آ گیا تو رجوع کی صورت بن گئی۔ 

مجھے فقہاء عظامؒ کے اس ارشاد کے حوالے سے بھی کبھی کبھی الجھن ہونے لگتی ہے کہ ایک شخص مرتد ہو جائے اور اس کا ارتداد ثابت ہو جانے کے بعد سزا دینی کا فیصلہ ہو جائے، تب بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسے توبہ کے لیے تین دن کی مہلت دی جائے اور اس کے شکوک وشبہات دور کرنے کے لیے اہل علم ماہرین فراہم کیے جائیں، مگر ہمارا حال یہ ہے کہ کسی کو اس سمت جاتا دیکھ کر ہی ’’خس کم جہاں پاک‘‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

بہرحال آپ کی راہ نمائی کا شکر گزار ہوں، اس امید کے ساتھ کہ آئندہ بھی نظر رکھیں گے اور اس قسم کی کوتاہیوں سے آگاہ فرماتے رہیں گے۔ شکریہ! والسلام

ابو عمار زاہد الراشدی 

۷؍ نومبر ۲۰۱۴ء

(۳)

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

قدر افزائی کے لیے شکر گزار ہوں۔ میں تو اصولی طور پر آپ کا ہم خیال ہوں۔ بات حدود کی ہے اور اس میں ظاہر ہے میرا اور آپ کا من وعن ہم رائے ہونا ضروری نہیں۔ 

میرے یہاں ابھی الشریعہ نہیں آیا ہے۔ جعفر سلمہ نے انٹرنیٹ پر دیکھ کر خبر دی تھی اور اس سے پتہ چلا تھا کہ میرا آخری عریضہ شاید دیر سے ملا جو شامل نہیں ہوا۔ غالباً مع آپ کے جواب کے آئندہ آجائے گا۔ 

نیازمند، عتیق

(۴)

گذشتہ ماہ راولپنڈی میں تبلیغی جماعت کے بزرگ قاضی عبد المجید صاحب کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کا وسیلہ یوں بنا کہ حافظ صفوان محمد چوہان صاحب نے ملتان سے اسلام آباد جاتے ہوئے راستے میں ہمیں ایک شب کے لیے شرفِ مصاحبت و خدمت بخشا۔ اسی دوران قاضی صاحب کے انتقال کی خبر بھی ملی۔ حافظ صاحب کو اب ان کے جنازے میں بھی شریک ہونا تھا، ہمارا بھی ارادہ بن گیا۔ جامعہ امدادیہ کے پڑوسی اور فاضل حنظلہ شاہ صاحب اپنے بھائی حمزہ شاہ اور ایک دوست وقاص صاحب کا جنازے میں شرکت کا ارادہ بن گیا، بلکہ شاہ صاحبان نے اپنی گاڑی بھی پیش کردی۔

اسی کے ساتھ ایک حسن اتفاق یہ بھی ہوا کہ حافظ صاحب کی جنازے کے وقت سے پہلے جناب جاوید احمد غامدی صاحب سے ملاقات طے تھی جو مختصر عرصے کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ میری پہلے کبھی غامدی صاحب سے باقاعدہ ملاقات نہیں ہوئی تھی، نہ ہی براہِ راست کوئی رابطہ تھا۔ حافظ صاحب نے یہ بھی بتلایا کہ جب انہوں نے میزبان جناب عامر عبد اللہ صاحب (جن سے فیس بک کے ذریعے شناسائی ہے) سے براستہ فیصل آباد آنے کا ذکر کیا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ یہ طالب علم بھی حافظ صاحب کے ساتھ حاضر ہوجائے۔ جناب عامر عبد اللہ صاحب کی اس محبت کے لیے شکر گذار ہوں۔ بہر حال غامدی صاحب سے مختصر سی ملاقات ہوئی۔ ایک بات جو میں نے راستے میں بھی احباب سے عرض کی تھی ، اور مواقع پر بھی عرض کرتا رہتا ہوں، وہ جناب جاوید صاحب اور وہاں موجود ان کے حلقہ فکر کے چند احباب سے بھی عرض کی کہ دینی تعبیر کے حوالے سے مختلف الخیال حلقوں میں ایشوز اور مسائل پر بات چیت سے ہٹ کر محض سماجی روابط اور میل جول کا سلسلہ اگر شروع ہوجائے، بغیر کسی طے شدہ موضوعِ بحث اور ایجنڈے کے بس اکٹھے چائے پی لی جائے۔ سب نے ، خصوصاً غامدی صاحب نے اس بات کو پسند بھی فرمایا۔ بعض سابقہ کوششوں اور عملی مشکلات کا بھی ذکر ہوا ( مثلاً اہلِ علم کی مصروفیات، اور بڑے شہروں میں ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کی مشکلات بذاتِ خود ایک مسئلہ ہیں)۔ بہر حال اس کی افادیت پر سب کا اتفاق تھا۔ مثلاً مولانا محمد تقی عثمانی اور جاوید صاحب جیسے حضرات اکٹھے کچھ دیر کے لیے بھی بیٹھ جائیں گے تو امت کے لیے خیر ہی کا کوئی پہلو نکلے گا۔ اسی طرح اس سطح سے نیچے کے حضرات۔ ویسے بھی کہیں بعض سلف کا یہ مقولہ پڑھا تھا کہ العلم رَحِم بین اھلہ، یعنی خیالات میں فرق اور اختلاف کے باوجود علم بذاتِ خود ایک رشتہ داری ہے، اور اہلِ علم ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ رشتے داروں کو ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہنا چاہیے۔ خیال ہوا کہ اپنی یہ خواہش یہاں بھی شیئر کردوں۔ باقی اس مختصر ملاقات کا احوال موقع ملا تو پھر کبھی سہی۔

(فیس بک پر مولانا مفتی محمد زاہد (جامعہ امدادیہ، فیصل آباد) کی ایک پوسٹ)

مکاتیب