مکاتیب

ادارہ

(۱)

بخدمت حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ 

الشریعہ کے اکتوبر ۲۰۱۱ کے شمارے میں ’’توہین رسالت کی سزا پر جاری مباحثہ ۔ چند گزارشات‘‘ کے عنوان کے تحت آپ نے مجلہ صفدر شمارہ ۶ میں شائع شدہ میرے تبصرے پر بھی کچھ اظہار خیال کیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کم از کم میرے مضمون کو بالکل نہیں سمجھ پائے۔ 

’’توہین رسالت کا مسئلہ‘‘ کے نام سے عمار خان صاحب نے ایک کتاب لکھی جس میں انھوں نے اپنا موقف یہ ظاہر کیا کہ توہین رسالت کے جاری کردہ قانون کو جو کہ سزاے موت ہے، جب ذمی پرمنطبق کریں تو وہ قانون فقہ اسلامی سے مطابقت نہیں رکھتا اور حکمت ومصلحت کے بھی خلاف ہے، کیونکہ قتل ایک تو انتہائی درجے کی سزا ہے جو صرف اس وقت لاگو ہو سکتی ہے جب توہین رسالت کا مرتکب ذمی اس سے کسی طرح باز نہ آئے اور اعلانیہ اس کو اپنی روش بنا لے اور اس کی وجہ سے پورے ملک میں ہلچل مچ جائے۔ جب تک ذمی اس انتہا کو نہ پہنچے، اس کی سزا کے بارے میں فقہاے اسلام کے مابین اختلاف راے ہے۔ جمہور فقہا کہتے ہیں کہ اس جرم کی سزا ہر حال میں یہ ہے کہ مجرم کو قتل کیا جائے، جبکہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کے بیان کے مطابق فقہاے احناف کا رجحان یہ ہے کہ عام حالات میں اس جرم پر سزاے موت دینے کے بجائے ایسی تعزیری سزا پر اکتفا کیا جائے جو مجرم کو آئندہ اس جرم کے ارتکاب سے روکنے میں موثر ہو۔ 

اپنے تبصرے میں، میں نے عمار خان صاحب کے نقلی وعقلی استدلال کا رد کیا اور واضح کیا کہ گستاخ ذمی کے بارے میں فقہاے احناف کا موقف بیان کرنے میں علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کو ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت سے مغالطہ لگا ہے اور یہ کہ فقہاے احناف کا وہ موقف نہیں ہے جو عمار خان صاحب نے سمجھا ہے، بلکہ حنفیہ میں سے امام محمد رحمہ اللہ اور متاخرین کا موقف یہ ہے کہ ذمی اگر توہین رسالت کرے تو اس کی سزاے موت دو میں سے صرف ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے، یعنی توہین یا تو اعلانیہ کی ہو یا خفیہ کی ہو تو وہ ایک دفعہ کے تکرار کے ساتھ پھر ہو۔ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ کی دوسرے مقام پر بعض عبارات سے بھی ہماری اس بات کی تائید ہوتی ہے۔ مثلاً رد المحتار میں ہے:

قولہ (وسب النبی) ای اذا لم یعلن فلو اعلن بشتمہ او اعتادہ قتل ولو امراۃ وبہ یفتی (ج ۶ ص ۳۳۴)
قولہ (وبہ افتی شیخنا) ای بالقتل تعزیرا کما قدمناہ عنہ وینبغی تقییدہ بما اذا ظہر انہ معتادہ کما قیدہ بہ فی المعروضات او بما اذا اعلن بہ کما یاتی (ج ۶ ص ۳۳۴، طبع دار المعرفہ بیروت)

اپنے تبصرے کے شروع ہی میں، میں نے واضح کر دیا تھا کہ :

’’ذمی یعنی مسلمان ملک کا کافر شہری اگر توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ عمار خان صاحب نے اسی سے متعلق یہ کتاب لکھی ہے۔ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس سوال سے متعلق انھوں نے اس کتاب میں کوئی بحث نہیں کی۔‘‘

حاصل یہ ہے کہ عمار خان صاحب نے ذمی کے توہین رسالت کرنے پر اپنی کتاب لکھ کر شائع کی اور میرا تبصرہ اسی کتاب پر تھا، اس لیے میرا تبصرہ بھی ذمی سے متعلق ہے۔ مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اس میں مجھے علامہ شامی رحمہ اللہ کے موقف سے اتفاق ہے، لیکن مسلمان کے مسئلہ سے نہ تو عمار خان صاحب نے تعرض کیا ہے اور نہ ہی میں نے کیا ہے، لیکن جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب، آپ نے اکتوبر ۲۰۱۱ء کے الشریعہ میں جو اپنی چند گزارشات لکھی ہیں، وہ صرف اور صرف توہین رسالت کرنے والے مسلمان سے متعلق ہیں۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے:

’’پہلی گزارش یہ ہے کہ مسلمان کہلانے والے لعین شاتم رسول کے لیے توبہ کی گنجائش کے مسئلہ پر علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے اب سے پونے دو سو برس قبل خلافت عثمانیہ کے دور میں یہ موقف اختیار کیا تھا....‘‘ الخ

پھر مسلمان شاتم ہی کے بارے میں آپ نے تائید کے طور پر لکھا:

’’۱۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ نے کتاب الخراج ص ۱۸۲ میں لکھا ہے کہ جو مسلمان جناب رسول اکرم کی شان اقدس میں گستاخی کرے ..... ۲۔ اسی طرح امام طحاوی نے بھی مختصر الطحاوی ص ۲۶۲ میں یہی موقف بیان کیا ہے کہ ہمارے نزدیک ایسا شخص مرتد ہے..... الخ (اور مرتد وہی ہوتا ہے جو پہلے مسلمان ہو۔ عبدالواحد) ۳۔ امام ابن قیم نے زاد المعاد ج ۵ ص ۶۰ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ: ایما مسلم سب اللہ و رسولہ .... (یعنی جو مسلمان اللہ اور اس کے رسول کو سب وشتم کرے۔‘‘

آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے اپنے مضمون ’’تنبیہ الولاۃ والحکام‘‘ میں مسلمان شاتم رسول کے لیے علیحدہ فصل قائم کی ہے اور ذمی شاتم رسول کے لیے مستقل علیحدہ فصل قائم کی ہے۔

امید ہے کہ آپ اپنی گزارشات پر نظر ثانی کریں گے۔

نوٹ: آپ ہمارے قابل احترام بزرگ ہیں اور آپ اس بات کو بخوبی جانتے ہوں گے کہ دین ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ تم دیکھو، دین کی بات کس سے لے رہے ہو۔ اسی طرح یہ تعلیم بھی دیتا ہے کہ جو شخص نااہل ہو، خواہ وہ عام آدمی ہو یا پروفیسر ہو یا کم علم یا ناقص علم عالم ہو، وہ اگر قرآن پاک کے بارے میں کچھ کہے اور اتفاق سے وہ بات درست ہو، تب بھی اس نے غلطی کی۔ ہاں یہ بات ہے کہ اگر کسی کو کوئی اشکال پیش آتا ہے تو اس کا حل بتانا علماء سے مطلوب ہے۔ اس کے باوجود آپ شرعی احکام میں اور قرآن وحدیث کے بارے میں آزادانہ بحث ومباحثہ کے حق میں ہیں جس میں اس کی کوئی تمیز نہیں کہ رائے دینے والا واقعہ اہل ہے یا نہیں اور اس کا تو ہم آپ سے مطالبہ ہی نہیں کرتے کہ آپ بتائیں کہ اب تک الشریعہ کے آزاد بحث ومباحثہ سے کتنے لوگوں نے ہدایت حاصل کی ہے، کیونکہ جن کے سامنے یہی نہ ہو کہ حق کیا ہے اور حقانیت کیا کا کیا معیار ہے، وہ حق کو کیا سمجھیں گے۔ ہم آپ کی روش سے دل گرفتہ ہیں۔ کیا ہمارے لیے آپ کی طرف سے مایوسی اور حسرت وافسوس ہی مقدر ہے؟ والی اللہ المشتکی۔

[مولانا مفتی] عبد الواحد

دار الافتاء جامعہ مدنیہ، لاہور

20-10-2011

(۲)

محترمی حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب زید مجدکم

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

یاد فرمائی کا تہہ دل سے شکریہ!

  • توہین رسالت کے مرتکب مسلمان اور ذمی کے مابین فرق کے ضمن میں آپ کی وضاحت مفید ہے اور اس سے قارئین کو آپ کا موقف سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
    جہاں تک آپ کے اس ارشاد کا تعلق ہے کہ میں نے ذمی کی طرف سے توہین رسالت کے شرعی حکم پر اپنی گزارشات میں کچھ عرض نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے مسئلہ کے مختلف پہلووں پر بحث نہیں کی، بلکہ اس پر اظہار خیال کرنے والے حضرات کے رویوں پر بات کی ہے جس پر مثال کے طو رپر میں نے مسئلہ کے صرف ایک پہلو کا ذکر کیا ہے اورمیرے خیال میں رویوں کو زیر بحث لانے کے لیے ایک مثال بھی کافی ہوتی ہے۔ میرا اصل موضوع مباحثہ میں حصہ لینے والوں کا طرز استدلال اور ان کے رویے ہیں جن پر میں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور میں نے مجموعی طور پر جن تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان پر کسی نظر ثانی کی ضرورت محسوس کیے بغیر اب بھی قائم ہوں۔
  • عمار خان کی کتاب پر آپ نے جو تبصرہ فرمایا ہے، آپ نے اپنے نقطہ نظر کے اظہار کا جائز حق استعمال کیا ہے جس پر مجھے کوئی اشکال نہیں ہے، بلکہ میں نے اس مضمون میں آپ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اس سے قبل ایک عریضہ میں عمار خان کے مضامین پر علمی نقد کے حوالے سے آپ کا الگ طور پر بھی شکریہ ادا کر چکا ہوں اور میں یہ چاہوں گا کہ آپ کی یہ بزرگانہ شفقت آئندہ بھی قائم رہے۔
  • جہاں تک علمی واجتہادی مسائل پر کھلے مباحثہ کے بارے میں ہمارے طرز عمل پر آپ کے تحفظات ہیں، میں اسے آپ کا حق سمجھتا ہوں، مگر عمومی مباحثہ کامطلب یہی ہوتا ہے کہ ہر شخص کو راے کا حق حاصل ہو۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا آیا ہے کہ کسی مسئلے پر کسی کو راے دینے سے روکا نہیں کیا گیا۔ ہاں، دلیل اور استدلال کی بنیاد پر کسی کی بات جمہور اہل علم کے ہاں قبولیت پا گئی ہے تو اسے علمی دنیا میں جگہ مل گئی ہے اور اگر جمہور اہل علم کے ہاں اسے قبولیت نہیں ملی تو وہ تاریخ کی نذر ہو گئی ہے۔ ہمارے علمی اور فقہی ذخیرے میں آ پ کو ہزاروں نہیں تو سیکڑوں ایسی آرا ضرور ملیں گی جن کا اظہار ہوا ہے اور وہ جمہور اہل علم میں قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کر سکیں۔ میری طالب علمانہ راے میں کسی راے کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا دائرہ الگ ہے اور کسی کو راے کا حق دینے یا نہ دینے کا دائرہ اس سے مختلف ہے۔ دونوں دائروں میں اگر اہل علم بھی فرق نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا؟
  • کون راے دینے کا اہل ہے اور کون اس کا اہل نہیں ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہ مجھے اپنے پاس رکھنا چاہیے اور نہ آپ کو اس پر اصرار کرنا چاہیے ۔مجھے اس بات سے اتفاق نہیں ہے کہ ہمارے دار الافتاء یہ منصب بھی سنبھال لیں کہ افراد کے بارے میں ڈگریاں جاری کرنا شروع کر دیں کہ کون راے کا اہل ہے اور کون نہیں۔
    اصول کی بات اپنی جگہ پر بالکل درست ہے کہ ہمارے اسلاف نے راے دینے کی اہلیت اور راے کو قبول کرنے کے معیارات واضح کر دیے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کسی کی راے کو قبول کرنے اور کسی کی بات کو رد کر دینے کا اختیار اب تک عمومی علمی ماحول کے پاس رہا ہے۔ جو شخص عمومی علمی ودینی ماحول میں قابل قبول قرار پایا ہے، اسی کی اہلیت تسلیم کی گئی ہے اور جسے جمہور اہل علم نے نظر انداز کر دیا ہے، وہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ماضی میں آپ کو بیسیوں حضرات ایسے ملیں گے جن پر شدید نقد وجرح کی گئی ہے اور فتوے بھی صادر کیے گئے ہیں، مگر انھیں علمی مباحثہ کے میدان سے نکالا نہیں جا سکا، جبکہ ایسے حضرات بھی کم نہیں ہیں جن کا ذکر صرف تاریخ کے ایک دو صفحات تک محدود ہے۔
    اس لیے میری درخواست ہے کہ کسی شخص کے یا کسی رائے کے قابل قبول ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ جمہور اہل علم اور عمومی علمی ماحول کے پاس ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہے، اس لیے کہ ان فیصلوں کا اصل فورم وہی ہے۔

میں ایک بار پھر آپ کی توجہ فرمائی پر شکر گزار ہوں، آئندہ بھی اس کی توقع رکھتا ہوں اور اگر وہ کھلے دل کے ساتھ ’’دل گرفتگی‘‘ کے بغیر ہو تو یقیناًزیادہ لطف دے گی۔ شکریہ

ابو عمار زاہد الراشدی

۲۱؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء

مکاتیب