مکاتیب

ادارہ

(۱)

لکھنؤ۔ ۲۲ جنوری ۲۰۱۵

بخدمت محترم مولاناراشدی حفظہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

کل جنوری کا شمارہ موصول ہواہے۔پشاور کا سانحہ یہاں ہم سب کو ہلاگیا۔ہائے بے دردی و سنگدلی!اس پر محمد مشتاق احمد صاحب کا فقہی کلام ’’سوچا سمجھا جنون‘‘ بڑی بروقت چیز نظر آئی۔ اس سلسلہ میں کچھ اور بھی آنا چاہیے۔ اور شیخ الازہر کے نام مکتوب کی روشنی میں امید کی جانی چاہیے کہ آپ خلافت قائم کرنے کے صحیح طریقہ کی کچھ وضاحت ضرور فرمائیں گے۔ اور صاحب یہ مرحوم شکیل اوج صاحب کے حوالہ سے میرے خط پر جن صاحب نے بڑا شکوہ کیا ہے توآپ اگر ایک سطر کا نوٹ اس پر دے دیتے توان کی جذباتی جراحت ضرور کم ہوجاتی او ر مجھے ان کا غم غلط کرنے کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہ محسوس ہوتی ۔آپ انھیں توجہ دلا سکتے تھے کہ اُس غریب نے تو مجھے خط اس عنوان سے لکھا تھا کہ شکیل صاحب کے بارے میں میرا مضمون پڑھ کر اسے ڈر ہوا کہ سید سلمان ندوی صاحب کے نام اپنے خط میں اس نے جو کچھ اوج صاحب کے بارے میں لکھا، وہ کہیں بے جا نہ رہا ہو۔نہ یہ کہ اس کا مقصد شکیل صاحب کو’’ناقابلِ توجہ ‘‘بتانا رہا ہو۔ اور کیا اچھا ہوتا کہ آپ موصوف کو اس مفروضہ سے بھی، جو ان کے لیے اہل مدارس پر تبرے کا باعث ہوا، نکال دیتے کہ ہو نہ ہو، یہ عتیق صاحب بھی منجملۂ اربابِ مدارس ہیں۔ چلیے، خیر اس بہانے آپ سے سلام دعا ہو گئی۔

ایک بات کہنے کا تقاضہ پہلے سے چل رہا تھا،وہ بھی عرض کردوں کہ یہ جو ’’اردو تراجمِ قرآن پر ایک نظر ‘‘کا سلسلہ ہے، خیال ہوتا ہے کہ اس کی قسطیں اگر چھوٹی کردی جائیں تو زیادہ دلچسپی سے پڑھاجائے، ورنہ افادیت اپنی جگہ، ہے ایسی سپاٹ چیز کہ کہ زیادہ دیر دلچسپی کم ہی لوگوں کو رہ سکتی ہے۔ والسلام

نیاز مند، عتیق

(۲)

محترم المقام جناب زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم! الشریعہ جنوری2015کی اشاعت میں ایک مخلص علمی شخصیت جناب عتیق الرحمن سنبھلی کے نہایت مختصر، عاجزانہ ودردمندانہ خطوط کے رد میں ڈاکٹرشہباز منج صاحب کاایک تفصیلی تنقیدی مضمون نما خط شائع کیاگیا ہے۔محترم ڈاکٹر شہباز منج صاحب کی تنقید پڑھ کر دلی دکھ اور صدمہ ہواکہ اہل علم اس طرح کی الجھی ہوئی اور باہم متضاد باتیں بھی پورے اعتماد سے اور بڑے دھڑلے سے کرسکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ محترم شہباز منج کا پورا مضمون ہی باہم الجھا ہوا اور عتیق الرحمن سنبھلی صاحب پر محض فرضی ،خیالی اور خود ساختہ الزام کو زورقلم سے منوانے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جناب عتیق الرحمن سنبھلی کے خطوط کا جائزہ لے لیاجائے۔

۱۔ الشریعہ کے نومبر2014میں شائع ہونے والے اپنے پہلے خط میں جناب سنبھلی ڈاکٹر شکیل اوج صاحب کے بارے میں علم و دلیل کی بنیاد پر قائم ہونے والی اپنی رائے پرپریشانی کا اظہار ان الفاظ میں فرمارہے ہیں کہ: ’’میرے جواب کی رو سے اوج صاحب قابل توجہ ہی نہ تھے جبکہ آپ کی تحریر سے پتہ چلا کہ وہ تو بڑی ذی علم ہستی تھی۔میں ممنون ہوں گا اگر آپ ذرا وقت نکال کر یہاں اٹیچ کردہ میرا خط پڑھ لیں اور میں نے جس بنیاد پر مرحوم کے خیالات کو رد کیا اس کے بارے میں بے تکلف بتائیں کہ کیا میں اس میں غلطی کا مرتکب ہوا ہوں۔‘‘

۲۔ اس کے بعد جناب سنبھلی کا وہ خط شائع کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر شکیل اوج مرحوم کے استدلال کو علمی بنیادوں پر رد کیا ہے ۔جناب سنبھلی کے اس نہایت مختصر علمی خط ، جس میں انہوں نے ڈاکٹر شکیل اوج کے استدلال کو قرآنی دلیل سے رد کیا ہے ،کا نقطہ عروج وہ آخری جملہ ہے جس کے الفاظ یہ ہیں ’’سورۂ مومنون کی آیت (۵)میں صریح طور پر قابل تمتع عورتوں کی دو کیٹگریز قائم کی گئی ہیں: اِلاَّ عَلیٰ اَزْوَاجِھِمْ اَو مَا مَلَکَتْ اَیمَانُھُمْ فَاِنَّھُم غَیرْ مَلُومِینَ۔ آپ اس دوئی کو کس دلیل سے کالعدم کریں گے؟‘‘

آنجناب نے جناب سنبھلی کے اس استدلال کو قبول کرتے ہوئے جواباً تحریر فرمایا کہ ’’مجھے آیت کریمہ کے مصداق کے حوالے سے آپ کے موقف سے کلی اتفاق ہے‘‘اور یہ کہ ’’کسی بھی قرآنی حکم پر جمہور اہل علم کے اجتماعی موقف سے انحراف کو درست نہیں سمجھتا‘‘۔

۳۔آنجناب کے اس جواب کے جواب میں جناب سنبھلی کاکمال اختصار ،عاجزی اور خلوص دل سے لکھا ہوا خط الشریعہ دسمبر2014میں شائع ہوا جس میں جناب سنبھلی نے توجہ دلائی کہ ’’اوج صاحب نے اپنے مضمون میں جس چیز کے خلاف داد تحقیق دی تھی وہ موقف جمہور ہی نہیں، امر منصوص تھا مگر آپ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وسعت قلب اس کی سمائی کے لیے بھی تنگ نہ تھی۔ مولانا! محبانہ عرض ہے کہ ذرا نظر ثانی کی ضرورت سمجھیں۔۔۔کوئی بات اپنی حد سے بڑھ کر لکھ دی ہو تو درگزر فرمائیے گا‘‘

جناب سنبھلی کایہ وہ نہایت مختصر علمی استدلال تھا جو علمی جواب کا متقاضی تھا، لیکن افسوس الشریعہ نے آپ کی ذات کی حد تک جناب سنبھلی کے استدلال کو درست تسلیم کیا۔ لیکن جنوری 2015کے الشریعہ میں ڈاکٹرشہباز منج کے تقریباً پانچ صفحاتی جذباتی اور غیرعلمی دلائل پر مبنی خط نما مضمون نے جناب سنبھلی کے نہایت مختصرعلمی خطوط پر شدیدردعمل کا اظہار فرمایا ہے جو کسی طور بھی ایک صاحب علم شخصیت کے شایان شان نہیں۔کوئی عامی اور علم و دین سے عاری شخص ایسے سطحی جذباتی ردعمل کا اظہار کرے تو اسے کسی حد تک معذور سمجھا جاسکتا ہے مگر علم و دین کی بلند مسند پر فائز کسی علمی شخصیت کی طرف سے اس طرح کی کجرویانہ روش، طعنہ زنی اور دلیل وسند سے عاری تعریض و طنزسمجھ سے بالا تر ہے۔کیا یہ نہایت افسوس کا مقام نہیں ہے کہ ’’ اکابرکے قصیدہ خواں، صاحب جبہ و دستار،دارالعلوم کی ملکیت اور بڑی پگڑی ‘‘ کی تراکیب استعمال کرکے ڈاکٹرشہباز منج نے جناب سنبھلی پر ناحق طعن و طنز فرمایا ہے۔جناب سنبھلی نے تو قرآن حکیم کی آیت سے محکم استدلال کرتے ہوئے شکیل اوج کا رد فرمایا ۔انہوں نے تو واضح طور پر لکھا ہے کہ (لونڈی کا زیربحث معاملہ) محض جمہور ہی نہیں بلکہ (قرآن حکیم کی آیت کا)امر منصوص ہے۔اپنی محکم دلیل پیش کرنے کے باوجودمحترم عتیق الرحمن سنبھلی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ ’’میں نے جس بنیاد پر مرحوم کے خیالات کو رد کیا اس کے بارے میں بے تکلف بتائیں کہ کیا میں اس میں غلطی کا مرتکب ہوا ہوں۔‘‘ حیرت یہ ہے کہ ڈاکٹر شہباز منج علم و دلیل کی بجائے خام جذبات سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر مولانا سنبھلی کی دلیل کا کوئی معقول اور علمی جواب ان کے پاس تھا تو وہ عنایت فرماتے ۔لیکن بجائے یہ درست راستہ اپنانے کے انہوں خواہ مخواہ طعن اور طنز کے نشتر چلانے پر اکتفا کیااور جناب سنبھلی کے صائب اور قرآنی موقف کو اٹکل پچواور عامیانہ انداز سے حقیر ثابت کرنے کی سعی فرمائی۔

منج صاحب نے ’’اکابراور اجماعی موقف ‘‘کے الفاظ طعن اور طنز کے طور پراس طرح چبا چبا کر ادا کیے ہیں، جس سے تاثر ملتا ہے کہ شاید جناب عتیق الرحمن سنبھلی نے اپنا سارا زوراستدلال انہیں دو بنیادوں پر استوار کیا ہو۔حالانکہ جب ہم جناب سنبھلی کے آدھے آدھے صفحے کے تینوں خطوط کو دیکھتے ہیں تو ان میں ’’اکابر اور اجماعی موقف‘‘ نامی کوئی ہوّا کہیں بھی ہمیں دکھائی نہیں دیتا جس سے ڈرکرڈاکٹرشہباز منج خوف سے دوڑے چلے جارہے ہیں۔ اس کے برعکس جناب عتیق الرحمن سنبھلی نے تو اپنا استدلال قرآن حکیم کی واضح اور بین آیات اور نصوص سے کیا ہے۔ ڈاکٹر شہباز منج صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ بھی علمی انداز اختیار کرتے ہوئے دلیل کا جواب دلیل سے دیتے مگر افسوس انہوں نے علمی روش اختیار نہیں کی۔یہ کیا بات ہوئی کہ اگر کوئی پروفیسر صاحب قرآن کی محکم وواضح نصوص کی بجائے قرآن و حدیث کی متشابہات کے پیچھے پڑ کراور عقل کا غلط استعمال کرتے ہوئے زیغ(فکری بے راہ روی) کا سبب بن رہا ہواور کوئی دوسراصاحب علم اپنی عاجزی،اعلیٰ ظرفی اور اعتدال پر مبنی سوچ وطبیعت کی بنا پر نرمی اختیار کرتے ہوئے ان بیچارے پروفیسرصاحب کے زیغ کی وجہ سے ان کو قابل توجہ ہونے کا حقدار قرار نہ دے تو آپ اکابرپرستی اور جبہ و دستارکا طعنہ دے کر اس کے علمی استدلال کو ہوا میں اڑانے کی کوشش کریں! حیران ہوں صاحب علم بھی ایسی روش اختیار کرسکتے ہیں؟

حیرت اس پر بھی ہے کہ مولانا سنبھلی ڈاکٹرشکیل اوج مرحوم کے غلط موقف/مقالہ کی تردیدمیں بجائے صفحے کے صفحے سیاہ کرنے کے ایک محکم وبین قرآنی آیت سے غلطی کو ظاہر وباہر کرکے رکھ دیتے ہیں۔ سورۂ مومنون کی وہ آیت سامنے آنے کے باوجود بھی ڈاکٹرشہباز منج صاحب کا اصرار ہے کہ مولانا سنبھلی کے مقابلے میں ڈاکٹر شکیل اوج کا موقف زیادہ قابل توجہ ہے۔کیا اللہ اور اس کے رسولﷺ کا واضح حکم سامنے آجانے کے بعد ہماری زبانیں رک نہیں جانی چاہئیں اور سرتسلیم خم نہیں ہوجانا چاہیے؟پھر قرآن کی محکم آیت سامنے آنے کے باوجود یہ بحث و تمحیص ،قیل وقال اور طعنہ زنی کیا معنی رکھتی ہے؟ڈاکٹر شہباز منج صاحب اپنے موقف میں اچھے خاصے الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایک مقام پر وہ ڈاکٹرشکیل اوج کے موقف کی وکالت کرتے پائے گئے ہیں تو دوسرے ہی سانس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’’اوج صاحب کے استدلال سے اختلاف کیاجاسکتا ہے اور اسے دلیل کی بنیاد پر رد بھی کیاجاسکتا ہے‘‘آگے چل کر اوج صاحب کی فکری بے راہ روی کو ان الفاظ میں تسلیم بھی کرتے ہیں کہ ’’وہ(مولانا زاہد الراشدی) تفردات کے حامل ایسے لوگوں کی فکری بے راہ روی پر گمراہی کا فتویٰ دینے کی بجائے افہام و تفہیم کے ذریعے رجوع کی طرف توجہ دلانے کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے اپنے خطوط میں ڈاکٹر شکیل اوج مرحوم پر کیا کوئی فتویٰ لگایا ہے؟انہوں نے تو (۱)ایک قرآنی دلیل سے ڈاکٹرشکیل اوج کے پورے فلسفے کی عمارت ہی منہدم کردی۔ (۲) اور ڈاکٹر شکیل اوج کے فلسفے کو قرآن حکیم کی نص کی مخالفت کی بنیاد پر ناقابل توجہ قرار دیا ہے۔(۳) محترم زاہد الراشدی صاحب سے گلہ کیا ہے کہ وہ ڈاکٹرشکیل اوج صاحب کو علمی طور پر اعتبار کی سند کیوں عنایت فرما رہے ہیں۔انہوں نے علم کی بنیاد پر قرآن وسنت میں غور وفکر کے ایک غلط زاویہ/سوچ کی نااہلیت مختصر پیرائے میں ثابت کی۔ نہ انہوں نے اجماع کی بات کی، نہ ہی اکابر کا ڈنڈادکھایا، نہ ہی کوئی فتویٰ لگایا ۔زیادہ سے زیادہ کہا تو یہ کہا کہ ’’میں نے جس بنیاد پر مرحوم کے خیالات کو رد کیا اس کے بارے میں بے تکلف بتائیں کہ کیا میں اس میں غلطی کا مرتکب ہوا ہوں۔‘‘اب دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ دلیل سے جناب سنبھلی کے موقف کو قبول یا رد کیاجاتا۔مگر افسوس جذبات ہی نے دلیل کا مقام حاصل کر لیا۔ کوئی ہم جیسا عامی اور حقیر طالب علم ایسا کرے تو شاید ناقابل التفات ہوتا۔ لیکن ڈاکٹر شہباز منج جیسا اہل علم اگر علم و دیانت سے فروترایسا رویہ اختیار کرے تو دکھ تو ہوتا ہے۔پھرشہباز منج صاحب کے نقد کا رخ بلا وجہ تمام ترجناب سنبھلی کی طرف ہے،جوسید ابوالحسن ندویؒ کے اسی علمی حلقے اور دانش کدے کے معتدل،متوازن اور معزز رجال میں سے ہیں، جن کی تحریر کا اقتباس ڈاکٹر شہباز صاحب نے غلط طور پر ڈاکٹرشکیل اوج مرحوم کے حق میں استعمال کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔

بزرگوار محترم ! کسی درجے میں ڈاکٹرشہباز منج کا شکوہ ،گلہ اور غصہ اگر بنتا تو وہ آپ سے بنتا تھا۔اگر ان کے نقد کا رخ آپ کی طرف ہوتاتوکم از کم بات منطقی ہوتی، لیکن یہاں تو’’معقولیت،کامن سینس اور لاجک‘‘ کو دورہی سے سلام کردیاگیا ہے۔میں اس جسارت پر معذرت خواہ ہوں لیکن کیا کروں کہ معاملے کی نوعیت اور سنگینی کی طرف توجہ دلانے کے لیے اس سے زیادہ موزوں الفاظ میرے پاس نہیں۔جناب سنبھلی کے خط کے جواب میں ان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے اجماع کی اور جمہور کی بات آپ نے کی تھی،جس پر اگلے ہی خط میں انہوں نے توجہ دلانا ضروری سمجھاکہ’’ اوج صاحب نے اپنے مضمون میں جس چیز کے خلاف داد تحقیق دی تھی وہ موقف جمہور ہی نہیں، امر منصوص تھا‘‘۔اب ’’امر منصوص ‘‘کے دو الفاظ سے مولانا سنبھلی نے جس دریا کو کوزے میں بند کیا، ڈاکٹرشہباز منج ایسا اہل علم بھی اگر اس کو نا سمجھ سکے تو اس پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جاسکتا ہے؟

لونڈی سے تمتع کے موضوع پرڈاکٹرشہباز منج شکیل اوج مرحوم کے استدلال کا ذکر کرتے ہوئے اور اس کی وکالت کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ ’’محض ملکیت کی بنیاد پر مباشرت کا حق تسلیم کرلیاجائے تو مالک ہی نہیں، مالکہ کو بھی یہ حق دینا پڑے گا‘‘۔ذرا دل پر ہاتھ رکھ کربتایاجائے کہ کیا یہ علمی اہلیت سے عاری اور جہالت پر مبنی استدلال نہیں؟ قرآن حکیم اور سنت نبوی کی واضح، بین اور محکم نصوص سامنے ہونے کے باوجود کوئی صاحب علم اس قسم کا استدلال کرسکتا ہے؟کیا یہ اسی قسم کا جاہلانہ استدلال نہیں جو آج کل کی مغرب زدہ عورتیں چارشادیوں کی قرآنی اجازت کے خلاف پیش کرتی ہیں کہ اگر مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہے تو پھرعورتوں کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔ علم ودین کی اہم مسند پر فائز اگر کوئی پروفیسر صاحب جاہلانہ باتیں علم کے پیرائے میں کریں تو اہل علم ودین کا فرض ہے اس پرگرفت کریں۔جناب عتیق الرحمن سنبھلی نے اگر شکیل اوج مرحوم کو ناقابل توجہ کہاہے تو یہ تو انہوں نے بڑی نرمی کی ہے یاشاید اس تناظر میںیہ بات کہی گئی ہے کہ شکیل اوج مرحوم کے دلائل میں کوئی واقعی علمی دلیل انہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملی۔اوراگر ملی بھی سہی تو اس کی حیثیت ’’لغو‘‘ سے بڑھ کر نہ تھی۔اب بھلا ایسی لغو’’بات‘‘ سے اگر کوئی ’’اعراض ‘‘کی بات کرے تو اس پر اتنی شدید برہمی کا کیا جواز؟

جولوگ سوچ اور فہم کے’’ عصری معیارات‘‘ کو حتمی اور اسے آسمانی ہدایت کی طرح معتبرمانتے ہیں، وہ لوگ قرآن وسنت کے ہر ہر تصوروحکم کو عصری معیار پر جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس جانچ میں انہیں قرآن وسنت کی جو جومحکمات بھی عصری معیار سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوں،انہیں وہ (متشابہات کے ذریعے )عصری معیار کے مطابق بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کواگرمولانا عتیق الرحمن سنبھلی کے استدلال سے صدمہ پہنچا ہے تو بات قابل فہم ہے کیونکہ مولانا سنبھلی کااستدلال صرف قرآن وسنت کو آسمانی ہدایت کا درجہ دیتا ہے اور عصری معیارات کی ہر ہر چیز کو قرآن وسنت کی روشن نصوص (محکمات)کی روشنی میں پرکھنے کی دعوت دیتا ہے۔چنانچہ اس جانچ میں انہیں ’’عصری معیارات‘‘ کی جو جو چیز بھی قرآن وسنت سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہویہ، ذہن اسے بلاتامل قرآنی محکمات کے مطابق بدل دینے کی دعوت دیتا ہے۔

بزرگوارمحترم! منج صاحب کے زیربحث خط کی اشاعت اگر بہت ضروری تھی تواس کے ساتھ ہی آپ طرف سے اس وضاحت کا آنا بھی ضروری تھا کہ’’ مولانا عتیق الرحمن سنبھلی نے نہ ہی ڈاکٹر شکیل اوج پر کوئی فتویٰ لگایا ہے، نہ ہی اکابر اور اجماع کی دلیل سے ڈرایا ہے۔انہوں نے قرآن حکیم کی نص قطعی سے ڈاکٹر شکیل اوج کے فلسفہ کی غلطی اور غیر علمی استدلال کوواضح کیا ہے، اس کے جواب اورتائید میں اجماع اور جمہور کی دلیل کا اضافہ میں(آنجناب) نے کیا تھا۔لہٰذا منطقی اعتبار سے ڈاکٹر شہباز منج کی اس نقدکا سزاواراگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف میں (آنجناب) ہوں۔قرآن حکیم کی محکم آیت کی بنیاد پر مولانا سنبھلی نے ڈاکٹر شکیل اوج مرحوم کے موقف کو ’’ناقابل توجہ‘‘ کہا ہے تو یہ ایک قابل فہم،معتدل اور معقول ردعمل ہے جس کی غیر معقول انداز میں اتنی شدید تردید کا جواز نہ تھا۔ آنجناب کی ذات گرامی اور الشریعہ کے بارے میں ہمارے دل میں پائی جانے والی خوش گمانی اس وضاحت کا تقاضا کرتی ہے۔امید ہے آنجناب بدگمانیوں کو ہوا دینے والے امورکاضرور ازالہ فرمائیں گے۔

محمد رشید

abu_munzir1999@yahoo.com



مکاتیب