مکاتیب

ادارہ

(۱)

بسم اللہ

لندن، ۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء

مکرم ومحترم مولانا زاہد الراشدی،السلام علیکم ورحمۃ اللہ 

جون کا شمارہ پاکر میاں عمار صاحب کو لکھا تھا کہ بھئی یہ زاہد صدیق مغل صاحب (جو مغربی اخلاق پر لکھ رہے ہیں)یہی تو نہیں تھے جنھوں نے مولانا تقی عثمانی صاحب اور اسلامی بینکنگ پر کافی لکھا تھا؟یہ تو بس یونہی خیال آیا تو پوچھ لیا ورنہ کوئی خاص مقصد نہ تھا ۔بہرحال، وہ ہوں یا کوئی دوسرے صاحب ، 

یہ مضمون چونکہ ہم ’’مغرب باسیوں‘‘ سے گہرا تعلق رکھتا ہے اس لیے پرھنے میں دلچسپی ہوئی ۔مگریہ Morality اور Ethics  کی اصطلاحوں میں بات سے مضمون کاجو مطالبہ ہم لوگوں اور تمام ان لوگوں سے ہے جو مغرب کی بعض اخلاقیا ت کی تعریف یا اعتراف کیا کرتے ہیں اس پر تو علامہ اقبال کا شعر ؂ 

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں ہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے 

یاد آنے لگتا ہے۔ ہمیں ان کے اخلاق سے مطلب ہے کہ ان کی اخلاقیات کے پس منظر سے؟ہمارا ان کا کوئی معاشرتی تعلق تو ابھی تک بنا نہیں ہے۔ زیادہ تر بس وقتی باہمی رابطہ کی نوبت مختلف صورتوں رہتی ہے اورا س میں جو ان کے اخلاق یا Behaviour کا پہلو سامنے آتا ہے تو بالکل قطعی بات ہے کہ اس میں مجموعی طور پر وہ ہمارے لوگوں سے فائق ٹھہرتے ہیں۔اور یہ کہتے ہوئے شرمانا نہیں چاہئے کہ ان ’’کفار‘‘ نے ہمیں اپنی بہت سی بھولی باتیں یا د دلائی ہیں۔

موصوف فرماتے ہیں کہ :

’’مغرب کا اجتماعی نظم اعلیٰ اخلاق کا نہیں بلکہ انتہائی رزیل انسانی احساسات پر مبنی(حرص، حسد، شہوت، غضب ، طولِ امل،حبِ جاہ، دنیا و مال) اور اس پر قائم ہونے والی ادارتی صف بندی۔۔۔۔۔ کے قیام کے لیے مطلوب نظم کی پا بندی کا غماز ہے۔ جس میں اعلیٰ اخلاق (مثلًا للٰہیت،عشقِ رسول ،شوقِ عبادت، خوفِ آخرت، طہارت۔تقویٰ،عفت، حیا، ایثار، (وغیرہ وغیرہ) کے پنپنے کا کوئی امکان موجود نہیں رہتا۔ ‘‘ (ص۱۹۔۲۰)

یہ اعلیٰ اخلاق کی جو مثالیں مصنف دے رہے ہیں،یہ عام انسانوں سے متعلق ہیں یا خاص ایمان باللہ والوں سے! مغربی اخلاق کی تعریف کرنے والا وہ کون مسلمان ہے جو اِن خاص مؤمنانہ اخلاق کے مفہوم میں مغربیوں کو سندِ اخلاق دیتا ہو،جس کو رد کرنے کے لیے موصوف نے اتنے طویل اور دقیق مضمون کی ضرورت محسوس فرمائی؟ اور پھر یہ بھی سمجھ سے بالکل ہی باہر قسم کی بات ہے کہ کسی اخلاقیات کا تعلق ’’حرص، حسد، شہوت، غضب ، طولِ امل وغیرہ جیسی چیزوں سے ہو ۔ پتہ نہیں مصنف کس عالم کی بات کرتے ہیں!

حضرت علیؓ کی طرف ایک سیدھا سا قول منسوب ہے کہ حکومت کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے ظلم کے ساتھ نہیں۔ اور یہ وہ سچائی ہے جسے سارے زمانے دیکھتے آرہے ہیں۔ مگر یہ مقولہ ہمارے مصنف کے خاص خیالات سے (جن کا اظہار اوپرکے اقتباس سے ہورہا ہے) ٹکراجاتا ہے ،تو اس کی تأویل و توجیہ میں موصوف نے جو کچھ لکھا ہے وہ عدمِ توازن کی ایسی مثال ہے جس کے بعد کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔ پتہ نہیں کہاں سے مصنف کے ذہن وہ کچھ خیالات سماگئے ہیں کہ انھوں نے پھرا یسی عجیب باتوں میں کوئی تأمل ان کے لیے نہیں رہنے دیا ۔ یہ سوال بالکل صحیح ہے کہ مغرب کی انسانیت جو اندرونی اخلاق میں نظر آتی ہے وہ ان کے اپنے ملک سے باہر نکلتے ہی کہاں چلی جاتی ہے۔ کہ سب غیر انسانی حرکات میں بے مہار ہو جاتے ہیں ۔ مگر اس سے تووہ بھی اختلاف نہیں کرتے جو اندرون ملک ان کے بہتر اخلاقی رویہ کو سراہتے ہیں۔اور اس کا جواب مغرب کے ذمہ ہے جو اپنی مطلق برتری کا دعویٰ کرتی ہے۔ اسی ضمن میں ایک سوال مصنف نے اور اُٹھایا کہ اولاد بوڑھے ماں باپ کی خود خبر گیری کے بجائے انھیں اولڈ پیوپلز ہومز کے حوالے کیوں کرتی ہے؟ اس کے بارے میں مصنف کو اگر یہ معلوم ہو جائے کہ ان ملکوں میں لڑکا یا لڑکی جہاں بلوغ کی عمر(۱۶یا ۱۸ سال) کو پہنچے یہاں کے معاشرتی دستور میں ان کی رہایش پھر ماں باپ کے ساتھ نہیں رہتی۔ پرندوں کے بچوں کی طرح کہ جہاں پر نکلے اپنا آب و دانہ خود تلاش کرتے اور الگ ٹھکانہ بناتے ہیں۔اس کو ذہن میں رکھئے تو پھریہاں کا یہ چلن ان لوگوں کے عدمِ انسانیت کا ثبوت شاید نہیں بنتا۔

محترم مولانا راشدی صاحب،میں ان دنوں اپنے سلسلۂ محفلِ قرآن کی تیسری جلد تیار کرنے میں ایسا مصروف ہوں کہ کسی اور بات میں حصہ لینے کو نہ وقت نکلتا ہے نہ دل دماغ میں طاقت رہتی ہے۔ مگریہاں کی زندگی میں یہاں کے نظامِ اجتماعی سے جو آرام اور فائدہ اٹھائے ہیں اور ان کا سلسلہ جاری ہے، بس ان کے خیال سے ارشادِ نبوی ’’مَن لّمْ یشکرِ الناس لم یشُکرِ اللہ ‘‘  کا تقاضہ نظر آیا کہ یہاں والوں کے ساتھ زیادتی دیکھی جائے تو اس کے بارے میں بقدرِ ضرورت اپنے احساس کا اظہار کردیا جائے۔ والسلام

مخلص، عتیق الرحمن (سنبھلی)، لندن

(۲)

الشریعہ کے تازہ شمارے (اگست ۲۰۱۳ء) میں مولانا عبد الجبار سلفی ڈائریکٹر ختم نبوت اکیڈمی لاہور کا شیعوں کے کفریہ عقائد کی وضاحت پر ایک مضمون شائع ہوا ہے جو ان کی ایمانی غیرت اور دینی حمیت کا غماز ہے۔ لیکن اس میں ان کا ایک پیرا پڑھ کر سخت تعجب ہوا کیونکہ وہ واقعے کے خلاف ہے۔ وہ پیرا حسب ذیل ہے۔

’’اگر کہا جائے کہ تقلید ائمہ کے بغیر عوام کے لیے دین پر چلنا مشکل ہے اور تارکین تقلید گمراہ ہیں، اس پر جب تارکین تقلید کی نشاندہی کروائی جائے گی تو سوائے غیر مقلدین کے کس کا نام لیا جائے گا؟ جنہیں اہل حدیث کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کہا جائے کہ حضور اقدس کی بعد از وفات برزخی حیات پر پوری امت کا اجماع ہے اور اس کا انکار نظریۂ اہل سنت سے مفروری ہے اور جب پوچھا جائے گا کہ یہ کون لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی برزخی حیات کے منکر ہیں؟ تو کم از کم ہمارے وطن (پاکستان) میں مولانا سید عنایت اللہ شاہ صاحب بخاری اور ان کے غالی معتقدین کا نام لیا جائے گا۔‘‘ (ص ۳۳)

اس پیرے میں اہل حدیث پر جو کرم فرمائی کی گئی ہے، اس پر گفتگو مقصود نہیں ہے، اہل حدیث پر یہ کرم فرمائیاں صدیوں سے جاری ہیں، البتہ اس میں شدت ڈیڑھ صدی قبل جب دارالعلوم دیوبند کا قیام عمل میں آیا، اس وقت سے آئی ہے۔ تاہم فاضل مضمون نگار سے ایک سوال کرنے کو ضرور جی چاہتا ہے۔

صحابہ و تابعین کے دور میں کیا تقلید کا وجود تھا؟ اگر نہیں تھا اور یقیناًنہیں تھا تو کیا اس وقت عام لوگوں نے دین پر مکمل عمل نہیں کیا؟ کیا دین پر عمل کرنے میں ان کو واقعی مشکلات پیش آئیں، محض اس وجہ سے کہ اس وقت تقلید ائمہ کا سلسلہ نہیں تھا؟ اور آج بھی الحمد للہ کروڑوں اہل حدیث تقلید ائمہ کے بغیر دین پر بغیر کسی مشکل کے مکمل عمل کر رہے ہیں، کیونکہ دین پر عمل کرنے کے لیے تقلید شخصی ضروری نہیں، صرف علمائے دین کی طرف مراجعت ضروری ہے اور یہ عوام کے لیے ناگزیر ہے اور اہل حدیث عوام فَاسْءَلُوا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْن کے تحت علماء سے دینی معلومات حاصل کر کے دین پر عمل کرتے ہیں۔

صحابہ کرام و تابعین عظام کے دور کے لوگوں کا یہی طرز عمل تھا جس پر اہل حدیث عمل پیرا ہیں، اس کا نام اگر گمراہی ہے تو سوچ لیجئے اس کی زد میں سب سے پہلے کون لوگ آئیں گے؟ اہل حدیث کے بارے میں آپ حضرات نے جو تصورات قائم کیے ہوئے ہیں جن کی بنا پر آپ بغیر کسی تأمل کے گمراہ ہونے کا فتویٰ عائد کر دیتے ہیں، وہ سب خلاف واقعہ، توہمات و مفروضات کا شاخسانہ اور ان کے عمل بالحدیث کے خلاف تعصب کا نتیجہ ہے۔ دنیا میں تو اس کا فیصلہ ہونے سے رہا کہ کُلُّ حِزْبٖ بِّمَا لَدَیْھِمْ فَرِحُوْن۔ تاہم روز قیامت بارگاہ الٰہی میں یہ فیصلہ ضرور ہوگا کہ گمراہ کون تھا؟

تاہم اس مراسلے کی ضرورت مسلک اہل حدیث کی وضاحت کے لیے پیش نہیں آئی بلکہ اس کے بعد انبیاء علیہم السلام کی حیات برزخی کی بابت فاضل مضمون نگار کی غلط بیانی یا غلط فہمی اس کی اصل وجہ ہی ہے۔ فاضل مضمون نگار نے سید عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے غالی معتقدین کو حیات برزخی کا منکر قرار دیا ہے جب کہ حیات برزخی پر امت کا اجماع ہے۔ 

بلاشبہ حیات برزخی پر امت کا اجماع ہے، لیکن راقم کی معلومات کے مطابق سید عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے ہم نوا حیاتِ برزخی کے منکر قطعًا نہیں ہیں۔ ان کا اختلاف اپنے ہی ہم مسلک دوسرے دیوبندی علماء سے یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ابدی قانون کے مطابق موت سے ہم کنار ہو کر دنیا سے چلے گئے، اب دنیا سے ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ البتہ حیات برزخی ان کو حاصل ہے لیکن اس حیات کی نوعیت اللہ ہی جانتا ہے، ہم اس کی نوعیت و کیفیت سے نہ آگاہ ہیں اور نہ ہو ہی سکتے ہیں۔

اس کے برعکس دوسرے دیوبندی علماء کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان کو اسی طرح کی زندگی حاصل ہے جس طرح ان کو دنیا میں حاصل تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیقی زندگی آپ کو حاصل ہے۔ مولانا سید احمد مدنی مرحوم لکھتے ہیں:

’’آپ کی حیات نہ صرف روحانی ہے جو کہ عام مومنین و شہداء کو حاصل ہے بلکہ جسمانی بھی ہے اور اَز قبیل حیات دنیوی، بلکہ بہت سی وجوہ سے اس سے قوی تر ہے۔‘‘ 

اور جب ایسا ہے تو اس کے ڈانڈے بھی بریلویت سے جا ملتے ہیں، چنانچہ اگلے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:

’’آپ سے توسل نہ صرف وجود ظاہری کے زمانے میں کیا جاتا تھا بلکہ اس برزخی وجود میں بھی کیا جانا چاہیے، محبوب حقیقی تک وصال اور اس کی رضامندی آپ ہی کے ذریعے سے اور وسیلے سے ہو سکتی ہے، اسی وجہ سے میرے نزدیک یہی ہے کہ حج سے پہلے مدینہ منورہ جانا چاہیے اور آپ کے توسل سے نعمت قبولیت حج و عمرہ کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ (مکتوبات شیخ الاسلام، ج ۱، ص ۱۲۰، طبع لاہور)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعد از وفات، حیات (بلکہ برتر از حیاتِ دنیا) کا یہ عقیدہ جسے علمائے دیوبند کی اکثریت نے اپنایا ہوا ہے اور اس عقیدے کے تحت اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توسل نہ صرف جائز ہے بلکہ کرنا چاہیے حتیٰ کہ حج کرنے سے بھی پہلے آپ کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر قبولیت حج کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا عنایت اللہ شاہ بخاری اور ان کے معتقدین کو اِس عقیدۂ حیات النبی سے انکار تھا اور ہے نہ کہ حیات برزخی سے۔

علمائے دیوبند میں سے وہ حضرات جو سید عنایت اللہ شاہ بخاری مرحوم کے مذکورہ مسلک کے ہم نوا ہیں، جن کو فاضل مضمون نگار نے ’’غالی معتقدین‘‘ کا نام دیا ہے، ان سے گزارش ہے کہ راقم نے سید صاحب کے بارے میں جو وضاحت کی ہے، اگر وہ صحیح ہے تو وہ اس کی تصویب فرما دیں۔ بصورت دیگر ان کے مسلک کی صحیح نوعیت واضح فرما دیں۔ 

حافظ صلاح الدین یوسف

مدیر: شعبہ تحقیق و تالیف دارالسلام لاہور۔

مکاتیب