مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم جناب محمد عمار خان ناصر صاحب 

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

’’خاطرات‘‘ کے سلسلے میں ماشاء اللہ نہایت اہم اور فکر انگیز تحریریں شائع ہو رہی ہیں ۔ربِّ کریم آپ کو اس کے تسلسل اور دین کے حوالے سے سامنے آنے والے جدید چیلنجز کے مقابلہ کی ہمت ارزانی فرمائے ۔’’الشریعہ‘‘ جون ۲۰۱۳ء کے خاطرات میںآپ نے ’’عہد نبوی کے یہود اور رسول اللہ کی رسالت کا اعتراف ‘‘ کے زیر عنوان دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ کے اس المیے کا تذکرہ کیا ہے کہ وہ نہ صرف بالعموم جدید علوم سے واقفیت حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنے روایتی علمی ذخیرے سے بھی نا بلد ہیں۔ان کے سامنے جب کوئی ایسی علمی بات کی جاتی ہے جو ان کی محدود نصابی آموخت سے مختلف ہوتی ہے تووہ اسے فوراً گمراہی،بے راہ روی اور بدعت وتحریف پر محمول کرنے لگتے ہیں،اور اس طرف ان کا ذہن ہی نہیں جاتا کہ یہ بات قدیم علماے اسلام کے ہاں بھی موجود ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کے چند گنے چنے علماہی کو علم کی کل کائنات سمجھتے ہیں۔یہ بات آپ نے اس تناظر میں کہی ہے کہ مسجد اقصی کی بحث میں آپ نے سورہ البقرہ کی آیات ۷۶ اور ۹۱کی روشنی یہ ذکر کیا تھا کہ عہد نبوی کے بعض یہود حضور کو بنی اسماعیل کا نبی تسلیم کرتے تھے اور تنقید نگارنے اسلامی ذخیرہ علم سے عدم واقفیت کی بنا پر اس کو تحریف سے تعبیر کیا ہے۔پھر آپ نے بخاری ،فتح الباری اور طبری کے حوالے سے اپنے موقف کو موکد کیا ہے۔

محترم عمار صاحب !آ پ تو اسلاف کے ہاں موجود کسی ایسے تفسیری نکتے کو ماننے کی بات کر رہے ہیں جو ہمارے علما کے ہا ں معلوم و معروف نہ ہو ۔ ذرا غور کیجیے کہ اس تفسیری نکتے سے متعلق ان کا رویہ کیا ہو گا جواسلاف کے ہاں موجود نہ ہو۔حالانکہ راقم الحروف کی ناقص رائے میں دلائل موجود ہوں توایسے کسی نکتے سے بھی ابا ضروری نہیں۔ 

اگر،جیسا کہ ہمارے علما بھی بیان کرتے ہوئے نہیں تھکتے،قرآن ہر زمانے اور قیامت تک کے تمام بنی نوع انسان کے لیے رہنمائی کا سامان ہے ۔اور اقبال کا یہ بیان حقیقت ہے کہ قرآن کی حکمت قدیم و لا یزال ہے(آں کتابِ زندہ قرآنِ حکیم ۔حکمتِ او لا یزال است وقدیم)،اس کی آیات میں سینکڑو ں نئے جہان موجود اور اس کے لمحات میں ان گنت زمانے بند ہیں (صد جہانِ تازہ در آیاتِ اوست ۔عصر ہا پیچیدہ درآناتِ اوست)، تو پھر اس سے نئے زمانے میں کسی نئے نکتے کے اخذکرنے پر ناک بھوں چڑھانے کی کیا گنجائش ہے!

قرآن نے دو چار مرتبہ نہیں سینکڑوں مرتبہ غور وفکر کرنے ،عقل و فکر کی قوتوں کو کام میں لانے اور انفس وآفاق اور آیاتِ قرآنی میں تدبر پر زور دیا ہے ۔(مثال کے طور پر دیکھیے:البقرہ۲:۱۶۳؛ النسا۴:۸۲؛ العنکبوت۲۹:۲۰؛ الذاریت ۵۱:۲۰۔۲۱ و مقاماتِ عدیدہ)وہ اللہ کے بندوں کی ایک نہایت اہم صفت یہ بیان کرتا ہے کہ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا ۔(الفرقان ۲۵:۷۳) یہی نہیں بلکہ بلکہ وہ عقل سے کام نہ لینے والوں کو بد ترین خلائق قرا دیتا ہے۔(اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ۔الانفال۸:۲۲) قواے حسی کو مشاہد ہ فطرت اور ذہنوں کوتدبر و تفکر کے لیے استعمال نہ کرنے والوں کو حیوانوں سے بھی بدتر اور جہنم کے سزاوارٹھراتاہے (وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَھَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَھُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِھَا وَ لَھُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِھَا اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْن۔الاعراف۷:۱۷۹)تو کیا آیاتِ قرآنی میں تدبرکے ذریعے ہدایت و رہنمائی کا حصول صرف بزرگانِ سلف تک محدود ہ ہے اور اخلاف کے لیے کتاب و سنت کی روشنی میں ان میں آزادانہ غور و فکر ممنوع ہے۔ظاہر ہے کہ ہر گز نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو متاخرین میں شاہ ولی اللہ،اقبال اور دیگر متعدد نامور اور عظیم مفکرین کا وجود ناپید ہوتا۔

آپ نے اپنے ناقد کے جواب میں درست فرمایا کہ یہ کہہ کرکہ عہدِ نبوی کے بعض یہود حضور کو بنی اسماعیل کا نبی مانتے تھے ،آپ ان یہود کی کوئی خوبی اجاگر نہیں کر رہے تھے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی حکتِ عملی کو کا یہ پہلو اجاگر کر رہے تھے کہ آپ نے حق بات کو اپنے مخاطبین تک پہنچانے اور ان پر اتمام حجت کرنے کا ایسا حکیمانہ اسلوب اختیار کیا کہ یہود کے ایک گروہ کے لیے آپ کی صریح تکذیب ممکن نہ رہی۔لیکن راقم کے خیال میں اگر آپ یہود کی کسی خوبی کو اجاگر کر دیتے تو یہ بات بھی قرآن کے خلاف نہ ہوتی،کیونکہ قرآن حکیم میں اس کی واضح بنیادیں موجود ہیں۔درج ذیل آیات ملاحظہ کیجیے:

وَ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ وَ مِنْھُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْکََ۔(آل عمران۳:۷۵) 
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَھُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُھْبَانًا وَّ اَنَّھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْن۔ وَ اِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ (المائدہ ۵:۸۲۔۸۳)

پہلی آیت میں اہل کتاب کے منفی رویے کے ذکر کے ساتھ ساتھ ان کے بعض لوگوں کے دیانتداری پر مبنی رویے کی تعریف کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ وہ ڈھیروں کی امانت میں بھی خیانت نہیں کریں گے اور دوسری آیات میں یہود اور مشرکین کی نسبت نصاری کے اہلِ اسلام سے قریب تر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں علما و مشائخ موجود ہیں جو تکبر نہیں کرتے اور جب رسول اللہ پر نازل ہونے والے کلامِ ربانی کو سنتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔اس لیے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔

قرآن کے نقطہ نظر سے بات بھی کسی طرح قرین انصاف نہیں کہ اہل اسلام تمام غیر مسلموں کو ایک ہی عینک سے دیکھیں۔انہیں قرآن کی ان آیات کو پیش نگا رکھنا چاہیے جن میں بے لاگ انصاف کا حکم دیا گیا اور اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ کسی قوم کی دشمنی انہیں نا انصافی پر آمادہ نہ کرے۔(مثلاً:المائدہ۵:۸)

آپ نے سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جس دعوتی حکمتِ عملی کا تذکرہ فرما یاہے وہ بلا شک و شبہ ہر زمانے کے داعیانِ اسلام کے لیے مشعل راہ ہے۔لیکن جانے عصر حا ضر کے زیر بحث قبیل کے جذباتی علما ے کرام اسلام کی بہی خواہی کے بلند بانگ دعاوی کے باوصف حضور کے اسوہ حسنہ کہ اس پہلو کو کیوں یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں !آج کے دور میں کوئی مسلمان اسلام کی تبلیغ اور اس کی انسانیت پسندی کے تعارف کے حوالے سے دیگر مذاہب کے لوگوں کی توجہ ان سے متعلق روادارانہ اور مثبت رویہ اپنائے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔اگرمسلمان غیر مسلموں سے خوہ مخواہ کا تعصب برتیں گے تو ان کے حوالے سے یہ کہنا نہایت آسان ہوگا کہ وہ تمام غیر مسلموں کو اپنا دشمن خیا ل کرتے ہیں اور ان سے دشمنی اور مخالفت کے سوا کچھ توقع نہیں رکھتے اور اس چیز کا اسلام اور اس کی دعوت اور مسلمانوں کے حوالے سے ضر ررساں ہونا محتاجِ دلیل نہیں۔

بعض یہود کی طرف سے حضور کو بنی اسماعیل کا نبی تسلیم کرنے کی تصویب کے ضمن میں ایک دلچسپ بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ امر صرف عہدِ نبوی کے اہل کتاب تک محدود نہیں،عصر حاضر کے اہل کتاب میں سے بھی بعض نمایاں لوگ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نبی تو ہیں لیکن اہل عرب کے لیے۔مشہور مستشرق منٹگمری واٹ کا نام اسلام اور مستشرقین کے موضوع سے ادنی دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی اجنبی نہیں۔انہوں نے Companion to the Quran کے نظر ثانی شدہ ایڈیشن کے دیباچے میں لکھا ہے کہ گو میں ہمیشہ سے یہ سمجھتاتھا کہ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] صدق دل سے اپنے اوپر وحی الہی کے قائل تھے، تاہم مجھے ایک عرصہ تک آپ [صلی اللہ علیہ وسلم] کو پیغمبر تسلیم کرنے میں تامل رہا۔ اب البتہ میں یہ علی الاعلان کہتا ہوں کہ آپ [صلی اللہ علیہ وسلم] عہد نامہ قدیم کے پیغمبروں کی طرح کے پیغمبر تھے۔ وہ مختلف قصصِ قرآنی کا قصصِ بائبل سے تقابل کرکے واضح کرتے ہیں کہ قصص قرآنی کو بائبل کی بعینہ نقل قرار دینا کسی بھی طرح درست نہیں۔قصصِ بائبل اور قرآنی قصص میں اس نوعیت کا بنیادی اختلاف ہے کہ اس کی توجیہ بغیر اس کے کوئی نہیں ہو سکتی کہ محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] پر عہد نامہ عتیق کے انبیا کی مانند وحی آتی تھی۔البتہ عہد نا مہ قدیم کے پیغمبر اپنے اپنے ادوار کے مذاہب کو ہدف تنقید بناتے تھے اور محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] کا مقصدِ بعثت ان لوگوں کو ایمان باللہ کی دعوت دینا تھا جو کسی بھی دین کو ماننے کے روادار نہ تھے۔اس د یباچے میں منٹگمری واٹ نے مشہور مستشرق مترجمِ قرآن آرتھر جے آربری کے حوالے سے جوکچھ لکھا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسٹر آربری بھی حضور پر وحی الہی کے قائل تھے۔مسٹر واٹ لکھتے ہیں کہ آربری نے اپناترجمہ قرآن اس زمانے میں کیا جب وہ ذاتی نوعیت کے پریشانیوں اور مسائل سے دوچار تھے۔ترجمہ کی تکمیل کے بعد انہیں سکونِ قلب اور اطمینان کی دولت میسر آئی جس پر انہوں شکریے کا اظہار کیااور واضح کیا کہ یہ شکریہ وہ اس قوتِِ مطلقہ کا ادا کررہے ہیں جس نے نبی [صلی اللہ علیہ وسلم] پر وحی نازل فر مائی۔

ڈاکٹر محمد شہباز منج

شعبہ اسلامیات،یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا 

(۲)

محترم جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امیر عبد القادر الجزائری کے بارے میں ’’الشریعہ‘‘ اور’’ ضربِ مؤمن‘‘ کے درمیان جاری مکالمہ بہت دلچسپی سے پڑھا۔چند باتیں ذہن میں ہیں جو گوش گذار کرنا چاہتا ہوں۔

(۱) مفتی ابو لبابہ صاحب نے جو کچھ لکھا ہے آپ کی تائید کردہ کتاب سے لکھا ہے اور با حوالہ لکھا ہے، اس میں اس کا عورتوں کے ساتھ اختلاط ، مہمانوں کو شیمپئین پیش کرنا، کفار سے بڑی بڑی تنخواہیں وصول کرنا، غیراللہ کے نام کی قسمیں کھانا، بالفاظِ خود’’ایک بچے کی طرح‘‘اپنے آپ کو کفار کے حوالے کردینا، یہودیوں اور عیسائیوں کو مسلمان سمجھنا، پردے کو محض عربوں کا رواج کہنا، ، ان کی خوشامد کرکے معافیاں مانگنا وغیرہ خود آپ کی پسند فرمودہ کتاب سے ثابت ہے۔ اب آپ یا تو اقرار کریں کہ امیر عبد القادر الجزائری واقعی اسی چال چلن کا آدمی تھا اور یا پھر تسلیم کریں کہ کائزر نے اس کے بارے میں غلط بیانی کی ہے، اس صورت میں آپ بھی تقریظ لکھنے کی بناء پر کائزر کی غلط بیانی میں شریک ٹھہرائے جائیں گے۔

(۲) آپ نے مفتی صاحب کے اعتراضات کا جواب دینے کی بجائے ان پر یہ الزام لگانے پر اکتفاء کیا ہے کہ ان کا لب و لہجہ ٹھیک نہیں ہے ، ان کا انداز سخت ہے وغیرہ، اس کے جواب میں آپ اسی شمارے میں اپنے فرزند عمار خان ناصر کا شیخ اسامہ بن لادنؒ کے بارے میں لب و لہجہ ملاحظہ فرما لیں کہ دنیا سے رخصت ہو چکنے کے بعدشیخ کے بارے میں اس نوعیت کی الزام تراشی اور طعنہ بازی یہ کس قسم کی اخلاقیات ہے؟

(۳) آپ نے حضرت امامِ اہل سنتؒ کی ترجمانی کے مفتی صاحب کے دعویٰ کی سختی سے تردید کی ہے ، اسے ناقابلِ برداشت بتایا ہے اور گمراہ کن قرار دیا ہے، عجیب بات ہے کہ جنہیں حضرت امامِ اہل سنتؒ کافر کہتے تھے، انہیں آپ مسلمان کہتے ہیں، جنہیں انہوں نے گمراہ قراردیا انہیں آپ اہلِ علم میں شمار کرتے ہیں، جن نظریات کوانہوں نے بدعت و گمراہی سمجھا انہیں آپ ’’تفرد‘‘ خیال فرماتے ہیں، جن چیزوں کو وہ ’’حرام ‘‘کہتے تھے انہیں آپ’’ ضروری ‘‘قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود آپ ان کے نہ صرف ترجمان ہیں بلکہ آپ کے انداز سے ہٹ کر ان کی ترجمانی کا دعویٰ کرنے والا ’’گمراہ‘‘ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عقائد و نظریات اور اصول فروع میں امامِ اہل سنتؒ سے اختلاف کے باوجود آپ ان کے ترجمان بلکہ جانشین ہیں تو محض لب و لہجہ کے اختلاف کے ساتھ مفتی صاحب کا امامِ اہل سنتؒ کی ترجمانی کا دعویٰ کیوں گمراہ کن اور ناقابلِ برداشت ہے؟حضرت امامِ اہلِ سنتؒ کے ہزاروں شاگرد اس وقت موجود ہیں جو حضرت کے مسلکی تصلب اور’’ قدامت پسندی‘‘ کے گواہ ہیں،حضرتؒ کی اپنے ہر شاگرد، مرید اور ملنے والے کو ’’اپنے اکابر کا دامن نہ چھوڑنا‘‘ کی نصیحت آج بھی ان سب کو خون کے آنسو رلاتی ہے،ان سب حضرات کی موجودگی میں جناب عمار خان ناصر نے الشریعہ کے امامِ اہلِ سنت نمبر میں حضرت کے مسلک و مشرب کو جس بے دردی سے مسخ کیا ہے وہ سب تحقیق ہے اور مفتی صاحب اگر حضرت امامِ اہلِ سنت ؒ کے مؤقف کو ان کا مؤقف بتاتے ہیں تو یہ بات گمراہ کن اور ناقابلِ برداشت ہے؟

(۴)آپ نے اپنے طرزِ عمل کے حق میں حضرت امامِ اہلِ سنت اور دیگر اکابر کے متعدد حوالہ جات و واقعات پیش فرمائے ہیں، جب آپ اپنی مرضی کے خلاف حضرت امامِ اہلِ سنت ؒ اور دیگر اکابر کے کسی بھی فیصلے کو قبول کرنا لازم نہیں سمجھتے تو اپنے حق میں ان کی عبارات کو پیش کرنے کا آپ کو کیا حق ہے؟ آپ نے ’’علمی و فکری مسائل میں طرزِ عمل‘‘ کے عنوان سے بہت سے واقعات لکھے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت امامِ اہلِ سنت کو بیشتر مسائل میں آپ سے اختلاف تھا اور وہ آپ کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتے تھے،آپ کے مؤقف کو ناجائز اور آپ کے افعال کو بدعت تک کہتے تھے، جبکہ آپ اکثر اوقات ان کی بات نہیں مانتے تھے، اور اب ان باتوں سے اس طرح استدلال فرما رہے ہیں کہ ’’کبھی ہلکی پھلکی گفتگو سے بات آگے نہیں بڑھی‘‘۔آپ ہی فرمائیں کہ وہ آپ کو منع کرتے تھے، سمجھاتے تھے، اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے؟ کیا یہ آپ کی سعادت مندی کی نشانی ہے؟

(۵)اسی طرح آپ نے ’’معاشرتی و سماجی تعلقات‘‘ کے عنوان سے بھی بہت سی باتیں ذکر کی ہیں جن میں بعض فرقوں سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے جنازے وغیرہ میں آپؒ کی شرکت کا ذکر ہے، جبکہ دیگر فرقوں مثلا شیعہ وغیرہ سے تعلقات میں انتہائی شدت و سختی اختیار فرمانے کا کوئی ذکر نہیں۔ کیا یہ بد دیانتی نہیں؟ اس عنوان کے تحت آپ نے مولانا قاضی شمس الدین صاحب اور قاضی عصمت اللہ صاحب کے حوالے سے بھی بعض واقعات کا ذکر کیا ہے جبکہ خود حضرت شیخ کی تصریح کے مطابق یہ دونوں حضرات مماتی نہیں تھے، چنانچہ حضرت شیخ، ابو طاہر فتح خان صاحب کے خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:

’’حضرت قاضی نور محمد صاحب، حضرت قاضی شمس الدین صاحب اور حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب رحمہم اللہ وغیرہ حضرات کا عند القبر صلوۃ و سلام کے سماع کا وہی عقیدہ تھا جو راقم کا ہے۔‘‘

اور مماتیوں کے پیچھے نماز کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’راقم کا وہی جواب ہے جو دارالعلوم کے صدر مفتی حضرت مولانا سید مہدی حسن صاحب رحمہ اللہ وغیرہ کا ہے، (کہ نماز مکروہ ہے) جو تسکین الصدور کی ابتداء میں درج ہے۔‘‘ (مجلہ المصطفیٰ امامِ اہل سنت نمبر ص۷۴۴)

اہلِ بدعت کے بارے میں حضرت شیخ فرماتے ہیں:

’’ان لوگوں نے شرک کے ساتھ مساجد کو بھی پلید کردیا ہے۔ ان کے عقائد خراب ہیں، ان کے پیچھے نماز قطعاً نہیں ہوتی‘‘ (ذخیرۃ الجنان ج۱۳ ص۲۷۵)

حضرت کی اس قسم کی بے شمار تحریرات و واقعات کو چھپانا اور اپنی مرضی کے واقعات بیان کرنا، کیا دیانت اسی کو کہتے ہیں؟

(۶) یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ آپ ایک مخصوص طرزِ تکلم اور اندازِ بیان کو مکالمہ کے لیے لازم قرار دے کر اس سے انحراف کو بدتہذیبی قرار دے کر مسترد کردیتے ہیں جبکہ عقائد و نظریات، مسائل و معاملات، اور اصول و فروع میں ہر شخص کوہر بات کہنے کی آزادی دیتے ہیں اور اجماعی مسائل میں اختلاف کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انتہائی ادب سے گذارش ہے کہ جب باقی تمام مسائل میں کوئی بھی شخص کوئی بھی رائے اختیار کرسکتا ہے تو اخلاق و تہذیب میں وہ کون سا فارمولا ہے جس پر ’’اجماع‘‘ منعقد ہوچکا ہے اور جس سے روگردانی قابلِ تعزیر جرم ہے؟اگرقرآن پاک میں فمثلہ کمثل الکلب، اؤلئک کالانعام بل ہم اضل، اؤلئک علیھم لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین، کمثل الحمار یحمل اسفارا، اور حدیث شریف سے ’’امصص بظراللات‘‘، یا اخوۃ القردۃ والخنازیر اور ابو الحکم کو ابو جہل کا نام دینا وغیرہ سے استدلال کرکے کوئی شخص اپنی تحریر میں کسی کو کتا، جانور، لعنتی، گدھا وغیرہ لکھے تو کس’’اجماعی‘‘ دلیل سے وہ بد تہذیب کہلایا جائے گا؟

(۷) اسی طرح آپ فرماتے ہیں کہ امامِ اہلِ سنت کی نہ یہ زبان تھی جو مفتی صاحب نے اپنا رکھی ہے..... آپ کا یہ کہنا، کہ حضرت امامِ اہل سنت ہمیشہ نرم لب و لہجہ ہی اختیار کرتے تھے، درست نہیں۔ وہ جس طرح عموماً نرم اور دھیمے لہجے میں اپنا مؤقف سمجھاتے تھے، اسی طرح بوقت ضرورت ان کا لہجہ انتہائی تلخ اور شدید بھی ہوجاتا تھا، آپ خود ان کو پڑھیں توانہوں نے بسا اوقات ’’جنونی مولوی صاحب‘‘ (مجلہ صفدر امام اہل سنت نمبر ص۷۵۶)، خمینی بھینگے نے... (ارشاد الشیعہ ص۱۲۵) خمینی صاحب عقلی اندھے بھی ہیں(ایضاً ص۱۳۱) افسوس ہے اس اسلام دشمنی اور عیسائیت پرستی پر (صرف ایک اسلام ص۱۵) جن سیاہ بختوں کو...(ایضاً ص۱۰۳) اپنی بدباطنی اور بری فطرت کا ثبوت دیا ہے....(ایضاً ص۱۴۱) برق صاحب نے شقاوتِ قلبی کا ثبوت دیا ہے...(ایضاً س۱۷۶) خان صاحب کے تعصب و ہٹ دھرمی کا ثبوت..(عباراتِ اکابر ص۱۸) شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ کرکس دریدہ دہنی کا ثبوت خانصاحب نے دیا ہے..(عبارات اکابرص ۲۵) مجنونانہ بڑھ..(ایضاً ص ۱۲۷)او بے حیا حکمرانو! تم سے زیادہ بے حیا اور بے غیرت کون ہے کہ ابھی تک ان کے دم چھلا بنے ہوئے ہو(ذخیرۃ الجنان ج۱۳ص ۱۵۰)وغیرہ الفاظ استعمال فرمائے ہیں تو کیا کسی کو جنونی، بھینگا، اندھا،اسلام دشمن، عیسائیت پرست،سیاہ بخت، بدباطن، شقی القلب، متعصب، ہٹ دھرم، دریدہ دہن، مجنون، بے غیرت، بے حیا، وغیرہ کہنا جائز ہے اور امام اہل سنت کے کردار کے مطابق ہے؟ نہیں معلوم کہ اب آپ مفتی صاحب کو بدتہذیب قرار دینے سے رجوع کرتے ہیں یا حضرت امام اہل سنت پر بد اخلاقی کا فتویٰ لگاتے ہیں۔

(۸) آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ آپ کے مضامین کو ضربِ مؤمن میں شائع کرنا ضربِ مؤمن والوں کی اخلاقی ذمہ داری تھی اور انہیں شائع نہ کرکے گویا ضربِ مؤمن والوں نے صحافتی بددیانتی کا ثبوت دیا ہے۔ فی الواقع میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس قانونِ اخلاق کے تحت آپ کے مضامین و خیالات کو شائع کرنا ضربِ مؤمن والوں پر واجب ہے ۔ہر شخص اپنے مؤقف کو خود شائع کرتا ہے، آپ خود تو ’’آزاد فورم‘‘ کا دعویٰ کرنے کے باوجود مولانا عبد الحق خان بشیر صاحب کا عمار خان ناصر صاحب کے جواب میں تحریر کیا گیا مضمون شائع کرنے کے بعد بھی اگلے ایڈیشن سے نکال دینے میں حق بجانب اور صحافتی اخلاقیات کے علمبردار ہیں جبکہ ضربِ مؤمن والے ’’آزاد فورم‘‘ کا دعویٰ نہ کرنے کے باوجود بھی آپ کے مضامین اپنے اخبار میں شائع کرنے کے پابند۔۔۔آخر معاملہ کیا ہے؟ 

(۹)آپ نے مفتی صاحب کو یہ چیلنج بھی دیا ہے کہ وہ جس موضوع پر چاہیں آپ کے ساتھ مباحثہ کریں، لیکن اس کے لیے آپ نے شرط لگائی ہے کہ اگر یہ بحث ضربِ مؤمن یا اسلام کے صفحات پر ہونی ہے تو آپ کے مضامین بھی ان میں شائع کئے جائیں، بصورتِ دیگر یہ مباحثہ الشریعہ میں ہو، اس پرپیچ شرط کے پیچ و خم کھولے جائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’’یا تو مفتی صاحب آپ کے مضامین بھی ’’ضربِ مؤمن‘‘ میں شائع کریں اور یا پھر اپنے مضامین بھی اس میں شائع نہ کریں‘‘ کیا اس نرالی دیانت داری کی اس سے پہلے بھی کوئی مثال ملتی ہے؟ پہلے بھی ’’الشریعہ‘‘ کے مختلف جرائد ورسائل کے ساتھ مباحثے چلتے رہے ہیں، کیا ان کے لیے بھی یہ عجیب و غریب شرط عائد کی گئی ہے؟ اگر نہیں تو ’’ضربِ مؤمن‘‘ پر ہی یہ شفقت کیوں؟

(۱۰)آپ کا فرمان ہے کہ الجزائری کی سوانح کے دار الکتاب سے جبرا شائع کروائے جانے کے معاملے میں ضربِ مؤمن نے غلط بیانی کی تھی اور اس غلط بیانی پر ضربِ مؤمن کو معافی مانگنی چاہئے، بجا۔۔ لیکن آپ کی توجہ ایک اور معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ جناب عمار خان ناصر کے ایک مضمون کی بنیاد پر مولانا عبد القیوم حقانی نے ان پر قادیانیت نوازی کا الزام لگایا اور انہیں اس سے باز رہنے کی تلقین فرمائی، آپ نے اس پر شدید ناراضی کا اظہار فرماتے ہوئے اسے ’’دینی جد و جہد کی اخلاقیات‘‘ کی خلاف ورزی قرار دیا ،بلکہ ظلم کی انتہا کرتے ہوئے بعض ختمِ نبوت کے مرحوم اکابر بزرگوں کے’’دینی جد و جہد کی اخلاقیات ‘‘ سے عاری ہونے کے بھی کچھ واقعات ذکر کردئیے۔ مگرالشریعہ مئی ۲۰۱۲ میں خاطرات کے عنوان سے جناب عمار خان ناصر نے خوداپنے قلم سے یہ اعتراف کرلیا کہ وہ در حقیقت اس سے پہلے قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور اب انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کرلیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جناب مولانا عبد القیوم حقانی نے جب عمار خان ناصر پر تنقیدکی تھی تب عمار خان ناصرواقعی قادیانیوں کو مسلمان سمجھتے تھے اور حقانی صاحب کی ان پر تنقید بالکل درست اور بر محل تھی ، چاہئے تھا کہ اس حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد آپ واضح الفاظ میں حقانی صاحب سے معذرت کرتے اور قارئین کو بتاتے کہ اس وقت عمار خان صاحب کو قادیانی نواز بتانے میں جناب حقانی صاحب بالکل برحق تھے اور آپ نے ان پر حقائق کو توڑنے موڑنے کا جو الزام لگایا تھا وہ غلط تھا، لیکن افسوس کہ آپ نے اس اہم معاملہ پر بالکل چپ سادھ لی گویا کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر بھی آپ اب تک ساری دنیا کو تنگ نظر اور اخلاقیات سے عاری بتانے کی اسی پرانی روِش کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

(۱۱) امیر عبد القادر الجزائری پر لگنے والے اخلاقی الزامات کی جناب عمار خان ناصر نے جوتوجیہ کی ہے وہ بھی پڑھنے کے لائق ہے،خلاصہ یہ ہے کہ جیسے حضرت خالد بن ولیدؓ کی بعض خطاؤں پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کے باوجودان کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح امیر عبد القادر الجزائری کی غلطیوں سے بھی اس کی عظمت و شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کاش کہ جناب عمار خان ناصر اپنی اس خداداد ذہانت و نکتہ آفرینی کو الجزائری کے دفاع میں تاویلیں تلاش کرنے کی بجائے حق بات کوسمجھنے کے لیے استعمال کرتے تو ان پر واضح ہوجاتا کہ حضرت خالد بن ولیدؓکی اجتہادی خطا اور امیر عبد القادر الجزائری کی غلطیوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے، حضرت خالد بن ولیدؓ سے جو خطا سرزد ہوئی وہ ان کی لا علمی کی بنا پر تھی، الجزائری کے غیر محرم عورتوں کے ساتھ چہل قدمیاں کرنے، مہمانوں کو شیمپئین پیش کرنے، یہود و نصاریٰ کا بغل بچہ بن جانے کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ تشبیہ دینا ظلمِ عظیم ہے۔ نجانے جناب عمار خان ناصر کو روزِ قیامت اللہ جل شانہ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی بارگاہ میں جوابدہی کا خوف کیوں نہیں آیا۔

(۱۲)امیر عبد القادر الجزائری کے شام کے عیسائیوں کی مدد کرنے کے عمل کو صحیح یا غلط قرار دینے سے پہلے ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ الجزائری کے شکست کھا جانے، اس شکست کو دل و جان سے قبول کر لینے، اور پھر تا حیات جہاد سے توبہ کرلینے کے بعد اسے بہت بڑا اور عظیم مجاہد قرار دینا جہاد کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔ اس کے دیگر نیک کارناموں کی بناء پر، اگر وہ کارنامے نیک تھے، اسے ایک عظیم الشان صوفی قرار دیا جاتا تو شائد بر موقع ہوتا، اگر الجزائری اپنے ان ’’نیک کاموں‘‘ کی بھاری تنخواہ ساری عمر وصول نہ کرتے رہتے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر جناب الجزائری اتنی ہی عظیم شخصیت تھے جتنا انہیں ثابت کیا جا رہا ہے تو اس عظیم ترین شخصیت کی پاکستان میں ’’رونمائی‘‘ جناب جان ڈبلیو کائزر کے واسطے سے ہی کیوں ہوئی؟ اسلامی تاریخ میں کوئی اور کتاب ایسی نہیں تھی جو اس عظیم کارنامے کے لیے موزوں ہوتی؟ ایسا تو نہیں ہے کہ جنابِ کائزر نے ا پنے خیالات و افکار کو جناب عبد القادر الجزائری کی شکل میں ڈھال کر اشاعت کے ثواب کے لیے آنجناب کے حوالے کر دیا ہو اور اب صفائیاں دینے کے لیے آپ کو میدان میں چھوڑ دیا ہو؟

(۱۳)آخر میں جناب عمار خان ناصر نے دبے دبے لفظوں میں گھومتے گھماتے یہ اقرار کر ہی لیا ہے کہ جان ڈبلیو کائزر نے اپنی کتاب میں اگر اپنے فکری پسِ منظر، ذاتی رجحانات، اور تعصبات کو ملحوظ رکھ کر صاحبِ سوانح کے کردار میں تبدیلی کردی ہو تو کچھ بعید نہیں ہے، لیکن پھر سوال یہ ہے کہ جناب عمار خان ناصر نے اس کی نشاندہی یا اصلاح کیوں نہیں کی؟ جواب سنیے! فرماتے ہیں کہ:’’علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ کائزر نے الجزائری کی شخصیت کو جس طرح سمجھا اور پیش کیا ہے، اسے اسی طرح رہنے دیا جائے‘‘۔ سبحان اللہ! یعنی اگر کوئی شخص اپنے ذاتی رجحانات و تعصبات کی خاطر دوسرے کی شخصیت کو مسخ کرکے پیش کرتا ہے تو اس کی اس کاوِش کو سر آنکھوں پر رکھا جائے، اسے عام کیا جائے، تاہم ’’علمی دیانت‘‘ کی خاطر اس کی اس فریب کاری کا پردہ بالکل چاک نہ کیا جائے۔ جناب مولانا زاہد الراشدی اور جناب عمار خان ناصر، دونوں نے اس کتاب کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے، مولانا راشدی صاحب نے صرف کائزر کی ایک خیانت کا ذکر کیا ہے جبکہ جناب عمار خان ناصر نے دورانِ مطالعہ ’’کھٹکنے‘‘ والی ایک بات کا بھی ذکر نہیں فرمایا اور ایک کافر امریکی کی لکھی ہوئی کتاب کو ’’پوری دیانت داری ‘‘ کے ساتھ عوام الناس کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔ کیا اس عمل کو ’’غیر ذمہ داری‘‘ سے کم بھی کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے؟

(۱۴) جناب مولانا زاہد الراشدی نے کائزر کی کتاب کے مقدمے میں فرمایا ہے کہ کائزر نے جناب عبد القادر الجزائری کے فلسفہ وحدۃ الوجود کو وحدتِ ادیان کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جناب کائزر نے ہی ایسا کیا ہے اور در حقیقت جناب الجزائری کے نظریات وہ نہیں ہیں جو کتاب میں پیش کیے گئے ہیں، جن میں یہودیوں اور عیسائیوں کو مسلمان کہا گیا ہے؟کیا اس بارے میں الجزائری کے صحیح خیالات و افکار کسی مستند حوالے سے پیش کیے جا سکتے ہیں؟ 

امید ہے ان گذارشات پر ضرور غور فرمائیں گے۔

محمد یامین، اسلام آباد

m.yameen2013@hotmail.com

(۳)

جناب عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

آپ کے زیر ادارت چلنے والے ماہنامہ الشریعہ کے امسال جولائی والے شمارے میں محسن علی نجفی صاحب کا مکتوب کھٹکتا ہوانظر سے گزرا۔تعجب خیز باتوں سے بھرا ہوا یہ مکتوب میں ہضم نہ کر سکا۔اس مکتوب میں کتنا جھوٹ ،کتنا سچ ہے؟ اس بارے میں چند باتیں عرض کرنی ہیں۔

۱......میرے خیال میں شیعہ ذمہ داران کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ انہیں صرف عوام کا تعاون حاصل ہے،اور فلاں فلاں’’صاحب خیر‘‘ ہمارا حامی و مددگارہے۔کیونکہ ایرانی سفارتخانے کی سرگرمیاں ،پاکستان کی صدارتی ٹیم کی بالخصوص اور سابقہ حکمران پارلیمانی ٹیم کے بالعموم ،ایرانی حکومت کیساتھ تعلقات،اورپاڑاچنار کے فسادات میں ایران کا مالی اورجانی طور پراہل تشیع کی مدد کرنا ساری دنیا کے سامنے ہے۔ویسے بھی اگر ایران کے ستر فیصد بجٹ کے درامدِ انقلاب والی بات [گزشتہ ماہ کے عربی مکتوب بطور حوالہ ملاحظہ کریں] پر غور کریں تو ہمارا مندرجہ بالا دعویٰ آشکارا ہو جائے گا۔گزشتہ کچھ عرصہ میں جب اہم صدارتی شخصیات کے دورہ ایرا ن اور خامنہ ای صاحب کے ’’دربار عالیہ‘‘ میں موجودگی کی جو تصویریں انٹر نیٹ پر گردش کرتی رہیں ہیں،اگر ان کا معائنہ کیا جائے تو ان تصاویر میںآپ کو صدر مملکت اور ان کے صاحبزادے بصد احترام،ننگے پاؤں سرجھکائے نظر آئیں گے،اور ان کے بالمقابل بیٹھے خامنہ ای صاحب اعلیٰ ترین مناصب پر فائزاپنے روحانی بیٹوں کے سامنے سر اٹھائے محوِ گفتگونظر آئیں گے ۔

ویسے اگر شیعہ اداروں کو امداد پہنچانے کے لیے اگر چند نمائشی’’مخیرحضرات‘‘کا ذریعہ استعمال کیا جاتا ہو توبھی ’’غیر ملکی قوت ‘‘سے موصول ہونے والی امداد کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ظاہر ہے کہ جس ملک کے سربراہان شیعہ جیسی حساس اقلیت سے تعلق رکھتے ہوں ،وہاں ’’جامعہ الکوثر‘‘جیسے بڑے بڑے اداروں کی موجودگی ناگزیر ہے۔

۲.......شیعہ مکتوب نگارنے پاکستان کے شیعوں کی ایران سے وفاداری کا انکار کیا ہے۔شیعہ اگر اپنے روحانی مرکز کی، جس نے ہمیشہ ہر معاملے پر پشت پناہی کی ہے،وفاداری نہیں کریں گے تو کس سے کریں گے؟مزید لکھاہے کہ’’نواصب کو چھوڑ کر ہم یہاں کے رہنے والوں سے بھی محبت رکھتے ہیں‘‘۔ بالکل سچ فرمایا، سنّی مسلمان، جنہیں آپ عموماً نواصب کے لقب سے یاد کرتے ہیں، ان کے علاوہ آپ ہر ہندو، سکھ، عیسائی سے محبت کرسکتے ہیں لیکن سنّی مسلمان سے آپ کی محبت؟ ناممکن... نواصب سے کون مراد ہیں؟ میں آپ کے ’’شیخ الاسلام‘‘ ملا باقر مجلسی کا حوالہ عرض کرتا ہوں، ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں:

’’جو شخص حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کو حضرت علی سے پہلے خلیفہ مانتا ہو، وہ ناصبی ہے۔‘‘(حق الیقین ص ۵۲۱)

نیز سنّی مسلمان کی جو قدر قیمت آپ حضرات کے یہاں ہے وہ بھی انہی ’’شیخ الاسلام‘‘ صاحب کی زبانی بیان ہو جائے تو بہت مناسب ہے۔ لکھتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ نے کتّے سے بدتر مخلوق پیدا نہیں کی، اور ناصبی خدا تعالیٰ کے نزدیک کتے سے بھی بدتر ہے‘‘۔(حق الیقین ص ۵۱۶)

یہ ملا باقر مجلسی وہ صاحب ہیں جنہیں شیعہ کے ہاں قدوۃ المحدثین، عمدۃ المجتہدین اور شیخ الاسلام کا درجہ حاصل ہے اور جن کی کتب کے مطالعہ کی جناب خمینی نے شیعہ حضرات کو بارہا تاکید فرمائی ہے۔تعجب ہے کہ اب بھی آپ سنّی حضرات کو اپنی ’’محبت‘‘ کا جھانسہ دینے کی کوشش کرتے ہیں:

وعدہ کوئی جھوٹا، کوئی جھوٹی سی تسلّی
دل کیسے کھلونوں سے بہلنے کے لیے ہے

محترم مدیر صاحب !میں آپ کے توسط سے شیعہ مکتوب نگار کو یاد دلانا چاہوں گا کہ پاڑا چنار میں سینکڑوں اہل سنت بشمول بچوں اور عورتوں کا قتل عام،ناموس صحابہؓ کے عنوان سے کام کرنے والے بیسیوں علماء کرام اور ہزاروں مذہبی کارکنوں کی سپاہ محمد کے ہاتھوں شہادتوں اور گزشتہ کچھ عرصہ میں چکوال ،جہلم اور جھنگ میں اہل سنت کی مقدس شخصیات کی سر عام کیجانیوالی توہین کے واقعات بھی ملت تشیع کی جانب سے ’’والہانہ محبت‘‘ کے مظاہر ہیں ۔مکتوب نگار لکھتے ہیں’’اس وطن کی تعمیرمیں ہمارا بھی بہت وافر حصہ ہے‘‘۔اس جملے پر صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ جناب محسن علی نجفی صاحب!سکندر مرزا،آصف علی زرداری اور الطاف حسین جیسی کٹر شیعہ شخصیات کا واقعتاپاکستان کی’’ تعمیروترقی‘‘میں بہت وافر حصہ ہے۔

۳......اگر تو شیعہ مکتوب نگار کا موقف یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین کبھی جنگ چھڑ ہی نہیں سکتی،تو میرے خیال میں یہ ان کے’’ تخیل کی اپچ اور بدگمانی کا کرشمہ‘‘ ہے۔اگر زمینی حقائق کے لحاظ سے دیکھا جائے توپاکستان اور ایران نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے بالکل الٹ ،بلکہ دشمن کہیں تو زیادہ حقیقت پسندانہ بات ہوگی۔یہی وجہ ہے کہ سرحدات پر ان دو مختلف نظریات کا ٹکراؤ بد امنی اورتخریب کاری کا باعث بنا رہتا ہے،اور ان دو مختلف عقائدو نظریات کی کشمکش کسی بھی بڑی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔مثال کے طور پر بیسیوں میں سے چند واقعات پیش کروں گا۔

ا.....۲۷ جنوری ۲۰۱۲کو ایرانی فوجی دستوں نے پاکستانی سرحدات میں بلا اشتعال شدیدفائرنگ کی،جس کے نتیجے میں ۶ پاکستانی افراد شہید اور ۴ شدید زخمی ہوگئے تھے۔

ب.....۸دسمبر ۲۰۱۱ کو ایرانی فوجی دستوں نے پاکستانی بحری سرحد میں فائیرنگ کرکے ۳مچھیروں کو شہید اور ۲ کو شدیدزخمی کردیا تھا۔

پ....اس سے قبل مشرف دور میں ایرانی فوج کی جانب سے پاکستانی سرحد میں راکٹ فائر کرنے کے کئی واقعات ہوئے،اور اب بھی کشیدگی کے باعث پاک ایران سرحد بند ہے۔

۴.....شیعہ مکتوب نگار کا یہ لکھنا کہ’’اہل تشیع قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اوراور قرآن اہل ایمان کے مابین جنگ چھڑنے پر دونوں گروہوں کے درمیان صلح کرانے یا زیادتی کرنے والے گروہ کے مقابلے میں کھڑے ہوجانے کی تعلیم دیتا ہے‘‘ بھی کافی غور طلب ہے،کیا شیعہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں؟ میں صدیوں پہلے کی شیعہ کتب کے حوالے نہیں دیتا، اسی پاکستان سے شائع ہونے والے مشہور شیعہ ماہنامے ’’خیر العمل‘‘ کے اقتباس بقل کرتا ہوں جو صفِ اوّل کے شیعہ مجلات میں سے ایک ہے۔ اس ماہنامہ کے شمارہ نومبر ۱۹۸۷ء میں اسی ماہنامہ کے مدیرِ اعلی ڈاکٹر حسن عسکری صاحب لکھتے ہیں:

(۱) اگرچہ حضرت علی کے مرتب کئے ہوئے قرآن کو سرکاری طور پر مسترد کردیا گیا تھا، مگر انہوں نے اپنی ظاہری خلافت کے دور میں بھی اسے رائج کرنے کی کوشش نہ فرمائی مگر انہوں نے یہ ضرور کیا کہ مفسرین قرآن کی ایک جماعت بنائی جس نے قرآن مجید کے معانی و مطالب کو ماثورہ روایات و احادیث سے محفوظ کرلیا۔ اور وہ بتلاتے چلے گئے کہ اس جمع شدہ قرآن میں ترکیب و ترتیب اور آیات کی تقدیم و تاخیر میں کیا کیا خرابی ہوئی ہے۔

(۲) یہ الٹ پلٹ اتفاقاً ہوئی یا غفلتاً، عمداً یا التزاماً، مگر اس سے کلام اللہ میں مبحث خلط ملط ہو کر رہ گئے۔

قرآن پاک نے کفار کو جو چیلنج دیا ہے کہ اس قرآن کے مثل کوئی ایک سورت بھی بنا کر دکھاؤ تو اس کے متعلق لکھتے ہیں:

(۳) آج بھی اللہ کا یہ چیلنج قرآن و اللہ و رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے والوں کے لیے قائم ہے مگر جامعین قرآن کی غلط ترتیب سے یہ غیر منطقی بلکہ قدرے مضحکہ خیزبن گیا ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک)

(۴) الٹا غیر منطقی ہونے کا الزام اللہ تعالیٰ پر دھرنے کی بجائے یہی بہتر ہے کہ جامعین و مرتبین قرآن پر اسے دھرا جائے جنہوں نے اِدھر کی آیت کو اُدھر جوڑ دیا اور اُدھر والی کو اِدھر۔

(۵) قرآن بین الدفتین جمع کرنے والوں اور اس پر اعراب و اوقاف لگانے والوں کا مطمحِ نظر بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے جب یہ سمجھ لیں کہ سقیفائی خلافتوں (چونکہ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت سقیفہ بنو ساعدہ میں منعقد ہوئی تھی اس لئے حضرات شیعہ خلفائے ثلاثہ کے لیے سقیفائی خلافت کا لفظ استعمال کرتے ہیں) کی مدِ مقابل وہی شخصیت تھی جسے آنحضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنے بعد خلافت پر نصب و مقرر کیا تھا یعنی علی بن ابی طالب علیہ السلام، لہذا ان کے متعلق آیات پر ہی سقیفائی رندہ پھیرا گیا اور ایک مؤطا قرآن تیار کیا گیا جس میں فضائلِ علی کی صفائی کی گئی۔

(۶) تنزیل قرآن میں بنو امیہ اور دوسرے قریش کے ستر منافقین کے بد نام نازل ہوئے تھے جو مصحف عثمانی سے مفقود ہیں۔

کیا اب بھی جناب نجفی صاحب یہ راگنی گائیں گے کہ وہ قرآن پر ایمان رکھتے ہیں؟ 

جناب نجفی صاحب! کیاشام میں ایک لاکھ سے زائد اہل سنت کے قتل عام میں شامی نصیری حکومت و فوج،ایرانی فوج اور حزب اللہ ملوث نہیں؟کیا حافظ الاسد نے اپنے دور میں حماہ شہر کی گلیوں کو پچاس ہزار اہل سنت کے خون سے رنگین نہیں کیا؟کیاعراقی شیعہ حکومت ہزاروں اہل سنت کے قتل کی ذمہ دار نہیں؟کیا ایرانی حکومت اہل سنت کے حقوق چھیننے کی ذمہ دار نہیں؟کیا ایرانی فضائیہ نے حضرت خالد ابن ولیدؓ کے مزار پر بمباری نہیں کی؟کیا حضرت ثابت بن قیسؓ کے مزار مبارک اور جسد اطہرکی بیحرمتی کاندھوں پر افسری کے تمغے سجائے شامی فوجی افسران نے نہیں کی؟کیا پاڑا چنار میں سینکڑوں اہل سنت کے قتل کی ذمہ دارمقامی شیعہ آبادی نہیں؟کیا حج کے موقع پر دھماکے اور بدامنی پھیلانے کا ذمہ دار ایران نہیں؟ابھی میں جب یہ سطور لکھ رہا ہوں،شام کے اہل سنت اکثریت والے شہر حمص کے شامی فوج کی جانب سے کیے جانیوالے محاصرے کو ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کو ہے،روزانہ کئی افراد بھوک کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں،مقامی علماء نے اس حالت میں بلی اور گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دے دی ہے،اورمقامی اہل سنت صرف حضرت خالد ابن ولیدؓ کے مزار اور جسد کو نصیری فوج کے انتقام سے بچانے کی خاطر حمص شہر شیعہ فوج کے حوالے کرنے کو تیار نہیں۔اللہ اکبر!محسن علی نجفی صاحب!کیا وجہ ہے ہزارہ کے شیعہ کا نقصان ہوتا ہے ،یا بحرین میں شیعہ کے خلاف کریک ڈاؤن تو ساری ملت شیعہ پاکستان کی سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آتی ہے،مگر ایرانی،عراقی اور شامی حکومتوں کے جرائم پر اتنی خاموشی؟ اگر شیعہ ، سنیوں کو بھی مسلمان اور اپنا بھائی سمجھتے ہیں تو ان کے اوپر ہونے والے دلدوز مظالم پر اتنی بے حسی اور خاموشی کیوں؟کیا اکابرین شیعہ نے ان حکومتوں کے جرائم کے خلاف فتوے جاری کئے؟کیا عراق کے مرجع کے جس کے ساتھ آپ کی نسبت ہے نے ان جرائم کی روک تھام کیلئے کوئی اقدام کیا؟زیادتی کرنے والے گروہ کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات،اکابرین شیعہ تو ان حکومتوں کی تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔ظلم تو یہ ہے کہ معتبرشیعہ علماء کی سرپرستی میں کام کرنے والا ادارہ’’پیام اسلامی ثقافتی مرکز‘‘تو حزب اللہ کے مثالی اور قابل تقلید طرز عمل کی تشہیر اور ادارہ’’ سچ ٹی وی‘‘ شامی حکومت کی صفائیاں پیش کرتا رہا ہے۔پس قوم شیعہ کے اس طرز عمل پتا چلتا ہے کہ یا تو اہل تشیع کا قرآن پر ایمان نہیں ہے،یا پھر وہ اہل سنت کو اہل ایمان سمجھتے نہیں۔

۵.....شیعہ مکتوب نگارنے اپنی تحریر میںیہ موقف اختیار کیا ہے کہ انہیں پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شیعہ عسکری تنظیم کاعلم نہیں جو شام میں جاکر لڑرہی ہو،اور اگر کوئی ایسی مفروضہ تنظیمیں ہوتیں تو وہ پاکستان میں دہشت گردی کا شکارہونے والوں کا دفاع کرتیں،وغیرہ وغیرہ۔تو عرض یہ ہے کہ اہل تشیع کو ایران کے علاوہ تقریبا وہ تمام مسلم خطے جہاں شیعہ کی ایک معقول آبادی موجود ہے ،ایسی نام نہاد’’ دہشت گردی‘‘ کاسامناہے،مگر شام کا مسئلہ ملت شیعہ کے لیے خطے میں قائم فوجی برتری کی بقاء کا مسئلہ ہے ۔اسی لیئے ملت شیعہ ہر قسم کی چھوٹی موٹی مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر شامی نصیری حکومت کو بچانے کے لیے میدان میں کود پڑی ہے۔مثال کے طور پر:-

ا-لبنان میں شیعوں کو شیخ احمد الاسیر کے سنی پیرو کاروں کی طرف سے شدید چیلنجز کاسامنارہتا ہے۔خصوصاََلبنان کے سرحدی شہر طرابلس اکثر حزب اللہ اورسنیوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہتا ہے۔لیکن اس کے باوجود شام کے شہر القصیر کی جنگ میں حزب اللہ نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی ۔حزب اللہ نے اس جنگ کو کتنی اہمیت دی؟اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے حزب اللہ کے دستوں کی کمان حسن نصر اللہ کے بھائی خضر نصر اللہ کے ہاتھ میں تھی جو کہ اس جنگ میں مارا گیا تھا۔اس کے جنازے کی انٹرنیٹ پر موجود ویڈیو اس بات کی شاہد ہے۔

ب-عراق میں شیعی حکومت کے مظالم کے جواب میں القاعدہ کے ارکان اکثر شیعہ عسکری قوتوں پر حملے کرتے رہتے ہیں،اور اب تو بہت سے سنی قبائل نے بھی ان مظالم کے جواب میں القائدہ کے شانہ بشانہ اس لڑائی میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔بہت سے قبائلی علاقوں میں کسی بھی شیعہ یا حکومت سے متعلق شخص کا داخلہ ممنوع ہے۔لیکن اس سب کے باوجودعراقی شیعہ تنظیموں،ابو فضل عباس بریگیڈ اور جیش المہدی کے سیکڑوں اہلکار دمشق کے علاقے میں مارے جا چکے اور کئی حریت پسندوں کی حراست میں ہیں ۔

پ-یمن میں جب سے حوثی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع نے ایرانی اسلحہ کے بل بوتے پر اپنے اڑوس پڑوس میں اہل سنت پر حملے شروع کیے ہیں،تب سے القاعدہ کے ارکان کئی حملوں میں حوثیوں کو شدید نقصان پہنچا چکے ہیں۔یہاں تک کہ حوثیوں کی اعلیٰ ترین قیاد ت یعنی حو ثی سردار ،بد ر الدین حوثی اور حسین الدین حوثی بھی ایک خودکش حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔لیکن اس کے باوجود بہت سے یمنی شیعوں کی شام میں ہلاکتوں کی خبریں آچکی ہیں۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کے محسن علی نجفی صاحب کواگر پاکستانی شیعوں کی شام میں موجودگی کی خبر دی گئی ہے تو انہیں ’’ہمیں علم نہیں‘‘اور’’ اگر مفروضہ تنظیمیں ہوتیں تو اپنے ہم وطن شیعوں کا دفاع کرتیں‘‘ جیسی بے وجہ تاویلات کرکے جان چھڑانے اور حیران ہونے کے بجائے تسلیم کرلینا چاہیے تھا۔مگر ظاہر ہے کہ اگر پیشوایانِ شیعہ حقیقت کو تسلیم کر لیں گے تو اپنے مذہب کا وجود کیسے برقراررکھ پائیں گے؟۔سب سے بڑھ کر یہ کہ حقیقت اور انصاف پسندی جیسے جذبات سے عاری اپنی عوام کو کیا منہ دکھائیں گے؟

۶....شیعہ مکتوب نگارنے اپنے پانچویں نمبر کے تحت دہشت گردی کی اپنی ملت کی طرف نسبت کا انکار کیا ہے۔مندرجہ بالا سطور میں ہم نے ملت شیعہ کی موجودہ دور میں کی گئی دہشت گردی کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے۔اس کے علاوہ اگرماضی میں ملت شیعہ کی مسلمانوں سے کی گئی غداریوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کا ایمان بالقرآن کا مفروضہ مزید واضع ہو جائے گا ۔علاوہ ازیں مکتوب نگار نے تکفیر کی نسبت کا بھی انکار کیا ہے،حالانکہ اہل سنت کی تکفیر کی بیماری ان کے ہاں عام ہے۔اصحابِ رسول اللہ ﷺ کی تکفیر تو بہت سے علماء کے خطبات کا لازمی جزو اور ان کے سینکڑوں سالہ لٹریچر کی شان اور جان ہے۔نعوذ باللہ!نجانے اصول کافی اور انوار البحارجیسی بیسیوں کتب میں تکفیر کے زہر بھرے تیر کن بدنصیبوں کی قسمت کا حصہ بنائے گئے ہیں۔پس، ثابت ہوا کہ شیعہ مکتوب نگا ر نے دہشت گردی اور تکفیر کے’’ تِلک‘‘کو اپنے ماتھے سے ہٹانے کی ناکام کوشش کی اورلگتا یہ ہے کہ ’’وہ اپنے عالم تصور میں چیزوں کو بالکل الٹا دیکھتے ہیں‘‘۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حقائق کو جاننے کی توفیق دے اور حقائق کومسخ کرنے کی جسارت سے ہمیں دور رکھے۔اے اللہ! تو ہمیں منافقوں سے اور اسلام کے پردے میں چھپے اسلام کے دشمنوں سے بچا۔بیشک تو دعاؤں کو سننے والا ہے۔

محمد حمزہ بلال ہنجرا ( بھوانہ، چنیوٹ)

hamzah.hanjra@gmail.com

(۴)

(گزشتہ شمارے میں جامعۃ الکوثر کے مدیر شیخ محسن علی نجفی صاحب کے ایک مکتوب کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا تھا۔ صاحب مکتوب کی خواہش پر اس کا اصل عربی متن بھی یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
قرات رسالۃ باللغۃ العربیۃ فی مجلتکم الموقرۃ ردا علی رسالۃ الدکتور ممتاز احمد رئیس الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ اسلام آباد تثور علی شیعۃ باکستان وتذکر مدارس الشیعۃ فی اسلام آباد۔ یقول کاتب الرسالۃ فی لحن بما یلیقہ ’’ان فی اسلام آباد سبع جامعات شیعیۃ کبیرۃ اصغرہا تفوق اکبر جامعۃ سنیۃ بمراحل وجامعۃ الکوثر فی قلب العاصمۃ تدیر قناۃ بالاردیۃ بنفس الاسم‘‘۔
اقرا ہذہ العبارۃ ’’اصغرہا تفوق اکبر جامعۃ سنیۃ بمراحل‘‘۔
اقدم الیکم ملاحظاتی علی ہذہ الرسالۃ ونلفت نظرکم بان غرضی من تقدیم ہذہ الرسالۃ ہو بیان عدم مصداقیۃ النکات التی تتعلق بنا ولیس غرضی الدفاع عن اعمال غیرنا۔
۱۔ انی ادیر مدرستین فی اسلام آباد: جامعۃ اہل البیت اسست سنۃ ۱۹۷۵ء وجامعۃ الکوثر اسست سنۃ ۱۹۹۲ء ولیست لہاتین المدرستین ولقناۃ (ہادی) ولیس (الکوثر) ایۃ صلۃ مع ای جہۃ اجنبیۃ لا سیاسیا ولا اقتصادیا ولا اداریا علی الاطلاق، وان اسماء المتبرعین لبناء جامعۃ الکوثر مکتوبۃ علی جدران الجامعۃ۔
۲۔ یقول کاتب الرسالۃ ’’لماذا قضت ایران علی جمیع المراجع الشیعیۃ وسحبت البساط من تحت اقدام نجف‘‘۔
لیس فی وسع احد القضاء علی المرجعیۃ الدینیۃ لانہا عندنا لیست تابعۃ لای سیاسۃ کما ان المرجع الاعلی للشیعۃ الآن فی العراق فی النجف الاشرف۔
۳۔ وان کان ہناک انتماء فاننا ننتمی الی المرجعیۃ فی العراق وباذن من المرجع فی العراق ناخذ الاموال الشرعیۃ من الناس وتدار المدارس الدینیۃ بہا، کما ان الدیوبندی ینتمی الی جامعۃ دیوبند الاسلامیۃ ویراجع الی علماۂا لما لہا من الاصالۃ والاتقان۔
۴۔ یقول کاتب الرسالۃ ’’قل لی بربک ہل یوالی شیعۃ بلدک باکستان بلدہم ام یوالون ایران؟‘‘
ماذا اعلق علی ہذہ الکلمات سوی ان اقول: انا للہ وانا الیہ راجعون؟ اننا نحب بربنا وطننا العزیز باکستان وانہ احلی وطن واننا نحب اہل ہذا الوطن سوی النواصب۔ واننا قدمنا تضحیات لیست باقل من ای مواطن آخر عندما نشبت الحروب بین باکستان وبین اعداۂا، وان سہمنا اوفر فی بناء ہذا الوطن۔
واما قولہ ’’واذا لا سمح اللہ نشبت حرب بین البلدین الا یقاتلون فی خندق ایران؟‘‘ فہو ولید زعمہ وسوء ظنہ بل ہو مما یقولہ السوقۃ حیث لا تکون امانۃ فی النقل ولا حاجز من تقوی اللہ، ولانہ تنبئ منہ بما لم یقع ولن یقع من الذین یؤمنون بالقرآن اذ القرآن یحکم بوجوب القیام بالاصلاح او القیام بوجہ المعتدی عند نشوب حرب بین المومنین، ویمکن ان یکون ہناک اخطاء فی تشخیص الموضوع۔
۵۔ اننا لا نعرف ملیشیات شیعیۃ باکستانیۃ تقاتل فی سوریۃ۔ الیس کان من الواجب علی ہولاء الملیشیات المزعومۃ ان تدافع عن ضحایا الارہاب فی باکستان وان تقاتل الذین یقومون بعملیات انتحاریۃ بین حین وآخر ویسفکون دماء الابریاء العزل من النساء والصبیان ویہتکون حرمات المساجد وبیوت المسلمین، خاصۃ الشیعۃ منہم؟
۶۔ ومما یضحک بہ الثکلی نسبۃ کاتب الرسالۃ الارہاب والتکفیر الی الآخرین، کانہ یری الاشیاء فی عالم الخیال معکوسا۔
۷۔ الم یکن من المناسب لکتاب الرسالۃ المثقف مراعاۃ ادب النقد واختیار اسلوب حضاری فی الخطاب؟ وکانی اشم رائحۃ ....... من اظافر قلمہ۔
ہذہ ملاحظاتی علی النکات التی تتعلق بنا ومن ہو اعرف بامورنا منا۔
واخیرا نسئل المولی سبحانہ ان یوفقنا للوصول الی الحقائق ونعوذ بہ من ان نرتکب بقلب الحقائق۔ اللہم جنبنا من الافتراء ومتابعۃ الاہواء ولا تفتنا بالحقد والبغضاء، انک سمیع الدعاء۔
والسلام علی من اتبع الہدی وخشی عواقب الردی۔
محسن علی
مدیر جامعۃ الکوثر، اسلام آباد

مکاتیب

(اگست ۲۰۱۳ء)

Flag Counter