مکاتیب

ادارہ

(۱)

(ماہنامہ ’’الحامد‘‘ لاہور کے مارچ ۲۰۱۱ء کے شمارے میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ کا ایک مضمون شائع ہوا تھا جسے ’’الحامد ‘‘ کے شکریے کے ساتھ الشریعہ کے جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ’’توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش‘‘ کے عنوان سے نقل کر دیا گیا تھا۔ تحریر کا اصل ماخذ اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ ۲۰۰۳-۲۰۰۴ء ہے جو کونسل کی طرف سے سرکاری طور پر طبع شدہ ہے۔ اس ضمن میں دار العلوم کراچی کے دار الافتاء کی طرف سے ہمیں درج ذیل وضاحتی موصول ہوا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مدیر)


مکرمی جناب مدیر ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بخیریت ہوں گے۔ گزارش ہے کہ ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کے جون کے شمارہ میں شامل صفحہ نمبر ۱۸ پر ایک مضمون جو ماہنامہ ’’الحامد‘‘ کے شکریے کے ساتھ حضرت صدر جامعہ دار العلوم کراچی مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی دامت برکاتہم العالیۃ کی جانب منسوب کر کے شائع کیا گیا، جس کا عنوان ہے ’’توہین رسالت کے مرتکب کے لیے توبہ کی گنجائش‘‘، حضرت نے یہ مضمون ملاحظہ فرمایا ہے اور اس پر تشویش کا اظہار فرمایا ہے کہ انھیں ایسا کوئی مضمون تحریر کرنا یاد نہیں، دوسرا یہ کہ بلااجازت شائع کیا گیا اور کسی کا مضمون بلا اجازت شائع کرنا مناسب نہیں، بالخصوص جبکہ مضمون علمی اور فقہی ہو۔ تیسرا یہ کہ اس مضمون میں غلطیاں بھی ہیں جس سے پڑھنے والا غلط فہمی کا شکار ہو سکتا ہے، اس لیے اس بارے میں آپ حضرات کی ذمہ داری ہے کہ آئندہ شمارے میں اس بات کی واضح تردید کر دی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ یہ مضمون غلطی سے حضرت کے نام سے شائع کیا گیا ہے اور حضرت کو اس مضمون سے مکمل طور پر اتفاق بھی نہیں ہے۔ مدیر ماہنامہ ’’الحامد‘‘ کو بھی اطلاع کے لیے خط بھیجا جا رہا ہے۔ والسلام

عبد الرؤف سکھروی

ناظم دار الافتاء، جامعہ دار العلوم کراچی

۲۰ رجب ۱۴۳۲ھ/۲۳ جون ۲۰۱۱ء

(۲)

محترمی عمار خان ناصر صاحب

آداب! ماہنامہ ’الشریعہ‘ شمارہ جولائی ۲۰۱۱ء موصول ہوا۔ کرم فرمائی کے لیے ممنون ہوں۔

فہرست عناوین ہی کہہ رہی ہے کہ یہ شمارہ روشن فکری اور وسیع النظری کا مرقع ہے۔ ایسے موضوعات پر مکالمے کا فروغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، تاہم ناانصافی ہوگی اگر اس شمارہ کے ’’حاصل غزل‘‘ مقالہ بہ عنوان ’’سماجی، ثقافتی، سیاسی دباؤ اور دین کی غلط تعبیریں‘‘ از حافظ محمد صفوان کی تعریف نہ کروں۔ ادبی ولسانی موضوعات پر تو موصوف کی تحریریں ہند و پاکستان کے تقریباً تمام موقر جرائد میں ہم دیکھتے ہی رہتے ہیں، لیکن اس شگفتہ انداز میں دین کی غلط تعبیروں پر جامع اظہار خی ال انھی کا خاصہ ہے۔ یہ سلسلہ اگر جاری رہے تو بہت اچھا ہوگا۔

مستشرقین کی علمی خدمات بیسویں صدی کے دینی لٹریچر کا اہم پہلو ہے، لیکن اس پر کماحقہ کام نہیں ہوا۔ بعض اہم موضوعات پر مستشرقین کے مقالات پرانے جرائد مثلاً اسلامک ریویو، اسلامک کلچر وغیرہ میں مل جاتے ہیں۔ دور حاضر کے بعض مسائل کی تفہیم وتشریح کے لیے اور ان پر مثبت بحث کے آغاز کے لیے ان مقالات کا ترجمہ کروا کر بھی شامل اشاعت کیجیے۔

والسلام

محمد اطہر مسعود، لاہور

۱۳؍ جولائی ۲۰۱۱ء

(۳)


Brother Ammar
I happened to see the letter against my article on Science by brother Izhar. Let me be blunt to say that I was not shocked at all on reading his letter asserting that it is not possible to biffercate knowledge on capitalist and non-capitalist grounds. So is the case because I know that science is the diety of modern man who believes in it even without understanding what it actually is. Most of them jump in to defend it without studying basic issues of philosophy of science, theory of knowledge etc. However, I am sometimes really surprised at the fact that Muslims are keen to defend that western heritage (which is infact a social filth) which west has condemned itself. I will be happy to see if my brother could come up with some concrete and well referenced criticism on my article, instead of thrashing me with baseless and rhetorical labels.

Zahid Mughal

مکاتیب