مکاتیب

ادارہ

مکرمی مولانا عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ امید ہے مزاج بخیریت ہوں گے ۔

آپکی کتاب’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ پڑھ کر ناقابل بیان خوشی ہوئی۔ احادیث میں احناف کی بے شمار تاویلات دیکھ کر کبھی کبھار پریشانی ہوتی تھی، لیکن کتاب ہذا دیکھ کر دلی سکون حاصل ہوا۔ حنفیہ کی دقت علمی کا ایک اجمالی تعارف ہوا۔جزاکم اللہ فی الدارین ۔

اگر ایک بحث کی وضاحت فرمادیں توعین نوازش ہوگی: کتاب ہذا کے صفحہ ۴۰تا ۴۹صفحہ یہ ثابت کیا گیا ہے کہ احناف کے ہاں اصول حدیث میں سے ہے کہ ’’حدیث ضعیف قیاس پر مقدم ہوگی ‘‘ جبکہ زیر مطالعہ کے کتاب کے ہی چند مواضع اس کے متعارض ہیں جہاں کہا گیا ہے کہ امام ابوحنیفہ صحیح حدیث کو ہی قبول کرتے تھے۔ مثلاً ص ۲۴ پر ہے: ’’اذا صح الحدیث فھو مذھبی‘‘ (امام ابوحنیفہ)۔ اسی طرح ص ۲۹ پر ہے : ’’کان ابو حنیفۃ یاخذ بما صح عندہ من احادیث‘‘۔ نیز چند دیگر کتب میں بھی ایسی تصریحات ہیں جو دلالت کرتی ہیں کہ یہ حنفیہ کا اصول نہیں ہے۔

مولانا عبدالحی لکھنویؒ لکھتے ہیں: ’’حدیث ضعیف سے استحباب چند شرائط سے ہوسکتا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کس اصول کے تحت مندرج ہو۔(مستقل بالذات نہ ہو) نیز وہ کسی دلیل شرعی سے نہ ٹکرائے ‘‘۔ (الأجوبۃ الفاضلۃ صفحہ ۵۰طبع مکتب المطبوعات الاسلامیہ) گویا نیا حکم ثابت نہیں ہو سکتا ۔ 

اس بحث کے تحت صفحہ ۴۹پر عبد الفتاح ابو غدۃؒ لکھتے ہیں کہ اس بحث میں حدیث ضعیف کا استعمال متأخرین کی اصطلاح کے مطابق نہیں ہے بلکہ بعض اوقات متأخرین جس کو حسن کہتے ہیں، متقدمین اس کے لئے ضعیف کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔

مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ لکھتے ہیں : ’’ان میں سب سے اہم شرط یہ ہے ،کہ وہ حدیث ضعیف سے کوئی نیا حکم ثابت نہیں کیا جائے گا ،حتی کہ استحباب بھی جزما ثابت نہیں ہوسکتا ۔ (’’فتاوی عثمانی ص۲۳۲ ،مکتبہ معارف القرآن)

مفتی رشید احمد لدھیانویؒ لکھتے ہیں : ’’مگر فضائل میں بھی عمل بالضعیف کے لیے یہ شرط ہے :کہ وہ کسی قاعدہ شرعیہ میں داخل ہو اور اس سے سنت نہ سمجھا جائے ۔ (’’احسن الفتاوی‘‘ص۵۱۳ایچ ایم سعید کمپنی)

چند حوالے پیش خدمت کیے گئے ہیں، اگرچہ بہت سی کتب میں یہ بحث مذکور ہے۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ یہ اصول بھی کتابوں میں ملتا ہے تو اس کی نفیس بحث ’’دراسات فی اصول الحدیث علی منھج الحنفیۃ‘‘ میں ملتی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قول خاص طور پر درج ذیل چار حضرات سے نقل کیا جاتا ہے:

۱۔ امام ابن حزمؒ سے اس بارے میں دو قول منقول ہیں : ایک یہ کہ امام ابوحنیفہؒ کہتے ہیں کہ مرسل اور ضعیف حدیث قیاس سے اولیٰ ہے ۔ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ امام صاحب سے’’ظاہر الروایہ‘‘ میں جو نقل کیا گیا ہے، وہ اس کے خلاف ہے۔ مثلاً سفیان ثوری ؒ سے نقل کرتے ہیں : ’’اگر کتاب اللہ میں کسی عمل کی دلیل ملے تو اس پر عمل کرتا ہوں ، اگر اس میں نہ ہو تو سنت نبویہ اور’’ ثقہ لوگوں‘‘ سے منقول ’’صحیح آثار ‘‘ پر مسلک قائم کرتا ہوں ۔اگر اس میں نہ ملے تو صحابہؓ کے اقوال کی طرف رجو ع کرتا ہوں۔‘‘ نیز مقدمین میں سے کسی نے ان سے یہ نقل نہیں کیا ہے ۔

دوسرا قول یہ ہے کہ : احناف کا اس پر اجماع ہے کہ ابوحنیفہ ؒ کا مسلک ضعیف حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ وہ قیاس پر مقدم ہوگی۔ لیکن ابن حزمؒ کا دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ احناف میں سے مقدمین کا اس پر اجماع ہے نہ متاخرین نے اس کو نقل کیا ہے ۔ ممکن ہے ابن حزم ؒ جن کے ہاں سب سے قبل یہ قاعدہ پایا جاتا ہے ،انہوں نے اس قاعدہ کو خود وضع کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حنفیہ کے کچھ مستدلات ان کے نزدیک ضعیف تھے جس سے ان کو یہ شبہہ ہوا ۔

۲۔ علامہ ابن تیمیہؒ ؒ کے قول کو حجت نہیں بنایا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے قول میں صراحتاً موجود ہے: 

’’لاعتقاد صحتھما وان کان ائمۃ الحدیث حدیث لم یصححوھا‘‘ 

۳۔ علامہ ابن قیم ؒ نے یہ بات ابن حزمؒ سے نقل کی ہے، اس کی بحث گزر چکی ہے ۔

۴۔ ملاعلی قاریؒ نے بھی اس کو ذکر کیا ہے ۔ نیز ابن عابدین ؒ نے اور مولانا عبدالحئ لکھنویؒ نے بھی لکھا ہے۔ اسی طرح اس پر متاخرین کی تقریر و تشہیر بھی ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان حضرات نے دفاعی مباحث میں نقل کیا ہے جس میں عام طور تسامح برتا جاتا ہے، جب کہ ان حضرات سے بھی دیگر مقامات اس کے برعکس منقول ہے۔ نیز اس کا ایک جواب علامہ ابن زکشیؒ نے بھی دیا ہے کہ ابن حزمؒ کے قول میں ضعیف سے مراد حسن ہے ۔

’’الاجوبۃ الفاضلۃ‘‘ میں صفحہ نمبر ۴۹ کے حاشیہ میں ابو غدہؒ لکھتے ہیں کہ اس حدیث ضعیف (متقدمین کی اصطلاح کے مطابق) پر تمام ائمہ نے قیاس کو مقدم کیا ہے۔ امام شافعیؒ نے جواز الصلاۃ بمکۃ فی وقت النہی کو قیاس پر مقدم کیا ہے۔ امام مالک ؒ تو حدیث مرسل، منقطع، بلاغات اور قول صحابی کوقیاس پر مقدم رکھتے ہیں۔ امام احمد ؒ بھی حدیث مرسل اور ضعیف کے بعد قیاس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ گویا یہ احناف کا خاصہ نہ رہا بلکہ سب کا یہ اصول ہے ۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ حنفیہ ضعیف حدیث کو قیاس پر مقدم تو کیا قابل استدلال بھی بمشکل مانتے ہیں، چنانچہ ان کی طرف اس اصول کی نسبت ٹھیک نہیں ہے۔ متاخرین کی اصطلاح میں ضعیف حدیث میں اگرچہ شبہ اتصال پایا جاتا ہے، لیکن اتصال نہ پائے جانے کی بنیاد پر مفاد اور نقصانات بھی زیادہ ہیں ۔ رسول اللہ کی طرف غلط نسبت پر جو سخت وعیدیں ہیں، حد تواتر کو پہنچتی ہیں ، نیز اس کو دین کا حصہ بنا دینا اس سے بھی زیادہ خطرناک امرہے۔

عبدالقادر عباسی 

حویلیاں روڈ، ایبٹ آباد 

مکاتیب