مکاتیب

ادارہ

(۱)

برادرم مولانا زاہد اقبال صاحب 

السلام علیکم، مزاج گرامی؟

آپ کی کتاب ’’اسلامی نظام خلافت‘‘ میں نے دیکھ لی ہے اور اس پر تقریظ بھی لکھ دی ہے، مگر میں اس سلسلہ میں بعض تحفظات رکھتاہوں جو الگ درج کر رہا ہوں۔ انہیں غور سے دیکھ لیں اور اگر میری گزارشات آپ کے ذہن میں آجائیں تو متعلقہ مقامات کا از سر نوجائزہ لے لیں۔

۱۔کتاب قرآن وسنت اور فقہ اسلامی کے علمی ذخیرے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے اورآج کے عالمی حالات اور معروضی حقائق کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے میری رائے یہ ہے کہ اگر خلافت کا نظام آج سے دوسوسال قبل کے ماحول میں قائم کرنا ہے تو اس کے لیے یہ کتاب کافی ہے، لیکن اگر آج کی دنیا میں خلافت کے نظام کی بحالی مقصود ہے تو یہ مواد اور تجزیے قطعی طور پر ناکافی ہیں اوریہ موجودہ مسائل کا حل پیش نہیں کرتے۔

۲۔خلافت کے لیے سنت کے حوالے سے معیار قائم کرنے میں جو حوالہ پیش کیاگیاہے، وہ بہت بہتر ہے، لیکن اس کے لیے مسلم شریف کی یہ روایت بھی شامل کر لی جائے تو زیادہ بہتر ہوگی کہ ’’تمہارے اچھے حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں اور تمہارے برے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں‘‘۔ میرے نزدیک اس ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم ہونا اور باقی رہنا ضروری ہے اور اس کے لیے عملی طور پر حالات کے تحت کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

۳۔ انعقاد خلافت کا ایک صورت میں صرف ’’ارباب حل وعقد‘‘کو ذریعہ قرار دیاگیاہے جو درست نہیں ہے۔ امامت وخلافت کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع کا بنیادی اختلاف ہی یہ ہے کہ ان کے نزدیک یہ منصوص ہے جو نامزدگی اور خاندان کی بنیاد پر طے ہوتاہے جبکہ ہمارے نزدیک خلافت نہ منصوص ہے اور نہ ہی خاندانی ہے، بلکہ اسے امت کی صوابدید اور اختیار پر چھوڑ دیا گیا ہے اور امت سے مراد امت ہے، صرف ’’اہل العقد والحل ‘‘نہیں ہیں۔ آپ نے خود حضرت عمرؓ کے ارشاد میں ’’عن غیر مشورۃ من المسلمین‘‘ کا جملہ نقل کیاہے، اس لیے خلیفہ کا انتخاب پوری امت کا حق ہے۔ حضرت عمرؓ کے اس خطبہ کو بخاری شریف میں دیکھیں تو اس میں یہ جملہ بھی ملے گا کہ جو لوگ مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر خلیفہ کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں، وہ ان کے حقوق اور اختیارات کو غصب کرنا چاہتے ہیں۔

۴۔ خلافت کے نظام میں صرف شوریٰ نہیں، بلکہ نمائندگی بھی ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے قیدیوں کی واپسی کے لیے بارہ ہزار پر مشتمل اسلامی لشکر کی اجتماعی رائے کو کافی نہیں سمجھا تھا، بلکہ ’’نقبا‘‘ کے ذریعہ ان کی رائے الگ الگ طور پر معلوم کی تھی، اس لیے جہاں علمی مسائل کی بات ہوگی، وہاں شورائیت کے نظام میں وہ تمام افراد حصہ دار ہوں گے جن کے حقوق حکومتی فیصلوں اور اقدامات سے منسلک ہوں گے۔ بخاری شریف میں اس حوالہ سے تفصیلی روایت موجود ہے، اسے توجہ سے دیکھ لیں۔

۵۔خلافت کے لیے تسلط کو ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت ذریعہ تسلیم کیا گیاہے کہ اگر کسی وقت ایساہوجائے تو فتنہ وفساد سے بچنے کے لیے اسے قبول کر لیا جائے گا، لیکن اسے ایک مستقل طریق انتخاب اور انعقاد خلافت کے ایک باقاعدہ ذریعہ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہے۔ بالخصوص آج کے دور میں ایک مستقل ’’طریقہ انعقاد وخلافت‘‘ کے طور پر پیش کریں گے تو اس سے کسی متفقہ خلیفہ کا انتخاب تو ممکن نہیں رہے گا، البتہ عالم اسلام میں اس حوالے سے سو ڈیڑھ سو مقامات پر خانہ جنگی ضرور ہو جائے گی۔

۶۔میرے نزدیک آج کے دور میں خلافت کے انعقاد کی صرف ایک ہی صورت عملاً ممکن ہے کہ عالم اسلام میں آٹھ دس مقامات پر اسلامی امارتیں قائم ہوں جن کی بنیاد شوریٰ اور نمائندگی پر ہو۔ وہ انہی دو بنیادوں پرآپس میں کنفیڈریشن قائم کرکے اپنے اوپر خلافت کا ادارہ قائم کرلیں اور ا س کے حق میں ضروری اختیارات سے دست بردار ی اختیار کر کے باہمی مشورہ سے امیرا لمومنین کا انتخاب کرلیں۔ اس کے سوا آج کے دور میں اسلامی خلافت کے قیام کی کوئی صورت عملاً ممکن نہیں ہے ۔

۷۔خلافت کے لیے قریشیت کی شرط کو میں بھی ضروری نہیں سمجھتا، لیکن اس کے لیے آپ نے اولوالامر کے غیر قریشی ہونے سے جو استدلال کیاہے، وہ بے محل ہے، اس لیے کہ قریشی ہونے کی شر ط کی بحث صرف خلیفہ کے لیے ہے۔ اس کے ماتحت اولو الامرکے لیے قریشی ہونے کو کسی نے بھی شرط قرار نہیں دیا۔

۸۔آپ نے ایک طرف ’’غلام‘‘کو خلیفہ کے انتخاب کے لیے رائے دینے کے حق سے محروم کردیاہے اوردوسری طرف استعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اللہ کی روایت بھی نقل کردی ہے۔ اس تعارض کا آپ کے پاس کیا حل ہے ؟اگر اسے شرعاً یہ دونوں حق حاصل ہیں تو اسے اس نظام میں کسی نہ کسی درجہ میں شریک کرنے کے لیے آپ کو راستے نکالنا پڑیں گے۔

۹۔ اقوا م متحدہ عالم اسلام پر( غلط یا صحیح )جو حکمرانی کررہی ہے، وہ یکطرفہ اور جبری نہیں ہے بلکہ ایک معاہدہ کے تحت ہے جس میں ہم باضابطہ طورپر شریک ہیں اور اس سے نکلنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں، اس لیے اس کی ساری ذمہ داری اقوام متحدہ پر ڈال دینا مناسب نہیں ہے۔ 

۱۰۔ نیز بین الاقوامی معاملات کے بارے میں بھی ہمیں کوئی اصول قائم کرناہوگا۔ جو بین الاقوامی معاہدہ ہمارے اقتدار اعلیٰ اور قرآن وسنت کے منصوص احکا م کے منافی ہے، اسے ہمیں کلیتاً مسترد کردینا چاہیے بلکہ اس میں شامل ہونا بھی غلط ہے، لیکن جو معاملات ہماری خود مختاری کی نفی نہیں کرتے اور قرآن وسنت کے کسی صریح اور منصوص حکم کے منافی بھی نہیں ہیں، انہیں یکسر مسترد کردینا درست نہیں ہوگا۔ تلک عشرۃ کاملۃ 

ابو عمار زاہد الراشدی

۲۰۰۶/۱۱/۱

(۲)

مولانا عمار خان ناصر حفظہ اللہ تعالیٰ

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مزاج بخیر

آپ نے اپنے لبنان کے سفر نامے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ نقل کیا ہے کہ رافضی کے پیچھے نماز جائز ہے۔ برائے کرم اس کا حوالہ اگر میسر ہو جائے تو بندہ آپ کا ممنون و مشکور ہوگا۔

(حافظ)محمد فرقان انصاری۔ ٹنڈو آدم

(۳)

مکرمی محمد فرقان انصاری صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

متعلقہ حوالہ حسب ذیل ہے:

واما الصلاۃ خلف المبتدع فہذہ المسالۃ فیہا نزاع وتفصیل فاذا لم تجد اماما غیرہ کالجمعۃ التی لا تقام الا بمکان واحد وکالعیدین وکصلوات الحج خلف امام الموسم فہذہ تفعل خلف کل بر وفاجر باتفاق اہل السنۃ والجماعۃ وانما تدع مثل ہذہ الصلوات خلف الائمۃ اہل البدع کالرافضۃ ونحوہم ممن لا یری الجمعۃ والجماعۃ، اذا لم یکن فی القریۃ الا مسجد واحد فصلاتہ فی الجماعۃ خلف الفاجر خیر من صلاتہ فی بیتہ منفردا لئلا یفضی الی ترک الجماعۃ مطلقا واما اذا امکنہ ان یصلی خلف غیر المبتدع فہو احسن وافضل بلا ریب لکن ان صلی خلفہ ففی صلاتہ نزاع بین العلماء ومذہب الشافعی وابی حنیفۃ تصح صلاتہ واما مالک واحمد ففی مذہبہما نزاع وتفصیل وہذا انما ہو فی البدعۃ التی یعلم انہا تخالف الکتاب والسنۃ مثل بدع الرافضۃ والجہمیۃ ونحوہم (مجموع الفتاوی، ۲۳/۳۵۵، ۳۵۶)
’’بدعتی کے پیچھے نماز ادا کرنے کے مسئلے میں کچھ اختلاف اور تفصیل ہے۔ اگر تو بدعتی کے علاوہ کوئی دوسرا امام میسر ہی نہ ہو، مثلاًجمعے کی نماز جو صرف ایک ہی جگہ ادا کی جاتی ہو یا عیدین کی نماز یا ایام حج میں حج کے امام کے پیچھے ادا کی جانے والی نمازیں (جبکہ ان سب صورتوں میں امام بدعتی ہو)، تو مذکورہ تمام نمازیں اہل سنت والجماعت کے نزدیک بالاتفاق ہر نیک اور بد کے پیچھے ادا کی جائیں گی۔ امام کے پیچھے ایسی نمازوں کو ترک کرنے کی روش دراصل روافض اور ان جیسے اہل بدعت کی ہے جو (اپنے مذہب کے علاوہ دوسرے امام کے پیچھے) جمعہ اور جماعت کو درست نہیں سمجھتے۔ اسی طرح اگر بستی میں ایک ہی مسجد ہو (اور اس کا امام بدعتی ہو) تو گناہ گار امام کے پیچھے نماز ادا کر لینا گھر میں تنہا نماز ادا کرنے سے بہتر ہے تاکہ بالکلیہ نماز باجماعت کا ترک کرنا لازم نہ آئے۔ البتہ اگر آدمی کے لیے بدعتی کے علاوہ دوسرے امام کے پیچھے نماز پڑھنا ممکن ہو تو بلاشبہ یہ طریقہ بہتر اور افضل ہے، لیکن اس کے باوجود اگر وہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز کے متعلق علما کے مابین اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کی نماز درست ہوگی، جبکہ امام مالک اور امام احمد کے مذہب میں اختلاف اور کچھ مزید تفصیل ہے۔ یہ مسئلہ ایسی بدعت (اور اس کے حامل بدعتی امام) سے متعلق ہے جس کا کتاب وسنت کے خلاف ہونا واضح طور پر معلوم ہو، جیسا کہ روافض، جہمیہ اور ان جیسے دوسرے گروہ۔‘‘

میں نے یہ حوالہ کمپیوٹر سافٹ ویئر ’الجامع الکبیر‘ (الاصدار الثانی ۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ء) سے لیا ہے۔ مطبوعہ نسخوں میں، ممکن ہے جلد اور صفحات مختلف ہوں۔

محمد عمار خان ناصر

۱۹؍ نومبر ۲۰۱۱ء

(۴)

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب مدظلہ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ

مزاج بخیر

میں آپ کا مشکور ہوں کہ آپنے مجھے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس فتویٰ کا حوالہ مرحمت فرمایا کہ روافض کہ پیچھے نماز کی گنجائش ہے۔ مجھے احساس ہے کہ آپ انتہائی مصروف شخصیت کے حامل شخص ہیں، لیکن حکم قرآنی ’فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم تعلمون‘ کے مطابق میں آپ کی خدمت میں اس فتوے کے بعد میرے ذہن میں پیدا ہونے والے خیالات کو گوش گزار کرکے اس معاملے میں شرح صدر حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے آپ اس معاملے میں میری رہنمائی فرمائیں گے۔

یہ بات عام ہے اور مشہور ہے کہ ابن تیمیہ نے روافض کے کفر کا فتویٰ دیااور سپاہ صحابہ والے ان کا فتویٰ اپنے موقف کی تائید میں پیش بھی کرتے ہیں۔ جب وہ کافر ٹھہرے تو ان کی اقتدا میں نماز کس طرح جائز ہو سکتی ہے؟ اسی طرح ہمارے اکابرین نے ہر دور میں شیعہ فرقے سے اتحاد کیا اور ان پر کفر کے فتوے بھی دیے۔ کیا اس سے عام تاثر یہ پیدا نہیں ہوتا کہ یہ دہرا معیار ہے؟ حال ہی میں دیوبند انڈیا والوں نے ایک فتویٰ شیعہ اثنا عشری کے متعلق دیا کہ ان کے عقیدہ امامت سے انکار ختم نبوت لازم آتا ہے، لہٰذا وہ منکر ختم نبوت ہیں اور دوسری طرف ہم تحفظ ختم نبوت کے جہاد میں ان کو شامل کرتے ہیں۔ دیوبند انڈیا والوں نے ان کے عقیدہ امامت کے بارے میں یہ حوالہ نقل کیا کہ ہمارے اماموں پر وحی آتی ہے، نئی شریعت آتی ہے، وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر سکتے ہیں اور انہوں نے فتوے میں ان تمام عقائدکو اصول کافی میں کتاب الحجۃ میں درج قرار دیا۔ احقر نے کتاب الحجۃ کو پڑھا، لیکن مجھے اس طرح اس میں کچھ نہ ملا اور سرگودھاکے شیعہ عالم محمد حسین نجفی کی کتاب ’’احسن الفوائد فی شرح عقائد‘‘ کو پڑھا۔ اس میں انہوں نے صاف اور واضح طور پر لکھا ہے کہ اماموں کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ نبی ہیں اور ان پروحی آتی ہے، یہ کفر ہے۔ امام حلالِ خدا کو حلال اور حرامِ خدا کو حرام بتاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اس تمام صورت حال میں آپ برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارے علما اور مفتی حضرات اس معاملے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں؟ غالی شیعوں کے عقائد کو دوسرے شیعوں پر چسپاں کرنا کیا یہ صحیح ہے؟ امید ہے رہنمائی فرمائیں گے۔

حافط محمد فرقان انصاری

(۵)

مکرمی حافظ محمد فرقان انصاری صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

روافض کی تکفیر کے ضمن میں معاصر مفتیان کرام کے طرز عمل کے حوالے سے آپ نے جو سوال اٹھایا ہے، وہ برمحل ہے، البتہ اس کی وضاحت انھی حضرات کی ذمہ داری ہے۔ میں ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نقطہ نظر کو درست سمجھتا ہوں۔ اس کی مزید وضاحت گزشتہ دنوں میں نے ایک علمی مجلس میں کی تھی۔ اتفاق سے اس گفتگو کی نقل تحریری صورت میں میرے پاس محفوظ ہے۔ سردست وہی پیش کر رہا ہوں۔ امید ہے اس سے ابن تیمیہ کے زاویہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ 

میں نے عرض کیا تھا کہ:

’’کسی بھی مسلمان پر، کسی بھی کلمہ گو پر کفر کا فتویٰ لگانا کسی ایسی بات پر جو حقیقت میں کفر نہیں ہے، کوئی فرعی اختلاف ہے، کوئی فہم کا اختلاف ہے، ظاہر ہے کہ اس کا قبیح ہونا اور اس کا ممنوع ہونا واضح ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے کوئی ایسی بات کہی ہے جو محتمل ہے تو اس میں فقہا کا وہ مشہور اصول سب اہل علم نے بیان کیا کہ اگر ننانوے میں سے ایک احتمال بھی ایسا ہے جو کفر سے بچاتا ہے تو اسے کفر سے بچانا ہی چاہیے، جب تک کہ وہ اس کی وضاحت نہ کر دے۔
زیادہ نازک بحث جو بنتی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان فرد یا گروہ نے کوئی ایسی بات کہی ہے یا اس کو نظریے کے طور پر اپنا لیا ہے جو واقعتا علمی اور فقہی لحاظ سے کفر ہے یا مستلزم کفر ہے تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ جو چیزیں کفر نہیں ہیں، فہم کا یا تعبیر کا اختلاف ہے، ان کو کفر قرار دینے کی شناعت تو واضح ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں اہل علم نے، فقہا نے یہ بات بیان کی ہے کہ اگر کوئی آدمی یہ بات کہتا ہے تو یہ کفر ہے اور مستلزم کفر ہے تو ایسے افراد کے بارے میں کیا کہا جائے؟ یہ زیادہ اہم اور نازک بحث ہے۔ میں اس معاملے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا نقطہ نظر یہاں بیان کرنا چاہوں گا جو انھوں نے منہاج السنۃ میں اور اپنے فتاویٰ میں اور بعض دوسری کتابوں میں بیان کیا ہے۔ مجھے ان کا نقطہ نظر درست لگتا ہے۔ دلائل کا موقع آئے گا تو اس پر بات ہوگی۔ میں اس کا خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔
ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ کوئی فرد یا گروہ ایسا ہے جو کلمہ گو بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مان کر ہدایت کا ماخذ بھی مانتا ہے اور اس کے ساتھ کسی کفریہ بات کا بھی قائل ہے تو یہاں دو چیزیں ہیں جن کے مابین تعارض ہو رہا ہے۔ ایک طرف تو اس کی نسبت کا معاملہ ہے کہ وہ اپنی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتا ہے، جبکہ دوسر ی طرف یہ چیز ہے کہ وہ عملاً کوئی ایسا عقیدہ یا نظریہ یا عمل اپنائے ہوئے ہے جو رسول اللہ کے دین کے خلاف ہے۔ اب ان میں سے کس پہلو کا زیادہ لحاظ کیا جائے؟ اس کے کلمہ گو ہونے کا زیادہ لحاظ کیا جائے یا اس کے نظریے یا عمل کے مستلزم کفر ہونے کا زیادہ لحاظ کیا جائے؟ ابن تیمیہ کا کہنا یہ ہے کہ میرے نزدیک دین کا اورشریعت کے مزاج کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے گروہوں کے معاملے میں پہلی نسبت کا زیادہ لحاظ رکھا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں آنے کے بعد اصل میں انسانوں کی دو ہی قسمیں بنتی ہیں۔ یا وہ دائرۂ اسلام میں ہوں گے اور یا دائرۂ اسلام سے باہر ہوں گے۔ تو ایسے لوگ جو نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں اور آپ کے دین کو بحیثیت مجموعی قبول کرتے ہیں، لیکن بعض عقائد میں یا بعض اعمال میں اس سے ہٹے ہوئے ہیں تو ان کو دائرہ کفر میں شمار کرنے کے بجائے دائرۂ اسلام میں ہی شمار کرنا زیادہ مناسب ہے۔ گویا ابن تیمیہ کے نزدیک ایسی صورت میں کلمہ گوئی کی جو نسبت ہے، اس کو وزن دینا زیادہ اہم ہے۔ 
دوسری بات جو انھوں نے اور ان کے علاوہ دوسرے فقہا نے بھی بیان کی ہے، وہ یہ ہے کہ کسی قول یا فعل کے فی نفسہ کفر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کے قائل کو یا اس کے فاعل کو بھی ہم کافر کہہ دیں۔ ان دونوں باتوں میں فرق ہے۔ قائل یا فاعل اس وقت کافر ہوگا اگر وہ کسی شبہہے یا کسی تاویل کے بغیر وہ بات کہتا ہو۔ اگر بات تو ایسی ہے جو فی نفسہ کفر ہے، لیکن کہنے والے کو کوئی شبہہ لاحق ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ کفر نہیں یا کہنے والا اس میں کوئی ایسی تاویل کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ یہ سمجھتا ہوکہ کفر نہیں ہے تو اس پر اس پر قانونی لحاظ سے کافر کا حکم جاری کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ 
ابن تیمیہ نے اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے صحابہ کے واقعات سے بعض مثالیں دی ہیں۔ مثلاً بعض صحابہ کو کسی شبہے کی وجہ سے قرآن کی بعض آیات کے قرآن کا حصہ ہونے میں تردد تھا۔ (اگرچہ اس میں ایک الگ بحث ہے کہ ایسا تھا یا نہیں، لیکن ابن تیمیہ اس کو مانتے ہیں کہ بعض صحابہ کو شبہہ تھا کہ قرآن کے بعض حصے قرآن کا جزو ہیں یا نہیں۔) اب ظاہر ہے کہ قرآن کے کسی جزو کو قرآن نہ ماننا فی نفسہ ایک بہت نازک اور حساس مسئلہ ہے، لیکن چونکہ ان حضرات کو اس میں کچھ شبہہ تھا، اس وجہ سے انھیں اس کی رعایت دیتے ہوئے تکفیر نہیں کی گئی۔
اسی طرح فقہا یہ اصول بیان کرتے ہیں کہ شریعت کی حرام کردہ چیزوں کا عملاً کوئی آدمی ارتکاب کرتا ہو تو یہ فسق ہے، لیکن اگر وہ اس کو حلال سمجھ کر کرتا ہے تو یہ کفر ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص شریعت کی حرام کردہ چیز کو کسی تاویل کے تحت وہ حلال سمجھتا ہے تو ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اس کی مثال موجود ہے کہ بعض صحابہ قرآن مجید کی ایک آیت کی غلط تاویل کے تحت شراب کو حلال سمجھتے تھے اور پیتے بھی رہے۔ تو شریعت کی حرام کر دہ ایک چیز جو نص قطعی سے ثابت ہے، اس کو انھوں نے تاویل کے تحت یہ سمجھا کہ اس کی اجازت ہے، اس کی ان کو رعایت دی گئی۔ 
ابن تیمیہ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ جن گروہوں یا جن افراد کے عقائد یا نظریات میں فی الواقع ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جو کفر ہیں یا مستلزم کفر ہیں تو ایک تو ان کی کلمہ گوئی کی نسبت کا احترام زیادہ ترجیح کے قابل بات ہے اور دوسرے یہ کہ ان کے ہاں شبہے یا تاویل کا جو پہلو ہے، اس کی رعایت کرنی چاہیے۔ اس سے میں یہ اخذ کرتا ہوں کہ مستند اسلامی عقائد اور نظریات سے ہٹ کر کوئی نقطہ نظر اختیار کرنے والے گروہوں کے بارے میں شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ حتی الامکان انھیں دائرۂ اسلام کے اندر رکھا جائے اور علمی تنقید کے ذریعے سے اور باہمی گفتگو کے ذریعے سے ان کے عقائد کی اصلاح کوشش کی جائے۔ ہاں اگر کچھ ایسے زائد وجوہ اور مصالح کسی گروہ کی تکفیر کا تقاضا کریں، مثلاً کوئی گروہ اسلام کے کسی بنیادی عقیدے کو براہ راست چیلنج کرتا ہو (جیسا کہ مثال کے طور پر قادیانی حضرات اجراے نبوت کے معاملے میں کرتے ہیں) یا ایسا خطرناک ثابت ہو رہا ہو کہ اس کو الگ کر دینا ہی مسلمانوں کی اور اسلام کی اور ملت کی مصلحت کا تقاضا معلوم ہو تو اس صورت میں یہ اقدام بھی کیا جا سکتا ہے۔‘‘

محمد عمار خان ناصر

۲۲؍ نومبر ۲۰۱۱ء

مکاتیب