مکاتیب

ادارہ

(۱)

مولانا زاہد الراشدی صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو پڑھ کر دین جاننے اور مزید جاننے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے ان کی تحاریر سے بہت کچھ سیکھا۔ تاہم، ان کے ایک موقف سے کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے جو اہل علم و نظر کی خدمت میں برائے غور و فکر اور برائے نقد پیش کیا جاتا ہے۔

مولانا زاہد الراشدی صاحب نے اپنا یہ خیال کئی جگہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے بھی پہلے حدیث کو ماننا ضروری ہے۔ قرآن کا قرآن ہونا بھی تب ہی ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں اسے اللہ کی کتاب بتایا گیا ہے۔ مثال بیان کرتے ہوئے وہ فرماتے ہیں کہ سورۃ الکوثر کو قرآن کا حصہ بھی اس لیے تسلیم کیا گیا ہے کہ حدیث اس کو قرآن کا حصہ بتاتی ہے۔ اس لیے قرآن سے پہلے حدیث کا ماننا ضروری ہے۔ حدیث سے مراد جیسا کہ مولانا کی دی ہوئی مثال سے معلوم ہوتا ہے، خبر واحد ہے۔ یعنی قرآن اپنی تصدیق میں خبر واحد کا محتاج ہے۔ 

مولانا کا یہ موقف درست معلوم نہیں ہوتا۔ یہ تو بدیہی بات ہے کہ قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ملا ہے اور آپ کی تصدیق سے ہی ہم نے اس کلام کو خدا کا کلام مانا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس کی ترسیل صحابہ کے ذریعے ہی ہوئی ہے، لیکن ایک بڑے فرق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہونے والی تعلیمات صحابہ کے ذریعے ابلاغ کی دو نوعیتوں کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں، یعنی تواتر اور خبر واحد کے ذریعے۔ دین اور ضروریاتِ دین کا ابلاغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تواتر کے طریقے پر اس طرح فرمایا ہے کہ اس کا ثبوت ایک یا چند یا بہت سے اشخاص کے بیان کا محتاج نہیں رہا۔ پورے کا پورا طبقہ صحابہ اس کا مبلغ اور راوی ہے۔ یہ تواتر علمی بھی ہے اور عملی بھی۔ علمی تواتر صرف قرآن کی محفوظ شکل میں منتقل ہوا ہے اور عملی تواتر صرف متواتر سنن کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔ یہ تواتر پوری ایک نسل سے دوسرے نسلوں کو منتقل ہوتا چلا آیاہے۔ قرآن کا بھی یہی معاملہ ہے۔ یہ اسی لیے قطعی الثبوت ہے اور اس کے قطعی الثبوت ہونے کے لیے خبر واحد سے تصدیق نہیں کرائی جاتی۔ خبر واحد ظنی الثبوت ہوتی ہے۔ ظنی الثبوت وسیلے سے قرآن کے قطعی الثبوت ہونے کو کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے؟

بالفرض ایسا مان بھی لیا جائے کہ قرآن اپنی تصدیق کے لیے خبرواحد کا محتاج ہے تو بتایا جائے کہ قرآن کی ہر ہرآیت اور ہر ہر سورہ کے پیچھے کون کون سی اخبار احاد ہیں جس کی بنا پر ان آیات اور سور کو خدا کاکلام تسلیم کیا گیاہے؟ او ر کیا پھر ان اخبارِ آحاد پر نقد و جرح کی صورت میں جو احتمالات در آئیں گے، ان کی بنا پر ان میں بیان کر دہ آیات اور سور کو قرآن کا حصہ تسلیم کرنے میں ظنیت در نہیں آئے گی؟ یعنی قرآن ظنی الثبوت ہو جائے گا۔ نیز کیا قرآن کی آیات اور سور کو بیان کرنے والی اخبارِ آحاد سے مکمل قرآن اخذ کیا جا سکتا ہے؟ نیز کیا قرآن کی ترتیب توقیفی کا ثبوت بھی خبرواحد کا محتاج ہے؟ اگر ہے تو کیا ثابت کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کی ہر ہر آیت اور سورہ کی متعین جگہ کس کس خبرواحد کی روشنی میں متعین کی گئی ہے؟

امید ہے ایک طالب علم کی گزارشات پر توجہ فرمائی جائے گی۔

ڈاکٹر عرفان شہزاد، اسلام آباد

(۲)

اظہار براء ت بسلسلہ ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ مولفہ حافظ عبد الجبار سلفی

حضرت مولانا محمد نافع (جامعہ محمدی شریف چنیوٹ) کی تمام تالیفات اور تحریرات اس امر کا زندہ ثبوت ہیں کہ دوسرے مسالک کے علماء کرام اور نظریاتی مخالفین سے علمی اختلاف کے باوجود ان کی تحقیر یا ذات کو ہدف تنقید بنانا آپ کے مزاج اور اسلوب تحریر میں شامل نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فاضل مولف جناب حافظ عبد الجبار سلفی نے بعض تحریروں میں علماء پر غیر ضروری تنقید لکھی جس کی وجہ سے پہلی ہی ملاقات میں ان کی اس روش اور عادت پر سرزنش اور سخت لہجہ میں تنبیہ فرمائی۔ 

فاضل مولف مذکور نے جب ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ مرتب کیا تو اس میں بہت ساری قابل اعتراض وغیر ضروری چیزوں کے علاوہ اپنی دیرینہ عادت کے مطابق کئی زندہ اور مرحوم علماء اور شرفاء کو بلا ضرورت تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی ذاتیات پر کیچڑ اچھالا۔ موصوف سے درخواست کی گئی کہ اس طرح کی چیزوں کو تذکرہ میں شامل نہ کریں تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ دوسرے یہ روش صاحب تذکرہ کے مزاج اور اسلوب تحریر سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کے باوجود ’’تذکرہ مولانا محمد نافع‘‘ ہماری اجازت اور رضامندی کے بغیر ادارہ مظہر التحقیق لاہور سے من وعن شائع کر دیا گیا، اس لیے مولانا محمد نافع کا وارث اور بیٹا ہونے کی حیثیت سے میں تذکرہ میں موجود اس طرح کے مندرجات سے اظہار براء ت اور اعلان لا تعلقی کرتا ہوں۔

غلام ابوبکر صدیقی بن حضرت مولانا محمد نافع ؒ 

سیکرٹری مالیات رحماء بینہم ویلفیئر ٹرسٹ، جامعہ محمدی شریف چنیوٹ


مکاتیب

اکتوبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱۰