مکاتیب

ادارہ

(۱)

جناب مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مزاجِ گرامی بخیر!’’الشریعہ‘‘ کا سفر رواں دواں ہے۔ مشکور ہوں کہ آپ میرے خیالات کو ’’الشریعہ ‘‘ میں جگہ دیتے ہیں۔ حقیقی تعریف تو صرف اللہ کے لیے ہے اور باقی سب پانی کے بلبلے ہیں۔ بلبلہ کی اگر کوئی قدروقیمت ہے تو وہ محض سمندر کی وجہ سے ہے اور اگر کوئی کم زوری ہے تو وہ اس کی اپنی خامی ہے۔’’الشریعہ‘‘ میں بھی بہت سی خوبیاں اور خامیاں ہوں گی۔ مجھے ’’الشریعہ‘‘ کی جن خوبیوں نے متاثر کیا ہے ‘ وہ یہ ہیں۔ 

۱۔ اکثر مجلات کے ٹائٹل پہ ایک علامتی جملہ لکھا ہوتا ہے کہ ’’ادارہ کا مقالہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضرور ی نہیں‘‘ جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس رسالہ کی طرف سے اپنے مقالہ نگار کو بعض اوقات فروعی مسائل میں اختلاف کی گنجائش بھی نہیں دی جاتی۔ الشریعہ نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ اس میں واقعی ایسے افکار بھی چھپ سکتے ہیں جن سے خود رسالہ کی مجلسِ ادارت متفق نہ ہو۔ 

۲۔ الشریعہ کے قارئین کا حلقہ کہاں سے کہاں تک پھیلا ہوا ہے‘ اس کا اندازہ اس میں چھپنے والی شخصیات کے مضامین اور مکاتیب سے ہوتا رہتا ہے۔ 

۳۔ ایک اور چیز جو میں نے محسوس کی ہے‘ وہ یہ کہ الشریعہ کے قارئین ’’صم بکم‘‘ نہیں‘ انہیں بولنا آتا ہے اور وہ بہت اچھا بولتے ہیں۔وہ اختلاف کرنا بھی جانتے ہیں اور کسی کی بات سے متاثر ہوں تو کھلے دل سے اس کی تعریف بھی کر جانتے ہیں۔

۴۔’’ الشریعہ‘‘ کی ایڈیٹنگ کا نظام بھی بہت مہذب ہے۔ بعض مجلات اور جرائد میں مضامین کی کانٹ چھانٹ اس طرح کی جاتی ہے کہ لکھنا والے کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید میرے قلم سے کسی اورکے فکر کی چاکری ہورہی ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ کے مقالہ نگار کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ میری محنت کے ساتھ کم از کم یہ سلوک نہیں ہوگا۔ **

مارچ ۲۰۱۳ء کے شمارہ میں ڈاکٹر عبدالباری عتیقی کا مکتوب نظر سے گزرا ‘ مجھے اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا ہے۔ 

قتال اور جہاد سے متعلق اسلام نے اپنے پیروکاروں کو چند اخلاقی آداب کی تعلیم دی ہے۔ مثلا یہ کہ دورانِ جنگ عورتوں‘ بچوں اور بے ضرر شہریوں کو گزند نہیں پہنچانی‘ کھیتوں اور درختوں کو نہیں اجاڑنا‘ طاقت و قوت کے بے مہار اور جنونی مظاہرے سے اجتناب کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کیااس سلسلہ میں کوئی حالتِ اضطرار بھی ہے جب مسلمانوں کے لیے ان آداب کی پابندی ساقط ہوجاتی ہو؟ ڈاکٹر عبدالباری عتیقی کے مکتوب سے محسوس ہوتا ہے کہ ایسی کوئی حالتِ اضطرار نہیں ہے ‘ مسلمانوں کے لیے ہر حال میں ان آداب کی پابندی ضروری ہے۔ 

میرے خیال میں یہ بات درست نہیں۔ خود عہد نبوی میں ایک مثال ایسی ملتی ہے جب مسلمان بامرِ مجبوری ان آداب کی پابندی نہ کرپائے جس پر مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ مسلمان جنگی اخلاقیات کی رعایت بھی نہیں کرتے۔یہ موقع غزوۂ بنونضیر کا ہے جو ہجرت کے چوتھے سال ہوا۔ جب مدینہ میں مقیم یہود کے ایک قبیلہ بنو نضیر کی بدعہدیوں کی وجہ سے اس کو جلا وطن کرنے کا فیصلہ ہوا تو ان کے قلعہ کا محاصر ہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ قلعہ کے آس پاس بنونضیر کا ایک باغ تھا جو قلعہ کا محاصرہ کرنے میں رکاوٹ بن رہاتھا۔ مسلمانوں نے اس رکاوٹ کو دو رکرنے کے لیے کچھ درخت تو کاٹ ڈالے اور کچھ کو آگ لگا دی۔ دشمن کو اس پر یہ کہنے کا موقع ملا کہ مسلمان جنگی اخلاقیات کا لحاظ بھی نہیں کرتے‘ جس پر اللہ تعالی کی طرف سے یہ تبصرہ نازل ہوا: ’’ما قطعتم من لینۃ او ترکتموہا قائمۃ علی اصولہا فباذن اللہ ولیخزی الفاسقین‘‘ (سورۃ الحشر‘ آیت۵) یعنی ’’تم نے کھجور کے جن درختوں کو کاٹا اور جنہیں اپنی جڑوں پہ قائم رہنے دیاتو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ بدکرداروں کو رسوا کردے۔‘‘

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جنگی اخلاقیات بے شک حالتِ جنگ سے متعلق ہی ہیں‘ مگر حالتِ جنگ کی ہی بعض صورتیں حالتِ اضطرار کی ہوتی ہیں جب ان آداب کی پابندی میں قدرے نرمی ہوجاتی ہے۔ یہ حالتِ اضطرار تب ہوگی جب کسی کافر گروہ کا استیصال ضروری ہوجائے اور وہ استیصال اخلاقی پابندیوں کے ساتھ ناممکن ہو۔مذکورہ مثال کا تعلق صرف درختوں کو تلف کرنے کے ساتھ ہے‘ باقی آداب کے ساتھ نہیں۔ یوں بھی بے ضرر شہریوں کے خون بہانے کا معاملہ درخت کاٹنے جتنا ہلکا پھلکا نہیں۔ اس سلسلہ میں بہت زیادہ خوفِ خدا اور سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ خوں ریزی کی حساسیت کا یہ سبق بھی اسی غزوۂ بنونضیر سے ہی ہمیں ملتا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنونضیر کو صرف جلا وطن کرنے پر اکتفاء کیا اور خوں ریزی کی نوبت نہیں آئی کیونکہ اصل مقصود ان کے شر سے بچنا تھا اور اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ تاہم خوں ریزی کی چند اضطراری صورتیں بھی فقہاء کے ہاں ملتی ہیں کہ مثال کے طور پر کفار کی کسی جماعت کا استیصال ناگزیر ہوگیا ہو اور وہ اپنے بچاؤ کے لیے بے ضرر شہریوں کو اپنے سامنے ڈھال اور آڑبنا رہے ہوں یا کوئی کافر عورت کمانڈو کا کام کررہی ہو تو بامرِ مجبور ی اور بقدرِ ضرورت ان سے بھی نمٹا جاسکتا ہے۔ (الہدایہ ‘ کتاب السیر)

البتہ ان کی یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم نے دشمن سے بے نیاز ہوکر اپنے دین کی تعلیمات پر عمل پیر ا ہونا ہے اور نتائج کو اللہ کے سپرد کرنا ہے۔ دشمن اگر جنگی اخلاقیات کا لحاظ نہ کرے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ ہم بہرحال اپنے دین کی تعلیمات کے پابند ہیں۔ ایک عربی مصنف کے یہ الفاظ آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں (ترجمہ حسبِ ذیل ہے): ’’یہ جان لینا ہر یہودی کا حق ہے کہ وہ ہم پر جتنا بھی ظلم ڈھاتا ہے‘ جتنی بھی ہمارے معصوم بچوں کی جان لیتا ہے‘ جتنی بھی ہماری فصلیں تباہ اور ہماری بستیاں ویران کرتا ہے‘ مگر ہم اس کے ساتھ برتاؤ کرنے میں صرف اور صرف اپنی عادلانہ شریعت کے پابند ہوں گے جو اللہ نے ہماری ہدایت اور فلاح کے لیے ہم پر اتاری ہے۔ یہ نہیں کہ ہم اپنے غیظ وغضب کو بجھانے کی کوئی ناجائز کوشش کریں گے۔ ‘‘کافر تو ہے ہی نقیبِ باطل! وہ اگر حالتِ جنگ میں کوئی غیر شرعی یا غیر اخلاقی حرکت کرتا ہے تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟ وہ جب باطل ہی کے لیے لڑ رہا ہے تو باطل طریقے اختیار کرنا اس کا حق ہے۔ دیکھا تو ہمیں جائے گا کہ ہم جو نقیبِ حق ہیں ‘ شرعی اور اخلاقی آداب کی کتنی پابندی کرتے ہیں۔ ایٹم بم اور اس جیسے ناپسندیدہ ہتھیاروں کو ایجاد کرنے اور محض ’’شو آف پاور‘‘ کے لیے اپنے پاس رکھنے میں بظاہر کوئی مضائقہ نہیں۔ خصوصاً جبکہ آنکھیں دکھانے والے کافر ہمسایوں کو مرعوب کرنے اور دباؤ میں رکھنے کے لیے ایسے ہتھیاروں کا حصول ناگزیر ہوجائے تو امید ہے کہ یہ جائز ہی نہیں‘ ضروری ہوجائے گا اور اس قرآنی تعلیم میں شامل ہوگا کہ ’’ولیجدوا فیکم غلظۃ‘‘ (سورۃ التوبۃ ‘ آیت ۱۲۳) یعنی ’’ ضروری ہے کہ تمہارے پڑوس میں رہنے والے کفار تمہارے اندر سختی محسوس کریں (اور تمہیں اپنے مقابلہ میں تر نوالہ نہ سمجھ لیں)‘‘البتہ اگر مساوی بنیادوں پر ایسے ہتھیاروں سے دنیاکو پاک کرنے کے لیے کوئی سرگرمی ہو تو اس میں حصہ لینا چاہئے۔جنگی اخلاقیات کی پابندیوں میں نرمی جینوئن اضطرار کی حالت میں ہوسکتی ہے‘ مگر محض دشمن کا غیر اخلاقی حرکتوں کا ارتکاب کرناہمارے لیے وجہِ جواز نہیں کہ ہم بھی اس کی اندھی نقالی شروع کردیں۔ 

عورت کو بطور جنگی ہتھیار کے استعمال کرنا یا اپنے فوجیوں کو رنگ رلیوں کے مواقع فراہم کرناایسے امور ہیں جن کو کسی بھی طرح جنگی آداب پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ جنگی آداب میں تو حالتِ اضطرار کی مثالیں موجود ہیں‘ مگر ایسے محرمات کے ارتکاب کی کیا وجہِ جواز ہوسکتی ہے جسے حالتِ اضطرار کہا جاسکے؟واللہ اعلم

محمد عبداللہ شارق 

مدیر مرکز احیاء التراث، قدیر آباد ملتان

mabdullah_87@hotmail.com

(۲)

ماہ فروری کے الشریعۃ میں زاہد صدیق مغل صاحب کا مضمون ’’جزا اور عذاب قبر کی قرآنی بنیادیں‘‘ پڑھا۔ احساس ہوا کہ آں محترم نے شاید قرآن مجید پر اس معاملہ میں تدبر نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے مقالہ میں تین سوال قائم کر کے ان سے عذاب برزخ ثابت کیا ہے۔ پہلے سوال میں اللہ تعالیٰ کے جزا و سزا کے قانون کے دائرہ کار کے حوالہ سے آیات قرآنی پیش کی ہیں جو یہ ہیں: شوریٰ آیت 30، مائدہ آیت 18، بقرہ آیت 6-5، مطففین آیت 14، طہٰ آیت124، زخرف آیت36، حم السجدہ آیات 21-20، طلاق آیت 2-3، آل عمران 25اور 185۔ ان آیات سے آخرت میں اعمال کا پورا بدلہ ملنا ثابت کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ یہ تو متفق علیہ مسئلہ ہے۔ 

دوسرا سوال ہے، عالم برزخ میں شعوری زندگی کا ثبوت! مغل صاحب لکھتے ہیں کہ ’’قرآن مجید میں کئی مقامات پر ایسے قطعی شواہد موجود ہیں جن سے عالم برزخ میں نہ صرف یہ کہ محض انسانی زندگی بلکہ شعوری زندگی کا تصور ثابت ہوتا ہے۔ عالم برزخ میں انسانی زندگی کا اشارہ اس آیت میں موجود ہے:

کَیْْفَ تَکْفُرُونَ بِاللّٰہِ وَکُنتُمْ أَمْوَاتاً فَأَحْیَاکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ إِلَیْْہِ تُرْجَعُونَ (البقرہ:28) 
ترجمہ’’ تم کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو۔ حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے‘‘۔

اس کی شرح میں لکھتے ہیں ’’زیر مطالعہ آیت میں دنیوی زندگی کے بعد جو حیات عطا ہوگی وہ لوٹائے جانے سے قبل (یعنی عالم برزخ) میں ہوگی۔ نیز ثم کا استعمال بتا رہا ہے کہ یہ برزخی حیات اور یوم آخرت کو اللہ کی طرف لوٹایا جانا دو الگ واقع ہیں جن میں زمانی مغائرت ہے۔ ‘‘

ناچیز طالب علم کا کہنا ہے کہ اس آیت میں بھی صرف دو موتوں اور دو زندگیوں کا بتایا گیا ہے۔ پہلے موت، پھر حیات، پھر موت اور پھر حیات۔ آخری حیات سے قیامت کے دن زندہ کیا جانا مراد ہے، نہ کہ عالم برزخ میں۔ کی تشریح سورۃ مومن کی آیت 11 سے ہوتی ہے جس میں منکرین اللہ تعالیٰ سے کہہ رہے ہیں:

قَالُوا رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَیْْنِ وَأَحْیَیْْتَنَا اثْنَتَیْْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوبِنَا فَہَلْ إِلَی خُرُوجٍ مِّن سَبِیْلٍ (المومن 11) 
’’وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو دفعہ جان دی۔ ہمیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے کیا نکلنے کی کوئی سبیل ہے؟‘‘ 

بقرہ 28کو مومن 11کے ساتھ پڑھیں تو صاف علم ہوگا کہ قرآن کسی بھی تیسری زندگی اور تیسری جگہ ’’عالم برزخ‘‘ کا انکار کرتا ہے اور سورۃ بقرہ کی آیت 28میں کسی بھی عالم برزخ کا کوئی ذکر نہیں۔ 

مغل صاحب نے لکھا ہے کہ ’’عالم برزخ میں زندگی کا ثبوت آیت شہدا میں بھی موجود ہے: وَلاَ تَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبیْلِ اللّٰہِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْیَاءٌ وَلَکِن لاَّ تَشْعُرُونَ (البقرہ154)

سورۃ بقرہ کی آیت 154 میں جس میں مقتول فی سبیل اللہ کو زندہ کہا گیا ہے اور ان آیات میں جو سورہ آل عمران میں آئی ہیں، کسی برزخی زندگی کا ذکر نہیں، نہ ہی ان آیات میں عالم برزخ کا ذکر ہے اور نہ ہی ان آیات سے جزا و سزا کا قانون کشید کیا جا سکتا ہے۔ یہ قیامت کے دن انھیں ملنے والی زندگی اور نعمتوں کا بیان ہے۔ جیسے قرآن میں رسول اللہ کو کہا گیا ہے کہ: انک میت، یعنی آپ بھی مریں گے۔ ایسے ہی مقتول فی سبیل اللہ کے لئے احیاء آیا ہے۔ اس کا معنی نظائر قرآن کی روشنی میں (قیامت کے دن) ’’زندہ کیے جائیں گے‘‘ بنتا ہے۔ 

مقتول فی سبیل اللہ کو زندہ کہا گیا ہے اور زندہ کو نعمتیں ملنا مانا جا سکتا ہے بلکہ ملتی ہیں۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ جنہیں قرآن ’’امواتا غیر احیاء‘‘ کہہ رہا ہے، انہیں کیسے عالم برزخ میں زندہ مان لیا جائے؟ یعنی اللہ تعالیٰ تو کہے: اموات غیر احیاء اور ہم کہیں: احیاء غیر اموات!! قرآن سے ثابت ہے کہ بلا کسی استثنا کے تمام انسان جو پیدا ہوئے ہیں، وہ قیامت کو زندہ ہوں گے۔ ان میں مقتول فی سبیل اللہ بھی شامل ہیں۔ بالفرض مقتول فی سبیل اللہ کی روایتی تشریح بھی مانیں (جس کی وجہ سے شرح قرآن میں تضاد واقع ہوتا ہے کہ کہیں قرآن کہتا ہے سب لوگ قیامت کو دوبارہ پیدا ہوں گے اور کہیں کہتا ہے کہ مقتول فی سبیل اللہ زندہ ہیں) تب بھی اسے حیات برزخی کہنے کی کوئی اصل قرآن میں نہیں بلکہ پھر استثنائی طور پر مقتولین فی سبیل کے لیے زندگی ماننی پڑے گی اور زندہ کو نعمتیں ملنا قابل تسلیم ہے۔ اس سے عام قانون کشید کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ دوبارہ زندگی کا ملنا قیامت سے سے متعلق ہی بیان ہوا ہے: ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ لَمَیِّتُونَ، ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُونَ (المومنون 15، 16) اور أَمْواتٌ غَیْْرُ أَحْیَاء وَمَا یَشْعُرُونَ أَیَّانَ یُبْعَثُونَ (النحل 21) 

اگر کسی صاحب علم کو مقتول فی سبیل اللہ کے بارے میں ہمارے دلائل سے اختلاف ہو تو وہ آل عمران 195، حج58، سورہ محمد4تا6جیسی آیات سے ہمارے استدلال کی غلطی ہم پر دلیل سے واضح کرے۔ قرآن میں یہ جو کہا گیا کہ تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں تو قرآن نے کسی جگہ کا نام نہیں لیا کہ مقتول فی سبیل اللہ کہاں زندہ ہیں۔ آخر علین و سجین میں نامہ اعمال کا ہونا بھی تو قرآن نے بتایا ہے تو مقتول فی سبیل اللہ کے لیے کسی جگہ کا نام بتانے میں کیا استبعاد تھا؟ اصل بات یہی ہے کہ مقتول فی سبیل اللہ کا جو اکرام دوبارہ جی اٹھنے پر ہوگا، اس کا اس دنیا میں شعور تک نہیں کیا جا سکتا۔ 

سورہ نحل آیت 28-29میں ہر ظالم آدمی کو بوقت وفات ملائکہ جہنم کی وعید سناتے ہیں نہ کہ برزخی عذاب کی اور آیت 32میں پاک لوگوں کو جنت کی بشارت سناتے ہیں نہ کہ برزخی حیات کی قرآن کا یہ مقام ہی فیصلہ کن ہے کہ مرنے کے بعد اگلی منزل انسانی یا جنت ہے یا جہنم۔آیات یوں ہیں:

’الَّذِیْنَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلاءِکَۃُ ظَالِمِیْ أَنفُسِہِمْ فَأَلْقَوُا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِن سُوءٍ بَلَی إِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ، فَادْخُلُواْ أَبْوَابَ جَہَنَّمَ خَالِدِیْنَ فِیْہَا فَلَبِءْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ‘‘
’’(ان کا حال یہ ہے کہ ) جب فرشتے ان کو وفات دیتے ہیں اور وہ اپنے حق میں ظلم کرنے والے ہوتے ہیں، اس وقت وہ جھک جاتے ہیں کہ ہم برائی نہیں کرتے تھے۔ کیوں نہیں! اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے جو کچھ تم کرتے تھے۔ پس اب تو ہمیشگی کے طور پر تم جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔ پس کیاہی برا ٹھکانا ہے غرور کرنے والوں کا‘‘ ۔

اور آیت 32میں ہے:

الَّذِیْنَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلآءِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُولُونَ سَلامٌ عَلَیْْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ
’’وہ جن کو فرشتے اس حالت میں وفات دیتے ہیں کہ ۔ ان سے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔ اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم کرتے تھے جنت میں داخل ہو جاؤ‘‘ ۔

یہ نصوص قطعی ہیں کہ مرنے کے بعد اگلی منزل جہنم یا جنت ہے نہ کہ کوئی مزعومہ عالم برزخ۔ مزید غور فرمائیں انسانی جسم تو مرنے کے بعد خاک میں مل کر خاک ہو جاتا ہے تو عذاب و ثواب کیسے اور کیسے ہو سکتا ہے؟ 

قرآن میں روح کا وہ تصور موجود نہیں جو علما کے ہاں پایا جاتا ہے۔ قرآن میں لفظ ’’روح‘‘ وحی اور اللہ کے حکم کے لیے آیا ہے۔ سورۃ نحل آیت 02، المومن آیت 15 اور الشوریٰ آیت 52میں روح کا وہی معنی آیا ہے جو خاکسار نے بیان کیا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل آیت 85میں جو ’’وَیَسْأَلُونَکَ عَنِ الرُّوحِ‘‘ آیا ہے، وہاں بھی الروح سے مراد قرآنی وحی ہی ہے جیسا کہ اس مقام کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے اور امین احسن رحمہ اللہ نے تدبر قرآن میں لکھا بھی ہے۔ سورۃ سجدہ اور سوۂ ص میں انسان میں نفخ روح کا ذکر آیا ہے۔ اول تو دونوں مقامات پر یہ عمل، تسویہ کے بعد ہوا یعنی انسان کے مکمل بن چکنے کے بعد۔ اس طرح روح سے مراد جان ڈالنا نہیں ہو سکتا کیونکہ جان تو پہلے دن سے ہی تھی جب نطفہ علقہ بنا تھا۔ اگر جرثومہ بے جان ہو تو انسان پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ دوسرے ان دونوں آیات (سجدہ 09 اور ص 72) پر روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے: ’’فَإِذَا سَوَّیْْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِن رُّوحِیْ‘‘ یعنی ’’جب اس کو درست کر لوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونکوں‘‘۔ تو قرآن میں تو کسی انسانی روح کا اشارہ تک نہیں۔ یہ روح جو اللہ کا حکم ہے، وحی ہے، یہ تو اللہ کی ہے۔ تیسرے پورے قرآن میں کہیں بھی روح نکلنے کا ذکر نہیں۔ توفی یا اخراج نفس کا ذکر ہے اور نفس اور روح دونوں الگ الگ ہیں۔ نفس کو موت بھی آتی ہے، قتل بھی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ روح تو وحی ہے اورامر رب ہے، اس لیے یہ تمام سوالات غلط ہیں کہ مرنے کے بعد روح کہاں جاتی ہے اور یہ کہ برزخ میں اسی روح کو عذاب و ثواب ہوتا ہے۔ قرآن کی نص ہے کہ اہل جہنم کی کھالیں جلنے کے بعددوبارہ آجائیں گی تاکہ عذاب چکھیں۔ (نساء آیت 56)۔ میڈیکل سائنس کو غالباً1926میں علم ہوا ہے کہ کھال میں حس (Feeling) ہوتی ہے، مگر قرآن میں ڈیڑھ ہزار سال پہلے یہ بات آنا قرآن کے کلام اللہ ہونے کی دلیل ہے۔ اب روح کی تو کھال ہوتی نہیں جو اسے عذاب دیا جائے۔ 

آخر میں سورہ مومن آیت 45، 46سے بھی، جس میں فرعون اور آل فرعون کو عذاب دیے جانے کا ذکر ہوا ہے، قائلین عذاب برزخ کے استدلال پر بھی چند سطور لکھتا ہوں۔ 

فَوَقَاہُ اللّٰہُ سَیِّءَاتِ مَا مَکَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ، النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْْہَا غُدُوّاً وَعَشِیّاً، وَیَوْمَ تَقُومُ السَّاعَۃُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ

جیسا کہ عرض کیا، سورہ یونس آیت 4سے تمام انسانوں کا بلا استثنا قیامت کو دوبارہ پیدا ہونا ثابت ہے تو اب تمام انسانوں میں فرعون اور اس کی آل بھی داخل ہے۔ سورۃ مومن کی آیت 46کا جو ترجمہ شاہ رفیع الدین نے کیا ہے، وہی نظائر قرآن کی روشنی میں درست ہے۔ آیت میں یعرضون  مضارع کا صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں کا معنی دیتا ہے، یعنی ’’آگ ہے جس پر آل فرعون صبح شام پیش کی جاتی ہے‘‘ یا ’’آگ ہے جس پر آل فرعون صبح شام پیش کی جائے گی‘‘۔ ترجمے دونوں درست ہیں، مگر وہی ترجمہ اس مقام پر مانا جائے گا جس کے تائیدی دلائل قرآن میں ہوں۔ سب سے پہلی بات یہ کہ قرآن سزا کے لیے دنیا یا آخرت تجویز کرتا ہے۔ (سورۃ بقرہ آیت 85، 217۔آل عمران 21-22)۔ دوسری بات یہ کہ قرآن میں النار کل 126مرتبہ آیا ہے اور 125جگہ تمام مفسرین نے اس ’’النار‘‘ سے جہنم مراد لی ہے۔ ظاہر ہے 126ویں جگہ بھی جہنم ہی مراد ہوگی۔ سورۃ مومن میں آٹھ بار ’’النار‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ سات بار تمام مفسرین نے اس سے جہنم مرادلی ہے تو آٹھویں بار بھی جہنم ہی مراد ہونا چاہیے۔ تیسری بات یہ کہ یہ عرض علی النار بھی قیامت کو ہی ہوگا جیسا کہ سورۃ احقاف آیات20تا34سے ثابت ہے : ’’وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا عَلَی النَّارِ‘‘ اور جس دن کافر دوزخ کے سامنے پیش کیے جائیں گے‘‘۔ چوتھی بات یہ کہ فرعون مصر میں موجود ہے تو عذاب کسے ہو رہا ہے؟ فرعون کی روح کو عذاب کے قائلین کو پہلے انسانی روح ثابت کرنی ہوگی۔ ظاہر ہے قرآن میں کسی انسانی روح کا ذکر ہی موجود نہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ فرعون کے لیے بھی قرآن سے صرف دو ہی عذاب ثابت ہیں۔ سورۃ مومن آیت 45میں ہے: ’’غرض اللہ نے (موسیٰ کو ) ان لوگوں کی تدبیروں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے آگھیرا‘‘۔ اس آیت میں سوء العذاب سے ڈوبنے کا عذاب مراد ہے۔ اس کے بعد آیت 46میں ہے: ’’(یعنی) آتش جہنم کہ صبح شام اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور جس روز قیامت برپا ہوگی، (حکم ہوگا) فرعون والوں کو سخت عذاب میں داخل کرو‘‘۔ اس آیت میں اشد العذاب  سے مراد بالاتفاق مفسرین عذاب جہنم مراد ہے اور یہ سوء العذاب کے مقابل آیا ہے۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ فرعون کے لیے بھی صرف دو ہی عذاب ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ فتح محمد جالندھری صاحب نے بھی یہاں النار  سے مراد جہنم لی ہے، مگر بات صحیح طرح سمجھ نہ سکے۔ 

اس تفسیر کی روشنی میں سورہ مومن آیت 46کا وہی معنی درست ثابت ہوتا ہے جو شاہ رفیع الدین ، مولانا اسلم جے راجپوری اور عبداللہ یوسف علی نے کیا ہے، یعنی یعرضون کے صیغہ مضارع کو مستقبل کے معنی میں لیا ہے جو شواہد و نظائر قرآنی کے عین مطابق ہے۔ ترجمہ یوں ہے’’ وہ آگ ہے کہ حاضر کیے جاویں گے اوپر اس کے صبح و شام اور جس دن قیامت قائم ہوگی، کہا جاوے گا کہ داخل کرو فرعون والوں کو سخت عذاب میں‘‘۔ اس طرح اس آیت میں و او مغایرت کے لیے نہیں، بلکہ تفسیر کے معنی میں آیا ہے۔ اس ترجمہ سے اختلاف رکھنے والے حضرات پر لازم ہے کہ وہ قرآن سے پیش کیے ہمارے شواہد کا دلیل سے جواب دیں۔ ان پر یہ بھی لازم ہے کہ فرعون تو قبر میں گیا ہی نہیں تو عذاب کسے اور کہاں ہو رہا ہے۔ وہ جو بھی کہیں، انہیں دلیل پیش کرنا ہوگی۔

مغل صاحب لکھتے ہیں: ’’عالم برزخ میں اجر و ثواب کا اشارہ سورہ یٰسین میں بیان کردہ اس شخص کے ذکر سے بھی ملتا ہے جسے کہا گیا: ’’قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ قَالَ یَا لَیْْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُونَ، بِمَا غَفَرَ لِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ‘‘۔ اسے کہا گیا جا، جنت میں داخل ہو جا۔ وہ بولا کاش میری قوم جان سکتی کہ میرے رب نے کس چیز کے سبب مجھے بخش دیا اور مجھے عزت والوں میں شامل کیا‘‘۔ اس آیت میں لفظ ’’الجنۃ‘‘ فاضل مقالہ نگار کے استدلال کی تردید کر رہا ہے۔ یعنی اس مومن کو تو اس آیت میں جنت کی بشارت دی جا رہی ہے اور ہمارے دوست اس کو عالم برزخ میں بھیج رہے ہیں۔ سورہ یٰسین کے اس مقام پر ایک مومن کے خاتمہ بالخیر کی خبر دی گئی ہے یعنی بوقت وفات اسے فرشتوں نے جنت کا مژدہ جاں فزا سنایا۔ اسی طرح سورہ نحل آیت 32میں ہر مومن کو بوقت وفات فرشتوں کا جنت کا مژدہ سنانا بتایا گیا ہے: ’’الَّذِیْنَ تَتَوَفَّاہُمُ الْمَلآءِکَۃُ طَیِّبِیْنَ یَقُولُونَ سَلامٌ عَلَیْْکُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ‘‘ (ان کی کیفیت یہ ہے کہ ) جب فرشتے انہیں وفات دیتے ہیں اور یہ (کفر و شرک سے) پاک ہوتے ہیں تو سلام علیکم کہتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ) جو عمل تم کیا کرتے تھے ان کے بدلے میں بہشت میں داخل ہو جاؤ‘‘۔ یوں قرآن کے ایک مقام نے دوسرے مقام پر ہمیں بتا دیا کہ مرنے والے مومنین کو مرتے وقت ان کا مجمل انجام (جنت) بتا دیا جاتا ہے۔ 

خلاصے کے طور پر یہ کم علم محمد زاہد صدیق مغل صاحب کے تین سوالوں کے جواب یوں دیتا ہے:

۱۔ کیا جزاء و سزا کا اطلاق صرف آخرت کے ساتھ مخصوص ہے؟

جواب: جی نہیں دنیا اور آخرت میں جزاء و سزا کا ملنا قرآن میں مذکور ہے۔

۲۔ کیا زندگی اور موت کے درمیان (یعنی برزخ میں) کسی شعوری زندگی کا تصور موجود ہے؟

جواب: جی نہیں قرآن میں کسی برزخی زندگی سے متعلق کسی آیت میں ذکر ہے اور نہ ہی قرآن کوئی ایسا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے برعکس قرآن اس دنیا کے بعد دوسری دنیا یعنی قیامت سے زندگی دوبارہ شروع ہونے کا یقینی علم دیتا ہے۔

۳۔ کیا قرآن برزخ کی زندگی میں کسی قسم کی جزاء و سزا کا تصور پیش کرتا ہے؟

جواب: جی نہیں، قرآن میں برزخی زندگی کا کوئی تصور موجود نہیں بلکہ قرآن اس دینوی زندگی کے بعد قیامت کے قائم ہونے تک کے وقفہ کو موت کا نام دیتا ہے۔ 

عجیب بات ہے جسے قرآن میں موت کہا گیا ہے، اسے ہمارے اہل علم زندگی قرار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے صمیم قلب سے دعا ہے ہمیں فہم قرآن صحیح صحیح عطا ہو۔ ہم مقام قرآن سے آگاہ ہوں اور پھر اس پر عمل پیرا بھی ہو سکیں۔ 

محمد امتیاز عثمانی

راولپنڈی

مکاتیب