فوج کا متنازعہ کردار اور قومی سلامتی کے لیے مضمرات

محمد عمار خان ناصر

(اس عنوان پر سوشل میڈیا پر وقتاً‌ فوقتاً‌ پیش کی گئی  منتخب معروضات)

متعدد احادیث میں یہ مضمون آیا ہے کہ میری امت جب جہاد کو ترک کر کے کاشت کاری میں مشغول ہو جائے گی تو عزت اور سرفرازی ذلت اور نکبت میں بدل جائے گی۔ (اس کی اسناد میں کچھ مسائل ہیں، لیکن امام ابن تیمیہ کی رائے میں اس کے متعدد طرق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بات بے اصل نہیں ہے، یعنی فی الجملہ اس کی نسبت قابل اعتماد ہے۔)

ان احادیث کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس میں کاشت کاری کی مذمت بیان کرنا مقصود ہے؟ ظاہر ہے نہیں، کیونکہ زراعت کی فضیلت اور برکات پر الگ سے بے شمار احادیث موجود ہیں۔ یہ زرعی دور تھا اور اسلامی ریاست کے مستقل محاصل کا دار ومدار بھی زراعت پر ہی تھا، اس لیے اس پیشے کی مذمت یا اس کی اہمیت کو کم کرنا تو مقصود نہیں ہو سکتا۔

امام یحیی بن آدم نے مکحول سے اس کا جو ایک مرسل طریق نقل کیا ہے، اس سے اس حدیث کا صحیح مدعا سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جب میری امت زراعت میں مشغول ہو جائے گی تو ’’پھر وہ بھی باقی لوگوں جیسی ہو جائے گی۔“ غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں ’’امت “ سے مراد عرب مسلمانوں کی وہ جماعت تھی جس کو مسلمانوں کی سلطنت کے انتظام وانصرام اور استحکام کی ذمہ داری دی گئی تھی، جبکہ زراعت یہاں زمینوں اور جائیدادوں کے حصول اور ان کی دیکھ بھال میں مشغول ہو جانے کی تعبیر ہے۔

مسلمانوں کی عرب قیادت سے جس کردار کی توقع تھی اور جس پر اس سلطنت کے استحکام اور ان کی قیادت وسیادت کے تسلسل کا انحصار تھا، وہ یہ تھا کہ وہ اپنی توجہ سلطنت کی سرحدوں کی حفاظت اور حسب مصلحت ان کی توسیع پر مرکوز رکھیں اور فتوحات سے حاصل ہونے والے وسائل میں حصہ داری اور مراعات کی دوڑ میں شریک نہ ہوں۔ جیسے ہی وہ اس مسابقت کا حصہ بنیں گے، اپنے اس کردار کو بھی کمپرومائز کریں گے اور سیاسی عمل کو اپنے تابع رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر خود سیاسی حرکیات کے زیراثر آ جائیں گے جس کا آخری نتیجہ اقتدار سے محرومی کی صورت میں نکلے گا۔ اب یہ تاریخی وتہذیبی لحاظ سے کتنی گہری بات تھی، یہ سمجھنے کے لیے ابتدائی صدیوں کی اسلامی تاریخ کا ایک سرسری مطالعہ بھی کافی ہے۔

ہمارے تناظر میں اس تہذیبی اصول کی کیا معنویت ہے؟ اس کے لیے پاکستانی فوج کے قومی وسیاسی کردار پر اس کو منطبق کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ قوم سازی اور قومی شناخت کی تشکیل میں فوجی ادارے کا کردار ہمارے ہاں بنیادی رہا ہے۔ فوج کی حریف سیاسی قوتوں کے تمام تر اعتراضات کے باوجود قومی شعور نے بحیثیت مجموعی فوج کے اس کردار کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور ہر طرح کے سیاسی اور عسکری بلنڈرز کے باوجود بطور ادارے کے، فوج کا احترام برقرار اور اس کے قومی کردار کی اہمیت مسلم رہی ہے۔ تاہم اب یہ ادارہ اور خصوصاً‌ اس کی اعلی قیادت جس طرح اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ثانوی مقام دیتے ہوئے مراعات اور وسائل پر حق جتانے کی دوڑ میں لگ گئی ہے، وہ یقینی طور پر اسی صورت حال کے مماثل ہے جس کو مذکورہ حدیث میں، جہاد چھوڑ کر زراعت میں مشغول ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ادارے نے یہ رخ کن اسباب یا مجبوریوں سے اختیار کیا ہے، یہ وہ بہتر جانتا ہے، لیکن اس کا انجام کیا ہے، وہ بتانے کے لیے تاریخ کافی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات اب ظاہر ہونا بھی شروع ہو چکی ہیں۔


ابن خلدون نے بادشاہت کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے یہ اصول بہت خوبی سے سمجھایا ہے کہ قومی وسائل میں سے اشرافیہ کے کن طبقات کو کن حالات میں ترجیحی حصہ دینا بادشاہ کی مجبوری ہوتا ہے۔ ابن خلدون کہتے ہیں کہ بادشاہ کو نظام مملکت چلانے کے لیے دو طبقوں کی ضرورت ہوتی ہے، ایک اہل قلم اور دوسرے ارباب سیف۔ اہل قلم ایک عمومی عنوان ہے جس میں ہر طرح کی مہارت رکھنے والے طبقے شامل ہیں جن کی بادشاہ کو ضرورت ہوتی ہے، مثلاً‌ انتظامی صلاحیت رکھنے والے وزراء، اہل قلم، ادبا، مورخین، شعرا وغیرہ، جبکہ  اہل سیف کا مصداق واضح ہے۔

ابن خلدون کہتے  ہیں کہ جب سلطنت کی ابتدا ہو، تب بھی اہل سیف کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے اور جب سلطنت کا آخری وقت ہو اور داخلی عدم استحکام کی وجہ سے بیرونی خطرہ ہو تو بھی دفاع کے لیے اہل سیف کو ترجیحی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے۔ البتہ جب سلطنت ایک دفعہ مستحکم ہو جائے تو اس میں اہل سیف کی اہمیت بس ہنگامی حالات کے لیے ہوتی ہے، جبکہ مملکت کو چلانے کے لیے اہل قلم کا کردار بنیادی اہمیت حاصل کر لیتا ہے۔

معروضی صورت حال کے لحاظ سے بادشاہ کو اہل سیف یا اہل قلم کے لیے قومی خزانے میں سے خصوصی مراعات دینی پڑتی ہیں۔ مثلاً‌ جب اہل سیف کی اہمیت ہوگی تو ان کا رتبہ، مراعات اور سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ میں حصہ سب سے زیادہ ہوگا۔ اسی طرح استحکام کی حالت میں چونکہ اہل قلم کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے تو رتبے، مراعات، بادشاہ کے ساتھ قریبی تعلقات وغیرہ میں بھی انھی کو ترجیح ہوگی۔

معمولی غور سے سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ اصول آج کے جمہوری نظام حکومت پر کیسے منطبق ہوتا ہے اور یہ کہ کسی ملک کے استحکام کی صورت میں کن طبقات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور مسلسل خطرے سے دوچار ہونے کی حالت میں کون سے طبقات  زیادہ مراعات کے حقدار قرار پاتےہیں۔


سابق آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ مارچ میں اپنی ایک تقریر میں کہا کہ معاشرے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کمزور آدمی کے لیے قانون کچھ اور ہو اور طاقتور کے لیے کچھ اور، کمزور کو قانون پکڑ لے اور طاقتور کو کچھ نہ کہے۔

یہ تو کامن سینس کی بات ہے اور خوشی ہے کہ طاقتور ترین ادارے کو اس کا احساس ہے، لیکن کیا کوئی کسی طریقے سے ان کو یہ سمجھا سکتا ہے کہ جنگل جیسے ملک میں اس صورت حال کی ذمہ داری میں خود وہ کیسے اور کتنے شریک ہیں؟ کیا طاقتور کو تحفظ فراہم کرنے کے اس نظام کی جو hierarchy بنتی ہے، وہ اس سے بے خبر ہیں؟

ان کو ملکی نظام، وسائل اور پالیسیوں پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے فرماں بردار سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جن کو بدلے میں ان کی پشت پناہی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو جاگیرداروں، وڈیروں، چودھریوں، شاہوں اور مخدوموں کی حمایت درکار ہے جو بدلے میں قومی وسائل میں حصہ اور اپنے علاقوں کا اقتدار چاہتے ہیں۔ علاقے کے اقتدار کے لیے کارکنوں اور کارندوں کو دست وبازو بنانے کی ضرورت ہے جن کے اپنے جائز وناجائز مطالبات اور گلی، محلے، شہر کی سطح پر چودھراہٹ کی خواہشیں ہیں۔ ان کی خواہشیں پوری کرنے اور انھیں قانون کی گرفت سے بچا کر رکھنے کے لیے سرکاری مشینری کی معاونت درکار ہے۔ سرکاری مشینری اسی معاشرے میں رہنے والے انسانوں کی ہے جنھیں اپنی جگہ وسائل، اقتدار واختیار اور قانون سے تحفظ چاہیے جو سیاسی نمائندے اور خود سرکاری مشینری کے مختلف حصے امداد باہمی کے طور پر ایک دوسرے کو مہیا کرتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اس پورے سسٹم میں بالکل نچلی سطح پر زیادتی کرنے والے چھوٹے طاقتور کو قانون سے جو تحفظ مل رہا ہے، کیا اس کا منبع اسی سطح پر ہے یا وہ فراہمی تحفظ کی اس پورے نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ جب پورے سسٹم کا ننگا اور برہنہ پیغام یہ ہے کہ طاقت کے بقدر تحفظ ملنا یقینی ہے تو اس کی حتمی  ضمانت آخر کہاں سے مل رہی ہے؟

اگر طاقتور ہمیں تقریروں سے بہلانے کے بجائے خدارا بیٹھ کر اس سوال پر غور فرما سکیں تو خلق خدا کو کچھ نہ کچھ انصاف مہیا کرنے کا چارہ ہو سکتا ہے۔


مغربی استعمار کے زیر تسلط رہنے والے ممالک  کی بعد از استعمار   سیاسی واقتصادی صورت حال کامطالعہ کرنے والے ایک مغربی مصنف  Dietmar Rothermund نے  لکھا ہے کہ ان میں سے بیشتر ممالک میں فوج اپنے افسروں اور سپاہیوں کو عام لوگوں سے بہتر معیار زندگی اور مراعات مہیا کرتی ہے، اس لیے جب ان مراعات کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو فوج ایک ادارے کے طور پر اپنے تحفظ کے لیے فوری طور پر حرکت میں آتی ہے۔ واضح چین آف کمانڈ اور یکجان ہونے کے جذبے کی وجہ سے سیاسی بحرانوں میں فوج فوری اقدام کرنے کے قابل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری دور میں یہ فوجیں اپنی حکومتوں کے اقتدار کو چیلنج نہیں کرتی تھیں (کیونکہ ان کی طرف سے مراعات اور وسائل کی تخفیف کا خطرہ نہیں ہوتا تھا)، لیکن بعد از استعمار بیشتر حکومتوں کو اپنی افواج کی طرف سے بار بار بغاوتوں اور مداخلت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بہت سے لیڈروں کو فوج کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔

(The Routledge Companion to Decolonization, 254)

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں مروج  یہ تجزیہ بہت سادگی پر مبنی ہے کہ سیاسی نظام میں مداخلت اقتدار کے بھوکے "کچھ" جرنیلوں کی شرارت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ افراد کا نہیں، پاور اسٹرکچر کا مسئلہ ہے اور فوجی ادارہ بطور ادارہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ پوزیشن رکھتا ہے اور رکھنے پر مجبور ہے۔ اس لیے وقتی نوعیت کی شرمندگی اور پسپائی سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی  ضرورت نہیں۔ مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔ اس کو اصل بنیادوں پر ایڈریس کیا جائے گا تو حل ہوگا، ورنہ یہی کولہو رہے گا اور یہی بیل۔


اس تناظر میں معروف  کالم نگار جناب عرفان صدیقی نے اپنے ایک تازہ کالم میں  جس بنیادی سوال کی طرف  توجہ دلائی ہے، ہمارے خیال میں   اس پر  سنجیدہ قومی مباحثے کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے:

’’نئے سپہ سالار کو اپنے رفقا کے تعاون سے جائزہ لینا ہوگا کہ فوج کے اندرونی نظام کی کون سی چُولیں کسنے کی ضرورت ہے۔

کون سی باتیں فوج کے وقار کو مجروح کرتی اور چوپالوں کا موضوع بنتی ہیں۔

ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹیز کے وسیع وعریض اور مسلسل فروغ پذیر نیٹ ورک

درجنوں صنعتی وکاروباری منصوبے

پلاٹوں کی خریدوفروخت کا کاروبار

پُرکشش سول عہدوں کا حصول

مارشل لائوں کے باعث سول معاملات میں تجاوزات کا معاملہ

عمومی عالمی جمہوری روایات کے برعکس دفاعی بجٹ کا پارلیمنٹ سے پوشیدہ رہنا

ریٹائرمنٹ کے بعد وسیع زمینی رقبوں کا تحفہ اور ایسے دیگر معاملات اور مفادات کا جائزہ لینا ہوگا جن کا دوسرے جمہوری ممالک میں کوئی تصور نہیں۔

شہداء، غازیوں اور جوانوں کی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو خصوصی استثنا دیا جاسکتا ہے۔“


اگر یہ سوال قوم کی تقدیر سے تعلق رکھنے والا ایک بنیادی سوال ہے کہ قومی وسائل کی تخصیص کیسے ہو رہی ہے، یعنی قوم کا کون سا طبقہ کتنے وسائل سے مستفید ہو رہا ہے اور یہ سوال بہرحال سیاسی قوتوں نے اٹھانا ہے تو اگلا اہم سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قوتیں، داخلی تقسیم سے قطع نظر، اس سوال کے حوالے سے یکسو ہیں؟ یعنی کیا وہ اس پر متفق ہیں کہ اس پر یک جان ہو کر وسائل کی تخصیص کا معاملہ سیاسی قوتوں کے اختیار میں لے آئیں؟ جواب نفی میں ہے، کیونکہ اس وقت تمام سیاسی قوتوں کی ترجیح یہ نہیں، بلکہ وسائل میں حصہ داری حاصل کرنا ہے جس کے لیے "ان" کے ساتھ اچھے تعلقات کی ضرورت ہے۔

چلیے، سیاسی قوتیں متفق نہیں ہیں تو اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ موجودہ متحارب قوتوں میں سے کس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ جتنی اسپیس بنے، اس میں ہی اس سوال کو آگے بڑھانا چاہیں گی؟ بات کا رخ واضح رکھنے کے لیے یہ وضاحت پیش نظر رہنی چاہیے کہ سوال، وسائل کے صحیح استعمال کے بارے میں نہیں، بلکہ ان کی تخصیص کے بارے میں ہے۔ مطلب یہ سوال زیربحث نہیں کہ کون سی سیاسی قوت وسائل کا درست استعمال کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ کون سی سیاسی طاقت، وسائل کی موجودہ تخصیص میں تبدیلی اور نظرثانی کی بات کر سکتی ہے؟

اس حوالے سے ممتاز  تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے ایک تجزیے کا حوالہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ لکھتی ہیں  کہ سیاسی جماعتیں جنرلز کی سیاست میں مداخلت پر تو تنقید کرتی ہیں، لیکن قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ جو جنرلز نے کی ہے، اس کو موضوع بنانے کے لیے ابھی آمادہ نہیں۔ کیونکہ اس کام میں سول اور فوجی قیادت، دونوں حصہ دار ہیں۔ اس مسئلے پر دونوں کے درمیان اصل معرکہ اس وقت بپا ہوگا جب کبھی قومی وسائل اتنے محدود ہو جائیں کہ دونوں کو اس پر لڑنا پڑے کہ کس کو زیادہ حصہ ملے گا۔ فی الحال چونکہ وہ نوبت نہیں آئی، اس لیے کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہیں آ رہی اور پاکستان ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے بحران کی طرف لڑھکتا رہے گا۔


پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(دسمبر ۲۰۲۲ء)

تلاش کریں

Flag Counter