پاکستانی سیاست میں سول بالادستی کی بحث / پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق / مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

محمد عمار خان ناصر

حریفانہ کشاکش سیاست واقتدار کا جزو لاینفک ہے اور تضادات کے باہمی تعامل سے ہی سیاسی عمل آگے بڑھتا ہے۔ برطانوی استعمار نے اپنی ضرورتوں کے تحت برصغیر میں جہاں پبلک انفراسٹرکچر، تعلیم عامہ، ابلاغ عامہ، بیوروکریسی اور منظم فوج جیسی تبدیلیاں متعارف کروائیں، وہیں نمائندگی کا سیاسی اصول بھی متعارف کروایا۔ یہ پورا مجموعہ کچھ داخلی تضادات پر مشتمل تھا جس نے نئی سیاسی حرکیات کو جنم دیا۔ چنانچہ تعلیم، ابلاغ عامہ اور نمائندگی کے باہمی اشتراک سے استعمار کے خلاف مزاحمت کی لہر پیدا ہوئی اور بالآخر استعمار کو یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔

تقسیم کے بعد پاکستانی ریاست کو یہ پورا مجموعہ اپنے داخلی تضادات سمیت بعینہ منتقل ہوا ہے، لیکن اس فرق کے ساتھ کہ اب فوج اور بیوروکریسی استعمار کے نمائندہ نہیں، یعنی انھیں نکال باہر کرنا ممکن نہیں۔ یوں جمہوریت بمعنی سول بالادستی اور مقتدرہ کے مابین کشاکش ایک بظاہر لاینحل مسئلے کے طور پر موجود ہے اور سیاسی عمل کو آگے دھکیل رہا ہے۔ سول بالادستی اپنی آئیڈیل شکل میں مقتدرہ کے کردار کو جن حدود میں محدود کرنا چاہتی ہے، وہ مقتدرہ کے لیے قابل قبول نہیں اور مقتدرہ، جمہوری فیصلہ سازی کو جس طرح اپنی طے کردہ ترجیحات کا پابند بنانا چاہتی ہے، وہ بنیادی طور پر عوامی سیاسی جماعتوں کو قبول نہیں۔ فریقین کے اصل مواقف یہی ہیں اور غیر معمولی حالات میں یہ باقاعدہ بیانیوں کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں، تاہم عام حالات میں ایک ملفوف مفاہمت سے کام چلتا رہتا ہے۔

 پچھلے دو تین سالوں میں ہیئت مقتدرہ جس طرح سیاسی بندوبست کے باب میں بلا ستر سامنے آئی، بعض تجزیہ نگاروں کی رائے اس کے متعلق یہ تھی کہ وہ سیاسی حرکیات میں ایک ایسی مفید پیش رفت  ہے جو مآل کار جمہوری جدوجہد کو مضبوط کرے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو اس بے ستری کو چھپانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی جس سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں تھا کہ یہ سب کچھ کسی وقتی موڈ میں یا ہنگامی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ قصدا اور طویل المیعاد منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس سے ایک کھلا اور واضح پیغام دینا مقصود ہے کہ باگ ڈور ہمارے ہاتھ میں ہے، اس لیے جس کو اقتدار میں کچھ حصہ چاہیے، اسے  ہماری شرائط پر ہمارے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔

یہ پر عزم ننگا پن چند  بڑی تلخ حقیقتوں کی نشان دہی کرتا ہے جس کا سامنا جذباتیت سے نہیں کیا جا سکتا۔   اس کے فوری  عوامل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ   اور اس کے نتیجے میں طاقت کے توازن کا غیر معمولی طور پر فوجی مقتدرہ کے حق میں   ہو جانا ہے۔  اس جنگ کی جو اصل قیمت ہم نے بطور قوم دی ہے، وہ سول حکومت کی بے وقعتی کی صورت میں دی ہے اور اس کا کوئی فائدہ اگر کسی کو ملا ہے تو عسکری ادارے کو، جرات اور حوصلے اور اعتماد میں غیر معمولی اضافے کی صورت میں ملا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی حالیہ  بے ستری اسی اعتماد کا ایک مظہر ہے۔


اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری قوتوں کے مابین طاقت کے اس عدم توازن کو  مستقل طور پر قائم رکھنے والے عوامل میں جس پر جمہوری قوتوں کی باہمی تفریق، کسی بھی شرط پر اقتدار میں حصہ داری کی اندھی خواہش اور سب سے بڑھ کر حقیقی اخلاقی قوت سے محرومی شامل ہیں۔ اخلاقی لحاظ سے عوامی سیاست کے نمائندے اپنی کوئی ساکھ نہیں بنا پائے، اور سیاسی لحاظ سے وہ سول بالادستی کی جدوجہد کے لیے درکار یکسوئی اور داخلی اتحاد کو، موقع دیے جانے پر، حصول اقتدار کے مقصد پر قربان کرتے رہے ہیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ اسی کی تفصیل ہے اور یہی کمزوری، مقتدرہ کی سب سے بڑی قوت ہے۔ مقتدرہ کے پاس حصول اقتدار کی خواہاں متبادل سیاسی قوتوں مثلا ق لیگ اور پی ٹی آئی وغیرہ کو میدان میں لانے کا آپشن بھی موجود ہے اور بڑی سیاسی جماعتیں اپنے مشترکہ سیاسی تجربے کی روشنی میں میثاق جمہوریت جیسے جس معاہدے تک پہنچی تھیں، اسے غیر موثر کر دینے کی صلاحیت سے بھی وہ بہرہ ور ہے۔

سول بالادستی کے حوالے سے  جمہوری قوتوں کابیانیہ اصولی اور نظریاتی طور پر بہت مضبوط ہے، تاہم  اس سوال کو خود جمہوری طاقتوں کے اپنے کردار  سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ کہ کہنے والے کو نہ دیکھو، جو وہ کہہ رہا ہے، اس کو دیکھو، یہ بات فلسفیانہ سطح پر ہی اچھی لگتی ہے۔ انسان کی عمومی نفسیات اس طرح کام نہیں کرتی۔ ایسا ہوتا تو اللہ تعالی ٰ  اپنی توحید سمجھانے کے لیے حسن کردار سے متصف نبیوں کے بجائے بلند پایہ فلسفیوں کو مبعوث فرماتا۔ خاص طور پر جہاں اخلاقی حکم لگائے یا دعوے کیے جا رہے ہوں، وہاں تو یہ منطق بالکل کام نہیں کرتی۔  دوسری بات یہ کہ ادارے کی قوت کا سامنا اداروں کی مدد سے ہی کیا جا سکتا ہے، شخصی مہم جوئی سے نہیں۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو جتنا احترام خود سیاست دان دیتے ہیں، وہ ہمیں معلوم ہے۔ بھٹو مرحوم شاید ڈکٹیٹر شپ کے مزاج کے حوالے سے بدنام زیادہ ہیں، بعد کے سبھی سیاسی راہ نما بشمول میاں صاحب کا اس میں کوئی استثنا نہیں۔

ریاستی  اختیارات کے غلط استعمال کے مسئلے کو  اس کی اصل جڑ سے سمجھنا ضروری ہے۔ ریاستی اداروں کا رد عمل دراصل ان اداروں کے ذمہ داران کا طرز عمل ہوتا ہے جو انسان ہوتے ہیں اور اسی طرح behave کرتے ہیں جیسے نفسیات کے اصولوں کے تحت سارے انسان کرتے ہیں۔ کسی بھی صورت حال میں انسان جو رد عمل ظاہر کرتا ہے، وہ عموما reflexive ہوتا ہے، یعنی سوچا سمجھا، شعوری اور اختیاری نہیں ہوتا، بلکہ اس conditioning کے مطابق ہوتا ہے جس کے تحت انسان کی شخصیت کی تشکیل ہوئی ہے۔ اس میں بہت بنیادی کردار یہ بات ادا کرتی ہے کہ تشکیل شخصیت میں اخلاقی احساسات کی ترسیخ کس قدر شامل ہے اور وہ شخصیت کے حیوانی داعیات کا مقابلہ کرنے کی کس حد تک استعداد رکھتے ہیں۔

طاقت ملنے پر اس کا غلط استعمال، غلطی ہو جانے پر اپنا دفاع، اور خود کو یا کسی تعلق دار کو کسی بھی طرح کے خطرے میں دیکھ کر اس کا تحفظ، یہ سب انسانی نفسیات کے reflexive reactions ہیں۔ اگر اخلاقی احساسات کی مناسب ترسیخ کسی معاشرے کے تربیتی نظام اور ماحول کا حصہ نہ ہو تو پورے معاشرے کا نفسیاتی سانچہ بالکل ویسا بن جاتا ہے جیسا ہمارے معاشرے کا بنا ہوا ہے۔ ہم میں سے ہر فرد اور ہر گروہ اختیار ملنے پر اس کا غلط استعمال کرتا ہے، اپنے یا اپنے تعلق داروں سے کوئی غلطی یا جرم سرزد ہونے پر اپنے تحفظ کے لیے گروہی حمایت، سیاسی اثر ورسوخ، جھوٹ، رشوت، دھاندلی، دھونس اور مخالف پر دباو ڈالنے کے تمام حربے اختیار کرتا ہے اور اسے تعلق داری کا ایک لازمی اور بدیہی تقاضا تصور کرتا ہے۔ انصاف، غلطی کا اعتراف، غلطی کی سزا بھگتنے کے لیے درکار اخلاقی جرات جیسے شخصی اوصاف پیدا کرنے کا کوئی اہتمام ہماری نفسیاتی کنڈیشننگ کا حصہ نہیں ہے۔

ایسی صورت حال میں ہم میں سے جن کو ریاستی طاقت کے مراکز تک پہنچنے اور انھیں استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ بعینہ اسی کنڈینشننگ کے زیر اثر وہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں جس پر ہم اس وقت قومی سطح پر رنج اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سے کسی مختلف کردار کی توقع آخر ہم کس بنیاد پر کر سکتے ہیں؟ زیادہ طاقت حاصل ہونے اور اخلاقی ذمہ داری کے مابین تو معکوس تناسب پایا جاتا ہے۔ طاقت تو ذمہ داری کا احساس پیدا نہیں کرتی، بلکہ پہلی کنڈیشننگ کو ہی مزید مضبوط کرتی ہے۔

یہ وہ ’’کتا ‘‘ ہے جو کنویں میں پڑا ہوا ہے اور ہم اس کو وہیں چھوڑ کر ہر نئے  واقعے کے بعد چالیس پچاس مزید ڈول نکالنے کا مطالبہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔


حالیہ سیاسی کشمکش میں  سول بالادستی  کی علمبردار سیاسی قوتوں نے  جو بیانیہ پیش کیا، اس میں  ’’شخصی کرداروں ‘‘ اور ’’اداروں ‘‘ کا ایک مصنوعی فرق قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو محل نظر ہے۔  خود کو حب الوطنی کا معیار سمجھنے اور اپنے اقتدار کو چیلنج کرنے والے سیاست دانوں کی ملکی وفاداری کو مشکوک ٹھہرانے کی ذہنیت صرف بالائی عسکری قیادت میں نہیں ہے، جیسا کہ مختلف سیاسی قائدین نے باور کرانے کی کوشش کی۔ اپنے ادارے کی بالادست حیثیت، ملکی سیاست میں طاقت کی کشمکش میں اس کے موقف سے وابستگی، اور ملکی قانون سے بالاتر ہونے کا احساس ادارے کے تمام رینکس میں مشترک ہے اور اس درجے میں مشترک ہے کہ نتائج سے بالکل بے نیاز ہو کر درمیانی یا نچلی سطح کی قیادت بھی اس طرح کی مہم جوئی کا حوصلہ کر سکتی ہے جس طرح کی، مزار قائد پر ’’مادر ملت زندہ باد‘‘ کے نعرے لگانے پر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے  میں کی گئی۔  سیاسی حکمت عملی کے طور پر کرداروں اور اداروں میں فرق کیا جا سکتا ہے، لیکن اصل حقیقت نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ بطور ادارہ اپنی امتیازی حیثیت کا احساس، فرق مراتب کے ساتھ، اوپر سے نیچے تک پوری فوج میں سرایت کیے ہوئے ہے اور ہر سطح پر رویے میں جھلکتا ہے۔ اس لیے  سول بالادستی کی بحث میں جلد یا بدیر  پورے ادارے کی حیثیت اور کردار کو  اس کے سارے پہلووں کے ساتھ موضوع بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔

بطور ادارہ فوج کے کردار کو  ایک سنجیدہ  سیاسی مباحثے کا موضوع بنانا  صرف جمہوری سیاست کے لیے نہیں،  بلکہ فوج اور قوم کے باہمی تعلق میں استحکام  کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس حوالے سے تنقیدی سوالات  کے راستے مصنوعی طریقے سے مسدود کرنے کا نتیجہ  فوج سے متعلق ناہموار اور نفرت پر مبنی  اظہارات کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ درست بات ہے کہ فوج  کے سیاسی کردار کی وجہ سے  اس کے دفاعی کردار اور  قومی خدمات  کو نفرت کا نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ تاہم  جب صورت حال یہ ہو کہ سیاست دانوں، مختلف مافیاز، پولیس، دیگر سرکاری انتظامی اداروں، اور مذہبی راہ نماوں سمیت  ہر طبقے کو  شدید تنقید اور طنز وتضحیک کا نشانہ بنانے کی آزادی ہر شخص کو حاصل ہو اور ایسا کرنے پر کسی کا بھی مواخذہ نہ ہو سکتا ہو، لیکن فوج کا نام آتے ہی پوری ریاست خطرے میں پڑ جائے اور فوج واحد ادارے کے طور پر سامنے آئے جس کے تقدس کا مجروح  ہونا ناقابل برداشت ہو تو پھر سوچنے کی بات ہے کہ اس سے فوجی ادارے کا امیج کیا بنتا ہے اور اس سے اظہار نفرت  کی ذہنیت کی اصلاح ہوتی ہے یا اس کو تقویت ملتی ہے؟

اظہار نفرت تو دور کی بات ہے، کسی مزاحیہ پروگرام میں جہاں معاشرے کے ہر طبقے کے مزاح کے انداز میں لتے لیے جا سکتے ہیں، آپ کو کبھی اشارتا بھی کوئی فوجی کردار مزاح کا نشانہ بنتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔ اس کے پیچھے ایک پوری نفسیات جھلک رہی ہے جو ایک قومی ادارے کے لیے، جس کا وجود اور استحکام اور اس پر قوم کا اپنائیت پر مبنی اعتماد اس ملک کے وجود اور استحکام کی ضمانت ہے، ہرگز کوئی مثبت چیز نہیں ہے۔


جہاں تک موجودہ حکمران جماعت کا تعلق ہے تو ۲٠۱۳ء کے انتخابات کے بعد ہم نے عرض کیا  تھا کہ سیاسی رویوں کے حوالے سے مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے بھی طویل تجربات سے ہی کچھ سیکھا ہے، اور یہ کہ تحریک انصاف کو بھی یہ چیزیں سیکھنے کا وقت ملنا چاہیے۔

اقتدار ملنے کے بعد، یقینا تحریک انصاف نے کافی سیاسی سبق سیکھے ہیں جو آئندہ اس کے کام آئیں گے۔ مثلا یہ کہ خالص نظریاتی یا اخلاقی اقدار کی بنیاد پر اقتدار کا حصول یا اس کو برقرار رکھنا ہماری معروضی سیاست میں ممکن نہیں اور اس کے لیے بہت سے سمجھوتے  کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح یہ کہ صرف بلند عزائم اور گڈ گورننس کے لیے اچھے جذبات کافی نہیں، منصوبہ بندی اور سیاسی وانتظامی تجربہ بھی بہت ضروری ہے۔ یہ دونوں سبق اب خود عمران خان بھی دہراتے ہیں۔

ہمارے  خیال میں ابھی یہ سفر جاری ہے۔ کئی اور چیزوں کے علاوہ دو اہم باتیں عمران خان کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے:

ایک یہ کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنانے کی نفسیات سے خود کو اور اپنی جماعت کو کیسے نکالا جائے تاکہ سیاسی عمل کو ہموار طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔ خاص طور پر یہ کہ کرپٹ سیاسی عناصر کو ذاتی دشمن کا درجہ دے دینا سسٹم کی تطہیر کے لیے ہرگز کافی یا اس کے لیے مددگار نہیں۔ یہ ایک لمبا اور صبر آزما عمل ہے۔

دوسرا یہ کہ سیاسی وانتظامی اصلاحات کا مقصد کسی ایک فرد کو بطور نجات دہندہ پیش کر کے اور اس کے لیے فری ہینڈ کا مطالبہ کر کے چند مہینوں یا سالوں میں حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کو ایک مستقل بیانیے کے طور پر سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے تحریک انصاف کا موجودہ، فرد واحد پر منحصر سیاسی سٹرکچر ہرگز موزوں نہیں۔  عمران خان   کے ساتھ تحریک انصاف نے جو رومان وابستہ کیا ہوا ہے، اس کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اس میں خدانخواستہ مذہبیت کی کوئی آمیزش ہوتی تو اب تک کسی نہ کسی مہدی یا اوتار کا ظہور ہو چکا ہوتا۔ اگر یہ ایک طویل جدوجہد ہے تو عمران خان کو اپنی ذات سے آگے بھی اس کے تسلسل کا کوئی بندوبست کرنا ہوگا، کیونکہ سیاست میں دیرپا اثرات چھوڑنے اور سیاسی کیریئر کو ایک personal ambition کے طور پر ترتیب دینے کی ترجیحات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ موخر الذکر کام کسی ایک حلقے کے ایم این اے وغیرہ کو زیب دیتا ہے، سیاسی جماعتوں کے قائدین کو نہیں دیتا۔

پاکستان میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق

گزشتہ دنوں  خیبر پختون خوا کے  ایک گاوں میں   ایک مندر کے منہدم کیے جانے کے تناظر میں   یہ سوال ایک بار پھر زیر بحث آیا کہ  ایک مسلمان ریاست میں  غیر مسلموں  کے شہری ومذہبی حقوق کیا ہیں۔ ہمارا نقطہ نظر اس حوالے سے یہ ہے کہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق اور آزادیوں کا تعلق، مسلم ریاست کی نوعیت اور ان سیاسی اصولوں سے ہے جن پر ریاست کی بنیاد رکھی گئی ہو۔ اس حوالے سے اسلامی تاریخ میں دار الاسلام کا جو قانونی تصور رائج رہا ہے، اس میں اور آج کی جمہوری مسلم ریاستوں میں بہت بنیادی نوعیت کا فرق ہے۔ دار الاسلام کو قانونی لحاظ سے مسلمانوں کا علاقہ مانا جاتا تھا جس میں غیر مسلم ایک معاہدے کے تحت رہتے تھے اور اس کی مخصوص شرائط ہوتی تھیں جن پر سختی سے عملدرآمد کروانا یا نہ کروانا حکمرانوں کی سیاسی صوابدید پر منحصر ہوتا تھا۔ دار الاسلام میں اسلام کی سیاسی حاکمیت کے تصور کا ایک پہلو یہ بھی مانا جاتا تھا کہ غیر مسلم، اپنی مخصوص رہائشی آبادیوں سے باہر یعنی مسلمانوں کی آبادی میں عبادت گاہ نہ بنائیں اور اپنی آبادیوں میں بھی پہلے سے بنی ہوئی عبادت گاہوں پر اکتفا کریں اور نئی عبادت گاہیں نہ بنائیں۔ اس پابندی کو عملا لاگو کرنے میں مختلف ادوار اور حالات میں سیاسی پالیسیاں مختلف رہی ہیں، لیکن اصولا یہ پابندیاں مذہبی قانون کا حصہ مانی جاتی رہی ہیں۔ جدید جمہوری ریاستوں کی بنیاد شہریت کے اس تصور پر نہیں ہے اور خاص طور پر پاکستان کا قیام یہاں کی غیر مسلم آبادی کے ساتھ جن دستوری وعدوں کی بنیاد پر ہوا ہے اور آئین میں بھی ان ضمانتوں کو شامل کیا گیا ہے، وہ ایسی کسی تفریق کی اجازت نہیں دیتے۔ آئین اور ملکی قانون کے مطابق غیر مسلموں کو بھی وہی سیاسی اور معاشرتی حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں، اس لیے دار الاسلام کے تناظر میں بیان کیے گئے تصورات اور قوانین کا یہاں حوالہ دینا بے محل ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ شہری حقوق کا مسئلہ  سیاسہ کے دائرے سے متعلق ہے اور ان معنوں میں اسلامی وغیر اسلامی کی تفریق یہاں بے معنی ہے کہ جو تصور اسلامی تاریخ میں رائج رہا ہے، وہ تو اسلامی ہے اور آج کا جمہوری تصور غیر اسلامی۔ سیاسہ کا مطلب ہی یہ ہے کہ اسلام کی سیاسی حاکمیت کو محفوظ رکھتے ہوئے حالات کے تحت جو بھی سیاسی معاہدہ کیا جائے، وہ اسلامی ہی ہوگا۔ تمدنی وسیاسی امور میں ویسے بھی شریعت نے، اخلاقی تطہیر اور ضروری ترمیم کے ساتھ دنیا میں رائج طریقوں کو  ہی اختیار کیا ہے۔ ذمہ کا تصور اور جزیہ عائد کرنے کا طریقہ شریعت نے متعارف نہیں کروایا۔ یہ پہلے سے موجود تھا جسے موافق مصلحت پا کر اختیار کر لیا گیا۔ دور جدید میں جس طرح جمہوری نظام، بین الاقوامی معاہداتی نظام  اور قانون انسانیت کے باب میں موجودہ عالمی اتفاق کو شرعی مقاصد سے متصادم نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی جواز دے دیا گیا ہے، اسی طرح جدید تصور شہریت کو بھی اسلامی قرار دینے میں کوئی مانع نہیں۔  

مشرقی پاکستان کی علیحدگی : درست تاریخی تناظر

پاکستان کی سیاسی تاریخ  کے ہر طالب علم کے سامنے سوال ہمیشہ ذہن میں آتا ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر شمال مشرق اور شمال مغرب میں واقع دور دراز مسلم خطوں کو ’’ایک‘‘ ریاست بنانے کا فیصلہ کن سیاسی بنیادوں پر کیا گیا؟

پہلی یہ کہ اس حادثے کی جڑیں بعد از تقسیم کے کچھ واقعات میں نہیں، بلکہ خود اس بندوبست میں دیکھنے کی ضرورت ہے جو دونوں خطوں کو ایک ریاست میں ضم کرنے کی صورت میں کیا گیا تھا۔ بہت سے زمینی حقائق اس کے ایک قابل عمل بندوبست ہونے کی نفی کر رہے تھے جنھیں شاید اس لیے نظر انداز کرنا مناسب سمجھا گیا کہ ان کی طرف توجہ دلانے والے تقسیم کے مخالفین اور خاص طور پر مولانا ابو الکلام آزاد تھے۔  یہ شروع سے ہی "ڈومڈ" تھا اور جلد یا بدیر ایسا ہونا ہی تھا۔ہاں، کچھ سمجھداری سے کام لیا جاتا تو یہ اتنے برے طریقے سے نہ ہوتا جیسے ہوا۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ تحریک پاکستان اپنے بنیادی سیاق میں شمال مغرب کے مسلم خطے سے تعلق رکھتی تھی۔ بنگال میں مسلم سیاسی جدوجہد کی حرکیات  پنجاب سے کافی مختلف تھیں اور دونوں خطوں کی سیاسی منزل لازمی طور ایک متحدہ ریاست نہیں تھی۔ چنانچہ ایک خود مختار مسلم خطے کا تصور پیش کرتے ہوئے نہ خطبہ آلہ آباد میں اقبال نے اس کا ذکر کیا، نہ پاکستان کی تجویز میں چودھری رحمت علی نے بنگال کو شامل کیا، بلکہ سوال کیے جانے پر کہا کہ بنگالی اپنی ایک الگ ریاست بنا سکتے ہیں۔ اس نوعیت کی کچھ دیگر تجویزوں میں بھی شمال مغربی ریاست اور حیدرآباد کے علاوہ بنگال کا ذکر ایک الگ ریاست کے طور پر کیا گیا تھا۔ 1940 میں فضل حق نے قرارداد لاہور پڑھی تو اس میں ایک سے زیادہ ریاستوں کا ذکر تھا، لیکن 1946 میں کابینہ مشن کی آمد پر، مذاکرات میں مسلم لیگ کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے قرارداد لاہور میں ترمیم کر کے "ریاستوں" کی جگہ ’’ریاست‘‘ کا لفظ شامل کر لیا گیا۔ (اس حوالے سے بنگلہ دیشی نقطہ نظر وہاں کے قومی انسائیکلو پیڈیا میں دیکھ لینا مناسب ہے جس کے مطابق، بنگالی رہنماؤں نے اس سے اختلاف کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ وہ دو الگ الگ ریاستوں کے تصور کے ساتھ اس جدوجہد میں شریک ہیں)۔

http://en.banglapedia.org/index.php?title=Lahore_Resolution

بہرحال، تقسیم ہند کا فیصلہ ہو جانے پر پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا سوال آیا اور کانگریس اور وائسرائے دونوں نے متحدہ بنگال پاکستان کو دینے کا مطالبہ نہیں مانا تو حسین شہید سہروردی نے کوشش کی کہ مسلم اکثریتی بنگال کو پاکستان کا حصہ بنانے کے بجائے ایک الگ ریاست کے طور پر تسلیم کروایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کوشش کو قائد اعظم کی بھی تائید حاصل تھی، لیکن یہ کامیاب نہیں ہو سکی۔ کانگریس کا خیال تھا کہ یہ بنگال کی تقسیم کو روکنے کی ایک چال ہے، جبکہ وائسرائے کو خدشہ تھا کہ دو سے زیادہ مستقل ریاستوں کے قیام کی اجازت دی گئی تو اس نوعیت کے کئی اور مطالبے بھی ابھر سکتے ہیں جو تقسیم کے عمل کو موخر کر دیں گے۔ یوں گویا مجبورا دونوں خطوں کو ایک ریاست کا حصہ بنانا پڑا۔ یہ ذہن میں رہے کہ اس سے پہلے لارڈ ویول ایک خط میں ایک یا ایک سے زیادہ مسلمان ریاستوں کے امکان کا ذکر کر چکا تھا جس سے واضح ہے کہ صرف ایک مسلم ریاست برطانوی پالیسی کا کوئی طے شدہ حصہ نہیں تھا۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے حصول اقتدار کی اس جدوجہد میں جو سوشیواکنامک پہلو خود مسلمانوں کو داخلی طور پر تقسیم کیے ہوئے تھے، ان کو سامنے رکھے بغیر تاریخ کی درست تفہیم نہیں ہو سکتی۔ قائد اعظم اور مسلم لیگ کی خواہش کلکتے سمیت پورا بنگال پاکستان میں شامل کرنے کی تھی، لیکن صنعتی وسائل سے مالامال کلکتہ نہ ملنے کے بعد باقی کے مفلوک الحال بنگال کی اہمیت مسلم لیڈرشپ کی نظر میں ظاہر ہے، وہ نہیں ہو سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حسین شہید سہروردی کو یہ کوشش کرنے دی گئی کہ وہ بنگال کو ایک مستقل ریاست منوا سکتے ہیں تو منوا لیں۔ یہ بات نہیں مانی گئی تو پاکستان میں بنگال کی شمولیت جس حیثیت سے ہوئی، وہ واضح ہے اور اقتدار وسیاست کی حرکیات کے لحاظ سے مغربی یعنی اصل پاکستان کی لیڈرشپ اور مقتدرہ کا رویہ مشرقی پاکستان کی جانب وہی ہو سکتا تھا جو ہوا۔ بنگالیوں سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ پاکستان میں شامل کر لیے جانے کو ہی اپنے لیے اعزاز سمجھیں اور شراکت اقتدار کے سوال کے حوالے سے اپنی اوقات کو نہ بھولیں۔ 1971 کا سانحہ اسی صورت حال کا ایک منطقی انجام تھا جس کا تجزیہ کرتے ہوئے اب ہم عام طور پر کئی طرح کے ثانوی عوامل کو بنیادی اسباب کے طور پر دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جو ہونا تھا، وہ تو ہو چکا، لیکن ہائنڈسائٹ سے کام لیا جائے تو شاید قرارداد لاہور کے اصل تصور کے مطابق دو الگ الگ ریاستیں بننا ہی خطے کے مسلمانوں کے زیادہ مفاد میں تھا۔ دونوں کے مابین شروع سے ہی کنفیڈریشن کی طرح کا کوئی تعلق ہوتا یا دفاعی معاہدات وغیرہ ہو جاتے تو انڈیا کے مقابلے میں بھی ہماری مجموعی اسٹریٹیجک پوزیشن زیادہ مضبوط ہوتی اور ہم یہ شرمناک تاریخ رقم کرنے سے بھی بچ پاتے۔  کم سے کم یہ ہونا چاہیے تھا کہ  متحدہ ریاست  کے قیام کے بعد صورت حال کے بہت زیادہ بگڑ جانے سے پہلے ہی باہمی مفاہمت سے راستے الگ کر لیے جاتے۔ لیکن اقتدار، ہاتھ میں آیا ہوا خطہ زمین اور وسائل پھر اتنی آسانی سے چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔بہرحال، وکان امر اللہ قدرا مقدورا۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل

(فروری ۲۰۲۱ء)

Flag Counter