محاضرات فقہ: ایک مطالعہ

چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

فرمائش پر لکھنا رقص پا بہ زنجیر کی طرح ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسی شخصیت پر جس کی صرف تصویر ہی دیکھی ہو۔ جناب محمود غازی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے، مگر ان کو دیکھنے اور سننے کا موقع نہیں ملا۔ ایک بار الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تشریف لائے، مگر میں اس روز حاضر نہ ہو سکا۔ البتہ ان کی بعض تحریریں پڑھی ہیں۔ لا کالج کے میرے زمانہ تدریس میں، اسلامی اصول فقہ کا مضمون ملا تو جناب محمود غازی کی محاضراتِ فقہ اپنے مہربان دوست ڈاکٹر محمد اکرم ورک سے مستعار لی۔ اپنی عادت کے مطابق مطالعہ کے دوران میں کتاب کے اہم حصوں کو مختلف رنگین مارکرز کی مدد سے نشان زد کیا۔ مہربان دوست کو جب کتاب واپس کرنے کے ارادے سے دکھائی تو انہوں نے اس ہائی لائٹنگ سے بے زار ہوکر کتاب مجھے تحفے میں عنایت فرما دی۔ ایک کتاب تو تحفہ میں مل گئی مگر لگتا ہے کہ آئندہ کے لیے مستعار کتاب پر مارکرز سے نشان لگانے کی روش ترک کرنا پڑے گی، وگرنہ تحفہ تو ایک بار ہو گیا ہے مگر کتاب کے مستعار ملنے کا راستہ بند ہو جائے گا۔

جناب محمود غازی کے بارے میں سنی ہوئی اور لکھی ہوئی روایات کی بنا پر جو تاثر ابھرتا ہے، اسے بیان کرنے کے بعد ان کی مذکورہ بالا کتاب کے حوالے سے کچھ عرض کر کے اپنے کلام کو مکمل کر دوں گا۔ محمود غازی صاحب پرویز مشرف کی سلامتی کونسل میں رہے۔ اس کے باوجود ان کے بارے میں کوئی منفی چیز باہر نہیں آئی، وگرنہ اقتدار میں رہنا اور وقار بچا کر رکھنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اس سے ان کی شخصیت میں معاملہ فہمی کی صلاحیت کے کمال کا پتہ چلتا ہے۔ بعض لوگ اسے زمانہ سازی بھی کہہ سکتے ہیں، مگر کسی نے ایسا نہیں کہا۔ وہ صاف ستھرے اقتدار میں شامل ہوئے اور اسی طرح باہر ہوئے۔

ان کی شخصیت کے بارے میں دوسرا تاثر یہ سامنے آتا ہے کہ وہ کہنی مار کر آگے بڑھنے کا مزاج نہیں رکھتے تھے۔ اس کے بر عکس وہ دوسروں کو آگے بڑھاتے تھے۔ یہ خوبی بہت ہی کم دیکھی گئی ہے۔ پرانے اساتذہ میں یہ خوبی بدرجہ اتم ہوتی تھی۔ استاد کے مزاج میں یہ خوبی بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ اس خوبی کی وجہ سے بھی جناب غازی صاحب طلبہ اور اساتذہ میں بہت مقبول ہوئے۔

محاضرات فقہ، فیصل ناشران کتب، غزنی سٹریٹ، اردو بازار لاہور سے شائع ہوئے۔ یہ کتاب جناب غازی صاحب کے بارہ خطبات کا مجموعہ ہے۔ یہ خطبات ستمبر اکتوبر ۲۰۰۴ء میں قرآن کی مدرسات کو دیے گئے۔ خطبات اشارات کی مدد سے پیش کیے گئے۔ بعد میں ان کو کتابی شکل میں مرتب کیا گیا۔ کتاب کی مجموعی ضخامت ۵۵۶ صفحات ہے۔ اشاعت جون ۲۰۰۵ء میں ہوئی۔ قیمت ۳۲۵ روپے درج ہے۔ موضوع کے اعتبار سے خاصی ضخیم کتاب ہے۔ اردو میں اس موضوع پر اتنا مواد، یکجا صورت میں بہت کم ملتا ہے۔ انداز بیان بہت سادہ ہے، اگرچہ خطبات کے دوران مخاطبین کی جانب سے مزید سلاست کا مطالبہ ہوتا رہا اور جناب غازی صاحب مزید سلاست کے لیے کوشاں رہے۔

خطبات کا یہ مجموعہ معلومات کا خزانہ ہے۔ اس میں جناب غازی نے فقہ کی ترتیب و ارتقا میں تاریخی پس منظر کو بہت خوبی سے بیان کیا ہے۔ تفہیم کے لیے روز مرہ کی مثالوں سے مدد لی گئی ہے۔ دیگر اصول اور نظام ہاے قانون پر فقہ اسلامی کی برتری ثابت کرنے میں مصنف نے بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ ان کا انداز استدلال بڑا جان دار اور موثر ہے۔ اس میں فقہ و قانون کے طلبہ کے لیے استفادے کے بے پناہ مواقع ہیں۔ ہم یہاں خطبات کے عنوانات درج کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔

(۱) فقہ اسلامی، علوم اسلامیہ کا گل سر سبد

(۲) علم اصول فقہ

(۳) فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص

(۴) اہم فقہی علوم اور مضامین

(۵) تدوین فقہ اور مناہج فقہاء

(۶) اسلامی قانون کے بنیادی تصورات

(۷) مقاصد شریعت اور اجتہاد

(۸) اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون

(۹) اسلامی قانون جرم و سزا

(۱۰) اسلام کا قانون تجارت و مالیات

(۱۱) مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ

(۱۲) فقہ اسلامی دور جدید میں

ذیلی عنوانات کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ جناب غازی نے موضوع کے کم وبیش ہر پہلو پر اظہار کیا ہے۔ ان عنوانات کے انتخاب میں مخاطبین کی ذہنی سطح کا خیال رکھتے ہوئے قدیم و جدید ضروریات کا بھی بھر پور لحاظ رکھا گیا ہے۔

ان خطبات میں دیگر نظام ہاے قانون کا تاریخی پس منظر بڑا اہم اور دلچسپ ہے۔ حمو رابی کا قانون تاریخی طور پر پہلا مرتب مجموعہ قانون ہے۔ اس کا زمانہ تدوین ۱۷۵۰ قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔ دور حاضر میں اس کی تفصیلات ۱۹۰۱ میں دریافت شدہ تختیوں کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ ڈاکٹر غازی صاحب نے اس قانون کی اہم دفعات کا جائزہ لیا ہے۔ اس قانون کی خوبیوں اور خامیوں کو پیش کیا ہے۔ ان کے خیال میں اس قانون میں بعض دفعات میں الہامی تعلیمات کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس کی مثال پیش کرتے ہوئے آنکھ کے بدلے آنکھ، کان کے بدلے کان، چور کے ہاتھ کاٹنے، بد کاری کی سزا موت اور حق طلاق کا مرد سے متعلق ہونے جیسے احکام کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بالآخر حمو رابی کا قانون ناپید ہوااور آثار قدیمہ کی دریافت کے نتیجہ میں آج کے علماے قانون کے لیے مطالعے کا موضوع بنا۔

اسی طرح انہوں نے رومن لا کے خصائص کا بھی احاطہ کیا ہے۔ اس قانون کا ابتدائی زمانہ ۴۵۰ قبل مسیح ہے۔ اسے کئی بار مرتب کیاگیا۔ پھر یہ قانون ترقی کرتے کرتے روما کے ایک فرمانروا جسٹینین کے دور میں از سر نو مرتب ہوا۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا زمانہ ہے۔ اس تاریخی تناظر میں بعض مغربی حلقوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ اسلامی قانون اور فقہ، رومن لا سے ماخذ ہیں۔ زمانی، علاقائی اور مضامین کے حوالوں سے جناب غازی نے اس کی بھر پور تر دید کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ رومن لا میں اشخاص (persons)، اشیا (things) اور اعمال (actions) کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ اس قانون کی ہر کتاب میں اسی ترتیب کو ملحوظ رکھا گیا ہے، جب کہ اسلامی فقہ کی کم و بیش تمام کتابوں میں اس سے بالکل مختلف ترتیب اختیار کی گئی ہے۔

اس کتاب میں بہت ہی قابل قدر مواد موجود ہے۔ پھر اس میں فقہ اسلامی کی بڑی بڑی جدید و قدیم کتب کا تعارف بڑے شاندار انداز میں پیش کیا گیاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو میں ڈاکٹر حمید اللہ کے خطبات بہاولپور کے بعد یہ دوسری کتاب ہے جو جدید وقدیم علوم کے طلبہ کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ شاندار اضافہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کا زیادہ تفصیلی تعارف کرایا جائے، لیکن چونکہ الشریعہ کا خصوصی نمبر پریس میں جانے کو تیار ہے اوروقت کی قلت تفصیلی تعارف کا موقع نہیں دے رہی، اس لیے صرف ایک پہلو سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

آج کا اہم سوال منتخب قانون ساز اداروں کو اجتہاد کے اختیارات دینے یا نہ دینے کا ہے۔ اس سوال کو جناب غازی صاحب نے اس کتاب میں نظر انداز کیا ہے۔ اس احتیاط سے، شاید وہ اپنے خطبات کو متنازعہ ہونے سے بچانا چاہتے ہوں۔ البتہ اس کتاب میں انہوں اجتہاد، اس کی حریت اور سرکاری اثرات اور کنٹرول سے آزادی، پر تاریخی پس منظر کی اتنی زیادہ تفصیل دی ہے کہ ان کے نقطہ نظر کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ خاص طور پر اس وجہ کی بنا پر کہ انہوں نے اتنے ضخیم خطبات میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس سے سرکاری سطح پر اجتہاد کی گنجائش کا شائبہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہو۔ یہاں تک کہ علامہ اقبال کے خطبات کے چند جملوں کی آڑ لینے میں، منتخب اسمبلیوں کے لیے حق اجتہاد کے کا دعویٰ کرنے والوں نے انتہا کر دی ہے۔ اس بارے میں اقبال کی دیگرتحریروں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس پہلو سے جناب محمود غازی نے اقبال کے حوالے سے کہا ہے:

’’انہوں نے ۱۹۲۵ میں یہ لکھا کہ میرے نزدیک مذہب اسلام، اس وقت زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے۔ آج اس بات کی ضرورت ہے کہ احکامِ قرآنیہ کی ابدیت کو ثابت کیا جائے اور جو شخص زمانہ حال کے جوریس پروڈینس پر تنقیدی نگاہ ڈال کر یہ ثابت کرے گا کہ قرآنی احکام ابدی شان رکھتے ہیں ، وہ بنی نوع انسان کا سب سے بڑا محسن اور دور جدیدکا سب سے بڑا مجدد ہوگا۔‘‘ (ص ۵۲۵)
’’علامہ کے نزدیک اس کام کی جو اہمیت تھی، اس کا اندازہ ان کی تحریرسے بخوبی ہوجاتا ہے۔وہ خودیہ سمجھتے تھے کہ اس کام کودنیاے اسلام کے علمی منصوبوں میں اولین ترجیح حاصل ہوناچاہیے۔ مطالعہ شریعت کے اس پہلوپر طویل غور خوض کے بعدوہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس عظیم کام کا بیڑاان کو خود ہی اٹھانا چاہیے۔ ظاہرہے کہ اپنی غیر معمولی بصیرت، قانون دانی، عربی اور انگریزی سے واقفیت کی وجہ سے اور سب سے بڑھ کر اس وجہ سے کہ سب سے پہلے انہی کو اس ضرورت کا احساس ہوا، وہ دوسروں سے کہیں بڑھ کر اس کام کو انجام دے سکتے تھے۔ انہوں نے چاہا کہ بجائے انفرادی طور پر اس کام کو کرنے کے، اجتماعی طور پر کیاجائے۔‘‘ (ص ۵۲۵)

چنانچہ انہوں نے علامہ سید انور شاہ، مولانا شبلی نعمانی، مولانا سید سلیمان ندوی اورمولانا مودودی کو اپنے منصوبے میں شامل کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کوشش کے سلسلے میں:

’’آخر میں انہوں نے مشرقی پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک صاحب ثروت مخلص بزرگ (چودھری نیاز علی) نے اس ادارہ کے لیے زمین بھی دے دی۔ اس میں یہ طے کیا گیا کہ ایک نوجوان عالم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بلایا جائے۔ طے یہ ہوا کہ مولانا مودودی وہاں رہیں گے۔ علامہ بھی سال میں چھ مہینے کے لیے وہاں جا کر رہاکریں گے اوروہاں بیٹھ کر دونوں حضرات اپنی اجتماعی کوشش سے نوجوان علما کوتربیت بھی دیں گے اورفقہ اسلامی کی تدوین نو کا کام بھی کریں گے اور یوں جدیددورکی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے فقہ اسلامی کے قواعد و ضوابط وکوازسرِ نو مرتب کیاجائے گا۔ ‘‘ (ص ۵۲۵)
’’اس کی شکل علامہ اقبال کے ذہن میں کیا تھی؟ وہ کن خطوط پر یہ کام کرنا چاہتے تھے؟ اس کے بارے میں قطعی اور حتمی اندازہ کرنا توبہت مشکل ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر ان کی کوئی تحریر موجودنہیں۔ غالباً وہ یہ چاہتے تھے کہ اسلامی قوانین کو اس طرح سے مرتب کیا جائے کہ ان کے اپنے الفاظ میں احکام قرآنیہ کی ابدیت ثابت ہو۔ دورجدیدکی جیورس پروڈنس پر تنقیدی نگاہ بھی ڈالی گئی ہو اور اس کی کمزوریوں کو واضح کیا جائے۔ ....اس کے لیے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی حیدر آباد دکن میں اپنا گھر بارچھوڑکر، مکان وغیرہ فروخت کر کے اور سب کچھ سمیٹ کر حیدر آباد سے لاہور پہنچے تویہ غالباً جنوری۱۹۳۸ کا واقعہ ہے۔وہ علامہ اقبال سے ملتے ہوئے پٹھان کوٹ گئے۔ لاہور میں کئی دن ان سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ یہ طے ہواکہ علامہ کی صحت جیسے ہی بہتر ہو گی وہ پٹھان کوٹ کا سفر کریں گے۔ لیکن اپریل ۱۹۳۸ میں علامہ کا انتقال ہوگیا۔ اس کام کا نہ تو ابتدائی خاکہ ہی تیار ہو سکا اورنہ کام کا آغاز ہی ہو سکا۔ اس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ دنیائے اسلام کے اس عظیم فرزند اور مفکر کی نظرمیں اس کام کی کتنی اہمیت تھی۔‘‘ (ص ۵۲۵)

علامہ کی اس کوشش کو جناب غازی اجتماعی کوشش کے طور پر ذکرکرتے ہیں۔ جناب غازی صاحب نے بھی کہا ہے کہ علامہ اس کام کو خود انجام دینا چاہتے تھے۔ اس کے لیے وہ علما کی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس میں مولانا مودودی کے سوا کسی نے علامہ کی اس دعوت کو قبول نہیں کیاتھا۔ 

ابتدائی زمانہ میں فقہ کی ترتیب کی ضرورت کے حوالے سے جناب غازی نے ارشاد فرمایا:

’’جب دوسری صدی ہجری کا آغاز ہوا اور دنیائے اسلام کی حدود، دن بدن پھیلتی چلی گئیں تو روزانہ ایسے مسائل پیش آتے تھے جن کے جوابات شریعت کی روشنی میں درکار تھے۔ آئے دن ہر بڑے چھوٹے شہر اور بستی میں نئی رہنمائی کی ضرورت پیش آتی رہتی تھی۔ ان حالات میں اس بات کا خطرہ موجود تھا کہ کسی قابل اعتماد اور مستند فقیہ کی عدم موجودگی میں لوگ کم علمی سے غلط فیصلے نہ کردیں۔ یا کسی کم علم آدمی سے جا کر پوچھنے لگیں اور کوئی غلط رائے قائم کر لیں۔ اس زمانے میں دنیائے اسلام کی حدود چین سے لے کر اسپین تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اسپین اور فرانس کی سرحد کے درمیان ’لے پیرینے‘ نام کا ایک پہاڑی سلسلہ آتا ہے۔ اس کی حدود سے لے کر پورا اسپین، آدھا پرتگال، پورا شمالی افریقہ، پورا مشرق وسطی، پور افغانستان، پورا وسط ایشیا، پورا ایران اور چین کی شمالی سرحد تک دنیائے اسلام کی حدود تھیں۔ اب یہاں اس بات کا امکان ہر وقت موجود تھا کہ کسی گاؤں میں، کسی دیہات میں، کسی سرحدی علاقے میں، نو مسلموں کے کسی بستی میں، کسی آدمی کو کوئی مسئلہ پیش آئے اور وہاں جواب دینے والا کوئی پختہ علم اور پختہ کار فقیہ دستیاب نہ ہو، یا موجود ہو لیکن کچا فقیہ ہو یا کچا بھی نہ ہو لیکن اس معاملہ میں اس کے پاس رہنمائی موجود نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ غلط جواب دے دے۔ یوں لوگ اللہ اور اس کے رسول کی شریعت کو غلط سمجھ لیں اور غلط طریقے سے عمل کریں۔ ان حالات میں بعض فقہائے اسلام نے یہ محسوس کیا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ نئے نئے مسائل، سوچ سوچ کر جواب دیا جائے۔ بجائے اس کے، ہم انتظار میں بیٹھیں کہ کوئی آکر صورت حال اور ممکنہ مسئلہ بیان کر کے شریعت کا مسئلہ پوچھے تو ہم جواب دیں گے۔ ہمیں از خودغور کر کے ممکنہ سوالات اور ممکنہ معاملات فرض کرنے چاہیں اور ان کا جواب تیار کر کے رکھنا چاہیے۔‘‘ (صفحہ نمبر ۴۸)

اسے فقہ تقدیری کہا جاتا ہے۔

جناب ڈاکٹر محمود غازی نے فقہ اسلامی کے ایک اہم امتیازی وصف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ جان آسٹن کے مطابق قانون مقتدر اعلیٰ کا حکم ہے۔ (Law is the command of sovereign) ۔اس کے علاوہ ڈاکٹر صاحب نے مروجہ جدید قانون کے مواخذ بیان کرتے ہوئے ماہرین کی تشریحات اور مقننین کے مرتب کردہ قوانین کا تذکرہ کیا ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ :

’’فقہ اسلامی کی کتابیں ان میں سے کس زمرہ میں آتیں۔ نہ وہ کسی بادشاہ یا فرمانروا کا عطا کردہ چارٹر ہے، نہ کسی سربراہ مملکت کا جاری کردہ آرڈنینس ہے۔ کسی بھی فقہی مسلک کی کوئی بھی کتاب کسی حکمران یا فرمانروا کی دی ہوئی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ خلفائے راشدین کی عطا کردہ بھی نہیں ہے۔ خلفائے راشدین سے زیادہ خدا ترس اور عادل حکمران، دنیا نے آج تک نہیں دیکھے۔ یہ قانون ان کا عطا کردہ فرمان بھی نہیں۔ یہ کسی پارلیمنٹ کا بنایا ہو اقانون بھی نہیں ہے۔ فقہ کی کوئی بھی کتاب یا کوئی حکم جس پر آج مسلمان عمل کرتے ہیں، وہ کسی پارلیمنٹ کا دیا ہوا نہیں ہے۔‘‘ (ص ۱۱۹)

علامہ غازی فقہ کی ترتیب کے حوالے سے کہتے ہیں:

’’جس زمانے میں لوگوں نے اس کو لکھا، انہوں نے ایک زندہ قانون کے طور پر لکھا۔ فقہ تو ان اہل علم کے لکھنے سے پہلے ہی مسلمانوں کی زندگی میں نافذ العمل تھا۔ امام مالک نے جب موطا لکھی تو اس میں جو احکام دئیے گئے وہ پہلے سے لوگوں کی زندگیوں میں جاری و ساری تھے۔ اگر دو چار احکام ایسے تھے بھی جو بڑے پیمانہ پر لوگوں کی زندگی میں جاری نہیں تھے تو امام مالک کے موطا لکھنے کے بعدجاری و ساری ہو گئے۔ اس لیے موطا میں بیان کردہ قانون، ایک لمحہ کے لیے بھی مردہ قانون نہیں تھا۔ .... یہ خصوصیت ہے جو اسلامی قانون یا فقہ کو دنیا کے تمام قوانین سے ممیز کرتی ہے۔‘‘(ص ۱۲۰)
’’فقہ اسلامی کی یہ سب سے نمایاں اور امتیازی خصوصیت آزادی اور حریت کی صفت ہے۔ ‘‘
’’اسلامی قانون دنیا کا واحد قانون ہے جو حکمرانوں اور فرمانرواؤں کے ہر قسم کے اثرات اور رسوخ سے آزاد رہا۔ اس کی تمام تر ترقی اور پیش رفت، اس کی ساری توسیع، تمام گہرائی اور گیرائی ، وہ سب کی سب غیر سرکاری کاوشوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی بھی کسی سرکاری قانون ساز ادارے کا وجود نہیں رہا۔ ایسا قانون ساز ادارہ جیسے آج دنیاکے بہت سے نظاموں میں پائے جاتے ہیں۔آج برطانیہ میں ایک پارلیمنٹ ہے جو برطانوی لوگوں کے لیے قانون بناتی ہے، اچھا یا برا۔ امریکہ میں کانگریس قانون بناتی ہے۔ ایسی کوئی کانگریس یا ایسی کوئی پارلیمنٹ، کسی اسلامی دور میں نظر نہیں آتی۔ نہ یہ قانون سازی سرکاری اور حکومتی کوششوں کی مرہون منت ہے۔‘‘(ص ۱۲۰)

اس امتیازی خصوصیت کی بنیاد اور حکمت کے ذکر میں جناب غازی صاحب فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالی نے ہر انسان کو آزاد بنایا ہے۔ ہر انسان ایک دوسرے کے برابر ہے۔ اس برابری کا تقاضا یہ ہے کہ قانون سب کے لیے ایک اوریکساں ہو۔ اگر قانون سب کے لیے یکساں نہ ہو توپھر مساوات اور برابری نہیں ہو سکتی۔ .... اگر کچھ انسان دوسرے انسانوں کے لیے قانون بناتے ہیں تو قانون بنانے والے بر تر ہوں گے اور قانون قبول کرنے اوراس پر عمل کرنے والے زیر دست ہوں گے۔ جو قانون بنائے گا وہ اپنی فلاح و بہبود اور اپنے مفاد اور مقاصد کے لیے قانون بنائے گا۔‘‘ (ص ۱۲۱)

جناب غازی صاحب نے اپنے خطبہ میں مغربی قانون میں مابعد الطبیعاتی تصور کا ذکر کیا ہے:

’’یہ تصور تیس چالیس سال پہلے پیدا ہوا ہے۔ اس کے مطابق اصول قانون کے تمام احکام سے ماورا، اعلی اور بر تر فطری تصورات پر، اصول قانون کے تصورات کا دار و مدار ہے۔ جب تک یہ بنیادی اور اساسی قواعد نہ ہوں، جن پر اصول قانون کے احکام کی عمارت اٹھائی جا سکے اس وقت تک خود اصول قانون کا تعین دشوار ہے۔ گویا meta-jurisprudence جیسی اہم اور بنیادی چیز جس پر قانون کی آخری سند اور اساس کا دار و مدار ہے، اس پر مغربی دنیا صرف چالیس پچاس سال پہلے آئی ہے۔ اس سے پہلے اس شعبہ علم کا کوئی تصور مغرب میں نہیں تھا۔ اس کے بر عکس میٹا جورس پروڈینس کے تمام اصول و ضوابط قرآن حکیم میں موجود ہیں۔ قران پاک نے ان تمام سوالات کا جواب دے دیا ہے جن پر جورس پروڈینس کی اساس ہوئی ہے۔ یوں وہ بنیادی اصول و ضوابط، جن سے کام لے کر قرآن و سنت سے احکام معلوم کیے جاسکتے ہیں پہلے دئیے گئے ہیں۔ لہٰذا قرآن مجید نے بنیادی سوالات تو ابتدا ہی سے طے کر دیے ہیں۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اہم امور و مسائل میں جہاں جہاں انسان کی عقل کے بھٹکنے اور غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان تھا، ضروری رہنمائی فراہم کر دی ہے اور اہم سوالات کا جواب دے دیا۔ اب رہ جاتاہے مزیدتفصیلات طے کرنے یا روزمرہ کے جزوی مسائل کا جواب دینے کا فریضہ تووہ بھی کسی بادشاہ یاحکمران کے سپردنہیں کیا گیا۔ یہ کام فقہی اجتہادات اور فتاوی کے ذریعے کیاجاتا ہے۔ فتویٰ اور اجتہادکی ذمہ داری شریعت نے فرمانرواؤں کونہیں دی بلکہ یہ ذمہ داری علما اور فقہاکے سپرد کی ہے۔‘‘( ص ۱۲۲)
’’یہی وجہ ہے کہ یہ کام تاریخ اسلام میں نہ کسی فرمانروا نے کیا، نہ بادشاہ نے، نہ خلیفہ نے اورنہ کسی پارلیمنٹ نے۔ اس کام میں سرکار اور دربار کاکبھی کوئی دخل نہیں رہا۔ یہ کام امت اور امت کے اہل علم نے کیا اور انہی کے کرنے کا یہ کام ہے۔ ’’فاسئلوا اھل الذکرا ان کنتم لا تعلمون‘‘ امت کا کام یہ ہے کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزارے۔ قرآن و سنت کے احکام کے مطابق اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو منظم کرے۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا جماعت کو کسی معاملہ میں تامل ہو کہ اس میں شریعت کا حکم کیا ہے اور شریعت کی فہم کیا کہتی ہے تو وہ جا کر اہل علم سے معلوم کرے۔ اہل علم ایسے ہوں جن کے دین اور علم پر یعنی ان کے علم اور تقویٰ، دونوں پر عامتہ الناس کو اعتماد ہو، ان کی بات مان لی جائے۔‘‘(ص ۱۲۲، ۱۲۳)
’’چنانچہ اسی نظام کے تحت فقہائے امت اور علمائے اسلام نے اس ذمہ داری کو انجام دینا شروع کیا۔ جن جن حضرات کی فقہی آرا کی، مسلمانوں میں روز اول سے پیروی کی جا رہی ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی سرکاری منصب کا حامل نہیں تھا۔ امام مالک نے موطا لکھی اور بہت سے قانون اور فقہی مسائل کے جوابات دئیے۔ ان کے دئیے ہوئے جوابات اور ان کی جاری کردہ رولنگز پر دنیائے اسلام کے بہت بڑے حصے میں امام مالک کے اپنے زمانے سے عمل ہو رہا ہے۔ لوگ امام مالک کے علم اور تقویٰ پر غیر معمولی اعتمادکی وجہ سے ان کے اجتہادات پربھروسہ کرتے تھے اور ان کی فقہی آرا، بالفاظ دیگر ان کی قانون سازی پر عمل درآمد کرتے تھے۔‘‘
’’امام مالک سے لوگوں کی محبت اور عقیدت کی یہ کیفیت ہوتی تھی کہ لوگ چھ چھ مہینے کی مسافت طے کر کے امام مالک سے مسائل معلوم کرنے آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص چھ مہینے کی مسافت طے کر کے اسپین سے مراکش پہنچا۔ وہاں سے تیونس، الجیریا، لیبیا، مصر، صحرائے سینا اور پورے جزیرہ عرب کاآدھا حصہ سفر کر کے طے کیا، یہ سب وسیع علاقے عبور کر کے مدینہ منورہ پہنچا اور امام مالک کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ مجھے اہل اندلس نے آپ سے یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا ہے‘‘۔ (ص ۱۲۳)
’’اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ امام مالک سے اہل اندلس کی عقیدت کی کیفیت کیا تھی اور امام مالک کے فتاوی اور ارشادات پرکتنی شدت سے اہل مغرب اوراہل اندلس عمل کرتے ہوں گے۔ کیا امام مالک کسی علاقہ کے فرمانرواتھے؟ کیا ان کوکسی خلیفہ نے مقرر کیا تھا کہ آپ اہل اندلس کے لیے قوانین بنائیں؟ کیاوہ کسی پارلیمنٹ کے رکن تھے؟ کیا وہ کسی کانگریس کے رکن تھے؟ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تھی۔ امام مالک ایک پرائیویٹ شہری تھے۔ ایک مکمل غیر سرکاری حیثیت رکھتے تھے۔ ان کو اللہ نے جو درجہ دیا وہ صرف ان کے علم اور تقویٰ کی وجہ سے تھا۔ علم اور تقویٰ کے علاوہ کوئی دنیاوی منصب یا عہدہ یا اختیار ان کو حاصل نہیں تھا۔ لوگ ان کے فتوی اور ان کی دی ہوئی رولنگز پرعمل کرتے تھے۔ عدالتیں بھی عمل کرتی تھیں اور افرادبھی کرتے تھے اور حکمراں بھی کرتے تھے۔‘‘ (ص ۱۲۳، ۱۲۴)
’’امام اوزاعی امام اہل الشام کہلاتے تھے۔ وہ بیروت میں رہتے تھے اورایک زمانے میں پورا شام جس میں موجودہ فلسطین، لبنان، اردن اور شام اور شمالی سعودی عرب کا کچھ حصہ شامل تھا۔ یہ پورا علاقہ امام اوزاعی کے اجتہادات کی پیروی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ حکمرانوں کوبھی جب ضرورت پڑتی تھی وہ امام اوزاعی سے فتوی معلوم کر کے اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ایک مرتبہ ہارون الرشیدکوکسی ایسے معاملے میں جو بین الاقوامی قانون سے متعلق تھا، جس میں ایک غیر قوم کے ساتھ معاہدہ کرنا تھا، اس میں بین الاقوامی ذمہ داریوں کی قسم کی کوئی چیز تھی، اس نے وہ معاہدہ رائے دینے کے لیے امام اوزاعی کو بھیجا اور انہوں نے جورائے دی، ہارون نے اس کے مطابق عمل کیا۔ کیا امام اوزاعی، سلطنتِ عباسی کے وزیر خارجہ یا وزیرقانون تھے؟ کیاوہ وہاں کے چیف جسٹس تھے؟ بالکل نہیں، وہ ایک عام شہری تھے۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’امام اعظم امام ابو حنیفہ کے اجتہادات کی پیروی آج دنیابھر میں مسلمان بڑی تعداد میں کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کی غالب اکثریت امام اعظم امام ابو حنیفہ کے اجتہادات کی پیروی کررہی ہے۔ امام ابو حنیفہ کے پاس کوئی سرکاری منصب نہیں تھا۔ امام جعفر صادق، امام زید بن علی اور تمام مجتہدین کرام، سب حضرات عام شہری تھے اور علم و تقویٰ کے علاوہ ان میں اور عامتہ الناس میں کوئی امتیاز نہیں تھا۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’طریقہ کار یہ تھا کہ جب کسی شخص کوکوئی مسئلہ پیش آئے، وہ ان میں سے جس فقیہ یاجس مجتہد کے علم اور تقویٰ پر اعتماد کرتے ہوں، اس کے فتوی کے مطابق عمل کریں۔ آج بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ بھی یہی کرتے ہیں، میں بھی یہی کرتا ہوں۔‘‘ (ص ۱۲۴)
’’جب آپ کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے جس میں آپ کو شریعت کے کسی معاملہ میں رہنمائی یا شریعت کے کسی حکم کی تعبیر کی ضرورت ہو تو آپ یا میں کسی وزیر قانون کے پاس نہیں جاتے۔ عدلیہ کے کسی افسر کے پاس نہیں جاتے۔ پارلیمنٹ کے کسی ممبر کے پاس نہیں جاتے۔ ہم صرف اس شخص کے پاس جاتے ہیں جس کے علم اور تقویٰ پرہمیں اعتماد ہو۔‘‘(ص ۱۲۴)
’’اس طریقے سے فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی پر عمل درآمد کوئی بارہ سو سال تک ہوتارہا۔ ان بارہ سو سالوں میں کبھی کسی حکمراں یا فرمانروا کوشریعت کے کسی جزوی حکم پربھی اثر اندازہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی کوشش نہیں کی۔ بعض لوگوں نے کوشش کی، کچھ نے اچھے ارادے سے کوشش کی اور کچھ نے برے ارادے سے کوشش کی، لیکن مسلمان فقہانے ایسی کسی کوشش کوکامیاب ہونے نہیں دیا۔‘‘(ص ۱۲۵)
’’ہارون رشید نے جب اسپین سے ملتان تک پھیلی ہوئی اسلامی سلطنت میں موطاکو بطور قانون رائج کرنے کی اجازت امام مالک سے طلب کی تو امام صاحب نے ہارون رشید کو سختی سے منع کرتے ہوئے کہا کہ وسیع تر سلطنت میں جتنے بھی فقہا اور مجتہدین، اجتہادات اور فیصلے کر رہے ہیں، یہ سب کے سب مختلف صحابہ کرام کے اسلوب کی پیروی کررہے ہیں۔ صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم سیکھا، اجتہاد کی تربیت پائی، شریعت پر غور و خوض کرنے کے آداب سیکھے اوروہ دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں جا کربس گئے جہاں انہوں نے اس اسلوب کے مطابق لوگوں کو تیار کیا۔ اس لیے یہ سارے کی ساری آرا اور تعبیرات صحابہ کرام تک اور ان کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک تک پہنچتی ہیں۔ اس لیے آپ اس آزادی کو، جو امت مسلمہ کو حاصل ہے محدود نہ کریں اور جس انداز سے کام چل رہاہے، اسی انداز سے چلنے دیں۔ غرض امام مالک نے ہارون کی رائے سے اتفاق نہیں فرمایا اور قانون کی آزادی اور خود مختاری پرایک ہلکا سا دھبہ بھی آنے نہیں دیا۔ یہ فقہ اسلامی کی پہلی بنیادی خصوصیت ہے جس کو حریت قانون سازی یا آزادی کہہ سکتے ہیں۔‘‘ (ص ۱۲۷)

قانون سازی کی حریت یا آزادی کے تحفظ کی فکر اہل علم میں آج بھی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے کی ایک کوشش کا ذکر جناب غازی اس طرح فرماتے ہیں:

’’سب سے پہلے رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ایک فقہ اکیڈمی قائم کی۔ اس میں دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں کے نامور فقہا کو جمع کیا گیا اور یہ تمام مسائل ان کے سامنے رکھ دیے گئے اور ان سے کہاگیا کہ وہ اب ایک عملی دستور العمل اور ہدایات تیارکریں جن میں ہر چیز کے بارے میں الگ الگ بتایا گیاہو کہ کیا کرنا ہے۔‘‘
’’رابطہ عالم اسلامی ایک غیر سرکاری ادارہ ہے، اس لیے اس کی فقہ اکیڈمی نے جو مشورے دیے اور جو دستاویزات تیار کیں، ان کی حیثیت بھی ایک غیر سرکاری اور پرائیویٹ قسم کی تھی۔‘‘ (ص ۵۳۳)

تاریخ اسلام میں شخصی سطح پر قانون سازی کی آزادی کا تواتر اسے ایک بنیادی قدر بنا دیتا ہے۔ اجتہاد کی سرکار دربار سے آزادی ہمارا تاریخی اثاثہ ہے۔ یہ اثاثہ بارہ صدیوں پر محیط ہے۔ اسے کسی صورت قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے ائمہ کبار کی عظیم الشان قربانیوں سے ہر کوئی آگاہ ہے۔ ان کی استقامت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ جناب غازی صاحب نے اپنے خطبات میں اس قدرِ حریت کو بڑی خوبی سے واضح کیا ہے۔ ان کا پیرایہ بیان براہ راست کے بجائے بالواسطہ ہے۔ ان کا آہنگ دھیما ہے۔ وہ مخاطب کے ذہن کو غیر محسوس طور پر متاثر کرتے ہیں، لیکن ان کا پیغام ان کے بالواسطہ خطبات سے چھن چھن کر آتا ہے۔ ان کی جانب سے یہ یاد دہانی ہے۔ دور غلامی میں یہ آزادی سلب ہوئی، غلامی سے نجات کے بعد یہ آزادی بحال نہیں ہو سکی۔ کوئی ہے جو اس آزادی کا چراغ جلا سکے!

تعارف و تبصرہ

(جنوری و فروری ۲۰۱۱ء)

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

Flag Counter