ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس

آغا عبد الصمد

وفاقی شرعی عدالت کے جج، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، سابق وفاقی وزیر وسابق ڈائریکٹر جنرل دعوۃ اکیڈمی وسابق صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آبادڈاکٹر محمود احمد غازی کی یاد میں ریجنل دعوۃ سنٹر (سندھ) کراچی اور دارالعلم والتحقیق کراچی کی جانب سے دارالعلم والتحقیق میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیاگیا جس سے انجینئرسید احتشام حسین، ڈاکٹر عبدالشہید نعمانی، ڈاکٹر احسان الحق، مولانا ولی خان المظفر، آغا نور محمد پٹھان اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے خطاب فرمایا، جبکہ صدارت سید فضل الرحمن (ڈائریکٹر دارالعلم والتحقیق) نے کی۔پروگرام میں ڈاکٹر صاحب کی علمی، تحقیقی، قانونی اور عدالتی خدمات اور شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔

تعزیتی اجلاس کا افتتاح قاری محمدیاسین کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد ڈاکٹر سید عزیز الرحمن انچارج ریجنل دعوۃ سنٹر (سندھ) کراچی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ عالم اسلام کی انتہائی ممتاز، انتہائی محترم اور انتہائی وقیع شخصیت، ہمارے اور ہم جیسے عالم اسلام کے بہت سے اداروں کے سرپرست جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں ایک تعزیتی تقریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت یقیناًہر چیز پر حاوی ہے۔ چند روز پہلے تک ہم یہاں ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سننے کے لیے جمع ہوتے تھے اور آج ان کی یاد میں ان کی تعزیتی تقریب کے لیے جمع ہیں۔ انہوں نے غازی صاحب کی سوانح حیات پر مفصل روشنی ڈالی اور ان کی علمی خدمات کو بیان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر محمود احمد غازی جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ان کی موت پورے عالم کا نقصان ہے۔ ڈاکٹر صاحب جیسی صاحب علم وبصیرت، صاحب تفقہ، متوازن ومتواضع اور جدید وقدیم کی جامع شخصیت عالم اسلام میں اب نظر نہیں آتی۔ 

آغانورمحمد پٹھان ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات کراچی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرصاحب اسلام اور علم وادب کے جدید تقاضو ں سے ہم آہنگ تھے۔ ان کی اصل خوبی یہ تھی کہ ایک متواضع اور صاحب علم شخصیت تھے۔ وہ اپنی ذاتی محنت کی بنا پر بڑے بڑے مناصب تک پہنچے۔ وہ ہفت زباں ادیب تھے، بے مثال مقرر تھے اور ایک ایسی سطح پر تھے جہاں وہ بیک وقت مختلف کام کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہر ایک کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آتے تھے۔ وہ بیک وقت منتظم، مدبر، مدیر، محقق اور مصنف تھے۔ ان کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا جب امت مسلمہ کو ان کی شدید ضرورت تھی۔

پروفیسرڈاکٹر حافظ احسان الحق (صدر شعبہ عربی، جامعہ کراچی) نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی صاحب نے دنیا کی مختصر زندگی جو بہت بڑا کام کیا تو اس کام میں نہ صرف ان کی Will powerیا قوت ارادی یا ذاتی محنت کا دخل تھا بلکہ وہ اللہ کی دین تھی اور وہ یقیناًاللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کام کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔ ان سے میرا تعلق طالب علمانہ تھا۔ ان کے بعض بیرونی اسفار میں ساتھ جانے کا اتفاق ہوا۔ ان کے اسفار کا ان کی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا، اپنی تمام ذمے داریاں بحسن وخوبی سرانجام دیتے تھے۔ غازی صاحب بڑے سادہ مزاج آدمی تھے۔ پروٹوکول کا تقاضا نہیں کرتے تھے۔ بہت محبت کرنے والے انسان تھے۔ ان پر علم کا خصوصی نزول ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی با ت تھی کہ مجھے پنجاب یونیورسٹی کے ایک پروگرام میں ان کے دست مبارک سے شیلڈ ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے شاگردوں کی ترقی دیکھ کر خوش ہوتے تھے اوران کو آگے بڑھاتے تھے۔ اسلامی بینکنگ کے حوالے سے آپ کی خدمات قابل قدر ہیں۔ غازی صاحب اعلیٰ اخلاق کا مجسمہ اور صاحب تقویٰ شخص تھے۔ ان کی موت ایک عظیم نقصان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلوبلائزیشن مسلمانوں کے لیے بڑاچیلنج ہے۔ ہمارے دانش ور یک رخے ہوگئے ہیں۔ غازی صاحب مشرقی علوم کے اصل مصادر کے ساتھ ساتھ مغربی علوم سے بھی واقف تھے، ان کاوژن بہت وسیع تھا۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور سوگواران کو صبر کی توفیق عطا فرمائے۔

پروفیسرڈاکٹر عبدالشہید نعمانی (سابق صدر شعبہ عربی، جامعہ کراچی) نے تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے لیے بڑا عجیب موقع ہے کہ میں اپنے ایک دیرینہ دوست اور ساتھی کی تعزیت کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ میں نے اور غازی صاحب نے ایک ساتھ حفظ کیا اور درجہ رابعہ تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ بعد ازاں غازی صاحب اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کی بچپن سے یہی سوچ تھی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے، لہٰذا اس کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے۔ انہوں نے کلاس میں ایک سلطنت قائم کی تھی۔ وہ اس کے صدر اور میں وزیراعظم تھا۔ ڈاکٹر صاحب بڑے ذہین انسان تھے اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ان کی تربیت ان کے والدین کے اخلاص کا نتیجہ تھی۔ ان کے والدین چاہتے تو اپنے بیٹے کو ڈاکٹر یا انجینئر بناتے، لیکن انہوں نے غازی صاحب کو دینی تعلیم کے حصول کے لیے وقف کیا۔ نعمانی صاحب نے مزید کہا کہ غازی صاحب نے اپنے وقت کو ضائع نہیں کیا۔ انہوں نے دینی ودنیوی دونوں علوم پر دسترس حاصل کی اور اپنی محنت، شوق اور لگن سے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ انتظامی عہدوں کے باوجود وہ تعلیم پر توجہ دیتے تھے، ان کا بیشتر وقت تعلیم وتعلم میں گزرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب تمام صلاحیتوں کے جامع تھے۔ ان کی نظر بڑی وسیع تھی۔ اسلامی بینکنگ میں دونوں علوم کے ماہر بہت کم ہیں، لیکن غازی صاحب نے اس موضوع پر بڑ اکام کیا۔ بینکنگ کی تاریخ اور اس کی بنیاد پر ان کی نظر تھی۔ اپنی کتابوں میں انہوں نے اس کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور نہ صرف تنقید کی ہے بلکہ اس کا حل بھی پیش کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے مشن کو آگے بڑھایا جائے، ان کے افکار کو مرتب کیا جائے اور ان کے علمی ذخیرے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔

المظفر ٹرسٹ کے سر پرست مولانا ولی خان المظفرنے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سب سے پہلے میں ڈاکٹر سید عزیزالرحمن کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس نشست کا انعقاد کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی کئی نشستیں اب تک ہوجانی چاہییں تھیں ۔غازی صاحب کی سوچ، فکر، نظریہ اور ان کی آفاقیت، ہمہ جہتی اور ہمہ گیریت کے حوالے سے کئی پروگرام اور میڈیا پر ان کا پرچار ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرغازی صاحب، احمد دیدات، علی میاں اور ڈاکٹر حمید اللہ صاحب اس آخری دور میں امت مسلمہ کا وہ عظیم سرمایہ تھے کہ اب ان کی مثال دنیا کو شاید ہی مل سکے۔ بڑی مدت بعد ایسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔ ان حضرات نے اپنے اپنے میدانوں میں کارہاے نمایاں سرانجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ غازی صاحب سے میری کئی ملاقاتیں صدر وفاق المدارس مولانا سلیم اللہ خان صاحب کے پرسنل سیکرٹری کی حیثیت سے ہوئیں۔ ا پنے ادارے جامعہ فاروقیہ کے معہداللغۃ العربیہ کے حوالے سے میں ان سے ملتا رہا۔ میں نے دیکھا کہ ا ن کے اندر گہرائی بھی تھی اور گیرائی بھی تھی۔ حافظہ بے مثال تھا۔ انہوں نے ہر میدان میں اپنے آپ کو اہل ثابت کیا۔ سب سے بڑا وصف یہ تھا کہ عربی ادبیات میں ان کو کمال حاصل تھا۔ ہندوستان میں ابوالحسن علی ندوی اور پاکستان میں غازی صاحب ایک پایے کے لوگ تھے۔ دینی مدارس کو وہ جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ ماڈل دینی مدارس ان کا منصوبہ تھا اور اس کے لیے انہوں نے نصاب بھی ترتیب دے دیا تھا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم امت مسلمہ کی عبقری شخصیات سے سبق حاصل کریں، علم میں رسوخ پیدا کریں اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کریں۔

تحریک فہم اسلام کے سربراہ انجینئر سید احتشام حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر صاحب، صاحب علم آدمی تھے اور صاحب علم پر گفتگو کے لیے صاحب علم لوگ ہی درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک عالم ساری زندگی علم کے سمندر میں غوطہ زن رہتا ہے اور شام زندگی کے قریب جب وہ سطح آب پر آتا ہے تو اس کے پاس کچھ سیپیاں، کچھ مونگے اور کبھی کبھار کچھ موتی بھی ہوتے ہیں، لیکن اس دنیا میں چند خوش قسمت لوگ ایسے ہیں جو فنا فی العلم ہوکر خود علم کے بحر بے کراں بن جاتے ہیں اور دنیا کو مستفید اور متاثر کرتے ہیں اور اگر میں کہوں کہ فنا فی العلم ہو کر ناپیدا کنار کو اگر آپ مجسم نام دیں تو ڈاکٹر محمود احمد غازی کہلاسکے گا۔ 

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میرے ماموں زاد بھائی تھے۔ ان سے ایک امت فیض یاب ہوئی۔ وہ نہایت جفاکش، محنتی اور درد دل رکھنے والے محقق، عالم، مفکر، داعی اور فقیہ تھے۔ پاکستان اور عالم اسلام کے لیے انہوں نے قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے تصنیف وتحقیق کے میدان میں اپنا لوہا منوایا اور قومی، ملی اور دینی تحریکوں کے پشت پناہ رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی کا آخری سفر جس طمانیت، اطمینان اور استقامت کے ساتھ پورا کیا، وہ پوری امت کے لیے مشعل راہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا شمار ان چیدہ چیدہ افراد میں ہوتا تھا جو دور جدید کے رجحانات پر ناقدانہ نظر رکھتے تھے اور امت کو دینی قیادت فراہم کرسکتے تھے۔

تعزیتی ریفرنس میں زندگی کے مختلف طبقات فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریفرنس کااختتام جناب سید فضل الرحمن صاحب ڈائریکٹر دارالعلم والتحقیق کی دعا سے ہوا۔

اخبار و آثار

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان