ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن

سید علی محی الدین

غازی صاحب کی رحلت کا حادثہ ایسا اچانک ہوا کہ ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ ہم میں نہیں رہے۔ نہ جانے ہم جیسے کتنے طالب علموں نے ان سے استفادے اور رہنمائی کے کیسے کیسے منصوبے بنا کر رکھے تھے، مگر وہ اپنے حصے کا کام انتہائی تیز رفتاری سے نمٹا کر لوگوں کو اداس اور دل گرفتہ چھوڑتے ہوئے بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ اس عالم کو سدھار گئے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔

ڈاکٹر غازی صاحب کو جاننے، سمجھنے اور قریب سے ان کی شخصیت کا مطالعہ کرنے والے آج یقیناًاداس ہیں۔ یہ غم اس بنا پر نہیں کہ ایک استاد، قانون فہم، جدید وقدیم کی جامع، علوم اسلامیہ پر محققانہ نگاہ رکھنے والی، عربی زبان وادب کی ماہر، متوازن ومعتدل اور تعلیمی امور کو سمجھنے والی شخصیت رخصت ہوئی، بلکہ ان تمام کمالات اور خوبیوں کے ساتھ وہ کردار، اخلاق، سیرت، قلبی اور باطنی حالات کے لحاظ سے بھی ان شخصیات میں سے تھے جن کی تعداد محدود تر ہے۔ ہم القابات اور اعزازات عطا کرنے میں نہایت فراخ دل اور سخی واقع ہوئے ہیں۔ راہ چلتے معمولی کارناموں کے حامل افراد کووہ بلندوبالا القابات عطا کر دیتے ہیں کہ الامان والحفیظ۔ غازی صاحب کے سلسلے میں جو لقب اور اعزاز طویل غوروخوض کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے، وہ ’’علم دوست شخصیت‘‘ کا ہے جس کا اوڑھنابچھونا اور دلچسپیوں، مہارتوں اور صلاحیتوں کامرکز ومحور علم ہی تھا۔ 

ڈاکٹر صاحب کی خدمات وخصوصیات ایسی نہیں جنہیں عجلت میں بلاغوروخوض سپردقلم کر د یا جائے۔ ان کے فکری، ذہنی، علمی کمالات بڑا تدبر چاہتے ہیں۔ فوری طور پر حتمی انداز سے طے کرنا کہ وہ عمر بھر کس چیز کے لیے کوشاں رہے، آسان نہیں۔ بسا اوقات خود کام کرنے والی شخصیت کو بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس کا اصل میدان اور دائرہ کیا ہے! اکثرو بیشتر برسوں نہیں، صدیوں پردہ پڑا رہتا ہے۔ عرصہ دراز کے بعد کوئی شخص آکر بتاتا ہے کہ فلاں صدی میں گزرنے والی شخصیت کا اصل کارنامہ کیا تھا۔ اس خیال اور مضمون کو مولانا سید ابوالحسن ندویؒ نے ’’تاریخ دعوت وعزیمت‘‘ میں خوب سمجھایا ہے۔ اصلاً تو اس کتاب میں اصلاح وتجدید کی اسلامی تاریخ میں جو تسلسل ہے، اس کو حضرت ندویؒ نے دکھایا ہے، لیکن ضمناً اس خیال پر بے شمار اشارے ملتے ہیں۔ 

دوسری چیز یہ ہے کہ رخصت ہو جانے والی شخصیت کی خدمات وخصوصیات کو سامنے لانے میں کچھ بے اعتدالی اور مبالغہ آرائی کے ساتھ کچھ مسلمہ اصولوں کو بھی بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔ اتفاقی جملوں اور واقعات کو بنیاد بناکر پوری شخصیت کو بدل دیاجاتا ہے۔ اپنے خیالات کاخول چڑھا کر دوسروں کے افکار کو بیان کیا جاتا ہے اور صوفی کو ملا، متکلم کو مفسر اور محدود قسم کی شخصیات کوعالمی بنا دیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ مبالغہ آرائی اور عقیدت کے تحت سرانجام دیا جاتا ہے۔ اقبال کی مثال سب سے زیادہ واضح ہے۔ اسلامی شریعت کے مداحین اور ناقدین بیک وقت اقبال سے یوں فائدہ اٹھاتے ہیں کہ معلوم نہیں ہو پاتا کہ یہ اقبال کی جامعیت ہے یا استدلال کرنے والوں کی تحریف۔ 

خیر، بات دور نکل گئی۔ غازی صاحب کے کام کا مختصر سا خاکہ ان کے سلسلہ محاضرات کی روشنی میں سامنے لانے کی کوشش کروں گا تاکہ ان کی خدمات کے صرف ایک پہلو کا، جو علوم اسلامیہ کے میدان میں ظاہرہوا، کچھ ہلکا سا اندازہ ہو جائے۔ ان خطبات کے بعض طویل اقتباسات بھی نقل ہوں گے تاکہ مراد اور منشا واضح ہو سکے۔ ان میں سے کچھ محاضرات براہ راست سننے کا شرف بھی مجھے حاصل ہوا۔ 

توسیعی خطبات کے ذریعے علم ومعلومات دینا علمی دنیا میں معروف ومقبول طریقہ ہے اور یہ کئی لحاظ سے اپنے اندر افادیت بھی رکھتا ہے کہ مختصرو قت میں محاضر اپنی زندگی بھر کا مطالعہ پیش کر دیتا ہے۔ یہ روایت برصغیر میں بھی کسی حد تک موجود ہے، اگرچہ کم یاب ہے۔ علامہ اقبال کے مشہور خطبات، مولانا سید سلیمان ندویؒ کے خطبات مدراس، ڈاکٹر حمیداللہ کے خطبات بہاولپور، مولانا سیدا بوالحسن ندویؒ کی ’’ النبوۃ والانبیاء فی ضوء القرآن‘‘ (منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین) اور برصغیر سے باہر ڈاکٹر فواد سیزگین کی ’’التراث العربی‘‘ اس کا معیاری نمونہ ہیں۔ غازی صاحب کے ان خطبات کا آغاز ۲۰۰۳ء میں محاضرات قرآنی سے ہوا اور تکمیل ۲۰۰۹ء میں محاضرات معیشت وتجارت پر ہوئی۔اس لحاظ سے کل۶سال کے عرصے میں محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات شریعت اور محاضرات معیشت وتجارت منصہ شہود پر آئیں۔ 

میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ ۶سال کے مختصر عرصے میں یہ خطبات ان سے دلوائے گئے اور جب اس کی تکمیل ہوئی تو بلاوابھی آگیا۔ ان خطبات کی محرک اول ان کی بہن تھی جو درس قرآن کے عمل سے وابستہ تھیں۔ انھیں سب سے پہلے یہ خیال آیا کہ خالی الذہن عوام الناس کو اسلامی علوم سے روشناس کروایا جائے، لیکن ان محاضرات سے استفادہ اہل علم نے بھی بڑے پیمانے پر کیا۔ ان خطبات میں مذکورہ بالا تمام علوم کے مختلف مضامین ومباحث، اساسی تصورات اور ضروری پہلوؤں کو جس آسان، عام فہم، دل نشین، متوازن او رمعتدل انداز میں بیان کیا گیا ہے، وہ ان کی زندگی بھر کی خدمات میں ایک نمایاں مقام اور حیثیت رکھتے ہیں۔ خالص خشک اور علمی موضوعات ومباحث میں دلچسپی وجاذبیت پیدا کرنا آسان نہیں۔ مغلق، پیچیدہ اور دقیق فنی اصطلاحات کو روز مرہ کی زبان اور مثالوں سے ذہن نشین کرانا ایک مشکل کام ہے۔ 

ان محاضرات کو پڑھ کر اسلامی علوم کی وسعت، گہرائی اور جامعیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اپنے شاندار علمی ماضی، قدیم ورثہ اور اسلاف کے کارناموں پر اعتماد اور اطمینان بڑھتا ہے۔ ایک نہایت حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر وسیع علم رکھنے والی شخصیت اپنی ذاتی رائے اور خیال ظاہر کرنے میں حد درجہ احتراز سے کام لیتی ہے۔ آج کے زمانے میں جن حضرات کی نظر کچھ وسیع ہو جاتی ہے، وہ مسلمات اور علوم وفنون کی نمائندہ شخصیات سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے عدم اعتماد اور حقارت کا رویہ اپنانے لگتے ہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب کی یہ خصوصیت بھی قابل غور ہے کہ اپنے آپ کو ان اسلاف کا ناقل قرار دینے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ ان کی گفتگو واضح، دو ٹوک، ابہام اور الجھاؤ سے پاک، توازن واعتدال، وسعت وجامعیت اور سلیقہ وادب کا نمونہ، سلف پر مکمل اعتماد کی مظہر اور حکمت ودانش سے بھرپور ہوتی ہے۔ وہ مستشرقین اور سرسید احمد خان کی مثبت علمی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ عظیم ترین مفسرین اور محدثین، جن کے حوالے سے ہم مسلکی تعصبات کا شکار ہیں، حکمت کے ساتھ سب کے مطالعہ کی ترغیب اور شوق دلاتے ہیں۔ عقائد اور اعمال کی اصلاح کا حکیمانہ اسلوب وطریقہ متعارف کرواتے ہیں۔ جم کر علمی کام نہ کرنے کے مزاج کا شکوہ کرتے ہیں۔ 

وہ نفاذ شریعت کے سلسلے میں عملی مشکلات اور رکاوٹوں کو سمجھاتے ہیں کہ کچھ مشکلات دستوری اور آئینی ہیں، کچھ کا تعلق ہماری سہل پسندی اور راحت طلبی سے ہے، بعض علم ومہارت کے فقدان سے تعلق رکھتی ہیں، فہم وبصیرت کی کمی بھی موانع میں سے ہے اور کچھ کا عمومی تربیت اور اصلاح کے ساتھ واسطہ ہے۔ ان تمام مشکلات اور رکاوٹوں کا حل تلاش کیے بغیر محض نفاذ شریعت کا نعرہ لگانا عجیب تر ہے۔ ریاست اور اس کے مرکزی اداروں کی اہمیت کا شعور اور نظام کو اسلامی بنانے میں کہاں بیٹھ کر موثر اور مفید کام کیا جا سکتا ہے، یہ چیز نہایت بالغ نظری چاہتی ہے۔ وہ سیاسی وتحریکی شعور بھی رکھتے ہیں۔ سیاست علم وآگاہی کے ساتھ چلتی ہے اور مفید علمی اور قانونی کام کے لیے سیاسی شعور حد درجہ ناگزیر ہے۔ مفکرین کی غلطیوں کی سزا نسلیں اور جماعتیں بھگتتیہیں۔ 

علوم کے میدان میں متعلقہ علم کی تاریخ، آغاز، نمائندہ شخصیات، امہات کتب اور برصغیر میں اس علم کی خدمت کی تفصیلات بتاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ علم کب اور کہاں پیدا ہوا؟ نوک پلک کہاں سنواری گئی؟ عروج کب ملا؟ شرح وتحشیہ کب شروع ہوئی؟ گھن کب لگا؟ برصغیر اور مستقبل میں اس علم کی وسعت کے کیا امکانات ہیں؟ یہ سب چیزیں زیر بحث آتی ہیں۔ نمونے کے طور پر محاضرات قرآنی سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔

برصغیر اور موجودہ پاکستان میں عوامی سطح پر درس قرآن کی تاریخ کیا ہے اور اس مبارک سلسلے کے آغاز کا احساس سب سے پہلے کن حضرات کو ہوا؟ اس ضمن میں فرماتے ہیں:

’’ہمارے موجودہ پاکستان کے علاقوں میں بیسویں صدی کے اوائل میں بعض بزرگوں نے اس کام کو ازسر نو شروع کیا جن میں بڑا نمایاں نام حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور ان کے نامور شاگرد مولانا احمدعلی لاہوری کا ہے۔ مولانا احمد علی لاہوری نے سب سے پہلے لاہور میں ۱۹۲۵ء کے لگ بھگ عوامی درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا جو تقریباً چالیس پینتالیس سال تک، جب تک مولانا زندہ رہے، جاری رہا۔ اس کے بعد سے اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم ہے کہ پاکستان میں چپے چپے میں درس قرآن کی محفلیں جاری ہیں اور مختلف سطحوں اور مختلف انداز سے یہ کوششیں ہو رہی ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو بالعموم اور پاکستان کے مسلمانوں کو بالخصوص قرآن مجید کے پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔‘‘ (ص ۲۸)

عوامی اور عمومی سطح پر تدریس قرآن میں مخاطبین کی ذہنی وعلمی سطح کی رعایت واحترام از حد ضروری ہے۔ سب کو یکساں غذا اور مواد دینا اور مشترکہ اسلوب میں گفتگو کرنا موثر اور مفید نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:

’’درس قرآن کے اسلوب اور منہاج پر بات کرتے ہوئے ہمیں یہ ضرورخیال رکھنا اور دیکھنا چاہیے کہ ہمارے درس کے مخاطبین کون ہیں؟ مخاطبین کا لحاظ رکھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ مخاطبین کی بہت سی علمی اور فکری سطحیں ہوتی ہیں۔ بہت سے پس منظر ہوتے ہیں اور ان سب کے تقاضے الگ الگ ہوتے ہیں۔ بعض اوقات درس قرآن کا مخاطب ایک عام تعلیم یافتہ شہری ہوتا ہے۔ اس کے تقاضے اور ضروریات اور ہوتے ہیں۔ اگر درس قرآن کا مخاطب کوئی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے تو اس کے تقاضے اور معیار اور ہوگا اور اگر فنی تعلیم کے متخصص لوگ آپ کے درس کے مخاطب ہیں، مثال کے طور پر ایک قانون کا متخصص ہے، ایک فلسفہ کا متخصص ہے تو ایسے لوگوں کے تقاضے اور ہوں گے، لیکن اگر آپ کے درس کے مخاطبین قرآن مجید کے متخصصین، مثلاً درس نظامی کے طلبہ یاعلماء کرام ہیں تو ان کی ضروریات اور تقاضے اور ہوں گے۔ اس لیے پہلے یہ تعین کر لینا چاہیے کہ ہمارا ہدف کیا ہے اور ہم کس طبقے کو خطاب کرنا چاہتے ہیں؟ جس طبقے اور جس معیار کے لوگوں سے بات کرنی ہو، اس طبقے کے فکری پس منظر، اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے شبہات، اس طبقے میں اٹھائے جانے والے سوالات اور ان شبہات اور سوالات کا منشا پہلے سے ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔‘‘ (ص: ۲۹)

نزول قرآن کے مقاصد واہداف کیا ہیں؟ شاہ ولی اللہ ؒ نے تین مقاصد بیان کیے ہیں: اخلاق، عقیدے اور عمل کی اصلاح۔ شاہ صاحب کے مقاصد ثلاثہ کی تشریح میں عقیدے اور عمل کی اصلاح کے لیے جو حکمت اور دانش درکار ہے، اس پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:

’’دوسری چیز جو شاہ صاحب نے بیان کی ہے، وہ ہے دمغ العقائد الباطلۃ یعنی وہ تمام باطل عقائد جو لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں، خواہ مسلمانوں کے ذہن میں ہوں یا غیر مسلموں کے، ان سب باطل عقائد کی تردید کی جائے۔ بعض اوقات ایک غلط خیال آپ کے مخاطب کے ذہن میں ہوتاہے اور اس کے دماغ کے مختلف گوشوں میں انگڑائیاں لیتا رہتا ہے، لیکن وہ غلط خیال اس کے ذہن میں اتنا واضح نہیں ہوتا کہ وہ خیال کی شکل میں آپ کے سامنے پیش کرسکے، اس لیے وہ خود تو اس سوال کو پیش نہیں کرے گا۔ اگر آپ از خود اس کی تردید نہیں کریں گے تو وہ سوال اس کے دماغ کے گوشوں میں کلبلاتا رہے گا اور الجھن اس کے ذہن میں قائم رہے گی۔ آپ کے درس قرآن کے باوجود اس کی وہ الجھن صاف نہیں ہو گی۔ اس لیے آپ پہلے سے اس کا اندازہ اور احساس کر لیں کہ مخاطب کے ذہن میں کیا کیا شبہات آ سکتے ہیں اور اپنے درس میں اس شبہے اوراعتراض کا تذکرہ کیے بغیر اور یہ کہے بغیر کہ لوگوں کے ذہن میں اس طرح کا شبہ موجود ہے، وہ از خود اس شبہے اور اعتراض کا جواب ایسے انداز سے دے کہ وہ اعتراض خود بخود ختم ہو جائے تو اس طرح وہ تمام عقائد باطلہ جو لوگوں کے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں، ایک ایک کر کے ختم ہو جائیں گے۔ 
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایسا عقیدہ جو قرآن مجید کی رو سے غلط عقیدہ ہے او ر ایک خیال جو قرآن مجید کی روسے غلط خیال ہے اور ایک تصور جو لوگوں کے ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے، وہ غلط تصور ہے، لیکن کسی وجہ سے اس غلط عقیدہ، غلط خیال یا غلط تصور کے حق میں اس کے ماننے والوں میں کوئی عصبیت بھی پیدا ہوگئی اور اس عصبیت کا کوئی خاص پس منظر ہے تو ایسی صورت حال میں مناسب یہ ہے کہ عمومی انداز اختیار کیا جائے اور قرآن پاک کے موقف کی تشریح وتفسیر اس انداز سے کی جائے کہ وہ غلط فہمی دور ہو جائے۔ اگر آپ نام لے کر تردید کریں گے کہ فلاں شخص یا فلاں گروہ کے لوگوں میں یہ خیال یا یہ چیز غلط ہے تو اس سے ایک رد عمل پیدا ہوگا اور ایسا تعصب پیدا ہو جائے گا جو حق کو قبول کرنے میں مانع ہو گا۔
تعصب سے ضد پیدا ہوتی ہے۔ ضدبالآخر عناد کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پھر انسان کے لیے حق بات قبول کر لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں انسان کا نفس اس کے غلط خیال کو نئے نئے انداز میں سامنے لانا شروع کر دیتا ہے۔ اس اعتراض کا ذکر کیے بغیر اگر آپ اس کا جواب دے دیں تو پھر تعصب کی دیوار سامنے نہیں آتی۔ قرآن مجید کا یہی اصول ہے۔ قرآن میں اکثروبیشتر سوال کا ذکر کیے بغیر او ر اعتراض کو دہرائے بغیر اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ پڑھنے والے کا ذہن خود بخود صاف ہو جاتا ہے اورمعترض کے ذہن کی کجی خود بخود دور ہو جاتی ہے۔ 
شاہ صاحب کی زبان میں قرآن کا تیسرا مقصد نفی الاعمال الفاسدہ ہے یعنی جو اعمال فاسدہ انسانوں میں رائج ہیں، چاہے ان کی بنیاد کسی غلط عقیدے پر ہو یا نہ ہو، ان اعمال کی غلطی کو واضح کیا جائے اور ان کو مٹانے اور درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی غلط رواج انسانوں میں رائج ہو جاتا ہے اور بہت سے لوگ قرآن مجید کا علم رکھنے کے باوجود یہ محسوس نہیں کرتے کہ ان کا یہ رواج قرآن مجید کے احکام کے منافی ہے، یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہیں کبھی اس بات کا خیال ہی نہیں آتا۔ اب اگر آپ نے بطور مدرس قرآن درس کے پہلے ہی دن لٹھ مارنے کے انداز میں یہ کہہ دیا کہ اے فلاں فلاں لوگو! تم شرک کا ارتکاب کر رہے ہو اور اے فلاں فلاں لوگو! تم بدعت کا ارتکاب کر رہے ہو اور تم ایسے ہو اورایسے ہو تواس سے نہ صرف ایک شدید ردعمل پیدا ہوگا بلکہ اس کے امکانات بہت کمزور ہو جائیں گے کہ آپ کا مخاطب آپ کے پیغام سے کوئی مثبت اثر لے۔ اس انداز بیاں سے مضبوط گروہ بندیاں تو جنم لے سکتی ہیں، کوئی مثبت نتیجہ نکالنا دشوار ہے۔ اس طرز گفتگو سے آپ کے اور مخاطب کے درمیان تعصب کی ایک دیوار حائل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ قرآن مجید کی تعلیم بیان کرنے پر اکتفا کریں کہ قرآن کریم کی تعلیم یہ ہے، اس میں حکمت یہ ہے اور اس تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ فلاں فلاں قسم کے کام نہ کیے جائیں تو اگر فوری طور پر نہیں تو ایک نہ ایک دن قرآن مجید کا طالب علم آپ کی دعوت قبول کر لیتا ہے اور قرآن مجید کے مطابق آہستہ آہستہ اس کے غلط طور طریقے اور فاسد عمل درست ہوتے چلے جاتے ہیں۔‘‘ (ص:۲۹۔۳۴)

مغربیت اور اس کے زیر اثر پھیلنے والے افکار سے بچاؤ اور تحفظ محض مواعظ اور تقریروں سے ممکن نہیں، جب تک قرآن کی روشنی میں متبادل اسلامی فکروجود میں نہیں آتا اور اس پر ذہنوں کومطمئن نہیں کیا جاتا۔ موجودہ زمانے میں درس قرآن کے ذریعے ایک بڑا مقصد یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب کا ارشاد ہے:

’’سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب ایک ایسے فکری اور تعلیمی ماحول میں جی رہے ہیں جس پر مغربی افکار، تمدن اور ثقافت کا حملہ روز بروز شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد کے خیالات اور طرز معاشرت پر مغرب کی اتنی گہری چھاپ پڑ چکی ہے کہ درس قرآن میں اس کا نوٹس نہ لینا حقیقت کے انکار کے مترادف ہے۔ مغربی افکار کا اتنا گہرا اثر مسلمانوں کے دلوں اور ذہنوں پر چھا گیا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے لیے اسلام کے عقائد اور تعلیمات میں جو چیز بالکل بدیہی ہونی چاہیے تھی، وہ اب بدیہی نہیں رہی، بلکہ محض ایک نظری اور خیالی چیز بن کر رہ گئی ہے۔ ایسے لوگ بھی ناپید نہیں ہیں جن کے لیے اسلامی عقائد اور احکام میں سے بہت سے پہلو نظری سے بھی بڑھ کر ایک مشکوک چیز بن گئے ہیں۔ نعوذباللہ۔ 
اس لیے جب بھی کبھی دینی ذہن کی تشکیل کا سوال پیدا ہوگا تو یہ بات ناگزیر ہو گی کہ عقیدہ اور فکرکی اس کمزوری اور انحلال کو پیش نظر رکھا جائے۔ آج مغربی افکار سے متاثر لوگوں کے دلوں اور ذہنوں سے مغرب کے منفی اثرات کو دھونا اور اس کے دھبوں کو مٹا کر صاف کرناا ور وہ قلب وبصیرت پیداکرنا جو قرآن مجیدکا مقصود ہے، ایک بہت بڑے چیلنج کے طور پر ہم سب کے سامنے ہے۔ افسوس کہ اس وقت کہیں بھی کوئی مثالی اسلامی معاشرہ نہیں۔ اس وقت ہم کسی مثالی مسلم معاشرے میں نہیں رہتے۔ ہمارا معاشرہ بعض اعتبار سے مسلم معاشرہ نہیں رہا۔ اگرچہ بعض اعتبار سے یہ اب ایک مسلم معاشرہ ہے، لیکن بعض اعتبار سے ہمارے اس معاشرے میں بہت سی خامیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ غیر اسلامی قوتوں نے ہمارے معاشرے،ہماری ثقافتی زندگی، حتیٰ کہ ہماری عائلی زندگی میں اس طرح مداخلت کر لی ہے کہ جگہ جگہ نہ صرف بہت سی خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں بلکہ کئی جگہ فکری، ثقافتی او ر تمدنی خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو پر کرنااور ایک مکمل، متکامل اور متناسق اسلامی نقطہ نظر کی تشکیل کرنا ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے۔ مغربی افکار اور نظریات کے منفی حملے کا سد باب صرف اسی وقت کیا جا سکے گا جب ایک مکمل، متکامل اسلامی متبادل پیش کر دیا جائے گا۔ متبادل اسلامی فکر کی عدم موجودگی میں محض مواعظ اور تقریروں سے اس سیلاب کے آگے بند نہیں باندھا جا سکتا۔‘‘ (ص: ۳۶)

انبیاء کرام کی صحبت اور وحی کے ذریعے حاصل ہونے والا علم ایسا قطعی، یقینی اور رگ وپے میں اترنے والا ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا استدلالی علم اس کو متاثر اور متزلزل نہیں کر سکتا۔ بقول مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ ،امام غزالیؒ کے ذہن میں یہی الجھن اورتشکیک پیدا ہوئی جس نے انہیں بے چین اور مضطرب کردیا اور وہ اس وقت کی سب سے بڑی علمی مسند مدرسہ نظامیہ کی صدارت چھوڑ بیٹھے کہ جو اطمینان اور یقین مجھے اپنے مذہب کی حقانیت اور صداقت پر استدلالی علم کے ذریعے حاصل ہے، وہ ایک یہودی اور عیسائی کو بھی اپنے مذہب کے سلسلے میں حاصل ہے۔ مجھ میں اطمینان اور یقین کی وہ کیفیت جو دو اور دو چار کی طرح ہو، کیوں موجود نہیں کہ اگر کوئی اس کے برعکس استدلال سے ثابت بھی کرے، تب بھی میں اس کو حیرت انگیز واقعے پر محمول کرتے ہوئے اپنے یقین کو قائم رکھوں۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ کے تذکرے میں مولانا ندویؒ نے اس بارے میں گہری تفصیلات بیان کی ہیں۔ یہی وہ بے چینی تھی جس نے امام غزالیؒ کو امامت کے رتبے پر فائز کر دیا۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں استدلال اور صحبت کے ذریعے حاصل ہونے والے اطمینان ویقین میں فرق:

’’ انبیاء کرام ؑ کی شخصیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ رہنے والوں کے قلب ونظر میں اور رگ وپے اور روح وذہن میں ایسا قطعی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ ان کو پھر کسی ظاہری استدلال کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایک چھوٹی مثال دے کر بات کو آگے بڑھاتا ہوں۔ میں عرض کر چکا ہوں کہ عقلی دلائل اور منطقی استدلال کی بنیاد پر جو چیزیں آج ثابت ہوتی ہیں، وہ کل غلط ہو جاتی ہیں۔ ہر ذہین آدمی جو مناظرہ اور لفاظی کے فن سے واقفیت رکھتا ہو، وہ جس چیز کو چاہے دلائل او ر ز بان آوری کے زور سے صحیح یا غلط ثابت کر سکتا ہے۔ سرسید احمد خان کے صاحبزادے سیدمحمود کے بارے میں آپ نے سنا ہو گا کہ وہ اپنے زمانے میں ہندوستان کے سب سے بڑے قانونی دماغ سمجھے جاتے تھے۔ وہ اپنی مصروفیات اور بعض مشاغل کی وجہ سے بہت سی چیزیں بھول جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ کسی عدالت میں کسی فریق مقدمہ کی طرف سے پیش ہوئے اور بھول چوک کی عادت کی وجہ سے یہ بھول گئے کہ کون سے فریق کے وکیل ہیں۔ انھوں نے مخالف کی طرف سے دلائل دینے شروع کر دیے اور مسلسل دیتے رہے، یہاں تک کہ دلائل کا انبار لگا دیا۔ جس فریق نے انہیں اپنا وکیل مقرر کیا تھا، وہ گھبرا گیا، لیکن کچھ کہنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی، اس لیے کہ بہت بڑے وکیل تھے۔ جب ان کے موکلین بے حد پریشان ہوئے تو انہوں نے خاموشی سے کسی کے ذریعے کہلوایا کہ آپ تو ہمارے وکیل ہیں۔ انہوں نے کہا، بہت اچھا! پھر عدالت سے مخاطب ہو کر بولے کہ جناب والا! فریق مخالف کے حق میں بس یہاں تک کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ سب غلط اور بے بنیاد ہے۔ پھر دوسری طرف سے دلائل دے کر اس سارے سلسلہ گفتگو اور استدلال کی تردید کر دی جو وہ اب تک کہہ رہے تھے اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ تودلائل کا تو یہ حال ہوتا ہے کہ آپ اپنے زور بیان، قوت استدلال اور زبان آوری سے کام لے کر جس چیز کو چاہیں، سچا اور صحیح اور جس چیز کو چاہیں، جھوٹا اور غلط ثابت کردیں۔ 
اے کے بروہی ملک کے مشہور قانون دان تھے اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے بانی بھی تھے۔ کسی نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں سب سے بڑا وکیل کون دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا، میں نے اپنی زندگی میں سب سے بڑا وکیل اور قانون دان سہروردی صاحب کو دیکھا ہے۔ وہ بہت ماہر وکیل تھے۔ جب وہ بولتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ جس نقطہ نظر کی وہ تائید کر رہے ہیں، ہر چیز اس کی تائید کر رہی ہے۔ زمین وآسمان، درودیوار اور کمرۂ عدالت، کرسی، میز، غرض ہر چیز ان کی تائید کر تی ہوئی نظر آتی تھی۔ وہ اس طرح سماں باندھ دیتے تھے کہ جس چیز کو چاہتے، صحیح ثابت کر دیاکرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کی کوئی ذاتی دلچسپی تو ہوتی نہیں تھی۔ جو فریق پیسے دیتا تھا، ا س کے حق میں دلائل بیان کر دیا کرتے تھے۔ تو عقل اور استدلالی دلائل تو اس شان کے ہوتے ہیں کہ دلائل دینے والا جب چاہے، جس چیز کو چاہے، غلط ثابت کر دے۔‘‘ (ص: ۶۰)

خامی، کمزوری، عیب اور گمراہی کی اصلاح کیسے ہو؟ بسا اوقات ہمارا رد عمل اور گمراہی سے نمٹنے کا انداز واسلوب مزید شدت اور پختگی کا باعث بن جاتاہے۔ مکاتب فکر اور فرقوں کے وجود میں آنے کی تاریخ اگر سامنے ہو تو معلوم کیا جا سکتا ہے کہ معمولی غلط فہمی پر سخت اور غیر حکیمانہ رد عمل نے اگلی نسلوں میں کیسی عصبیت اور پختگی پیدا کر دی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مستقل فرقے بنتے چلے گئے۔ غلطی اورگمراہی کو اس کی مقدار میں محدود رکھا جانا چاہیے۔ اصول کو فروع اور فروع کو اصول نہیں بنانا چاہیے۔ غازی صاحب سے سوال پوچھا گیا کہ لوگ دہریت کے مرض میں مبتلا ہیں، تبلیغ کیسے کی جائے؟ جوا ب ملاحظہ ہو:

’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص دہریت کے فتنے میں گرفتار ہے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اس فتنے میں کیوں مبتلا ہوا اور وہ کون سے اسباب اور محرکات تھے جو اس فتنہ کا ذریعہ بنے۔ سبب معلوم کرنے کے بعد علاج آسان ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ کسی چیز کی ظاہری چمک اور چکاچوند سے بہت جلدمتاثر ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پرامریکہ، یورپ گئے۔ وہاں کا ظاہری حسن دیکھ کر بعض لوگ بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کی ہر چیز اچھی اور اپنی ہر چیز بری لگتی ہے، لیکن چند سال بعد خود بخود عقل ٹھکانے آجاتی ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ وہ چند مغربی افکار اور تصورات کامطالعہ کرنے کے بعد ایک ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس پہلو سے غلط فہمی ہوئی ہو، اسی پہلو سے اسے دور بھی کیا جائے، لیکن جدید تعلیم یافتہ نوجوان لوگوں کو اسلام سے متاثر کرنے کا بہترین اور سب سے موثر طریقہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ان کارناموں سے متعارف کروایا جائے جو اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے سائنس، تہذیب، تمدن اور علوم وفنون کے میدان میں انجام دیے۔ اس سے ان کے اندر اعتماد پیدا ہوگا۔ ہوتا یہ ہے کہ مغربی افکار اور ثقافت کی چمک بہت گہری ہوتی ہے او را س کے مقابلے میں اپنے ورثہ اور تاریخ کی واقفیت نہیں ہوتی۔ اس عدم واقفیت کی وجہ سے اپنے ورثہ پر اعتماد نہیں ہوتا اور اس عدم اعتماد کی وجہ سے اپنے مستقبل سے مایوسی طاری رہتی ہے۔ دوسروں کے ورثہ سے خوب آگاہی رہتی ہے، اس لیے اعتماد بھی انھی کے مستقبل سے وابستہ رہنے پر ہوتا ہے۔ آپ ایک بچے سے شیکسپیئر کے بارے میں پوچھیں تو وہ خوب بتائے گا، شاید اس کے بہت سے اشعار بھی سنا دے، لیکن ذرا اس سے مولانا رومؒ کے بارے میں دریافت کر کے دیکھیں تو شاید اس نے نام بھی پہلی مرتبہ سنا ہوگا۔ میں ایک صاحب سے ملا ہوں۔ اسپینی مسلمان ہیں، نو مسلم ہیں اور اسلام کے بہت پر جوش مبلغ ہیں۔ ان کے اثرو رسوخ سے تقریباً بیس بائیس ہزار اسپینی اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ان کا اسلام سے واسطہ ا س طرح ہوا کہ ان سے اسپینی حکومت نے کہا کہ ۱۴۹۲ء میں اسپین میں مسلمانوں کو زوال ہوا تھا، اس لیے ۱۹۹۲ء میں مسلمانوں کے زوال کاپانچ سو سالہ جشن منایا جائے اور اس بات کی خوشی منانے کا اہتمام کیا جائے کہ مسلمان یہاں سے پانچ سو سال قبل نکالے گئے تھے۔ ان صاحب سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں آپ ایک کتاب مرتب کر یں جس میں اس دور کے مسلمانوں کے مظالم اور ناانصافیوں کا تذکرہ ہو۔ جب انہوں نے مطالعہ شروع کیا تو انہیں محسوس ہو اکہ عربی زبان سیکھے بغیر یہ کام نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ انہوں نے عربی زبان سیکھ لی اور مسلمانوں کی تاریخ پر کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کام کے دوران میں وہ اپنے ذاتی مطالعات سے اس نتیجے پر پہنچے کہ اسپین کی تاریخ کا سنہری اور زریں دور وہ تھا جب مسلمان یہاں حاکم تھے۔ علوم وفنون کا چرچاہوا، ادارے بنے، بہترین عمارتیں تعمیرہوئیں، مفید کتابی لکھی گئیں۔ نہ مسلمانوں سے پہلے اس قدر کام ہوا تھا اور نہ مسلمانوں کے بعد ہوا۔ یوں انہیں اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی۔ مسلمانوں کے کارنامے جاننے کاموقع ملااور اس طرح اسلام پر اعتماد پیدا ہونا شروع ہوا ۔ اب انہوں نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا۔ پھر حدیث کا مطالعہ کیا اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اپنا سابقہ منصوبہ ادھورا چھوڑ کر اسلام کی تبلیغ میں لگ گئے۔ انہوں نے اپنا نام عبدالرحمن رکھا اور پورا نام عبدالرحمن مدینہ لولیرا ہے۔ میں ان سے کئی بار ملا ہوں۔ میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ان کے تجربے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اصل کمزوری ناواقفی اور اعتماد کافقدان ہے۔ بعض اوقات ایسے عجیب وغریب راستے سے بھی انسان اسلام کی جانب آ جاتا ہے کہ بظاہر اسلام کی مخالفت پرکام شروع کیا جو اسلام کی منزل پر منتج ہوا۔ 
ایک اور صاحب کو میں جانتا ہوں جو امریکی ہیں، انتہائی پرجوش مسلمان ہیں۔ وہ دراصل فلسفے کے طالب تھے۔ فلسفہ کا مطالعہ کرتے مسلم فلاسفہ سے متعارف ہوئے، پھر تصوف اور شیخ محی الدین ابن عربیؒ سے مانوس ہوئے۔ عربی کتابیں پڑھتے پڑھتے تصوف کی طرف مائل ہو گئے اور صوفیائے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ ان کے مطالعے سے محدثین کے مطالعے کاشوق پیدا ہوا اور محدثین سے مفسرین تک آگئے اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے کسی بھی راستے سے کوئی شخص دین کے قریب آ سکتا ہے۔‘‘ (ص ۸۲)

عربیت اور قرآن کا گہرا ربط ہے۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک ارشاد گرامی کامفہوم ہے کہ عربی سے تین وجہوں سیمحبت کرو: میری زبان عربی ہے، قرآن عربی میں ہے اور اہل جنت بھی عربی بولیں گے۔ قرآن مجید کے لیے عربی زبان کا انتخاب محض اتفاق نہیں بلکہ عربی کی بحیثیت زبان کچھ خصوصیات ہیں۔ 

’’ ایک آخری سوال یہ ہے کہ قرآن مجید کے نزول کے لیے عربی زبان کیوں اختیار کی گئی؟ اللہ تعالیٰ تمام زبانوں کا خالق ہے۔ وہ انسان کا بھی خالق ہے اور اس کی زبان کا بھی۔ نزول قرآن کے وقت بڑی بڑی ترقی یافتہ زبانیں موجود تھیں، یونانی، سریانی، عبرانی وغیرہ۔ ان سب زبانوں میں مذہبی ادب موجود تھا۔ ان سب کو چھوڑ کر عربی زبان کا انتخاب کس بنیا د پر عمل میں آیا؟ اس سوال پر اگر تھوڑا سا غورکریں تو دو چیزیں سامنے آتی ہیں۔ چونکہ قرآن مجید رہتی دنیا تک نازل کیا جانا تھا اوراس کے ذریعے سے بے شمار نئے تصورات دیے جانے تھے، اس لیے قرآن مجید کے لیے ایک ایسی زبان کا انتخاب کیا گیا جو ایک طرف اتنی ترقی یافتہ ہو کہ قرآن جیسی کتاب کے اعلیٰ ترین مطالب کا تحمل کر سکے اور انہیں اپنے اند ر سمو سکے اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچا سکے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری تھاکہ اس زبان میں کوئی غیر اسلامی تصورات نہ پائے جاتے ہوں اور نہ ہی اس زبان پر کسی غیر اسلامی نظریہ کی چھاپ ہو۔ ہر زبان کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کا ایک مزاج ہے۔ فرانسیسی، ہندی، سنسکرت وغیرہ زبانوں کے اپنے اپنے مزاج ہیں۔ کسی زبان کا یہ مزاج اس قوم کے عقائد، تصورات اور خیالات کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی ز بان کا مزاج ایسا ہے کہ اگر آ پ اس میں ایک گھنٹہ بھی بات کریں اور کوئی صاف بات نہ کرنا چاہیں تو آپ کر سکتے ہیں۔ سننے والا سمجھ نہیں سکے گا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ آپ کی بات مثبت ہے یامنفی ہے۔ تائید میں ہے یا تردید میں ہے۔ دوستی میں ہے یا دشمنی میں ہے۔ کچھ ظاہر نہ ہوگا۔ یہ حیلہ گری اور شعبدہ بازی صرف انگریزی زبان ہی میں ممکن ہے، کسی اور زبان میں ممکن نہیں ہے۔ اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ آپ صدر بش کے ساتھ ہیں یا صدر صدام کے تو اگر اس کا جواب اردو میں دیں تو آپ کو ہاں یا نہیں میں واضح اور دو ٹوک اندا ز میں کہنا پڑے گا۔ لیکن انگریزی زبان ایسی زبان ہے کہ آپ اس کے جواب میں ایک گھنٹہ بھی بولیں تو کسی کو پتہ نہیں چل سکے گا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ یہ اس زبان کا خاصہ ہے۔ اسی طرح ہر ز بان کا ایک خاصہ ہوتا ہے۔ نزول قرآن کے لیے ایسی زبان کا انتخاب ضروری تھا کہ جو ایک طرف تو مکمل طور پر ترقی یافتہ ہو اور دوسری طرف اس پر کسی غیر اسلامی عقیدے یا تصور کی چھاپ نہ ہو۔ عربی کے علاوہ اس وقت کی تمام ز بانوں پر غیر اسلامی عقائد وخیالات کی گہری چھاپ موجود تھی۔ عربی ز بان ترقی یافتہ بھی تھی اور ایسی ترقی یافتہ کہ آج تک کوئی ز بان اس مقا م تک نہیں پہنچ سکی۔ اس کے ساتھ اس پر کسی غیر اسلامی عقیدے یا نظریے کی چھاپ نہیں تھی۔ ایک اعتبار سے یہ کنواری زبان تھی۔‘‘ (ص: ۱۱۴) 

متون اور عبارات کی تشریح وتفسیر کے مسلمہ اصول وضوابط موجود ہیں۔ علم اصول فقہ دراصل تشریح وتعبیر ہی کے قوانین ہیں جو آغاز میں تفسیر قرآن کے لیے مرتب کیے گئے اور پھر انہیں مستقل علم وفن کی حیثیت دے دی گئی۔ علم تفسیر کی تاریخ ومقاصد پر یوں روشنی ڈالی گئی:

’’اس کتاب سے راہنمائی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو سمجھنے اور منطبق کرنے میں ان اصولوں اور قواعد کی پابندی کی جائے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے تفسیر وتشریح قرآن کے لیے برتے جا رہے تھے۔ صحابہ کرامؓ کے اجتماعی طرز عمل اور امت مسلمہ کے اجتماعی رویہ، تعامل اور فہم قرآن کی روسے تفسیر قرآن کے لیے ایسے مفصل اصول اور قواعد طے پاگئے ہیں جن کی پیروی روز اول سے آج تک کی جا رہی ہے۔ ان اصولوں کا واحد مقصدیہ ہے کہ جس طرح کتاب الٰہی کا متن محفوظ رہا، اس کی زبان محفوظ رہی، اسی طرح اس کے معانی اور مطالب بھی ہر قسم کی تحریف او راشتباہ سے محفوظ رہیں او ر اس بات کا اطمینان رہے کہ کوئی شخص نیک نیتی یا بد نیتی سے اس کتاب کی تعبیر وتشریح طے شدہ اصولوں سے ہٹ کر من مانے انداز سے نہ کرنے لگے۔ کسی بھی قانون، کسی بھی دستورکی تشریح وتعبیر اگر من مانے اصولوں کی بنیاد پر کی جانے لگے تو دنیا میں کوئی نظام ہی نہیں چل سکتا۔ جس طرح دنیا کی ہر ترقی یافتہ تہذیب میں قانون ودستور کی تعبیر وتشریح کے اصول مقرر ہیں جن کی ہر ذمہ دار شارح پیروی کرتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی تفسیر وتعبیر کے بھی اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کی پیروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے صحابہؓ نے کی، تابعین اور تبع تابعین نے کی، تاآنکہ ان تمام اصولوں کو اکابر ائمہ تفسیر اور اہل علم نے دوسری اور تیسری صدی میں اس طرح مرتب کر دیا کہ بعد میں آنے والوں کے لیے پیروی بھی آسان ہوگئی اور قرآن مجید کی تعبیر وتفسیر کے لامتناہی راستے بھی کھلتے چلے گئے۔ قرآن مجید کو من مانی تاویلات کا نشانہ بنایا جائے تو پھر یہ کتاب ہدایت کی بجائے گمراہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ بہت سے لوگ اس سے گمراہ بھی ہوتے ہیں اور بہت سے لوگ اس سے ہدایت بھی پاتے ہیں۔ یضل بہ کثیرا ویہدی بہ کثیرا۔ 
اس کتاب سے گمراہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو پہلے سے اپنے ذہن میں کچھ طے شدہ عقائد، نظریات اور خیالات لے کر آئیں اور ان کو کتاب الٰہی میں اس طرح سمونے کی کوشش کریں اور اس کے الفاظ کی تشریح وتعبیر اس انداز سے کریں کہ اس سے ان کے اپنے عقائد ونظریات اور افکار وخیالات کی تائید ہو۔ گویا خود کتاب الٰہی کے تابع بننے کی بجائے کتاب الٰہی کو اپنا تابع بنائیں۔ یہ ایک ایسی وبا ہے جس کا شکار ماضی کی قریب قریب تمام اقوا م ہوئیں۔ انہوں نے اپنی اپنی آسمانی کتابوں میں تحریف کی۔ آسمانی کتابوں کے معانی اور مفاہیم میں رد وبدل کیا اور ان کے احکام کی تعبیر وتشریح اس طر ح من مانے انداز میں کی کہ وہ ان کے اپنے تصورات ونظریات، عقائد وآداب، غلط رسم ورواج، فاسد نظریات اور باطل تقاضوں کے تابع ہو جائیں اور ان چیزوں کو کتاب الٰہی کی ظاہری تائید ملتی رہے۔ 
یہ وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن مجید میں بار بار تنبیہ کی گئی ہے اور مسلمانوں کو روکا گیا ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یہ بات ارشاد فرمائی اور آپ کا یہ ارشاد گرامی احادیث متواترہ میں شا مل ہے کہ جس نے قرآن مجید کے بارے میں محض اپنی ذاتی رائے اور اپنی عقل کی بنیاد پر کوئی بات کی (یعنی تفسیر قرآن کے قواعد، اصول تشریح، طے شدہ معانی ومطالب سے ہٹ کر کوئی بات اس کتاب سے منسوب کی) وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ اس انجام سے بچنے کے لیے اہل علم نے دور صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک اس کا اہتمام کیا ہے کہ قرآن مجید کے متن کی طرح اس کے معانی کی بھی حفاظت کی جائے اور ان گمراہیوں کا راستہ بند کیا جائے جن کا یہود ونصاریٰ شکار ہوئے۔ چنانچہ قرآن مجید کے معانی ومفاہیم، پیغام ومطالب کی اصالت اور تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے علم تفسیر کی ضرورت پیش آئی۔‘‘ (ص: ۱۵۶)

تفسیری ذخائر میں کلامی، فقہی، منطقی، ادبی، سائنسی، لغوی اور تحریکی رجحانات موجود ہیں اور کچھ تفاسیر جامعیت کا بھی نمونہ ہیں۔ مقبول ترین یا نمائندہ تفاسیر کون سی ہیں؟ یہ ا یک مشکل سوال ہے۔ جواب ملاحظہ فرمائیں:

’’گزشتہ صدی (یعنی چودھویں صدی ہجری اور بیسویں صدی عیسوی) میں جن تفاسیر نے تفسیر ی ادب اور مسلمانوں کے عمومی فکر پر بہت زیادہ اثر ڈالا، ان کے بارے میں تفصیل اور قطعیت سے کچھ کہنا بہت دشوار ہے۔ دو ماہ قبل کی بات ہے کہ کسی مغربی ادارہ سے ایک سوال نامہ آیا جس میں یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوئے کہ بیسویں صدی میں مسلمانوں پر کن علمی اور فکری شخصیات اور نامور لوگوں کے سب سے زیادہ اثرات ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی مذہبی فکر کی تشکیل میں کن شخصیتوں یا عوامل کا سب سے زیادہ اثر رہا ہے، اس کے بارے میں وہ شاید کچھ معلومات جمع کرنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بڑے بڑے اداروں اور نامور شخصیتوں کو خطوط لکھے اور پوچھا کہ دنیائے اسلام کی وہ دس اہم شخصیتیں کون سی ہیں جن کا مسلمانوں پر بہت گہرا اثر ہے اور وہ کون سی دس اہم تفاسیر ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو سمجھنے میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ مدد کی۔ ہماری یونیورسٹی میں بھی یہ سوال آیا اور کئی اہل علم حضرات نے بیٹھ کر اس پر غور وخوض کیا۔ انہو ں نے یہ محسوس کیا کہ اس کا تعین کرنا بے حد دشوار ہے۔ بیسویں صد ی کی کون سی وہ تفاسیر ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ سب سے زیاد ہ مقبول اور سب سے زیادہ نمائندہ حیثیت کی حامل تفاسیر ہیں، اس لیے کہ ہر تفسیر کے اپنے اپنے اثرات ہیں۔ جن لوگوں نے جو تفاسیر زیادہ پڑھی ہیں یا جو لوگ جس مفسر سے زیادہ مانوس ہیں، ان کے خیال میں وہی تفسیریں اور وہی مفسرین اس باب میں سب سے زیادہ نمایاں ہیں اور جنہوں نے کسی دوسری تفسیر کو زیادہ پڑھا ہے اور اس کے مفسر سے زیادہ کسب فیض کیا، ان کے خیال میں وہ نمایاں ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تمام تفاسیر ہی اپنی اپنی جگہ نمایاں ہیں۔
بعض تفاسیر ایسی ہیں کہ انہوں نے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا۔ مثلاً مولانا مودودی صاحب کی تفہیم القرآن جسے لاکھوں انسانوں نے پڑھا اور آج بھی لاکھوں قارئین اس کو پڑھ رہے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا اور ایک نیا رجحان تفسیر میں پیدا کیا۔ مفتی محمد شفیع صاحب کی تفسیر معارف القرآن جس کے پچیس تیس ایڈیشن چھپ چکے ہیں، اتنی کثرت سے شاید کسی اور تفسیر کے ایڈیشن نہیں نکلے۔ عرب دنیا میں سید قطب کی فی ظلال القرآن ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ اس قدر کثرت سے اس کے ایڈیشن نکلے ہیں کہ تعداد کا اب اندازہ کرنا بھی مشکل ہے، حالانکہ یہ تفسیر جیل میں بیٹھ کر لکھی گئی تھی جہاں ان کے پاس نہ کتابیں تھیں، نہ وسائل تھے اور نہ مآخذ ومصادر تھے۔ انہوں نے اس تفسیر کو اپنے تاثرات کے انداز میں لکھا۔ عربی زبان کے ایک بالغ نظر ادیب کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی میں عربی میں کوئی تحریر اتنی جاندار اور اتنی زور دار نہیں لکھی گئی جتنی سید قطب ؒ کی فی ظلال القرآن ہے۔‘‘

یہ انتخاب اور طائرانہ نگاہ فقط محاضرات قرآنی پر ہے۔ وقت اور موقع ملاتو ان شاء اللہ دیگر محاضرات پر بھی مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔

تعارف و تبصرہ

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

Since 1st December 2020

Flag Counter