اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں

مولانا حافظ محمد رشید

جدید ترین اور حیران کن ذرائع ابلاغ کی ایجادات اور پھیلاؤ کی وجہ سے اکیسویں صدی کو اگر ذرائع ابلاغ و اطلاعات یعنی Information Technology کی صدی کا نام دیاجائے تو غلط نہ ہوگا۔تاہم ذرائع اطلاعات نے جس تیزی اور سرعت سے دہشت ناک حد تک ترقی حاصل کرلی ہے، اس کے برعکس نوع انسانی کو ’’درست اطلاعات‘‘ اور ’’نفع مند معلومات‘‘ پہنچانے والے دنیا میں بے حد کمیاب ہی نہیں بلکہ بے حد کمزور بھی ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ آج کی دنیامیں جدید ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا استعمال نوع انسانی کو مذہب، اخلاق، حیا اور انسانیت کو مسخ کرنے اور تباہی و بربادی کی آخری حدوں تک پہنچانے میں ہورہا ہے۔ وہ کمیاب لوگ جو نوع انسانی کی بقا، فلاح، اصلاح اور ترقی و خوشحالی کے لیے نوع انسانی کو معلومات و اطلاعات پہنچا سکتے ہیں، ان کی آواز ان جدید ترین ذرائع ابلاغ کے ذریعے نوع انسانی تک پہنچنے ہی نہیں دی جاتی کہ انسانیت علم کے نام پر جہالت، خود فراموشی اور خدا فراموشی کے جس نشے میں مدہوش ہوچکی ہے، کہیں اس کا یہ نشہ ٹوٹ نہ جائے۔ کہیں نوع انسانی ہوش میں نہ آجائے، نوع انسانی کو کہیں اپنی حقیقت، اپنے خالق کی پہچان اور اپنے ابدی انجام سے آگاہی نہ حاصل ہو جائے۔ یہ وہ خوف ہے جو نظام ابلیس کے ایجنٹوں کوہر وقت ستائے رکھتا ہے اور وہ جدید ایجادات کے ذریعہ سے نوع انسانی کو نفس پرستی و ہوس پرستی کے نشے میں مدہوش رکھنے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اور قوتیں صرف کیے ہوئے ہیں۔ لہٰذا نوع انسانی کی حقیقی فلاح و بہبود کے لیے اٹھنے والی کسی بھی طاقتور آواز کو ’’انسان دشمن‘‘ اور ’’تہذیب دشمن‘‘ کا نام دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف نوع انسانی کی رہنمائی مذہب کی صاف، سچی اور پاکیزہ تعلیمات کی طرف کرنے والا طبقہ (مذہبی طبقہ) مثبت ’’ابلاغ‘‘ کی قوت سے خوفناک حد تک عاری ہو چکا ہے۔ مشکل، پیچیدہ، اجنبی اور نامانوس انداز تکلم نے جدید دور میں بسنے والے انسان کو مذہبی طبقے سے بہت دور کردیا ہے۔ پھر مذہبی قائدین نہ صرف مثبت ابلاغ کی صفت کے فقدان کا شکار ہیں بلکہ اس طبقہ کی عظیم اکثریت کردار اور اخلاق کے بنیادی ترین جوہری وصف سے بھی اپنے آپ کو عاری کر چکی ہے۔ ان نہایت مایوس کن حالات میں اگر کوئی ایسی دینی شخصیت سامنے آجائے جو حسن کلام، قوت ابلاغ، کردار و اخلاق سے متصف اور جدید و قدیم علوم میں عبوررکھتی ہو، انسانیت کی فلاح و خوشحالی کا واضح شعور رکھتی ہواور ایمان و امن عالم کے کلیدی تصورات پر گہرا یقین رکھتی ہوتونگاہیں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔ جب ہم نے ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کو آج سے قریباً ایک سال پہلے ان کی تحریروں کے آئینے میں دیکھاتو ہم دنگ رہ گئے۔ ہمیں ایسے لگا جیسے ایک بہت ہی بڑا انسان، قوت ابلاغ کی غیر معمولی صلاحیتوں اور علم وفکرکی بیش بہا دولت سے آراستہ ایک پہاڑ جیسا انسان عام انسانوں میں اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہے۔ اٹھارہ سال تک حصول تعلیم میں منہمک رہنے اور بے شمار مصنفین کے مطالعہ کے باوجود اس عاجز میں کبھی یہ خواہش پیدانہیں ہوئی کہ میں کسی کا شاگرد کہلواؤں۔ گویا زندگی کے چالیس سال مکمل کرنے تک میری یہ محرومی رہی ہے کہ مجھے کبھی یہ شوق اور اشتیاق ہی نہیں ہوا کہ میں کسی کو اپنا استادبناؤں، لیکن زندگی میں پہلی دفعہ عمر کے چالیسویں سال میں قدم رکھنے والے اس نہایت حقیر راقم کے دل میںیہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اے کاش! مجھے علم کے اس پہاڑاور قدرت کے شاہکار، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی شاگردی اختیار کرنے کا موقع مل جائے۔

جدید دور کے جن مصلحین اور داعیین کی تحریروں کا یہ عاجز مطالعہ کرتا رہا، ان میں مثال کے طور پرسید ابوالحسن ندویؒ ، مولانا منظور نعمانیؒ ، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ ، مولانا تقی امینیؒ ، سید قطب شہید، مولانا وحید الدین خاں، جسٹس تقی عثمانی، ڈاکٹر اسرار احمدمرحوم اور دیگر چھوٹے بڑے بہت سے مصنفین اور مقررین شامل ہیں۔ ان حضرات نے اگرچہ اپنی جگہ متاثر کیا، خاص طور پر سید ابوالحسن ندویؒ کی دردمندتحریروں اور اعتدال پر مبنی تعلیمات نے انتہا پسندی اور تعصب سے بچنے کا خاص سبق دیااور اسلام کے دفاع و ابلاغ میں مولانا مودودیؒ کی بے باک، جری اور سلیس و موثرتحریروں نے بے حد متاثر کیا، لیکن اکیسویں صدی میں جب ڈاکٹر محمود احمد غازی سے ہمیں تعارف حاصل ہوا تو ایسے لگا جیسے پچھلے دو سو سالوں سے مسلمانوں کو ایک ایسے ہی عالم دین کی تلاش تھی جسے ایک طرف قدیم و جدید علوم میں گہری دستگاہ حاصل ہے تو دوسری طرف اسے ایسی قوت ابلاغ حاصل ہے کہ وہ مشکل سے مشکل بات کو بھی نہایت آسان اور سلیس زبان میں بیان کرنے پر عبور رکھتا ہے۔ پھر بھرپور ذہانت، عبقری دماغ، غیر معمولی علمیت، اعلیٰ عہدوں اور اعلیٰ صلاحیتوں نے اس کے قلب پر ذرا بھی منفی اثر نہیں ڈالا۔ وہ عجب و غرور اور فکری کج رویوں سے کوسوں دور سادگی، عاجزی، متانت، اعتدال، حلم اور فکری سلامتی کی دولت سے مالا مال اپنے سفر پر گامزن ہے۔یہ سب خوبیاں دیکھ کر مجھے وہ قدرت کا ایک شاہکار لگا، اکیسویں صدی میں خالق کائنات کا ایک ماسٹر پیس۔ لوگ مادی حسن کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں، میں فکری سلامتی، حسن توازن، سلاست و اعتدال اور ابلاغ کی قوتوں سے مالا مال اسلام کے اس معجزے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ لیکن خالق کائنات کے اس شاہکار سے ابھی نگاہ و دل پوری طرح سیراب نہیں ہوئے تھے کہ ۲۶ ستمبر کو اطلاع ملی کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون) اگر یہ بات درست ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں والے کسی جوان آدمی کی موت اس کے بچوں اور بیوہ کے حق میں بہت بڑا حادثہ ہوتا ہے تو پاکستانی قوم اس سے کہیں بڑے حادثے کا شکار ہوچکی۔ قدرت نے اس قوم کو ایک شاہکار اور معجزہ نما ہستی سے محروم کردیا،لیکن افسوس کہ کوئی افسوس کرنے والا بھی نہیں۔

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی	
تم چلے ہوتوکوئی روکنے والا بھی نہیں

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا علم انھیں صدیوں زندہ رکھے گا۔ان کی علمی و فکری خدمات کا احاطہ اس مختصر مضمون میں کرنا ممکن نہیں، تاہم ذیل میں ہم ان کی تحریروں سے چند اقتباسات پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی فکری سلامتی، شعور کی طاقت اور ابلاغی قوت کا براہ راست مشاہدہ قارئین کرسکیں۔

اسلام کی تاریخ۔۔۔عدل و انصاف کی تاریخ

ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃاللہ علیہ امید اور روشنی کے داعی ہیں۔ چنانچہ شریعت کے اوصاف پر بات کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’شریعت کا چھٹا امتیازی وصف ثبات اور تغیر کے درمیان توازن اور امتزاج ہے۔ جہاں یہ شریعت ایک دائمی شریعت ہے، یہ دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ہے اور جب تک روئے زمین پر یا روئے زمین سے باہر انسان آباد ہیں، شریعت ان کے لیے دائمی نظام حیات رہے گی، وہاں اس شریعت میں نئے نئے حالات اور نئے نئے مسائل کو سمولینے کی ایک بڑی عجیب و غریب صلاحیت پائی جاتی ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت، صفحہ ۳۵)

آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’واقعہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے اس اہم اور بنیادی وصف کو دور جدید کے بہت سے متجددین اور مغرب سے متاثر مفکرین نے سمجھنے میں کوتاہی کی ہے۔ انہوں نے مغرب کے زیر اثر اپنے ماضی کی ہر چیز کو منفی اور حال کی ہر چیز کو مثبت انداز میں دیکھنا شروع کردیا ہے۔ مغرب اپنی قدیم تاریخ سے بیزار، اپنے مذہبی پس منظر سے نالاں اور اپنی تاریخ کے نشیب و فراز کے بارے میں غیر مطمئن ہے، اس لیے وہ اپنے ماضی کی ہر چیز کو ناپسندیدہ اور آنے والی ہر چیز کو پسندیدہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے کہ اس کی تاریخ کا ایک طویل دور جو ایک ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط ہے بلکہ ڈیڑھ ہزار سال سے زائد عرصے پر محیط ہے، ظلم و تعدی اور مذہب کے نام پر شدید قسم کے جبر و اکراہ سے عبارت ہے۔ مغرب کو اس ظلم و تعدی اور جبر واکراہ سے نکلنے میں بہت محنت کرنی پڑی ہے، یہاں تک کہ خود مذہب کو نظر انداز کرنا پڑا۔ مذہب کے تمام مظاہر کو منفی قرار دے کر ان سے جان چھڑائے بغیر اس ظالمانہ نظام سے بچ نکلنا اہل مغرب کے لیے شاید آسان نہ تھا۔ اس لیے مغرب کی نظر میں، مغرب کی نفسیات میں مغرب کا مذہبی ماضی ایک انتہائی منفی اور ناپسندیدہ ڈراؤنے خواب سے عبارت ہے، جبکہ حال اور مستقبل ایک مسلسل خوش آئند و خوشگوار صورتحال کی نوید دیتا ہے۔ اس لیے مغرب نے ماضی کی کسی چیز سے، خاص طور پر اگر اس کا تعلق مذہب سے ہو، تعلق برقرار رکھنااپنے اس نفسیاتی رجحان اور ساخت کی وجہ سے غیر ضروری سمجھا۔
ہمارے بہت سے مصنفین مغرب کے اس مخصوص پس منظر کا ادراک کیے بغیر اسلامی تاریخ پر بھی یہی تصورات منطبق کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح اسلام کی تاریخ کے تسلسل، شریعت کی اساس اور مسلمانوں کے دین کے نظام اور ثوابت کو متاثر و مجروح کردیتے ہیں۔ یہ بات ہم سب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام کی تاریخ اسلام سے انحراف کی تاریخ نہیں، بحیثیت مجموعی اسلام پر کاربند رہنے کی تاریخ ہے۔ یہ تاریخ انسانیت کے انسانیت پر مظالم اور ظلم و زیادتی کی تاریخ نہیں، بلکہ انسانیت کے یے ایک خوش آیند نوید کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام کی تاریخ عدل و انصاف اور تہذیب و تمدن میں نئی نئی مثالیں قائم کرنے کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ کو دہرانے کی، اس کو زندہ کرنے کی اور دور جدید میں ایک نئے انداز سے اس کو جنم دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے جان چھڑانا، اسے نظر انداز کرنا اور اس کو منفی انداز میں سمجھنا ایک بدترین قسم کی کم فہمی بھی ہے، مسلمانوں کے مستقبل سے مایوسی کی غماز بھی ہے اور مسلمانوں کے ماضی سے بے خبر ہونے کی دلیل بھی ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۳۷، ۳۸)

شریعت کی بنیاد: علم و عدل

شریعت کی بنیاد کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’شریعت کی بنیاد دو چیزوں پر ہے: ایک علم، دوسرے عدل۔ شریعت کا بنیادی مقصد، جیسا کہ قرآن پاک کی ایک آیت میں واضح طور پر آیا ہے، حقیقی عدل و انصاف کا قیام ہے۔ لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۔ ’’اوربلا شک و شبہ ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں دے کر اسی لیے بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب الٰہی اور میزان اسی لیے اتاری کہ لوگ حقیقی عدل و انصاف پر قائم ہوجائیں۔‘‘ گویا قرآن پاک کی رو سے یہ تمام آسمانی کتابوں کا مقصد اولین اور ہدف اساسی رہا ہے کہ انسانی معاشرے میں حقیقی عدل و انصاف قائم ہوجائے، مکمل عدل و انصاف قائم ہوجائے۔ مکمل عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے ضرورت ہے کہ معاشرے میں علم اور شعور کی سطح موجود ہو۔اگر علوم اور شعور کی سطح معاشرے میں مطلوب درجے کی نہ ہوتو پھر اس معاشرے میں مکمل عدل و انصاف قائم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
قرآن کی رو سے انسان خلافت الہٰیہ کا حامل ہے۔ خلافت الہٰیہ کا حامل ہونے کی صلاحیت اس میں علم کی وجہ سے پیدا ہوئی، جیسا کہ قصہ آدم سے واضح ہوتا ہے: وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا۔ لہٰذا علم اور عدل یہ دونوں انسان کے مقصد وجود سے تعلق رکھتے ہیں۔انسان کی ملائکہ اور دیگر مخلوقات پر برتری انسان کا مقام و مرتبہ اور انسان کی حیثیت علم ہی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے اور انسانوں کی ہدایت کے لیے جو شریعت دی گئی، اس کا سب سے اہم اور اولین مقصد عدل ہے۔گویا آغاز علم اور انتہا عدل ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت، صفحہ ۴۷، ۴۸)
’’مشہورمفکراسلام اور فقیہ، محدث اور سیرت نگار علامہ ابن القیم (متوفی ۷۵۱ھ) نے ایک جگہ لکھاہے کہ شریعت کے احکام تمام تر عدل ہیں۔ شریعت سراپا عدل ہے۔ جہاں شریعت ہے، وہاں عدل ہے۔ جہاں عدل ہے، وہاں شریعت ہونی چاہیے اور جہاں عدل نہیں ہے، وہاں شریعت نہیں ہوسکتی۔ بالفاظ دیگر اگر کوئی شخص شریعت کے احکام کی ایسی تعبیرکرتاہے جس کے نتیجے میں عدل قائم نہیں ہوتا تو وہ تعبیر نظر ثانی کی محتاج ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۶۸)

اسلام نے دنیا کو عدل کا نیا اور کامل تصور دیا

عدل کے تصور پر گفتگوکرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اسلام سے پہلے دنیا عدل کے ایک ہی تصور سے واقف تھی اور یہ وہ عدل تھا جو بادشاہ، حکمران اور بانیان ریاست اپنی رعایا کے درمیان کیا کرتے تھے۔ .....قرآن مجید نے محض اس درجہ پر اکتفا نہیں فرمایا، بلکہ جہاں حکمرانوں کو انصاف کا حکم دیا ہے، جہاں عدالتوں کو انصاف کرنے کی تلقین کی ہے، وہاں افراد کو بھی عدل و انصاف کا حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے عدل و انصاف کے جو تقاضے قاضی یا حکمران یا ریاست انجام دے گی، اس کی سطح اور ہوگی، جب افراد عدل و انصاف کا فریضہ انجام دیں گے تو ان کی سطح اور ہوگی۔ اس انفرادی عدل کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ وہ افراد سب سے پہلے خود اپنے ساتھ عدل کررہے ہوں، ان کے اپنے مزاج اور رویے میں اعتدال پایاجاتا ہو۔ اعتدال، عدل ہی سے نکلا ہے۔ اعتدال، عدل ہی کی ایک شکل ہے۔ انسان اپنے رویے میں جب توازن پیدا کرے گا، اپنے اندر سے پیدا ہونے والے تقاضوں کے درمیان توازن سے کام لے گا، جسمانی، روحانی، اخلاقی، نفسیاتی، جذباتی، ان تمام تقاضوں کے درمیان اعتدال کے رویے کو اختیار کرے گا، تبھی وہ دوسروں کے ساتھ عدل سے کام لے سکے گا۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۶۹)

حریت وغلامی۔۔۔اسلام اورجدیدمغربی دنیا کا فرق

حریت و غلامی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود غازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اسلام نے اگر غلامی کو برداشت کیا تو بعض بین الاقوامی حالات کی وجہ سے برداشت کیا۔...... لیکن یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ جب غلامی کا یہ محدودتصورموجودبھی تھا، سزا کے طور پر غلامی ایک حد تک رائج بھی تھی، اس وقت بھی ان غلاموں کو جو مسلم معاشرے میں رہتے تھے، آج کے ان آزادوں سے بڑھ کر مقام و مرتبہ حاصل تھا جو آج کی نام نہاد آزاد دنیا میں مقیم ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ آج آزاددنیا میں بہت سے لوگوں کو وہ مرتبہ حاصل نہیں ہے۔ مجھے یہ بات عرض کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ مغربی دنیا میں جدید ترقی یافتہ مہذب دنیا میں اور مغربی تصورات کی علمبردار دنیا میں مسلمانوں کو، اہل اسلام کو وہ حقوق حاصل نہیں ہیں جو دور اسلام میں غلاموں کو حاصل ہوا کرتے تھے۔ دنیائے اسلام کی تاریخ میں کتنے غلام تھے جو فرمانروا بنے، جنہوں نے حکومتیں قائم کیں، جو فاتحین بنے! کتنے غلام ہیں جو صف اول کے علما اور دینی قائدین قرار پائے!......

اسلام کا تصور حریت اتنابلندہے کہ ابھی اس کا ادراک کرنے کے لیے دنیا کو بہت آگے جانا ہے۔ بہت سے نشیب و فراز سے گزرنا ہے۔ اس کے بعد ہی دنیا کو اندازہ ہوگا کہ جس حریت کی اسلام نے تعلیم دی، وہ کیا مقصود رکھتی ہے، وہ کیا چیز ہے۔‘‘(محاضرات شریعت صفحہ ۷۳، ۷۴-۷۵)

توازن ۔۔۔شریعت کا حسن

توازن کے موضوع پراپنا نقطہ نظر یوں بیان کرتے ہیں:

’’اسلام میں روحانیت اور مادیت کے درمیان، دنیا اور آخرت کے تقاضوں کے درمیان،عقل اور وحی کے درمیان، افراد اور معاشرے کے درمیان، ماضی اور مستقبل کے تقاضوں کے درمیان، ثوابت اور متغیرات کے درمیان، حقائق اور آئیڈیل کے درمیان توازن و اعتدال پایاجاتا ہے۔نہ اسلام نے حقائق اور واقعات کی بنیاد پر اپنے آئیڈیل کو چھوڑا، نہ آئیڈیل اور مثالی صورتحال پر زور دیتے ہوئے واقعات اور حقائق سے صرف نظر کیا۔ اسلام کی تعلیم میں دونوں کے درمیان توازن موجود ہے۔ انسانی کمزوریوں کا احساس بھی ہے، انسان کی پریشانیوں اور مجبوریوں کا اندازہ بھی ہے، چنانچہ شریعت کے احکام میں عزیمت اور رخصت کی جو ترتیب ہے، وہ اسی آئیڈیل اور حقیقت کے درمیان توازن کی ایک جھلک یا توازن کے بہت سے مظاہر میں سے ایک مظہر ہے۔‘‘ (محاضرات شریعت صفحہ ۷۶)

عقیدہ کی اہمیت اور مغربی ملحدانہ تہذیب

عقیدہ کی اہمیت ایک منفرد اور اچھوتے انداز سے یوں بیان فرماتے ہیں:

’’کمپیوٹر انسانی عقل کو سامنے رکھ کر بنایاگیا ہے۔ انسانی عقل کمپیوٹر کو سامنے رکھ کر نہیں بنائی گئی، لیکن چونکہ بعض اوقات مشبہ اور مشبہ بہ میں ترتیب بدل جاتی ہے، اس لیے سمجھانے کی خاطر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی عقل ایک کمپیوٹر کی طرح ہے۔ لیکن یہ کمپیوٹر جتنا بھی برتر اور پیچیدہ یعنی سوفسٹی کیٹڈ (sophisticated) ہو، جتنا بھی ترقی یافتہ ہو، وہ ایک سوفٹ وئیر (software) کا محتاج ہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ کمپیوٹر میں غلط سوفٹ ویئر (software) ڈال دیاجائے تو وہ بھی غلط رخ پر کام کرے گا۔ اس لیے شریعت نے پہلی ہدایت یہ کی ہے کہ جو softwareاس انسانی کمپیوٹر میں ڈالا جائے، وہ درست ہو۔ چنانچہ عقیدہ ہی وہ سوفٹ وئیر ہے۔ 
عقیدہ کی تعلیم دینے کا شریعت نے بچپن سے حکم دیا ہے۔ بچپن سے بچے کو یہ بتاؤ کہ اسلام کے عقائد کیا ہیں۔ سات سال کی عمر ہوتو نماز کی تلقین کرنا شروع کردو۔ دس سال کی عمر ہوجائے اور بچہ نماز نہ پڑھے تو جسمانی سزا بھی دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچوں سے جو محبت تھی، وہ مشہور و معروف ہے، اپنے بچوں سے بھی اور دوسروں کے بچوں سے بھی۔ یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی اہمیت کی خاطر اور انسانی عقل کو ایک خاص رخ پر ڈالنے کی خاطر جسمانی سزاتک کی اجازت دی ہے کہ اگر بچہ نماز نہ پڑھے تو ہلکی پھلکی سزا بھی اس کو دے سکتے ہو۔ یہ بات کہ انسانی عقل کو صحیح رخ پر چلایاجائے، اس کو صحیح راستہ بتایا جائے، غلط راستوں پر جانے سے روکا جائے ، اس کی اہمیت کو احادیث مبارکہ میں بہت تفصیل سے بیان کیاگیا ہے۔
بعض متجددین، ملحدین اور دور جدید کے دین سے برگشتہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عقیدہ کے نام سے جو تعلیم مسلمانوں کو دی جاتی ہے، یہ ان ڈوکٹری نیشن (indoctrination) ہے۔ indoctrination کا لفظ استعمال کرکے عقیدے کی تعلیم کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ مغرب کی لادینی تہذیب بڑے زور و شور سے indoctrination کر رہی ہے۔ مغرب کی آنے والی نسلوں کو جس انداز سے سیکولرازم اور لامذہبی اباحیت کے رخ پر پروگرام کررہی ہے، اس کا ایک ہزارواں حصہ بھی مسلمانوں میں عقیدے کی تعلیم کے لیے نہیں ہورہا ہے۔ یہ بات کہ دوسرے اپنے لامذہب اور ملحدانہ عقائد بچے بچے کے ذہن نشین کردیں، دین اور زندگی کا تعلق منقطع کردیں، اخلاق اور دین کی رہنمائی کو اجتماعی زندگی سے نکال دیں، اس کو تو انڈوکٹری نیشن نہ کہا جائے، لیکن اگر مسلمان بچوں کو یہ بتایاجائے کہ ان کا تعلق اسلام اور مسلمانوں کے گھرانوں سے ہے، وہ قرآن پاک پر ایمان رکھتا ہے، قرآن پاک کے بنیادی عقائد یہ ہیں تو اس کو ان ڈوکٹری نیشن کہہ کر اس کی اہمیت کم کی جائے۔ یہ شاخسانہ دور جدید کے ملحدانہ دور میں ہی ہوسکتا تھا۔ یہ ماضی میں ممکن نہیں تھا، لیکن افسوس بعض ایسے حضرات بھی اس طرح کی باتیں کرتے پائے جاتے ہیں جو اپنا ایک اسلامی اور دینی حوالہ رکھتے ہیں۔‘‘ (ایضاً ص ۹۹)

موجودہ زوال: فکری توازن سے محرومی کا نتیجہ

’’جب تک عقل و نقل کا یہ توازن مسلمانوں میں موجود رہا، جب تک امت مسلمہ میں فکری آزادی، خودمختاری اور قرآن و سنت سے براہ راست وابستگی موجود رہی، اس وقت تک مسلمانوں کا فکری مقام قائد اور رہنما کا رہا۔ جب یہ فکری آزادی کمزور پڑی، جب مسلمان غیروں کی تقلید کا شکار ہوئے تو پہلے ارسطو اور افلاطون کی تقلید شروع ہوئی، پھر ارسطو اور افلاطون کے درجے سے نچلے درجے کے لوگوں کی تقلید شروع ہوئی اور ہوتے ہوتے جب تقلید پسندی مسلمانوں کے مزاج کا حصہ بن گئی تو ہر کس و ناکس کی تقلید شروع ہوگئی۔ آج کیفیت یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی مغربی زبان میں کوئی بات لکھ دے یا جس کا تعلق کسی مغربی ملک سے ہو، اس کی بات کو بلا چون و چرا قبول کرلیاجاتا ہے اور تقلید کے لیے یہ کہنا کافی ہے کہ فلاں مغربی شخص نے یہ بات یوں لکھی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ مغرب کے گھٹیا سے گھٹیا انسانوں کی تقلید کو باعث فخر سمجھتا ہے اور جو دینی طبقہ ہے، وہ متاخرین کے بھی متاخرین کی تقلید کو کافی سمجھتا ہے اور اس کی نظر میں متاخرین کے متاخرین نے بھی جو لکھ دیا ہے، وہ شریعت کے باب میں حرف آخر ہے۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۱۴۵)

بنیادی حقوق ۔۔۔مسلم تہذیب اورمغربی تہذیب کا فرق

مسلم تہذیب کا مغربی تہذیب سے فرق واضح کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’اس سے بھی بڑھ کر مسلم معاشرے میں pluralismکی ایک بڑی مثال یہ ہے، کثیر العناصر معاشرہ ہونے کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں روزاول سے غیر مسلم باشندوں کو نہ صرف قبول کیاگیا بلکہ ان کو وہ تمام حقوق اور مراعات دی گئیں جو خود مسلمانوں کو حاصل تھیں۔ سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ مشہور ہے، فقہی لٹریچر میں کثرت سے بیان کیاجاتا ہے کہ ’لہم ما لنا علیہم ما علینا‘۔ جو غیر مسلم دنیائے اسلام کی شہریت اختیار کرتے ہیں، ان کے وہی حقوق ہیں جو ہمارے ہیں، ان کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو ہماری ہیں۔ یہ بات مختلف فقہاے اسلام نے مختلف انداز میں بیان کی ہے۔ مشہور حنفی فقیہ اور فقہ حنفی کے صف اول کے ائمہ اور مجتہدین میں سے ایک حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ نے اس اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’المسلم والکافر فی مصائب الدنیا سواء‘‘کہ مسلمان اور کافر دنیوی معاملات میں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ یعنی ان میں اگر کوئی فرق رکھا جائے گا رویے میں اور معاملات میں تو روز قیامت رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جس کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ دے گا، لیکن اس دنیا کے معاملات میں ، آپس میں لین دین میں، آپس میں جائیداد کے تبادلے میں، ایک دوسرے کے حقوق کے تحفظ میں، ایک دوسرے کی جان مال اور عزت کے تحفظ میں مسلم اور غیر مسلم سب برابر ہیں۔
آج مغربی دنیا کے قائدین و مفکرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان تمام امتیازات کا خاتمہ کردیا ہے جو انسانوں کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ یہ ذرا ان مسلمانوں سے پوچھیں جو مغربی دنیا میں رہتے ہیں کہ ان کے خلاف کتنے امتیازات ختم ہوگئے ہیں۔ آج کتنے مسلمان ہیں جن کو اپنے دین کے مطابق خاندانی معاملات منظم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آج کتنے مسلمان ہیں جو اپنی جائیداد کو شریعت کے مطابق اپنے وارثوں میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ آج کتنے مسلمان ہیں جو اپنی روزمرہ کی عبادات کو سہولت سے انجام نہیں دے سکتے۔ آج کتنی مسلمان بچیاں اور خواتین ہیں جن کو اسلامی تعلیمات کے مطابق لباس تک پہننے کی اجازت نہیں۔ آج بھی یورپ کے بلکہ یورپ سے متاثر بہت سے ممالک میں سکھوں کو ڈاڑھی رکھنے کی اجازت ہے، مسلمانوں کو نہیں، سکھوں کو پگڑی باندھنے کی اجازت ہے، مسلمانوں کو ٹوپی اوڑھنے کی اجازت نہیں۔
اس کے مقابلے میں اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کو نہ صرف مکمل آزادی اور مساوات حاصل رہی، بلکہ بعض ایسے حقوق بھی حاصل رہے جو مسلمانو ں کو حاصل نہیں ہیں۔ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ بعض پہلوؤں سے غیر مسلموں کا درجہ اور اسٹیٹس مسلم معاشرے میں مسلمانوں سے بہتر ہے۔ بہت سے معاملات میں ان کو وہ مراعات حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل نہیں ہیں۔ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اس کی اجازت بھی دی گئی کہ وہ اپنے شخصی معاملات، اپنے مذہبی معاملات ، اپنے مذہب کے مطابق انجام دیں اور انہی کی عدالتیں، انہی کے قاضی ان کے معاملات کا فیصلہ کریں۔ نہ صرف عہد نبوی میں اور عہد خلفائے راشدین میں یہودیوں اور عیسائیوں کے اپنے مذہبی قائدین ان کے اختلافات کا فیصلہ کرتے تھے، اپنے مذہبی معاملات کو خود چلاتے تھے، بلکہ بعد کے ادوار میں بھی بنی امیہ کے زمانے میں، بنی عباس کے زمانے میں، سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں، ہندوستان میں سلطنت مغلیہ کے دور میں، اس سے پہلے دور سلطنت میں، ان تمام ادوار میں غیر مسلموں کے معاملات، غیر مسلم عدالتیں، ان کے اپنے نظام کے مطابق چلایا کرتی تھیں۔ کثیر العناصر معاشرہ ہونے کی ایسی کوئی مثال آج دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۱۵۱-۱۵۳)

مغربی دنیا کا المیہ ۔۔۔اخلاق کی بنیادکیا ہو؟ 

مسلم تہذیب اور مغربی تہذیب کے ایک اور فرق کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مسلمان فقہا اور متکلمین و مفکرین کے ہاں کبھی اخلاق اور روحانیات میں کسی قسم کے باہمی تعارض یا تناقض کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ مکارم اخلاق کی حقیقی اساس کے بارے میں مفکرین اسلام کبھی کسی فکری یا نظریاتی الجھن کا شکار نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس مغربی دنیامیں، قدیم مغربی دنیا ہو یا جدید مغربی دنیا، مشرقی یورپ کی یونانی تہذیب ہو ، وسطی یورپ کی رومن تہذیب ہو یا مغربی یورپ کی حالیہ دنیا ہو، ان سب میں بنیادی سوال جو ہمیشہ زیر بحث رہا ہے، وہ اخلاق کی علمی اور فکری بنیاد کا رہا ہے۔اخلاق کو کس بنیاد پر استوار کیاجائے؟ اس پر مغربی دنیا میں کبھی بھی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ یونانیوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ دو متضاد رجحانات اور رویوں کے درمیان توازن اور اعتدال کا نام اخلاق ہے۔ عقلی اعتبار سے یہ ایک اچھی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس پر اچھی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، مضامین لکھے جاسکتے ہیں، لیکن خود توازن اور اعتدال کا تعین کیسے کیاجائے گا اور کس بنیاد پر کیاجائے گا؟ اس کی کوئی طے شدہ حقیقی عقلی اور قطعی بنیاد یونانیوں کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۱۷۷)

مکارم اخلاق کی اسلام میں اہمیت

ڈاکٹر محمود غازی ؒ مکارم اخلاق پر اپنے اچھوتے انداز میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مکرام اخلاق کچھ لوگوں میں فطری اور طبعی طور پر موجود ہوتے ہیں۔ مکارم اخلاق جہاں بھی پائے جائیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ اسلام کی شریعت نے ان کو پسند کیا ہے، ان کا اعتراف کیا ہے۔ حاتم طائی کی بیٹی کا قصہ مشہور ہے۔ ایک جنگ میں جو اس قبیلے کے خلاف لڑی گئی تھی جس سے حاتم طائی کی بیٹی کا تعلق تھا۔ حاتم طائی کی بیٹی کی جہاں رشتہ داری تھی، اس کے خلاف جنگ ہوئی، دشمنوں کو شکست ہوئی اور میدان جنگ میں جو لوگ موجود تھے، وہ قید کرکے مدینہ منورہ لائے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دوسرے دن جنگی قیدیوں میں جو خواتین یا بچے تھے، ان کی حالت معلوم کرنے کے لیے خود تشریف لے گئے۔ وہاں ایک خاتون بڑی باوقار معلوم ہوتی تھیں اور لگتا تھا کہ یہ خاتون کسی بہت اونچے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہا کہ میں اپنے قبیلہ کے سردار کی بیٹی ہوں، اپنی قوم کے سردار کی بیٹی ہوں۔ میرے والد لوگوں کی حمایت کیا کرتے تھے، کمزوروں کی مدد کیا کرتے تھے، قیدیوں کو چھڑایا کرتے تھے، بھوکوں کو کھانا کھلایا کرتے تھے، امن و امان قائم رکھنے میں کوشاں رہتے تھے، انہوں نے کبھی کسی سوالی کا سوال نہیں ٹالا۔ میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’اے لڑکی! یہ تو واقعی مسلمانوں کے اور اہل ایمان کے اخلاق ہیں‘‘۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خلوا عنہا‘‘، اس لڑکی کو چھوڑ دو۔ ’’فان اباہا کان یحب مکارم اخلاق وان اللہ یحب مکارم الاخلاق‘‘، اس لڑکی کا باپ مکارم اخلاق کو پسند کرتا تھا اور اللہ بھی مکارم اخلاق کو پسند کرتا ہے۔ اس پر ایک صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا واقعی اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق کو پسند کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، جنت میں وہی داخل ہوگا جس کا اخلاق اچھا ہوگا۔‘‘ اس سے پتہ چلا کہ مکارم اخلاق جہاں بھی ہوں، وہ قابل تعریف ہیں اور ان کو شریعت پسند کرتی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۰۱-۲۰۲)

حجاب کا متوازن تصور

ڈاکٹرمحمود احمد غازی ؒ کے ہاں حجاب کا تصور بھی بہت معتدل اور متوازن شکل میں موجود ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

’’قرآن کے احکام میں حجاب کے مسائل کو تفصیل سے سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ آج ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے جس میں بہت سے لوگ مبتلا ہیں کہ مختلف اسلامی ممالک کے مقامی رواجات کو بعینہ شریعت اسلامی سمجھا جانے لگا ہے۔ اگر کسی ملک میں خاص انداز کا پردہ رائج ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اپنی تمام تفصیلات کے ساتھ شریعت کے احکام کا لازمی تقاضا ہو۔ وہ رواج بلا شبہ شریعت کے مطابق ہوسکتا ہے، شریعت سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے، لیکن ہر وہ رواج جو شریعت کے مطابق ہو اور اسلام کے احکام سے ہم آہنگ ہو، شریعت کی نظر میں لازمی طور پر ہر جگہ اور ہر فرد کے لیے واجب اور فرض نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی کوئی رواج ہوسکتا ہے۔ اس لیے مقامی رواجات، شریعت کے احکام، فقہا کے اجتہادات، ان تینوں کے درمیان فرق لازمی ہے۔جہاں تک مقامی رواجات کا تعلق ہے، اگر کسی کا جی چاہتا ہے کہ ان کو اختیار کرے تو وہ ضرور ایسا کرنے کا پورا حق رکھتا ہے اور کسی بھی مطابق اسلام مقامی رواج کو اختیار کرسکتا ہے۔ کسی مشرقی یا مغربی شخص کو کسی بھی بنیاد پر اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر ہماری افغان بہنیں، افغانستان کی خواتین، ایک خاص انداز کا برقعہ اوڑھتی ہیں تو یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ یہ ان کا مقامی رواج ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ نام نہاد آزادی کے علمبردار کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس رواج کا مذاق اڑائے، اس پر اعتراض کرے اور اس کو انسانی حقوق اور تہذیب وتمدن کے خلاف قرار دے۔ لیکن دوسری طرف کسی کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ کسی اور ملک کی خواتین جو اس طرز حجاب کو پسند نہیں کرتیں، ان پر زبردستی وہ طرز حجاب مسلط کرے۔ مصر یا ترکی کی خواتین کو مجبور کرے کہ وہ بھی اسی طرح کا برقعہ اوڑھا کریں جو افغان بہنیں اوڑھتی ہیں۔ مصر اور ترکی کی مسلمان خواتین اپنے رواج کے مطابق حجاب اختیار کریں تو وہ بھی شریعت کے احکام کی تعمیل ہوگی۔
جس چیز کی پابندی لازمی ہے، وہ قرآن پاک اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منصوص اور قطعی احکام ہیں جن کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ ان دونوں کے درمیان یعنی قرآن و سنت کے منصوص اور قطعی احکام اور مقامی رواج کے درمیان فقہاے اسلام کے اجتہادات کا درجہ ہے۔ وہ اگر متفق علیہ ہیں یعنی ان پر اجماع یا نیم اجماع ہوچکا ہے تو ان کی پابندی بھی کی جانی چاہیے، لیکن اگر وہ انفرادی اجتہادات ہیں جن کے بارے میں اختلاف رائے کبار فقہا اور صحابہؓ کے زمانے سے ہمیشہ سے چلا آرہا ہو، وہاں شدت سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ اس دور کے بعض علما اگر اس سے اختلاف کرتے ہوں، دلائل کی بنیاد پر کوئی اور رائے رکھتے ہوں اور کچھ لوگ اس رائے پر عمل کرنا چاہیں تو ان کو یہ اختیار حاصل ہے۔ ان کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ دلائل کی بنیاد پر جو رائے اختیار کرنا چاہیں، وہ اختیار کریں۔ اگر دوسری، تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے فقہا کا اجتہاد قابل احترام ہے تو چودھویں اور پندرہویں صدی کے مخلص، ذی علم اور صاحب تقویٰ فقہا کا اجتہاد بھی قابل احترام ہے۔ جو حضرات سابقہ مجتہدین کے اجتہاد پر اعتماد رکھتے ہیں، وہ اس پر عملدرآمد کے پابند اور مکلف ہیں جو حضرات چودھویں اور پندرھویں صدی کے فقہا کے اجتہادات پر اعتماد رکھتے ہیں، وہ اس پر عملدرآمد کے پابند اور مکلف ہیں۔ دونوں کو مقامی رواج کسی پر مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں۔ دونوں کو شریعت کے منصوص احکام سے انحراف کی اجازت نہیں۔ ان حدود کے اندر حجاب سے متعلق جو طریقہ کار بھی عامۃ الناس اختیار کرنا چاہیں، وہ شریعت کے مطابق ہوگا۔
حجاب دراصل ان راستوں کا سدباب کرنے کے لیے ہے جن کے نتیجے میں قباحتیں پیدا ہوتی ہیں، بداخلاقی جنم لیتی ہے اور فحاشی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ صرف فحاشی کا ماحول پیدا نہیں ہوتا بلکہ خاندانی ادارہ بھی کمزور ہوتا ہے، تعلقات کمزور ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی یہ ایک عام مشاہدہ ہے جسے ہر شخص دیکھتا اور محسوس کرتا ہے۔ پھر شریعت نے محض حجاب کے احکام پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فسق و فجور کے تمام دوسرے اسباب کا بھی سدباب کیا، برائی اور بے حیائی کے تمام راستے روکے۔ شریعت نے سخت سزائیں رکھیں، سخت سزائیں ان جرائم کی رکھیں ہیں جو انتہائی نوعیت کے جرائم ہیں۔ جس طرح سزائیں انتہائی نوعیت کی ہیں، اسی طرح جرائم بھی انتہائی نوعیت کے ہیں۔ ان سب کا مقصد ایک ہی ہے۔ وہ حد قذف ہو ، حد رجم ہو، حد جلد یعنی تازیانہ ہو، ان سب کا مقصد منفی طور پر ان راستوں کو بند کردینا ہے جو تحفظ نسل اور تحفظ نسب کو مجروح کرتے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۵۱-۲۵۳)

اسلام کی پاکیزہ تعلیمات اور موجودہ بے حیا تہذیب

حیا وحجاب پر مبنی اسلام کی تعلیمات پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’غیروں کے لیے ہدایات ہیں کہ خواتین کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آؤ، ان کو دیکھ کر نظریں نیچی کرلو۔ انسانوں کا مزاج یہ رہا ہے کہ جس کا انتہائی احترام پیش نظر ہوتا ہے، اس کے سامنے نظریں نیچی ہوجاتی ہیں۔ جب خواتین کے روبرو نظریں نیچی کرنے کا حکم ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بحیثیت مجموعی صنف خواتین کو احترام کا وہ مقام حاصل ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک اجنبی مرد ان کو دیکھ کر اپنی نظریں نیچی کرلے۔ خواتین کو حکم ہے کہ اپنی زینت کو چھپا کر رکھیں۔ خواتین کی زینت کوئی بازار کی جنس نہیں ہے کہ دنیا کے ہر انسان کے لیے سجا کر رکھ دی جائے۔ وہ انتہائی قابل احترام اور مقدس نعمت ہے جو اللہ نے عطا کی ہے۔ اس کو صرف اللہ کی حدود کے اندر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ اللہ کی بیان کردہ حدود کے اندر خواتین اس کا اظہار کرسکتی ہیں۔ اس کے بارے میں بھی قرآن پاک میں احکام دیے گئے ہیں۔ یہ احکام کوئی نئے یا ایسے نہیں ہیں جو پہلی مرتبہ قرآن نے دیے ہیں، بلکہ ہر متمدن اور مہذب قوم نے کوئی نہ کوئی تصور ان احکام کا یعنی پردے اور حجاب کا دیا ہے۔ عریانی اور برہنگی کبھی بھی انسانیت کا شعار نہیں رہی۔ موجودہ لامذہب اور لا اخلاق معاشرے سے پہلے برہنگی اور عریانی سلیم الطبع انسانوں میں ناپسندیدہ اور مکروہ چیز سمجھی جاتی تھی۔عریانی اور برہنگی ہر قوم میں ایک بے حیائی اور فحاشی سمجھی جاتی تھی۔ آج بھی سلیم الطبع انسان اسے بے حیائی اور فحاشی ہی سمجھتے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۵۵)

امامت وحکومت کے مقاصد

امامت و حکومت کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے ڈاکٹر غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:

’’سیدنا علی ابن ابی طالب نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ امامت اور امارت مسلمانوں کے اجتماعی وجود کے لیے ناگزیر ہے۔ امام یا امیر نیک ہو یا بدکار، اس کا وجود بہرحال ناگزیر ہے۔ امیرالمؤمنین سے سوال کیاگیا کہ نیکوکار قائد تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن بدکار قائد کا وجود کیوں ضروری ہے؟ آپ نے فرمایا: قائد اور امام اگر بدکار بھی ہوگا تو کم از کم حدود قائم ہوتی رہیں گی، راستے پُرامن رہیں گے، جہاد کا تقاضا پورا کیاجاسکے گا۔ عامۃ الناس کے مادی حقوق اور مالی واجبات ادا ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اگر سربراہ ریاست نیکی اور تقویٰ کے اس معیار پر نہیں ہے جو شریعت کو مطلوب ہے تو بھی اس کا وجود بہرحال ناگزیر ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب جس بدکار اور غلط کار حکمران کا وجود تصور فرمارہے تھے، اس کے بارے میں بھی ان کو یہ یقین ضرور تھا کہ ایسے بدکار حکمران بھی، ایسے فاسق وفاجر حکمران بھی حدود قائم کریں گے، راستوں کو پُرامن بنائیں گے، دشمن کے خلاف جہاد کریں گے اور عامۃ الناس کے حقوق کی پاسداری کریں گے۔ آج ان میں سے شاید ہی کوئی ذمہ داری دنیاے اسلام میں ریاست کی طرف سے ادا کی جارہی ہو۔ حدود کتنی قائم کی جارہی ہیں؟ راستے کہاں کہاں اور کتنے پُرامن ہیں؟ دشمنان اسلام کے خلاف جہاد کون کررہا ہے؟ عامۃ الناس کے مالی واجبات کون ادا کررہا ہے؟ زکوٰۃ کا نظام کہاں کہاں قائم ہے؟ کتنے مستحقین کو زکوٰۃ مل رہی ہے؟ یہ واقعی ایک سوالیہ نشان ہے جو پوری امت کے جواب کا منتظر ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۶)

امامت کا قیام فرض کفایہ ہے

اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’امامت کا قیام فرض کفایہ ہے اور واجب ہے۔ اس کے لیے فقہاے اسلام نے بہت سے دلائل دیے ہیں۔ ایک بڑی دلیل جو ہر جگہ دی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ ما لا یتم الواجب الا بہ فہو واجب۔یہ فقہ اسلامی کا قاعدہ کلیہ ہے کہ جس چیز پر کسی واجب کے ادا کیے جانے کا دارومدار ہو، وہ چیز بھی واجب ہوتی ہے۔ چونکہ اسلامی قوانین کا نفاذ واجب ہے، ایک دینی فریضہ ہے اور یہ فریضہ ریاست کے وجود کے بغیر انجام نہیں دیاجاسکتا، اس لیے ریاست کا وجود بھی ضروری ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۷)

وہ فقہاے اسلام کے حوالے سے اپنی بات کو مزید مدلل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ماوردی، ابویعلی اور دوسرے بہت سے اہل علم نے بار بار یہ لکھا ہے کہ دین کے تحفظ کے لیے ریاست کا وجود ناگزیر ہے۔ یہ بات آج کے سیکولر معاشرے کو عجیب معلوم ہوگی، لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلامی نظام میں ریاست اور دین، مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور ہوجاتی ہے اور جب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑجاتا ہے۔ اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں، اس کے احکام میں لوگ ردوبدل شروع کردیتے ہیں اور ہر شخص نئی نئی بدعتیں نکالنے لگتا ہے۔ یوں ہوتے ہوتے دین کے سارے آثار مٹنے لگتے ہیں۔ اگر حکومت دین کا دفاع نہ کرے اور دین کا تحفظ نہ کرے تو لوگوں کے دل اس کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے۔ اس حکومت کو عامۃ الناس کی طرف سے مدد اور اطاعت نہیں ملے گی۔ وہ حکومت نہ قائم ہوسکے گی جو دین کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے، نہ اپنے معاملات کو صاف انداز میں چلاسکے گی۔ اس کے نتیجے میں استبداد قائم ہوگا۔ معاشرے میں انتشار پھیلے گا اور طرح طرح کی تباہیاں پیدا ہوں گی۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۷-۲۸۸)

ریاست و دین کے ناگزیر تعلق کو وہ تاریخی ثبوت سے واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’عبداللہ ابن المعتز ایک مشہور ادیب، شاعر اور نقاد تھا۔ ایک روز کے لیے خلیفہ بھی رہا۔ اس کو ایک ہی دن بعد معزول کردیاگیا تھا۔ اس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ حکومت دین ہی کی بدولت قائم رہ سکتی ہے اور دین ریاست اور حکومت ہی کی وجہ سے تقویت پاسکتا ہے۔ اسلامی تصور یہی ہے کہ دین اور ریاست دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہوں، ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہوں۔ مسلمانوں کے سب سے بڑے ماہر اجتماعیات ابن خلدون نے بھی یہی بات کہی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اگر کسی ریاست کو دینی دعوت کی مدد حاصل ہو اور ریاست کو دین کی پشت پناہی میسر ہوتو اس کی عصبیت مضبوط رہتی ہے، اس کی تائید کرنے والے یکجا رہتے ہیں اور ان میں آپس میں جو حسد اور مقابلے بازی ہے، وہ ختم ہوجاتی ہے اور سب مل کر مشترکہ دینی مقاصد اور مشترکہ اجتماعی اہداف کے لیے کام کرتے ہیں۔ جب بھی دین کی قوت کمزور پڑے گی تو لسانی، قبائلی، علاقائی اور مقامی عصبیتیں جنم لیں گی اور اصل مقصد سے توجہ ہٹ جائے گی، لیکن اگر دینی دعوت مضبوط ہوتو پھر مقامی عصبیتیں سر نہیں اٹھاتیں اور سب کی توجہ اصل مقصد کی طرف لگ جاتی ہے۔ ابن خلدون نے تاریخ کے واقعات سے قادسیہ اور یرموک کی کامیابیوں سے، موحدین کے پورے دور کی تاریخ سے یہ ثابت کیا ہے کہ اسلامی تاریخ میں وہ ریاستیں کامیاب رہی ہیں جن کے دور میں دینی دعوت مضبوط تھی، جو دین کی پابند تھیں اور دین ہی کی مدد سے ان کو قوت مل رہی تھی۔
اگر ہم اسلامی تاریخ کا جائز لیں تو پتہ چلتا ہے کہ بیشتر بڑی بڑی مملکتیں مذہب ہی کی بنیاد پر، یعنی اسلام کی بنیاد پر ہی قائم ہوئیں۔ یہ بات ابن خلدون نے تو کہی ہے، لیکن تاریخ کے مشاہدے سے بھی یہی انداز ہ ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ یہ ایک ناقابل انکار تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان مغربی نظام جمہوریت کا انکار کرکے ہی قائم ہوسکا، مغربی تصور قومیت کو مسترد کرکے قائم ہوا۔ تحریک پاکستان کے دوران سب سے بڑا حوالہ امت مسلمہ، اسلامی شریعت اور مسلم برادری کا حوالہ تھا۔ افغانستان کی ریاست جب قائم ہوئی، آج نہیں، جب احمد شاہ ابدالی کے زمانے میں قائم ہوئی تو احمد شاہ ابدالی نے آخر کیا کہہ کر افغانیوں کو اپیل کیاتھا؟ اس نے افغانیوں کو اسلام کے نام پر جمع ہونے کو کہا تھا۔ سعودی عرب کی حکومت تو خالص اسلامی دعوت ہی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ موجودہ ایران، موجودہ لیبیا، موجودہ مراکش، یہ سب اپنے اپنے اوقات میں خالص دینی دعوت کی بنیاد پر بننے والی ریاستیں ہیں۔ سلطنت بنی عباس اور سلطنت عثمانیہ کا آعاز بھی دینی دعوت سے ہوا۔ مغلوں کے دور کی اسلامی ریاستیں، ایران کی صفوی ریاست خالص مذہبی دعوت کی بنیاد پر قائم ہیں۔ سلطنت مغلیہ کیسے قائم ہوئی؟ بابر کو یہاں کے مسلمان حکمرانوں نے ، علما نے، مسلمان قائدین نے خطوط لکھے تھے۔ ملت مسلمہ کے تحفظ کے لیے اس کو یہاں آنے کی دعوت دی تھی۔ 
اسلامی تاریخ پر ہم جتنا بھی غور کریں اور بڑی بڑی مسلم ریاستوں کے آغاز کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ ان میں بیشتر کا آغاز دینی محرکات کی بنیاد پر ہوا ہے اور جب تک وہ دینی محرک قوی رہا، ریاست قوی رہی۔ جب دینی محرک کمزور ہوگیا، ریاست کی بنیادوں میں کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۸-۲۸۹)

ریاست کے دینی تصور پر امت کے تمام فرقوں کا اتفاق

محترم غازی صاحبؒ اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’صدر اسلام کی تاریخ سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ امت میں سب سے زیادہ جوش و خروش سے جس معاملے پر بحث ہوئی، جس کی بنیاد پر مختلف مسالک وجود میں آئے، کلامی فرقے بنے، مختلف مواقع پر جنگیں بھی ہوئیں، وہ یہی امامت اور ریاست کا مسئلہ تھا۔ امامت اور ریاست کے دینی بنیادوں پر قائم ہونے کو ہر مسلمان مکتب فکر کے نزدیک مسلمہ حیثیت حاصل ہے۔ اس اصول کے سب قائل ہیں۔ وہ شیعہ ہوں، اہل سنت ہوں، خوارج ہوں، زیدی ہوں، یہ سب کے سب ریاست کے دینی تصور اور مذہبی بنیادوں کو مانتے تھے اور نظری اور کلامی اعتبار سے آج بھی مانتے ہیں۔ ان سب کلامی مدارس کے درمیان جو چیز قدر مشترک ہے، وہ ریاست اور مملکت کا دینی بنیادوں پر قائم ہونا ہے۔ علامہ شہرستانی مشہور متکلمین اسلام میں سے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں سب سے بڑا اور طویل ترین اختلاف جس معاملے پر رہا ہے، وہ ریاست اور امامت کا مسئلہ ہے۔ اسلام کی تاریخ میں کسی مذہبی معاملے پر اتنی بار تلوار نہیں اٹھائی گئی ہے جتنی بار امامت اور ریاست کے مسئلہ پر اٹھائی گئی ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فکر اسلامی میں ریاست کا وجود کس حد تک ضروری اور کتنا ناگزیر سمجھا گیا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۹-۲۹۰)

ان کی گفتگو اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ یہ بات اسلامی عقائد کا حصہ بن گئی تھی اور متکلمین اسلام اس کو عقیدے کے طور پر بیان کرتے تھے۔ عقائد کی مشہور کتاب جو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے یعنی’’ شرح عقائد نسفی‘‘، اس میں لکھا ہوا ہے کہ مسلمانوں میں ایک ایسے امام یعنی ریاست کا وجود ناگزیر ہے جو شریعت کے احکام نافذ کرے، حدود کو قائم کرے، سرحدوں کا دفاع کرے، فوجوں کو تیار رکھے، زکوٰۃ و صدقات کی وصولی کا نظام قائم کرے، چوروں و ڈاکوؤں اور فساد پھیلانے والوں پر کنٹرول کرے، جمعوں اور عیدوں کی نمازوں کا انتظام کرے، عامۃ الناس کے درمیان اگر اختلافات یا تنازعات ہوں تو ان کا فیصلہ کرے، حق اور انصاف کی بنیاد پر گواہیاں قبول کرنے کا نظام قائم کرے، چھوٹے بچوں اور بچیوں کی سرپرستی کرے، جن کا کوئی سرپرست نہ ہو ان کے حقوق کی نگہداشت کرے، جو نوجوان بے سہارا ہیں ان کی شادیوں کا اور ازدواجی زندگی کا انتظام کرے، غنیمت اگر کہیں سے حاصل ہوئی ہے، اس کی تقسیم کا انتظام کرے اور وہ تمام کام انجام دے جو افراد انجام نہیں دے سکتے لیکن جن کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلامی ریاست کے وہ بنیادی فرائض بھی ہیں جو فقہاے اسلام نے بیان کیے ہیں۔ ان فرائض کے علاوہ دیگر فرائض بھی بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیل میں ابھی عرض کرتا ہوں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۸۹-۲۹۰)

تھیوکریسی کی لعنت سے پاک ایک دینی ریاست

محترم غازی صاحبؒ اسلامی ریاست کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اسلامی ریاست ایک دینی ریاست ہے۔ اس مفہوم میں کہ وہ خالص دینی تعلیم کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، دینی اہداف کی علمبردار ہے، دینی احکام پر عملدرآمد کی پابند ہے، ایک ایسے قانون کے نفاذ کی مکلف ہے جو دینی قواعد اور تعلیمات پر مبنی ہے۔ لیکن دینی ریاست ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ریاست مغربی تھیوکریسی کے مفاسد اور نقائص سے مکمل طور پر پاک ہے۔ یہاں نہ اہل مذہب کا کوئی پیدائشی طبقہ ہے، نہ کوئی پوپ ہے، نہ کوئی چرچ ہے، نہ اہل مذہب کو کوئی ایسے اختیارات حاصل ہیں جو عامۃ الناس کو حاصل نہیں ہیں۔ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔ اللہ اور بندے کے درمیان ہر وقت ایک ہاٹ لائن قائم ہے۔ بندہ جب چاہے، براہ راست اللہ تعالیٰ سے رجوع کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ براہ راست اس کی پکار کا جواب دیتا ہے۔ یہاں گناہ بخشوانے کے لیے کسی پادری یا پروہت کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں اللہ اور رسول کے بعد کسی بڑے سے بڑے آدمی کا قول و فعل حجت نہیں ہے۔ اس لیے تھیوکریسی کے جتنے مفاسد ہیں جن کی وجہ سے اہل مغرب تھیوکریسی کے نام سے ہروقت خائف رہتے ہیں، وہ مفاسد اسلامی ریاست میں موجود نہیں ہیں۔‘‘ (ایضاً)

اسلامی ریاست کی صفات کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:

’’اسلامی ریاست ایک جمہوری ریاست ہے، لیکن جدید سیکولرڈیموکریسی کے جمہوری مفاسد سے پاک ہے۔ آج مغربی جمہوریت نے خاصے مفاسد پیدا کردیے ہیں، اس لیے کہ مغربی جمہوریت نے کثرت اور قلت تعداد کو حق و باطل کا معیار قرار دے دیا ہے۔ جس طرف اکاون فیصد ہیں، وہ حق ہے۔ جس طرف انچاس فیصد ہیں، وہ باطل ہے۔ اسلام اس کثرت و قلت کے اصول کو قبول نہیں کرتا۔ حق حق ہے، چاہے ساری انسانیت اس کی مخالف ہو۔ باطل باطل ہے، چاہے ساری دنیا اس کی حامی ہو۔ لوگوں کی تائید اور مخالفت سے حق کے حق ہونے میں اور باطل کے باطل ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حق وہ ہے جو قرآن پاک میں آیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ باطل وہ ہے جس کو شریعت نے باطل قرار دیا ہے۔ اس لیے حق و باطل کا معیار وہی ہے جو شریعت میں ہے۔ ریاست کا بنیادی قانون وہی ہے جو شریعت نے بیان کیا ہے۔ ریاست کے مقاصد وہی ہیں جو شریعت نے بیان کیے ہیں۔ ان حدود کے اندر کہ ریاست شریعت کی بالادستی کی علمبردار ہو، شریعت ملک کا بالاتر قانون ہو، ان حدود کے اندر عامۃ الناس کو آزادی ہے کہ وہ اپنے سربراہوں کا انتخاب کریں، اجتہادی معاملات میں فیصلے کریں۔ اجتہادی آرا اگر ایک سے زائد ہوں تو ان میں سے جس رائے کو عامۃ الناس اختیار کرلیں، وہ رائے اسلامی قانون ہے۔ جن معاملات میں شریعت نے امت کو آزاد چھوڑا ہے اور وہ زندگی کے بیشتر معاملات سے عبارت ہے، وہاں امت اپنے اجتماعی فیصلے سے جس رائے کو اختیار کرنا چاہے کرسکتی ہے۔ اس لیے یہاں جمہوریت کی حقیقی روح موجود ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار کہا تھا کہ ’’مسلمانوں سے زیادہ جمہوریت پسند کون ہوسکتا ہے جو مذہب میں بھی جمہوریت پسند ہیں، جن کا مذہب بھی خالص جمہوری انداز سے کام کرتا ہے‘‘۔ نماز جیسی عبادت میں امامت کرنے کے لیے جس کو عامۃ الناس پسند کریں، وہی امامت کرسکتا ہے۔جس کو عامۃ الناس، ناپسند کریں اور وہ امامت کرنے لگے تو اس کو ناپسند کیاگیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے: لعن اللّٰہ امام قوم وہم لہ کارہون۔اللہ تعالیٰ اس امام پر لعنت بھیجتا ہے جو زبردستی لوگوں کی امامت کرے اور لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں۔ اس لیے جمہوریت کی روح تو اسلام کی رگ رگ میں موجود ہے۔ لیکن یہ جمہوریت جدید لادینی ڈیموکریسی کے مفاسد سے مکمل طور پر پاک ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۹۴۔۲۹۵)

حکمرانی کے جواز کے بنیادی ترین شرائط

ڈاکٹر محمود غازیؒ امت کے متفق علیہ فکر کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جائز حکمران کی کم از کم شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اگر کسی شخص نے قوت حاصل کرکے اپنے گرد فوج اکٹھی کرکے ریاست پر قبضہ کرلیا اور اپنے کو حکمران قرار دے دیا، اب اگر وہ شریعت کے احکام نافذ کررہا ہے، دین کا تحفظ کررہا ہے، دنیوی معاملات کی تدبیر اور نظم و نسق ٹھیک چلا رہا ہے تو اسے قبول کرلینا چاہیے۔حاکم متغلب یعنی زبردستی قبضہ کرلینے والا حکمران جائز حکمران تسلیم کیاجائے گا، اگر وہ شریعت کی بالا دستی کو مانتا ہو، شریعت کے احکام پر عمل کرتا ہو اور شریعت کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہ بات تمام فقہاے اسلام نے لکھی ہے، اس لیے کہ اگر کوئی حاکم متغلب یا زبردستی مسلط ہونے والا حکمران شریعت کے احکام نافذ کرتا ہو، حدود قائم کرتا ہو، ملک کا دفاع کرتا ہو، لوگوں کی عزت و آبرو کا محافظ ہو، دشمنان اسلام سے جہاد کے لیے فوجیں تیار رکھتا ہو، زکوٰۃ و صدقات کا نظام قائم کرتا ہو، عدالتیں آزادی سے کام کررہی ہوں، جمعہ، عیدین اور نمازوں کا نظام قائم ہو، مظلوم کو انصاف مل رہا ہو، ظالم کو ظلم سے روکا جارہا ہو، عدالتیں اور دوسرے ادارے کام کررہے ہوں، دنیا کے مختلف گوشوں میں داعی اور قاری بھیجے جارہے ہوں تو پھر وہ ریاست جائز ریاست مانی جائے گی۔ یہ تمام فرائض جو میں نے ابھی بیان کیے، وہ ہیں جو علامہ شہرستانی نے اپنی مشہور کتاب ’’نہایۃ الاقدام فی علم الکلام‘‘ میں بیان کیے ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۲۹۸-۲۹۹)

ریاست کا اولین فریضہ۔۔۔سیکولرازم کی جڑپرتیشہ

ریاست کے پہلے فریضہ پر بات کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

’’یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نماز جو عبادات کا سب سے بنیادی عنوان ہے، سب سے اولین اور بنیادی عبادت ہے، اس کو ریاست کا سب سے پہلا فریضہ قرار دیاگیا ہے۔ یہاں لامذہبیت اور سیکولرزم کی جڑ کٹ جاتی ہے، اس لیے کہ حکومت کے اہم ترین فرائض میں سے اقامت صلوٰۃ بھی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ اپنے تمام گورنروں کو لکھا تھا کہ آپ حضرات کے فرائض میں سے سب سے اہم ترین فریضہ میرے نزدیک اقامت صلوٰۃ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں فوج کے سربراہ ہی نماز کے امام ہوتے تھے۔ جو امام صلوٰۃ ہوتا تھا، وہ امام جیش بھی ہوتا تھا۔ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق کا انتخاب جب خلافت کے لیے ہونے لگا تو صحابہ کرامؓ نے متفقہ طور پر ان کی امامت صلوٰۃ کو امامت ریاست کی بنیاد قرار دیا اور کہا جس شخص کو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی سب سے بڑی عبادت کے لیے چنا کہ وہ ہماری امامت کرے، ہم ان کو دنیوی معاملات میں بھی اپنی امامت کے لیے منتخب کریں گے۔ اس لیے اگر سربراہ ریاست امامت صلوٰۃ کا اہل ہوگا تو ظاہر ہے امام صلوٰۃ کے لیے جولازمی خصوصیات ہونی چاہییں، وہ اس میں پائی جانی چاہییں۔ یہ وہ کم سے کم اہلیت ہے جو اسلامی ریاست کے سربراہ میں پائی جانی چاہیے۔ کم از کم نماز پڑھنا جانتا ہو، اتنا قرآن جانتا ہو کہ نماز ادا کرسکے، نماز کے احکام سے واقف ہو۔ جس نے سرے سے کبھی زندگی میں نماز نہ پڑھی ہو، جو سرے سے نماز پڑھنا ہی نہ جانتا ہو، وہ اسلامی ریاست کا سربراہ ہوجائے، یہ بات اسلامی معیار اخلاق اور اسلامی سیاست کی رو سے ناقابل تصور ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۳۰۰)

نظریہ پاکستان: لادینی مغربی نظریات کا انکار

اسلامی ریاست کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: 

’’اسی طرح تحریک پاکستان کی شکل میں جو ایک اسلامی ریاست کے قیام کی ایک اجتماعی کوشش تھی، یہی جذبہ کار فرما تھا۔ تحریک پاکستان دراصل ان مغربی تصورات کے انکار پر مبنی تھی جو دور جدید میں رائج تھے اور جدیدلادینی اور سیاسی تصورات پر مبنی تھے۔ یہ بات ہم سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان کی اساس اور اٹھان دو قومی نظریے پر ہے۔ یہ نظریہ قومیت اور نیشنل ازم کے جدید مغربی نظریے کے انکار پر مبنی ہے۔ جدید مغربی تصورات کے انکار و استرداد پر مبنی ہے۔ نظریہ پاکستان اور جدید لادینی نظریات اور تصورات ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔پاکستان کی پریشانی اور مشکلات کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ قائدین تحریک پاکستان کے بعد جو لوگ پاکستان پر مسلط ہوئے، وہ تحریک پاکستان کی روح سے قطعاً ناآشنا رہے ہیں۔ اسی طبقہ نے جدید لادینی مغربی تصورات کو پاکستان میں جاری کرنا چاہا۔ اہل پاکستان کی نفسیات اور مزاج نے اسے قبول نہیں کیا، اس لیے کشمکش پیدا ہوئی۔ ‘‘(ایضاً صفحہ ۳۰۹)

مسلمانوں کے سیاسی زوال اور معاشرتی انحطاط میں کرنے کا اولین کام

محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کردار اور اخلاق کی بنیادی ترین اہمیت کا واضح شعوررکھتے ہیں۔ چنانچہ ایک مقام پر فرماتے ہیں:

’’جس زمانے میں صوفیانہ مضامین کو نظم کرنے والے شعرا سامنے آئے، یہ وہ زمانہ تھا جب مسلمانوں کا سیاسی زوال اور معاشرتی انحطاط بہت نچلی حدود کو چھورہا تھا۔ بغداد کا زوال ہوچکا تھا۔ تاتاریوں نے پوری دنیاے اسلام کو برباد کردیاتھا۔ بڑے بڑے جید علماء کرام شہید ہوچکے تھے اور مسلمانوں کا کوئی سیاسی مقام یا وقار دنیا میں نہیں رہا تھا اور ہر طرف مایوسی پھیل رہی تھی۔ اس مایوسی کے عالم میں بعض صوفیاے کرام نے مسلمانوں کو امید کا پیغام دینا چاہا جن میں سب سے بڑا نام مولانا جلال الدین رومیؒ کا ہے۔ انہوں نے اتنے زوروشور سے رجائیت کا یہ نغمہ بلند کیا اور لوگوں کو بلند آواز اور آہنگ یہ بات یاددلائی کہ اسلام کا مقصد کسی مادی مفاد کا حصول نہیں ہے یا ریاست اور سلطنت کا قیام اصلی مقصود نہیں ہے۔ یہ ایک ثانوی چیز ہے۔ اصل چیز کردار اور شخصیت کی تشکیل و تعمیر ہے، روحانیت کی تشکیل و تعمیر ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۳۵۰)

اہل مغرب اور اہل اسلام کی سوچ کا بنیادی فرق

اپنے خوبصورت اور سلیس انداز بیان کے ذریعے اہل مغرب اور اہل اسلام کی سوچ کا فرق یوں واضح فرماتے ہیں:

’’اہل مغرب نے آج سے طویل عرصہ قبل (تقریباً دو ہزار سال پہلے) یہ طے کرلیاتھا کہ عقل اور وحی میں کوئی توافق نہیں ہے اور ان دونوں کا دائرہ کار الگ الگ ہے۔ انہوں نے ایک جملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب کیا، معلوم نہیں وہ واقعتاً ان کا جملہ تھا یا نہیں۔ اگر انہوں نے ارشاد فرمایا ہوگا تو یقیناًکسی اور مفہوم میں ہوگا۔ بظاہر تو ان کا ارشاد معلوم نہیں ہوتا کہ ’’جو قیصر کا ہے، وہ قیصر کو دے دو۔ جو اللہ کا ہے، وہ اللہ کو دے دو۔‘‘ اس کی بنیاد پر مسیحی دنیا نے مذہب اور ریاست دونوں کا دائرہ کار الگ طے کردیا۔
آج اہل مغرب دنیا میں جس سے بھی معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں، وہ دین و دنیا کی اسی تفریق کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں کہ عقل اور وحی میں کوئی توافق نہیں ہے۔ ان کا اصرار اور مطالبہ، بلکہ شدید دباؤ ہے کہ ان دونوں میں تفریق کے اصول کو تسلیم کروگے تو بات آگے بڑھے گی۔ جو قوم یا افراد اس تفریق کے قائل نہیں ہیں، ان سے مغرب کوئی آبرومندانہ معاملہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اسلام کے نظام میں عقل اور وحی ایک دوسرے کے حریف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، یعنی انسانی علم یا سائنس اور مذہبی علم اور ہدایت یہ ایک دوسرے کے مؤید اور تکمیل کنندہ ہیں، ایک دوسرے کی نفی کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۶)

روحانی اقدار اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ہم آہنگی کیسے ہو؟ 

محترم غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عقل اور نقل کا یہ مکمل توازن اور ہم آہنگی شریعت کے بنیادی مزاج کا حصہ ہے تو پھر جدید مادی آسائشیں اور جدید مادی کامیابیاں دینی اور اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ کیسے کی جائیں؟ یہ بات متعدد مغربی مفکرین نے تسلیم کی ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کو اخلاقی اور روحانی اقدار سے ہم آہنگ کرنے میں اگر کوئی قوم یا تہذیب تاریخ کے اس طویل عرصہ میں کامیاب ہوئی ہے تو وہ مسلمان ہیں۔ آج مسلمانوں کو جو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، ان میں سے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ اخلاقیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں میں تعلق اور نسبت کیا ہے؟ اس کا تعین کیسے اور کن اصولوں کے تحت کیاجائے؟ اگر یہ کہیں کہیں متعارض ہیں تو وہ کون کون سے مسائل اور معاملات ہیں؟ اگر یہ باہم متوافق ہیں تو کہاں کہاں ہیں؟ باہم غیر جانبدار ہیں تو کہاں کہاں ہیں؟ اور ان تینوں صورتوں کے بارے میں مسلمانوں کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ اس رویہ کے تعین میں جو بنیادی حقیقت مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے ،جو ماضی قریب میں بعض مفکرین اور اہل دانش کی نظروں سے کئی بار اوجھل ہوگئی، وہ شریعت کا دوام اور تسلسل ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۷)

اسلامی شریعت۔۔۔ثبات اور تغیرکا حسین نمونہ

شریعت کے دوام اور تسلسل کے نکتے کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مغرب نے اپنے خاص مزاج اور دوسرے مختلف اسباب کی بنا پر تغیر کو ایک مثبت اور قابل فخر نعرے کی شکل دے دی ہے۔ آج کے مغرب میں ہر نئی چیز قابل قبول ہے اور ہر قدیم چیز ناقابل قبول ہے۔ مغرب کا یہ مزاج پچھلے دو تین سو سال میں بنادیاگیا ہے اور اس مزاج کو بنانے میں وہ تاجر ، صنعتکار اور کارخانے دار بھی شامل ہیں جو اپنے خالص مادی مفاد کی خاطر ہر نئی چیز کے لیے مارکیٹ اور بازار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہر نئی چیز کے لیے بازار جب پیدا ہوگا جب ہر قدیم چیز کو ناپسندیدہ ٹھہرایاجائے گا۔یہ سلسلہ گزشتہ دو، ڈھائی سو برس سے جاری ہے۔ اس مسلسل یک طرفہ مہم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر قدیم چیز ناپسندیدہ اور منفی بن گئی ہے اور ہر جدید چیز پسندیدہ اور مثبت سمجھی جانے لگی ہے۔ یہ مزاج اور رویہ مغربی تہذیب کے تاجرانہ مزاج نے پیدا کردیا ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں کوئی چیز نہ محض اس لیے اچھی یا بری ہے کہ وہ قدیم ہے اور نہ محض اس لیے اچھی یا بری ہے کہ وہ جدید ہے۔ نہ محض اس لیے پسندیدہ اور قابل قبول ہے کہ قدیم ہے، نہ اس لیے ناقابل قبول ہے کہ جدید ہے۔ کسی چیز کی قدامت اور جدت اسلام میں پسندیدگی کا معیار نہیں ہے، اس لیے کہ اسلام قصہ جدید و قدیم کو دلیل کم نظری سمجھتا ہے۔ جو چیز دراصل اسلام میں بقا اور تسلسل کی ضامن ہے اور جس بقا اور تسلسل کا مسلمانوں کو ساتھ دینا چاہیے، وہ دائمی و ازلی دینی اقدار ہیں جو قرآن پاک و سنت ثابتہ میں بیان ہوئی ہیں اور ان ازلی حقائق کے ساتھ ساتھ دین وشریعت کی وہ متفقہ تعبیرات اور تشریحات بھی تسلسل کی ضامن ہیں جن پر مسلمانوں کا روزاول سے اتفاق رہا ہے۔ یہ جو متفقہ تعبیرات ہیں، ان کی حیثیت اس پشتے کی ہے جس سے کسی دیوار کو سہارا دیاجاتا ہے۔ جب بنیاد بنائی جاتی ہے تو بنیاد کی حفاظت کے لیے بھی ایک پشتہ ہوتا ہے۔ یہ متفق علیہ تعبیرات اس پشتے کی حیثیت رکھتی ہیں جو اس بنیاد کی حفاظت کے لیے فراہم کیاگیا ہے۔ اس لیے اس بنیاد کے ساتھ ساتھ اس پشتہ کے بارے میں بھی کوئی مداہنت نہیں ہوسکتی، اس لیے کہ پشتہ کمزور ہوگا تو بنیاد بھی کمزور ہوگی۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۸)
’’اسی لیے یہ دینی حقائق جو قرآن پاک و سنت ثابتہ میں بیان کیے گئے ہیں، جن کو مسلمانوں کی متفقہ تعبیرات اور اجتماعی فہم کے پشتے نے مزید محفوظ و مضبوط بنایاہے، ان کی حیثیت روحانی اور اخلاقی دنیا میں اس خیر اور ابقی کی ہے جس کے نمائندے بڑے بڑے انبیاے کرام علیہم السلام رہے ہیں اور اس دوام خیر اور تسلسل حق کو یقینی بنانے میں ان بنیادوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس خیر و ابقیٰ کی حفاظت کے بعد ہر تغیر و جدت قابل قبول ہے۔ اس بنیاد کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ ساتھ اس پشتے کے چاروں طرف جتنی جدتیں اور تغیرات انسان لا سکتا ہے، اس کو اجازت ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۰۹)

معاشی خود مختاری کی اہمیت

معاشی خودمختاری کی اہمیت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’امت مسلمہ کی دیرپا سیاسی آزادی اور بامعنی عسکری اور دفاعی قوت کے حصول کے لیے معاشی خودمختاری درکار ہے۔ مسلمانوں کے لیے معاشی آزادی کے حصول کو فقہاے اسلام نے فرض کفایہ قرار دیاہے۔ یہ بات میں شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ، امام غزالی اور کئی دوسرے فقہاے کرام کے حوالے سے پہلے بھی بیان کرچکا ہوں۔ جب تک مسلمان معاشی طور پر آزادتھے، ان کی تہذیب غالب تہذیب تھی اور مقصدیت کی بنیاد پر قائم تھی۔ جب معاشی آزادی ختم ہوگئی تو ان کی سیاسی طاقت بھی ختم ہوگئی اور ان کی تہذیب ایک غلامانہ تہذیب میں بدل گئی جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ’’از غلامی دل بہ میرد در بدن‘‘، یعنی غلامی کی حالت میں دل اندر سے مرجاتا ہے۔ ’’از غلامی روح گردد بارتن‘‘، غلامی کی حالت میں روح بوجھ بن جاتی ہے۔ ’’از غلامی شیر غاب افگندہ ناب‘‘، جنگل کے شیر غلامی کی حالت میں ایسے ہوجاتے ہیں جیسے دانت گرے ہوئے بوڑھے ہوتے ہیں۔ ’’از غلامی مرد حق زنار بند‘‘، غلامی میں مردان حق بھی زنار پوش ہوجاتے ہیں۔
آج دیکھ لیں کہ ہر جگہ مردان حق زنار بند نظر آتے ہیں۔ انگریزوں کی دوسو سالہ غلامی نے ہمتیں اتنی پست کردی ہیں کہ اب ہندوؤں کی تہذیبی غلامی کی نوبت آنے لگی ہے۔ جس قوم کے آباؤ اجداد نے ایک ہزار سال ہندوستان پر حکومت کی اور یہاں کی غالب ترین اکثریت کے علی الرغم شریعت اور اسلامی تہذیب کو جنوبی ایشیا کی بالادست تہذیبی قوت بنایا، ان کے ہاں آج کیا ہورہا ہے؟ شادی کی کسی تقریب میں جائیں تو لگتا ہی نہیں کہ یہ مسلمانوں کی شادی ہے۔ ہندوؤں کی شادی معلوم ہوتی ہے۔ جو چیزیں ہمارے بچپن میں ہندوانہ رواج کی وجہ سے ناجائز سمجھی جاتی تھیں، وہ آج اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے گھروں میں پھیل رہی ہیں۔ بے غیرت مسلمانوں نے سونیا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ ہندوستان کو اب کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں، ہندوستان کے ٹی وی اور میڈیا نے پاکستان کی ثقافتی آزادی کو ختم کردیا ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۳۔۵۱۴)

علمائے سوء، دین کے ڈاکو

ڈاکٹر غازیؒ صاحب غلامانہ ذہنیت کے اسباب کا کھوج لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ یہ ذہنی غلامی کیوں پیدا ہوئی؟ اس سوال کے جواب کے لیے احادیث میں جو کچھ آیا ہے اور اکابر اسلام نے جو کچھ لکھا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ دو طبقوں کی گمراہی، کمزوری اور نالائقی سے یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ مشہور بزرگ گزرے ہیں۔ اپنے زمانے میں امیرالمؤمنین فی الحدیث کہلاتے تھے۔ بڑے بڑے محدثین کے استاد ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کا ایک شعر ہے: 
وھل افسد الدین الا الملوک
واحبارسوء و رہبانہا
دین کے معاملات کو دو چیزوں نے خراب کیا، ایک نالائق حکمرانوں نے، دوسرا علماء سو (یعنی بدکردار اور دنیا پرست علما) نے۔ جب یہ دو طبقے مسلمانوں میں خراب ہوتے ہیں تو پورا معاشرہ خراب ہوجاتا ہے۔ جب علما کم فہم ہوں اور حکمران بدعمل ہوں تو مسلمان امت خرابی کا شکار ہوجاتی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے کہا ہے کہ: علماء سوء لصوص دین اند (علماء سوء دین کے لیے ڈاکو ہیں۔) یہ مجدد الف ثانی کے الفا ظ ہیں، کسی عام اور دین سے بے بہرہ آدمی کے الفاظ نہیں ہے۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ علماء سوء کی صحبت سے ایسے بچو جیسے زہریلے سانپ کے قریب جانے سے بچتے ہو۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۴)

مغرب کا ایجنڈا

مغرب کا ایجنڈا کیا ہے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟ ڈاکٹر محمود غازیؒ کو اس کا بڑا واضح شعور حاصل تھا۔لکھتے ہیں:

’’دنیائے اسلام میں بہت سے لوگ اب تک یہ سمجھتے تھے کہ مغرب کا ایجنڈامحض معاشی، سیاسی اور کسی حد تک ثقافتی ہے، اس ایجنڈے کا مذہب اور تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اب جو بیانات اہل مغرب کی طرف سے آرہے ہیں اور اسلامی قوتوں کو جس طرح سے نشانہ بنایاجارہا ہے اور ہر مسلمان کو جس طرح اصول پسند یا بنیاد پرست قرار دے کر مسلسل حملوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے، اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ان کا ہدف براہ راست دین اور مذہب ہے۔ ان کے ہاں جو تحریریں پچھلے دس پندرہ سال میں شائع ہوئی ہیں، اس میں واضح طور پر کہاگیا ہے کہ ہر وہ مسلمان جو قرآن پاک کو حقیقی مفہوم میں اللہ کا کلام سمجھتا ہے اور ظاہری مفہوم میں اس کو نافذ کرنا چاہتا ہے، وہ بنیاد پرست (fundamentalist) ہے، چاہے عملاً نافذ کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ جو قرآن کو کتاب ہدایت اور زندگی کا دستورالعمل سمجھتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی خواہش رکھتا ہے، وہ بنیاد پرست ہے۔ اس تصور کی رو سے ہر باعمل مسلمان بنیاد پرست قرار پاتا ہے بلکہ ایک بے عمل مسلمان بھی اگر قرآن کو کتاب الہٰی مانتا ہے تو وہ بھی بنیاد پرست ہے۔ یہ بات اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے۔ بنیاد پرستوں کے خلاف جنگ کرنے کے عزائم اتنی کثرت سے دہرائے گئے ہیں کہ اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ ان کا اصل ہدف کیا ہے۔ اب یہ بالکل واضح اور عیاں ہو چکی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۸-۵۱۹)

اہل مغرب کی منفی و مثبت خصوصیات

اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ فرماتے ہیں:

’’اہل مغرب کے ہاں فکری یک رنگی موجود ہے۔ پورا مغرب ایک خاص رخ پر چل رہا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو رویہ فرانس اور پیرس میں محسوس ہوتا ہے، وہی رویہ دوسرے مغربی ممالک میں محسوس ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں جو بات امریکہ میں کہی جارہی ہے، وہی اٹلی میں بھی کہی جارہی ہے، وہی اسپین میں بھی کہی جارہی ہے۔ ان کے ہاں عزم و ارادہ پایاجاتا ہے اور پچھلے دو سو برس سے دنیائے اسلام کے بارے میں وہ اپنے عزائم اور ارادوں کو عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ اس معاملہ میں ان کے حکمرانوں اور عامۃ الناس کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ تعلیم کی سطح ان کے ہاں اتنی اونچی ہے اور ان کے اپنے مقاصد سے اتنی ہم آہنگ ہے کہ دنیائے اسلام کے ممالک میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ان کی معاشی خوشحالی کی بنیاد بڑی مضبوط اور دیرپا ہے۔ وہ خود کفیل ہیں، ان کے پاس بے پناہ عسکری قوت ہے، ان کے ہاں سائنسی تحقیق کے ہزاروں ادارے کائنات کے ذرہ ذرہ اور چپہ چپہ کا سراغ لگارہے ہیں اور تکریم آدم کا تصور ان کے ہاں ایک حقیقت ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۱۹)

اہل اسلام کے انتشار کا نقشہ

ساتھ ہی مسلمانوں کے انتشار کی نقشہ کشی ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں گے کہ دنیائے اسلام کا کوئی واضح نصب العین اور کوئی متعین ہدف نہیں ہے۔ عامۃ الناس کے عزائم اور خواہشات میں جو ہرجگہ یکساں ہیں اور حکمرانوں کے عزائم اور خیالات میں کوئی توافق اور ہم آہنگی نہیں۔ عامۃ الناس کی خواہشات، آرزوئیں اور امیدیں انڈونیشیا سے مراکش تک ایک جیسی ہیں، لیکن حکومتوں کا ، سیاسی قیادتوں کا اور فکری اور سرکاری سیاسی اور اقتصادی راہنماؤں کا کوئی ہدف نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فکری الجھنیں عام ہیں۔ کوئی عزم و ارادہ کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ آپس میں بدترین اختلافات ہیں، تعلیم کی سطح بہت پست ہے، معاشی بنیادیں کمزور ہیں۔ دنیائے اسلام میں جو ممالک بہت خوشحال نظر آتے ہیں، ان کی خوشحالی کی بنیاد بھی کوئی مضبوط اور دیرپا نہیں ہے۔ بہت سی صورتوں میں یہ ظاہری خوشحالی ہے اور بعض بااثر مغربی طاقتوں کی مبنی برمصلحت سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ اس خوشحالی کا کنٹرول اور سوئچ مغربی طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ سوئچ آف کردیاجائے تو ساری معاشی چکاچوند آن واحد میں ختم ہوجائے گی۔ مسلم ممالک کا دوسروں پر انحصار ہے، اکثر مسلم ممالک عسکری اور سائنسی طور پر کمزور ہیں۔ بے توقیری آدم کے نمونے ہر مسلم ممالک میں کثرت سے نظر آتے ہیں۔ یہ فرق اس وقت ہمارے اور دنیائے مغرب کے درمیان قائم ہے۔ ان حالات میں کیا دنیائے اسلام اور دنیائے مغرب میں مقابلہ برابر کا ہے؟ ظاہر ہے کہ جواب نفی میں ہے۔‘‘(ایضاً صفحہ ۵۱۹۔۵۲۰)

مغرب کے دو تباہ کن تحفے

’’مزید برآں انہوں نے دو بڑے تباہ کن تحفے دنیائے اسلام کو دیے ہیں۔ پہلے ایک تحفہ دیا جس کے ذریعے دنیائے اسلام کو تباہ و برباد کردیاگیا۔ اب دوسرا تحفہ آرہا ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پہلا تحفہ جس کو علامہ اقبال نے اپنے الفاظ میں کہا تھا: "the most dreadful enemy of humanity" کہ میں جس کو اسلام کا سب سے تباہ کن دشمن سمجھتا ہوں، وہ ’’قومیت اور علاقائی نیشنل ازم کا نظریہ (territorial nationalism) ‘‘ہے۔ اسی علاقائی قومیت نے دنیائے اسلام کو چھوٹے چھوٹے ملکوں اور رجواڑوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا۔ ........
نیشنل ازم نے جو حال مسلم ممالک کا کیا ہے، اس سے مسلمانوں کو ابھی تک سبق نہیں ملا۔ دوسو سال کے طویل اور تکلیف دہ تجربات بھی انہیں کوئی سبق نہیں سکھا سکے۔ اب جو مزید تحفہ دیاجارہا ہے یا زبردستی مسلط کیاجارہا ہے، وہ سیکولرازم ہے جس کے ذریعے مسلمانوں میں موجود تھوڑی بہت اسلامی اقدار اور اخلاقیات سے ان کی وابستگی کو بھی مٹادینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ آج سے تقریباً ۲۵ سال قبل یہ بات ناقابل فہم تھی اور کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ پاکستان میں سیکولرازم کی بات کی جائے گی، سعودی عرب میں تعلیم کو جدید بنانے کے نام پر اسلامی اثرات سے پاک کرنے کی بات کی جائے گی، مصر میں جامعۃ الازہر کے کردار کو ختم کرنے کی بات کی جائے گی۔ چوتھائی صدی پہلے یہ سب کچھ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا، لیکن آج دنیائے اسلام کے ہر ملک میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ مجھے کئی ملکوں میں براہ راست جاکر مشاہدہ کا اتفاق ہوا ہے۔ جو باتیں آج کل پاکستان میں تعلیم کے بارے میں کہی جاتی ہیں، بعینہٖ وہی مصر کی جامعۃ الازہر میں بھی کہی جارہی ہیں۔ جن ’’دلائل‘‘ کا سہارا لے کر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نصابات سے اسلامی عناصر کو نکالا جارہا ہے، وہی ’’دلائل‘‘ عرب دنیا میں دہرائے جارہے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی نسخہ ہے جومختلف زبانوں میں لکھ کر مختلف ملکوں میں بھیجاجارہا ہے۔ انہی ’’دلائل‘‘ کی بازگشت خالص اسلامی اداروں میں بھی سنی جارہی ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۲۰)

مغرب کا مقتدر سیکولراور مذہبی طبقہ اسلام دشمنی میں متحد

مغرب کی اسلام دشمنی کا تجزیہ کرتے ہوئے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہیں:

’’یہ وہ صورت حال ہے جس میں ہمیں اپنے موقف کا تعین کرنا ہے۔ اس کام میں بہت سے مشکل مقامات بھی آتے ہیں۔ وہ مشکل مقامات فوری توجہ اور فیصلہ کا متقاضی ہیں۔ کون سی چیز ایسی ہے جس میں مسلمان فی الحال کمزوری یا صرف نظر سے کام لے سکتے ہیں؟ کون سے معاملات ہیں جن میں ایک لمحے کے لیے بھی صرفِ نظر نہیں کیاجاسکتا یا کمزوری نہیں دکھائی جاسکتی؟ ان سب باتوں کا ایک سنجیدہ ، متوازن، غیر جذباتی اور خالص علمی انداز میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ لیکن مسلمان تو اس کے لیے شاید تیار ہوجائیں، کیا اہل مغرب بھی اس کے لیے تیار ہیں کہ سنجیدگی کے ساتھ یہ طے کریں کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا؟ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں او ریہ انتہائی سفاہت کی بات ہے، میں اس کو انتہائی بے وقوفی کی بات سمجھتا ہوں کہ اسلام اور مغرب کے درمیان جو دشمنی موجودہ دور میں نظر آتی ہے، یہ ماضی قریب کے کچھ واقعات کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دشمنی محض ماضی قریب کے چند واقعات کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ دشمنی خالص مسیحی دور میں بھی رائج تھی، جب یورپ کی سرزمین پر خالص مسیحی حکومت قائم تھی۔ جب پوپ اور کرسچن رومن ایمپائر ، ہولی رومن ایمپائر کا زمانہ تھا، اس وقت بھی یہ دشمنیاں زور وشور سے قائم تھیں۔ اس دشمنی میں جو شدت صلیبی جنگوں کے زمانے میں تھی، وہ شدت آج بھی موجود ہے۔ صلیبی جنگوں کے حوالے آج بھی کبھی کبھی مغربی قائدین کی زبان سے بے ساختہ نکل جاتے ہیں۔ یہ مخالفت آج کے خالص عقلی اور سائنسی دور میں بھی جاری ہے، استعماری دور میں بھی جاری رہی اور پھلتی پھولتی رہی۔ جمہوریت، عدل ، مساوات اور احترام آدم کے نعروں کی گونج میں بھی مخالفت کی یہ لے بڑھ رہی ہے۔ یہ مخالفت ظاہر ہے کہ خالص نسلی انداز کی ہے۔ یہ ایسی مخالفت ہے جس میں مذہبی یورپ اور سیکولریورپ، مذہبی مغرب اور سیکولر مغرب دونوں متفق الرائے چلے آرہے ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو مذہبی اندازرکھتے ہیں، کچھ لوگ خالص سیکولر انداز کے حامل ہیں۔ لیکن مسلمانوں سے مخالفت اور دشمنی میں دونوں برابر ہیں۔‘‘

اسلامی ریاست کا مزاج۔۔۔عدل و رحمت

اسلامی ریاست کے مزاج پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمۃ اللہ علیہ اپنی پاکیزہ اور مطہر فکرکا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’شریعت نے اپنے کو رحمت قرار دیا ہے۔ کوئی ایسا قانون ، کوئی ایسا نظام، کوئی ایسا تصور جو رحمت کے اس تصور کے خلاف ہو، جس میں رحمۃ اللعالمین کے پیغام رحمت کا یہ تصور نہ جھلکتا ہو، وہ اسلام سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ آج مسلم ممالک میں کتنے نظام ہیں، ملازمتوں کے،غیر مسلموں سے ڈیل کرنے کے، غیر ملکیوں سے معاملہ کرنے کے جن میں رحمت کا یہ تصور موجود نہیں ہے۔ رحمت کا یہ تصور عدل کے باب کا پہلا درجہ ہے۔ عدل تو لازمی ہے ہی، عدل تو بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور عدل کے بارے میں کہہ چکا ہوں کہ ایک سطح تو وہ ہے جو ریاست کی ذمہ داری ہے، جو عدل قانونی یا عدل قضائی ہے۔ دوسری سطح وہ ہے جو افراد کی ذمہ داری ہے۔ عامۃ الناس کی ذمہ داری ہے، وہ عدل حقیقی ہے اور عدل حقیقی کے بعد احسان اور رحمت کے درجات آتے ہیں۔ اسلامی ریاست کا مزاج یہ ہونا چاہے کہ عدل کے لازمی اور قانونی تقاضے تو ہر صورت میں پورے ہوں۔ اس کے بعد ریاست کی پالیسیوں میں ریاست کے رویوں میں ، ریاست کے کارپردازوں کے مزاج میں احسان اور رحمت کے تصورات جھلکتے ہوں۔ مثال کے طور پر بین الاقوامی معاملات میں دنیا کی مظلوم اقوام کی تائید، دنیا کے محروم انسانوں کی مدد، خاص طور پر محروم اور مظلوم مسلمانوں کی مدد ریاست کی پالیسی ہونی چاہیے۔ بالادست غیر مسلم طاقتوں کے ساتھ مل کر کمزور اور نہتے مسلمان عوام کا قتل عام کرنا کسی بھی اعتبار سے اسلامی شریعت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ یہ اسلامی شریعت سے بغاوت تو کہاجاسکتا ہے، اسلامی شریعت پر عملدرآمد کے تقاضوں سے یہ رویہ کوسوں دور ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۳۶۔۵۳۷)

اسلامی تہذیب کا ایک اہم وصف۔۔۔تسلسل

اسلامی تہذیب کے تسلسل پر اس انداز میں روشنی ڈالتے ہیں:

’’اسلامی تہذیب اور اسلامی شریعت کو ماضی، حال اور مستقبل میں تقسیم نہیں کیاجاسکتا۔ اسلامی شریعت ایک تسلسل ہے، اسلامی تہذیب ایک تسلسل سے عبارت ہے۔ اسلامی تہذیب کی تشکیل میں ماضی کے تمام علمی اور فکری ذخیرے سے گہرا تعلق اور وابستگی ناگزیرہے۔ اسلامی شریعت میں تو فقہ کی تعریف ہی یہ ہے کہ شریعت کے ان احکام کا علم جو قرآن و سنت کے تفصیلی دلائل سے ماخوذ ہیں۔ لہٰذا قرآن و سنت سے براہ راست، مسلسل اور ناقابل شکست وابستگی تو اس عمل کا بنیادی اور ناگزیر حصہ ہے۔ قرآن و سنت سے وابستگی کسی خلامیں نہیں ہوگی۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں یا کم از کم ان کے طرزعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاید قرآن آج نازل ہوا ہے، سنت کا علم آج ان کو ہوا ہے اور وہ اپنی کم علمی اور سادہ لوحی سے یہ سمجھتے ہیں کہ آج اگر انہیں کسی حدیث کا علم ہوگیا ہے یا قرآن کی کسی آیت کا علم ہوگیا ہے تو ایسا اسلام کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ نہ ماضی میں کسی نے قرآن اور حدیث کو سمجھا، نہ ماضی قریب میں کسی نے سمجھا۔ آج پہلی بار انہی کی سمجھ میں آیا ہے کہ قرآن کریم یا سنت کیا کہتے ہیں۔ اس طرزعمل سے فائدہ تو شاید ہی ہوتا ہو، قباحتیں بہت پیدا ہوتی ہیں، اسلامی روایت کے تسلسل میں خلل پڑتا ہے۔ اسلامی روایت کا تسلسل برقرار رکھنا اسلامی تہذیب کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۰)

تقلید، ایک دودھاری تلوار

اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہاں تقلید کا سوال بھی آجاتا ہے جو ایک دو دھاری تلوار ہے۔ تقلید بعض پہلوؤں میں، بعض اعتبارات سے ناگزیر ہے جہاں تقلید کے بغیر چارہ نہیں۔ مثلاً میں سائنس کا علم نہیں رکھتا، میں فزکس سے واقف نہیں ہوں، اس لیے اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جس کا تعلق سائنس سے ہو اور مجھے اس کے بارہ میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو میں بغیر کسی دلیل کے محض اعتماد کی بنیاد پر کسی ایسے سائنسدان کی رائے کی پابندی کروں گا جس کے علم اور کردار پر مجھے اعتماد ہو۔‘‘ (ایضاً )

مستقبل کی نقشہ گری کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں:

’’لیکن یہ تقلید کی ایک سطح ہے۔ اس کا تعلق انسانوں کی روزمرہ زندگی سے ہے، اس کا تعلق انسانی معاشرے کی اسلامی اساس اور اس کے تسلسل سے ہے۔ لیکن مستقبل کی تشکیل ، مستقبل کی نقشہ کشی ماضی کے تسلسل کی ضمانت کے ساتھ ساتھ جس چیزکا تقاضا کرتی ہے، وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے، نئے مسائل کا حل کرنا ہے، نئی مشکلات کو دور کرنا ہے، نئے سوالات کا جواب دینا ہے۔ ان سب امور کے لیے نئے مسائل کے حل کے لیے جرات مندانہ اجتہاد ناگزیر ہے۔ لہٰذا ماضی سے تسلسل برقرار رکھنے کے لیے تقلید اور مستقبل کی نقشہ کشی کے لیے اجتہاد ایک اساسی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا توازن ہونا چاہیے کہ نہ تقلید کے تقاضے مجروح ہوں جس کے نتیجے میں تسلسل کا عمل اختلال کا شکار ہوجائے اور نہ اجتہاد کے تقاضے مجروح ہوں جس کے نتیجے میں مستقبل کی نقشہ کشی مشکل ہوجائے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۱)

عالمگیریت اور عالمی فقہ

فقہ پر گفتگو کرتے ہوئے غازی صاحبؒ فرماتے ہیں:

’’آج ہم ایک نئی فقہ کی تشکیل کے عمل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ فقہ وہ ہے جس کو میں کئی بار اپنی گفتگوؤں میں cosmopoliton fiqh یا globalized fiqh کے نام سے یاد کرچکا ہوں۔ الفقہ العولمی بھی اس کو کہا جاسکتا ہے۔ آج کا دور بین الاقوامیت کا دور ہے۔ اسلام کی بین الاقوامیت کا صحیح اور مکمل مظاہرہ آج کے دور میں ہوگا۔ ماضی کا دور مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں کے درمیان باہمی اتفاق کا دور تھا۔ جب اسلامی ریاست ایک بڑی ریاست تھی، بنی عباس کے دور میں یا سلطنت عثمانیہ کے زمانے میں تو وہاں بھی اصل نوعیت یہ تھی کہ یہ مختلف خود مختار مسلم مملکتوں یا ریاستوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا نیم وفاق تھا۔ عملاً یہی صورتحال تھی۔ آج کی زبان میں اس کو یہی کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے اس صورتحال کے تقاضے کچھ اور تھے۔ آج جس نئے نظام کی طرف ہم بڑھ رہے ہیں، وہ اس سے ذرا مختلف ہے۔ مستقبل میں کسی مسلکی فقہ کے بجائے ایک نئی فقہ عولمی کی ضرورت ناگزیر محسوس ہوتی ہے۔ مغربی عالمگیریت کا مقابلہ اسلامی عالمگیریت کے بغیر نہیں کیاجاسکتا۔ جدید عالمگیریت کے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے اسلامی عالمگیریت کے بغیر چارہ نہیں ہے۔
اسلامی عالمگیریت کے لیے ناگزیر ہے کہ ایک عالمگیر فقہ کی تدوین نو کی جائے۔اس کے لیے فقہ سیر کی تشکیل جدید سب سے پہلا قدم ہے۔ تجارتی اور مالیاتی فقہ کی تدوین نو جس پر خاصا کام ہورہا ہے۔اس میدان میں ناگزیر ہے۔ ان سارے میدانوں میں تشکیل نو اور بالخصوص فقہ کی تدوین نو کے لیے ہمیں قدیم اسلامی روایت سے انتہائی گہری اور مضبوط وابستگی کے ساتھ ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مفید تجربات سے فائدہ اٹھانا پڑے گا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۵)

مشرق و مغرب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت

اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مغرب اور مشرق دونوں کے تجربات کیا ہیں؟ کیا رہے ہیں؟ علوم کے میدان میں بھی، صنائع اور فنون کے میدان میں بھی، ان سب سے گہری اور ناقدانہ واقفیت دنیائے اسلام کے مستقبل کے لیے ناگزیرہے۔ مغربی تہذیب بہت جامع اور بھرپور تہذیب ہے۔ مغربی تصورات میں کچھ پہلو مفید ہیں، کچھ پہلو ہمارے لیے غیر ضروری ہیں۔ کچھ پہلو اسلامی شریعت اور عقیدے کی روشنی میں ناقابل قبول ہیں، کچھ پہلو شدید گمراہیوں پر مبنی ہیں۔ یہ گمراہیاں جنہوں نے دنیائے اسلام میں بہت سے ذہنوں کو متاثر کیا ہے، وہ کیا ہیں؟ یہ گمراہیاں بے شمار ہیں۔ یہ فکر و فلسفہ کے میدان میں بھی ہیں ، تعلیم اور مذہبیات کے میدان میں بھی ہیں۔ مذہبیات کے میدان میں بالخصوص کتب مقدسہ کی نوعیت کیا ہے؟ کتب مقدسہ یا نصوص مقدسہ کی تعبیر و تفسیر کے بارے میں بہت سی گمراہیاں پیدا ہوئی ہیں جن سے دنیاے اسلام میں بھی بعض لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ یہ گمراہیاں قانون اور سیاست کے میدان میں بھی ہیں ۔ معاشیات کے باب میں بھی ہیں، نفسیات اور اخلاقیات سے بھی ان کا تعلق ہے ، معاشرت و معیشت میں بھی بہت سی غلطیاں ہیں۔
جب تک ان تمام امور کا الگ الگ جائزہ نہیں لیاجائے گا اور ان گمراہیوں اور غلط تصورات پر عقلی تنقید کرکے ان کا برسرغلط ہونا ثابت نہیں کیاجائے گا، اس وقت تک فکر اسلامی کی تشکیل نو اور فقہ اسلامی کی تدوین نو کا عمل دور جدید کے تقاضوں کی روشنی میں مشکل کام ہے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۶)

ہردور کے اہم فکری مسائل

ایک اور اہم نکتے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے غازی صاحبؒ فرماتے ہیں:

’’یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہر دور میں بعض اہم فکری مسائل اور تہذیبی معاملات ایسے ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے زیادہ اہمیت اختیار کرلیتے ہیں اور پھر ساری فکری اور تہذیبی سرگرمی انہی کے گرد گھومنے لگتی ہے۔ مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول میں جو فکر تھی، اسلامی بھی اور اسلام کے دائرے سے باہر بھی، وہ ریاست و سیاست پر مرتکز تھی۔ اس زمانہ کے تمام بڑے بڑے مفکرین اسلام اسلامی ریاست اور اسلامی سیاست پر لکھ رہے تھے۔ اس لیے اس دور میں یہی بڑا مسئلہ تھا۔ ریاست کی حقیقت اور ماہیت پر غور و خوض ، اسلامی ریاست کی تشکیل ، یہ مسائل فکر اسلامی کے نمایاں مسائل تھے۔
بیسویں صدی کے نصف دوم میں ریاست اور سیاست کی مرکزیت کم ہوگئی اور اقتصاد و مالیات کی مرکزیت نمایاں ہوگئی، چنانچہ فکر اسلامی کا اہم مضمون سیاست اور ریاست کے بجائے اقتصاد و مالیات کے مضامین قرار پائے۔ آئندہ پچاس سال یا کم و بیش ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عالمگیریت اور اس کے مسائل، گلوبلائزیشن کے مسائل فکر کے بنیادی مسائل ہوں گے اور دنیا کے مفکرین اور اہل علم کی توجہ ان معاملات کی طرف رہے گی۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ، خاص طور پر آئندہ چند عشروں میں یہ ہے کہ عالمگیریت کی فکری اور اخلاقی اساس کا تعین کرنے میں دنیا کی رہنمائی کریں۔اخلاق کی عالمگیر اور متفقہ اساس کی نشاندہی کریں اور مذہب اور معاشرہ، مذہب اور تہذیب، مذہب اور ریاست، مذہب اور معیشت کے اس تعلق کو دوبارہ یاد دلائیں جو دنیا نے بھلا دیا ہے۔ اس تعلق کو مغرب نے بھلایا تو اس کے کچھ اسباب بھی تھے۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۷۔۵۴۸)

مغرب کی مذہبی اور سیکولرطاقتوں کا مشترکہ ہدف 

مغرب کی گمراہیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مغرب کی نظرمیں اصل مسئلہ ان کی عسکری اور اقتصادی قوت کے تحفظ کا تھا۔ اس عسکری اور اقتصادی قوت کا تحفظ کرنے اور اسے فروغ دینے کے عزائم اور عمل میں جب شدت پیدا ہوئی تو اہل مغرب نے محسوس کیا کہ اخلاق اور مذہب کے قواعد ان عزائم کے راستہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے ان تمام علائق اور رکاوٹوں کو دور کردیا اور یوں اخلاق اور مذہب کا تعلق سیاسی اور اقتصادی زندگی سے کٹ گیا۔ وہ آج بھی یہ چاہتے ہیں کہ اپنی عسکری اور اقتصادی قوت کو محفوظ بنائیں، اس کے تسلسل کو یقینی بنائیں اور مشرق کو اپنا عسکری اور اقصادی حریف بننے سے روکیں۔ آج وہ دنیائے اسلام کو نہ اقتصاد کے میدان میں اپنا حریف بننے دینے کے لیے تیار ہیں اور نہ عسکری میدان میں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ اہل مشرق کو مغرب کی پیروی پر آمادہ رکھا جائے اور ایسا ذہن بنایاجائے کہ اہل مشرق اپنے نظام اور تہذیب کے مستقبل سے مایوس ہوجائیں۔ آج اگر ہمارا نوجوان اپنے مستقبل سے ، اپنے ملک کے مستقبل سے، تہذیب کے مستقبل سے مایوس نظر آتا ہے یا بے یقینی کا شکار نظر آتا ہے تو اس کے اسباب گزشہ ڈھائی تین سو سال کی مغرب کی تاریخ میں تلاش کرنے چاہئیں۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۴۸)

امت مسلمہ کا بین الاقوامی کردار۔۔۔اخلاق اور کردار کی بنیاد پر

محاضرات شریعت کے عنوان سے اپنے خطبات کے اختتامی کلمات میں فرماتے ہیں:

’’امت مسلمہ کے بین الاقوامی کردار کے جہاں اقتصادی سیاسی اور قانونی پہلو ہیں، وہاں اخلاقی، مذہبی اور انسانی پہلو بھی ہیں۔ آج بین الاقوامی معاملات میں اخلاق اور مذہب کا حوالہ اجنبی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا گزشتہ تین چار سو سال سے جس بین الاقوامی لین دین اور بین الاقوامی قانون سے مانوس ہے، وہ بڑی حد تک اخلاق اور مذہب سے لاتعلق ہے۔ اس تعلق کو دوبارہ استوار کرنا اور بین الاقوامی تعلقات کو اخلاق اور کردار کی بنیاد پر تعمیر کرنا پوری انسانیت کی بنیادی ضرورت ہے اوراس ضرورت کی تکمیل کا سامان اسلامی شریعت اور اسلامی تہذیب ہی کے ذریعے کیاجاسکتا ہے۔
آج مادیات اور روحانیات کے مابین وہ علمی اور فکری بُعد باقی نہیں رہا جو گزشتہ ہزار ہا سال سے موجود تھا۔ آج فلسفہ اور سائنس ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں۔ مادہ اور روح ، matter اور spirit کے درمیان جو فرق اور امتیاز ماضی میں کیاجاتا تھا، وہ ختم ہورہا ہے۔ آج سائنس کے برتر اصولوں کو سمجھے بغیر سائنس کی مزید ترقی کے راستے بند نظر آتے ہیں۔ یہ برتر اصول فلسفہ اور حکمت کی سرحد پر نہیں بلکہ ان کی حدود کے خاصا اندر واقع ہیں۔ ایک سطح پر فلسفہ اور مذہب کے مدعیان میں حکماء اور علماء دونوں کا اجتماع ہوجاتا ہے۔ گویا فلسفہ اور مذہب میں قدیم علماء اور منطقیوں کے قول کے مطابق عموم خصوص من وجہ کی نسبت قائم ہوجاتی ہے۔ اب سائنس بھی ان حدود میں داخل ہورہی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ دور پھر آنے والا ہے جب فقیہ اور مفسر حکیم بھی تھا اور سائنس دان بھی تھا۔‘‘ (ایضاً صفحہ ۵۵۱)

عام ریاست اور اسلامی ریاست میں اہم فرق

ڈاکٹر غازی صاحبؒ عام ریاست اور اسلامی ریاست میں ایک اہم فرق پر اپنے منفرد انداز میں اس طرح روشنی ڈالتے ہیں:

’’مدینہ کی ریاست اور بقیہ ریاستوں میں ایک دوسرا بڑا اہم فرق یہ ہے کہ جب ریاست بنتی ہے تو اس کو چلانے کے لیے قانون کی ضرورت پڑتی ہے۔ گویا ریاست مقصد ہے اور قانون اس کو چلانے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہاں اس کے برعکس ہے۔ یہاں ایک قانون الہٰی نازل ہورہا تھا۔ ایک شریعت دی جارہی تھی۔ اس شریعت کے بعض احکام مکہ مکرمہ میں نازل ہوچکے تھے۔ اس شریعت کے نفاذ اور تحفظ کے لیے ریاست کی ضرورت تھی۔ یہاں قانون اصل چیز تھی اور ریاست ذریعہ تھی۔ لہٰذا شریعت اصل مقصود ہے اور ریاست اس کا ذریعہ ہے۔ اسلام میں ریاست مقصود نہیں ہے۔اسلام میں ریاست حصول مقصد کا ایک اہم اور ضروری وسیلہ ہے۔ لہٰذا اسلام میں ریاست کا درجہ بعد میں ہے، شریعت کا درجہ پہلے ہے۔‘‘ (محاضرات سیرت صفحہ ۳۳۳)

رحمت اور عدل لازم و ملزوم

رحمت اور عدل پر اسلام کے حقیقی تصور کی ترجمانی اورمغربی قانونی تصور پر بے لاگ تبصرہ یوں فرمایا:

’’رحمت اور عدل دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔ عدل کو نظر انداز کرکے رحمت نہیں ہوسکتی۔اگر عدل کے تقاصے کو نظر انداز کرکے رحمت کا رویہ اپنایاجائے گا تو وہ نام نہاد رحمت رحمت نہیں ہوگی بلکہ ظلم ہوگا۔ رحمت اور عدل دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جو شخص رحم نہیں کرتا وہ خود بھی رحم کا مستحق نہیں ہے۔ ’’من لا یرحم لا یرحم‘‘ یہ رحمت للعالمین نے ہی فرمایا ہے کہ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، وہ خود بھی رحم کا مستحق نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک آدمی دس آدمیوں کو قتل کردے۔ مقتولین تو رحمت اور شفقت کے مستحق نہ ہوں اور قاتل رحمت کا مستحق ہوجائے۔ یہ انسانیت کے خلاف بغاوت ہے اور خود ایک مکروہ انسانی جرم ہے کہ مجرم اور قاتل کو برابر اور یکساں طور پر رحمت کا مستحق سمجھا جائے۔ اس مظلوم کو، اس کے گھر والوں اور بچوں کو تو شفقت اور رحم کا مستحق نہ مانا جائیاور شفقت، نرمی، قانونی موشگافیوں، انسانیت ہر چیز کو مجرم کی خدمت اور دفاع کے لیے وقف کردیاجائے۔ یہ خلط مبحث اور بے اعتدالی اہل مغرب ہی کو مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ کی متوازن اور اعتدال پسند شریعت اس سے بری ہے۔ یہ عدم توازن اور مجرم دوستی اسلام کے تصور رحمت کے خلاف ہے۔ اسلام اس طرح کی رحمت کا کوئی تصور نہیں رکھتا۔ لہٰذا عدل اور رحمت دونوں ایک چیز ہیں۔ عدل کا تقاصا رحمت اور رحمت کا تقاضا عدل ہے۔‘‘ (محاضرات فقہ صفحہ ۳۹۵)

عورتوں کے حقوق ۔۔۔اسلام کا حسن اور جدید تہذیب کا مکروہ پن 

عورتوں کے حقوق کے حوالے سے ڈاکٹر غازی صاحبؒ جدید تہدیب کے علمبردار برطانیہ کے قانون وراثت پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’انگلستان میں آج ۲۰۰۴ میں بھی primogentiture کا اصول رائج ہے۔ اس اصول کے معنی یہ ہیں کہ وراثت پر سب سے بڑے بیٹے کا حق ہو۔ وہاں جائداد کی مالیت اگر ایک خاص حد سے زائد ہوتو اس کا کوئی اور رشتہ دار یا فردِ خاندان وارث نہیں ہوسکتا سوائے سب سے برے بیٹے کے۔ اس اصول کے تحت سب سے بڑا بیٹا ہی ساری جائداد کا وارث ہوتا ہے اور بقیہ سب ورثا محروم رہتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ انگلستان کے اس اصول پر کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ عورتوں کے حقوق کے علمبردار بھی خاموش ہیں۔کم سے کم میں نے کسی مغربی یا مشرقی خاتون کے بارہ میں کبھی یہ نہیں سناجس نے اس پر اعتراض کیا ہو کہ یہ انصاف کے خلاف اور عورتوں کے ساتھ زیادتی ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ شرعی احکام کے خلاف اور عورتوں کے خود ساختہ حقوق کے حق میں روزانہ مظاہرے کرنے والی خواتین اس پر کیوں خاموش رہتی ہیں۔یہ تو سراسر ناانصافی ہے۔ بڑی بڑی جائدادوں اور جاگیروں میں سارے کا سارا ورثہ صرف بڑے بیٹے کو ملے گا، لیکن اس میں نہ بیوی کو ملے گا، نہ بہنوں کو ملے گا، نہ بیٹیوں کو ملے گا اور نہ ماں کو کچھ ملے گا، بلکہ سب کچھ بڑے بیٹے کو ملے گا۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ چھوٹے بیٹے کو کیوں نہیں ملے گا۔ بہنوں کو کیوں نہیں ملے گا۔یہ ایک عجیب سی بات ہے۔ اگر بیٹا نہ ہو، بھائی، باپ اور چچا بھی نہ ہو، چچا زاد بھائی یا اس کا بیٹا بھی نہ ہو تو پھر نواسے کو ملے گا۔ بیٹیوں کو پھر بھی نہیں ملے گا۔ اب سوائے اس کے کہ یہ ایک سراسر دھاندلی اور ظلم ہے، اس کے علاوہ کوئی اور وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ شریعت نے ایسا کوئی ظالمانہ حکم نہیں رکھا۔ وراثت کے احکام لازمی طور پر واجب التعمیل ہیں اور مرنے والے کی موت کے فوراً بعد ہی اس کا ترکہ تقسیم کیا جائے گا۔‘‘ (محاضرات فقہ صفحہ ۴۴۹)

سطور بالا سے بخوبی اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ ڈاکٹر غازی کو اللہ تعالیٰ نے علمی رسوخ، فکری سلامتی، بیدار اور دردمند دل ،سلاست بیانی اور ابلاغ کی قوتوں سے مالا مال کیا ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جدیددجالی دور میں اسلام کی صاف، شستہ، صحیح اور معتدل و متوازن ترجمانی کا جو ملکہ اور صلاحیت اللہ تعالیٰ نے اپنے اس سعید بندے کو دیا تھا، اس بدترین زوال کے دور میں اسے ہم اسلام کا معجزہ ہی کہہ سکتے ہیں۔خاص طور پر فکری سلامتی، توازن اوربے مثال قوت ابلاغ انہیں بیسویں اور اکیسویں صدی کے تمام مسلم مفکرین میں نمایاں ترین اور ممتاز ترین مقام عطا کرتی ہے۔ اس خاص پہلو سے وہ واقعتاً قدرت کا ایک شاہکار اور ماسٹر پیس تھے۔ مغربی سائنس و فلسفے کے دجالی دور کے ان بدترین اندھیروں سے انسانیت کو نکالنے کے لیے آج قدرت کے ایسے ہی شاہکاراور ماسٹر پیس کی شدید ضرورت تھی ۔ نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ نوع انسانی کی یہ بہت بڑی محرومی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والاعلم و فکر اور قوت ابلاغ کایہ عظیم شاہکار ۲۶ ستمبر ۲۰۱۰ کو ان سے واپس لے لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔

شخصیات

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان