ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات

ادارہ

( ۱ )

محترم جناب مدیر صاحب ، ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

میرا مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی سے طویل محبت کا تعلق رہا ہے۔ ہم اسلامی نظریاتی کونسل میں ا کٹھے کام کرتے رہے ہیں۔ اور بھی بہت سے قومی، ملی، مقامی اور عالمی کاموں میں مشاورت رہی۔ حال ہی میں ان کی اچانک وفات سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل یعنی شعبان ۱۴۳۱ھ کے آخری عشرے میں مکہ مکرمہ میں رابطۃ العالم الاسلامی کی جو تین روزہ کانفرنس ہوئی، اس میں بھی ان کے ساتھ مفید اور پرلطف رفاقت رہی۔ میرا ان سے قلبی تعلق تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے متعلق کچھ ضرور لکھوں، لیکن عوارض اور ہجوم مشاغل کے باعث اس سعادت میں شریک نہ ہو سکوں گا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ’’ الشریعہ ‘‘ کے نمبر کو جوآپ مرحوم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کے بارے میں شائع کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں، مکمل کامیابی سے نوازے۔ 

محمد رفیع عثمانی عفا اللہ عنہ

رئیس الجامعہ دارالعلوم کراچی 

( ۲ )

جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ جن کا انتقال چندماہ قبل ہوا، پاکستان کی ایک مایہ ناز شخصیت اور ملت اسلامیہ کا نہایت بیش قیمت سرمایہ تھے۔ ان کی وفات صر ف اہل پاکستان ہی کے لیے نہیں، پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک بڑا المیہ اور بظاہر ناقابل تلافی نقصان ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب موصوف اپنی خصوصیات وامتیازات کی وجہ سے ایک منفرد شخصیت کے حامل تھے۔ دینی و دنیوی تعلیم کا حسین امتزاج اور قدیم و جدید علوم و نظریات میں ماہرانہ شناسائی میں ممتاز تھے۔ وہ ایسے دینی وعلمی خانوادے کے چشم وچراغ تھے جو دیوبند سے قرب مکانی کا شرف بھی رکھتا تھا اور نظریاتی اعتبار سے بھی مسلک دیوبند ہی پر کاربند تھا، لیکن مرحوم کا امتیاز یہ رہا کہ وہ نہ صرف خود فقہی جمود اور مسلکی تعصب سے بہت حد تک دور رہے بلکہ اس جمود اور تعصب کو کم کرنے میں عمر بھر کوشاں رہے۔ 

اسلام آباد میں منعقدہ علمی سیمیناروں اور کانفرنسوں میں جب بھی ان کو موقع ملتا، اور اکثرا ن کو ایسے مواقع ملتے رہتے تھے، وہ مسلکی ونظریاتی وابستگی سے بالا ہو کر ملت کی وحدت ویگانگت کے نقطہ نظر سے فقہی جمود کے خلاف آواز ضرور بلند کرتے۔ وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے، حتیٰ کہ مشرف دور میں وزیر مذہبی امور بھی رہے، لیکن انکسار اور عاجزی ان کے مزاج کا جزو لاینفک رہی۔ بلند پایہ اہل علم وقلم ہونے کے باوجود دوسرے اہل علم وقلم کا احترام اوران کی علمی خدمات کی تعریف کرتے۔ راقم کی کتاب ’’خلافت وملوکیت کی تاریخی وشرعی حیثیت‘‘ جو مولانا مودودی مرحوم کی ’’خلافت وملوکیت‘‘ کے جواب میں لکھی گئی تھی، ڈاکٹر صاحب کو بہت پسند تھی اور راقم سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وہ یہ فرمائش ضرور کرتے کہ اس کی تلخیص کر دیں تاکہ اس کادائرۂ افادیت مزید وسیع ہو جائے۔

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ذیلی ادارہ دعوہ اکیڈمی کے وہ ڈائریکٹر اورروح رواں تھے او را س کے زیر اہتمام انہوں نے اسلامی موضوعات پر حالات حاضرہ کی روشنی میں نہایت مفید لٹریچر تیار بھی کروایا اور شائع بھی کیا۔ یہ مطبوعات وقت کی نہایت اہم ضرورت ہیں جویقیناًان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے، ان شاء اللہ۔ خود ان کی تالیفات بھی جوزیادہ تر تقاریر اور محاضرات پر م مبنی ہیں، بغایت مفید اور متجددین کے شکوک وشبہات کے ازالے کے لیے نہایت موثر اور مسکت ہیں۔ یہ بھی ان کا صدقہ جاریہ ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ خوبیوں اور کمالات کی وجہ سے وہ ہر حلقے میں ہر دلعزیزبھی تھے اور اسلام کا ایک بہترین نمائندہ بھی۔ان کا خلا ایک مدت تک نہایت شدت سے محسوس کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اپنی رحمت کی برکات سے ان کو سیراب فرمائے۔ غفراللہ ورحمہ وجعل الجنۃ مثواہ۔

حافظ صلاح الدین یوسف 

(مدیر شعبہ تحقیق وتالیف دارالسلام ،لاہور)

( ۳ )

مکرمی مولانا ناصر صاحب حفظہ اللہ

سلام مسنون

آپ کا دوسرا مکتوب گرامی ملا۔شکریہ! آپ کا پہلا نواز ش ]نامہ[ نہیں ملا۔ ادھر تقریباً دو سال سے خاکسار کا ادارۂ ثقافت اسلامیہ سے تعلق نہیں رہا۔شاید اس لیے وہ مجھے نہیں ملا۔ آپ کا رسالہ ’الشریعہ‘ ایک مدت تک میری نظر سے گزرتا رہا۔ مسائل حاضرہ کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے پر آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔ ہم نے ’الشریعہ‘ کا ایک مقالہ ’المعارف‘ میں بھی نقل کیا تھا۔

آپ مرحوم ڈاکٹر غازی پر ’الشریعہ‘ کا خاص نمبر نکال رہے ہیں۔ اس پر میں مبارک باد دیتا ہوں۔ جب میں ادارۂ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد گیا، اس وقت جواں سال غازی مرحوم ادارہ میں تھے۔ ان سے جب کبھی ملنا ہوا، انھیں ایک سنجیدہ نوجوان پایا۔ ادارہ سے نکلا اور متعدد مقامات میں رہا۔ جب کبھی اسلام آباد جانا ہوا، ان سے ملتا رہا، ہرچند ان کا تعلق ایک سیاسی مذہبی جماعت سے تھا جو متعدد اسلامی دانش مندوں کو جو اپنے موضوع پر عبور رکھتے ہیں، سیکولر اور غیر سیکولر کے پیمانوں سے ناپتی تھی اور ان کے سامنے ضیاء الحق اور ان جیسے جابر حاکموں سے مل کر زہر کا پیالہ پیش کرتی تھی۔ خود اس خاکسار کو ضیاء الحق کے ہاتھوں اس پیالے کو دو دفعہ پینا پڑا۔ ان دنوں میں اتفاق سے مرحوم ڈاکٹر غازی سے ملنا ہوا تو انھیں افسردہ پایا۔ وہ اختلاف رائے کی بنا پر دوسروں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے قائل نہیں تھے۔ 

غرضیکہ اس قسم کے واقعات کی بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ایک شریف انسان تھے جو اختلاف رائے کی بنا پر اپنے ہم عصر اہل علم کے درپے آزار ہونے (suppression) کے قائل نہیں تھے۔ اس لیے میری رائے تھی کہ انھیں ایک ’’مذہبی سیاسی‘‘ جماعت کی طرف منسوب کرنا صحیح نہ ہوگا۔ البتہ میری اخلاص سے یہ رائے ہے کہ اگر وہ ظفر احمد انصاری اور افضل چیمہ سے دور رہتے تو وہ علمی میدان میں ٹھوس اور مثبت روایت قائم کر سکتے تھے۔ البتہ مرحوم ابوالحسن سید علی ندوی ایک نیک، مخلص اہل علم تھے۔ ان سے ڈاکٹر غازی کی عقیدت اور ملاقاتیں ان کے لیے یقیناًسود مند رہیں، کیونکہ مرحوم غازی صاحب بنیادی طور پر علمی اور اخلاقی آدمی تھے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ انھیں اپنی رحمت سے نوازے۔ آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مرحوم ڈاکٹر غازی کا تذکرہ چھیڑا اور مجھے ’’یاد ماضی عذاب ہے ساقی‘‘ کے حوالہ کر دیا۔

کبھی لاہور آنا ہو تو آپ سے مل کر مسرت ہوگی۔

(ڈاکٹر) رشید احمد (جالندھری)

( ۴ )

کل من علیہا فان، و یبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام (الرحمن ۵۵: ۲۶۔ ۲۷) ہر چیز جو اس زمین پر ہے، فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ 

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں جو صداقت بیان کی گئی ہے، بار بار مطالعہ کے باوجود ہم اسے اکثر بھول جاتے ہیں لیکن بعض حادثات ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں اور اس وقت اس آیت کا مفہوم ذہن میں تازہ ہو تا ہے کہ ہر چیز جو اس دنیا میں ہے ،فنا ہو جانے والی ہے اور صرف اللہ ذوالجلال والاکرام کی ذات باقی رہنے والی ہے۔ 

کل تک یہ بات وہم وگمان میں بھی نہ تھی کہ آج ڈاکٹر محمود احمد غازی ہمارے ساتھ نہ ہوں گے۔ میں کراچی میں تھا جب ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے انتقال کی خبر ملی ۔ یہ خبر میرے لیے ناقابل یقین تھی۔ ابھی چند ہفتے قبل ہم نے رابطۃ العالم الاسلامی کے پچاسویں یوم تاسیس کی تقریب میں مکہ مکرمہ میں شرکت کی، ایک ساتھ جہاز میں سفر کیا اور حرم شریف میں نمازوں میں شرکت کی تھی۔ مکہ مکرمہ جاتے وقت میں اور میری اہلیہ جہاز میں بیٹھے تھے کہ غازی صاحب جہاز میں داخل ہوئے اورمجھے دیکھ کر انتہائی گرم جوشی کے ساتھ جھک کر میری پیشانی پر بوسہ دیااور پھریہ کہا: میں قطر میں تھا تو ڈاکٹر منذر قحف صاحب نے بااصرار کہا تھا کہ جب آپ ڈاکٹر انیس سے ملیں تومیری طرف سے ان کی پیشانی پر بوسہ دیں۔ اللہ اکبر! کل کی بات ہے اور آج ہم ایک ایسے صاحب علم سے محروم ہو گئے جونہ صرف اپنے علم وتقویٰ بلکہ برادرانہ تعلق کی بنا پر ہمارے گھر کا ایک فرد تھا۔ 

۱۹۸۰ء میں جب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے تصور سے نکل کر ایک قابل محسوس شکل اختیارکی تو ادارہ تحقیقات اسلامی کو، جو اس سے قبل مختلف سرپرستیوں میں رہا تھا، یونی ورسٹی کا حصہ بنا دیاگیا اور مرحوم ڈاکٹر عبدالواحد ہالے پوتاصاحب، جو ادارے کے سربراہ تھے اور ڈاکٹر محمود احمد غازی جو ادارے میں ریڈر تھے، مع دیگر محققین کے یونی ورسٹی سے وابستہ ہو گئے۔ اس زمانے میں شاید ہی کوئی دن ایساہو جب ان سے ملاقات نہ ہوئی ہو۔ اکثر حسین حامد حسان صاحب جو اس وقت کلیہ شریعہ کے ڈین تھے اور بعدمیں یونیورسٹی کے صدربنے، سرشام ہی مجھے، ڈاکٹر حسن محمود الشافعی اور اکثر ڈاکٹرمحمود احمدغازی کو ا پنے گھربلا لیتے اور رات گئے یونی ورسٹی کے بہت سے مسائل پر ہم سب مصروف مشور ہ رہتے۔ دعوہ اکیڈمی کاقیام ۱۹۸۳ء میں عمل میںآیا اور مجھے اس کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جن افرادنے ہر مرحلہ میں میرے ساتھ تعاون کیا، ان میں ڈاکٹر حسن شافعی اور محمود غازی پیش پیش تھے۔ بعض وجوہ کی بنا پر میں دعوہ اکیڈمی سے الگ ہوا تو ڈاکٹر غازی نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور جب میں دوبارہ اکیڈمی کا ڈائریکٹر جنرل بنا تو وہ اکثر یہ کہتے کہ میں آپ کاخلیفہ ہوں اور آپ میرے خلیفہ ہیں۔

ڈاکٹر غازی کی یاد داشت غضب کی تھی اور برس ہا برس گزرنے کے بعد بھی واقعات کی ترتیب وتفصیل بیان کرنے میں انہیں یدطولیٰ حاصل تھا۔ ڈاکٹر صاحب اثر انگیز خطیب اور پر فکر تحریر کی بنا پر اس دور کے چند معروف اصحاب قلم میں سے تھے۔ ان کے قرآن کریم، حدیث، سیرت پاک، فقہ، شریعت، اور معیشت وتجارت کے موضوع پر خطابات کتابی شکل میں طبع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتب میں قانون بین المالک، اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم، اسلامی بنک کاری: ایک تعارف ، ادب القاضی، اور قرآن مجید: ایک تعارف شامل ہیں۔ وہ ایک دردمند دل رکھنے والے محقق، عالم ،مفکر اور فقیہ تھے۔ 

پاکستان میں سودی بنکاری سے نجات کے لیے جن لوگوں نے کام کیا اور خصوصاً جب معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ میں گیا اور پھر سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس مسئلے کا جائزہ لیا تو اس میں غازی صاحب نے نمایاں کردار ادا کیا۔ فیڈرل شریعہ کورٹ میں جس طرح ڈاکٹر فداء الرحمن صاحب نے فیصلے کی تحریر میں کردار دا کیا، ایسے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس خلیل الرحمن صاحب اور ڈاکٹر غازی کا اہم کردار رہا۔ ۸۰ء کے عشرے میں جنوبی افریقہ میں قادیانیوں کے حوالے سے عدالتی کارروائی میں پاکستان کے جن اصحاب علم نے عدالت عالیہ کو اس مسئلے پر رہنمائی فراہم کی، ان میں مولانا ظفر احمد انصاری، پروفیسر خورشید احمد صاحب، جسٹس افضل چیمہ صاحب مرحوم اور ڈاکٹر غازی کے نام قابل ذکر ہیں۔ دعوہ اکیڈمی کے ساتھ میرے طویل تعلق میں شاید ہی کوئی پروگرام ایسا ہو جن میں ملک کے اندر یا ملک سے باہر کوئی تربیتی کورس ہو ا اور اس میں ڈاکٹر غازی نے شرکت نہ کی ہو۔ 

ڈاکٹر غازی کو اردو، عربی، انگریزی میں خطاب کرنے میں عبور حاصل تھا۔ وہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ ڈاکٹر غازی نے صدر جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں مذہبی امور کے وزیر کے فرائض بھی انجام دیے اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے صدر اور نائب صدر کے علاوہ یونیورسٹی کی شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی علمی خدمات کی بناپر انہیں ملک میں اور ملک سے باہر ایک معروف اسکالر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔

ڈاکٹر غازی ایک حلیم الطبع انسان تھے۔ اکثر اپنے چھوٹے بھائی ڈاکٹر محمدا لغزالی کی چھیڑ چھاڑ سے خود بھی محظوظ ہوتے اور کبھی اپنے بڑے ہونے کے حق کواستعمال نہ کرتے۔ نجی محفلوں میں ان کی حاضر جوابی اور ذہانت ہمیشہ انہیں دیگر حاضرین سے ممتاز کرتی۔ مہمانوں کی تواضع میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ ان کی وفات نے جو خلا پاکستان بلکہ عالم اسلامی کی علمی صفوں میں پیدا کیا ہے، وہ عرصے تک ان کی یاد کو تازہ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے قرآن کریم سے تعلق اور دین کی اشاعت کے لیے خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین۔

ڈاکٹر انیس احمد 

(ماہنامہ ترجمان القرآن، نومبر ۲۰۱۰ء)

( ۵ )

راقم الحروف دوران تعلیم شدید بیمار ہو گیا اور تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔صحت یابی کے بعد جب ۱۹۶۸ء میں دار العلوم تعلیم القرآن، راجہ بازار، راول پنڈی میں دورۂ حدیث شریف میں داخلہ لیا تو محمود غازی نام کا ۱۴، ۱۵ سالہ نوخیز لڑکا بھی ہمارے ساتھ شریک دورہ تھا جو دیگر طلبہ سے بہت کم عمر تھا۔ زبان میں قدرے لکنت تھی، مگر ذہانت اور حافظہ کے اعتبار سے تمام طلبہ پر فوقیت حاصل تھی۔ عبارت پڑھنے میں کہنہ مشق استاذ کی طرح ماہر تھا۔ ترجمہ اور تشریح میں بھی خاصی دسترس حاصل تھی۔ سالانہ امتحان میں نمایاں کامیابی سے ہم کنار ہوا۔

محمود غازی قابل رشک فہم وذکا اور عدیم النظیر قابلیت کے پیش نظر اساتذہ کے منظور نظر اور طلبہ کے ہر دل عزیز ساتھی تھے۔ شرافت ومتانت ان کی ہر ادا سے ہویدا تھی۔ عموماً لائق طلبہ بہت شریر ہوتے ہیں۔ اگر اور کچھ نہ بن پڑے تو اساتذہ کو لایعنی سوالات میں الجھائے رکھتے ہیں، لیکن غازی سے اساتذہ نہ صرف خوش تھے بلکہ ان کی تعریف وتوصیف کے خوگر بھی تھے۔

محمود احمد غازی کے لیے، جو ۱۷، ۱۸ سال کی عمر میں تحصیل علوم سے فارغ ہو گئے، یہ بات یقیناًطرۂ امتیاز ہے کہ انھوں نے صغر سنی میں علوم عقلیہ ونقلیہ سے فراغت حاصل کر کے بعض اکابر کی یاد تازہ کر دی۔ بعد ازاں متعدد یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیمی اسناد اور ڈگریاں حاصل کیں۔ ڈاکٹر غازی کی زندگی کا بیشتر حصہ ایسے ماحول میں بسر ہوا جہاں دینی شعائر کا تحفظ اور تقدس ثانوی حیثیت رکھتا ہے، مگر ڈاکٹر غازی نے اسلامی علوم کی لاج رکھی اور علما ومشائخ سے اپنا تعلق مضبوط اور قائم رکھا جس کا شاہکار ثبوت ان کی نادرۂ روزگار تصانیف ہیں جن میں اسلامی روح اور اسپرٹ نمایاں ہے اور اکابر محققین وعلما نے ان تصانیف کو توصیف وتحسین سے نوازا ہے۔

اللہ رب العزت نے ڈاکٹر غازی کو حکومت کے اعلیٰ مناصب پر بھی فائز اور متمکن فرمایا، لیکن ان کی طبیعت اور مزاج میں سرمو فرق نہیں آیا۔ ان کے دل میں دین دار طبقہ اور دینی شعائر کی عظمت موج زن رہی۔جناب ڈاکٹر صاحب کو تبلیغی جماعت سے قلبی وابستگی تھی۔ اسلام آباد کے سالانہ اجتماعات میں عام سامعین کے ساتھ شریک ہونا اور بغیر کسی کروفر کے فرش خاکی پر جلوہ افروز ہونا معمول تھا۔ احقر نے بچشم خود ڈاکٹر غازی کو گھاس پر بڑی طمانیت اور وقار سے بیٹھ کر اکابر کے بیانات سنتے دیکھا ہے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام کی قدر ومنزلت اور عزت وتکریم ان کا شیوہ تھا۔ علماء کرام کی دعوت وطلب پر مدارس کے اجتماعات میں شریک ہونا اپنے لیے سعادت تصور کرتے تھے۔ بلاوجہ عذر ومعذرت سے کبھی کام نہیں لیا اور بڑے ذوق سے اکابر کی دعوت کو شرف قبولیت سے نوازتے تھے۔

اللہ رب العزت نے انھیں وفاقی وزیر مذہبی امور کے منصب سے نوازا تو بحمد اللہ حج کے انتظامات نہایت احسن طریقے سے انجام دیتے رہے۔ حجاج کرام کو ہر ممکن سہولیات اور طمانیت اور دل جمعی کے ساتھ مناسک حج ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے۔ وزارت کے پورے عرصے میں مدینۃ الحجاج اسلام آباد میں حجاج کرام کی تربیت کا خصوصی انتظام ڈاکٹر غازی صاحب کی سربراہی میں قائم رہا۔ حجاج کرام کو مسائل حج سے پوری طرح روشناس اور آگاہ کرنے کا بہترین نظم تھا اور خود بھی حجاج کرام کی راہنمائی کے لیے خطاب کیا کرتے تھے۔

جن دنوں ڈاکٹر محمود غازی وزیر مذہبی امور تھے، وزارت حج کے دفتر سے راقم الحروف کو فون آیا کہ آپ اپنا پاسپورٹ فوری طو رپر دفتر میں جمع کرائیں، پرسوں حج کے لیے آپ کی فلائٹ ہے۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ میری درخواست کے بغیر حج کی منظوری کیسے ہو گئی! آخر غازی صاحب کے متعلق خیال ہوا کہ انھوں نے اپنی پرانی دوستی کا حق ادا کیا ہے اور نظر عنایت فرمائی ہے۔ جو کام خلوص وللہیت سے، محض رب کی رضا کے لیے ہو، اس کے اظہار وافشا سے اللہ کے نیک بندے گریز ہی کیا کرتے ہیں۔ بہرحال جہاز کا دو طرفہ ٹکٹ احقر نے خرید لیا، رہائش اور ٹرانسپورٹ وزارت مذہبی امور نے فراہم کر دی۔ مکہ مکرمہ میں جناب غازی صاحب سے ملاقات ہوئی اور میں نے شکریہ ادا کیا، لیکن انھوں نے قطعاً نہ تو احسان جتلایا اور نہ ہی فخر وتکبر کی کوئی بات کی، بلکہ بالکل خاموش رہے۔

ڈاکٹر محمود احمد غازی کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’ادب القاضی‘‘ جب منصہ شہود پر آئی تو انھوں نے اس کے لیے عالی شان تقریب کا اہتمام کیا۔ ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آباد کے ایک وسیع وعریض ہال میں نقاب کشائی کا پروگرام رکھا جس میں سرکاری سطح کے افسران مدعو تھے۔ غازی صاحب نے احقر کو بھی دعوت شمولیت دی اور کتاب لاجواب کا ہدیہ بھی مرحمت فرمایا۔ موصوف کی جملہ تصانیف انتہائی قابل قدر اورلائق صد تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے، اجر عظیم عطا فرمائے اور اخری منازل آسان فرمائے۔ 

(مولانا) محمد عبد المعبود

باغ سرداراں، راول پنڈی

( ۶ )

مخدومی ومحترمی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم

السلام علیکم۔ مزاج گرامی!

جنوبی افریقہ کیس کے لیے مختلف وفود گئے۔ پہلا وفد ستمبر ۱۹۸۲ میں گیا۔ اس میں جناب مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا مفتی زین العابدین، جناب غیاث محمد، جناب گیلانی، مولانا عبد الرحیم اشعر ودیگر حضرات شامل تھے۔ ان میں حضرت ڈاکٹر محمود احمد غازی شامل نہ تھے۔ دوسرا وفد نومبر ۱۹۸۴ء میں گیا۔ اس میں حضرت غازی صاحب شریک تھے۔ جن حضرات کا عدالت میں بیان ہونا طے ہوا، ان میں محترم حضرت غازی صاحب کا نام بھی تھا۔ بیان ہوا؟ کب؟ کیا؟ تلاش سے مل سکے تو انعام الٰہی ہوگا، ورنہ اس تنخواہ پر گزارہ کیے بغیر چارہ نہیں۔

ایک بار سرکاری سطح پر ’’قادیانیت: اسلام کے خلاف سنگین خطرہ‘‘ کے نام سے حکومت پاکستان نے ایک وقیع مقالہ شائع کیا۔ جن دنوں وفاقی شرعی عدالت میں جنرل محمد ضیاء الحق کا جاری کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس زیر سماعت تھا، ایک مجلس میں فقیر نے ایک حوالے کے سلسلے میں متذکرہ رسالہ کا نام لیا۔ اس پر غازی صاحب نے تعجب کے ساتھ فقیر کی طرف دیکھا۔ فقیر نے بعد میں تعجب کے ساتھ نظر کرم کے متعلق سوال کیا تو فرمایا کہ وہ رسالہ میرا مرتب کردہ ہے۔ (غالباً ان دنوں وزارت مذہبی کے آپ سربراہ تھے)۔ وہ رسالہ مل گیا، اس کا فوٹو بھی ارسال خدمت ہے۔ یہ رسالہ غازی صاحب کا مرتب کردہ ہے۔

جن دو قسطوں میں مولانا منظور احمد الحسینیؒ نے جنوبی افریقہ کیس کے حوالے سے محترم غازی صاحب کا ذکر خیر فرمایا ہے، ان کا فوٹو لف ہے۔ معافی چاہتا ہوں کہ تعمیل ارشا د میں تاخیر ہوئی۔ اس کا باعث یہ تھا کہ فقیر دفتر سے غیر حاضر تھا۔

(مولانا) اللہ وسایا 

مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان

( ۷ )

ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کاتذکرہ کرتے ہوئے مجھے ڈاکٹر شیر محمد زمان صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنھوں نے غائبانہ تعارف کروایا۔غازی صاحب اس وقت دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل تھے ۔ڈاکٹر زمان صاحب زید مجدہم کے تعارف سمیت ان سے ملا قات ہوئی۔تجویز یہ تھی کہ میں ان کی اکیڈمی سے وابستہ ہو جاؤں۔ راقم کے لیے یہ بہت اہم بات تھی، اس لیے کہ وہ بے روزگاری کا زمانہ تھا۔ راقم کے مضمون کی مناسبت سے غازی صاحب نے کہا کہ ہم اردو کا ایک رسالہ نکالیں گے جس کی ادارت آپ کے سپرد کی جائے گی، چنانچہ انھوں نے اس رسالے کی تجویز بنا کر بھیجی جو منزلوں پر منزلیں مارتی رہی۔ یونی ورسٹی کے صدر صاحب مصر میں تھے اور تجویز پاکستان میں۔ اگرچہ وہ پاکستان آتے رہتے تھے، لیکن کئی برس کے تعاقب کے بعد تجویز ان تک پہنچی، مگر اس لیے نامراد لوٹ آئی کہ یہ عربی میں تیار نہیں کی گئی تھی۔ اردو رسالے کے لیے انگریزی میں تیار کی گئی تجویز نے عربی لباس پہنا اور بالآخر منظور ہوگئی، لیکن اس وقت تک راقم کی زندگی کئی منزلیں طے کرچکی تھی۔ بے روزگاری کا زمانہ قصہ ماضی بن چکا تھا۔ رسالے کے اجرا سے پہلے غازی صاحب کا پیغام آیا کہ آپ کے لیے جو تجویز بھیجی گئی تھی، وہ منظور ہوگئی ہے، لیکن راقم ا پنی موجود منزل سے غیر مطمئن نہیں تھا، اس لیے معذرت ہی کو مناسب سمجھا گیا چنانچہ رسالہ تو نکل آیا، لیکن اس کی ادارت کی ذمہ داری کسی اور نے اٹھائی۔ اقبال:

پرید ن از سر بامے بہ بامے 
نہ بخشد جرہ بازاں را مقامے

اس کے کئی برس بعد غالباً ۲۰۰۳ء میں انھوں نے ایک پر محبت خط لکھ کر ایک بار پھریہ خواہش کی کہ میں ان کی یونی ورسٹی سے وابستہ ہو جاؤں۔ اس وقت مجھے اپنی مادر علمی پنجاب یونی ورسٹی سے وابستہ ہوئے ایک زمانہ گزر چکا تھا، چنانچہ اب بھی ان کی خواہش پوری نہ کرسکا، تاہم ان کے ساتھ باہمی احترام اور اخلاص کا تعلق رہا۔ ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ پہلی بار انھیں تین مختلف ٹیلی فونوں پر باری باری عربی، انگریزی اور اردو میں یکساں مہارت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے دیکھ کر جو خوش گوار حیرت ہوئی تھی، وہ قائم رہی اور ان کی علمیت کا نقش گہرا ہوتا چلا گیا۔ ان کے ساتھ شخصی ملاقاتیں بھی ہوئیں اور ان کے علم و فضل اور اعتماد سے بھرپورلیکچر سننے کا بھی موقع ملا۔ لیکچر کے دوران ان کا یہ طریقہ دیکھا کہ وہ چھوٹے سائز کے بہت سے کارڈوں پر لکچر کے نکات لکھ کر لاتے تھے اوردوران لکچر یہ کارڈ ان کے ہاتھ میں رہتے۔ جو جو نکتہ بیان ہوتا رہتا، اس سے متعلق کارڈ، کارڈوں کی تہہ کے نیچے جاتا رہتا۔ کسی ایک کاغذ پر نکات لکھ کر لانے کے مقابلے میں یہ طریقہ زیادہ جدید لگا۔

راقم جب پنجاب یونی ورسٹی کی سیرت کمیٹی کا سیکریٹری تھا تو اس کے ایک اجلاس سے خطاب کے لیے غازی صاحب کو بھی دعوت دی گئی۔ اس زمانے میں وہ مذہبی امور کے وفاقی وزیر تھے۔ جس سادگی اور بے غرضی کے ساتھ وہ اس اجلاس کے لیے اسلام آباد سے تشریف لائے، اس نے میرے دل میں ان کی وقعت میں اضافہ کیا۔ وزارت کے بعد بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے نیو کمپس میں ان کے دفتر میں ہوئی تھی۔ وزارت کا کوئی رنگ باقی نہ تھا۔ ان کا کمرہ ایک پروفیسر کاکمرہ تھا۔ یہاں سے ہم اکٹھے فیصل مسجد گئے۔ راستے میں ہماری ایک مشترک محترم، صاحب علم شخصیت کے حوالے سے گفتگو ہوتی رہی۔ غازی صاحب کہہ رہے تھے، اہل علم کوچاہیے کہ وہ اپنے آپ کو حکومتوں سے وابستہ نہ کریں۔ شاید یہ رائے انھوں نے اپنے تجربے کے بعد قائم کی تھی۔ 

یہاں مصر میں جس محفل میں بھی ان کا ذکر ہوا، اہل مصر کو ان کی صلاحیتوں کا مداح اور معترف پایا۔ دنیا کی دوسری بڑی جامعات کی طرح جامعہ الازہر میں بھی پی ایچ ڈی کے مقالات کو جانچ کے لیے بیرونی ممالک کے ممتحنین کے پاس بھیجنے کا طریقہ رائج ہے۔ اساتذہ کی ترقی کے لیے بھی ان کے کام کو رائے کے لیے بیرونی دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ پی ایچ ڈی جس مضمون میں بھی ہو، عام طور سے مقالہ عربی میں لکھا جاتا ہے۔ یہی صورت اردو میں پی ایچ ڈی کی بھی ہے، چنانچہ ایسے غیر ملکی ممتحنین کی ضرورت رہتی ہے جو متعلقہ مضمون کے ساتھ عربی پر بھی اچھی دسترس رکھتے ہوں۔ اب اردو میں تو ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو عربی زبان میں کی گئی اردوتحقیق کو جانچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایک ایسی ہی میٹنگ میں غازی صاحب کا نام تجویز کیاگیا۔ راقم نے بتایا کہ وہ آج کل پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کے جج ہیں۔ اس پران کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے ہماری فیکلٹی کے ڈین صاحب نے کہا کہ وہ تو اس سے بھی بڑے منصب کے اہل ہیں۔ ایک صاحب علم کا کہنا تھا کہ ان کی عربی کے سامنے تو ہم خود کو شرمندہ شرمندہ محسوس کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جاپان کی دوشیشہ یونی ورسٹی نے اسلامیات کے موضوع پر مشارکت کے لیے پاکستانی اہل علم کی بابت دریافت کیا تو راقم نے غازی صاحب کا نام تجویز کیا۔ اس پر معلوم ہوا کہ وہاں بھی ان کے مداح موجود ہیں، لیکن قبل اس سے کہ وہ دوشیشہ یونی ورسٹی کی دعوت پر جاپان جاتے، ابدالآباد سے ان کا بلاوا آگیا۔ مولانا روم:

پس عدم گردد عدم چون ارغنون	
گو ید م کانّا الیہ راجعون

ڈاکٹر زاہد منیرعامر 

(وزیٹنگ پروفیسر مسند اردو ومطالعہ پاکستان، 

جامعہ الازہر قاہرہ۔مصر) 

( ۸ )

فکری تنگ دستی، نظریاتی بے گانگی بلکہ نظریاتی انحراف کے اس عہد میں ایسے دانشور، محقق اور افراد نایاب ہیں جو نہ صرف کسی نظریے یا فکر کے پیرو کار یا علمبردار ہوں بلکہ خود اس کا ایک مثالی نمونہ بھی ہوں۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم ایک ایسے ہی استاد و محقق تھے جن کی ذات ان کے نظریات کی آئینہ دار تھی۔ بلا شبہ وہ عصر حاضر میں ملت اسلامیہ کے ایک ایسے قابل فخر فرزند تھے جنہوں نے اسلامی تعلیمات کو ان کی حقیقی روح کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ وہ فکری انتہا پسندی کے حامی نہ تھے۔ نام نہاد روشن خیالوں یا راسخ العقیدگی کے دعوے داروں نے باہمی آویزش سے دنیا میں جو اندھیرا مسلط کر رکھا ہے، اس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ان معدودے چند افراد میں نمایاں تھے جنہوں نے توازن فکر کا چراغ روشن کیا، جو مسلمانان عالم کے اتحاد کے داعی تھے۔ 

ڈاکٹر محمود احمد غازی اردو، انگریزی اور عربی کے علاوہ فرانسیسی زبان پر بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے سیرۃ النبی پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی کتاب کا فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ عالمی زبانوں میں مہارت کی بدولت ہی انہوں نے دنیا کے کئی ممالک کے دورے کیے اور وہاں اسلامی قوانین اور فقہ کے مختلف پہلوؤں پر فکر انگیز لیکچر دیے۔ ڈاکٹر محمود احمد دنیا کی مختلف جامعات سے بطور ممتحن بھی وابستہ رہے۔ وہ ایک بلند پایہ عالم دین، مستند فقیہ اور بالغ نظر دانشور کے طور پر ساری دنیا میں خاص شناخت کے حامل اور قابل احترام شخص تھے۔ ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ اور اتحاد بین المسلمین آپ کی زندگی کا مشن تھا۔ انہوں نے جدید تناظر میں مسلمانوں کے دینی و عصری چیلنجوں پر مدافعانہ، معذرت خواہانہ اور محض بیانیہ انداز اختیار کرنے کی بجائے ہمیشہ خالص معروضی و تجزیاتی اور منطقی و دانشورانہ انداز تحریر و بیان کو شیوہ بنائے رکھا۔ وہ عالم و دانشور جو صداقتوں کے متلاشی اور مبلغ ہوتے ہیں، وہ اپنی فکر و نظر کو وقتی مصلحتوں سے آلودہ نہیں ہونے دیتے ۔ یہی کام ڈاکٹر صاحب نے بھی کیا۔ انہوں نے توازن فکر اور فہم تاریخ و فقہ کی بنا پر ہمیشہ حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا۔ اپنی فکری و نظری سچائی اور قوت عمل کی بدولت انہیں زندگی میں بہت سی آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا اور کیوں نہ گزرنا پڑتا کہؔ 

سوداؔ جو بے خبر ہے کوئی وہ کرے ہے عیش
مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی 

فکرو آگہی کے حامل دانشور کے طور پر وہ مسلمانوں کے عصری مسائل بالخصوص فرقہ واریت، انتہا پسندی اور فروعی مسائل پر جھگڑوں کے کبھی حامی نہیں رہے۔ وہ اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر تفرقوں سے بالا ہو کر امت مسلمہ کے اتحاد کے پیامبر و مبلغ تھے اور یہی اُن کی زندگی کا مشن اور نصب العین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عالمی و قومی سطح پر جس کانفرنس، سیمینار یا سمپوزیم میں جاتے، وہاں اتحاد بین المسلمین کے جذبے کا برملا اظہار کرتے اور فرقہ واریت کو زہر قاتل سمجھتے تھے۔ انہوں نے مختلف فقہی مسالک کو قریب لانے کے لیے ’’کاسمو پولیٹن فقہ‘‘ کا نظریہ پیش کیا تھا جس کو عام کرنے میں ذاتی حیثیت میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ بلا شبہ ملت اسلامیہ کو اپنی صحت شعور کے لیے آج جس بات کی اشد ضرورت ہے، وہ اسلام اور اپنے ماضی کے متعلق رومانیت و جذباتیت سے نکل کر خود تنقیدی کی نظر پیدا کرنا ہے تاکہ دھندلکوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے مستقبل کے لیے کوئی راستہ روشن ہو سکے۔ محض رومانیت و جذباتیت جہل کی وہ خطرناک قسم ہے جس سے ہر قسم کا ظلم پیدا ہوتا ہے۔ اقوام عالم کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت ملی خود کشی کا راستہ ہے ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی جیسے صاحبان نظر اپنے بیان و تحریر میں ملت اسلامیہ کو یہ انتباہ کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی زبان و قلم سے دنیا کو حیات افروز اسلام سے متعارف کروانے کی مخلصانہ کوشش کی جو مایوسی نہیں امید ہے، تباہی نہیں تعمیر ہے، جو فرقہ واریت نہیں اتحاد ہے اور جو ناکامی نہیں کامیابی ہے ۔ 

ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں ایک طرف آگاہ قلب اور روشن دماغ نمائندوں کو روشناس کرایا تو دوسری طرف قرآن و سنت، سیرت و حدیث، اسلامی سیاسیات و معاشیا،ت فقہ اور اقبالیات کے متنوع موضوعات پر عربی، انگریزی اور اردو میں درجنوں کتابیں رقم کیں۔ اس کے علاوہ ان کے لیکچرز ، خطبات اور محاضرات کے مجموعے بھی مرتب ہوئے جن میں سے ’’مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم‘‘ مرتبہ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ نے اہتمام خاص سے شائع کیا۔ اس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کے درج ذیل چھ خطبے شامل ہیں: (۱)دینی مدارس: مفروضے، حقائق، لائحہ عمل، (۲) قدیم و جدید تعلیم میں ہم آہنگی، (۳) مسلمانوں کی تعلیمی روایت اور عصر حاضر، (۴) اکیسویں صدی میں پاکستان کے تعلیمی تقاضے، (۵) مغرب کا فکری اور تہذیبی چیلنج اور علماء کی ذمہ داریاں، (۶) دینی مدارس میں تخصص اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق۔ ان کے علاوہ دو فکر انگیز ضمیمے ’’مسلکی اختلاف اور اس کی حدود‘‘ اور ’’عصر حاضر میں علماء کی ذمہ داریاں‘‘ شامل ہیں۔ مرتب کے الفاظ میں ’’ ان میں سے ہر محاضرہ یا خطبہ اپنی جگہ ایک مستقل کتاب کی اہمیت رکھتا ہے۔..... انہوں نے اسلاف کی خطا شماری کو مقصود بنائے بغیر ماضی کا بے لاگ تجزیہ کیا ہے اور مستقبل کے لیے ہماری راہیں متعین کی ہیں‘‘۔ 

بلا شبہ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی تحریروں اور محاضرات کا جائزہ لیں تو ان کی تحریریں محتاط تجزیے کے باوجود بے لاگ تبصرے اور دل میں اتر جانے والے حکیمانہ اسلوب کی حامل ہیں۔ وہ تنقید برائے تنقید کی بجائے تعمیری تنقید کے علمبردار ہیں۔ دلیل اور نیک نیتی سے لیس تحریریں اور درد مند دل کا بیان خوابِ غفلت سے بیدار کرنے کی دستک نظر آتا ہے۔ تمام محاسن و خوبیوں سے بڑھ کر جو چیز ڈاکٹر صاحب کی علمی قامت کو مزید بلند او ران کے محققانہ و مدرسانہ کارناموں کو مزید وقیع اور معتبر بنا دیتی ہے، وہ ، وہ حالات ہیں جن میں انہوں نے توازنِ فکر و عمل کا علم بلند کیا اور تصنیف و تالیف اور تحقیق و تنقید کا کام جاری رکھا ۔ ان کے حوصلے اور جرات کی داد دینا ہو گی کہ انہوں نے کبھی خود پر اس یتیمانہ بے بسی کو طاری نہیں ہونے دیا جس سے اکثر ہمارے مذہبی دانشور دوچار رہتے ہیں۔ 

علم و تحقیق کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھنے والا یہ فکرمند اور درد مند دل ملت اسلامیہ کی حالتِ زار کی تاب نہ لا سکا۔ ۲۶ ؍ستمبر ۲۰۱۰ء کی شب ڈاکٹر محمود احمد غازی کو دل کی تکلیف ہوئی۔ انہیں اسلام آباد کے PIMS ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ عصر حاضر میں عالم اسلام کے اس قابل فخر فرزند کی نماز جنازہ اسی روز سہ پہر کو مولانا مشرف علی تھانوی نے پڑھائی او رانہیں اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان کے پلاٹ نمبر ۱۳ کی قبر نمبر ۱۳۶ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ قبر پر تا حال کتبہ بھی نصب نہیں۔ آپ کے سوگواران میں بھائی ڈاکٹر محمد الغزالی، بیوہ اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

آدم خاکی کو بالآخر آسودۂ خاک ہونا ہی ہوتا ہے، لیکن دنیا سے رخصت ہونے والی ہستی اگر کوئی ایسی ہستی ہو جس نے اپنی زندگی کو تدریس و تحقیق اور دین و دنیا کی فلاح کے لیے وقف کیے رکھا ہو تو اس کا دنیا سے اٹھ جانا صرف ایک گھرانے یا خاندان کا نہیں، سب درد مند دل رکھنے والوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے ۔

اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچا 
اک چہرہ کملا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے 

شیخ عبدالرشید 

(ایڈیشنل رجسٹرار، یونیورسٹی آف گجرات )

( ۹ )

علامہ پروفیسر حافظ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ ہفت زبان عالم دین، محقق، اسلامی علوم کے ماہر تھے۔ وفاقی وزارت سے لے کر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی صدارت تک وہ کون سا عہدہ ہو گا جو انہیں نصیب نہیں ہوا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے چھوٹے بھائی ممتاز عالم دین، اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے اپنے بڑے بھائی کے حوالے سے ایک انٹرویو میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر اظہار کرتے ہوئے کہا: 

وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انہوں نے سرزمین پاکستان پر ۱۸؍ ستمبر ۱۹۵۰ء کو پاکستان کے ہائی کمیشن نئی دہلی میں آنکھ کھو لی۔ ہمارا خاندانی سلسلہ حضرت عمر فاروقؓ سے ملتا ہے۔ ہماری خاندانی روایات کے مطابق ہمارے خاندان کے مرد حضرات پر قرآن پاک حفظ کرنا لازم سمجھا جاتا ہے، یعنی حضرت عمرؓ سے ہمارے بیٹے حنظلہ غزالی تک سب مرد حضرات الحمدللہ حفظ قرآن شریف کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔ ہمارے چچا، تایا، کزن سب حافظ قرآن ہیں۔ اس روایت کے تسلسل کے طورپر ہم نئی دہلی سے کراچی آگئے تو برادر اکبر ڈاکٹر محمود احمد غازی نے بھی ۱۹۵۴ء میں حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے مدرسہ سے قرآن پاک حفظ کیا۔ 

بھائی صاحب نے اے کے بروہی کے سامنے تجویز پیش کی کہ اسلامی قوانین کے حوالے سے ایک ادارہ ہوناچاہیے، چنانچہ شریعہ فیکلٹی کا قیام قائد اعظم یونیورسٹی میں عمل میںآیا، لیکن قائد اعظم یونیورسٹی کے ماحول میں یہ ادارہ ایڈجسٹ نہ ہوسکا۔ مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ رہے تھے جس پر مرحوم اے کے بروہی بھی پریشان تھے۔ انہوں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ اس کا کیا حل نکالا جائے؟ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے تجویز پیش کی کہ پاکستان چونکہ ایک اسلامی ملک ہے، اس لیے یہاں بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی ہونی چاہیے۔ انہوں نے عالمی اسلامی یونیورسٹی کی بنیادی تجویز مان لی۔ فیصل مسجد میں عالمی اسلامی یونیورسٹی کا منصوبہ کس طرح قابل قبول ہوا؟ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا موقف تھا کہ جس طرح عالم اسلام کی سب سے بڑی یونیورسٹی الازہر کا قیام بھی مسجد میں ہوا، اسی طرح یہ یونیورسٹی بھی فیصل مسجد میں قائم کی جائے۔ فیصل مسجد کا قیام کیسے ہوا؟ عالم اسلام کی اس منفرد عظیم الشان مسجد کی تعمیر ایک الگ داستان ہے۔ اس کا شرف شاہ فیصل شہید اورمملکت سعودیہ عربیہ کو جاتا ہے کہ یہ عظیم شاہکار اسلام آباد میں سامنے آیا۔ 

ایک اور بات جس پر بھائی صاحب سمیت ہم سب کو فخر حاصل ہے کہ عربی زبان، اسلامی علوم اور فقہ پرکامل دسترس رکھنے کے باعث اللہ تعالیٰ نے بھائی صاحب کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ فیصل مسجد کے پہلے خطیب مقرر ہوئے۔ ان کی امامت میں ۲۲؍جون ۱۹۸۸ء کو پہلے جمعہ کے روز اس عالمی جامع کا افتتاح ہوا۔ مرحوم نے وہاں خطبہ دیا۔ بھائی صاحب نے دنیا کے قریباً تمام ممالک میں بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اپنے علم وفضل سے پاکستان کا نام روشن کیا۔ آپ نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کے جدید اسلامی، اصلاحی اور فلاحی نظریات سے تمام دنیا واقف تھی۔ جنرل پرویز مشرف بھی ان کے خیالات سے واقف تھے۔ وہ ان کے عہد میں ۲۰۰۴ سے ۲۰۰۶ء تک وفاقی وزیر مذہبی امور رہے۔ قطر کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی طر ف سے جب پروفیسری کی پیش کش ہوئی تو اسے انہوں نے قبول کر لیا۔ 

غزالی صاحب کہنے لگے: میرے بھائی درویش صفت انسان تھے۔ وہ عالم باعمل تھے۔ وہ بہترین قاری اور حافظ قرآن تھے، چنانچہ انہوں نے کئی بار تراویح میں قرآن کریم سنایا۔ یہ بہت بڑی سعادت تھی جو انہیں حاصل ہوئی۔ ان کی دلچسپی کا میدان اسلامی قانون، اسلامی معیشت وغیرہ تھے، لیکن تمام اسلامی علوم پر ان کی نظر بڑی وسیع او ر گہری تھی۔ اس کا ثبوت ان کا سلسلہ محاضرات ہے جس میں انہوں نے ۷ جلدوں میں مختلف اسلامی علوم کا مفصل تعارف کرا دیا ہے۔ یہ سلسلہ قرآن، حدیث، سیرت، شریعت، معیشت وتجارت اور اسلام کے بین الاقوامی قانون اور عصر حاضر کے مسائل پر مشتمل ہے۔ اس سلسلے کو قارئین نے بے حد پسند کیا اور اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔ اسی طرح ایک موقع پر ۱۹۸۵، ۱۹۸۷ء میں کئی سال کی محنت کے بعد وہ جنوبی ایشیا کی سپریم کورٹ میں پانچ ہفتے تک پیش ہو کر قادیانی مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر پیش کرتے رہے۔ اس موقع پر علما کی ایک ٹیم نے ان کی مدد کی۔ کورٹ میں ان کا بیان پانچ ہفتے تک جاری رہا اور پانچ ہزار صفحات لکھے گئے۔ اس میں عدالت اور وکیلوں کے تمام سوالات اور اعتراضات کا مدلل جواب دیا اور ختم نبوت کے بنیادی مسئلہ کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔ اس کارروائی میں کئی برس صرف ہوئے مگر بھائی صاحب اس کام میں اس طرح کھپ گئے گویا زندگی میںیہی ان کا مشن ہو۔ 

اسی طرح پاکستان میں اسلامی قانون کے نفاذ، اسلامی دستور کی تیاری اور عدالتی سطح پر، تعلیمی سطح پر، تصنیفی سطح پر اور پلاننگ کی سطح پر نفاذ شریعت کے لیے کوشاں رہے۔ میں نے انہیں زندگی بھر کسی بڑے سے بڑے حادثے کے موقع پر بھی روتے نہیں دیکھا، لیکن جب ۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوا، اس وقت مرحوم کی حالت ایسی تھی کہ انہیں سنبھالنا بہت مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے۔ وہ اکثر کہتے تھے کہ یہ ملک اللہ نے بغیر اسباب کے بنایا ہے، وہی اس کی حفاظت کرے گا۔ یہ آزمائش کا وقت بھی گزر جائے گا۔ 

شریف فاروق /طاہر فاروق 

(روزنامہ نوائے وقت ، لاہور، ۲۶؍ نومبر ۲۰۱۰ء)

( ۱۰ )

اسلام آباد (پاکستان ) کے عالمی شہرت یافتہ اسکالر ڈاکٹر محمود احمد غازی کا ۲۶؍ ستمبر کو انتقال ہو گیا۔ ان کی رحلت نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ ساری دنیائے علم و فکر کے لیے ایک سانحہ عظیم سے کم نہیں۔ 

۱۹۹۲ء میں جب پہلی مرتبہ میں اسلام آباد پہنچا تو ڈاکٹر صاحب دعوۃ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے سربراہ اعلیٰ تھے۔ ان کا دفتر مسجد فیصل کامپلکس میں تھا۔ ہر جمعہ کو ان کا وہاں خطاب ہوا کر تا اور میں انہیں ایک اچھے خطیب کی حیثیت سے جانتا تھا۔ اس کے دو سال بعد ہی ۱۹۹۴ء میں مجھے پھر اسلام آباد کا سفر درپیش ہوا اور قیام بھی طویل تھا۔ اس قیام کے دوران بھی میں نماز جمعہ مسجد فیصل میں ادا کیا کرتا تھا اور غازی صاحب کے خطاب سے فیض یاب ہوا کرتا۔ ایک دن ان سے باقاعدہ ملاقات ہو گئی۔ وہ جلد ہی میرے دوست بن گئے۔ مرحول دل کے فیاض تھے۔ انہوں نے اپنی اکیڈمی کی بہت سی قیمتی مطبوعات مجھے عنایت فرمائیں۔ 

ڈاکٹر غازی علم، ادب، سیاست ومعاشرت کے جس مسئلے پر گفتگو کرتے تو ان کی رائے بالکل واضح ہوتی تھی۔ ان میں ایک زندہ و تابندہ عالم کی شان نمایاں تھی۔ ایک موقع پر میں نے کہا کہ غازی صاحب ! آج کل ساری دنیا سے تحمل اٹھتا جا رہا ہے تو انہوں نے برجستہ کہا : کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ تحمل کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ 

ڈاکٹر محمود احمد غازی ایک صاحب سیرت انسان اور بلند پایہ عالم تھے۔ ان سے مختلف علمی موضوعات پر خط و کتابت ہوتی رہتی تھی۔ خط کا جواب لکھنے میں وہ بہت باقاعدہ تھے۔ وہ ہندوستان کے سفر کی تمنا رکھتے تھے لیکن افسوس ہے کہ انہیں اس کا موقع نہ ملا۔ ڈاکٹر صاحب کے علمی کارناموں کی کوئی جامع فہرست تو اس وقت میسر نہیں ہے ۔ ان کی تازہ کتاب ’’ عصرحاضر اور شریعت اسلامی‘‘ کے عنوان پر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے شائع کی ہے۔ یہ ایک انتہائی وقیع تحقیقاتی ادارہ ہے۔ اس کے سربراہ برادرم خالد رحمان صاحب چند ہی ماہ قبل مجھے یہ کتاب روانہ فرمائی تھی۔ اس قیمتی کتاب کی دستیابی پر ڈاکٹر غازی صاحب کو میں مبارک باد بھی نہ دے سکاکہ وہ راہی ملک عدم ہوئے۔ اس کتاب کے ڈسٹ کور پر ان کی خدمات کی جوتفصیل درج ہے، میں ان کو یہاں نقل کر رہا ہوں:

’’ڈاکٹر محمود احمد غازی انتقال سے قبل تک قطر فاؤنڈیشن ، فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز میں شریعہ کے پروفیسر کے عہدے پر فائز تھے۔ اس سے پہلے آپ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر، پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور (اگست ۲۰۰۰ء تا اگست ۲۰۰۲ء ) ، نیشنل سیکورٹی کونسل حکومت پاکستان کے رکن (۹۹۔ ۱۹۹۸ء) ، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن، شریعہ اکیڈمی اور دعوۃ اکیڈمی اسلامی یونیورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل، فیصل مسجد اسلام آباد کے خطیب۔ موقرہ جریدہ ’’فکر ونظر‘‘ کے مدیر رہے۔ شریعہ بورڈ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیئرمین تھے( ۲۰۰۳تا حال) بہت سے پیشہ ورانہ اور علمی اداروں کی انتظامی اور علمی مجالس کے ممبر اور مشیر رہے۔ جن میں چند اہم یہ ہیں: عرب اکیڈمی شام، ابن رشد اسلامک یونیورسٹی اسپین، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلا م آباد، بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد، فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بینک آف خیبر تکافل پاکستان۔ 
ڈاکٹر صاحب اسلامی قانون اور فقہ پر گہری نظر رکھنے والے چند اسکالرز میں سے تھے۔ جو عصرحاضر میں درپیش مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ ۲۳کتب اور ۱۰۰ سے زیادہ مقالات کے مصنف ہیں۔ پاکستان اور بیرون ملک ہونے والی ۱۰۰ سے زائد بین الاقوامی علمی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے تھے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی نیشنل اکیڈمک کونسل کے رکن تھے۔ آپ کی تصانیف میں محاضرات قرآن، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات حدیث ، اور اسلام کا قانون بین الممالک قبولیت عام حاصل کر چکی ہیں‘‘

ڈاکٹر محمود احمد غازی نے ’’عصر حاضر اور شریعت اسلامی‘‘ کے موضوع پر جو خطبات دیے تھے ، ان کی تعداد آٹھ ہے۔ ہر خطبے کے لیے ایک فاضل شخصیت کی صدارت طے کی گئی تھی۔ خطبے کے اختتام پر سوال وجواب کا سلسلہ کچھ دیر چلتا ر ہتا تھا۔ چنانچہ پانچواں خطبہ ’’ اسلامی شریعت ، مسلم معاشرہ ، ملکی وانتظامی امور اور بین الانسانی معاملات ‘‘ کے موضوع پر منعقد کیا گیا کہ ’’ کہ آج ایک مکمل اسلامی ریاست قائم کرنے کا سب سے آسان اور عملی طریقہ کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ:

’’ اس کا سب سے آسان طریقہ دعوت وتبلیغ اور رائے عامہ کی تیاری ہے۔ مسلمان اسلامی ممالک میں جتنی مضبوط اور وسیع رائے عامہ اسلامی ریاست کے حق میں ہو گی، اتنی ہی جلدی اسلامی ریاست قائم ہو گی۔ نہ صرف عامۃ الناس اس بارے میں شدید غفلت کا شکار رہے ہیں بلکہ اہل علم نے بھی ان کی مناسب رہنمائی اور تربیت میں خاصی کوتاہی کی ہے۔ اگر اسلامی ریاست عامۃ الناس کا مسئلہ نہ ہو ، عام لوگ اس سے الگ تھلگ رہیں اور کچھ محدود لوگ اسے اپنامسئلہ قرار دے کر محدود انداز سے کام کرنے پر اکتفا کریں تو اسلامی ریاست قائم نہیں ہو گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جو لوگ اس کام کے لیے اٹھیں گے وہ اپنی محدود تعداد اور عامۃ الناس کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت کی وجہ سے امت سے الگ سمجھے جائیں گے اور اسلامی ریاست کا مسئلہ ان کا گروہی مسئلہ قرار دے دیا جائے گا کہ فلاں گروہ یا فلاں صاحب کا مسئلہ ہے لیکن اگر پوری امت کی رائے عامہ مکمل طور پر بیدار ہو اور پورے ملک کا یا مسلم اقوام کا یہ مسئلہ ہو تو پھر اسے کسی طبقے کامسئلہ قرار دے کر نظر انداز کر دینا دشوار ہو جائے گا‘‘۔  (عصر حاضر اور شریعت اسلامی ص۲۱۴۔۲۱۵) 

موجودہ حالات میں محمود احمد غازیؒ کے اسی پیغام دانشورانہ پر امت مسلمہ کو غوروفکر کرنا چاہیے۔ مرحوم کے قابل رشک کارناموں کے باوجود اسلامی دنیا کو ابھی ان سے بڑی توقعات تھیں۔ خلاف توقع وہ اپنے اعزہ، احباب ومخلصین اور دیگر شیدائیوں کی بھری محفل سے کچھ اس طرح رخصت ہوئے کہ غالب کی زبان میں ؂

جاتے ہوئے کہتے ہو، قیامت کو ملیں گے
کیاخوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور ؟!

وحید الدین سلیم 

حیدر آباد ، بھارت 

(بشکریہ سہ روزہ ’’دعوت ‘‘ دہلی)

( ۱۱ )

استاد ہونا قابل اعزازہے، لیکن اس اعزاز کے تقاضے بھی زیادہ ہیں۔ڈاکٹر محموداحمدغازی مرحوم کو اللہ نے جہاں بہت سی صلاحیتوں سے نوازا تھا، وہاں وسعت قلبی اورنرم مزاجی بھی عطا فرمائی تھی۔ بالخصوص طلبہ کے لیے ان کا رویہ حدردرجہ نرمی ومہربانی کا رہتا تھا۔ مشکل سے مشکل اور عمیق ودقیق علوم کو سامع کی ذہنی وعلمی سطح کے مطابق حل کر کے سمجھادیناغازی صاحب کا امتیازی ملکہ تھا۔ سامع یا سائل کی ذہنی سطح کو ملحوظ رکھنا کتنامفید ہوتاہے، اس کی مثال خود دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سابق صدر پرویزمشرف کی طرف سے سوال کیا گیا کہ آپ کی یونیورسٹی میں طلبہ وطالبات کو علیحدہ علیحدہ کلاسوں میں کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ یہ توآج کی روشن خیالی کے بالکل خلاف ہے، اس کوختم ہونا چاہیے۔ جواب میں غازی صاحب کہتے ہیں کہ میں اگرو ہاں علمی دلائل پیش کرتا تو بات کبھی ان کی سمجھ میں نہ آتی۔ کہتے ہیں، میں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ پردہ کرنے کو اچھا سمجھتا ہے اور پردہ ان کے کلچر کا حصہ ہے، لہٰذا جہاں بہت سے ادارے ایسے ہیں جن میں مخلوط تعلیم کا اہتمام ہے، وہاں اگر کچھ تعلیمی ادارے ایسے بھی ہو ں جہاں پردے کا اہتمام ہو جائے تو کیا حرج ہے؟ غازی صاحب کہتے ہیں، یہ بات فوراً ان کی سمجھ میں آگئی اور ان کا اشکال دور ہو گیا۔

ایک شفیق استاد کے لیے یہ بات ناقابل تحمل ہوتی ہے کہ اس کی بات اس کے شاگرد کی سمجھ میں نہیں آئی، چنانچہ ایک مرتبہ ایم فل علوم اسلامیہ کی ایک ورکشاپ میں غازی صاحب کا لیکچر ہوا۔ ایک گھنٹہ تیس منٹ کے لیکچر کے بعد سوال وجواب شروع ہوئے تو غازی صاحب کو ادراک ہوا کہ آخر کی صفوں میں دو غیر ملکی طالب علم ایسے بھی بیٹھے ہوئے ہیں جن کو اردو نہیں آتی تھی۔ چنانچہ غازی صاحب نے دوبارہ سارا لیکچر عربی زبان میں دہرا دیا۔غالباً یہی وہ خصوصیت تھی جس کی بناپر اللہ تعالیٰ نے غازی صاحب کو نہ صرف طلبہ کے دِلوں میں بلکہ معاصر اساتذہ کے دلوں میں بھی وہ مقام عطا فرمایاجس کی تمناکرنا توآسان ہے، لیکن اس کا حصول بہت صبر آزما ہے۔

راقم الحروف کا غازی صاحب سے تعلق قرابت داری کے علاوہ شاگردی کا بھی رہا۔ مختصر وقت میں مشکل اور دقیق مباحث کو بڑی آسانی سے بغیر کسی ڈائری کے صرف اپنی یادداشت اور مطالعہ کی بنیادپر اس طرح بیان فرماتے تھے گویا ابھی کچھ ہی دیر پہلے تازہ مطالعہ کر کے آئے ہیں۔ مختلف اسلامی علوم وفنون کاتاریخی ارتقا اس طر ح بیان کرتے تھے کہ سامع کو لگتاتھاکہ یہ سارا کام ان کے سامنے ہواہے اور وہ اپنے مشاہدہ کو بیان کررہے ہیں۔ غازی صاحب کے مطالعہ میں وسعت اور گہرائی واضح جھلکتی تھی۔ ان کے لیکچر میں بیٹھے ہوئے وقت کا احساس ہی نہیں رہتا تھا۔ ان کاہر لیکچر اپنے موضوع پر جامع گفتگو ہوتی تھی۔ پاکستان میں رسم عثمانی کے مطابق مصحفِ قرآ نی کی ضرورت واہمیت کے موضوع پر راقم الحروف کی غازی صاحب سے ان کے گھر پر گفتگو ہوئی۔ پچاس منٹ جاری رہنے والی ملاقات میں غازی صاحب نے تقریباً چالیس منٹ تک مکمل اطمینان اور دلچسپی سے پوری گفتگو سنی۔ اس کے بعد فرمایاکہ آپ اس کی مکمل رپورٹ بناکر مجھے ارسال کر دیں۔ گفتگو کے دوران غازی صاحب نے ایک لمحہ بھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ ان کا وقت قیمتی ہے، لہٰذا بات کو مختصر کیا جائے، بلکہ ان کی دلچسپی بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ 

ان کے زمانہ وزارت میں بھی طلبہ کو ان سے رہنمائی لینے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ ایک مرتبہ راقم کو ایک سوال کے سلسلے میں ملنے کی ضرورت پیش آئی تو ان کے دفتر میں چلا گیا۔ اسٹاف نے بتایاکہ ان کی مصروفیات آج کل زیادہ ہیں، لہٰذا شاید ملاقات نہ ہو سکے۔ راقم نے سوال ایک کاغذ پر لکھااور ان کی میز پر رکھ کر خود لائبریری میں چلا گیا۔ کچھ دیر کے بعد یاد آیا تو واپس دفتر میں آکر پوچھا تو اسٹاف نے بتایا کہ چند منٹ کے لیے آئے تھے، پھر کسی میٹنگ میں چلے گئے ہیں۔ راقم نے مایوس ہو کر سوچاکہ اپنا لکھا ہوا سوال واپس اٹھا لیتا ہوں۔ کاغذ اٹھایا تو اس پر مکمل جواب لکھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ غازی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین! 

حافظ رشید احمد تھانوی 

(جامعہ دار العلوم الاسلامیہ، لاہور)

( ۱۲ )

سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اور ڈاکٹر محمود احمد غازی ایک سچے عاشق رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر تعلیم بھی تھے۔ والد گرامی مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ سے ان کا گہرا تعلق مذہبی حوالے سے ایک مستقل باب ہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود اپنے سینے میں مذہب کے لیے تڑپنے والا ایک دل رکھتے تھے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک عرصے تک صدر رہنا ان کے علم سے شغف کی ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ اس سلسلے میں ان کی گراں قدر خدمات تاریخ کا ایک حصہ ہیں اور تعلیم یافتہ طبقہ پر ان کا یہ بہت بڑا احسان ہے، نیز یہ ان کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہے۔ ملکی سطح پر مذہبی حوالے سے جب بھی کوئی نیا فتنہ کھڑا ہوتا یا مسائل ومشکلات درپیش ہوتیں تو حضرت والد گرامی فوری طور پر ان کے ساتھ را بطہ کرتے اور صورت حال سے آگاہ کرنے کے بعد ان کے صائب مشوروں کی روشنی میں اس کا حل نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہو جاتے۔ راقم الحروف کی والد صاحب کی معیت میں ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں اور غالباً چند ملاقاتیں ان کے علاوہ بھی ہیں۔ 

ایک ملاقات میں ڈاکٹر صاحب سے بات چیت کرتے ہوئے والد صاحب ؒ نے ان سے کہا کہ قادیانی کافر ہیں اور وہ سعودی عرب میں اپنی مذہبی اور دیگر خلاف اسلام کار روائیاں کرتے ہیں، اس لیے حکومت سعودیہ نے ان کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، لیکن وہ دھوکہ دہی سے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کا طریقہ یہ ہے کہ چونکہ پاسپورٹ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے اور اس میں مذہب کے خانے کا اندراج نہیں ہے، لہٰذا شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے یا پھر مسلم اور غیر مسلم کے شناختی کارڈ کا رنگ تبدیل کر دیا جائے، جیسا کہ سعودیہ میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ’’اقامہ‘‘ کا رنگ الگ الگ ہے۔ اس تجویز کو ڈاکٹر صاحب نے بہت پسند کیا اور ارباب بست وکشاد کے سامنے مسئلہ رکھنے کا وعدہ کیا۔

ایک دوسری ملاقات میں والد صاحبؒ نے ڈاکٹر صاحب ؒ کے سامنے ایک دوسرا مسئلہ بھی پیش کیا کہ چناب نگر قادیانیوں کی نام نہاد ریاست ہے۔ وہاں کے تمام لوگ قادیانیوں کے زیر تسلط ہیں۔ ان کی زمینوں اور جائیدادوں کے کاغذات ملکیت رہائشیوں کے پاس نہیں، بلکہ وہاں کے ناظم جماعت اور صدر کے پاس ہوتے ہیں۔ وہ جب چاہیں، انہیں بے دخل کر دیتے ہیں۔ اب جو بھی کوئی قادیانی مسلمان ہو نا چاہے تو اس کے اسلام لانے میں وہ رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے سامان، مکان، زمین اور جائیداد وغیرہ پر قبضہ کر کے ان کو بھگا دیتے ہیں اور خود ناجائز طور پر قابض ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ باوجود خواہش اور کوشش کے مسلمان نہیں ہو سکتے، لہٰذا چناب نگر کے رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دلوانے کے لیے کوشش کی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ قادیانیوں کی ایک کثیر تعداد مسلمان ہو جائے گی۔ جب ڈاکٹر صاحب نے یہ مسئلہ آگے بڑھایا تو مختلف محکموں میں موجود قادیانی لابی نے اس کیس کو دبا دیا کہ یہ قابل سماعت ہی نہیں۔ اب یہ کیس ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ کئی دفعہ قادیانی سازشوں کی وجہ سے جج تبدیل ہوتے رہے یا کیس خارج کروا دیا جاتا رہا۔ اب ہماری طرف سے نظر ثانی کی اپیل چل رہی ہے۔ اللہ کرے کہ اس کیس کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو جائے تو اس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہو ں گے۔ 

ختم نبوت سے ان کے دلی لگاؤ کی ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ والد صاحب کی مشہور زمانہ کتاب ’’ردقادیانیت کے زریں اصول‘‘ کے شروع میں ڈاکٹر صاحب کی ایک شاندار اور پر مغز تقریظ موجود ہے جس نے کتاب کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے۔ یہ تقریظ اس اشاعت میں شامل کرنے کی غرض سے ارسال کی جار ہی ہے۔ اس تقریظ سے ختم نبوت کے ساتھ ان کی وابستگی اور حضرت والد مرحوم کے مشن کے ساتھ لگاؤ بھی ظاہر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب ؒ جیسی شخصیات تو اب چراغ لے کر ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔ اگر ایسی چند مزید شخصیات ڈاکٹر صاحب کو میسر آ جاتیں تو ان کا تعاون حکومتی سطح پر ان کو بہت کارآمد ثابت ہو تا، لیکن قدرت نے ان کو مزید مہلت نہ دی اور وہ ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ قدرت کویہی منظور تھا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا مشن مکمل کرنے کی صلاحیت سے نوازیں، تاکہ ان کے صدقات جاریہ اور نیکیوں میں اضافہ ہوتا رہے۔ آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔

مولانا ثناء اللہ چنیوٹی 

( ادارۂ مرکزیہ دعوت وارشاد، چنیوٹ)

( ۱۳ )

شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب ؒ کے شاگرد رشید، جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن، راجہ بازار راولپنڈی کے فاضل، جامعہ اشرفیہ لاہور اور جامعۃالعلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے متعلم، وفاقی شرعی عدالت کے جج، اسٹیٹ بینک کے شریعہ ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے سابق صدر، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور، بالغ نظر محقق، بہترین صاحب قلم، مختلف زبانوں میں تدریس و خطابت کے شہسوار، عالمی شہرت یافتہ شخصیت، علمی رسوخ کے حامل، وطن عزیز کے مایہ ناز عالم دین حضرت مولانا ڈاکٹر محمود احمدغازی ۱۶؍ شوال ۱۴۳۱ھ/۲۶؍ ستمبر ۲۰۱۰ء بروز اتوار بعد نماز فجر ۶۰ سال کی عمر میں راہی عالم آخرت ہو گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

ڈاکٹر محمود احمدغازی کا نسبی تعلق کاندھلہ کے ممتاز علمی خاندان سے تھا۔ آپ کے والد محترم بزرگوں کے صحبت یافتہ متدین ومتبع سنت بزرگ تھے۔ ڈاکٹر غازی صاحب ؒ نے درس نظامی کی ابتدائی تعلیم جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن، کراچی میں حاصل کی۔ پھر آپ کے والد محترم اسلام آباد منتقل ہو گئے تو آپ نے لاہور جاکر جامعہ اشرفیہ میں داخلہ لے لیا اور آخرمیں جامعہ دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں درس نظامی کی تکمیل فرمائی اور شیخ القرآن حضرت اقدس مولاناغلام اللہ خان صاحبؒ سے خصوصی طور پر تلمذ کا شرف حاصل فرمایا۔ درس نظامی کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کے مراحل طے کر کے اعلیٰ سندات حاصل کیں۔ 

ڈاکٹر صاحب بفضلہ تعالیٰ اسلامی وعصری علوم میں زبردست استعداد کے حامل تھے۔ انہوں نے حضرت مولاناغلام اللہ خان ؒ کی زیرنگرانی درس نظامی کی تکمیل کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سترہ سال کی عمر سے ہی ڈاکٹر صاحبؒ نے تدریس کا آغاز فرما دیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی شرعی و عصری دونوں طرح کے علوم و فنون پر دسترس حاصل تھی، لیکن جدیدعصری فنون وافکار سے وافر آگاہی کے باوجود آپ میں تجدد یا کسی فکری زیغ کا کوئی شائبہ نہیں تھا اور بظاہر یہ خاندانی اور دینی مدارس کی تعلیم وتربیت کا ثمرہ ہی تھا کہ آپ دینی تصلب اور علمی رسوخ کے حامل تھے۔ ان سب چیزوں کے باوجود ان کی کسی ادا میں ڈھونڈ کر بھی اپنے علم یا خدمت پر ناز یا فخر کی کوئی پرچھائیں تلاش نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر صاحب ایک سادہ، متواضع، منکسر المزاج اور ہنس مکھ انسان تھے۔ رمضان المبارک میں ہر سال اہتمام سے تراویح میں قرآن کریم سناتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب حق کی ترجمانی کرنے والے انسان تھے۔ 

عالمی کانفرنسوں میں غیر مسلموں کے سامنے آپ دین اسلام کی ترجمانی معتقدات اسلام کی حقانیت، اسلامی احکام و تعلیمات کے دفاع کے لیے پیش پیش رہے۔ ڈاکٹر صاحب معاند خیالات ونظریات او ر زیغ وضلال کے فتنوں کا تعاقب کرنے والے مرد مجاہد تھے۔ انھوں نے پاکستان کے آئینی وقانونی مسائل میں بھرپور رہنمائی دی، جب کہ جنوبی افریقہ کی غیرمسلم عدالت میں قادیانیوں کے خلاف کیس لڑ کر اس تاریخی مقدمہ میں ملت اسلامیہ کے موقف کو سرخرو کرتے ہوئے اسے پوری دنیا کے غیر مسلم ممالک کی عدالتوں کے لیے مثال بنا دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ خدمت تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ 

ڈاکٹر صاحب نے قرآن، حدیث، سیرت، فقہ وقانون، معیشت وتجارت، اور دیگر علوم وفنون پر ۲۵ سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ آپ کی تصانیف اہل علم اور نئی نسل کے لیے قیمتی تحفہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رضا ورضوان کا معاملہ فرمائیں۔

مولانا سید محمد زین العابدین 

(مدرسہ امام ابویوسف، شاد مان ٹاؤن ، کراچی)

( ۱۴ )

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ، اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ہمارے بڑے مشفق استاد تھے۔ میرا ان سے پہلا تعارف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے ایک کوڈ کا ٹیوٹر مقرر ہونے کے لحاظ سے ہوا۔ وہ ہماری کتاب ’’تحقیق نگاری‘‘ کوڈ نمبر ۷۱۴ کے ٹیوٹر مقرر ہوئے تھے۔ ۱۹۸۹ء میں ہمیں اوپن یونیورسٹی نے اسلام آباد میں ورکشاپ کے لیے بلایا۔ ابتدائی طور پر کل طلبہ کی تعداد ۶۵ تھی۔ ان میں سے کچھ فیل ہوئے اور بعض نے چھوڑ دیا تو ورکشاپ کے وقت ۳۵ طلبہ رہ گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کا کورس سب سے مشکل تھا، یعنی تحقیق نگاری جس میں طلبہ کو تحقیقی مقالے کا خاکہ تیار کرنا تھا۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے جب طلبہ کا رزلٹ دیا تو ۳۵ میں سے ۲۵ طلبہ فیل ہو گئے۔ صرف دس طلبہ پاس ہوئے، میں بھی پاس طلبہ میں سے تھا۔ بہت پریشانی ہوئی۔ مجھے یاد ہے کہ ان میں کچھ بڑی عمر کے حضرات بھی تھے۔ ان میں ڈاکٹر محمد نواز چودھری تھے جن کی تقابل ادیان کی کتاب ہم ایم اے کے نصاب میں پڑھاتے ہیں۔ وہ اور ان کے ساتھی سب فیل ہو گئے۔ اتفاق سے میں پاس ہو گیا۔ سب ساتھیوں نے مجھے گھیر لیا کہ آپ چونکہ پاس ہیں، اس لیے ڈاکٹر صاحبؒ سے ہماری سفارش کریں کہ ہمیں بھی پاس کر دیں۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ہوگا؟ آپ کچھ کام کر کے لے آئیں گے تو وہ پاس کریں گے۔ ایسے میں کیسے کہہ سکتا ہوں۔ کہنے لگے، آپ ہمارے ساتھ ان کے گھر تو چلیں، آپ ہماری وکالت کریں۔ 

ہم نے ڈاکٹر صاحبؒ سے وقت لیا اور انھوں نے بڑی شفقت فرماتے ہوئے وقت دے دیا۔ سب لوگ چار بجے ان کے گھر پر پہنچے۔ سپر مارکیٹ کے قریب ان کا چھوٹا سا گھر تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت پرتکلف چائے پلائی۔ پھر کہنے لگے، کیسے آنا ہوا؟ میں نے دبی سی آواز میں کہا کہ ہم ایک ’’ترلہ کمیٹی‘‘ لے کر آئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب قہقہہ لگا کر بہت ہنسے۔ کہنے لگے کہ کیا بات ہوئی؟ پھر میں نے سب کی طرف سے عرض کیا کہ آپ نے معزز اساتذہ کرام کو فیل قرار دے دیا ہے۔ اب یہ کیسے پاس ہو سکتے ہیں؟ اسی دوران ایک صاحب، جن کی عمر ۵۵ سال کے لگ بھگ تھی، کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب! جب آپ کا خط میرے گھر میں پہنچا تو میرے بیٹے نے گھر میں شور مچا دیا کہ امی! ابو فیل ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ؒ نے پھر قہقہہ لگایا اور کہنے لگے کہ اب کیا ہو سکتا ہے۔ اب میں فیل کر چکا ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا کہ آپ محترم اساتذہ کرام کو دو دن دے دیں، یہ اپنا کام درست کر لیتے ہیں۔ آپ پھر اس کی جانچ کریں اور ان میں جس کو پاس کرنا ہو، کر دیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے وعدہ کر لیا۔ دو دن میں اساتذہ نے خاصی محنت کر کے اپنے کام کو بہتر کیا، خاکہ اچھے انداز سے تیار کیا اور ڈاکٹر صاحب نے واقعتا ان کو پاس کر دیا۔ اس سے بہت سے اساتذہ کا وقت بچ گیا۔ ڈاکٹر صاحب ؒ اس قدر مشفق تھے۔ 

میرا ان کے ساتھ ایک اور معاملہ یہ ہوا کہ جب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد نے ان کو بورڈ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کا ممبر بنایا تو مجھے ان کے سامنے پیش ہونا تھا۔ ڈاکٹر عبدالمالک عرفانی مرحوم مجھے بہت اچھا گائیڈ کرتے تھے۔ اگرچہ بنیادی طور پر وکیل تھے، تاہم اچھے انسان تھے۔ ’’اسلام کا نظریہ ضرورت اور جدید قانون میں اس کی حیثیت‘‘ کے عنوان سے ۱۹۸۴ء میں ان کا پی ایچ ڈی کامقالہ پنجاب یونیورسٹی سے منظور ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے موضوع دیا اور خاکہ تیار کرایا اور کہا کہ آپ ’’ اسلام کا نظریہ ضرورت اور پاکستان کے سیاسی بحرانوں میں اس کے استعمال کا جائزہ‘‘ پر کام کریں۔ میں سارا کچھ تیار کر کے لے گیا۔ اب جو حضرات میٹنگ میں بیٹھے ہوئے تھے، ان میں ڈاکٹر غازیؒ بھی تھے۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے کہا کہ ان کا مقالہ کیسے پاس ہوگا، ان کا موضوع تو اسلامیات رہا ہی نہیں، اس لیے یہ مسترد کیا جاتا ہے۔ آپ کوئی نیا عنوان سوچیں اور اس پر خاکہ تیار کریں۔ میں نے کہا کہ آپ کچھ رہنمائی فرما دیں۔ ڈاکٹر صاحبؒ نے اسی وقت مجھے نوٹ کرو ایا: ’’پاکستان کا نظریہ ضرورت اور مسلم سیاسی فکر کے ارتقا میں اس کا کردار‘‘۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جن لوگوں کے پاس علمی سرمایہ ہوتا ہے، ان کا ذہن کتنا کام کرتا ہے۔ واقعتا مجھے اس وقت بات سمجھ میں نہ آئی، لیکن میں نے اسے نوٹ کر لیا۔

رات کومیں اپنے اقارب کے گھر میں مقیم تھا۔ میں نے ڈاکٹر عبدالمالک عرفانی سے کہا کہ میرا عنوان تو مسترد ہو گیا ہے اور ڈاکٹر محمودغازی نے یہ عنوان دیا ہے ۔ وہ سوچ میں پڑ گئے کہ اس کو کیسے لکھیں گے۔ دس صفحات سے زیادہ مواد نہیں ملے گا۔ میں خاصا پریشان ہوگیا ۔عرفانی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ڈاکٹر غازی صاحب سے دوبارہ پوچھیں کہ اس پر کس انداز سے آگے چلنا ہے اور کیا لکھنا ہے؟ میرے پاس ڈاکٹر صاحبؒ کے گھر کا ٹیلی فون کا نمبر تھا۔ اسی وقت میں نے رابطہ کیا اور ڈاکٹر صاحب سے بات کی۔ ڈاکٹر صاحبؒ کہنے لگے کہ خلافت راشدہ تک تو سب خیریت تھی۔ اس کے بعد بنوامیہ آئے تو ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے، یہ بھی قابل قبول ہے۔ ہم نے اس کو ماننا شروع کر دیا۔ پھر بنوعباس آئے۔ ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے اور ان کا حکم ماننا شروع کر دیا۔ پھر عثمانی خلافت کا دور آیا تو ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے۔ پھر جدید دور کے صدر اور وزیرا عظم آ گئے تو ہم نے کہا، یہ بھی ٹھیک ہے۔ یہ ہمارا سیاسی فکر کا ارتقا ہوا۔ اس طرح آپ نے آگے چلنا ہے۔ میں خاصا مطمئن ہو گیا۔ پھر میں نے ڈاکٹر عرفانی صاحب سے عرض کیا کہ ڈاکٹر صاحب نے یہ گائیڈ لائن دی ہے۔ کہنے لگے ، ٹھیک ہے۔ آپ کام کریں۔ بہرحال میں نے جب کام کرنا شروع کیا تو میرے پاس تقریباً دوہزار صفحات کا مواد تھا۔ پھر میں نے اس میں تحدید کی۔ میں نے اپنا مقالہ ڈاکٹر صاحبؒ کو پیش کیا تو انھوں نے کہا کہ آپ جمع کرا دیں۔ اس طرح میں پاس ہو گیا اور مجھے ڈگری مل گئی۔ 

ڈاکٹر صاحبؒ علمی حوالہ سے بہت زیادہ ’’امیر آدمی‘‘ تھے، rich minded تھے۔ ان کے انتقال کی جب مجھے خبر ملی تو بڑا دکھ ہوا اور دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اچھی جگہ عنایت فرمائے۔ ہمیں ان کے افکار سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 

ڈاکٹر شریف چودھری

(ر) ایسوسی ایٹ پروفیسر، 

گورنمنٹ کالج، گوجرانوالہ 

( ۱۵ )

ممتاز علمی سکالر ،مذہبی دانشور او ر عالم اسلام پر گہری نظر رکھنے والے عظیم مفکر ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ہمیں داغ مفارقت دے کر خود راہی آخرت ہو چکے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی بہت زیادہ خوبیوں کے مالک تھے۔ دینی و عصری علوم کے ماہر، اسلامی موضوعات کے محقق اور دورجدید میں پیش آمدہ مسائل اور عالم اسلام کے حالات وواقعات اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ایک بیدار مغز انسان تھے۔ وہ اپنی انھی خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ وفاقی وزارت مذہبی امور، شریعت جج ، اسلامی نظریاتی کونسل اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے اہم مناصب ان کے سپرد کیے گئے جو انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے احسن طریقہ سے نبھائے اور خدمات سرانجام دیں۔ ڈاکٹر غازی مرحوم صرف کسی مخصوص طبقے تک محدود نہ تھے بلکہ علماء دیوبند میں بھی شرف و عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور اہل مدارس آپ کو اپنے پروگراموں میں دعوت دے کر آپ کی گفتگو سننے اور اپنے لیے فخر سمجھتے، چنانچہ دارالعلوم کراچی، جامعۃالرشید، جامعۃ الخیر لاہور اور الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے علاوہ بیشتر مدارس کی تقریبات میںآپ تشریف لاتے، جید اور ممتاز علماء کرام کے درمیان خطابات فرماتے اور اپنی رائے سے نوازتے۔ اکابر علماء بھی آپ کی رائے کا احترام کرتے۔ استاذ گرامی حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب مدظلہ نے ایک دفعہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے درس کے دوران فرمایا کہ اس وقت میر ی نظر میں برصغیر میں دو شخصیات ایسی ہیں جو مغرب کو آج کے دور کی زبان میں حجۃ اللہ پڑھا سکتے ہیں اور امام شاہ ولی اللہ ؒ کا فلسفہ سمجھا سکتے ہیں۔ ان میں اول شخصیت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی مدظلہ اور دوسری ڈاکٹر محمود احمدغازی ہیں۔ اس سے ڈاکٹر صاحب کے علمی مقام ومرتبہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ 

راقم نے پہلی بار ڈاکٹر صاحب کی زیارت کا شرف اپنی مادر علمی جامعہ اسلامیہ کامونکی میں کیا۔ استاذ گرامی مولانا عبدالرؤف فاروقی، جو مذاہب عالم اور تقابل ادیان پر خوب دل جمعی سے کام کر رہے ہیں، انہوں نے اپنے قائم کردہ ادارہ جامعہ اسلامیہ کامونکی میں ایک عمارت اسی کام کے لیے مخصوص کر رکھی ہے۔ مختلف اوقات میں تقابل ادیان کے حوالے سے مختلف کورسز کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔انہوں نے حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے منسوب ہال کی افتتاحی تقریب رکھی جس کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم تھے۔ اس سیمینار میں مولانا سمیع الحق، قاضی عبداللطیف، مولانا زاہدالراشدی، مولانا اجمل قادری اور دیگر علما تشریف فرما تھے۔ ڈاکٹر غازی صاحبؒ تقریر کیا کر رہے تھے، علم کا سمندر بہا رہے تھے اور ان کی گفتگو میں اس قدر تسلسل اور ربط تھا کہ اتنی طویل گفتگو راقم سمیت دیگر حاضرین نے پوری دل جمعی اور توجہ سے سنی۔ اس موقع پر ہم ڈاکٹر عزیر الرحمن کے بے حدمشکور ہیں جنھوں نے ڈاکٹر صاحبؒ کی متعدد تقاریر قلم بند کر کے ’’اسلام اور مغرب تعلقات‘‘ کے نام سے مجموعہ شائع کیا۔مذکورہ تقریر اسی مجموعے میں شامل ہے۔ 

حافظ خرم شہزاد 

(اقرا روضۃ الاطفال، گوجرانوالہ)

( ۱۶ )

ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ڈاکٹر حمید اللہ ؒ کے بعد اسلامی دنیا کے بڑے مذہبی اسکالر تھے۔ آپ کے لیکچرز بہت پسند کیے گئے ہیں اور وہ کتابی شکل میں دستیاب ہیں۔ محترم غازی صاحبؒ نے اپنے کیریئر کا آغاز ادارہ تحقیقات اسلامی سے کیا اور مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ، خطیب فیصل مسجد ، نائب صدر اسلامی یونیورسٹی اور ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۶ء تک صدر اسلامی یونیورسٹی رہے۔ غازی صاحب حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ بیک وقت مختلف سات زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ جامعہ تعلیم القرآن، راولپنڈی سے درس نظامی مکمل کیا۔ بعدازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ڈاکٹر صاحب نے متعدد کتابیں لکھیں جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں: محاضرات قرآنی، محاضرات حدیث، محاضرات سیرت، محاضرات فقہ، محاضرات معیشت وتجارت، اسلام کاقانون بین الممالک، حیات مجدد الف ثانیؒ اور سنوسی تحریک۔

ڈاکٹر صاحب نے سیرت پر ڈاکٹر حمیداللہ کی فرانسیسی میں لکھی گئی کتاب کو انگریزی میں ایڈٹ اور ترجمہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا۔ وہ ایک ہمہ جہت اور ہمہ پہلو شخصیت تھے جو قدیم اور جدید علوم کا حسین امتراج تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کاایک ایک لمحہ دین کی ترویج و اشاعت، اقدار اسلامیہ کے فروغ اور ملک و ملت کی بھلائی کے لیے وقف تھا۔ اسلامی تعلیمات ڈاکٹر صاحب کے رگ وپے میں سرایت کیے ہوئے تھیں۔ ڈاکٹر صاحب کا علم سمندر کی سی گہرائی رکھتا تھا۔ اخلاق کریمانہ سے متصف تھے اور ہر ملنے والے سے ایسے ملتے تھے گویا وہ دیرینہ شناسا ہو۔ 

ڈاکٹر صاحب اس ورثے کے امین تھے جو سراپا علم تھا کہ والد کی طرف سے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ سے اور والدہ کی طرف سے مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت سے قرابت داری تھی۔ آپ وفاقی وزیر بھی رہے اور وقت کے ڈکٹیٹر کے ساتھ نظریاتی اختلاف بھی رکھا اور جب اس ڈکٹیٹر نے دینی حکمت عملی میں تبدیلی کی تویہ کہتے ہوئے وزارت سے استعفا دے دیا کہ مجھے یہ تبدیلی منظور نہیں۔ غازی صاحب کاوصال کسی ایک طبقہ، خاندان یا ایک ملک کا نقصان نہیں، بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا نقصان ہے۔ 

نعمت اللہ سومرو 

(ڈگری کالج ، نوشہرو فیروز ،سندھ)

( ۱۷ )

انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف خوبیوں سے نوازا ہے اور بعض کو بعض پر درجات وکمالات میں امتیاز واختصاص پر فائز کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ساتھ بھی درجات و کمالات میں امتیاز و اختصاص کا منفرد معاملہ وبرتاؤ فرما رکھا تھا۔ آپ بیک وقت حافظ قرآن، ممتاز عالم دین اور عصری علوم کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ آپ کو علما، طلبہ، عوام الناس او ر سیاست دان حضرات قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پختہ حافظہ اور فہم وتدبر کا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ مختلف زبانوں میں تدریس کی صلاحیت رکھتے تھے۔ آپ بہت گہرائی میں گفتگو فرماتے، مختلف کتابوں کے حوالے اور مراجع کی نشان دہی فرماتے، پھر مختلف مسائل میں ائمہ کرام ومحدثین عظام ؒ کی مختلف آرا پیش نظر وزیر بیان ہوتیں۔ ان متنوع سلسلوں کے باوجود آپ کے بیان میں اور تقریر میں تسلسل متاثر نہیں ہوتا تھا۔ اسے یقیناًوہبی کمالات کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 

جب آپ کسی موضوع پر بیان فرماتے تو اپنے موضوع سے ہٹتے نہیں تھے بلکہ اس موضوع کی گہرائی میں جاتے تھے، کیونکہ آپ کا مطالعہ اور معلومات بہت وسیع تھیں۔ آپ کے جتنے خطبات ہیں، ان میں سے اکثر خطبات کتابی صورتوں میں آچکے ہیں جن کو ’’الفیصل تاجران کتب لاہور‘‘ نے شائع کیا ہے۔ مثلاً محاضرات سیرت، محاضرات قرآنی، محاضرات فقہ، محاضرات حدیث وغیرہ۔ ان محاضرات میں اچھا خاصا علمی مواد موجود ہے جن کو قاری پڑھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ 

محاضرات حدیث میں ان موضوعات کا ذکر ہے: علم حدیث کا تعارف، علم حدیث کی ضرورت واہمیت ،حدیث اور سنت بطور ماخذ شریعت، روایت حدیث اور اقسام حدیث، علم اسناد ورجال، جرح وتعدیل، تدوین حدیث، رحلہ اور محدثین کی خدمات، علوم حدیث، کتب حدیث و شروح حدیث، برصغیر میں علم حدیث، علم حدیث دور جدید میں۔ 

محاضرات فقہ میں ان موضوعات کا ذکر ہے: فقہ اسلامی: علوم اسلامیہ کا گل سرسبد، علم اصول فقہ: عقل ونقل کے امتزاج کا ایک منفرد نمونہ، فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص، اہم فقہی علوم اور مضامین کا تعارف، تدوین فقہ اور مناہج فقہا، اسلامی قانون کے بنیادی تصورات، مقاصد شریعت اور اجتہاد، اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون، اسلام کا قانون جرم و سزا، اسلام کا قانون تجارت و مالیات، مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ، فقہ اسلامی دورجدید میں۔

محاضرات سیرت میں ان موضوعات کا ذکر ہے: مطالعہ سیرت کی ضرورت واہمیت، سیرت اور علوم سیرت، علم سیرت، مناہج فقہا، چند نامور سیرت نگار اور ان کے امتیازی خصائص، سیاست مدینہ: دستور اور نظام حکومت، سیاست مدینہ: معاشرت ومعیشت، کلامیات سیرت، فقہیات سیرت، مطالعہ سیرت پاک وہند میں، مطالعہ سیرت دور جدید میں، مطالعہ سیرت: مستقبل کی ممکنہ جہتیں۔ محاضرات عقیدہ وایمانیات غالباً زیر طباعت ہیں۔ یہ کل پانچ محاضرات ہیں۔ ان محاضرات میں بے شمار علمی ذخائر اور نایاب علمی موتی موجود ہیں۔ ڈاکٹر غازی ؒ کو فن تاریخ سے بہت لگاؤ اور دلچسپی تھی جس کا اندازہ ان محاضرات کو پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ 

ایک مقام پر ڈاکٹر غازیؒ لکھتے ہیں: ’’افسوس یہ ہے کہ ہمارا مغربی تعلیم یافتہ طبقہ مغرب سے آنے والی ہر رطب و یابس تحریر کو تحقیق کا بے مثل نمونہ سمجھتا ہے۔ اس طبقے کے بارے میں حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے آج سے اسی نوے سال پیشتر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ نہایت پست فطرت ہے۔ فطرت کی یہ پستی آج انتہاؤں کو چھوتی محسوس ہوتی ہے۔ اب اس کے اثرات قرآن مجید، حدیث رسول، فقہ اسلامی اور سیرت پاک کے ذخائر پر عدم اعتماد کی صورتوں میں سامنے آنے لگے ہیں‘‘۔ والدین واساتذہ کرام کی اخلاقی تربیت اور دعاؤں کی برکت، دینی تعلیم ودینی حمیت وغیرت کا نتیجہ تھا کہ عصری علوم وفنون پر دسترس حاصل ہونے کے باوجود مرحوم میں مغرب سے مرعوبیت یاتجدد پسندی کی جھلک بالکل نہیں پائی جاتی تھی۔ 

آپ تحریک ختم نبوت کے داعی تھے۔ ختم نبوت کی تحریک میں عملی طور پر حصہ لیا۔ نومبر ۱۹۸۴ء میں کیپ ٹاؤن، (جنوبی افریقہ) میں قادیانیوں نے مسلمانوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا تو وہاں کے مسلمانوں کی فرمائش پر اس کیس کی پیروی کے لیے ایک وفد مسلمانوں کی مدد کے لیے گیا تھا۔ اس وفدمیں مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، ڈاکٹر خالد محمود، مفتی محمد تقی عثمانی جیسے اکابرین امت شامل تھے۔ اس وفد میں آپ بھی شامل تھے۔ اس وفد نے مثالی خدمات انجام دیں۔ بالآخر وہاں کی عدالت نے اپنا حکم امتناعی واپس لے کر مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ 

ایک سائل نے آپ سے سوال کیا کہ کیا قادیانی حنفی یا شافعی کی طرح مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ یا مسلک ہے یا الگ مذہب ہے؟ آپ نے اس کو جواب دیا کہ ’’ شریعت کی روسے ہر منکر ختم نبوت اور مدعی نبوت اسلام کے دائرہ سے خارج ہے۔ یہ تو شریعت کی بات ہوئی۔ پاکستان کاقانون یہ ہے کہ ہمارے ہاں قومی اسمبلی کی متفقہ رائے سے ان کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے اور پاکستان میں ۱۹۴۷ء سے لے کر آ ج تک اتنے بڑے پیمانے پر اتفاق رائے کی کوئی اور مثال نہیں ہے۔ نیشنل اسمبلی جب یہ ترمیم کر رہی تھی تو اس میں اس وقت ۱۰۰فی صد حاضری تھی۔ میں اس کا چشم دید گواہ ہوں ۔ سو فیصد ووٹ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے حق میں ڈالے گئے۔ سینٹ میں بھی سو فیصد حاضری اور سو فیصد ووٹ تھا۔ کوئی ایک ووٹ بھی غیر حاضر نہیں تھا۔ سب نے اتفاق رائے سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا، اس لیے آپ اپنی اصلاح کیجیے۔ ایسا غیر مسلم گروہ حنفی شافعی کی طرح اسلامی مسلک کیسے ہو سکتا ہے؟ پاکستان کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک بھی قادیانیوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ پاکستان سے بہت پہلے یہ فیصلہ متعدد دوسرے ممالک میں کیا جا چکا ہے۔ مصر میں ۱۹۳۵ء میں یہ فیصلہ کیا جا چکا تھا۔ سعودی عرب میں ۱۹۷۴ء کے اوائل میں یہ فیصلہ ہو اتھا۔ کئی اور ممالک میں ا س سے بھی پہلے فیصلہ ہو چکا تھا‘‘۔

اخلاص کسی پر تھوپا نہیں جاتا۔ محبت، اخلاص کا محض ایک عنصر ہے اور محبت کے متوالے سب اس کی کیفیات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ ڈاکٹر غازیؒ اخلاص کے پیکر تھے۔ان سے فیض کے طالب ہر وقت فائدہ حاصل کیا کرتے تھے۔ آج ڈاکٹر صاحبؒ باوجود ابدی حیات کے ہمارے ساتھ موجود نہیں۔ سوگواری کے عالم میں یہی کافی ہے کہ: 

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہو ں گی کہ پنہاں ہو گئیں

مولانا محمد عرفان 

(مدرسہ امام ابویوسف، شادمان ٹاؤن، کراچی)

( ۱۸ )

یوں تو میں نے اس عظیم ہستی کو ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۹۸ء کو بنوں کی فقہی کانفرنس میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا جہاں ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے اصول الفقہ کی اہمیت پر موثر خطاب فرمایا تھا،لیکن کیا معلوم تھاکہ قسمت ساتھ دے گی اور مجھے اس عظیم ہستی سے شرف تلمذ بھی حاصل ہوگا۔ ۲۰۰۶ء کے اوائل میں ایل ایل بی شریعہ کے چھٹے سمسٹر میں جناب ڈاکٹر صاحب مرحوم نے فقہ العلاقات الدولیۃ پڑھائی۔ اس کے بعد جب بھی ملاقات ہوتی، انتہائی شفقت فرماتے۔ ایک دن ملاقات کے لیے گیا تو فرمانے لگے کہ بھئی، آج ہماری ترجمانی کرو گے۔ وہاں آپ کے دفتر میں ایک افغانی عالم (جن کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ مولانا عبد الباقی صاحب تھے) تشریف فرما تھے۔ وہ غازی صاحب کی بات تو سمجھ سکتے تھے، لیکن خود اردو بولنے سے قاصر تھے۔ موضوع بحث مولانا عبد الباقی صاحب کی تالیف ’’السیاسۃ والادارۃ الشرعیۃ فی ضوء ارشادات خیر البریۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ’’اسلام کا نظام سیاست وحکومت‘‘ تھا۔ (یہ کتاب عربی اور فارسی میں بھی ترجمہ ہوئی ہے اور شنید ہے کہ وفاق المدارس العربیہ اس کو داخل نصاب کرنا چاہتا ہے۔) جناب غازی صاحب نے اس کتاب کے لیے تقدیم لکھنے کی ہامی بھری تھی۔ 

سید محبوب الرحمن 

(متعلم ایل ایل ایم، شریعہ فیکلٹی، 

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد)

شخصیات

(جنوری و فروری ۲۰۱۱ء)

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

’’محاضراتِ قرآنی‘‘ پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

’’محاضرات فقہ‘‘ ۔ ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

تلاش

Flag Counter