دگر داناے راز آید کہ ناید

حافظ ظہیر احمد ظہیر

مخدومی، استاذ ذی وقار حضرت مولانا ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی مدظلہ العالی نے علالت کے باعث اپنے قابلِ فخر بھتیجے مفکر اسلام، عظیم مذہبی اسکالر، جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی کے حوالے سے کچھ لکھنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل ارشاد میں اس اعتراف کے ساتھ کہ آپ کا ادراکِ نسبت یا ادراکِ کمالات میرے جیسوں کا منصب ہرگز نہیں ہے، راقم اثیم چند سطریں قارئین ’’الشریعہ‘‘ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہے۔ 

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کومفر نہیں، لیکن جو لوگ کسی نظریے اور مشن کے لیے تادمِ آخر ان تھک محنت اور لگن سے کام کرتے رہیں، وہ کتنی ہی طویل عمر کیوں نہ پائیں، ان کی جدائی قبل از وقت ہی محسوس ہوتی ہے۔

ڈاکٹرصاحب ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آبائی وطن علم و حکمت کی دانش گاہ ’’تھانہ بھون ‘‘ ٹھہرا۔ آپ کے والد گرامی حافظ محمد احمد فاروقیؒ صاحب کی بیعت وارادت حکیم الامت حضرت مولانا شاہ محمد اشرف علی تھانوی سے قائم تھی اور ان کو حضرت تھانوی کے خلیفہ اجل حضرت مولانا فقیر محمد پشاوریؒ اور شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ مہاجر مدنی سے اجازت بیعت اور خلافت بھی عنایت ہوئی۔ ڈاکٹرصاحب نے حصول تعلیم کے لیے شیخ المحدثین علامہ ظفرؒ احمد عثمانی کی خدمت میں زانوئے تلمذ تہہ کیے۔ عین ممکن ہے کہ بعض حضرات کا خیال شاید یہ بھی ہو کہ ڈاکٹر صاحب کی اٹھان میں ان کے اپنے ذاتی کردار، انفرادی کوشش، اپنے مشن کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کے حصول کے لیے ان تھک جدوجہد کا بڑا عمل دخل ہے۔ اس سے انکار نہیں، لیکن بنیادی طور پر آپ کی تعمیر و ترقی میں عظیم نسبتوں، اکابر و اسلاف کے اعتماد اور اساتذہ و شیوخ کی دعاؤں کو روح کی حیثیت حاصل ہے۔

موصوف قدیم و جدید علوم کے متبحر عالم دین، اسلامی یونیورسٹی کے سابق صدر، فیصل مسجد کے سابق خطیب اور شرعی عدالت کے جج تھے۔ رب العزت نے ان مناصبِ جلیلہ کے ساتھ ساتھ آپ کو ظاہری اور باطنی نسبت وکمالات سے بھی نوازرکھا تھا۔ آپ متنوع صفات اور مجموعہ کمالات شخصیت کے مالک تھے ۔آپ ہمارے دور کی ان چند ممتاز ویگانہ شخصیات میں سے ایک تھے جن کے دل میں دین فطرت کو عالم گیر مذہب کے طور پردیکھنے کی تڑپ ہوتی ہے اور وہ لوگ اس تڑپ کو سکون دینے کے لیے اپنی خداداد صلاحیتوں اور گوناگوں اوصاف و کمالات کے ساتھ جہدِ مسلسل اور سعی پیہم سے بھرپور کام لیتے ہیں۔ موصوف ڈاکٹر صاحبؒ کی تمام صفات کوحیطہ تحریر میں لانا ایک طویل وقت اور خاصی محنت کا متقاضی ہے، لہٰذا میں ان کی چند ایک خدمات کا اجمالی سا تذکرہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔

قارئین گرامی !اگر آپ ڈاکٹر محمود احمد غازی کو آج کے دور میں نہیں، مسلمانوں کے مثالی دورِ عروج کے تناظر میں دیکھنا چاہتے ہیں تو مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ایک خط جو انہوں نے اپنے کسی عزیز کو لکھا تھا کا اقتباس ضرور پڑھیں ۔ فرماتے ہیں:

’’آپ کے لیے بہترین زندگی علمی زندگی ہے، اس شکل و طرز کی جس کانمونہ سلف صالح کے حالات سے ملتا ہے۔ علماء اسلام کے حالات پڑھیے۔ درس و تدریس، وعظ و ارشاد اور تصنیف و تالیف تینوں چیزوں کو بیک وقت کرتے تھے اور اس طرح ایک زندگی میں تین عظیم الشان خدمات انجام دیتے تھے۔ عوام کی اصلاح وعظ وتذکیرسے، مستقبل کے لیے تیاری دروس تدریس اور علم و مذہب کی خدمت دائمی تصنیف و تالیف سے ۔ ابن جوزیؒ مصنف ہیں، مستنصریہ کے صدر مدرس ہیں اور جامعہ رصّافہ کے واعظ۔ غزالیؒ مدرسہ طوس کے معلم، سو کتابوں کے مصنف اور جامعہ طوس کے واعظ۔ علماء اسلام کی زندگی کے لیے تو یہ طبیعت ثانیہ ہوگئی تھی۔ ایک شخص آپ کو نہیں ملے گئے جو اپنی زندگی میں یہ تینوں مشغلے نہ رکھتا ہو۔ جب سے یہ طبقات الگ ہوئے، سلسلہ ہدایت اور علم مفقود ہوکے رہ گیا۔‘‘

اس تحریر کی روشنی میں ہمارے حضرت ڈاکٹر صاحب نے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ فرمادی تھی ۔ ہم مختصراً ڈاکٹر صاحب کو ایک مقرر،مصنف اور مدرس کی حیثیت سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

بحیثیت مقرر

حضرت ڈاکٹر صاحبؒ پلند پایہ داعی اور مقرر تھے۔ آپ اردو، عربی، انگریزی تینوں زبانوں میں لکھنے پڑھنے پر خوب قادر تھے اور اس کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ ان کی تقاریر جہاں قوتِ استدلال،نکتہ شناسی و نکتہ آفرینی کا بہترین مرقع ہوتیں، وہاں ایسی قیمتی معلومات کے خزینے بھی ہاتھ آتے جن کو تلاشِ بسیار اور کئی کتابوں کی ورق گردانی کے بعد بھی شاید حاصل نہ کیا جاسکے۔ آپ نے دین فطرت کی دعوت میں جو زبان استعمال کی ہے، وہ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ اور موعظہ حسنہ کی بہترین عملی تفسیر ہے ۔ 

قرآن کریم، حدیث مبارکہ، سیرت پاک، فقہ اسلامی، شریعت اور معیشت و تجارت کے موضوعات پر ان کے خطابات محاضراتِ قرآنی، محاضراتِ حدیث، محاضراتِ سیرت،محاضراتِ فقہ کے نام سے کتابی شکل میں طبع ہوچکے ہیں۔ یہ مجموعہ جات آپ کے علوم و معارف کا نچوڑ ہیں۔ بقول ڈاکٹر صاحب ’’ان کے خطابات کی زبان تحریری نہیں، تقریری ہے۔ اندازِ بیان عالمانہ اور محققانہ نہیں، داعیانہ اور خطیبانہ ہے ۔‘‘

آپ نے ۸۰ء کی دہائی میں جنوبی افریقہ کی عدالت میں عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے مرزائیوں کے مقابلے میں گفتگو کے لیے پاکستان کے دیگر چوٹی کے اہل علم کے ساتھ ایک تاریخی سفر فرمایا۔ اس وفد میں مفکر اسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ، علامہ ڈاکٹر خالد محمودمدظلہ ، ڈاکٹر اسحاق ظفر انصاری مدظلہ اور دیگر جید علماء اسلام شامل تھے۔ اس سفر کا ذکر حضرت مفتی تقی عثمانی نے اپنے سفر نامہ ’’جہانِ دیدہ‘‘ میں تفصیل سے فرمایا ہے ۔ استاذ محترم علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ العالی نے راقم کو بتایا کہ ڈاکٹر غازی صاحب نے میدانِ مناظرہ کا آدمی نہ ہونے کے باوجود اس مقدمہ میں اس طرح بھرپور منطقی استدلالات کے ساتھ اور زوردار انداز میں ختم نبوت پر گفتگو فرمائی کہ بس انھی کا خاصہ تھا۔ 

حضرت کے خطبات میں قابل ذکر چیز آپ کی آفاقی نظر تھی۔ آپ نے دنیا بھر کے دورے کیے بلکہ عمر کا ایک طویل حصہ اسی دعوت کے کام میں گزرا۔ اس کثرت اسفار نے ایسا ذوق پیدا کررکھا تھا کہ آپ جب بھی کسی مسئلہ پر بولتے، اگر چہ آپ کے سامنے اردو دان طبقہ ہوتا مگر محسوس یوں ہوتا تھا کہ آپ صرف موجود سامعین کو نہیں بلکہ تمام اقوام عالم کو دین فطرت کی دعوت دے رہے ہیں ۔ 

بحیثیت مدرس

اسلامی علوم کی دنیا کے دیگر علوم پربرتری ثابت کرنے کے لیے علوم کے تقابلی مطالعے اور جدید تعلیم کے سحر میں گرفتار افراد کا اسلامی علوم پر اعتماد بحال کرنے اور قرآن وسنت، فقہ اسلامی پر اعتراضات کے کافی و شافی جوابات دینے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی تدریس کے دوران یہ آپ کا ایک نمایاں وصف تھاکہ آپ نے جدید دور کی تمدنی اور معاشرتی خرابیوں کی اصلاحِ احوال کے لیے بہتر اور مؤثر لائحہ عمل کی نشاندہی کی۔ آپ نے مغربی نظام تعلیم کی پیدا کردہ خرابیوں کا پوری طرح ادراک کر کے اپنے شاگردوں میں اسلامی روح منتقل کرنے کی ہر ممکن کوشش فرمائی۔ آپ کا حلقہ درس و تدریس عوام الناس یا مذہبی طبقے کی بجائے چونکہ زیادہ تر عصری تعلیم کے حامل افراد پر مشتمل تھا، لہٰذا آپ نے مسلم معاشرے کے بالائی طبقہ کی ذہنی الجھنوں کو بڑی گہرائی سے سمجھا اور پھر ان کی ذہنی سطح کے مطابق ان سے بات کرنے کی خوب استعداد اور مہارت پیدا کی۔ دوران تدریس آپ کے لیکچرز وسیع و عمیق مطالعہ اور علم و تحقیق کا محور ہوتے تھے۔ 

بحیثیت مصنف 

اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ تقریر اور درس و تدریس کی مستقل ذمہ داریوں کے ساتھ تصنیف کے مستقل شعبہ سے وابستگی کس قدر مشکل امرہے اور پھر صرف روایتی تصنیف و تالیف نہیں بلکہ فکری ، نظریاتی اور تخلیقی تحریر کا میدان کسی اور مصروفیت کے لیے کہاں چھوڑتا ہے۔ لیکن رب العزت نے جن ہستیوں سے کام لینا ہو، ان کے وقت کے لمحات بھی بابرکت بن جاتے ہیں۔ وقت ان کے ساتھ سمجھوتہ کرکے گزرتا ہے۔ تصنیف کے حوالے سے آپ کے غیر معمولی شاہکار منصہ شہود پر آکر اہل علم و فن سے داد حاصل کرچکے ہیں جن میں ادب القاضی ،قانون بین الممالک، اسلامی بینکاری: ایک تعارف،اسلام اور مغرب تعلقات، مسلمانوں کا دینی و عصری نظام تعلیم، اصول فقہ و علم اصول فقہ، (اصول فقہ) تقنین، (اصول فقہ ) پاکستان میں قوانین کی اسلامائزیشن، (اصول فقہ) قواعد کلیہ، قواعد کلیہ اور ان کا آغاز و ارتقا، ان کی علمی ثقاہت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔

ڈاکٹر صاحب کا قلم فکر انگیز تحریر لکھنے کے سوا کچھ اور لکھنے کا عادی ہی نہ تھا۔ آپ کی تحریروں کا مطمح نظر امت میں ابتدائی صدیوں میں اسلامی علوم کی تدوین پر حضرات صحابہ کرام، حضرات تابعین، محدثین، مفسرین، فقہا اور مؤرخین کی خدمات کا وسیع مطالعہ تھا۔ قدیم و جدید مفکرین کے فکر کی نوعیت کو سمجھ کر ان کے مثبت اور کمزور پہلوؤں پر گہری نگاہ رکھ کر مسلمانوں کے مستقبل کو ماضی سے جوڑتے ہوئے امت کو اپنی نئی فکر اور نئی جماعت و دائراتی خول سے داغدار اور منتشر نہ ہونے دینا آپ کی تصنیفی زندگی کا نصب العین تھا۔ 

چند دیگر صفات 

یہ تو ایک خاکہ تھا جس میں آپ کی سیرت کے چند نمایاں گوشے اجمال کے ساتھ ذکر ضرور کیے ہیں، لیکن پھر بھی بہت کچھ باقی ہے اور باقی رہے گا ۔ وہ بہت بڑے قد کے آدمی تھے۔ خدا نے ان کو فقر، درویشی جیسی اعلیٰ صفات سے بھی نوازا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بڑے بڑے علمی کارناموں اور بے مثال دینی خدمات سرانجام دینے کے باوجود اپنے آپ کو فقیر سمجھتے تھے، کیونکہ آپ باضابطہ عالم دین اور صوفی تھے۔ عالمِ ربانی کے الفاظ ان پر صادق آتے تھے۔ علمی تبحر، وسعت مطالعہ اور غیر معمولی ذہانت و ذکاوت، عالمی دنیا میں ایک نامی گرامی شہرت کے باوجود آپ ہمیشہ مجسمہ انکسار و عاجزی رہے اور من تواضع للّٰہ رفعہ اللّٰہ کے سانچے میں ڈھلے حقیقی پیکر انسانی تھے۔ بقول شیخ سعدی ؒ 

تواضع ز گردن فروزاں نکوست گداگر تواضع کند خوئے اوست
’’بلند مرتبہ لوگوں سے تواضع بھلی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اگر فقیر اور گداگر تواضع کرتا ہے یہ اس کی مجبوری ہے ۔‘‘

عاجزی اور انکساری ان کا نمایاں وصف تھا۔ تھانوی مکتبِ فکر کی تربیت، اصول پسندی اور سلیقہ مندی ان کے چہرہ بشرہ سے عیاں تھی ۔

ڈاکٹر صاحب کی راہِ زندگی میں کچھ مشکل گھڑیاں اور کٹھن مراحل بھی آئے جو ہر بڑے آدمی کی راہ میں اسپیڈ بریکر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حسد و عناد کے بھی کچھ نشتر چلانے کی کوشش کی گئی تو درویش صفت ڈاکٹر محمود غازی یہ کہہ کر سب کچھ نظر انداز کرگئے۔ بقول شخصے :

کسی شاخِ سرنگوں پہ رکھ لوں گا چار تنکے 
نہ بلند شاخ ہوگی نہ گرے گا آشیانہ 

پاکستان میں سودی بینکاری سے نجات کے لیے جن لوگوں نے کا م کیا ہے، خصوصاً جب معاملہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بینچ میں گیا اور پھر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے اس مسئلے کا بخوبی جائزہ لیا، اس سارے مقدمے کا ایک بنیادی کردار ڈاکٹر صاحب بھی ہیں۔ آپ نے اس موقع پر شیخ الاسلام جسٹس (ریٹائرڈ) مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی کا دست وبازو بن کر اپنے جوہر دکھائے ۔

دینی و مذہبی حلقوں کا ناقابل تلافی نقصان 

ڈاکٹر صاحب کی رحلت سے دینی و علمی حلقوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آپ زمانہ جدید کی تمام تر اصطلاحات اور اسلوب سے نہ صر ف واقف تھے، بلکہ اس معاملے میں ایک خاص تجربہ رکھتے تھے اور اپنے پیغام کو مغرب زدہ طبقے کے ذہنوں میں بڑی خوبصورتی اور عمدگی کے ساتھ اتارنے کا ڈھنگ بھی جانتے تھے ۔ اگر یہ کہا جائے تو بجاہوگا کہ اہل مدارس اور تجدد پسندی کے دلدادہ لوگوں کے درمیان ڈاکٹر صاحب ایک پل کا کردار ادا کرسکتے تھے، کیونکہ دونوں طرزِ تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ مدارس اور کالجز، یونیورسٹیز کے مزاج و ماحول سے آپ گزر چکے تھے۔ جدید تعلیم یافتہ فرد جو مولوی اور مدرسہ سے نہ معلوم کیوں خوفزدہ رہتا ہے، آپ اس طبقے کے لوگوں کو دین اور دینداروں کے ساتھ جوڑنے میں کوشاں رہتے تھے۔ اہل مدارس نے اس سلسلے میں اب ان سے رہنمائی لینا شروع کر دی تھی، لیکن قضا کو کچھ اور ہی منظور تھا اور آپ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ 

ہماری معلومات کے مطابق اس سلسلے میں سب سے مؤثر قدم اٹھانے میں پہل دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج کے حامل جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ کامران بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور نے اپنے تدریب المعلمین کے پروگرام منعقدہ ۱۳، ۱۴ فروری ۲۰۱۰ء کے ذریعے کی۔ (یہ پروگرام اس قدر کامیاب رہا کہ اس کے بعد دو مرتبہ علماء و طلبہ کے بھر پور اجتماع کی شکل میں منعقد ہوچکا ہے ، فالحمد للہ علیٰ ذالک)۔ اس میں ملک کے نامور علماء اور اسکالرز، پروفیسر حضرات کے بھرپور علمی و تربیتی بیانات ہوئے جوکہ مجموعہ مقالات کے نام سے دو جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اصحابِ ذوق کے لیے یہ ایک نادر اور گراں قدر علمی سوغات ہے۔ ان تمام بیانات میں ڈاکٹر صاحبؒ کا خطاب انتہائی ایمان افروز ، فکر انگیز اور کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ حضرات اکابر جامعہ، شیخ الحدیث مولانا مشرف علی تھانوی مدظلہ العالی اور حضرت ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی نے، جوکہ موصوف غازی صاحب کے رشتے میں چچا بنتے ہیں، آپ کے لیے ’’دینی و عصری تعلیم کا امتزاج‘‘ کا عنوان تجویز کیا۔ ویسے تو آپ کا سارا خطاب ہی پڑھنے اور سننے کے قابل ہے، لیکن اختصار کے پیش نظر اس خطاب کا مرکزی خیال اور روحِ بیان ڈاکٹر صاحبؒ کی اپنی زبان سے ہی بیان کردہ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: 

’’بعض حضر ات بعض علماء کر ام جب اس پر تامل کا اظہارکرتے ہیں تو ان کاتامل بالکل بجاہوتاہے۔ ان کاتامل اس لیے ہوتاہے کہ بعض لوگ اسلامی علوم کو خادم اور عصری علوم کو مخدوم بناکے ایک جگہ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اسلامی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔ اسلامی تاریخ میں کسی بھی عصری علم یاعصری فن سے جب استفادہ کیا گیا تو اسلامی علوم اور اسلامی ثقافت اور تہذیب کے خادم کے طور پر اس سے کام لیا گیا اور اس خادم نے اسلامی علوم کو مخدوم بناکر ان کی خدمت کی ۔ یہ آپ کو علم طب میں بھی نظر آئے گا، تفسیر میں بھی ،حدیث میں بھی، فقہ میں بھی، اصول فقہ میں بھی ،کلام میں بھی، حتی کہ تصوف میں بھی۔ تصوف جیسے فن کی کتابیں جو خالص روحانیات کامیدان ہے، اس کو بھی اتنے مضبوط عقلی استد لال سے بیان کیاگیاہے۔ یہیں اس کتب خانے میں ہوں گی، آپ دیکھ لیں۔ ’’تربیۃ السالک‘‘ دو بڑی ضخیم جلدیں ہیں اوربہت ساری کتابیں ہیں جن کے میں نام لوں گا تو گفتگو طویل ہو جائے گی ۔ وہ سب کی سب عقلی استدلال کی بنیاد پرہیں، اس لیے یہ بات کہ عصری علوم سے استفادہ کوئی نئی چیزہے جس کی آج بعض لو گ دعوت دے رہے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ عصری علوم سے استفادہ ہر دور میں مسلمان اہل علم کرتے آئے ہیں۔ اس شرط کے ساتھ کہ عصری علوم پر ناقدانہ نظررکھتے ہو ں، مقلدانہ نہیں۔ مقلدانہ نظر توخطر ناک ہوتی ہے۔ ناقدانہ نظر عصری علوم پر رکھتے ہوں اور اسلامی علوم سے مجتہدانہ طور پر واقف ہوں تاکہ عصری علوم کو، جو بھی جس زمانے کے علوم ہیں، ان کو اسلام کی خدمت کے لیے اور اسلامی علوم وفنون کو نئے انداز سے مرتب اور مدون کرنے کے لیے بیان کریں۔ 
آج کے سیاق وسباق میں عصری علوم سے کیامراد ہے؟ بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں،ایک بہت بڑے بزرگ ہمارے ملک کے ہیں ،ان سے میں نے ایک مرتبہ بات کی،جب میں انتظامی طور پر بعض معاملات سے وابستہ تھا تو میں نے یہ بات کی عصری علوم کی تو انہوں نے بہت غصے سے مجھ سے پوچھا کہ کیا انجینئر نگ کالج میں مولوی تیار ہوتے ہیں تو پھر مدرسوں میں انجینئر کیوں تیا ر ہوں؟ یہ بالکل خلط مبحث ہے۔ عصری علوم وفنون سے استفادہ کرنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ایک محدث کو حدیث کی درسگاہ سے اٹھاکر انجینئر بنا دیا جائے، ایک فقیہ کو دار الافتاء سے اٹھا کر کہا جائے کہ تم میڈیکل ڈاکٹر ہوجاؤ۔ اگر کوئی یہ سمجھتاہے تو غلط سمجھتاہے۔ محدث کو محدث ہی رہنا چاہیے، لیکن محدث ایسا ہو جو علم حدیث پر ماہرانہ،مجتہدانہ بصیرت رکھتاہو ، اپنے وقت کا انور شاہ کشمیری ہو، اس طرح کا محدث ہو، لیکن علم حدیث پرجو آج اعتراضات کیے جارہے ہیں، آج کا تعلیم یافتہ آدمی جن اسباب سے علم حدیث کے بعض پہلوؤں پر شبہات رکھتاہے،ان شبہات کو سمجھنے کے لیے بعض چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ اگر وہ شبہات نہیں جانتا، اگر وہ ان اعتراضات کے منشا سے واقف نہیں ہے کہ وہ اعتراضات کیوں پیدا ہوئے ہیں تو پھر وہ ان کا جواب نہیں دے سکتا۔
یہ بات میں بہت ادب سے، لیکن جرأت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بہت سے علماء کرام یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام فتویٰ دیناہے ۔ فتوے سے کسی کا ذہن نہیں بنتا۔فتویٰ اس کے لیے ہوتا ہے جو دین پر عمل کرناچاہے اور آپ سے آکر پوچھے۔ جو گمراہ ہے، شہر میں گمراہی پھیلارہاہے، آپ اس سکے خلاف فتویٰ دے کر کیا کرلیں گے ؟ آپ کے فتوے سے وہ گمراہی سے باز آجائے گا ؟میں مثالیں دوں گا تو گفتگو لمبی ہو جائے گی۔ ہزاروں گمراہیاں جن کے خلاف فتوے آئے اور یہ سمجھا علماء کرام نے کہ ہم نے فتویٰ دے دیا، ہمار اکام ختم ہوگیا، لیکن وہ کام ختم نہیں ہوا۔ اگر گمراہی اس وقت ایک گملے میں تھی تو آج جنگل بن گئی ہے، کانٹے دار درخت اس نے پیدا کر دیے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ یہ سمجھیں کہ وہ گمراہی کیوں پیدا ہوئی اور کہاں سے پیدا ہوئی ؟اور وہ سوالات جو پیدا ہورہے ہیں، کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟
میں پوری دنیا میں جاتا رہتا ہوں۔ مختلف ملکوں میں جانے کا پچھلے ۳۰ سال میں موقع ملتا رہا ہے۔ میرا تجربہ یہ ہے کہ انتہائے مشرق میں جہاں سورج طلوع ہوتا ہے دن میں پہلی مرتبہ، ’’جزائر فجی‘‘ وہاں کا ایک عام تعلیم یافتہ شخص اور امریکہ کی انتہائی مغربی ریاست ’’سان فرانسسکو‘‘ کا ایک عام تعلیم یافتہ شخص ایک ہی طرح کے اعتراضات کرتاہے اسلام پر۔ پیرس میں جائیں، کسی سے بات کریں، وہ بھی وہی اعتراض کرے گا۔ ساؤتھ افریقہ میں جائیں تووہ بھی وہی اعتراض کرے گا۔ پاکستان میں کسی بڑے جدید تعلیمی ادارے میں جائیں ،لمز میں جائیں تو وہاں بھی اس طرح کے سوالات کیے جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ ایک ہی طرح کے سوالات اور ایک ہی طرح کے اعتراضات اور ایک طرح کے شبہات پوری دنیا میں کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ تہذیب اور وہ فکری استیلا جو مغرب سے آیا ہے، اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس استیلا کی وجہ سے وہ شبہات پیدا ہو رہے ہیں جو ہر انسان کے دل میں پیدا ہو رہے ہیں۔ اب آپ یہاں بیٹھ کے فتویٰ جاری کر دیں کہ فلاں چیز گمراہی ہے تو جو لوگ پہلے سے گمراہی سمجھتے ہیں، وہ مزید یقین سے گمراہی سمجھنے لگیں گے، لیکن جو اسے گمراہی نہیں سمجھتے، وہ آپ کے فتوے سے اسے گمراہی نہیں سمجھنے لگیں گے۔ وہ اس پہ بدستور قائم رہیں گے، جیسا کہ میں سینکڑوں مثالیں دے سکتاہوں کہ لوگ قائم رہے اور آج بھی قائم ہیں، اس لیے میری گزارش یہ ہے کہ اس دور کے محاورے کو سمجھنے کے لیے اور امام ابویوسف کا یہ جملہ میں کئی مرتبہ دہر اچکا ہوں : ’’من لم یعرف اھل زمانہٖ فھو جاہل‘‘، جو اپنے زمانے کے لوگوں کو نہیں جانتا، وہ جاہل ہے ، یعنی اس کا علم قابل اعتبار نہیں ۔ لہٰذا جس زمانے کے ماحول میں آپ دین کی تعلیم دے رہے ہیں، ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ‘‘، لسان قوم میں صرف اردو یاپنجابی یاانگریزی شامل نہیں ہے۔ لسان میں وہ پورا تہذیبی پس منظر بھی شامل ہے جو ا س زبان میں شامل ہوتاہے۔ زبان محض کوئی vehicle نہیں ہے، محض کوئی وسیلہ نہیں ہے خیالات کے انتقال کا یابیان کرنے کا۔ ہرلفظ کے پیچھے پوری تاریخ اور پوری تہذیب اور پورا فکر ہوتا ہے۔ وہ فکر اور تہذیب خود بخود اس لفظ کے ساتھ آتی ہے۔‘‘

یہ تھی ایک جھلک ڈاکٹر صاحب کے ذہنی اور فکری نقطہ نظر کی۔ 

قارئین گرامی ! اپنے بزرگوں کا تذکرہ اس غرض سے ہم اصاغر تو کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے کہ انہیں کردار و عمل کی کسوٹی پر جانچا اور کشف و کرامات کے ترازو میں تو لا جائے۔ ہرگز نہیں! بلکہ ان کے باعظمت کردار کے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر خود سے سوال کرنا مقصود ہے کہ میں اس شفاف آئینے میں کیسا لگتا ہوں ؟ اور یقین کی حدتک یہ امید تو ہے ہی کہ:

احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی الصلاحا

آپ کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا تادیر اہل علم کے زخموں کو تازہ کرتا رہے گا اور اس درد کی کسک امت مسلمہ عرصہ دراز تک محسوس کرتی رہے گی ۔ دعا ہے کہ رب العالمین اپنے خزانہ قدرت سے ہمیں آپ کا نعم البدل عطا فرمائیں۔ آمین بجاہ النبی الکریم۔

شخصیات

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان