ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے

ڈاکٹر محمد شہباز منج

تحمل، برداشت، محبت، وسیع النظری، بلند نگہی، شیریں بیانی، جذب دروں، خوداعتمادی، علم کی گہرائی و گیرائی، اپنے علمی وتہذیبی ورثے پر فخر اور دوسروں میں یہ فخر پیدا کر دینے کا ہنر، ایسا شخص آج کی اس خانماں خراب ملتِ اسلامیہ میں، خداوندِ قدوس کی نعمتِ عظمی ہی تو تھا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ عصر حاضر کے تہذیبی مزاج و نفسیات کے تناظر میں اہل اسلام کی رہنمائی اور امت کو درپیش جدید اندرونی و بیرونی اور فکری و تہذیبی چیلنجز کے مقابلہ کے لیے مطلوب اعلیٰ وژن اور اپروچ اور پختگی و ثقاہتِ علم وفکر کے حامل تھے۔ امت مرحومہ کو آج ایسے ہی مردانِ کار چاہییں مگر افسوس کہ یہ ڈھونڈے نہیں ملتے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کی رحلت سے محاورۃً نہیں واقعتا ایک غیر معمولی خلا پیدا ہو گیا ہے۔

و ماکان قیس ھلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما
’’قیس کامرنا ایک فرد کا مرنا نہیں، پوری قوم کی بنیاد کا منہدم ہو جانا ہے۔‘‘

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ڈاکٹر غازی ایسے لوگوں کوخراج تحسین تو پیش کرتے ہیں لیکن ان کے وژن اور فکر سے رہنمائی حاصل نہیں کرتے۔حالانکہ ایسے بڑے لوگوں کو بہترین خراج تحسین یہ ہوتا ہے کہ ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کر کے ان کے آدرشوں کی تکمیل کی کوشش کی جائے۔ میں یہاں ڈاکٹر صاحب کی فکر کے چند گوشوں کو سامنے لاکرملت کی تقدیربدلنے کی خواہش رکھنے والوں اور اسلام اور عالم اسلام کے بہی خواہوں کواس سے رہنمائی حاصل کرکے ڈاکٹر صاحب کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی اپنی سی کوشش کرنے کی دعوت دینا چاہتا ہوں۔

کتاب وسنت سے گہرے ربط اور ان بحر ہاے معانی میں غواصی کی ضرورت

ڈاکٹر غازی فرماتے ہیں:

’’ہمارااللہ کی کتاب اور اس کی حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے رابطہ سطحی اور رسمی سا رہ گیا ہے۔اسی لیے یہ ہم پر اپنے دروازے وا نہیں کرتے۔قرآن سے گہرے ربط کے لیے ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اقبالؒ کے توسط سے جو طریقہ بتایا ہے، وہ نوجوانان ملت کے لیے قابل تقلید ہے۔کہتے ہیں:علامہ ؒ نے لکھا ہے کہ نوجوانی کے زمانے میں میرا معمول تھا کہ فجر کی نماز کے بعدروزانہ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتا۔ایک روز تلاوت میں مشغول تھاکہ والد گرامی پاس سے گذرے اور فرمانے لگے : کیا کر رہے ہو؟میں نے عرض کیا : قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہوں۔وہ خاموش رہے اور چلے گئے۔اگلے روز پھر ایسا ہی ہوا۔یہ معاملہ کئی دن رہا ۔ایک دن میں نے عرض کیا:آپ روزانہ پوچھتے ہیں حالانکہ آپ دیکھتے ہیں کہ میں قرآن کی تلاوت کر رہا ہوں۔فرمانے لگے:دیکھو! جب تم کلام پاک پڑھا کروتو اس شعور واحساس سے کے ساتھ پڑھا کروکہ اللہ تعالیٰ براہ راست تمہی سے ہم کلام ہے۔ ؂
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف‘‘

(محاضرات قرآنی،ص۳۹)

کتاب اللہ سے ربط پیدا کرکے اس لامتناہی سمندر سے گوہر ہائے معانی نکالنے کے کتنے وسیع امکانات ہیں، اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ، ڈاکٹرحمیداللہ مرحوم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص اسلام قبول کرنے کے لیے آیا ۔ڈاکٹر حمیداللہ نے، جیسا کہ وہ اپنے پاس قبولِ اسلام کے لیے آنے والے ہر شخص سے پوچھا کرتے تھے، اُس سے سوال کیاکہ اسے اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا؟اس نے کہا:میں فرانسیسی دنیا کا سب سے بڑا اورمقبول موسیقار ہوں۔آج سے چند روز قبل مجھے ایک عرب سفیر کے ہاں کھانے کی دعوت پر جانے کا موقع ملا۔وہاں موجود لوگ ایک خاص انداز کی موسیقی سن رہے تھے۔مجھے وہ دنیائے موسیقی کی سب سے اونچی چیز محسوس ہوئی۔میری ایجاد کردہ دھنوں اور ان کے نشیب وفراز سے بھی بہت آگے کی چیز،جہاں تک پہنچنے کے لیے دنیائے موسیقی کو ابھی بہت وقت درکار ہے۔میں حیران تھا کہ آخر یہ موسیقی اوراس کی دھنیں کس نے ترتیب دیں؟میں نے لوگوں سے بار باراس سے متعلق پو چھنا چاہا لیکن انہوں نے ہر بار مجھے اشارہ سے خاموش کر دیا۔ڈاکٹر حمیداللہ فرماتے ہیں کہ اس دوران وہ موسیقی کی بعض اصطلاحات بھی استعمال کر رہا تھا ،جن سے میں واقف نہ تھا۔جب وہ موسیقی بند ہو گئی تواس کے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ موسیقی نہیں ،قرآن حکیم کی تلاوت تھی ۔ فلاں قاری صاحب تلاوت کر رہے تھے، اور موسیقی کی تو وہ ابجد سے بھی واقف نہیں۔لیکن اس کو یقین نہ آیا ۔اس کا کہنا تھا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ دھنیں کسی کی بنائی ہوئی نہ ہوں ۔اسے سمجھایا گیا کہ یہ فن تجوید وقرأت ہے۔وہ کہنے لگا :یہ فن کب ایجاد ہوا ؟ اسے بتایا گیا کہ چودہ سو سال پہلے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایسے ہی قرآن سکھایا تھا۔اس پر وہ گویا ہوا:اگر ایسے ہی ہے تو پھر بلاشبہ یہ اللہ کی کتاب ہے ۔پھر اس نے کئی جگہوں پر جاکر اور کئی قاریوں کی تلاوت سنی اور اب قرآن کے اللہ کی کتاب ہونے کا یقین حاصل کر کے مسلمان ہونے کے لیے ڈاکٹر صاحب کے سامنے تھا۔

ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اسے مسلمان کرلیااور پیرس میں زیر تعلیم ایک الجزائری مسلمان کو اس کی دینی تعلیم کے لیے مقرر کردیا۔کچھ عرصہ بعد وہ دونوں میرے پاس آئے۔الجزائری معلم نے بتایا کہ یہ قرآ ن سے متعلق کچھ شک کا اظہار کر رہا ہے۔میں نے سوچا کہ یہ جس بنیاد پر مسلمان ہوا تھا وہ بنیاد ہی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی، لہٰذا اس کے شک کا میں کیا جواب دوں گا۔ لیکن اللہ کے بھروسے پر میں نے پوچھا :بتاؤ کیا مسئلہ ہے ؟وہ موسیقار بولا:معلم صاحب نے مجھے سورہ نصر پڑھائی ہے ۔اس میں افواجا اور فسبح کے درمیان خلا ہے ۔معلوم ہوتا ہے یہاں کوئی چیز حذف ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں :ایک لمحے کو میرے پاؤ ں تلے سے زمین نکل گئی۔ دنیاے اسلام پر نگاہ دوڑائی، لیکن کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو فن تجوید اور موسیقی دونوں کا ماہر ہو اور اس کا شک دور کر سکے۔ میں چند سیکنڈ شش و پنج میں رہا، پھر اچانک اللہ نے میرے ذہن میں ایک پرانی بات ڈالی ۔بچپن میں جب مکتب میں قرآن پڑھا کرتا تھا، تو میرے معلم نے مجھے بتایا تھا کہ افواجا پر وقف نہیں کرنا بلکہ آگے ملا کر پڑھنا ہے۔ایک مرتبہ میں نے افواجا پر وقف کیا تھا تو انہوں نے مجھے سزا بھی دی تھی ۔میں نے سوچا شاید اسی بات سے اس کا شبہ دور ہو جائے۔میں نے اس سے کہا کہ آپ کے معلم تجوید کے اتنے ماہر نہیں ہیں۔دراصل یہاں لفظ افواجا کو غنہ کے ساتھ فسبح سے ملا کر پڑھا جائے گا۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سن کر وہ خوشی سے اچھل پڑا اور مجھے گود میں لے کر کمرے میں ناچنے لگااور کہا کہ واقعی ایسا ہی ہونا چاہیے ۔یہ سن کر میں نے اسے ایک اور قاری کے سپرد کر دیا ۔وہ وقتاً فوقتاً مجھ ملتا اور بہت سر دھنتا کہ واقعی یہ اللہ کی کتاب ہے۔وہ ایک اچھا مسلمان ثابت ہوا اور ایک کامیاب زند گی گزار کر ۱۹۷۰ء میں فوت ہوا۔ (محاضرات قرآنی۔ص۲۲۷۔۲۳۰)

قرآن کی اسی معجز نمائی کے حوالے سے ڈاکٹر غازی مرحوم نے فرانسیسی سائنسدان ڈاکٹر موریس بکائی کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کا بیان ہے کہ ڈاکٹر بکائی نے اپنے قرآن کی حقانیت پر ایمان لانے سے متعلق اپنے تاثرات بذات خود ان سے بیان کیے۔ نامور ہارٹ اسپیشلسٹ اور فرانس کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدرکے طور پر فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹر بکائی سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم کے ذاتی معالج تھے ۔انہیں وقتاً فوقتاً ریاض جانے کا اتفاق ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ سرکاری مہمان کے طور ریاض میں ایک ہوٹل میں قیام پذیرتھے۔ان کے کمرے میں انگریزی ترجمہ کے ساتھ قرآن مجید کا ایک نسخہ پڑا ہوا تھا۔ شاہ سے ملاقات کا انتظار تھا۔ انہوں نے وقت گزاری کے لیے اس نسخہ قرآنی کی ورق گردانی شروع کر دی۔اس سے پہلے عام عیسائیوں کی طرح انہیں بھی قرآن کو پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ اس ورق گردانی کے دوران انہیں محسوس ہوا کہ قرآن میں بعض بیانات سائنسی نوعیت کے بھی ہیں۔ایک سائنسدان اور میڈیکل ڈاکٹر ہونے کے ناطے انہیں یہ بیانات دلچسپ لگے۔انہوں نے قرآن کو باربار پڑھا اور ایسے بیانات نوٹ کر لیے۔ انہیں خیال آیاکہ اگر ایسے ہی بعض بیانا ت بائبل میں بھی ہوں اورسائنس کی روشنی میں قرآن اور بائبل کے بیانات کا تقابل کیا جائے تو ایک دلچسپ سٹڈ ی سامنے آسکتی ہے۔پیرس واپس جاکر انہوں نے بائبل سے بھی اس نوعیت کے بیانات نوٹ کر لیے ۔اب دونوں کاتقابلی مطالعہ شروع کیا۔ عیسائی ہونے کی بنا پر قرآن سے انہیں کسی نوع کی عقیدت نہ تھی۔معروضی مطالعہ کی روشنی میں وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ قرآن کے سائنسی نوعیت کے تمام بیانات سو فیصد درست جبکہ بائبل کے بہت سے بیانات غلط تھے۔ ان کی یہ تحقیقی کاوش The Bible, The Quran and Science کے نام سے سامنے آئی،جس کا دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ قرآن کی حقانیت کے اس تجربی ثبوت نے ان کو اسلام کی صداقت کو ماننے پرآماد ہ کیا اور بالآخر انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ (محاضرات حدیث،ص۴۴۹۔۴۵۰، محاضرات قرآنی،ص۴۳۔۴۴)

یہ اور اس طرح کے دیگر دلچسپ واقعات کے تذکرہ سے ڈاکٹر غازی مرحوم کا مقصود صاحبان فکر ونظر کے لیے قرآن کے بحر ناپیدا کنار میں غواصی کی تحریک و تشویق پیدا کرنا تھاکہ ؂

صد جہانِ تازہ در آیات او ست
عصرہا پیچیدہ در آیات او ست

قرآن کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کے اندر بھی معانی ومفاہیم اور امکانات کی کئی دنیائیں آباد ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے اس حوالے سے بھی بہت دلچسپ حقائق بیان کیے ہیں۔ ایک واقعہ سائنس کے طالب علموں اور جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہوگا ۔یہ واقعہ بھی ڈاکٹر صاحب مرحوم نے ڈاکٹر حمیداللہؒ سے روایت کیا ہے۔ڈاکٹر موریس بکائی نے بخاری ؒ کی سو احادیث منتخب کرکے ان کا جدیدسائنسی تحقیق کی روشنی میں جائزہ لیا۔اس جائزہ پر مبنی مقالہ شائع کرنے سے قبل وہ ڈاکٹر حمیداللہ کے پاس لائے۔انہوں نے دیکھا کہ منتخب کردہ احادیث کے سو بیانات میں سے اٹھانوے کو تو ڈاکٹر بکائی نے درست قرار دیا تھا ،لیکن دو کوغلط بتایا تھا۔ان دو بیانات میں سے ایک یہ تھا کہ جب کھانے میں کوئی مکھی گر جائے تو اس کو پورا اندر ڈبو کر نکال لو کہ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاہوتی ہے ۔جب وہ گرتی ہے تو بیماری والاحصہ کھانے میں پہلے ڈالتی ہے،تم دوسرا پر بھی ڈبو لو تا کہ شفا والا حصہ بھی کھانے میں ڈوب جائے۔ ڈاکٹر بکائی کا خیال تھا کہ مکھی کے کسی پر میں شفا نہیں ہوتی، وہ تو گندی چیز ہے ۔دوسر ی بات جو بکائی کے نزدیک غلط تھی، وہ یہ تھی کہ بنی عرینہ کے لوگوں کومدینہ میں آکر ایک بیماری لگ گئی ۔اس بیماری سے ان کے رنگ زرد ہو گئے،پیٹ پھول گئے اور ایک خاص انداز کابخارگویازردبخار ہو گیا۔حضورؐ نے ان سے فرمایا:تم مدینے سے باہر فلاں جگہ چلے جاؤ۔وہاں رہو اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو۔ڈاکٹر بکائی کا موقف تھا کہ پیشاب تو جسم کا Refuse ہے ،اس سے علاج کا تو سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ڈاکٹر حمیداللہ نے ڈاکٹر بکائی سے کہا:میں سائنسدان تو نہیں ہوں، البتہ ایک عام آدمی کے طور پر میرے کچھ شبہات ہیں، اگر آپ وہ دور کردیں تو پھر بے شک اپنی اس تحقیق کو اپنے اعتراضات کے ساتھ شائع کر دیں۔ ایک یہ کہ سائنسدان جب تجربات کرتے ہیں تو ایک تجربے کے دوبار صحیح ثابت ہونے پر اسے پچاس فیصد درجہ دیتے ہیں، تین چار مرتبہ صحیح ہونے پر اس کا درجہ بڑھ جاتا ہے، چار پانچ مرتبہ کے تجربہ کے بعد کہا جاتا ہے کہ فلاں بات سو فیصد صحیح ثابت ہوگئی، حالانکہ سو بارتجربہ نہیں کیا ہوتا۔ ڈاکٹر بکائی نے اس بات کو تسلیم کیا تو ڈاکٹر حمیداللہ نے کہا:پھر جب آپ نے صحیح بخاری کے سو میں سے اٹھانوے بیانات تجربہ کر کے درست قرار دیے ہیں تو سائنسی اصو ل کی روشنی میں آپ کو بقیہ دو بیانات بھی درست ماننے چاہییں۔ دوسری بات یہ کہ آپ انسانوں کا علاج کرتے ہیں، جانوروں کے ماہر نہیں،نہ ہی آپ کو یہ معلوم ہے کہ دنیا میں کتنی قسم کے جانور پائے جاتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ علم حیوانات میں کون کون سے شعبے اور کون کون سی ذیلی شاخیں ہیں اور ان میں کیا کیا چیزیں پڑھائی جاتی ہیں؟لیکن اگر علم حیوانات میں ’مکھیات‘ کا کوئی شعبہ ہے تو آپ اس شعبہ کے ماہر نہیں ہیں۔کیا آپ نے سروے کیا ہے کہ دنیا میں کل کتنی قسم کی مکھیاں ہیں اور کون سی مکھیاں کس موسم میں کہاں پائی جاتی ہیں؟جب تک آپ عرب میں ہر موسم میں پائی جانے والی مکھیوں کا تجربہ کر کے، ایک ایک جز کا معائنہ کرکے لیبارٹری میں چالیس پچاس سال لگا کر یہ پتہ نہ چلا لیں کہ ان میں کسی بھی مکھی کے پر میں کسی بھی قسم کی شفا نہیں ہوتی، اس وقت تک آپ یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ مکھی کے پر میں بیماری یاشفا نہیں ہوتی؟ پھر اگر آپ یہ ثابت بھی کر دیں کہ مکھی کے پر میں شفا نہیں ہوتی تو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ چودہ سو سال قبل ایسی مکھیاں نہیں ہوتی تھیں؟ ڈاکٹر بکائی نے اسے بھی درست تسلیم کر لیا۔ بکائی کے دوسرے اعتراض سے متعلق ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں بطور ایک عام آدمی کے یہ سمجھتا ہوں کہ بعض بیماریوں کا علاج تیزاب سے بھی ہوتا ہے۔ دواؤں میں ایسڈ شامل ہوتے ہیں۔جانوروں کے پیشاب میں کیا ایسڈ شامل نہیں ہوتا؟ آج کے خالص اور آپ کے بقول پاک ایسڈ کے مقابلے میں ممکن ہے عرب میں اس کارواج ہوکہ کسی نیچرل طریقہ سے لیا گیا کوئی ایسا لیکویڈ جس میں تیزاب کی ایک خاص مقدار پائی جاتی ہو، بطور علاج استعمال ہوتا ہو۔ آج سے کچھ سال پہلے میں نے ایک کتاب پڑھی تھی۔ ایک انگریز سیاح ڈاؤٹی نے ۱۹۲۵ء کے لگ بھگ عرب کی سیاحت کی اوراس کے جغرافیہ پر دو بڑی زبردست کتا بیں Arabia Deserta اور Arabia Petra تحریر کیں۔ اس نے اپنی یادداشت میں لکھا کہ جزیرہ عرب کے سفر کے دوران ایک موقع پر میں بیمار پڑ گیا۔ میرا پیٹ پھول گیا، رنگ زرد ہو گیا اور مجھے زرد بخار کی طرح کی ایک بیماری لگ گئی۔ میں نے دنیا میں جگہ جگہ اس کا علاج کروایا، کوئی افاقہ نہ ہوا۔ آخر جرمنی میں ایک بڑے ماہر ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ جہاں تمہیں یہ بیماری لگی ہے، وہاں جاؤ۔ ممکن ہے وہاں کوئی مقامی طریقہ علاج ہو۔ میں واپس عرب گیا۔ جس بدو کو میں نے خادم کے طور پر رکھا ہوا تھا، اس نے دیکھ کر کہا: یہ بیماری آپ کو کب سے ہے؟ میں نے کہا، کئی ماہ ہوگئے ہیں۔ اس نے کہا:ابھی میرے ساتھ چلیے۔وہ مجھے اونٹوں کے باڑے میں لے گیا اور کہا: آپ کچھ دن یہاں رہیں اور اونٹ کے دودھ اور پیشاب کے علاوہ کچھ نہ پییں۔ میں حیرت زدہ تھا کہ ایک ہفتے کے علاج کے بعد میں بالکل ٹھک ہو گیا ۔یہ سن کر موریس بکائی نے اپنے دونوں اعتراضات واپس لے لیے اور اپنا مقالہ ان کے بغیر ہی شائع کر دیا۔ (محاضرات حدیث، ص ۴۵۰۔۴۵۴)

اپنے تہذیبی ورثے سے آگہی

آج کا مسلمان نوجوان اپنی فکر وتہذیب سے متعلق احسا س کہتری کا شکار نظر آتا ہے۔ڈاکٹر غازی کے بقول اس کی وجہ اپنے تہذیبی ورثے سے ناواقفیت ہے۔آپ کسی بچے سے شیکسپئر کے بارے میں پوچھیں،وہ خوب بتائے گابلکہ ممکن ہے اس کے کئی شعر بھی سنادے ،لیکن مولاناروم کا شاید اسے نام بھی معلوم نہ ہو۔لہٰذا نسلِ نو کو اپنی تہذیب وتاریخ سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے ۔ڈاکٹر صاحب اس سلسلہ میں اپنے ایک جاننے والے اسپینی نو مسلم مبلغِ اسلام کے اسلام کی طرف راغب ہونے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہیں اسپینی حکومت نے۱۹۹۲ء میں سپین کے مسلمانوں کے زوال وانخلا کے حوالے سے پانچ سو سالہ جشن منانے کے سلسلہ میں یہ ٹاسک دیا کہ وہ ایک ایسی کتاب مرتب کریں جو ۱۴۹۲ء میں اسپین میں مسلمانوں کے زوال تک ان کی ناانصافیوں اور مظالم کی داستان پر مشتمل ہو۔ انہوں نے مطالعہ شروع کیا تو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ انہوں نے عربی سیکھی اور ذاتی مطالعہ سے اس نتیجے پر پہنچے کہ اسپین کی تاریخ کا سنہری اور زریں دور ہی وہ تھا جب یہاں مسلمان حکمران تھے۔علوم وفنون، اداروں کے قیام،عمارتوں کی تعمیر وغیرہ کا جو کام اہل اسلام کے دور میں ہوا، وہ نہ ان سے پہلے ہوا اور نہ بعد میں۔یوں اسلام سے دلچسپی پیدا ہوئی ۔پھر قرآن وحدیث کا مطالعہ کیا اور اسلام قبول کرکے اسپینی حکومت کا دیا گیا منصوبہ ادھورا چھوڑ کر تبلیغ اسلام میں لگ گئے۔ایسے ہی ایک امریکی نو مسلم فلسفہ کا مطالعہ کرتے کرتے اسلامی تصوف سے متعارف ہوئے اور بالآخر اسلام قبول کر لیا۔(محاضرات قرآنی،ص۸۲۔۸۴)

اختلافات میں انتہاپسندانہ رویہ سے اجتناب

ہمارے مذہبی حلقوں میں ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ علمی و فقہی اور تعبیر کے اختلاف کو کفر و اسلام کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹرصاحب نے اپنی تحریروں اور خطبات میں اس جاہلانہ رویہ سے بچنے کی تلقین کی ہے۔انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے اختلافات نہ صرف یہ کہ نقصان دہ نہیں اور ان پر لڑنے جھگڑنے کا کوئی جواز نہیں بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاہی یہ تھا۔ آنحضور ؐ نے صحابہ کو ایک سے زائد نقطہ ہائے نظر اپنانے کی تربیت دی ۔ اس سلسلہ میں وہ مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نے صحابہ کو جلد ا زجلد بنی قریظہ کے محلہ میں پہنچنے اور نمازِ عصر وہاں جا کر پڑھنے کا حکم دیا۔بعض نے یہ سمجھ کر کہ حضور ؐ کا مقصد وہاں پہنچ کر نماز عصر پڑھنے کو لازم قرار دینا نہیں تھا، بلکہ ممکن حد تک جلدی پہنچنا تھا،راستہ ہی میں نماز عصر پڑھ لی۔بعض دیگر نے دوسرا مطلب سمجھا اور وہاں پہنچنے پر نماز قضا ہوگئی ۔حضور نے کسی کو بھی غلط قرار نہ دیا اور دونوں سے کہا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ایسے ہی ایک دفعہ دو صحابہؓ کو دورانِ سفر غسل کی حاجت پیش آئی اور پانی نہ ملنے کی بنا پر انہوں نے تیمم کر کے نماز پڑھ لی۔ بعد میں پانی ملا تو ایک صاحب نے غسل کرکے نماز دہرائی جبکہ دوسر ے نے کہا کہ نماز دہرانے کی ضرورت نہیں ۔حضورؐ کی خدمت میں عرض کیا گیا تو آپؐ نے پہلے شخص سے متعلق فرمایا:تمہیں دوہرا اجر ملے گا ،اور دوسرے سے کہا:تم نے سنت کے مطابق کام کیا ۔چنانچہ صحابہؓ میں باہم اختلاف ہوتا تھا۔ایک صحابی ایک عمل کو سنت سمجھتے اور دوسرے ،دوسرے کو۔گویا شریعت کے کسی حکم کو سمجھنے اور اس کی تعبیر و تشریح میں دیانت داری سے اختلاف رائے کی پوری گنجائش موجود ہے اورحکمِ شرعی کی تفسیر میں کسی شخص کی افتادِ طبع ،مزاج اور رویے کی گہری تاثیر کا لحاظ رکھا گیا ہے۔شریعت کاعمومی و جامع نظام اپنے اندرمتنوع قسم کی چیزوں کو سمو لینے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ القصہ اسلام میں اختلافِ آرا و مسالک ایک پسندیدہ چیز اور صحت مند سرگرمی قرار پاتی ہے۔ اسی بناپر روایات میں اہل علم کے اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ا ختلافِ افکار وآرا جیسی باعث رحمت چیز کو زحمت نہ بنائیں۔(محاضرات حدیث، ص۲۵۲،۴۷۹،۴۸۰،مسلمانوں کادینی وعصری نظام تعلیم ،ص۲۴۹۔۲۵۵۔) 

شیعہ کو کافر کہنے اور کافر قرار دلوانے کی کوششوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں : ’’دیکھیے یہ بڑی غیر ذمہ داری کی باتیں ہیں ۔ایسی باتیں کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔یہ دنیائے اسلام میں ایک ٹائم بم رکھنے کے مترادف ہے ۔شیعہ حضرات آج سے نہیں،تیرہ سو برس سے چلے آرہے ہیں۔ کبھی بھی مسلمانوں نے انہیں کافر نہیں کہا۔بڑے بڑے اہل علم نے شیعہ عقائد کا مطالعہ کیا تو انہیں غلط کہا،ان پر تنقید بھی کی، ان کی کمزوریاں بھی واضح کیں، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ بات جو پچھلے پندرہ بیس سالوں سے پیدا ہوئی ہے ،اس نے دنیائے اسلام میں بڑا فساد پید ا کیا ہے۔شیعہ کے بہت سے عقائد غلط ہیں، لیکن غلط عقائد کے علمبردار ماضی میں بھی بہت رہے ہیں۔ مثلاً خوارج کے بہت سے عقائد غلط تھے ،لیکن کسی نے ان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا۔ابو بکرؓ و عمرؓ کی خلافت کا انکار کرنے والے پہلی صدی میں بھی تھے ،لیکن انہیں کافر نہیں کہا گیا۔کسی کی خلافت کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔قرآن میں کہیں یہ حکم نہیں دیا گیاکہ اے مسلمانو! ابو بکر و عمرؓ کو خلیفہ مانو۔جو شخص ان جلیل القدر صحابہؓ کی خلافت کا انکار کرتا ہے،وہ ایک امرِ واقعہ کا انکار کرتا ہے۔اگر کوئی انکار کرے کہ سورج نہیں نکلا ہوا تو یہ امر واقعہ کا انکار ہو گااور امر واقعہ کے انکار سے کوئی کافر نہیں ہوجائے گا ۔اسے بیوقوف یا جاہل کہہ سکتے ہیں۔ بیوقوف اور جاہل ہونا الگ بات ہے اور کافر ہونا الگ بات۔‘‘ (محاضرات فقہ، ص ۵۵۴) 

پاکستان میں مذہبی تحزب وتشددکے محرکات اور اس سے نجات کی راہ

پاکستان میں مذہبی تحزب وتشدد ایک بہت بڑا ناسور ہے۔ڈاکٹر غازی مرحوم نے ایک بالغ نظر عالم کی حیثیت سے اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کے ظہور وشیوع کے محرکات کی نشاندہی اور اس سے بچنے کی راہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔ان کے مطابق انگریزی استعمار نے مسلمانوں کے مسلکی اختلافات کو ان کی قوت کمزو ر کرنے کے لیے استعمال کیا۔۱۹۷۰ء میں مسلکی اختلافات انتخابی میدان میں داخل ہوئے ،انتخابی رنجشوں نے مسلکی اختلافات کی زبان اور محاورہ اپنایااور یوں بتدریج یہ چیزمسلمانوں کی تقسیم در تقسیم کا ایک خود کار ذریعہ بن گئی۔ مذہبی تشدد وتحزب کے جراثیم ۱۹۸۰ء کے عشرے میں پیدا ہوئے اور ۱۹۹۰ء کے عشرے کے آغاز میں اس مذہبی تحزب وتشدد اور دہشت گردی نے ایک عفریت کی شکل اختیار کر لی۔اس کے اسباب میں اندرون ملک کی سیاسی،معاشرتی اورمعاشی پالیسیاں اور خطے کی دیگر قوتوں کی پالیسیاں شامل ہیں۔مخصوص مذہبی عقائد کی اشاعت میں غیر ضروری سختی،بعض مذہبی سیاسی تصورات کو بزورِ بازو برآمد کرنے کی کوشش اور بعض اقلیتی خیالات وتصورات کی غیر ملکی سرپرستی،وہ چیزیں ہیں جنہوں نے صورت حال کو کشیدہ بنا دیا اورمتعدد تشدد پسند گروہ اٹھ کھڑے ہوئے۔بیرون پاکستان کی متحارب قوتوں نے اپنے آپس کے اختلافات کوپاکستان برآمد کر دیااور اپنے اپنے حامیوں کی مدد سے اپنی ذاتی جنگ پاکستان کی سر زمین پر لڑنی شروع کر دی۔اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمیں اپنے دینی معاملات کو خود طے کرنا چاہیے اور غیر پاکستانی عناصر کو پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دینا چاہیے۔ جس طرح غیر مسلم قوتوں کا پاکستانی سرزمین کو حربی وعسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا غلط ہے، دوسری مسلم قوتوں کا اپنے سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے ہماری زمین کو استعمال کرنا بھی غلط ہونا چاہیے۔ (مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم،ص۲۵۰۔۲۵۱،۲۵۶)

دینی تناظر میں عصری تعلیمی تقاضے

ڈاکٹر غازی مرحوم اسلامی اور جدید مغربی ہر دو علوم میں گہری بصیرت کے مالک تھے، اورجدید مسائل کو دینی تناظر میں ماہرانہ انداز سے حل کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے قابل قدر خدمات بھی سر انجام دیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ کام کسی ایک یامعدودے چند اہل علم نہیں، اہل علم کی معتد بہ تعدادکا متقاضی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے اس تقاضے کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے اس کی طرف بھرپور توجہ دلائی ۔وہ عصری ودینی تعلیمی نظام کو بانجھ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تحقیق وجستجو کا ذوق نہ عصری جامعات کے فضلا میں ہے اور نہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل حضرات میں۔ اس لیے کہ تعلیم کے مقاصد واہداف ہر دو جگہ پر واضح نہیں۔یہاں ملازمت کا حصول مقصد ہے اور وہاں امامت وخطابت کا۔بلکہ مدارس کے طلبہ کو اس حوالے سے یک گونہ برتری حاصل ہے کہ اگر کسی موجودہ مسجد میں امامت وخطابت میسر نہ ہوتو اس مقصد کے لیے جہاں بس چلے،نئی مسجد کھڑی کی جاسکتی ہے اور پھر اس نئی مسجد کے وجود کا جواز پیدا کرنے کے لیے فقہی اور مسلکی حوالوں کو بہ سہولت مدد کے لیے پکاراجا سکتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دینی مدارس بالعموم جو فاضلین تیا کرتے ہیں، وہ دین کوموجودہ زندگی اور روز مرہ معاملات سے متعلق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔وہ جدید مسائل کو حل کرنا تو درکنار ان کو سمجھنے سے بھی قاصر ہوتے ہیں۔مثلاً ان سے پوچھا جائے کہ شیئرز مارکیٹ میں پیسا لگانا جائز ہے یا نہیں تو ان میں سے اکثر یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ شیئرز کہتے کس کو ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس میں انہیں جو مسائل سکھائے جاتے ہیں، وہ اور ہی قسم کے مسائل ہوتے ہیں۔چنانچہ امام صاحبان سوسائٹی میں پہنچ کرجب اپنے سیکھے ہوئے مسائل کو معاشرے سے غیر متعلق پاتے ہیں تووہ مسائل پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے اپنے مسائل ہوتے ہیں، مثلاً یہ کہ حضورؐ نور تھے یابشر۔ اب بیچارے عوام جن کو ان مسائل سے کوئی سروکار ہوتا ہے اور نہ ان کاعلم اور نہ ہی یہ دینی حوالے سے ان کی کسی قسم کی ضرورت ہوتے ہیں، ان مسائل میں پھنسا دیے جاتے ہیں۔ایک طرف کے حضرات اپنا زور بیان حضورؐ کو نور اور دوسرے بشر ثابت کرنے پر صرف کرنے میں جت جاتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان رہنمایانِ دین کو دینی تعلیم سے اس انداز میں بہرہ ور کیا جائے کہ وہ روز مرہ اور عام پیش آمدہ جدید مسائل میں لوگوں کی دینی رہنمائی کے اہل ہو سکیں۔ یہ تو ائمہ مساجد کی عام سطح کا معاملہ ہے۔جہاں تک ملک و ملت کو وسیع پیمانے پر جدید تناظر میں دینی حوالے سے محققانہ اور قائدانہ رہنمائی فراہم کرنے کا سوال ہے تو اس کے لیے ایسے اہل علم تیار کرنے کی ضرورت ہے جو اسلامی علوم میں گہری بصیرت کے ساتھ ساتھ جدید عمرانی و انسانی علوم میں بھی ماہرانہ دستگاہ رکھتے ہوں۔حیرت ہے کہ بعض روایتی اہل علم علما کو جدید علوم سکھانے پر معترض ہوتے ہیں ۔یہ لوگ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ یونانی فلسفہ و منطق پر مبنی مباحث آج تک مدارس میں پڑھائے جا رہے ہیں ،حالانکہ نہ صرف یہ کہ آج ان کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ قرونِ وسطیٰ میں بھی مسلمانوں میں کسی واقعی مجبوری کے بجائے محض علمی ذوق کی بنا پر رائج ہوئے،جبکہ جدید عمرانی وانسانی علوم نہ صرف یہ کہ آج انتہائی ضروری ہیں بلکہ مسلمانوں کو درپیش جدید چیلنجز کے تناظر میں واقعی مجبوری کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اسلام میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے الگ الگ ہونے کا کوئی تصور نہیں۔یہ مغربی سیکولرزم کے باقیات و اثرات میں سے ہے۔مسلمانوں کے دورِ عروج میں ان کا نظام تعلیم ان کی دین اور دنیا دونوں کی ضروریات پوری کرتا تھا۔آج مغربی اثرات کے نتیجے میں دینی اور دنیوی ضروریات کے لیے الگ الگ تعلیمی دھارے وجود میں آگئے ہیں ۔ہمارے مذہبی حلقے اس کو عملاً تسلیم کر بیٹھے ہیں،حالانکہ اسلام کا آئیڈیل نظام تعلیم وہ ہے جس کے ذریعے ایسے رجال کار سامنے آئیں جو مختلف شعبہ ہاے زندگی میں کارہاے نمایاں سر انجام دینے کی اہلیت رکھتے ہوں۔اسلامی نظام تعلیم کو دین ودنیا کی جامعیت کا یوں آئینہ دار ہونا چاہیے کہ ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے کوئی مجدد الف ثانی جیسا( ہندوستان کا سب سے بڑا مذہبی عبقری کہلانے والا) عالم ہو، کوئی سعداللہ خان ایسا (مغلیہ عہد میں موجودہ ہندوستان، موجودہ افغانستان،موجودہ پاکستان ،موجودہ بنگلہ دیش،موجودہ سری لنکا اور موجودہ نیپال،کم ازکم چھ ملکوں کی وزارت عظمیٰ کو چالیس تک کامیابی سے چلانے والامدبر) سیاستدان ہو اور کوئی استاد احمد معمار جیسا( تاج محل ایسادنیا کے سات عجائبات میں سے نمایاں عجوبہ تیار کر دینے والا) انجینئر ہو۔ (مسلمانوں کا دینی وعصری نظام تعلیم،ص ۵۶،۵۷،۱۶۸،مغرب کا فکری و تہذیبی چیلنج اور علما ء کی ذمہ داریاں، ص۱۲۔۳۴)

تبلیغ و دعوت میں دین،شریعت وفقہ اورذوق کالحاظ رکھنے کی ضرورت

یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں توحیدو وحدت کے علمبردار دین کے نام پر جو تبلیغ وتلقین ہورہی ہے،وہ سوسائٹی کو متحد کرنے کی بجائے اسے مسلکوں اور فرقوں کے نام پر مختلف حصوں میں بانٹ رہی ہے ۔ سارے مبلغین اس حقیقت کو تسلیم کرتے بلکہ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ تعلیم وتبلیغِ دین مسلم معاشرہ میں وحدت کی ضامن ہے، لیکن ان کی کاوشوں کا نتیجہ بالکل الٹ برآمد ہو رہا ہے ۔ یہ امرواقعہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ تبلیغ و دعوت کا کام غلط نہج پر ہورہا ہے۔ ڈاکٹر غازی علیہ الرحمۃ نے اس مرض کی تشخیص کرتے ہوئے تبلیغ ودعوت دین سے متعلق لوگوں کے لیے ایک نہایت خوبصورت نسخہ تجویز کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے ہمارے ہاں اتحاد کی بجائے انتشار کے سامنے آنے کا سبب اسلام کی تعلیم کے حوالے سے مسلکی آرا اور فقہی اجتہادات پرزوردیاجاناہے۔ ان کے مطابق اسلام کے حوالے سے اہل مذہب کی ذمہ داریوں کی مختلف سطحیں ہیں۔ان سطحوں کا لحاظ کیے بغیر مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔یہ سطحیں دین،شریعت وفقہ اور ذوق کی ہیں۔ جہاں تک غیر مسلموں اور دین سے برگشتہ مسلمانوں میں تبلیغ کاتعلق ہے تو وہ دین ہی کی ہونا چاہیے،اس لیے کہ تبلیغ ہمیشہ دین ہی کی ہوتی ہے۔آپ نے اسلامی ادب میں کسی بھی جگہ تبلیغِ شریعت یاتبلیغِ فقہ کالفظ نہیں پڑھا ہوگا۔دین سے مراد دین کی بنیادی اساسات یعنی توحید ،رسالت اورآخرت اوران کے مقتضیات پر ایمان اور مکارمِ اخلاق ہے ۔یہ چیز ہمیشہ اور تمام اقوام وملل میں ایک سی رہی ہے۔صحابہ کرامؓ دنیا کے گوشے گوشے میں گئے، لیکن ہر جگہ دین ہی کی تبلیغ کی ۔ان کے پیش نظر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ،حضور ؐ کی نبوت ،روزآخرت کی جزا وسزا اور مکارم اخلاق کی تعلیم رہی ۔کہیں بھی کسی نے لوگوں کوکسی فقہی یاکلامی رائے یا مسلک کی طرف نہیں بلایا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان میں فقہی اور کلامی حوالوں سے باہم کوئی اختلاف رائے موجود نہ تھا۔یہ اختلاف واضح طور پر موجود تھا لیکن اسے دعوت و تبلیغ کا موضوع نہیں بنایا گیا۔ اس لیے کہ یہ چیز تحقیق ،فتویٰ اور فہمِ شریعت کے ذیل کی ہے اور دین کے بعد کا مرحلہ ہے۔ایک صاحب علم اپنے فہم وتحقیق کے مطابق کسی فقہی وکلامی معاملہ میں ایک رائے کو زیادہ صحیح قرار دے گااور دوسرا ،دوسری کو۔یہ چیزصحابہ میں بھی موجود تھی، ائمہ سلف میں بھی موجود رہی اورآئندہ بھی موجود رہے گی ۔لیکن یہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق سے وابستہ لوگوں کے حلقہ تک محدود رہے گی۔یہ نہ عمومی اور ابتدائی تعلیم کا موضوع ہے اور نہ تبلیغ و دعوت کا۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی فقیہِ اسلام نے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا ہو کہ اے عراق والو! خبرداراحمد بن حنبل ؒ کی فلاں تحقیق غلط ہے ،اس کی بات مت ماننا۔ان حضرات نے اعلیٰ فنی اور تحقیقی موضوعات کو تحقیق کے دائرے تک محدود رکھااور دعوت ،جب بھی دی، دین ہی کی دی۔بنابریں تحقیقی معاملات میں ایک سے زیادہ آرا کی صورت میں عوام الناس محققین کی طرف رجوع کریں گے اور جس صاحب علم و تقویٰ کی تحقیق سے انہیں اتفاق ہوگا، اس کی تحقیق کو قبول کرلیں گے۔تحقیق کے بعد ایک اور چیز کسی صاحب علم کا ذوق ہے۔ اسلام نے کسی شخص کے ذوق کو ختم نہیں کیا۔صحابہ میں بھی ہر ذوق کے لوگ موجود تھے، ائمہ سلف میں بھی رہے اورآئندہ بھی موجود رہیں گے۔ بعض اوقات کسی دینی شخصیت کا ایک خاص مزاج بن جاتا ہے۔ اس شخصیت کے ماننے والے اس کے ذوق کی پیروی کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں،لیکن اگر اس ذوق کو دین بنا دیا جائے اوردین کی طرح اس کی تبلیغ شروع کر دی جائے تو یہ چیز فساد کا موجب ہو گی۔ذوق تو کسی صحابی کا بھی واجب التعمیل نہیں حتیٰ کہ حضورؐ کے ذاتی ذوق کے بارے میں بھی وضاحت کر دی گئی کہ جس کا جی چاہے، اختیار کرے اور جس کا جی چاہے، اختیار نہ کرے۔مثلاً ایک مرتبہ حضور ؐ دستر خوان پر تشریف فرما تھے۔وہاں کوئی خاص قسم کا گوشت پیش کیا گیا۔آپؐ نے اس سے اجتناب کیا اور یہ عذر فرمایا کہ میرا ذوق اس کو کھانے کی اجازت نہیں دیتا،لیکن صحابہ کو آپ نے منع نہیں فرمایا۔چنانچہ انہوں نے اپنے ذوق کے مطابق گوشت تناول فرمایا۔

امت کی وحدت نص قرآنی سے ثابت ہے۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ اور متعدد آیات میں اس کا تاکیدی حکم آیا ہے ۔حضرت ابراہیم نے دعا مانگی: ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک ۔تو جو امت قرآن مجید کی نص سے، حضرت ابراہیم کی دعا سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شب و روز کی محنت سے قائم ہوئی ہے، جس کی وحدت اور حفاظت کی دعائیں حضورؐ نے راتوں کو جاگ کر فرمائی ہیں ،کیا اس کی وحدت کوزید ،عمر ،بکر کی رائے بنا پر افتراق و انتشار میں مبتلا کر دیا جائے؟یہ سراسر شریعت کے مزاج کے خلاف ہے اور یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہم نے دعوت، تعلیم، تحقیق اور ذوق کو آپس میں خلط ملط کر دیا ہے۔جو شخص تحقیق اور ذوق کی دعوت دے رہا ہے ،وہ حضورؐ اور صحابہؓ کے عمل کی مخالفت کر رہا ہے۔ یہ امر کس قدر افسوسناک ہے کہ لوگ قرآن کی بجائے تراجم قرآن اور رسول ؐ واصحاب رسولؓ کے طرز عمل کی بجائے اپنے اپنے ممدوح علما کے مسالک و مشارب کی دعوت دیتے ہیں ۔اس پر مستزاد یہ کہ اپنے اپنے ممدوح علما سے اختلاف کو کفر و نفاق تک پہنچانے میں ذرا تامل نہیں کرتے۔ لوگوں نے قرآن کو مختلف ترجموں اور تفاسیر کی تنگنائیوں میں محدود کر ڈالا ہے،حالانکہ کوئی کتنا ہی بڑا انسان ہو،حتیٰ کہ عمر فاروقؓ ایسا جلیل القدر صحابی ہی کیوں نہ ہو ،اس سے قرآن کی تعبیر میں غلطی ہو سکتی ہے۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے محسوس کیا کہ لوگ مہر مقرر کرنے میں بہت اسراف سے کام لینے لگے ہیں اور اسے بڑائی کی دلیل سمجھا جانے لگاہے،لہٰذا اس پر قدغن لگانی چاہیے۔انہوں نے مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ آج کے بعد مہر کی ایک خاص مقدار مقرر کر دی گئی ہے اور کوئی شخص اس سے زیادہ مہر نہ رکھے ۔بڑے بڑے جید صحابہؓ موجود تھے،سب نے اس فیصلہ کو درست قرار دیا۔نماز سے فارغ ہو کر حضرت عمرؓ باہر نکلے تو ایک بوڑھی خاتون ملیں اور حضرت عمرؓ سے کہا: تم نے جو مہر مقرر کیا ہے ،وہ بالکل غلط ہے ۔تم قرآن کو نہیں سمجھتے ۔قرآن مجید میں تو آیا ہے کہ اگرتم نے عورت کودولت کا ایک ڈھیر بھی دے دیا ہو توبھی واپس مت لو۔گویا دولت کا ڈھیر بھی مہر ہو سکتا ہے۔لہٰذا تم کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس مقررہ مقدار سے زیادہ مہر نہ باندھا جائے ؟حضرت عمرؓ نے ایک لمحے کو سوچا۔مسجد میں آئے، لوگوں کو بلایا اور منبر پر چڑ ھ کر فرمایا: اخطا عمر واصابت امرأۃ۔ ’’عمر نے غلطی کی اور ایک عورت نے سچ کہا۔‘‘ میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ یہ عمرؓ وہ تھے جو خلیفہ راشد تھے۔حضورؐ کے جانشین تھے۔قرآن مجید کی ۱۷ آیات جن کی توقع اور اندازہ کے مطابق نازل ہوئیں۔حضورؐ نے بارہا جن کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کی تائید فرمائی۔اس کے بر عکس آج کا کوئی مذہبی لیڈر، مولوی یا پیر ہوتا تو بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ اعتراض کرنے والی عورت کو ڈانٹ کر خاموش کر دیتا۔اگر عمرؓ ایسے مقام و مرتبہ کے حامل شخص سے غلطی ہو سکتی ہے اور وہ علی الاعلان اس کا اعتراف کر سکتے ہیں تو اور کون کس شمار وقطار میں ہے؟مگر ہمارے ہاں یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ عمر فاروقؓ سے غلطی ہو گئی ،امام شافعیؒ اور امام مالکؒ سے غلطی ہو گئی، ہماری دینی درسگاہوں میں روزانہ یہ تنقیدی تبصرے ہوتے رہتے ہیں ،لیکن یہ کہنے کی کسی کی مجال نہیں کہ مولانا تھانوی سے غلطی ہو گئی ،مولانا مودودی سے غلطی ہو گئی یا مولانا احمد رضا خان سے غلطی ہو گئی۔کوئی ذرا یہ جرات کرکے تو دیکھے!ان کے مریدین سر توڑ دیں گے اور اسلام سے خارج کر کے دم لیں گے۔ (محاضرات قرآنی، ص ۳۸۰۔۴۰۱، محاضرات سیرت، ص ۷۵۳)

مقصودِ اصلی حکومت کا قیام نہیں، معاشرہ کی اصلاح ہے

ہمارے ہاں بہت سے اہل مذہب اپنی تمام تر توانائیاں حکومت کے حصول میں صرف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اوراسلامی خطوط پر اصلاحِ معاشرہ کی بنیادی ذمہ داری سے غفلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔یہ رویہ معاشرے اور ریاست ہر دو کی اسلامی تشکیل میں سدِ راہ ہے۔ ڈاکٹر غازی ؒ نے اہل مذہب کو مذہبی خطوط پر معاشرہ کی تعمیر کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا اور اس با ت پر زور دیا ہے کہ اسلام میں اصلاح کی ترتیب اوپر سے نیچے کی بجائے نیچے سے اوپر کی طرف ہے۔حکومت مسلمانوں کا مقصود اصلی نہیں۔قرآن مجید میں کہیں بھی مسلمانوں سے یہ نہیں کہا گیا کہ اے مسلمانو!تم حکومت قائم کرو ،بلکہ امت قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ تم میں ایک ایسی امت ہونا چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے اور برائی سے روکے ۔ہاں اس کام میں اگر حکومت رکاوٹ بنتی ہے تو اس کی اصلاح کرواور اگر اللہ تم میں سے کسی کو حکومت عطا فرما دے تووہ اسے اسلام کے مطابق چلائے ۔شریعت کی اصطلاح میں ایک ’’ مطلوب لعینہ‘‘ ہوتا ہے اور ایک’’ مطلوب لغیرہ‘‘، یعنی ایک چیز بذات خود مقصد ہوتی اور دوسری حصول مقصد کا ذریعہ۔اسلام کے نقطہ نظر سے حکومت مقصود لعینہ نہیں، مقصود لغیرہ ہے۔ریاست شریعت کی ضرورت ہے ،لیکن ریاست اور شریعت لازم و ملزوم نہیں۔ کیا امریکہ میں جو مسلمان رہتے ہیں،وہ اسلام پر عمل نہیں کر رہے؟کیا فتح مکہ سے پہلے مکہ میں رہنے والے مسلمان شریعت پر عمل نہیں کرتے تھے؟کیا حبشہ میں ہجرت کر کے جانے والے مسلمان شریعت پر عمل نہیں کر رہے تھے؟شریعت پر عمل ریاست کے بغیر بھی ممکن ہے ۔ہاں البتہ شریعت کی ریاستی ذمہ داریاں ریاست کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں اور اسی اعتبار سے مکمل اسلامی احکام کے مطابق اسلامی ریاست کا قیام ہم سب کی آرزو ہے، لیکن اس آرزو کی تکمیل کے لیے پھر سوسائٹی ہی کی اصلاح کو فوکس کرنا لابدی ٹھہرتا ہے۔ ریاست اسی وقت اسلامی بن سکے گی جب معاشرہ اسلامی ہو گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ معاشرہ کے افراد کی اکثریت اسلام سے بے بہرہ ہو،عبادات کی پابند نہ ہو، چوری، بدکاری جھوٹ اور دیگر جرائم میں مبتلا ہو اور حکومت حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ جیسی قائم ہو جائے۔ کسی نے حضرت علیؓ سے پوچھا:کیا وجہ ہے کہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں بہت امن تھا، مگر آپ کے دور میں بدامنی ہے؟انہوں نے فرمایا :اس لیے کے وہ میرے جیسے لوگوں پر حاکم تھے اورمیں تم جیسے لوگوں پر حاکم ہوں۔ (محاضرات سیرت، ص۳۷۲،۳۷۴،۳۸۲ وغیرہ)

غیر مطلوب اور بے فائدہ مذہبی مباحث سے احتراز

اسلام مسلمانوں میں جو رویے پیدا کرنا چاہتا ہے ،ان میں ایک نہایت اہم رویہ مذہب کے حوالے سے ایسے مباحث سے احتراز ہے جن کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہ ہو،لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے نہ صرف یہ کہ ایسے بے فائدہ اور غیر مطلوب مباحث سے احتراز نہیں کیا جاتا بلکہ الٹا انہی کو مرکزِ بحث و نظر اور شناختِ ایمان بنا لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم نے اس افسوسناک رویہ کو ترک کرنے پر زور دیا ہے ۔ٍ حضور ؐ کے علم سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ ایک غیر ضروری اور بے فائدہ سوال ہے ۔ہمیں ایسے سوالات پر اپنا وقت ضائع کرنے سے بچنا چاہیے۔قیامت کے روز ہم سے حضور ؐ کے احکامات اور آپ کی سیرت کے مطابق عمل کے بارے میں پوچھا جائے گا، حضور کے علم کی کوانٹٹی سے متعلق ہر گز سوال نہیں ہو گا ۔مذکورہ سوال کی لغویت کو منطقی اعتبار سے واضح کرتے ہو ئے فرماتے ہیں کہ حضورؐ کے علم کا تقابل عام انسانوں سے کوئی فضول شخص ہی کر سکتا ہے،کیونکہ عام انسانوں کے مقابلہ میں حضور کے علم کی کوئی انتہا ہی نہیں اور اللہ تعالیٰ اور حضو ر کے علم کا تقابل اس اعتبار سے بے فائدہ مشغلہ ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں حضور کے علم کا محدود ہونا ظاہر وباہر ہے۔کسی شخص کے پاس کوئی پیمانہ نہیں کہ وہ آپ کو بتا سکے کہ حضور کے پاس اتنا علم تھا۔ہم میں سے کوئی بھی اس کے علاوہ کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ حضور کے پاس غیب کا اتنا علم تھا جتنا اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔گویاایسے سوالات بحث و نظر کا موضوع ہی نہیں ہونا چاہییں۔جب کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ انسانی بساط ہی میں نہ ہو تو اس پر بحث چہ معنی دارد؟(محاضرات سیرت، ص ۵۱۱، ۵۷۶ وغیرہ) 

خذ ماصفا ودع ماکدر کا رویہ

ہمارے مذہبی حلقوں کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جس کے ساتھ عقیدت اورفکری وابستگی ہے ،اس کی تو ہر کمزور سے کمزور چیز بھی صحیح اور لائقِ تقلید ہے اور جس سے یہ وابستگی و عقیدت نہیں، اس کا اچھے سے اچھا کام بھی ناقابلِ التفات۔یہی نہیں بلکہ اپنے فکری رہبر کی غلط سے غلط بات کے دفاع میں اور دوسرے کی صحیح سے صحیح بات کی تردید میں ’خود بدلتے نہیں قرآں کوبدل دیتے ہیں‘ کامصداق بن جاتے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے خذ ما صفا ودع ما کدر کا رویہ اپنانے پر زور دیا ہے ۔ایک خطبہ میں ڈاکٹر صاحب نے سیرت سے متعلق سر سیدکی خدمات کا تذکرہ کیا تو لوگوں نے سر سید کی تجدد پسندانہ تعبیرات کی بنا پر مذہبی حلقوں میں ان سے متعلق پائی جانے والی ناپسندیدگی کے تناظر میں ان سے بہت سے سوالات کیے۔ ان سوالات کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ ہمارے ہاںیہ روایت بن گئی ہے کہ یا تو ہر چیز کو بالکل منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے یا بالکل عقیدت مندانہ انداز میں۔ضروری نہیں کہ کسی شخص کی ایک بات سے آپ متفق ہوں تو اس کی بقیہ تمام باتوں سے بھی آپ اتفاق کریںیا اگر ایک سے اختلاف ہے تو بقیہ سب باتوں سے بھی اختلاف کریں۔یہ رویہ ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔سر سید کی بہت سی باتوں سے مجھے اتفاق نہیں ہے ۔ان کی بہت سی باتیں مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ تھیں۔لیکن ان کی مثبت باتوں اور مسلمانوں کے لیے خدمات کو سراہنے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔ کسی سے اتفاق کی صورت میں اس کے ہررطب ویا بس کو درست مان لینے اور اختلاف کی صورت میں ہر بات کا انکار کر دینے کا کوئی جواز نہیں۔ (محاضرات سیرت،ص۶۳۲،۶۳۹،۶۴۰)

ایک نئی اور عالمگیرفقہ کی تشکیل کی ضرورت اور اجتہاد وتقلید کی حقیقت

نئے زمانے کی ضروریات کے مطابق ایک نئی فقہ کی تشکیل کے بغیر اسلام کے عالمگیر کردار کا خواب شرمندۂ معنی نہیں ہوسکتا۔حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے بھی اس پر بہت زور دیا تھا۔ڈاکٹر غازی ؒ نے بھی اس کی طرف خصوصی توجہ دلائی ہے۔ان کے مطابق آج کا دور بین الاقوامیت کا دور ہے۔اسلامی عالمگیریت کے لیے نا گزیر ہے کہ ایک نئی اور عالمگیر فقہ تشکیل دی جائے۔اس فقہ کو Cosmopliton Fiqh یا Globalized Fiqh کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس فقہ کی تدوین کے لیے ہمیں قدیم اسلامی روایت کے ساتھ گہری اور مضبوط وابستگی کے ساتھ ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مفید تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے جدید دور میں عالمگیریت کے مسائل کی بنیادی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر دور میں بعض اہم فکری مسائل اور تہذیبی معاملات ایسے ہوتے ہیں ،جو کسی وجہ سے خصوصی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں ۔مثال کے طور پر بیسویں صدی کے نصف اول میں اسلامی اور غیر اسلامی، ہر فکر، ریاست وسیاست پر مرتکز تھی ۔اس زمانہ کے تمام مفکرین اسلام اسلامی ریاست اور اسلامی سیاست پر لکھ رہے تھے۔ بیسویں صدی کے نصف دوم میں ریاست اور سیاست کی مرکزیت کم ہوگئی اور اقتصادیات و مالیات کی مرکزیت نمایاں ہو گئی ۔چنانچہ فکر اسلامی کا اہم موضوع سیاست اور ریاست کی بجائے اقتصادیات و مالیات کے مضامین قرار پائے۔آئندہ پچاس سال میں، ایسامعلوم ہوتا ہے کہ عالمگیریت اور اس کے مسائل اور گلوبلائزیشن اور اس کے مسائل،فکر کے بنیادی مسائل ہوں گے۔لہٰذا ہماری ذمہ داری، آئندہ چندعشروں میں، یہ ہے کہ ہم عالمگیریت کی فکری واخلاقی اساس کا تعین کرنے میں دنیا کی رہنمائی کریں اور دنیا کو مذہب اور معاشرے، مذہب اور تہذیب، مذہب اور ریاست اورمذہب اور معیشت کا بھولا ہواسبق دوبارہ یاد دلائیں۔یہ کام چونکہ اجتہاد کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ڈاکٹر صاحب نے اجتہاد پر بھی خصوصیت سے زور دیا اور اس کا ختم نبوت سے قریبی تعلق بتایا ہے۔ لیکن اجتہاد کے حوالے بعض لوگ اس غلط فہمی کاشکار ہوجاتے ہیں کہ یہ ائمہ فقہ کے اجتہادات سے بغاوت کی راہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس غلط فہمی کے ازالہ کی خاطر اجتہاد کی اہمیت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اجتہاد اور تقلید کی حقیقت بھی واضح فرمائی ہے۔لکھتے ہیں کہ بعض اعتبارات سے تقلید کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص دین کا تفصیلی علم حاصل نہ کر سکے یا نہ کرے(کہ شریعت نے اسے سب پر لازم قرار نہیں دیا)تواس کے لیے شریعت کے مختلف فیہ امور میں اس کے سوا کوئی سبیل نہیں کہ جس کے علم وتقویٰ پر اسے اعتماد ہو، اس کے اجتہادات کے مطابق عمل کرے۔ ایسی تقلید ہمیشہ رہی اور ہمیشہ رہے گی۔یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی سائنس سے ناواقف شخص کسی سائنسی معاملے میں کسی ایسے سائنسدان کی رائے کو تسلیم کرے جس کے سائنسی علم پر اسے بھروسہ ہویا کوئی معاشی معاملات سے بے خبرشخص کسی ایسے ماہر معاشیات کی رائے پر اعتمادکرے جس کے معاشی علم اور مہارت پر اسے اعتماد ہو، لیکن اس تقلیدکا تعلق روزمرہ زندگی اور معاشرے کی اسلامی اساس اور اس کے تسلسل سے ہے۔ مستقبل کی تشکیل اور نقشہ کشی، نئے چیلنجز کا سامنا کرنے، نئے مسائل کو حل کرنے، نئی مشکلات کا دور کرنے اور نئے سوالات کے جوابات کے لیے جرأت مندانہ اجتہاد ناگزیر ہے۔ لہٰذا اہل علم وبصیرت کو آگے بڑھ کر اسلام کے عالمگیر کردار کے لیے وہ تمام تد ابیر اختیار کرنا چاہییں،جن کا شریعت میں حکم دیا گیا ہے۔ان تدابیر کے لیے نئے نئے ادارے بھی بنائے جائیں اورماضی کے اداروں کا احیا بھی کیا جائے ۔شریعت نے نہ ماضی کے کسی ادارے اور تجربے کو جوں کا توں اختیار کرنے کا حکم دیاہے اور نہ غیر ضروری طور پر کسی نئے ادارے یا تجربے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔اس لیے کہ شریعت کا اصل زور مقاصد واہداف اور نصوص کی تعمیل پر ہے نہ کہ وسائل و ذرائع پر۔(محاضرات شریعت،ص۵۴۰۔۵۵۲)

ڈاکٹر غازی مرحوم کے افکار ونظریات کے بہت سے گوشوں میں سے صرف چند گوشے یہاں پیش کیے جا سکے ہیں، لیکن ان سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مرحوم کس قدر اتھاہ وژن،عمیق فکر ،گہری بصیرت اور وسیع علم کے حامل تھے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے افکار سے رہنمائی حاصل کرکے ان کے امت مسلمہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب کو شرمندۂ معنی کرنے کی سعی کی توفیق عطافرمائے۔ قضا وقدر کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر صاحب کوکچھ مزید مہلت ملتی تووہ اس امت مرحومہ کے لیے وہ کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے جس کاخواب دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ فکر کی تنگنائیوں کو پہنائیوں میں بدلنے، بے مایہ کو گراں مایہ کرنے، قطرے کو گہر کرنے اور اپنے افکارِ تازہ سے جہانِ تازہ تخلیق کرنے کی اہلیت کے مالک تھے۔ شاید اسی احساس کے تحت انہوں نے عرفی کی زبان میں کہا تھا:

من از گل باغ می جویم تو گل از باغ می جوی
من آتش از دخاں بینم تو از آتش دخاں بینی
’’میں پھول سے باغ بنانا چاہتا ہوں اور تم باغ سے پھول تلاش کرتے ہو۔ میں دھویں سے آگ کا پتہ چلا لیتا ہوں اور تم آگ کو دیکھ کر دھویں کا وجود معلوم کرتے ہو۔‘‘

شخصیات

(جنوری و فروری ۲۰۱۱ء)

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

Flag Counter