کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار

محمد سلیمان اسدی

برصغیر پاک وہند کی سرزمین پر گزشتہ دو اڑھائی صدیوں میں بعض ایسی نابغہ روزگار شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے علمی بنیادوں پر لوگوں میں فکری جمود کو توڑتے ہوئے اجتہادی عمل کو آگے بڑھانے اور مسلکی انتہا پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کی حتی المقدور کوشش کی۔ ان اہل علم میں شاہ ولی اللہؒ ، علامہ اقبالؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے نام سرفہرست ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں علامہ اقبالؒ نے زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور تمدنی و تہذیبی تغیرات پر گہری نظر رکھتے ہوئے فقہ اسلامی پر نئے زاویوں سے غور وفکر کرنے اور اسے از سر نو مرتب کرنے کے لیے دعوت فکر دی اور اس سلسلے میں مختلف نامور اہل علم سے رابطہ بھی کیا تھا۔ ان میں علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ ، مولانا سید سلیمان ندوی ؒ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے نام بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ۱۹۲۶ ء میں مولانا انور شاہ کشمیری دارالعلوم دیوبند سے الگ ہوئے تو علامہ اقبالؒ کو اس سے خوشی ہوئی کہ شایداب وہ مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کو قیامِ لاہور پر راضی کر سکیں گے۔ مولانا سعید احمد اکبر آبادی لکھتے ہیں:

’’دارالعلوم دیوبند میں اختلافات کے باعث جب حضرت الاستاذ [مولانا انور شاہ کشمیری] نے ا پنے عہدہ صدر الاساتذہ سے استعفا دیا اور یہ خبر اخبارات میں چھپی تو اس کے چند رو ز بعد میں ایک دن ڈاکٹر اقبال کی خدمت میں حاضر ہوا۔ فرمانے لگے کہ آپ کا اور دوسرے مسلمانوں کا جوبھی تاثر ہو، میں بہرحال شاہ صاحب کے استعفا کی خبر پڑھ کر بہت خوش ہوا ہوں۔ میں نے بڑے تعجب سے عرض کیا : کیا آپ کو دارالعلوم دیوبند کے نقصان کا کچھ ملال نہیں؟فرمایا کیوں نہیں، مگر دارالعلوم دیوبند کو تو صدرالمدرسین اور بھی مل جائیں گے اور یہ جگہ خالی نہ رہے گی، لیکن اسلام کے لیے جو کام میں شاہ صاحب سے لینا چاہتا ہوں، اس کو سوائے شاہ صاحب کے کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد انہوں نے اس اجمال کی تفصیل یہ بیان کی کہ آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت فقہ کی جدید تدوین ہے جس میں زندگی کے ان سینکڑوں ہزاروں مسائل کا صحیح اسلامی حل پیش کیا گیا ہو جن کو دنیا کے موجودہ قومی اور بین الاقوامی، سیاسی، معاشی اور سماجی احوال وظروف نے پیدا کر دیا ہے۔ مجھ کو یقین ہے کہ اس کام کو میں اور شاہ صاحب دونوں مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی شخص اس وقت عالم اسلام میں ایسا نظر نہیں آتا جو اس عظیم الشان ذمہ داری کا حامل ہو سکے۔ پھر فرمایا: یہ مسائل کیا ہیں اور ان کا سرچشمہ کہاں ہے؟ میں ایک عرصہ سے ان کا بڑے غور سے مطالعہ کر رہا ہوں۔ یہ سب مسائل میں شاہ صاحب کے سامنے پیش کروں گا اور ان کا صحیح اسلامی حل کیا ہے؟ یہ شاہ صاحب بتائیں گے ۔ اسی طرح ہم دونوں کے اشتراک وتعاون سے فقہ جدید کی تدوین عمل میں آئے گی‘‘ (۱) 

چنانچہ علامہ اقبال ؒ نے مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کو ایک تفصیلی تار بھیجا جس میں کہا گیا کہ آپ لاہور تشریف لے آئیں اور یہاں قیام فرمائیں۔ اس تار کا جواب نہ آنے پر انھوں نے مولانا عبدالحنان ہزاروی کو براہ راست بات کرنے کے لیے روانہ کیا کہ تم جا کر زبا نی عرض کر و۔ مولانا عبدالحنان ہزاروی کہتے ہیں کہ میں گیا تو معلوم ہوا کہ شاہ صاحب کو وہ تار اس وقت دیا گیا جب ڈابھیل والوں نے اصرار کر کے شاہ صاحب کو وہاں تشریف لے جانے پر رضا مند کر لیا تھا ۔ میں ملا تو فرمایا، افسوس کہ آپ کا پیغام بعد میں ملا اور میں ڈابھیل والوں سے وعدہ کر چکا تھا۔ (۲)

۲۹؍مئی ۱۹۳۳ء کو شاہ صاحب کا وصال ہو جانے کے بعد علامہ اقبال نے مولانا سید سلیمان ندویؒ کو اس بات پر غور وفکر پر آمادہ کرنے کے لیے متعدد خطوط لکھے کہ وہ دیگر اہل علم کے ساتھ مسلمانانِ عالم کو پیش آنے والے ممکنہ چیلنجز کا حل تلاش کرنے کے لیے فقہ اسلامی کا ازسرنو جائزہ لے سکیں۔ (۳) مگر یہ دونوں اہل علم بوجوہ علامہ محمد اقبال ؒ کے ساتھ مل کر کام نہ کر سکے۔ اسی طرح علامہ اقبال ؒ نے اپنی عمرکے آخری سال ۱۹۳۸ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع پٹھان کوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک صاحب ثروت مخلص بزرگ نے اس ادارہ کے لیے زمین بھی دے دی ۔ اس میں یہ طے کیاگیا کہ ایک نوجوان عالم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بلایا جائے ۔ خود موصوف بھی وہاں جایا کریں گے۔ اس طرح وہ مل کر فقہ اسلامی کی تدوین نو کا کام کریں گے اور جدید دور کی ضروریات کے مطابق فقہ اسلامی کے قواعد و ضوابط کو از سر نو مرتب کیا جائے گا۔ (۴) 

اسی تناظر میں بیسویں صدی کے آخر میں بہت سے اہل علم ودانش کے ہاں یہ احساس شدت سے پیدا ہونے لگا کہ دنیا ایک گلوبل ولیج (Global village) کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، بہت سے پیچیدہ معاملات کی گتھیاں سلجھنے لگی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر تعلقات اور رابطوں کے راستے ہموار ہو نے لگے ہیں۔ پھر یہ کہ عالم اسلام کے بیشتر ممالک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کا عمل سنجیدگی سے آگے بڑھنا شروع ہوا ۔ اب جہاں جہاں اسلامی قوانین کی بات ہوئی، وہاں اسلامی قوانین پر اعتراضات بھی ہوئے۔ یہ اعتراضات مغرب نے بھی کیے اور دنیاے اسلام کے اندر سے بھی ہوئے۔ مثلاً عورتوں کے بارے میں، غیر مسلموں کے بارے میں، جمہوریت کے بارے میں ، روز مرہ پیش آمدہ معاملات و حادثات کے بارے میں اشکالات کا دنیائے اسلام کو واسطہ پڑنے لگا۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلاکہ عالم اسلام کے مختلف اہل علم و دانشور حضرات نے سنجیدگی سے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے تمام فقہی مسالک سے استفادہ کرنے کا سوچا۔ اجتماعی اجتہاد کے اس رجحان کے نتیجے میں فقہی مسالک کی روایتی حدود، محدود اور کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ عالمی حالات کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اب ایک نئی فقہ وجود میں آ رہی ہے جس کو نہ فقہ حنفی کہہ سکتے ہیں، نہ مالکی، نہ حنبلی، نہ جعفری، بلکہ اسے اسلامی فقہ ہی کہا جانے لگا ہے۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ نے اپنے خطبات اور محاضرات میں اس کے لیے Cosmopolitan Fiqh یعنی عالمی یا ہردیسی فقہ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ (۵)

ڈاکٹر غازی صاحب ؒ نے اس کی ضرورت اور عملی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے اہل علم کو اس کی طرف توجہ دلانے اور سنجیدگی سے سوچنے کی دعوت عمل دی ہے کہ عصر حاضر میں اس کی ضرورت اس وقت واضح ہو کر سامنے آئی جب بنکاری کے نظام کو اسلامی ڈھانچے میں ڈھالنے کی کوششیں کی گئی تو عالم اسلام میں اور خصوصاً سر زمین پاکستان میں اس کی تیار ی کے لیے مختلف فقہی مسالک و مکاتب فکر کے اہل علم اور ماہرین معاشیات سے رپورٹ لی گئی تو اس کے نتیجے میں اسلامی بنکاری کا جو خاکہ مشترکہ جدوجہد اور لائحہ عمل سے تیار ہوا، وہ کسی مخصوص فقہ سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔ اس کو فقہ حنفی کی دستاویز یا رپورٹ نہیں کہا جا سکتا اور اسی طرح یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فقہ شافعی یا فقہ جعفری کی بنیاد پر تیار ہوئی ہے۔ اس میں پوری فقہ اسلامی سے استفادہ کیا گیا اور دستاویز تیار کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے اسے ایک بڑی کامیابی کہا جا سکتا ہے کہ دنیائے اسلام کے مشکلات کے حل کے لیے مشترکہ فقہی پلیٹ فارم سے استفادہ کیا گیا ہے اور عملی طور پر اس پر عمل درآمد کرایا گیا ہے۔ 

ڈاکٹر صاحب ؒ اسے اس زاویہ نگاہ سے اس لیے دیکھتے تھے کہ تمدنی تغیرات اور زمانے کے تقاضوں میں اس قدر تغیر رونما ہو چکا ہے کہ اگر ایک فقہ کے ماننے والوں نے دوسری فقہ سے استفادہ نہ کیا تو ان کے لیے موجود چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کی وضاحت ایک مثال سے کرتے ہیں کہ 

’’اگر کوئی شخص آپ سے کوئی وعدہ کر لے کہ مثلاً وہ آپ سے آپ کی فیکٹری کی مصنوعات خرید لے گا تو کیا اس وعدہ کی کوئی قانونی حیثیت بھی ہے یا صرف اخلاقی حیثیت ہے؟ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ اس طرح کا وعدہ قضاءً ا واجب التعمیل نہیں ہے۔ اس کے برعکس امام مالکؒ نے فرمایا کہ اگر کسی وعدہ کے نتیجہ میں کوئی شخص کسی ذمہ داری کو اپنے اوپر لے لے اور اس ذمہ داری کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کوئی نقصان ہو جائے تو ایسے ہر وعدہ کی پابندی لازمی ہے اور ضروری ہے۔ عدالتوں کو ایسے معاملات میں مداخلت کا پورا اختیار ہے اور ملکی قانون ایسے وعدوں کی لازمی تعمیل کرانے کا اہتمام کر سکتا ہے۔ اب یہ دو نقطہ نظر ہیں۔ دونوں اجتہادی ہیں،کوئی نص صریح یا حدیث میں نہیں ہے۔ آج کل کا جو کاروبار ہے، وہ پرانے زمانے کے کاروبار کی طرح نہیں ہے کہ دو آدمیوں نے مل کر دکان کھول لی یا ایک آدمی، دو چار یا دس آدمیوں کا مال لے کر قافلہ میں چلا گیا اور جا کر تجارت کر کے آ گیا۔ دیانت دار نے تو بتا دیا کہ کس کو کتنا منافع ملا ہے جس کا یہ حساب ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنا آدمی بھی ساتھ دیا کرتے تھے کہ دیکھتا رہے کہ کام ٹھیک ہو رہا ہے کہ نہیں ہو رہا ہے۔ آج کل کیفیت یہ ہے کہ کوئی کاروبار ایسا نہیں جس میں لاکھوں کروڑوں آدمی بیک وقت شریک نہ ہوں۔ بڑے بڑے کاروباروں کے شیئرز دس روپے میں مل جاتے ہیں۔ اس شیئر کو جس کاجی چاہے خرید لے۔ اگر بنکوں کو مضاربہ کمپنیوں کے طور پر چلانا ہے تو جتنے اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں، وہ ا س میں شریک ہوں گے اور سب رب المال ہوں گے، پاکستان میں غالباً ساڑھے تین کروڑ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔ تین ساڑھے تین کروڑ اکاؤنٹ ہولڈروں کے کاروبار میں یہ کہاں ممکن ہے کہ آدمی یہ دیکھنے کے لیے رکھا جائے کہ کاروبار صحیح ہو رہا ہے کہ نہیں۔ یہ صورتحال ہے۔ اس لیے اس پر از سر نو غور کرنا پڑے گا۔ اتنے بڑے پیمانے پر جو کاروبار ہوتا ہے، اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ فرض کریںآپ کوئی کمپنی لانچ کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں آج کل جو قانون ہرجگہ رائج ہے، وہ یہ ہے کہ آپ پہلے اس کمپنی کا تصور اپنے ذہن میں واضح کریں جو آپ بنانے جا رہے ہیں۔ اس کمپنی کا ایک بنیادی ڈھانچہ تیار کریں جو میمورینڈم آف ایسوسی ایشن کہلاتا ہے۔ اس میں آپ واضح طور پر یہ بتائیں گے کہ وہ کمپنی کیا کرے گی۔ اس میں آپ کتنا سرمایہ لگانا چاہتے ہیں۔ کتنے پیسے آپ ابھی دینے کے لیے تیار ہیں اور کتنے بعد میں دیں گے۔ آپ شیئرز کے نام پر پبلک سے کتنے پیسے لینا چاہتے ہیں۔ ایک کو آتھورائزڈ کیپٹل یا اجازت شدہ سرمایہ کہتے ہیں اور دوسرے کو پیڈ اپ کیپٹل یا ادا شدہ سرمایہ کہتے ہیں ۔ پیڈاپ کیپٹل کتنا ہو گا اورا آھورائزڈ کیپٹل کتنا ہو گا ۔ جو اصل سرمایہ آپ لگا رہے ہیں وہ کتنا ہو گا ، کسی اور شخص نے اگر ذمہ لیا ہے جس کو انڈر رائٹنگ کہتے ہیں، وہ کون شخص ہے اور اس نے کتنا ذمہ لیا ہے۔ اگر اس نے کچھ شرائط رکھی ہیں تو وہ کیا ہیں۔ یہ کام کرنے کے بعد آپ کو وہ کمپنی حکومت کے پاس رجسٹر کروانی پڑتی ہے۔ اس کے بعد کمپنی کے articles of association بنانے پڑتے ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ کمپنی کے تفصیلی قواعد اور ضوابط کیا ہیں۔ پھر حکومت کے قواعد وضوابط کے مطابق آپ اس بارے میں اخبار میں اشتہار دیں گے۔ اس اشتہار کے ذریعے آپ کو بتانا پڑے گا کہ کون کون لوگ اس میں شریک ہیں۔ ان کی credibilityکیا ہے۔ وہ کتنے نفع کی توقع کرتے ہیں۔ اس کے حساب سے لوگ اس میں پیسہ لگائیں گے اور سرمایہ کار ادارے اس میں پیسہ دیں گے۔ اب یہ اربوں کھربوں کا کاروبار ہوتا ہے۔ خود اس اعلان کے مرحلہ تک پہنچنے کے لیے کئی کروڑ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کئی کروڑ یا کئی لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کئی کروڑ یا کئی لاکھ روپے خرچ کرنے کے بعد یہ مرحلہ آتا ہے کہ آ پ کمپنی لانچ کرنے کی بات کریں۔ 
خالص احناف کے ٹھیٹھ نقطہ نظر سے دیکھیں تو یہ سب کچھ محض ایک وعدہ ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ کاروبار شروع کر رہے ہیں۔ آپ پیسہ دیں تو اس میں نفع ہو گا ۔اب یہ وعدہ ، جو انہوں نے کیا ہے ،کیا یہ بائنڈنگ نہیں ہے؟ اگر یہاں احناف کا نقطہ نظر اپنایا جائے تو اس طرح کا کوئی کاروبار تو چل ہی نہیں سکتا۔ محض ایسے وعدے جو عدالت میں واجب التعمیل نہیں ہے اور جس کو عدالت نافذ نہیں کرے گی، اس میں کوئی آدمی اپنا پیسہ کیوں لگائے گا۔ اس پر غوروخوض شروع ہوا تو معلوم ہوا کہ امام مالکؒ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کوئی وعدہ ایسا ہو کہ جس کے نتیجے میں کوئی obligationیا liability پیدا ہوتی ہے تو وہ وعدہ قضاءً ا واجب التعمیل ہے اور عدالت اس کی لازمی پابندی کا حکم دے گی۔ چنانچہ آج کل کے تمام فقہا نے اس رائے کو اختیار کر لیا۔ اب جہاں جہاں اسلامی فنانسنگ، بینکنگ یا کمپنی پر کام ہو رہا ہے، وہا ں امام مالکؒ کے اسی نقطہ نظر کے مطابق ہو رہا ہے۔‘‘ (۶)

ڈاکٹر صاحبؒ کے نقطہ نظر کا کئی اعتبار سے قوی ہونا بھی سمجھ میں آتا ہے۔ اس لیے کہ تمدنی تغیرات کے نتیجے میں اتنے پیچیدہ مسائل پیدا ہو چکے ہیں کہ کسی ایک فقہ میں رہتے ہوئے اور اس پر عمل کرتے ہوئے ان مسائل کا حل تلاش کرنا مشکل ہے، بلکہ بعض جگہ ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ چار مشہور فقہی مسلکوں کے دائرے سے نکل کر بھی عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فقہائے کرام کی کثیر جماعت نے اس طرف رجوع کیا ہے کہ براہ راست قرآن و سنت سے استنباط کر کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ اس صورت میں کسی بھی امام کے قول پر عمل کرنا ہو ، قبول کر لینا چاہیے۔ تاہم یہ اجتہاد واستنباط کی صلاحیت رکھنے والے اہل علم ہی کر سکتے ہیں۔ اس دوران اگر ائمہ اربعہ کے اقوال سے انحراف ہو جاتا ہے تو کوئی بری با ت نہیں ہو گی۔ 

جہاں تک پیش آمدہ مسائل کے اجتہاد واستنباط کی بات ہے تو ڈاکٹر غازی ؒ فرماتے ہیں کہ اجتہاد و استنباط کی پیچیدگیوں سے الجھنا اور سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے کہ ہر کس و ناکس اس کا بیڑا اٹھا سکے۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ ہر کس و ناکس کا کام نہیں کہ اٹھ کر کہہ دے کہ میں چاروں فقہا کے نقطہ نظر کو مسترد کرتا ہوں۔ ایسا نقطہ نظر جس پر چار جید ترین فقہا کے زمانہ سے لے کر ہزاروں بلکہ لاکھوں فقہا نے غور وفکر کیا، جو تابعین اور تبع تابعین کے زمانے کے لوگ تھے، پھر ہزاروں لاکھوں انسان مسلسل اس پر غور کرتے چلے آرہے ہیں، ایک ایک پہلو ر صدیوں تک غور کیا گیا، اس سارے کام کو کوئی آدمی آج کھڑا ہو کر بیک جنبش زبان یہ کہہ دے کہ میں مسترد کرتا ہوں، یہ اتنا آسان کام نہیں۔ اس میں بہت تفصیلی غور وخوض کے ساتھ بڑی خداترسی، احساس ذمہ داری اور احتیاط کی ضرورت ہے۔ (۷) 

ڈاکٹر صاحبؒ کے فکر کی تائید کے لیے ہم ذیل کی سطور میں چند مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں فقہ حنفی سے وابستہ لوگوں کے لیے اپنی فقہ پر عمل کرنا دشوار نظر آتا ہے او ر اسی لیے وہ زمانہ کے تقاضوں پر پورا اترنے کے لیے دیگر فقہائے کرام ؒ کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں:

مثال کے طورپر دلالی brokerage)) کی اجرت کولیجیے۔ اگر دلال اپنی اجرت اور کمیشن بائع اور مشتری سے واضح طور پر طے کر لے تو فقہ حنفی سے وابستہ لوگوں میںیہ صورت معاملہ عام پائی جاتی ہے اور اسے جائز سمجھا جاتا ہے، جب کہ اگر فقہاے احناف ؒ کی رائے لی جائے تو یہ ان کے ہاں ناجائز ہے اور اس سے آپس میں طے پانے والا معاملہ فاسد ہو جاتا ہے۔ (۸) تاہم فقہائے مالکیہ کے ہاں مذکورہ صورت جائز ہے اور اس پر عمل ہوتا آ رہا ہے۔(۹) احناف ؒ کے نزدیک فیصد کے حساب سے دلال کی اجرت مقرر کرنا ناجائز ہے،جب کہ امام مالک اور امام احمد ؒ کے ہاں جائز ہے۔ تاہم متاخرین حنفیہ میں سے علامہ ابن عابدین ؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ نے امام ابوحنیفہؒ کے قول کو ترک کرتے ہوئے امام مالک اور احمدؒ کے قول کو قبول کرنے کا کہا ہے ۔ (۱۰) 

اسی طرح بین الاقوامی سطح کی تجارت پر شپنگ کا جو طریقہ رائج ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جہاز پر مال چڑھا دینے کے بعد اصل بائع کا ذمہ فارغ ہو جاتا ہے اور اگر مشتری تک مال پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جائے تو وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا۔ پھر یہ مشتری مال کی وصولی سے پہلے، جب کہ مال ابھی سمندر میں ہوتا ہے، تیسرے شخص کے ہاتھوں فروخت کر دیتا ہے اور مال کے ضائع ہونے کی صورت میں اس کا ضامن نہیں ہوتا، بلکہ تیسرا شخص ضامن ہوتا ہے۔ ان تمام صورتوں میں بیع قبل القبض پائی ہے۔ احناف ؒ اور شافعیہ دونوں کے نقطہ نظر کے مطابق تو درست نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ان کے نزدیک بیع پرقبضہ ضروری ہے، بلکہ قبضہ سے بڑھ کر تخلیہ بھی ہونا چاہیے (۱۱) جب کہ مالکیہؒ کے ہاں طعام کے علاوہ سبھی چیزوں کی بیع قبل القبض جائز ہے۔ ( ۱۲) چنانچہ دورحاضر میں اس طرح بہت سے معاملات کثرت سے طے کیے جاتے ہیں۔ اس ناگزیر ضرورت کی بنیاد پر فقہائے احناف ؒ نے بھی مالکیہ کے قول پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے۔ 

اسی طرح کی ایک مثال عقدکے اندر جہالت کے اعتبار سے غرر کی ایک صورت عقد العربون( بیعانہ والا معاملہ) ہے یعنی وہ معاملہ جس میں ایک فریق بیعانہ دیتا ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ خریدار بائع کو کچھ رقم اس شرط پر دیتا ہے کہ اگر وہ بعد میں بائع سے مطلوبہ چیز لے لے تو یہ رقم قیمت کا حصہ بن جائے گی، لیکن اگر بعد میں خریدار سے مطلوبہ چیز نہ لے تو وہ رقم بائع کی ہو گی۔ جس طرح یہ معاملہ بیع کے اندر ہوتا ہے، اسی طرح کا معاملہ اجارہ کے اندر بھی ہوتا ہے۔ اگر مذکورہ صورت پر غور کیاجائے تو اس میں خریدار یا کرایہ دار کو مطلوبہ سامان لینے یا نہ لینے کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر وہ مطلوبہ سامان لے لے تو اس کی طرف سے دیا ہوا بیعانہ قیمت یا کرایہ کا حصہ بن جاتا ہے، ورنہ کسی عوض کے بغیر بائع یا موجر کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس میں بائع یا موجر کو عقد ختم کرنے کا اختیار نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ہر حال میں ضروری ہے کہ وہ مطلوبہ سامان خریدار کے حوالے کرے۔ گویا اس میں ایک فریق کی طرف سے عقد لازم ہوتا ہے اور جب کہ دوسرے کی طرف سے لازم نہیں ہوتا بلکہ اسے عقد ختم کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس عقد میں ایک جانب سے غیر یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ چنانچہ حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ کے نزدیک یہ عقد جائز نہیں ہے جب کہ حنابلہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ عصر حاضرمیں اس کی شدید ضرورت وحاجت ہے کیوں کہ بیعانہ کے بغیر بیع ہونے کی صورت میں خریدار کو خطرہ رہتا ہے کہ بائع کسی دوسری جگہسے زیادہ قیمت ملنے پر اس چیز کو فروخت نہ کر دے۔ بیعانہ لینے کی وجہ سے وہ پابند ہو جاتا ہے اور اس کا عرف اور رواج بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

ضرورت اور حاجت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عصر حاضر کے اہل علم نے، اسلامی بینکوں اور حساب مرتب کرنے والی تنظیم aaofi نے بھی اسلامی بینکوں کو مرابحہ میں بیعانہ لینے کی اجازت دی ہے۔ البتہ اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ عقد نہ ہونے پر بینک کو دوسری جگہ سامان بیچنے میں اگر کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو تو صرف اس حد تک بیعانہ کی رقم اپنے پاس رکھ لے، زائد رقم کلائنٹ کو واپس کردے اور اگر نقصان نہ ہو تو پھر بیعانہ کی ساری رقم واپس کر دے۔ (۱۳) 

سی طرح آج کل کی تجارتی زندگی میں ایک صورت یہ بھی رواج پذیر ہے کہ صرف غائب قرض یا غائب مال کو راس المال نہیں بنایا جاتا، بلکہ اس کے علاوہ نقد رقم یا سامان تجارت بھی شامل ہوتا ہے۔ مثلاً ایک دوکاندار کے پاس نقد رقم بھی ہے ، دکان میں سامان تجارت بھی رکھا ہوا ہے اور کچھ ادھار کھاتے بھی ہیں۔ اس سے کوئی شخص کہتا ہے کہ آپ ایک سال کے لیے مجھ سے ایک لاکھ روپے لے لیں، اس سے تجارت کریں اور پھر سال بعد جو نفع ہو، اس میں اتنے فیصد مجھے دے دیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں دکاندار کی جانب سے شرکت میں صرف نقد رقم نہیں مل رہی بلکہ سامان تجارت اور ادھار کھاتے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ مذکورہ صورت میں نقد رقم اور ادھار کھاتوں کے علاوہ سامان تجارت کو بھی راس المال کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ فقہی ضابطہ میں فقہاء احنافؒ کے نزدیک سامان تجارت کو راس المال بنانا جائز نہیں، لیکن فقہاء مالکیہؒ کے ہاں اس کی اجازت ہے۔ زمانہ کی ضروریات کا لحاظ رکھتے ہوئے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی رائے یہ ہے کہ بوقت ضرورت مالکیہ کے قول کو اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مولانا تھانویؒ کے اس قول کو اختیارکرنے کی وجہ سے عصر حاضر کی بہت سی جدید صورتوں کا حل بھی نکل آتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے کی تجارت میں اس کا بھی رواج ہے کہ دو یا دو سے زائد تجارتی فرمیں مل کر ایک مشترکہ تجارتی ادارہ بنا لیتی ہیں۔ ایسی شرکت میں سرمایہ صرف نقد نہیں ہوتا بلکہ نقد اور جامد دونوں طرح کے اثاثے ہوتے ہیں۔ مذکورہ قول کی روشنی میں یہ صورت جائز ہو جا ئے گی۔ 

ڈاکٹر غازی ؒ کے فقہی نظریات کے مطالعہ سے چندامور سمجھ میں آتے ہیں:

۱۔ ضرورت وحاجت کو پیش نظررکھتے ہوئے کسی بھی فقیہ کی رائے کو قبول کرنے لینے میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے۔

۲۔ بعض دفعہ مسائل پر عمل کرتے ہوئے امت کی بہتری اور مصلحت کو بھی پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔

۳۔پیش آمدہ مسائل میں اجتہاد کی پوری گنجائش موجود ہے۔ 

اسی طرح ڈاکٹر صاحبؒ کی فقہی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح کے اجتہادات بدلتے ہوئے حالات اوران کے تقاضوں کے گہرے شعور کی غمازی کرتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں تعلیم و تدریس کا دائرہ بھی مخصوص فقہی نظریات کے علاوہ تمام فقہی نظریات سے آگاہی تک وسیع کیا اجانا چاہیے تاکہ علمی روایت میں ارتقا بھی ہو اور تقاضوں کوکلی طور پر عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ ڈاکٹر صاحب اگرچہ ؒ فقہی توسع و تنوع رکھتے تھے اور اس طرح رہنمائی بھی کرتے رہے، لیکن ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بعض ضروری امور کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ فرماتے ہیں:

’’بہتر تو یہ ہے ایک ہی فقیہ کی پیروی کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر کوئی آدمی اپنی پسند نا پسند سے pick and choose کاکام شروع کر دے تو اس سے شریعت کے مقاصدکو نقصان پہنچنے کا امکان رہے گا۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ کسی ایک فقیہ کی رائے کی پیروی کریں۔ لیکن جواہل علم ہیں، انہوں نے نہ پہلے اس کو لازمی سمجھا ہے اور نہ آج سمجھتے ہیں۔ جب فتویٰ دینا ہوتا ہے تو وہ دیکھ لیتے ہیں کہ اگر کسی خاص مسلک کانقطہ نظر اگر زیادہ قوی ہے تو اس کے مطابق وہ فتویٰ دے دیتے ہیں۔‘‘ (۱۴) 

ڈاکٹر صاحب اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ عامۃ الناس کو بالکلیہ مسائل میں اختیار دینے کی بجائے امت کے فقہا کو اپنی صلاحیتوں کو اجتہاد پر لگانا چاہیے اور تاکہ وہ لوگوں کو درپیش مسائل سے نجات دلا سکیں ۔بصورت دیگر ان میں تلفیق عام ہو جائے گی۔ اس کے نتیجہ میں نئے فتنوں کا وجود اور امت میں انتشار کے ساتھ صحابہ کرامؓ ، ائمہ عظام ؒ ، اور سلف صالحین سے بد اعتمادی پیدا ہو گی جو کسی بھی طرح اسلامی معاشرہ کے لیے مفید نہیں ہے۔ 


حواشی و حوالہ جات 

۱۔ سعید احمد اکبر آبادی: اے تو مجموعہ خوبی بچہ نامت خوانم ، مرتبہ سید محمد ازہر شاہ قیصر،(دیوبند، ۱۹۵۵ء )، باب ۶،درحیات انور، ص۱۶۵ 

۲۔ عبدالرشید ارشد: بیس بڑے مسلمان، ( مکتبہ رشیدیہ، لاہور، ۱۹۷۱ء)، ص۳۷۷

۳۔ قاضی افضل حق قرشی:اقبال کے ممدوح علماء، (مکتبہ محمودیہ، لاہو، ۱۹۷۸ء ) ص۵۰

۴۔ غازی، ڈاکٹر محموداحمد: محاضرات فقہ ،(الفیصل ناشران کتب ، لاہور، ۲۰۰۵ء) ، ص ۵۲۵

۵۔ المرجع السابق، ص۵۳۴

۶۔ المرجع السابق، ص۵۳۸

۷۔ المرجع السابق، ص۵۳۸ 

۸۔ االمرغینانی ، برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکر ، الہدایہ،( ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، کراتشی، ۱۴۱۷ھ)،باب بیع الفاسد ،فصل فیما یکرہ)،ص ۵؍ ۱۴۴

۹۔ عینی ،بدرالدین ،ابومحمد محمود بن احمد، عمدۃ القاری، (دارالفکر بیروت، لبنان) کتاب الاجارۃ، با ب اجر السمسرۃ، ۱۲؍۹۳

۱۰۔ محمد بن علی بن محمدالملقب بعلاء الدین (م۱۰۸۸ھ)،الدر المختار، ( ایچ ایم سعید کمپنی ،کراچی، ص)۶؍ ۶۳

* اشرف علی تھانوی، امداد الفتاویٰ ، (مکتبہ دارالعلوم کراچی، پاکستان)ص۳؍ ۳۶۶

۱۱۔ ابن عابدین، محمد بن امین الشامی، رد المحتار، (ایچ، ایم سعید، کراتشی، ۱۴۰۶ھ)،ص ۴؍ ۱۸۲ 

۱۲۔ ابن رشد ، ابوالولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد :بدایۃ المجتہد، ( مطبعہ محمد علی صبیح، مصر، ۱۹۹۹ء)، ۲؍ ۱۴۴

۱۳۔ اعجاز احمد صمدانی، ڈاکٹر:اسلامی بینکاری اور غرر، (ادارہ اسلامیات ، کراچی،۲۰۰۶ء )،ص۴۴۔۴۵

۱۴۔ محاضرات فقہ، ۵۱۰ 

شخصیات

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان