یاد خزانہ

ڈاکٹر عامر طاسین

باشعور انسان اپنی زندگی میں ایک عجیب سا تأثر اُس وقت لیتا ہے جب اُس کی ملاقات کسی ایسی علمی شخصیت سے ہو جو کہ اپنی ذاتی زندگی میں ذکر و عبادت کی پابند ی کے ساتھ اس منزل پر پہنچ چکی ہو جہاں فہم وبصیرت کے تقاضے موجود ہوں، جہاں دینی حمیت و بیدارگی کی فکر ظاہر ہو، جہاں خداداد قوت فیصلہ کی صلاحیت اجاگرہو، جہاں تنقیدی سوچ وفکر کے بجائے اصلاحی مزاج جگہ لے لے، جہاں خود نمائی و خودغرضی کے بجائے عاجزی اور انکساری ہو، جہاں علوم وفنون کا بہتا سمندر ہو، جہاں روشن ستارے آپس میں ہر ایک کو اپنی کرنوں سے بلا تمیز رنگ و نسل و مسالک کو منور کرنے کو شش میں سرگرداں ہوں، جہاں کسی کے تند و تیز اورسخت لہجہ پر سکوت اور خاموشی ہو، جہاں چھوٹوں پر شفقت اور محبت کے پھول نچھاور ہوں، جہاں احترام واکرام موجود ہو، جہاں عصری تقاضوں سے ہم آہنگ فکر نے جمود کے سکوت کوتوڑا ہو، جہاں فکری روش روایت پرستی، روایت پسندی میں پنہا ہو، جہاں فکر وشعور کی ہر منزل پختہ ہو۔ اپنی بے نیازی میں دنیاوی منصب کی منفعت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تدبیر انسانی کو ممیز و معقول کر کے تقدیر الٰہی پر صبر و شکر کرنے والے چند ہی لوگ نظر آتے ہیں اور ان میں ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ کا بھی نام سر فہرست نظر آئے گا۔ آج ایسا انسان دنیا سے چلا گیا جو عصری فقاہت و ذکاوت کا بادشاہ تھا، جس نے وہ فکر دی جس نے عصری تقاضوں پر مبنی مسائل کو ماضی کے فکری جمود سے آزاد کرانے میں دن رات سعی کی اور پھر ایسے مختلف موضوعات پر مبنی محاضرات پیش کیے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُن کی زندگی کا بیش قیمت خزانہ تھے اور وہ اپنا سارا علمی خزانہ سرمایے کی طرح لوگوں میں نچھاور کرکے تا ابد اپنی تحریروں میں زندۂ جاوید ہوگیا۔

والد محترمؒ علامہ محمد طاسین کے انتقال کے کچھ دن بعد مجھے ڈاکٹر صاحب نے اسلام آباد سے ٹیلی فون کیا اور نہایت دردمندانہ لہجے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی اور یہ کہا کہ بظاہر یہ تو رسمی تعزیت ہے مگر سچ تو ہے کہ میں اپنے ایک استاد سے محروم ہو چکا ہوں۔ میں نے ایسے علما جن میں اجتہادی صلاحیتیں موجودہوں، کم ہی دیکھے ہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ علامہ طاسین کی اجتہادی مسائل پر فکر آمیز تحریریں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ مولانا کے درجات کی بلندی کے ساتھ گھر والوں کے لیے بھی صبر جمیل کی دعاکی۔

والد صاحب ؒ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد ہی ڈاکٹر صاحب سے کراچی میں رابطہ ہوا اور اس وقت آپ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ کے جج کے منصب پر فائز تھے اور ایک اجلاس میں کراچی تشریف لائے ہوئے تھے۔اس وقت شریعت اپیلیٹ بنچ میں سود کے مسئلے پر بحث وگفتگو جاری تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب بھی اسی بنچ میں موجود ہیں۔ ملاقات کی تمنا دل میں تھی کہ دوسرے دن ڈاکٹر صاحب کا گھر پرٹیلی فون آیا، انتہائی خوشگوار انداز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ محمود غازی بات کر رہا ہوں۔ مجھے ان کی آواز سن نہایت ہی مسرت ہوئی۔ حال احوال کے بعد والد گرامی ؒ کے وہ مضامین جو کہ اقتصادی موضوعات پر تحریر شدہ تھے، دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ 

میں دوسرے دن مقررہ وقت پر سیشن ختم ہونے پر ڈاکٹر صاحب کے چیمبر میں گیا۔ وہاں موجود ایک سپاہی کو آنے کی غرض بتائی۔ اُس نے اندر جاکر ڈاکٹر صاحب کو آگاہ کیا ۔ میں حیرت زدہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب خود دروازے پر آگئے۔ مصافحہ اورمعانقہ کرنے کے بعد بہت محبت سے ہاتھ پکڑ کر اندر کی جانب لے گئے۔ مجھے صوفے پربیٹھنے کو کہا اور خود برابر میں تشریف فرماہو گئے۔ حال احوال دریافت کرنے کے بعد میں نے وہ مضامین آگے کر دیے۔ ڈاکٹر صاحب بہت توجہ سے ہر مضمون کو دیکھتے ہوئے فرماتے کہ اگر مجھے ان مضامین کی نقول دستیاب ہو جائیں تو ممنون رہوں گا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا اور وہی اصل مضامین ان کی خدمت پیش کردیے اور آپ نے فوری طور پر ان کی فوٹواسٹیٹ کے لیے ایک صاحب کی ذمہ داری لگائی۔ تب تک چائے آچکی تھی اور ڈاکٹر صاحب مجھے اس بات کی ترغیب فرمارہے تھے کہ مولانا کے بقیہ جتنے بھی مضامین رہ گئے ہیں، انہیں کتابی شکل میں لائیے ۔

ڈاکٹر صاحب اپنے ایک مضمون میں مولانا طاسین کی فکری خوبی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ 

’’اُنہوں نے ایک طرف اپنے خیالات میں خاصی پختگی پیدا کی تھی لیکن اُس کے باوجود اختلاف رائے کو نہ صرف برداشت کرتے تھے بلکہ اُس کا خیر مقدم بھی کیا کرتے تھے۔ وہ ان تمام لوگوں سے گفتگو کے لیے تیار رہتے تھے جو اُن سے مختلف رائے رکھتے تھے۔ اس سے اُن کے مزاج میں ایک ایسی وسعت اور فکر میں ایسی گہرئی پیدا ہو گئی تھی جو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔‘‘ (تعمیر افکار، اشاعت خاص بیاد علامہ محمد طاسین، اگست ۲۰۰۶ء، ’’چند یادیں چند تأثرات‘‘، ص ۷۸)

میں سمجھتا ہوں کہ مرحوم ڈاکٹر صاحب کی مولانا طاسین ؒ کی فکر کے حوالے سے جوخیالات مجتمع تھے، وہ یقیناًسند کی حیثیت رکھتے ہیں اور میرے لیے بھی رہنمائی کا باعث ۔ لہٰذا والد صاحب کے انتقال کے بعد ایسی علمی شخصیات کے ساتھ میرا کسی قدرتعلق خود میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ ان مضامین کی نقول آنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے معلوم کیا کہ پڑھائی کہاں تک چل رہی ہے۔ میں نے بتایا کہ ایم اے اسلامیات کر لیا ہے اور پہلی پو زیشن حاصل کی ہے اور اب پی ایچ ڈی میں بھی داخلہ لے لیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب یہ جان کر بہت خوش ہوئے اور چند نصیحتوں کے بعد دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس کے ختم ہونے کے بعد وقت ہوا تو مجلس علمی(نئی منتقل شدہ جگہ) پر ضرورحاضر ہوں گا۔ میں اجازت لے کر روانہ ہوگیا ۔مجھے اُس وقت سب سے زیادہ خوشی اِس بات کی تھی کہ والد صاحب کے وہ مضامین ڈاکٹر صاحب کے لیے مددگار اور ملکی فیصلے میں کسی درجہ معان ثابت ہوں گے۔ 

اس کے کچھ عرصے بعد ڈاکٹر صاحب کا اسٹیٹ بنک کے شریعہ بورڈ کے اجلاس میں آنا ہوا۔ ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کی وساطت سے پھر ملاقات ہوئی اور انہیں مجلس علمی آنے دعوت دی جسے وقت مقررہ پر قبول کیا۔ جب ڈاکٹر صاحب تشریف لائے اور لائبریری کو نئے سرے سے دیکھا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور کتاب تأثرات میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔ ڈاکٹر صاحب ؒ نے لکھا:

’’الحمد للہ آج کم وبیش بیس سال بعد پھر مجلس علمی میں حاضری کا اتفاق ہوا۔ اس ادارہ سے میری وا بستگی کم از کم چالیس پینتالیس سال پرانی ہے۔ اس ادارہ کے پاکستانی مؤسس مولانا محمد طاسین مرحوم سے میری ذاتی نیاز مندی ۱۹۷۲ کے لگ بھگ سے تھی جو اُن کی وفات تک جاری رہی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ برادر عزیز محترم عامر طاسین کو توفیق، ہمت اور وسائل عطا فرمائے کہ وہ اِس ادارہ کو وطن عزیز کا ایک بہت معتبر علمی ادارہ بنا سکیں‘‘۔ (رجسٹر تأثرات، مجلس علمی کراچی ،۱،۶،۲۰۰۶)

میں والد صاحب کی حالات زندگی پراہل علم احباب کے علمی تأثرات جمع کر نے کی کوشش میں لگا ہوا تھا اور اس حوالے سے سب سے پہلے میں نے سابق چیف جسٹس شرعی عدالت محترم جسٹس تنزیل الرحمن صاحب کے گھر جا کر تأثرات حاصل کیے۔اُس کے بعد میں دیگر اور بھی کئی لوگوں سے رابطہ کیا۔ اُن میں اسلامی یونیورسٹی کے ڈاکٹر شیر زمان، ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری، ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن، ڈاکٹر سفیر اختراور ڈاکٹر محمود غازی بھی شامل تھے۔ مضامین اور تأثرات حاصل کرنے کے حوا لے سے میرا اسلام آباد جانا ہوا اور ان حضرات سے ملاقات کی۔ڈاکٹر صاحب کے پاس اس وقت غالباً اسلامی یونیورسٹی کے صدر کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ وفاقی وزارت مذہبی امور کی ذمہ داری بھی تھی اور یقیناًڈاکٹر صاحب کی مصروفیات حد درجہ بڑھ چکی تھیں۔ میں نے کراچی سے نکلنے سے قبل کئی حضرات سے رابطہ کیا کہ میں اِس غرض سے آنا چاہ رہا ہوں۔ سب نے مجھے ملاقات کا وقت دے دیامگرڈاکٹر صاحب سے رابطہ نہ ہو سکا تھا۔ مختصر یہ کہ میں جب اسلام آباد پہنچا تو دیگر حضرات سے بھی ملاقات ہوتی رہی اور کچھ تأثرات تحریری جمع کر لیے تھے۔ اب وقت تھا کہ ڈاکٹر صاحب سے بھی ملاقات کی جائے۔ ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور وقت لینے کی خواہش ظاہر کی۔ اُنہوں نے مجھے دوسرے ہی دن اپنے دفتر وزارت مذہبی اُمور آنے کا کہہ دیا۔ میں دوسرے دن مقرر وقت پر ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچا۔ بہت عزت و تکریم وشفقت کے ساتھ باتیں کیں۔ میں نے والد صاحب سے متعلق ان کے علمی تأثرات لکھنے کے بجائے ریکارڈ کر لینے کو ترجیح دی اور پھر ڈاکٹر صاحب نے طویل گفتگو میں اپنے خیالات ریکارڈ کرائے۔ اس کے بعد میں نے ایک تصویر ساتھ کھنچوانے کی خواہش ظاہرکی، اِس کی بھی تکمیل ہوگئی اور پھرچائے و دیگر لوازمات کے بعد شکریہ کے ساتھ اجازت چاہی۔

میرا یہی ارادہ تھا کہ میں سفر میں ہی ریکارڈ شدہ گفتگو کو قلم بند کر لوں گا۔ جب کراچی واپسی کا ارادہ کیا تو عجیب معاملہ ہوچکا تھا۔ ٹیپ پر وہ گفتگو ریکارڈ تو ضرور ہوئی مگر کسی ٹیکنیکل خرابی کے باعث الفاظ اور جملے سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ مجھے بہت دکھ اور افسوس ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہوگیا۔ میں نے تو بہت مشکل سے ڈاکٹر صاحب کا وقت حاصل کیا تھا اور اب مجھے انہیں آگاہ کرنے میں تأمل رہا کہ کس طرح انہیں بتاؤں۔ ظاہر ہے میری کوتاہی کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا تھا۔ خیرجب کراچی پہنچا توکچھ دن بعدبہت ہی شرمندگی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کو ٹیلی فون کیا اور انہیں ماجرا سنا دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بہت اطمینان کے ساتھ یہ جواب دیا کہ کوئی بات نہیں، مجھے اگرمولانا طاسین جیسی عظیم علمی شخصیت کے لیے دس مرتبہ بھی کچھ کہنا یا لکھناپڑے تو میرے لیے اعزاز ہوگا ۔ وہ میرے استاد تھے اور میں انہیں اپنا روحانی مربی بھی سمجھتا ہوں۔ آپ گھبرائیے نہیں، میں ان شاء اللہ خود آپ کو ایک مضمون لکھ کر روانہ کر دوں گا۔ مجھے مزید تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ بے فکر رہیں، یہ میری ذمہ داری ہے اور پھر مجھے چند دنوں بعد ڈاکٹر صاحب کا مضمون ٹی سی ایس کے ذریعے موصول ہو گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا وہ مضمون ہم نے ماہنامہ ’’ تعمیر افکار‘‘ کے خاص نمبر (بیاد علامہ طاسین)میں شائع کر دیا۔

اسلام آباد سے واپسی کے بعد غالباً ایک ماہ بعد یہ خبر ملی کہ ڈاکٹر صاحب نے وزارت سے استعفا دے دیا ہے۔ میں نے ٹیلی فون کیا اور حال احوال دریافت کرنے کے بعد اس خبر کی تصدیق چاہی تو انہوں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے۔ کچھ عرصے بعد پھر کسی وجہ سے اسلام آباد جانا ہوا اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ اُنہوں نے شام کے وقت گھر پر ہی بلا لیا تھا۔ اس وقت میرے بہنوئی اور بھانجے بھی ساتھ تھے۔ کافی دیر باتیں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ ڈاکٹر صاحب خود ہی چائے و دیگر لوازمات کے ساتھ تواضع کرتے رہے۔ کوئی نوکر نظر نہیں آیا، خود گھر کے اندر سے لاتے اور پیش کرتے رہے۔ کچھ حالات کے پیش نظر گفتگو رہی اور پھر وزارت سے استعفا دینے کے متعلق بھی باتیں ہوتی رہیں۔ یہ بات تو طے شدہ تھی کہ ڈاکٹر صاحب ایسی علمی شخصیت تھیں کہ وہ جاہ و منصب کے لالچ سے بے بہرہ اور پاک تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان پر از خود کوئی ذمہ داری عائد کردی تو احسن طریقے سے نبھاتے بھی رہے، مگر جب کسی کادباؤ آتا تو معذرت کر لیتے اور ہر گز قبول نہیں کرتے۔ سفارش اور غیر قانونی کام کو ہمیشہ اپنے مزاج مطابق رّد کر دینے میں عافیت سمجھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ ہمیشہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اس منصب ہی کو خیر باد کہہ دیا ۔ 

اس کے بعد ڈاکٹر صاحب ایک دن دعوہ اکیڈمی کراچی ریجنل سینٹر تشریف لائے، وہاں لیکچر کے بعد ایک دو جگہوں پر جانا تھا۔ مجھے ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے مجھے بلا لیا تھا اور اس طرح پھر ڈاکٹر صاحب سے نہ صرف ملاقات ہو گئی بلکہ ان کو ایک دو جگہوں پر لانے اور لے جانے کا بھی شرف حاصل رہا۔ اسی دوران پھر مجلس علمی بھی تشریف لائے اور کچھ مزید نئی تبدیلی پر خوش ہوئے۔ اسی اثنا میں مجلس علمی کے چیف ایگزیکٹو جناب رضا عبد العزیز صاحب بھی موجود تھے اور ان سے ملاقات پر ڈاکٹر صاحب بہت خوش ہوئے۔ کچھ تھوڑاسا تواضع کا بھی اہتمام تھا۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کو دعوہ اکیڈمی جانا تھا۔ میں اپنی کار ڈرائیو کر رہا تھا اور ساتھ ہی ڈاکٹر سید عزیز الرحمن بھی موجود تھے۔ ہم جب وہاں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھنے کے بعد فوراًبعد ائیر پورٹ روانگی تھی۔ وقت بہت کم ہی تھا۔ مجھے ڈاکٹر سید عزیز الرحمن نے کہا کہ کتنی جلدی ہو سکے پہنچنا ہے، کہیں فلائٹ مس نہ ہوجائے۔میں نے کہا بس دیکھیے، ان شاء اللہ فلائٹ مل جائے گی۔ بس پھر کیا تھا، ڈاکٹر غازی صاحب اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کو لے ائیر پورٹ کی جانب تیزڈرائیو کرتے ہوئے پہنچ گئے۔ جہاز روانگی میں بیس منٹ رہ گئے تھے ۔ڈاکٹر صاحب کو الوداع کیا۔ جاتے وقت مجھے کہہ گئے کہ مجھے آپ کی تیز ڈرائیو یاد رہے گی اور شکریہ، جزاک اللہ اور سلام کے بعد ائیر پورٹ کے اندرکی جانب روانہ ہو گئے۔

اس کے بعد بھی جب کبھی ڈاکٹر صاحب کا کراچی آنا ہوتا، بالخصوص ڈاکٹر سید عزیز الرحمن صاحب اپنے ادارے میں لیکچرز کے لیے مدعو کرتے تو میں ضرور جاتا۔ اس بہانے نہ صرف ملاقات ہوجاتی بلکہ ان کے سیر حاصل علمی بیان سے فائدہ بھی بہت ہوتا۔ اگر کبھی کسی وجہ سے نہ جا سکتا تو دوسرے دن ٹیلی فون آجاتا یا پھر ڈاکٹر سید عزیز الرحمن کے توسط سے اُن کا سلام پہنچ جاتا۔ آخری ملاقات ڈاکٹر صاحب سے اُس وقت ہوئی جب آپ جامعۃ الرشید کے سالانہ کونووکیشن ۲۰۱۰ء میں مدعو تھے۔ آپ کے آخری علمی خطاب سے ہر ایک نے خوب استفادہ کیا۔ مجھے بھی ملاقات کا رسمی موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب کی چونکہ روانگی پہلے سے مقرر تھی، اس لیے صبح اسلام آباد روانہ ہو گئے۔

۲۶ ستمبر کو یہ خبر ملی کہ پیکر علم و عمل، نگاہ جود و سخا، محبت و شفقت کا امین، احترام و اکرام کا منبع اور وسیع علم سے سیراب کرنے والا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوعلم کا یہ سمندر دنیا والوں کے لیے اپنے انمول علمی خزانے لٹا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ کل تک جس نے میرے والد پر مضمون لکھا، آج یہ وقت بھی آئے گا کہ میں اس عظیم علمی شخصیت پر اپنے رسمی تاثرات لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند کرے اور ان کے علم کے چشمہ سے ہر ایک کو فیض حاصل کرنے کی تو فیق عطا کرے۔

شخصیات

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان