ایک ہمہ جہت شخصیت

ضمیر اختر خان

اللہ تعالیٰ نے بشمول انسان کے تمام مخلوقات کے لیے موت کے حوالے سے اپنا ضابطہ قرآن مجید میں یوں بیان فرمایا ہے: کل من علیھا فان (سورۃالرحمن:۲۶) کل نفس ذائقۃ الموت (سورۃ آل عمران: ۱۸۵، سورۃ العنکبوت:۵۷)۔ جو یہاں آیا ہے، اسے بالآخر جانا ہے۔ ہمارے محترم اور نہایت ہی شفیق بزرگ جناب ڈاکٹر محمود احمد غاز ی رحمہ اللہ اسی الٰہی ضابطے کے تحت اپنی آخری منزل کی طرف چل دیے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔ 

ڈاکٹر غازی ؒ ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل انسان تھے۔ وہ بیک وقت ایک عالم دین، فقیہ، متکلم وخطیب، قانون دان، ماہر تعلیم، دانشور، مصلح اور اعلیٰ درجے کے منتظم تھے۔ اگرچہ انہوں نے عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا، مگربہت اچھی سیاسی بصیرت رکھتے تھے۔ ان سے میر ا پہلا تعارف جولائی ۱۹۹۰ء میں ایک سیمینار کے دوران ہوا جس میں انہوں نے ’’ فرقہ بند ی اور معاشرے پر اس کے اثرات ‘‘ کے موضوع پر نہایت مدلل اور پرجوش خطاب فرمایا تھا۔ میں نے تقریر کے اختتام پر منتظمین سے درخواست کی کہ اس خطاب کا کیسٹ مجھے مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کمال مہربانی سے وہ کیسٹ مجھے عطا کیا جو آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ میں نے متعدد بار اسے سنا اور اس کا عنوان اپنے طور پر بدل کر ’’ مسلمانوں میں فرقہ بندی کا افسانہ‘‘ رکھ لیا ا ور بہت سے لوگوں کو استفادے کے لیے دیتا رہا۔ بعد ازاں اسی موضوع پر مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ کی کتاب بھی مجھے مل گئی جو اپنی جگہ جامع ہے، مگر جو انداز، دلائل اور جوش و جذبہ ڈاکٹر غازی ؒ کے اس خطبے میں ہے، اس کی تاثیر بہت زیادہ ہے اور ابھی تک برقرار ہے۔ 

دسمبر ۲۰۰۳ء میں ہم نے ایک سیمینار منعقد کیا اور اس میں ایک بار پھر ڈاکٹر محموداحمد غازیؒ کو مدعو کیا۔ اب کی بار ان کا موضوع: Religious Motivation and Geostrategic Compulsions of Pakistan تھا۔ عنوان انگریزی میں ہونے کے باوجودا ور خود انگریزی پرعبور رکھنے کے باوجود انہوں نے خطاب اردو میں کیا اور ایسا پر جوش خطاب کیا جس کی تازگی او رتحرک (Vibration ) ابھی تک برقرار ہے۔ پرویزی حکومت میں وزیر مذہبی امور ہونے کے باوجود انہوں نے جس بے باکی سے عالم اسلام کے اتحاد اور پاکستان کے مسلم دنیا کے حوالے سے کردار پر جذباتی انداز میں بات کی، اس نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کے تصور کی دھجیاں اڑادیں اور نہ صرف پرویزی فکرکے تار و پود بکھیر دیے بلکہ مجھ سمیت بہت سو ں کو رُلا دیا۔ ان کے خطاب کا انداز بھی ہمیشہ منفرد ہوتا تھا۔ میں نے کبھی انہیں طویل تمہیدیں باندھتے نہیں سنا۔ حمد و ثنا کے فوراً بعدہی موضوع پر جوشیلے انداز سے بولنا شروع کر دیتے تھے۔ ان کا ایک اورخطاب بعنوان ’’ اسلام میں تفریح کا تصور‘‘ تقریباً تین گھنٹوں پر مشتمل میرے پاس ہے۔ اس میں جیسے ہی تعارفی کلمات کے بعد انہیں مدعوکیا گیا، انہوں نے فوراً موضوع پر بولنا شروع کر دیا اور مسلسل بولتے رہے اور ایک ہی رفتار و آواز سے بولتے گئے۔ انتہائی سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے کوئی ایسا ذو معنی جملہ بولتے کہ ہمہ تن گوش سامعین عین سنجیدگی کے عالم میں بے اختیار ہنس پڑتے۔ 

ڈاکٹر غازی ؒ کی ایک اور انفرادیت یہ تھی کہ وہ علما کے درمیان جدید دانشور لگتے تھے اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کے مابین علما کے ترجمان و حمایتی محسوس ہوتے تھے۔ وہ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو مطمئن کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ کسی بھی موضوع پر انہیں اظہار خیال کی دعوت دی جائے، لگتا تھا جیسے اسی کے متخصص (Specialist) ہیں۔ تاریخ پر ان کی گہری نظر تھی۔ خاص طور پر مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب سے بخوبی آگاہ تھے۔ ان کی ایک تقریر اس موضوع پر میرے پاس موجود ہے۔ اس میں انہوں نے بڑے خوب صورت انداز میں اہل ایمان کو متوجہ کیا ہے کہ وہ اپنی تابناک تاریخ سے روشنی حاصل کر کے اپنے حال کو سنواریں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ ان کی مسلسل کوشش تھی کہ مسلمانوں کو زوال کے اسباب سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کا سد باب کیا جا سکے۔ اندلس (Spain) کی تاریخ کا خاص طور پر حوالہ دیتے تھے جہاں مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک شاندار طریقے سے حکومت کی اورعظیم الشان تہذیب وتمدن کی بنیادیں رکھیں۔پھر وہاں سے ان کا صفایا کردیا گیا۔غازی ؒ صاحب کے نزدیک حکمرانوں کو سب سے زیادہ تاریخ سے واقف ہونا چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ تاریخ قوموں کا حافظہ ہوتی ہے،فرد اگر اپنا حافظہ بھول جائے تواس کا مقام پاگل خانہ ہوتا ہے،اگرقوم اپنا حافظہ کھو بیٹھے تو اس کا کیا مقام ہونا چاہیے۔ قیادت پر فائز لوگوں کوتاریخ کا گہرا شعور ہونا چاہیے تاکہ قوم کی رہنمائی کا حق ادا کر سکیں۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۵)

ڈاکٹر صاحب قلم کے بھی شہسوارتھے اور متعددتحقیقی کتب کے مؤلف ومصنف تھے۔آپ نے سو سے زیادہ علمی وتحقیقی مقالے مختلف کانفرنسوں میں پیش فرمائے جن میں سے اکثر ملکی وبین الاقوامی جرائد میں طبع ہوچکے ہیں۔ وقیع علمی وتحقیقی کتب کے علاوہ ان کی بعض کتب تو ان کے خطابات سے ہی مرتب کی گئی ہیں۔ان میں سرفہرست محاضرات قرآنی،محاضرات حدیث اور محاضرات فقہ ہیں۔یہ خطابات مستورات کے اجتماعات میں مختصر نوٹس کی مدد سے دیے گئے تھے مگر ان کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غازی صاحبؒ کو علم سے وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بنیادی طور پر فقہ اسلامی کے ماہر تھے لیکن ان کی بعض دوسری تحریریں ان کے فکر کی بلندیوں اور وسعتوں کی گواہی دیتی ہیں۔میرے سامنے اس وقت ان کی ایک ایسی ہی تالیف ہے جس سے ان کے فکرکی ہمہ گیری کا پتہ چلتا ہے۔اس کاعنوان ہے: ’’محکمات عالم قرآنی، علامہ اقبال کی نظر میں، قرآنی دنیا کی امتیازی خصوصیات اور اس کی بنیادیں (جاوید نامہ کی روشنی میں)‘‘۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے اپنی صاحبزادیوں کو املا کروائی تھی اوریہ معلوم ہے کہ املا کرانا اورالگ سے بیٹھ کرغوروخوض کر کے کسی موضوع پر لکھنے میں زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ان کی یہ مختصر مگر جامع تالیف ان کی وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال کے فکروفلسفے سے کماحقہ آگاہی کی بھی آئینہ دار ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹرغازیؒ صاحب کو بے پناہ ذہانت وفطانت سے نوازا تھا۔ میں نے جب بھی ان سے کوئی استفسار کیا یا کسی موضوع پر گفتگو کی، وہ فوراًاس کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے۔ یہ کوئی تین چار سال پہلے کی بات ہے۔ وہ اسلامی یونیورسٹی ،فیصل مسجد میں اپنے دفتر میں تشریف فرما تھے۔ میں ملاقات کے لیے حاضر ہوا ۔اثنائے گفتگو میں مغرب کا عالم اسلام کے ساتھ رویہ زیر بحث آیا تو فوراً مجھے اپنا ایک مضمون دراز سے نکال کر دیا جو’’تعمیر افکار‘‘ کی اشاعت بابت ماہ اکتوبر۲۰۰۷ء میں بھی چھپ چکا ہے۔ مضمون کا عنوان ہے’’اسلام ا ورمغرب۔ موجودہ صورت حال، امکانات، تجاویز‘‘۔ یہ بھی آپ کی فی البدیہ تقریر تھی جس کوصفحۂ قرطاس پر منتقل کر کے آپ کی نظر ثانی کے بعد شائع کیا گیا تھا۔ یہ مضمون مغربی دنیا کے حوالے سے آپ کی فکر کا نچوڑ ہے ۔اس کے ذریعے آپ نے بڑے جامع اندازسے مغرب کے مسلمانوں کے ساتھ رویے کا تجزیہ کیا ہے اور مسلمانوں کو مغربی طاقتوں کے عزائم سے خبردارکیا ہے۔ مغرب اوراسلام کی موجودہ کشمکش کا پس منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’امت مسلمہ کے عالم گیر کردار میں یہ بات بنیادی طور پر شامل ہے کہ ان کا ایک طویل عرصے تک یہودیوں اور عیسائیوں سے واسطہ رہے گا، مقابلے کی نوعیت پیش آتی رہے گی،تصادم ہوتا رہے گا،اوراس تصادم کے لیے مسلمانوں کویہ دو سورتیں (سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمران) تیار کر رہی ہیں‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۰)

موجودہ مغرب جس کا سرغنہ امریکہ ہے اورکبھی اس کا کرتا دھرتا برطانیہ تھا، ہر ایک کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔ اس کے ڈانڈے بھی یہود ونصاریٰ کے آغاز اسلام کے طرزعمل سے ملتے ہیں۔ ڈاکٹر غازی ؒ کے الفاظ میں : ’’جس کو ہم مغرب کہتے ہیں، اس سے مسلمانوں کا مقابلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک سے شروع ہوگیا تھا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو نامۂ مبارک بھیجا۔ ہرقل مشرقی سلطنت روم کا فرماں روا تھا‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۰) گویا اس مخالفت کا اصل سبب دعوت اسلام بنی اورجب خلافت راشدہ کی صورت میں اسلام کا عادلانہ نظام اپنی بہاریں دکھانے لگا تو اس مخالفت میں اضافہ ہوگیا، کیونکہ قیصر کی خدائی خطر ے میں پڑگئی تھی۔اب کبریائی وخدائی صرف اللہ کا حق تھا۔ سارے انسان اللہ کی نیابت(خلافت)کے تو حقدارہو سکتے ہیں، لیکن خدائی منصب کسی کونہیں مل سکتا۔ اس کی عملی شکل خلافت راشدہ کے زمانے میں سامنے آئی توبندوں پر خدائی کا دعویٰ رکھنے والے خم ٹھونک کر میدان میں آگئے۔ مسلمانوں نے ان کا مقابلہ میدان جنگ میں کیا۔غازیؒ صاحب لکھتے ہیں: 

’’اس کے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے) بعداصل تصادم اورمقابلہ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوا۔ صلیبی جنگوں کے بعد ایک طویل عرصے تک اسپین میں یہ مقابلہ جاری رہا، جنوبی یورپ کے ذریعے یہ سابقہ پیش آتا رہا۔ پھر استعمار اور ایسٹ انڈیا کمپنیوں کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد گزشتہ سوسال سے جوکچھ ہو رہا ہے، وہ بھی ہمارے سامنے ہے‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص۲۰)

ڈاکٹر صاحب مرحوم کو شدیداحساس تھا کہ مغربی دنیا اوراقوام متحدہ جیسے نام نہاد عالمی ادارے مسلمان ملکوں کو بالعموم اورپاکستان کو بالخصوص اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں:

’’جب گورے کی ہدایت آتی ہے کہ قیام امن کے لیے فلاں جگہ فوج بھیجواورمسلمانوں کی بندوقوں کے ذریعے مسلمانوں کو زیرکرکے ہمارے مفادات کے لیے راہ ہموار کرو ،تو تیمور میں بھی فوج چلی جاتی ہے،صومالیہ میں بھی چلی جاتی ہے اورایری ٹیریا میں بھی چلی جاتی ہے۔دنیائے اسلام کے سپاہیوں کے ذریعے ،دنیائے اسلام کی بندوقوں کے ذریعے،دنیائے اسلام کے مسلمانوں کی تلواروں کے ذریعے مسلمانوں کی گردنیں کاٹی جائیں،اور ان کو کاٹ کاٹ کرعیسائی اورمسیحی ریاستیں قائم کی جائیں۔‘‘ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۴) 

انگریزوں کے گن گانے والوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہ ان کے ممدوح کتنے مہذب اور انسان دوست تھے، لکھتے ہیں: 

’’انیسویں صدی کے آغاز میں مسلمانوں میں پنجاب میں سوفیصد تعلیم تھی اور بحیثیت مجموعی ۸۴فیصد تھی اورجب انگریز ۱۹۴۷ء میں ہندوستان سے گیا تو پنجا ب میں مسلمانوں میں تعلیم کا تناسب ۴فیصد تھا۔ انگریز سوکو چار پر لے آئے اورپوری قوم کو جاہل چھوڑکرچلے گئے۔یہ ہے اس دعوے کی حقیقت جو کہا جاتا ہے کہ مغربی ممالک کا ایک سویلائزنگ رول تھا۔آج بھی ہمارے ہاں بہت سے سادہ لوح اور مشرق بے زار لوگ کہتے ہیں کہ انگریز نے ہمیں سویلائز کردیا۔ یہ سویلائز کیاکہ سو فیصد تعلیم کوسو فیصد جہالت میں بدل دیا‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۲۶)

ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنا ایک سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے جس سے مغربیوں کے سازشی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’اکتوبر ۱۹۷۴ء میں ایک پروفیسر صاحب امریکہ سے تشریف لائے۔ وہ ایک مشہور امریکن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ ...وہ پروفیسر صاحب بہت سے لوگوں سے ملے،مجھ سے بھی ملے۔ مجھ سے ملنے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں الگ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تم مجھ سے ملنے کے لیے آؤ۔ میں ان سے ملنے چلا گیا۔ دوران ملاقات انہوں نے کہا، امریکہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے تم جس یونیورسٹی میں چاہو، میں تمہیں اسکالرشپ دے سکتا ہوں۔.... میں نے کہا، مجھے ہارورڈ میں داخلہ دلوا دیں۔ انہوں نے کہاٹھیک ہے۔ ....تم ایک سال کے لیے امریکہ آؤ، ہارورڈ یونیورسٹی میں کورس ورک کرو۔ ....پھرواپس پاکستان آجاؤ۔ انہوں نے جو نقد وظیفہ بتایا، وہ اتنا تھا جتنا اس وقت حکومت پاکستان کے سیکرٹری کو بھی تنخواہ نہیں ملتی تھی۔ ...انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں رہ کر یہ معلومات جمع کرو کہ پاکستان میں دینی مدارس کیا کام کرتے ہیں، کتنے دینی مدارس ہیں، کون کون علماے کرام ان کو چلا رہے ہیں، وہ کیا کیا پڑھاتے ہیں، کیا ذہن بناتے ہیں اورجو لوگ ان سے تیار ہوتے ہیں، وہ بعد میں کیا کام کرتے ہیں، ان کا رویہ مغرب کے بارے میں کیسا ہوتا ہے؟ یہ ساری معلومات جمع کر کے آؤ، پھر میرے ساتھ بیٹھ کر اس کو مرتب کرو، اس کی بنیادپر تمہیں ہارورڈ یونیورسٹی پی ایچ ڈی کی ڈگری دے دے گی‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۳۳) 

غازی صاحب ؒ نے جس خوبصورتی سے مغرب کی مسلمانوں کوگمراہ کرنے کی تدابیر کا ذکرکیا ہے، وہ انھی کے ذہن رساسے ہی ممکن تھا۔اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ آمین۔

غازیؒ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مسلمانوں کو بھی جھنجھوڑا ہے کہ وہ کھوکھلے نعروں سے اسلام کوبدنام کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اپنے دورۂ ازبکستان کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: 

’’۱۹۹۰ء میں مجھے ازبکستان جانے کا موقع ملا۔ ...میں نے صدر ازبکستان سے کہاکہ ...آپ ازبک نوجوانوں کو ہمارے تعلیمی اداروں میں آنے کی اجازت دیں۔ صدر صاحب مسکرائے اورانہوں نے کسی سے اپنی زبان میں کچھ کہا اوراس نے ایک موٹی سی فائل لاکر صدر کے سامنے میز پر رکھ دی۔ صدرصاحب نے وہ فائل میری طرف لڑھکا دی۔ میں نے فائل کوکھولا تو اس میں اخبارات کے تراشے تھے اورہمارے پاکستان کے بہت سے مذہبی، دینی سیاسی قائدین کے بیانات تھے کہ ہم فلاں جگہ جھنڈا لہرا دیں گے اور سمرقند وبخارا کو آزاد کرا دیں گے ... جب میں اس فائل کی ورق گردانی کر چکا تو صدر ازبکستان کہنے لگے کہ تم یہ سب کرنے کے لیے طلبہ کو لے جانا چاہتے ہو؟ سچی بات یہ ہے کہ ... میرے پاس سوال کاجواب نہیں تھا‘‘۔ (تعمیر افکار، اکتوبر ۲۰۰۷ء ص ۳۴) 

متذکرہ بالا اقتباسات سے عیاں ہے کہ غازی ؒ صاحب محدود معنی میں معلم و مدرس ہی نہیں تھے بلکہ عالمی حالات کا گہرا شعور بھی رکھتے تھے۔ طوالت سے بچتے ہو ئے مغرب کے چند جرائم کا ذکر کرنا ضروری ہے جن کو وہ عالم انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتے تھے۔ مثلاً عالمگیریت (Globalization) کو وہ مسلمانوں کے وسائل پر قبضے اوران کے تشخص کو مٹانے کا ایک منصوبہ خیال کرتے تھے۔ مزید برآں وہ عالمگیریت کو انسانوں کے درمیان تفریق وتقسیم کا آلۂ کار گردانتے تھے۔ ان کی یہ پختہ رائے تھی کہ اہل مغرب کو اسلام کے حوالے سے کوئی غلط فہمی یا مغالطہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ اسلام ومسلمانوں کی مخالفت کر کے وہ دنیا کی توجہ اسلام سے ہٹانا چاہتے ہیں کیونکہ و ہ دیکھ رہے ہیں کہ مستقبل اسلام کا ہے۔ مغرب کے متعصبانہ رویے کے باوجود اسلام وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے۔خاص طور پر طبقۂ خواتین اسلام کی طرف زیادہ رجوع کررہاہے۔

غازی ؒ صاحب کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے ۔آپ اپنی تعلیمی وتدریسی مصروفیات کے باوجود جس طرح تصنیف وتالیف کاکام بھی جاری رکھتے تھے، یہ آپ ہی کا خاصہ تھا۔ان ہمہ جہتی مشاغل کے باوجود طبیعت میں ہمیشہ بشاشت ہوتی تھی۔دگر گوں حالات میں بھی پرامید (Optimistic) ہوتے تھے۔عالم اسلام کے حوالے سے کسی اندیشے میں مبتلا ہونے کی بجائے وہ ہمیشہ روشن مستقبل کی بات کرتے تھے۔

آپ سماجی ومعاشرتی تعلقات کا کتنا خیال رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی یونیورسٹی میں اعلیٰ منصب پر فائز ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کی دل جوئی کے لیے اس کی سہیلی کی مہندی کی رسم میں ایک دفعہ شرکت کے لیے چلے گئے۔ یہ اور با ت ہے کہ وہاں پر جو ہندوانہ خرافات ورسومات دیکھیں تو ان پر بعد میں اپنی تقریر کے دوران تأسف کا اظہار بھی کیا اور کھل کر اس ہندوانہ ثقافت کی مخالفت کی اور بر ملا اعتراف بھی کیا کہ اس سے پہلے وہ اس قسم کی رسوم کو محض سماجی Gatherings سمجھتے تھے، لیکن متذکرہ محفل میں انہوں نے دیکھا کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں پیلے کپڑے پہنے، ہاتھوں میں گیندے کے پھول اٹھائے ہوئے اور عجیب وغریب انداز سے الٹی سیدھی حرکتیں کرتے ہوئے محفل میں نمودارہوئے تووہ سخت پریشان ہوئے اور آئندہ کے لیے ایسی محافل میں شرکت نہ کرنے کا عزم کیا۔ ان کی مخالفت اور تنقید کا انداز بھی بہت پیارا ہوتا تھا۔ مثلاً انسانی حقوق کے حوالے سے مغرب کے دہرے معیار پرتبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ Dignity of man کی باتیں کرنے والوں کواسلام کے قانون قصاص پر بڑا اعتراض ہے کہ اس میں ایک جان ضائع ہو جاتی ہے۔ خود کسی سے انتقام لینا ہو تو بستیوں کی بستیاں تاراج کر لیں گے، لیکن قصاص میں ایک انگلی کے کٹنے پر یہ شور برپا کر دیتے ہیں۔ (روایت بالمعنی)

ڈاکٹر صاحب ؒ علم وعمل کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پایے کے منتظم بھی تھے۔ آپ نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا۔ یوں تو دعوۃ اکیڈمی،شریعہ اکیڈمی اوردیگر اداروں کے انتظام وانصرام باحسن طریق انجام دیے، مگر اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے آ پ نے جس نظم و نسق کا طلبہ واساتذہ کو پابند بنایا اور ایک مثالی تعلیمی ماحول قائم کیا، وہ قابل ستائش ہی نہیں قابل تقلید بھی تھا۔ عام طور پرڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کو صر ف ایک دینی سکالر اور ماہر تعلیم سمجھا جاتا ہے لیکن فی لواقع وہ اس سے کہیں زیادہ تھے۔وہ ایک مجتہد وفقہی ہونے کے علاوہ ایک مصلح کی سی شان کے حا مل بھی تھے۔ان کی بہت ہی پختہ رائے تھی کہ اسلام کے عادلانہ نظام کے اندر انسانیت کے تمام دکھوں کا مداوا موجود ہے اور آج اگر اس نظام عدل وقسط کودنیامیں قائم کر کے دکھا دیا جائے تو دنیا اسلام کی طرف لپک پڑے گی اور باطل نظاموں کے مظالم میں گھری ہو ئی انسانیت سکھ کا سانس لے سکے گی۔ وہ لکھتے ہیں:

’’عالم قرآنی یا قرآنی دنیا سے مراد انسانی زندگی کا وہ ڈھنگ ہے جو قرآن مجید کی تعلیم وہدایات پر استوار ہو۔ گذشتہ تین صدیوں سے اسلامی ادبیات اور اسلامی فلسفہ سیاست وقانون کا سب سے اہم موضوع یہی رہا ہے کہ اس مثالی دنیا کو از سر نو دریافت کیا جائے جو ہر مسلمان کے دل کی آواز ہے، جو مشرق و مغرب کے اہل ایمان کے لیے ایک ایسے آئیڈیل کی حیثیت رکھتی ہے جس کے حصول کی خاطر نہ معلوم کتنی نسلیں قربانیاں دیتی چلی آرہی ہیں۔ نہ معلوم کتنی سعید روحیں اس ہدف کے حصول میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہیں۔ نہ معلوم کتنے اہل علم و دانش کے شب و روز اس عالم منتظر کی تفصیلات پر غور و خوض کرنے میں صرف ہوئے ہیں۔ یہ عالم قرآنی دنیائے اسلام کی وہ منزل و مقصود ہے جس تک پہنچنے کے لیے لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں نے جان و مال کی بازیاں لگائی ہیں۔ مسلم سیاسی مفکرین نے حکومت الہیہ، خلافت ربانی، اسلامی حکومت اور اسلامی ریاست کے عنوانات کے تحت اسی جہان مطلوب کے چہرے سے نقاب اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ فقہائے اسلام نے نفاذ شریعت اور فقہ اسلامی کی تدوین نو کے موضوعات پر جو کچھ لکھا ہے وہ اسی ہدف کو پیش نظر رکھ کر لکھا ہے۔ احیائے اسلام اور ملت اسلامی کی نشأۃ ثانیہ کے لیے گزشتہ چند صدیوں میں جو کاوشیں ہوئی ہیں ان کی منزل مقصود بھی ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھی جہاں قرآن مجید اور اسوہ رسول ؐ کو سامنے رکھ کر انفرادی اور اجتماعی زندگی کے اسلامی ڈھنگ اپنائے جاسکیں‘‘۔ (محکمات عالم قرآنی صفحہ۴، ۵)

ڈاکٹرصاحبؒ نے علامہ اقبال کے حوالے سے عالم قرآنی کے چار محکمات کا ذکر کیاہے یعنی ’’خلافت آدم، حکومت الٰہی، زمین ملک خدا ہے اور حکمت خیرکثیر ہے‘‘۔ (محکمات عالم قرآنی صفحہ۲۱) اسلام کے عادلانہ نظام، جس کو وہ عالم قرآنی کہتے ہیں، کے قیام کاخواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک علم الادیان اور علم الابدان کی دوئی کو ختم نہیں کیا جاتا۔ اس ضمن میں ان کا موقف یہ تھا کہ دینی ومذہبی علوم، علم وحکمت کی اساس ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ علم وحکمت کے دائرے میں علم اسماء وعلم تجربی (Modern Scientific Knowlege) بھی شامل ہیں۔ علوم وفنون کی یہ وحدت اسلام کے تصور علم کی بنیادہے۔ تعلیم میں دوئی سے فکرو نظر میں دوئی پیداہوتی ہے اور فکرو نظر میں دوئی سے اس وحدت فکروعمل پر زد پڑتی ہے جو عقیدۂ توحید کے لازمی نتیجے کے طور پر امت مسلمہ میں قائم رہنی چاہیے۔

ڈاکٹرغازیؒ کی فکری پختگی کامظہران کی مغرب کے بارے میں منفردرائے ہے۔ وہ مغربی تہذیب کو Secular کی بجائے مسیحی کہتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: 

’’ہمارے ہاں بہت سے حضرات سادہ لوحی سے مغرب کا مطالعہ کرتے ہیں اور مغرب کے ظاہری دعووں سے متأثر ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مغرب نے مذہب کوگھر سے نکال دیا ہے اور اب مغرب ہر مذہبی تعصب سے آزاد ہے۔ وہ حضرات یہ بھول جاتے ہیں کہ مغرب نے مذہب کوایک خاص علاقے سے نکالا ہے، گھر سے نہیں نکالا۔ مغرب کی ہر چیزعیسائی تہذیب وتمدن، عیسائی روایات اور عیسائی تعصبات پر مبنی ہے‘‘۔ (تعمیرافکار، اکتوبر ۲۰۰ء، ص ۲۱) 

ڈاکٹر محموداحمدغازی رحمہ اللہ کی زندگی کے یہ وہ پہلوہیں جن کا کسی درجے میں راقم الحروف کوعلم تھا۔ آئندہ کوئی صاحب عزم وہمت ان کی زندگی پر تحقیق کرکے ان کی شخصیت کے مزیدپہلوؤں کو اجاگرکرسکتا ہے۔ ایسی نابغۂ روزگار شخصیات کے بارے میں آگاہی آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا کام دے گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی دینی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہم سب کوان کا سا جذبہ اوراخلاص عطا فرمائے۔ جس لگن ومحنت سے انہوں نے دین وملت کی خدمت کا فریضہ بحسن وخوبی انجام دیا، اللہ ہمیں اس میں سے کچھ حصہ نصیب فرمائے۔ اللھم اغفرلہ وارحمہ وحاسبہ حسابا یسیرا۔ آمین یا رب العٰلمین۔

شخصیات

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان