معدوم قطبی تارا

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

(۳ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں کی جانے والی گفتگو جسے مصنف کی نظر ثانی کے بعد شائع کیا جا رہا ہے۔)


محترم جناب مولانا ابوعمار زاہد الراشدی صاحب، 

برادرم مولانا مفتی محمد زاہد صاحب اور معزز خواتین و حضرات! 

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ زندگی بھر میرے لیے آسانیاں پیدا کرتے رہے، لیکن کبھی کبھی میرے لیے مشکلات بھی کھڑی کر دیتے تھے۔ ان میں سے دو ایک کا ذکر تو آگے چل کر کروں گا۔ فوری طور پر تو یہ کہ ان کے اس دنیائے فانی سے اچانک رخصت ہوجانے کے بعد آج ان کی نسبت سے میرے لیے سب سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ مجھے ایسے شخص کے بارے میں گفتگو کرنے کی دعوت دی گئی ہے جو خود فصاحت وبلاغت کا مرقع تھا۔ اور جو شخص فصاحت و بلاغت میں اپنی مثال آپ ہو، اس کی شخصیت پر گفتگو کرتے وقت انصاف کا دامن تھامنا دیہاتی پس منظر کے حامل میرے جیسے شخص کے لیے خاصا مشکل کام ہے۔ ان کی قدرت کلام اور میری بے ربط باتوں میں آپ کو وہی فرق دیکھنے کو ملے گا جو امریکہ اور ویت نام کی ٹیکنالوجی کے درمیان ہے۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کی وفات نے میرے لیے یہ ایک مشکل کھڑی کر دی ہے۔ اس کے باوجود جس کسی نے بھی محترم عمار ناصر کو میرے بارے میں بتایا کہ وہ مجھے یہاں خطاب کا شرف بخشیں، میں اس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کے ساتھ میرے نیاز مندانہ تعلق کے حوالے سے اس شخص کا انتخاب غلط نہیں ہے۔

جب مجھے مولانا موصوف کے حوالے سے فون آیاتو مجھے تعجب ہوا اور پریشانی بھی ہوئی کہ اس کڑے امتحان سے کیسے نکلوں گا۔ ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور میرے درمیان کچھ نہ کچھ مشترک چیزیں رہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ میڈیا بیزار آدمی تھے اور میں بھی ہجوم اور مجمع سے دور رہنے کا عادی ہوں۔ شاید ہی کوئی کہہ سکے کہ میں نے اس طرح کے مجمع عام میں کبھی تقریر یا خطاب کیا ہو، اگرچہ پیشہ کے لحاظ سے استاد ہوں۔ لیکن مجھے یہاں آپ کے سامنے کھڑا ہونے کی توقع پردو وجوہ کے باعث تسلی ہوئی کہ ایک تو یہ کہ ایک امید موجود ہے۔ روزِ محشر جب میں اللہ کے سامنے پیش ہوں ،کہ وہ ستارالعیوب ہے اور دعا ہے کہ روزِمحشر کو وہ ہماری خامیوں پر پردہ ڈالے اور یہ بھی دعاہے کہ قیامت کے دن ہماری خوبیوں کو ظاہر کرے۔ میں دل کی گہرائیوں سے کہہ رہا ہوں کہ میں اس توقع کے ساتھ یہاں حاضر ہوا ہوں کہ یہ جو اتنے سارے انفس متبرکہ بیٹھے ہیں کہ میں انہیں یہاں گواہ بنا کر اور گواہی دے کر دنیا سے رخصت ہو جاؤں کہ ڈاکٹر صاحب کردار کی کس بلندی پر تھے۔ 

۲۶ ستمبر کی صبح کو ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی صاحب نے غالباً مجھے سب سے پہلے فون پر ان کی رحلت کی اطلاع دی تو میں گھر کے باہر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ ڈاکٹرفاروقی صاحب شریعہ اکادمی اسلام آباد کے ڈائریکٹر ہیں اور بہت ہی نیک سیرت، سچے اور امانت دار شخص ہیں۔ میں نے جب ان کی بات سنی تو چیخ کر کہا کہ ڈاکٹر صاحب! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اللہ معاف فرمائے، میں یہی سمجھا کہ وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔ اتنے میں انہوں نے فون بند کر دیا۔ اپنے اطمینان کے لیے میں نے ڈاکٹر غازی صاحب کے گھر فون کیا تو معصوم بچی کی معصوم سسکیوں نے خبر کی تصدیق کر دی۔ اس کے بعد میں نے چند دوستوں کو اطلاع دی اور ڈاکٹر صاحب ؒ کے گھر جانے کی تیاری کی چونکہ ان کے ساتھ ہمارے دیرینہ خاندانی مراسم تھے، اس لیے جب ہم وہاں پہنچے تو میں نے ڈاکٹر غزالی صاحب کو گلے لگا یا اور دھاڑیں مار نے کو دل چاہا تو پتہ چلا کہ غزالی صاحب صبرو استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔ جب میری اہلیہ ڈاکٹرصاحبؒ کے گھر کے اندر گئیں تو واپسی پر انہوں نے بتایا کہ اتنا بڑا صدمہ سہنے کے باوجود ڈاکٹر صاحبؒ کی والدہ محترمہ تعزیت کو آنے والوں کو صبر کی تلقین کر رہی ہیں۔ 

ڈاکٹر صاحب ؒ موصوف سے میری پہلی ملاقات ۳۰؍ ستمبر ۱۹۸۱ء کو تب ہوئی جب میں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ کے لیے گیا۔ وہ اس کمیٹی میں تھے جو امیدواروں کا انٹر ویو کررہی تھی۔ اس کمیٹی کے تین ارکان تھے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تینوں کے نام محمود تھے۔ ان میں ایک محمود شرف الدین، مصری استاد تھے اور اب بھی یونیورسٹی میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو طویل زندگی دے۔ دوسرے رکن پروفیسر سید احمد محمود ، علی گڑھ سے پڑھے ہوئے استاد تھے۔ اللہ ان کی قبر نور سے بھر دے ۔ اور تیسرے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ تھے۔ اللہ سے التجا ہے کہ وہ انہیں اپنے قریب جگہ دے۔

جب ان لوگوں نے انٹرویو کر لیا تو من جملہ دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر غازی صاحبؒ مجھ سے پوچھنے لگے کہ اگر آپ کو شریعہ کی بجائے اصولِ دین میں داخلہ دے دیا جائے تو کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ ’’اصول دین میں میرا میلان نہیں ہے‘‘۔ پوچھا: ’’فقہ پر کوئی کتاب پڑھی ہے‘؟‘ ان دنوں میں سرعبدالرحیم کی کتاب ’’اصول فقہ اسلام‘‘ پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا: ’’سرعبدالرحیم کی کتاب ’’اصول فقہ اسلام‘‘ پڑھ رہا ہوں‘‘۔ یوں داخلہ ہو گیااور میں چار سال تک اسلامی یونیورسٹی میں پڑھتا رہا۔ اسی دوران ڈاکٹر صاحبؒ کی علمی پختگی نے ہم سب کو خرید لیا۔ 

چار سال بعد ایل ایل ایم میں داخلے کے لیے انٹرویو ہوا۔ حسب دستور پھر ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ اس کمیٹی میں بھی ڈاکٹر غازی صاحبؒ موجود تھے۔ اس میں ڈاکٹر حسین احمد حسان جو بعد میں اسلامی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی بنے، موجود تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایل ایل ایم میں داخلہ لینے آئے ہو (بات عربی میں ہورہی تھی) تو شرکات کی قسمیں بتائیں۔ میں نے شرکۃ الصنائع سے شروع کیا، حالانکہ ترتیب تو کچھ اور تھی۔ شرکۃ الابدان تک پہنچاتو تیسری قسم یاد نہ آئی۔ تھوڑا ادھر ادھر دیکھا، گلے میں اٹکا تھوک نگلا تو شرکۃ الوجوہ یاد آگئی۔ اب چوتھی قسم یاد نہ آئے۔ پھر ادھر ادھر دیکھا۔ معلوم ہوا، ڈاکٹر غازی صاحب منہ میں کچھ بدبدا رہے ہیں۔ ہونٹوں کی جنبش اوپر نیچے دکھائی دی تو معلوم ہوا ’’میم‘‘ کی طرف اشارہ ہے۔ اس طرح میرے ذہن میں مفاوضہ کا لفظ ابھرا جو میں نے ادا کیا اور یوں میرا داخلہ ہو گیا۔ فی الحقیقت ڈاکٹر صاحب ہر کسی کو ہمیشہ کچھ نہ کچھ دینے کے لیے کوشاں رہتے تھے، اسی لیے اس انٹرویو میں بھی مجھے کچھ نہ کچھ دینے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ بات ایک اور مثال سے زیادہ واضح ہو گی۔

ابھی چھ ماہ پہلے ڈاکٹر صاحبؒ نے مجھے کہا کہ ملک سے باہر کچھ وقت لگا آؤ، تاکہ نیا کلچر اور نیا رنگ دیکھنے کو مل جائے۔ میں نے ایک برطانوی یونیورسٹی کی ایک خالی اسامی کے لیے درخواست دی۔ آپ کو پتہ ہے بیرون ملک اس قسم کے کاموں کے لیے کسی حوالے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ میں نے ان سے گزارش کی کہ یہ کام بالعموم استاد کے ذمے ہوتا ہے، لہٰذا ایک رائے تو آپ دیں۔ انہوں نے فوراً قطر سے اس یونیورسٹی کو خط لکھ دیا۔ میں نے پوچھا : ’’دوسرا خط کس سے لوں؟‘‘ بولے ’’سید سلمان ندوی صاحب سے لے لیں‘‘۔ میں نے کہا : ’’سید سلمان ندوی صاحب سے میرے کوئی زیادہ علمی مراسم نہیں رہے، اس لیے آپ انہیں کہہ دیں‘‘۔ کہنے لگے : ’’وہ میرے کہے بغیر خط دے دیں گے‘‘۔ پوچھا: ’’یہ کیسے ممکن ہے‘‘؟ بولے ’’بس ویسے ہی دیں گے بغیر علمی مراسم کے‘‘۔ پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے کہنے لگے : ’’دیکھو یہ بات ذہن میں رکھو، جو ’’سید ‘‘ہوتا ہے، وہ ہمیشہ نفع دیتا ہے اور اگر مجھے بھی شامل کرنا چاہو تو بیان یوں ہو گا کہ جوشخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا پیروکار ہو، سچی محبت کرنے والا ہو، وہ ہمیشہ نفع دے گا۔‘‘ ندوی صاحب نے واقعی خط دیا۔ 

لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں ہی ان کے زیادہ قریب تھا، اس لیے یہ سب کچھ ہوا۔ موصوف کی مثال ایسے ہی ہے جیسے آپ سورج کو باہرکھڑے ہو کر دیکھیں تو ہر آدمی یہ تصور کرے گا کہ یہ سورج سب سے زیادہ اسی کے قریب ہے۔ دلی میں بیٹھا ہوا شخص بھی یہی خیال کرتا ہے اور کابل میں بیٹھا ہوا بھی یہی خیال کرتا ہے کہ سورج بس میرے لیے ہے۔ ڈاکٹر صاحبؒ کی صورت حال بھی کچھ ایسی تھی کہ ان سے جو بھی ملتا تھا، وہ یہی سمجھتا تھا کہ وہ میرے سے زیادہ کسی کا اکرام نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ معاملہ سبھی کے ساتھ برابر ہوتا تھا۔ 

یہاں میں سامعین کو ایک دفعہ پھر یاد دلا دوں کہ یہ گفتگو منتشر یادداشتوں کے مجموعے میں سے کچھ یادوں کی ضوفشانی ہے۔ میں بس واقعات بیان کرتا جاؤں گا، نتائج آپ خود نکالیں۔

ایک دفعہ انہوں نے مجھے کہا کہ میرا پولیس اکیڈمی میں لیکچر ہے اور میں نے کہیں ضروری اجلاس میں جانا ہے، آپ میری جگہ پر جاکر لیکچر دے دینا۔ پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے۔ تب میں قدرے نوآموز تھا، اس لیے پریشان ہوا کہ وہاں پر پولیس آفیسر آتے ہیں، سینئر لوگ ہوتے ہیں، شاید انصاف نہ کر سکوں۔ خیر چلا گیا اور آج پندرہ سال سے وہاں ان کی نیابت کر رہا ہوں۔ بعد میں اندازہ ہوا کہ یہ ان کا وہ مخصوص انداز تھا جس کے تحت وہ اپنے ساتھیوں کو بغیر چونکائے، بغیر احساس دلائے آگے بڑھاتے تھے۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں جس میں سے ایک واقعہ مزید سن لیجیے۔

جنوری ۲۰۰۰ء میں جنوبی افریقہ میں وہاں کے مسلمان قانون دان اور اکاؤنٹنٹس کی ایسوسی ایشن معروف بہ ایسوسی ایشن آف مسلم اکاؤنٹنٹس اینڈ لائیر، ڈربن نے جو وہاں کی ایک مشہور تنظیم ہے، ایک سیمینار کیا۔یہ سیمینار اسلامی یونیورسٹی کے تعاون سے تھا۔ موصوف نے مجھے اس کا آرگنائزر مقرر کیا اور بیشتر امور میرے سپرد کر دیے۔ لیکچرار حضرات کا انتخاب بڑی حد تک میرے ذمہ تھا، اگرچہ ان سے مشاورت ایک بدیہی امر تھا۔ تنظیم نے ہمیں فقہ اور شریعت پر لیکچر دینے کے لیے کہا تو مجھے ڈاکٹر صاحب نے حکم دیا کہ دو چار ساتھی تیار کر لیں اور میں خود بھی تیار ہوں۔ ڈاکٹر صاحبؒ جمہوری نظر یہ کے آدمی تھے۔ ایک آدمی کے بارے میں مجھے کہا کہ ان کو بھی ساتھ لے جاؤ۔ میں نے کہا ۔ ’’ڈاکٹر صاحب، اسے چھوڑیں‘‘۔ انہوں نے ایک دفعہ کہا، دو دفعہ کہا۔ تیسری دفعہ فائل لے کر گیا تو میں نے کہا : ’’ڈاکٹر صاحب میں اسے نہیں لے جاؤں گا، اسے چھوڑیں‘‘۔ میں غلطی پر نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہوں۔ ڈاکٹر صاحب خاموش ہو گئے اورلگتا تھا کہ طبیعت پر جبر کر کے میری بات مان لی، حالانکہ مذکورہ شخص منصب کے لحاظ سے ان کے برابر کا تھا اور میرا دفتری قد کاٹھ اتنا نہیں تھا کہ میں اتنی بڑی جسارت پاکستانی دفتری نظام میں کر سکتا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو مکمل آزادی رائے، آزادی اظہار اور آزادی عمل دیا کرتے تھے۔ 

آگے سنیے! عین وہ دن جب افتتاحی تقریب تھی ۲۰۰۰ء میں عیدالاضحی کے ایک دن بعدتو عیدالاضحی سے ایک دن پہلے یونیورسٹی تو بندتھی، لیکن دفاتر کھلے تھے۔ ہمیں اپنے ایک دوست ڈاکٹر انواراللہ صاحب حال مقیم برونائی دارالسلام کے ویزا کی مشکلات تھیں، ان کا ویزا نہیں لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر غازی صاحب اس وقت نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکن تھے اور اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ یہ کونسل وفاقی کابینہ سے بھی اوپر ایک ادارہ تھا۔ گویا اس کے ارکان وفاقی وزرا سے بھی بلند منصب کے حامل تھے۔ مختلف امور کی انجام دہی کے لیے میں نے ڈاکٹر صاحب کو تقریباً تیس بار ۔۔۔جی ہاں تیس بار ۔۔۔ٹیلی فون کیا اور نیشنل سیکورٹی کونسل کے دفتر میں بیٹھے ہونے کے باوجود انہوں نے ہر بار میری بات کو سنا اور پوری رہنمائی فرمائی۔ حالانکہ ہم میں سے ہر ایک کا مزاج ایسا ہے کہ اگر ایک دفعہ ، دو دفعہ، تین دفعہ سے زیادہ چوتھی دفعہ فون سننا پڑ جائے تو اکتا جائیں گے، لیکن ڈاکٹر صاحبؒ نے دفتر میں بیٹھے ہونے کے باوجود ہر دفعہ پوری طرح بات کو سنا اور رہنمائی کی۔ مجال ہے کہ ان کے لب ولہجہ میں کوئی اتار چڑھاؤ آیا ہو۔ مجال کہ یہ کہا ہو ، بھائی خود جاؤ، خود کرو، تنگ کر رہے ہو، بلکہ پوری رہنمائی کرتے رہے کہ فلاں کو فون کرو، فلاں سے پوچھو، اب فلاں شخص کے پاس جاؤ، اس کے بعد فلاں کے پاس جاؤ۔ یہ ان کی تحمل مزاجی کی صرف ایک مثال ہے۔

جب سارا کام مکمل ہو گیا اور عید گزر گئی تو مجھے کہنے لگے: ’’میری سیٹ ادھر ادھر کر دو، میں عیدالاضحی کے تین دن بعد آؤں گا‘‘۔ اب میرے چھکے چھوٹ گئے۔ میں نے کہا: ’’افتتاحی تقریب میں جنوبی افریقہ کا چیف جسٹس ہوگا، آپ نہیں جائیں گے تو میں کیا کروں گا‘‘۔ ڈاکٹر صاحبؒ ایسے مواقع پر زیادہ بولتے نہیں تھے۔ کہنے لگے: ’’چونکہ آپ کو اس سے پہلے فلپائن وغیرہ میں جانے سے کام کا تجربہ ہو چکا ہے، اس لیے آپ چلے جائیں، میں تین دن بعد آ جاؤں گا‘‘۔ مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اکیلے ہی چلا گیا اور جنوبی افریقہ میں وہاں کے چیف جسٹس کے زیرصدارت منعقدہ تقریب میں میں نے ڈاکٹر غازی صاحب کی نیابت کی۔ بعد میں معلوم ہو اکہ اصل میں ڈاکٹر صاحب کا آدمی کو آگے بڑھانے میں ایک مخصوص اسٹائل تھا۔ 

ان کے کردار کی پاکیزگی کا ایک واقعہ سناتا ہوں۔ میں وہاں ڈربن میں اس ہوٹل کے استقبالیہ کے پاس لاؤنج میں بیٹھا ہوا تھا جہاں ہم سب ٹھہرے ہوئے تھے۔ یہاں اپنے ملک میں تو ہر ہوٹل پر فائیو اسٹار لکھ دیتے ہیں۔ لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ فائیو سٹار ہوتا کیا ہے، لیکن وہ کوئی ایکڑوں پر محیط تھری سٹار ہوٹل تھا جس میں لوگ میلوں کے حساب سے چہل قدمی کرتے تھے ۔ ایک دن ایسے ہوا کہ اتفاق سے یہ جگہ جہاں ہم بیٹھے ہوئے ہیں [ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے تہہ خانہ میں] اس ہوٹل کے لاؤنج جیسی ہے ۔یہی سمجھ لیں مجھے بات سمجھانے میں آسانی ہو گی۔ یوں ان سیڑھیوں کے سامنے ایک آئینہ لگا ہوا تھا اور استقبالیہ پر ایک سفید فام افریقی نژاد لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ اگرچہ جنوبی افریقہ میں اکثریت سیاہ فام آبادی کی ہے، تاہم اقلیت میں تقریباً ۳، ۴ فی صد گورے افریقی بھی ہیں۔ بہرحال وہاں ایک نہایت خوبصورت لڑکی جس کی عمر تقریباً ۳۰،۳۲ سال ہوگی، کھڑی تھی۔ آج سے پیچھے جنوری ۲۰۰۰ء میں چلے جائیں تو ڈاکٹر صاحبؒ کی عمر اس وقت تقریباً ۴۹ سال کی تھی۔ یہ کوئی ایسی عمر نہیں ہے، جس کو بڑھاپے پر محمول کیا جائے اور ویسے بھی ڈاکٹر صاحب کی صحت تادمِ رحلت بہت اچھی تھی۔ اب ہوا ایسے کہ جوں ہی ڈاکٹر صاحب کی نظر اس خاتون پر پڑی تو انہوں نے فوراً آنکھیں نیچی کر لیں۔ میں سب کچھ آئینے میں دیکھ رہا تھا۔ یہ بات میں نے اپنی طرف سے آئینہ میں نوٹ کی۔ دنیا کا کوئی دوسرا جاننے والا شخص وہاں پر دیکھنے والا نہیں تھا اور ڈاکٹر صاحب کو وہاں میری موجودگی کا نہ تو علم تھا اور نہ میں ایسی جگہ بیٹھا تھا کہ انہیں علم ہو سکتا۔ وہ جو حدیث میں آتا ہے کہ اگر غیرمحرم پر پہلی نظر غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر پڑ جائے تو معاف ہے، دوسری کا مواخذہ ہو گا۔ اس موقع پر میں نے دیکھا کہ اس سارے عمل میں ڈاکٹر صاحب میں کوئی تصنع نہیں تھا، کوئی بناوٹ نہیں تھی، کوئی ریاکاری نہیں تھی۔ پھر وہ فطری طریقے پر رواروی میں ہمیں تلاش کرتے کرتے میز پر آ کر میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ 

آپ خواتین و حضرات کو گواہ بنا کر میں اللہ کی عدالت میں ان کے حق میں گواہی دیتا ہوں کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی پاکیزہ کردار کے مالک تھے۔ 

ڈاکٹر صاحب مالی معاملات میں بھی بڑے دیانت دار تھے۔ 

۱۹۹۹ء میں یکم اگست سے ا۳؍ اگست تک ایک عدالتی پروگرام چلانے کے لیے فلپائن میں جانے کا ہوا۔ فلپائن کے اس سفر کی مثال ، میں اس طرح دینا چاہوں گا کہ آپ پاکستان میں گویا کراچی ائیرپورٹ پر اترے۔ اگلی فلائٹ سے پشاور میں پہنچے، پھر بس یا کار میں پشاور سے کالام پہنچے۔ اس طرح فلپائن میںآپ گویا منیلا میں بذریعہ ہوائی جہاں اترے، پھر پشاور جیسے ایک چھوٹے شہر زیمبوانگا میں بذریعہ ہوائی جہاز اترے اور وہاں سے بذریعہ بحری جہاز ایک اور چھوٹے بلکہ بہت ہی چھوٹے شہر میں جاپہنچے۔ وہ جگہ آخری جزیرہ ہے جس کے بعد ایک جزیرہ چھوڑ کر ملائشیا شروع ہو جاتا ہے۔ جہاں ہم نے جانا تھا، وہاں جنگلات تھے اور دن میں آٹھ گھنٹے بجلی بند رہتی تھی۔ ٹی وی نشریات کوئی نہیں تھیں بلکہ وہ کیبل پر چلتا تھا۔ ٹیلی فون لینڈ لائن کوئی نہیں تھی، صرف موبائل فون تھے۔ اخبار تین دن بعد پہنچتا تھا۔ یوں سمجھیے جو درمیانی شہر ہے جس کی مثال میں نے پشاور دی ہے، وہاں تک تو ہم بذریعہ ہوائی جہاز پہنچے۔ 

ڈاکٹر غازی صاحب نے خود ہفتہ دس دن بعد آنا تھا۔ اس درمیانی شہر سے اصل جگہ تک جانے کے لیے اٹھارہ گھنٹے تک ہماری سوزوکی نمابحری جہاز میں سفر ہوتا تھا۔ جہاز میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس میں تقریباً پانچ چھ سو لوگ سفر کرتے تھے۔ اس منظر کشی کے بغیر شاید میں بات واضح نہ کر سکوں۔ اس میں جتنے بھی مسافرہوتے تھے ، ان کی لباس کی ہیئت کچھ اس طرح تھی کہ دیسی زبان میں ہم اسے نکر یا ’’کاچھا‘‘کہہ سکتے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ ان لوگوں نے اس طرح کا مختصر لباس پہنا ہوا تھا۔ لوگ عام نچلے طبقے کے ماجھے گامے تھے۔ تہذیب سے دور، کوئی سوشل لائف نظر نہیں آتی تھی۔ آپ خود ان لوگوں کے بارے میں اندازہ کر لیں کہ کس طرح کے لوگ ہوئے ہوں گے۔ عام سوسائٹی کے لوگوں میں غالب اکثریت عیسائی تھی۔ درمیانی شہر سے سوزوکی نماجہاز مغرب کے بعد وہاں سے چلا اور اگلے دن ظہر اور عصر کے درمیان اپنی منزل کو پہنچا۔ اس درمیانی شہر سے ۱۳؍ نشستوں والا ایک ہوائی جہاز بھی ہماری منزل تک چلتا تھاجوصرف چار دن چلتا تھا :غالباً پیر، منگل ، جمعرات اور جمعہ۔ 

یہ بات ذہن میں رہے کہ ڈاکٹر صاحب اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے۔ وہاں پر سیٹوں کا کچھ مسئلہ پیدا ہوا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا:’’آپ نے مجھ پر جو بندشیں لگائی ہوئی ہیں، ذرا سی تو کم کریں۔ سیٹیں مل نہیں رہیں اور لوگوں کی فلائٹ تبدیل کرنی ہے۔ آپ سپریم کورٹ کے جج ہیں، مجھے ایک ٹیلی فون کی اجازت دیں تو میں منیلا میں پاکستانی سفارت خانے سے کہہ دوں‘‘۔ کہنے لگے :’’نہیں ، نہیں، عام پاکستانی کی طرح رہا کریں اور عام پاکستانی کی طرح زندگی گزارا کریں، سفارت خانے وغیرہ کے چکر میں نہ پڑا کریں‘‘۔ میں چپ ہو گیا۔ ہاں تو وہ جو میں کہہ رہا تھا کہ واپسی پر ان کے شیڈول کے مطابق ہوائی جہاز موجود تھا، اس جگہ آتے ہوئے تو وہاں کی انتظامیہ اور لوگوں نے ٹکٹ دیا تھا۔ واپسی کا ٹکٹ شریعہ اکیڈمی کے ذمہ تھاجس کا ذمہ دار میں تھا ۔ میں نے کہا : ’’ڈاکٹر صاحب مجھے اپنا پاسپورٹ دیں‘‘۔ پوچھا: ’’کیا کرنا ہے‘‘۔ میں نے کہا : ’’ آپ کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ لینا ہے‘‘۔ بولے: ’’ارے نہیں! میں بحری جہاز پر واپس پر جاؤں گا‘‘۔

اس جہاز کی سونے والی نشست کا منظر کچھ یوں تھاکہ اس کی چوڑائی بہت ہی کم تھی اور پھر ایک نشست کے اوپر تلے کل تین آدمی سوتے تھے۔ ضرورت پڑنے پر کروٹ لینا ہوتی تو آدمی پہلے اٹھ بیٹھتا اور پھر اپنی کروٹ بدلتا تھا۔ میں نے کہا : ’’ڈاکٹر صاحب !اتنی مشقت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ۔ آپ ہوائی جہاز پر آرام سے جائیں‘‘۔ بولے: ’’میں جہاز پر جا کر کیا کروں گا‘‘ ۔ مجھے پتہ تھا کہ اس جہاز پر سفر کرنا نہایت مشکل ہے۔ میرے ضد کرنے پر بولے :’’آپ چھوڑیں، مجھے یہ سب معلوم ہے اور میں گزشتہ سال دعوہ اکیڈمی کے ایک پروگرام میں اس بحری جہاز پر سفر کر چکا ہوں‘‘۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ ہوائی جہاز میں کتنے پیسے لگتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ تقریباً۲۵۰۰روپے پاکستانی، جب کہ بحری جہاز میں۷۰۰/۸۰۰روپے لگتے ہیں، یعنی اسی طرح دونوں کے کرایے میں کوئی اٹھارہ سو پاکستانی روپے کا فرق تھا۔ جب انہوں نے یہ سنا تو بغیر تقریر کیے مسکرا کر خاموش ہو گئے۔ نہ یہ کہا کہ قوم کا پیسہ ہے، خون پسینہ کی کمائی ہے، کوئی حدیث نہیں سنائی، کوئی لیکچر نہیں دیا۔ میں ڈاکٹر صاحب کی اس مسکراہٹ کے بارے میں انہیں کہا کرتا تھا: ’’ اسے ’’تبسم سقم شناس‘‘ کہنا مناسب ہے‘‘ؒ ۔وہ انسان کی غلطی محسوس کرنے کے بعد ہلکا سا مسکراتے تھے، پھر بات کا رخ دوسری طرف بدل دیتے تھے ۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے بولے :’’ بھائی ! بحری جہاز میں دو چار کتابیں پڑھ لوں گا، کیا ضرور ہی سونا ہے؟‘‘ مجھے یہ بھی معلوم تھا، انہیں بھی پتہ تھا کہ وہاں اس بحری جہاز میں تو ۱۵، ۲۰ واٹ کا بلب لگا ہوا تھا، وہاں تو نہیں پڑھ سکتے تھے۔ میں حیران تھا کہ آپ پہلے بھی سفر کر چکے تھے اور یہ جانتے بھی تھے۔ سپریم کورٹ کے جج تھے، اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل تھے، یونیورسٹی کے وائس پریذیڈنٹ تھے۔ ذرا دوسری طرف ملک کے عدالتی نظام کے سب سے نچلے پرزے، سول جج کے بارے میں آپ خود تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں اعلیٰ حضرت کی تشریف آوری پر کیا کیا ہاہا کار مچتی ہے۔ استحقاق کے سوال جنم لیتے ہیں۔ ٹی اے ڈی اے کی جمع تفریق ہوتی ہے۔ اے اللہ !میں گواہی دیتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس جہاز پر پاکستان کے کسی بالکل عام شخص کی طرح سفر کیا ،حالانکہ وہ اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے۔ 

جب وطن واپس پہنچے تو ہمارے ٹی اے ڈی اے کا حساب ہوا۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ پوری دیانت داری سے اپنا اور ان کا بل ڈائریکٹر فائنانس کے پاس بھیجاجو ان کے ماتحت تھے۔ اس نے کوئی دس ہزار روپے کم کر دیے اور غلط کم کیے۔ میں فائل اٹھا کر ان کے پاس چلا گیا اور کہا : ’’آپ ڈائریکٹر فنانس کو سمجھا نہیں سکتے ، اس نے دس ہزار کی کٹوتی کی ہے‘‘۔ بولے : ’’چھوڑو، اب اس نے لکھ لیا ہے، میں اس کو کیا کہوں‘‘۔ پہلے تو میرے دل میں ملال ہوا کہ دس ہزار روپے کم ہورہے ہیں، لیکن پھر میرے ذہن میں آیا کہ میرے تو صرف دس ہزار روپے کم ہو رہے ہیں، ان کے تو تقریباًبیس ہزار کے لگ بھگ کم ہورہے ہیں، لہٰذا چپ ہو گیا۔

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یادیں توبہت ہیں، لیکن ترتیب سے بیان کرنا میرے لیے مشکل ہے ۔ ممکن ہے کہ آپ اس بات کو پسندنہ کریں کہ میری گفتگو بے ربط ہے اور اس میں ترتیب نہیں ہے، لیکن آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ میں جو کچھ آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں، دل کی گہرائیوں سے بیان کر رہا ہوں۔ جو کچھ میں نے بیان کیا اللہ کو گواہ بنا کر بیان کیا ہے۔ 

یہاں ایک ضروری بات بیان کرنا اہم ہے۔ پھر میں اپنے بیان کو ختم کرنا چاہوں گا۔ 

آپ دیکھیں گے کہ تاریخ اسلام میں رجال کی کتابوں میں بہت سی جگہوں پرخاص طورپر تراجم کے اثاثہ میں، کہا جا سکتا ہے کہ اس میں خاصی افراط وتفریط ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ میرے جیسے کسی نادان طالب علم کو استاد یا شیخ کے ساتھ اتنی محبت اور تعلق ہو گیا ہوتا ہے کہ اسے ان کی غلطی نظر ہی نہیں آتی۔ پس یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے معاملے میں میرے ساتھ ایسے نہیں ہے، اس کی بھی میں آپ کے سامنے وضاحت کر دوں۔ 

ویسے تو میں نے ان سے کئی بار اختلاف کیا، لیکن دو تین واقعات آپ کے سامنے ذکر کرنا چاہوں گا۔ امریکی دستورمیں ایک عبارت Chosen Representatives of Congress کا ترجمہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی ایک تحریر میں ’’کانگریس کے چنیدہ ارکان‘‘ کیا۔ مجھے ایک تحریر لکھنے کا موقع ملا تو میں نے اس اپنی تحریر میں لکھا کہ ’’سپریم کورٹ کے ایک جج نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے جو آگے اس کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں‘‘۔ 

دراصل جمہوریت کے بارے میں ان کا اپنا ایک نقطۂ نظر تھا جو یہ تھا کہ جمہوریت ومہوریت ایسے ہی ہے۔ سوسائٹی پر رول کرنے کے لیے، اسے چلانے کے لیے سوجھ بوجھ رکھنے والے اور پڑھے لکھے افراد استحقاق رکھتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اس عبارت کا ترجمہ بھی تقریباً یہی کیا ہے کہ امریکی دستوریہی کہہ رہا ہے کہ منتخب ارکان نہیں، بلکہ چنیدہ ارکان ہوں گے اور چنیدہ میں کسی اور طریقے سے چنے گئے دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ ان کی تشریح ہو ا کرتی تھی۔ میں نے جب تحریر لکھی تو اس پر گرفت کی اور لکھا کہ سپریم کورٹ کے ایک سابق جج یہ تشریح کرتے ہیں حالانکہ امریکی دستوری تاریخ کے سوا دوسو سال میں کسی امریکی جج یا کانگریس کے کسی رکن نے آج تک یہ تشریح نہیں کی ہے جس طریقے سے ڈاکٹر غازی صاحب تشریح کر رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی اس فلٹر سے گزر کر کانگریس تک نہیں پہنچا، اس لیے ڈاکٹر غازی صاحب کی تحریر محل نظر ہے۔ میں نے یہ تحریر اسی طرح اپنے ایم فل کے مقالے میں بھی لکھی۔ جب میں یہ تحریر ان کے پاس لے کر گیا اور انہوں نے کہاکہ آپ کا مقالہ ٹھیک ہے۔ میں نے مذکورہ نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ، ’’ذرا اس بات کو غور سے پڑھیں‘‘۔ بولے : ’’ہاں، یہ بھی ٹھیک لکھا ہے‘‘۔ 

دوسرا واقعہ سن لیجیے اور ضمناً میں اس بات کی وضاحت کر دوں کہ اگر میں کہوں کہ وہ خطاؤں سے خالی تھے تو یہ ایمانیات سے متصادم گفتگو ہو گی۔ لیکن اس کے ساتھ میں آپ کو بتا دوں کہ میں نے اپنی زندگی میں دو شخص ایسے دیکھے ہیں جو بشری کمزوریوں کے باوجود بہت سی ناروا چیزوں سے خالی تھے۔ میں نے کئی مرتبہ ڈاکٹر صاحب کی کمزوریوں پر گرفت کی۔ اکثر اوقات تو اس کی وضاحت کر دیتے جس سے آدمی مطمئن ہو جاتا تھا۔ مثلاً یونیورسٹی میں ایک شخص کی تقرری ہوئی جو میرے نزدیک نہیں ہونی چاہیے تھی، بلکہ تقریباً تمام افراد کی رائے یہی تھی کہ وہ شخص سسٹم سے باہر کا ہے تو اس کو اس سسٹم میں کیوں لایا جا رہا ہے۔ ایک دفعہ میں ان کے پاس چلا گیا تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں مسئلہ کیا ہے۔ 

ذرا غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ امور سلطنت چلانا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ ہم اخباروں میں کیا کچھ لکھ دیتے ہیں، منبر رسولؐ پرمائیک مل جائے تو کیا کچھ باتیں کہہ دیتے ہیں۔ اس واقعے میں دراصل ایک صاحب تھے جو باربار میرے پاس بار بار آ رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مجھے اپنے پاس غیر ملکی طلبا والے سنٹرمیں استاد رکھ لو۔ میں اس وقت دعوۃ اکیڈمی کی طر ف سے اس سینٹر کاپرنسپل تھا۔ میں نے کہا کہ اب وقت گزر چکا ہے،کہاں رکھ لوں۔ اب ٹائم ٹیبل بھی بن چکا ہے۔ وہ صاحب ایک بڑے آدمی کی سفارش لکھوا کر لے آئے ، انکار کر دیا۔ پھر دوسرے کی لائے، پھر انکار کیا۔ پھر تیسرے کی ، میں نے پھر انکار کر دیا۔ حتی کہ ڈاکٹر غازی صاحبؒ کی لائے جو ہمارے ڈائریکٹر جنرل یعنی افسر اعلیٰ تھے۔ پھر بھی میں نے انکار کردیا۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے بلایا اور بولے : ’’میں بہت سی جگہوں پر جواب دہ ہوں، حتیٰ کہ صدر کوبھی ، وزیراعظم کو بھی وغیرہ۔ خیر یہ آدمی تو مولانا وصی مظہر ندوی کا ہے، اگر مولانا مجھے شام کو مل گئے تو میں انہیں کیا جواب دوں گا۔ اس کا بندوبست کر دو تو بہتر ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی میں نے اس شخص کا الٹا سیدھا بندوبست کر دیا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اب اسلامی یونیورسٹی وہ نہیں رہی جو آج سے دس پندرہ سال پہلے تھی۔ اس میں تدریج کے ساتھ علمی اور اس کی روایات کے لحاظ سے ہر آنے والے لمحہ میں ضعف آتا گیا اور آچکا ہے۔ ایسا ہی ضعف ان کے دور میں بھی آتا گیا۔ ایک دن ڈاکٹر غازی صاحب نے Islamic Jurisprudenceیعنی اصول فقہ اور اسلامیات سے متعلقہ اساتذہ کو بلایا۔ ہال بھرا ہوا تھا اور اکثراساتذہ موجود ہیں۔ ڈاکٹر غازی صاحب کے ایک طرف ڈاکٹر فضل الٰہی (احسان الٰہی ظہیر کے بھائی جو سعودی عرب سے پڑھے ہوئے ہیں ) اور دوسری طرف پروفیسر یوسف کاظم صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ من جملہ دیگر باتوں کے ڈاکٹر غازی صاحب کی منظر کشی اور طلاقت لسانی کسی حد تک زبان زدعام ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان دونوں اساتذہ کے ہاتھ پکڑ کر کہا :’’یہ دونوں حضرات حرمین شریفین میں رہ چکے ہیں۔ یہ میری بات کی تصدیق کریں گے‘‘۔ اس کے بعد اپنی گفتگو کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ عربی زبان پڑھنے کی افادیت اپنی جگہ تو مسلم ہے، لیکن انگریزی زبان بھی سیکھنا ہمارے لیے فرض کفایہ ہے ۔ اور کہا کہ تمام اساتذہ یہ دونوں کورس انگریزی ز بان میں پڑھائیں۔ اگر نہیں پڑھا سکتے تو اپنی انگریزی کو پالش کریں اور کورس انگریزی ہی میں پڑھائیں۔ 

ڈاکٹر صاحب کافی دیر تک انگریزی زبان میں کورس پڑھانے کے بارے میں بات کرتے رہے ۔ میرا ذاتی نظریہ یہ تھا کہ ہم لوگ علوم اسلامیہ کے پڑھنے پڑھانے والے ہیں جو عربی ز بان میں ہیں جس کی کمیت میں ہر آنے والے لمحے میں یعنی تقریباً پچھلے پانچ سال سے اس میں کمی واقع ہوتی جا رہی تھی۔ ادھر ڈاکٹر صاحب انگریزی زبان کے بارے میں رطب اللسان تھے اور مجھے پوری حقیقت کا علم نہیں تھا کہ پیچھے تاریں کون ہلا رہا ہے اور معاملہ کیا ہے۔ حقیقت تو بہت بعد میں جسٹس خلیل الرحمن صاحب نے بتائی کہ گزشتہ دنوں اس وقت کے انتہائی بدبخت صدر مملکت کی ہدایت پر یہ سب کچھ احتیاط سے کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران میں، میں سوال کے لیے کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے ایک دفعہ بٹھایا تو تھوڑی دیر بعدمیں دوبارہ کھڑا ہو گیا اور کہا کہ بات یہ ہے کہ آپ کی باتیں سن کر میرا ایمان بڑھ گیا ہے اور تازہ ہوا ہے۔ آج کے بعد مجھے جتنی انگریزی آتی ہے، اس کو مزید پالش کروں گا۔ تاہم آخر میں ، میں نے کہا :’’ڈاکٹر صاحب ! ایک گزارش کروں گا ۔ آپ ہی سے پڑھا ، سنا ہے کہ امام شافعیؒ نے کتاب الام میں لکھا ہے کہ عربی زبان کا سیکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے اور اب آپ بتائیں کہ اگر فرض عین اور فرض کفایہ میں تعارض ہو تو کس کو ترجیح حاصل ہو گی‘‘۔ میں نے مزید کہا : ’’آپ کے یہاں ہر آنے والے لمحے میں عربی میں ضعف آ رہا ہے‘‘ ۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ لاجواب ہو گئے۔ ادھر نماز ظہر کا وقت ہو چکا تھا اور یوں اجلاس ختم ہوگیا۔

میری اس بات کا مقصد یہ نہیں کہ میں ان سے گفتگو میں جیت گیا ، بلکہ یہ واقعہ سنانے کامقصد یہ ہے کہ آپ لوگ میری باتوں کومحض عقیدت نہ سمجھ لیں۔ میں ان سے کھل کر اختلاف بھی کیا کرتا تھا۔یہ جتنی باتیں میں نے آپ کو سنائی ہیں، یہ ان کے کردار کی بلندی اور عظمت کے گوشے ہیں، ان کا مقصد یہ ہے کہ قیامت کے دن آپ لوگ میری گواہی پر گواہی دے سکیں۔ 

اسی طرح ان کی علمی بلندی کی ایک بات سن لیجیے۔ میرے اور ان کے درمیان علمی لحاظ سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ میں پچھلے کافی عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہوں ، لا گریجویٹ ہوں ، لائسنس لینے کے لیے کچھ عرصہ پریکٹس بھی کی ہے ۔ اس نسبت سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے تقریباً ڈیڑھ درجن کے قریب جج حضرات سے قریبی مراسم ہیں۔ ان سے قانونی گفتگو ہوتی رہی ہے، قانون پڑھاتا ہوں، لیکن پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ ان سارے جج حضرات کے علم کو ایک طرف رکھ دیں اور ڈاکٹر صاحب کا انگریزی قانون سے متعلق جو علم تھا، اس کو دوسری طرف رکھ دیں تو ان جج حضرات کا علم ڈاکٹر صاحب کے علم کے مقابلہ میں پرکاہ جیسا بھی نہیں ہے ۔

میں نے ۱۹۹۳ء میں ایک ادارے میں ایک قانون پڑھانا شروع کیا اور اس قانون کا نام صنعتی قانون تھا۔یہ قانون عام لا کالجوں میں پڑھائے جانے والے قوانین سے ذرا ہٹ کر ہوتا ہے۔ اس میں اہم صنعتی قوانین شامل تھے۔ ملک میں بہت سے آرڈیننس نافذ ہیں جو سارے کے سارے نہیں پڑھائے جاتے بلکہ تعلیمی زندگی میں صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ قانون کہاں سے تلاش کریں۔ کچھ بنیادی اصول بتائے جاتے ہیں، لیکن سارے قوانین نہیں پڑھائے جا سکتے۔ اس ادارے میں ایسے ہی دس بارہ قانون تھے جو میں نے کبھی سنے بھی نہیں تھے۔ مثال کے طور پر ایک قانون Payment of Wages Act یعنی اجرتوں کی ادائیگی کا قانون ہے۔ یہ قانون فیکٹری اور کاروباری اداروں میں کام کرنے والوں کے بارے میں ہے۔ ایک اور قانون میں دیگر باتوں کے ساتھ ایک ترکیب illegitimate son and daughter یعنی ناجائز بیٹا اور بیٹی ہے جن کا قانون کے تحت صنعتی کارکن کی وراثت میں حصہ تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایک اسلامی ریاست میں کس طرح ممکن ہے کہ ناجائز بیٹے اور ناجائز بیٹی کو وراثت میں حصہ ملے۔ میں نے اپنے سے بہتر اہل علم اور جج حضرات سے دریافت کیا، تاہم کسی نے تشفی نہیں کرائی اور کسی کو کچھ پتہ بھی نہیں تھا۔ ادھر ڈاکٹر غازی صاحب بنیادی طور پر عربی زبان میں ڈاکٹریٹ تھے۔ انہوں نے مجھے اجازت دے رکھی تھی کہ اگر کوئی مشکل پیش آ جائے تو آپ دو بجے رات تک فون کر سکتے ہیں، لیکن میں نے ساری زندگی اس رعایت سے فائدہ نہیں اٹھایا تھا، مگر اس دن میں تنگ آگیا تھا کہ صبح کو لیکچر ہے اور میں ان طلبہ کو کیا پڑھاؤں گا۔ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ لفظ illegitimate کا ترجمہ بتا دوں گا۔ پاکستانی طلبہ خاموشی سے سن لیتے ہیں اور اگر کوئی بات کرے بھی تو استاد ڈانٹ ڈپٹ کر لیتا ہے ، میں بھی اسی طرح کروں گا۔ لیکن پھر سوچا کہ ڈاکٹر غازی صاحب سے پوچھ لوں جو آخری اوزار تھے۔ یقین کیجیے، انہوں نے مجھے دو تین منٹ میں یوں چٹکی میں سارا مسئلہ سمجھا دیا۔ اب آپ کے ذہن میں تجسس پیدا ہو رہا ہوگا کہ مسئلہ کیا ہے، آپ بھی سن لیں۔ 

یہ قانون انگریزوں کا وضع کردہ قانون تھا۔ ملک میں جس طرح انگریزوں کے دیگر قانون چل رہے ہیں، یہ قانون بھی چل رہا تھا۔ اب اس کا مرتبہ کیا ہے ؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ یہ قانون اور ایک دوسرا قانون سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تھا جہاں اسے غیراسلامی قرار دے دیا گیا تھا۔ اصل میں جب فوجی لوگ گاؤں اور دیہاتوں میں جا کر مشقیں کرتے ہیں تو اس دوران میں فصلوں وغیرہ کا نقصان ہوتا ہے تو ان کا اسٹیشن ہیڈکوارٹر لوگوں کی تلافی کرتا ہے۔ ایک دفعہ جب ایسی ایک ادائیگی کا موقع آیا تو اس دوسرے قانون میں بھی ناجائز اولاد کا بطور وارث ذکر موجود تھا۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے بتایا کہ کچھ دوسرے لوگ جو ناجائز اولاد تھے، وہ ورثا کے طور پر کھڑے ہو گئے اور قانون سامنے رکھ دیا۔ یہ قانون شرعی عدالت سے ہوتے ہوتے سپریم کورٹ گیاتوفیصلہ یہ ہوا ہے کہ قانون تو یقیناًموجود ہے مگر یہ غیر شرعی قانون ہے۔ چنانچہ یہ قانون تو اب تک موجود ہے، کیونکہ پارلیمنٹ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت یہ ختم ہو گیا ہے۔ اب اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا، لکھا ضرور ہے ۔ گویا اس مسئلے کی حالت ناسخ و منسوخ کی سی سمجھ لیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ سارا تجزیہ ۱۹۹۳ء میں کیا جب وہ یونیورسٹی میں محض ایسوسی ایٹ پروفیسر عربی تھے۔جج وہ ۱۹۹۹ء میں بنے تھے۔ اس وقت وہ ایک عام سے استاد تھے۔ عربی زبان پڑھاتے تھے۔ فقہ پڑھاتے تھے۔ بات دراصل یہ تھی کہ قانونی نظائر کے رسائل کا وہ تسلسل کے ساتھ مطالعہ کرتے تھے۔ 

ڈاکٹر غازی صاحب کس قدر نیک سیرت تھے ، کیا بتاؤں۔ میری معلومات کے مطابق قرآن کی سات منازل جو غالباً حضرت عثمانؓ کی طرف سے مقرر کر دہ ہیں، موصوف روزانہ ایک منزل پڑھتے تھے او ر یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ دن بھر وہ باوضو رہنے کا اہتمام کرتے تھے۔ اگرچہ دفتر میں بیٹھے ہوتے تھے۔ 

سامعین کرام! کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔ میرے لیے بہت صدمہ ہے۔ یقین نہیں آ رہا کہ وہ رخصت ہو گئے ہیں اور اگر ہوئے ہیں تو میری سمجھ سے بالا ہے کہ کیوں اتنی جلدی ان کی شام زندگی ہمیں دیکھنے کو ملی؟ لیکن سامعین کرام! ان کی وفات میں ایک مثبت پہلو بھی ہے جو شاید میں آپ سب لوگوں کو نہ سمجھا سکوں، لیکن سرکاری لوگ آسانی سے سمجھ جائیں گے۔ اسلام آباد میں لوگ ساٹھ سال عمر پوری کر کے ریٹائر ہو تے ہیں، لیکن باوسیلہ خواتین و حضرات کا ایک پورا غول پیر تسمہ پاکی طرح ہرطرف مسلط ہے۔ ان میں سے بیشتر کی عمر آج ۸۰، ۸۵ سال تک ہے ۔ مخلوق خدا ان کو کوستی رہتی ہے کہ مرتے کیوں نہیں اور کہتی ہے کہ یہ لوگ ہٹتے کیوں نہیں ہیں۔ کئی اصحاب تو منہ میں دانت نہ پیٹ میںآنت کے مصداق نماز کے دوران میں جس کرسی پر رکوع و سجود کرتے ہیں، میں نے اس کرسی کو بھی چرچرا کر غالباً کوستے سنا، لیکن حضرات ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ایک ریٹائرڈ آدمی ایسا بھی ہے کہ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ’’ عمرہوئی تیری سو، ہنڑتاں مغروں لوہ‘‘ یعنی تمہاری عمر سو سال ہو گئی ہے، اب تو پیچھا چھوڑو۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے بیشتر کے لیے میں نے لوگوں کو ہاتھ الٹے کر کے کوسنے دیتے سنا۔

سامعین کرام! ذرا توجہ فرمائیں، غور کریں۔ غازی صاحب بھرا میلہ چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اورمیرے یہ دوسرے ممدوح ؟ ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق، افلا یعقلون۔ 

۱۸؍ ستمبر کو ڈاکٹر صاحب کی ساٹھویں سال گرہ تھی۔ سرکاری اعتبار سے Joining time ہفتہ دس دن ہوتا ہے۔ وہ جائننگ ٹائم انہوں نے وفاقی شرعی عدالت میں گزارا۔ ساٹھ سال پورے ہوئے تو اللہ کی جواررحمت کو جائن کر لیا۔ اللہ نے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔ مجھے طمانیت ہوتی ہے کہ اللہ کے مقرب بندے تھے، مخلوق خدا کی بددعاؤں سے بچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب بہت خود دار آدمی تھے۔کبھی خود کو کسی منصب کے لیے انہوں نے پیش نہیں کیا۔

میں اسی بیان پر اپنی بات ختم کرتا ہوں حالانکہ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔ بہت شکریہ آپ سب کا۔ 

شخصیات

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

Flag Counter