ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد

ادارہ

۱۹ دسمبر ۲۰۱۰ء کو رابطۃ الادب الاسلامی پاکستان کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد میں ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ کی یاد میں ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں ممتاز اہل علم واہل دانش نے ڈاکٹر صاحب کی حیات وخدمات کے مختلف پہلووں کے حوالے سے اپنے خیالات وجذبات کا اظہار کیا۔ 

جامعہ امدادیہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد طیب نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں علمی اور عملی کمالات کے حامل افراد ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور ایسے حضرات کے راستے بھی ہمارے لیے راہنما راستے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو اللہ نے جامع صفات عطا فرمائی تھیں اور مختلف علمی طبقات ان سے استفادہ کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کا گوشت پوست اور جسم کی ہر چیز علم کی بنی ہوتی ہے اور ان کے اندر علم اس قدر راسخ ہو جاتا ہے کہ ان کی زبان سے جو بات بھی نکلتی ہے، علم ہی کی نکلتی ہے، حتیٰ کہ وہ مزاح کی بات کریں تو اس میں بھی علم کی چاشنی موجود ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب جس موضوع پربھی بات کرتے تھے، یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ذہن میں پہلے سے تیار شدہ کوئی منضبط کتاب ہے جس کو وہ پڑھتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے آثار علمیہ اور ان کے علوم وافکار کی اشاعت کے لیے کوئی جامع پروگرام بنانا چاہیے اور خاص طورپر ڈاکٹر صاحب سے دینی مدارس کے نصاب ونظام کی اصلاح اوربہتری کے حوالے سے جو کچھ کہا اور لکھا ہے، اسے وسیع پیمانے پر اہل مدارس تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ علما وطلبہ اس سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ 

ماہنامہ ’التجوید‘ کے مدیر ڈاکٹر قاری محمد طاہر نے ڈاکٹرغازی پر اپنے تفصیلی مضمون کے ایک منتخب حصہ سیمینار میں پڑھ کر سنایا۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر محمود احمد غازی اپنے پاس موبائل نہیں رکھتے تھے جس کی وجہ سے بعض اوقات ان سے رابطہ کرنے میں دقت پیش آتی تھی۔ ایک موقع پر انھوں نے ڈاکٹرصاحب سے پوچھاکہ وہ موبائل کیوں نہیں رکھتے تو انھوں نے کہا کہ اثمہما اکبر من نفعہما۔ قاری محمد طاہر نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب کی حیات میں انھوں نے یہ واقعہ اپنے کالم میں لکھا اور ڈاکٹر صاحب کے علم وفضل کی تعریف میں کچھ کلمات لکھے تو ڈاکٹر صاحب نے ایک خط میں انھیں لکھا کہ: ’’یقین جانیے کہ آپ کا ممدوح اتنی تعریفوں کا مستحق نہیں جتنی آپ کے مضمون میں بیان ہوئی ہیں۔ یہ محض کسر نفسی یا تواضع نہیں، اظہار حقیقت ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب مرحوم کی طبیعت میں زہد کی خشکی نہیں تھی۔ شگفتہ مزاج تھے اور خط کا جواب دینا اس طرح ضروری خیال کرتے تھے جس طرح سلام کا جواب دینا۔ ان کے اندر تواضع اور انکساری بھی انتہا کی تھی۔ 

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے ڈاکٹر حافظ محمد سجاد نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے ساتھ ڈاکٹر محمود احمد غازی کا ایک طویل تعلق رہا۔ ان کی پہلی ملاقات ڈاکٹر حمید اللہ سے ۱۹۷۳ء میں ہوئی اور پھر ان کی وفات تک یہ تعلق قائم رہا۔ ڈاکٹر حمید اللہ کی وفات کے موقع پر ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے ادارۂ تحقیقات اسلامی اور علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں جو ریفرنس ہوئے، ان میں ڈاکٹر حمید اللہ کی حیات وخدمات پر سب سے عمدہ گفتگو ڈاکٹر صاحب نے ہی کی۔ علمی دنیا میں اور خاص طور پر پاکستان میں ڈاکٹر حمید اللہ کی علمی خدمات کو متعارف کرانے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کا بڑا کردار ہے۔ ڈاکٹر غازی ڈاکٹر حمید اللہ کو اس کے دور کے مجدد علوم سیرت کے نام سے یاد کرتے تھے۔ مطالعہ سیرت کے حوالے سے جتنی نئی جہات ڈاکٹر حمید اللہ نے متعارف کرائی ہیں، ڈاکٹر صاحب ان کے خوشہ چین تھے اور اس سلسلے کو آگے بڑھانا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی پر ڈاکٹر حمید اللہ کے علمی اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنی لکھی ہوئی تحریر میں کسی قسم کی کمی بیشی کیے جانے کو پسند نہیں کرتے تھے، لیکن ڈاکٹر غازی کو انھوں نے اس کی اجازت دے رکھی تھی، چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے حضرت علی پر ایک مقالہ اردو دائرۂ معارف اسلامیہ کے لیے لکھا لیکن اس میں شاید کچھ ایسی باتیں تھیں کہ وہ اس میں نہ چھپ سکا۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے وہ مقالہ ڈاکٹر غازی کو بھیجا اور ایک خط میں لکھا کہ ’’آپ کو اس میں ترمیم کی کامل آزادی ہے۔‘‘ 

ڈاکٹر حافظ محمد سجاد نے بتایا کہ ڈاکٹر غازی کے نام ڈاکٹر حمید اللہ کے ۱۲۶ خطوط ہیں جو انتہائی علمی، فکری ہیں اور ان میں عالم اسلام کے حالات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ ان خطوط سے بہت سے علمی اور تحقیقی نکات ہمارے سامنے آتے ہیں اور ڈاکٹرحمید اللہ کی علمی دلچسپیوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کون سے نئے موضوعات ان کے مطالعہ میں آتے رہتے تھے اور وہ فرانس میں بیٹھ کر عالم اسلام کے حالات پر کتنا غور وفکر کرتے رہتے تھے۔ اھوں نے بتایا کہ یہ خطوط ڈاکٹر غازی کی ہدایت پر کمپوز کر لیے گئے تھے اور ڈاکٹر صاحب ان خطوط کے حواشی تفصیل کے ساتھ خود لکھنا چاہتے تھے۔ میرے ساتھ آخری ملاقات میں انھوں نے فرمایا کہ اب میں پاکستان آ گیا ہوں، آپ کسی چھٹی کے دن آ جائیں تاکہ ہم اس کے حواشی لکھنا شروع کر سکیں، لیکن وہ اپنے اس ارادے کو عملی جامہ نہ پہنا سکے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ خطوط تفصیلی حواشی کے ساتھ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے مجلہ ’’معارف اسلامی‘‘ کی خصوصی اشاعت میں شامل کیے جائیں گے۔

ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ کے مدیر محمد عمار خان ناصر نے اپنی گفتگو میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کے سلسلہ محاضرات کی اہم فکری خصوصیات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب قدیم وجدید علوم پر گہری نظر رکھتے تھے، دور جدید کے فکری وتہذیبی مزاج اور نفسیات سے پوری طرح باخبر تھے اور آج کے دور میں اسلام اور مسلمانوں کو فکر وفلسفہ، تہذیب ومعاشرت، علم وتحقیق اور نظام وقانون کے دائروں میں جن مسائل کا سامنا ہے، وہ وسعت نظر، گہرائی اور بصیرت کے ساتھ ان کا تجزیہ کر سکتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کا مقبول عام سلسلہ محاضرات ان کے غیر معمولی فہم وادراک اور علم وبصیرت کا ایک مظہر ہے۔ یہ محاضرات دور حاضر میں اسلامی دانش کا ایک بلند پایہ اظہار ہیں اور انھیں اردو زبان کے اعلیٰ اسلامی لٹریچر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ 

پنجاب یونیورسٹی لاہور کے حافظ عبد الباسط نے اپنے مقالے میں ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ’’محاضرات حدیث‘‘ کے پس منظر اور اہمیت پر روشنی ڈالی اور مختلف خطبات کے مشمولات کا جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان خطبات میں فتنہ انکار حدیث سے ایک مضبوط دفاع فراہم کیا گیا ہے۔ انھوں نے مختلف خطبات میں زیر بحث آنے والے اہم موضوعات اور اہم علمی نکات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان خطبات میں آسان اور عام فہم انداز میں مشکل اور پیچیدہ مباحث کو بیان کیا ہے اور علمی متانت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یادداشت اور مختصرنوٹس پر مبنی ہونے کی وجہ سے ان محاضرات میں علمی اعتبار سے کچھ خامیاں بھی رہ گئی ہیں۔ انھوں نے تجویز پیش کی کہ اگر کوئی صاحب علم اس پوری کتاب کا ایک اشاریہ مرتب کر دیں، معلومات کی توثیق کر دیں اور جو جگہیں قابل اصلاح ہیں، ان کی اصلاح کر دیں اور ہر بحث کے ممکنہ مصادر کا تذکرہ حاشیے میں کر دیں تو کتاب کی افادیت دوچند ہو جائے گی۔

ادارۂ تحقیقات اسلامی کے ریسرچ ایسوسی ایٹ ڈاکٹر محمد تنویر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر غازی ان کے پی ایچ ڈی کے نگران تھے۔ بطور معلم ان میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو کسی کامیاب معلم میں ہوتی ہیں۔ وہ کئی پیچیدہ مسائل بآسانی طلبہ کو سمجھا دیتے تھے۔ کلاس میں مختلف تدریسی مناہج اختیار کرتے تھے۔ عام طور پر مدارس یا جامعات میں تدریس کا مرکز استاذ ہوتا ہے۔ غازی صاحب نے ہمارے لیے جو تدریسی منہج اختیار کیا، اس میں مرکز طلبہ ہوتے تھے۔ وہ کسی موضوع کے اہم مسائل ومباحث کا تعارف کروا کر مآخذ ومصادر کی طرف راہنمائی کر دیتے اور فرماتے کہ لائبریری میں ان مآخذ کا مطالعہ کر کے فلاں پہلو پر لکھیں اور لکھ کر تحریر مجھے دکھائیں۔ اس منہج کا بہت زیادہ فائدہ ہوا۔ کتابوں تک رسائی ہوئی اور قدیم مصادر اور جدید کتابوں سے اخذ واستفادہ کا ملکہ پیدا ہوا۔ جب کسی مسئلے پر بحث فرماتے تو یوں لگتا تھا کہ ان کے سامنے کوئی کتاب کھلی ہوئی ہے۔ بہت مرتب اورمربوط گفتگو ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی کسی بھی مسئلے پر مختلف زاویوں سے نظر ڈالتے تھے۔ کہتے تھے کہ فقہا نے جو دلیل دی ہے، دیکھیے کہ مفسرین نے اس کو کیسے دیکھا ہے اور محدثین کا زاویہ نظر کیا ہے۔ پھر یہ کہ مختلف ادوار کے فقہا کا موقف کیا ہے۔ اس سے اس مسئلے کی پوری تصویر سامنے آ جاتی تھی۔ پھر وہ تفسیر، حدیث، لغت وغیرہ مختلف علوم کے حوالے سے راہنمائی کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ترتیب زمانی سے علما کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ سلف نے اس کو کیسے دیکھا، بعد میں آنے والوں نے اس میں کیاموقف اختیار کیا اور جدید دور کے اہل علم نے اس پر کیسے غور کیا ہے۔ کہتے تھے کہ جہاد کے بارے میں ہمارے بہت سے علما کا موقف اعتذاری رہا ہے۔ اس کی ضرورت نہیں۔ آپ جم کر اسلام کے موقف کو پیش کیجیے۔ مثلاً جزیہ ایک ظالمانہ ٹیکس ہے یا نہیں، اس پر کلاس میں کافی بحث ہوتی رہی۔ پھر انھوں نے سمجھانے کے لیے کہا کہ آپ جزیے کا مقارنہ زکوٰۃ کے ساتھ کریں کہ زکوٰۃ کی شرح کیا ہے اور اس کے بدلے میں اسلامی ریاست کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور اس کے مقابلے میں جزیے کی مقدار کیا ہے اور اس کے بدلے میں ریاست کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ سب سے اہم چیز ان کا تواضع تھا۔ وہ کسی بھی مسئلے پراپنا کوئی موقف پیش نہیں کرتے تھے۔ کبھی کوئی رائے ہوتی تو کہتے: قال صاحبکم۔

پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر محمد سعد صدیقی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جس زمانے میں ہم اپنے والد مولانا مالک کاندھلوی کے ساتھ ٹنڈو الہ یار میں رہتے تھے۔ یہ واقعہ والدہ میں نے اپنی والدہ سے بارہا سناہے۔ یہ ۷۰ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ غازی صاحب کے والد مرحوم میرے والد کے ماموں اور والدہ کے چچا تھے۔ ان کے والد کا خط میرے والد کے نام ایک پوسٹ کار ڈکی صورت میں آیا اور والدہ نے بھی پڑھا۔ انھوں نے مشورہ مانگا کہ محمود نے مجھ سے چھ کر میٹرک کا امتحان دے دیا ہے اور مجھے اب پتہ چلا ہے جب وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا ہے۔ میری خواہش تو یہی ہے کہ وہ صر ف مدرسے میں پڑھے، لیکن اب چونکہ وہ امتحان میں کامیاب ہو گیا ہے تو آپ مشورہ دیں کہ میں اسے انگریزی تعلیم آگے جاری رکھنے کی اجازت دوں یا نہیں۔ والدہ نے کہا کہ میں نے تمہارے والد سے کہا کہ انھیں مشورہ دیں کہ محمود کو آگے اس تعلیم کے جاری رکھنے کی اجازت دیں اور کبھی اس کو منع نہ کریں۔ چنانچہ مولانا مالک کاندھلوی نے انھیں خط لکھ کر مشورہ دیا کہ محمود کو اس سے نہ روکیں، مجھے بجا طو رپر یہ توقع ہے کہ آپ کی تربیت میں یہ بچہ جب آگے بڑھے گا تو کچھ بن کر نکلے گا اور مغربی تعلیم اس کے افکار اور نظریات کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔ 

ڈاکٹر سعد صدیقی نے کہا کہ میں نے جو تقویٰ ڈاکٹر محمود غازی کے اندر دیکھا، وہ تقویٰ بڑے بڑے علما میں بھی نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر سعد صدیقی نے بتایا کہ ایک موقع پر ہم نے قواعد فقہیہ پر لیکچر دینے کے لیے ڈاکٹر غازی کو پنجاب یونیورسٹی میں دعوت دی۔ اس موقع پر رات کو سونے سے پہلے ڈاکٹر صاحب کی فرمائش پر میں نے انھیں التعلیق الصبیح کی پہلی جلد دے دی۔ صبح انھوں نے بتایا کہ میں نے یہ ساری کتاب پڑھ لی ہے۔ اگلے دن ڈاکٹر صاحب نے کسی قسم کے نوٹس کے بغیر قواعد فقہیہ کے خشک اور فنی موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ علامہ ابن خلدون نے مقدمہ کے کتاب العلم میں لکھا ہے کہ ملکہ علم پیدا ہونا بند ہو گیا ہے، لیکن کاش ابن خلدون زندہ ہوتے تو میں ان سے کہتا کہ ملکہ علم آج بھی ہے اور ثبوت کے طور پر ڈاکٹر غازی صاحب کو ان کے سامنے پیش کرتا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی اپنے حصے کا کام کر کے چلے گئے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کام کو آگے بڑھائیں۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ علوم اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر محمد معین ہاشمی نے دینی مدارس کے بارے میں ڈاکٹر غازی کے خیالات کے حوالے سے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ دینی مدارس کے بارے میں بہت فکرمند رہتے تھے اور ان سے کئی مرتبہ مدارس کے نصاب ونظام پر گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ مدارس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کی فکر کی وضاحت میں ان کے کئی تحریری اقتباس پڑھ کر سنائے۔ امت مسلمہ فکری طو رپر حصوں میں بٹ گئی ہے۔ گزشتہ دو ڈھائی صدیوں میں مسلمانوں نے اپنی اس روایت کا دامن چھوڑ دیا ہے جو سلف نے قائم کی تھی۔ دینی مدارس اور مین اسٹریم نظام تعلیم دو الگ الگ رخوں پر چل نکلا۔ اب یہ دونوں طبقوں ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھتے اورایک دوسرے کے پیش کیے ہوئے سوالات کا جواب دینے کے قابل نہیں۔ دور جدید کا آدمی جس فریکونسی پر بات کرتا ہے، عالم اس پر آپریٹ نہیں کرتا۔ ڈاکٹر غازی نے اس کا حل یہ تجویز کیا کہ علماء کرام جدید علوم کو اس حد تک پڑھ لیں کہ وہ جدید دور کی زبان اور محاورے میں اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکیں۔ دو متوازی جدولوں کے نقصانات پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ سیکولرازم کے غیر اسلامی تصور کو تقویت پہنچانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ سیکولرازم اسی کو کہتے ہیں کہ دین مسجد ومدرسہ تک محدود رہے اور دنیا کے عام معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ 

مولانا محمد اسعد تھانوی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر غازی کے والد محترم ایک سرکاری افسر تھے۔ پوری زندگی سرکاری کالونی میں رہے جہاں دائیں بائیں، ہر گھر کے بچے اسکول اور کالج میں جاتے تھے، اس کے باوجود انھوں نے اپنے بچوں کو اسکول یا کالج نہیں بھیجا، بلکہ مسجد کی چٹائی پر بٹھایا جہاں انھوں نے حفظ قرآن کیا۔ معروف طریقے پر علوم دینیہ حاصل کیے۔ پھر اللہ نے ان کو یہ ترقیاں عطا فرمائیں کہ وہ اسلامی یونی ورسٹی کے صدر بنے جہاں پوری دنیا کے اہل علم آ کر کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۲۰، ۲۲ سال پہلے مفتی جمیل احمد صاحب تھانوی کی احکام القرآن کی تقریب جامعہ دار العلوم اسلامیہ لاہور میں منعقد ہوئی تو وہاں مولانا سلیم اللہ خان بھی تھے اور کافی اہل علم تھے۔ ڈاکٹر غازی اس وقت ایک نوجوان اور کم عمر آدمی تھے۔ وہاں انھوں نے جو تقریر کی، وہ میں نے پہلی مرتبہ سنی۔ میرے ساتھ مولانا سلیم اللہ خان بیٹھے تھے۔ جب جلسہ ختم ہوا تو مولانا سلیم اللہ نے حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ غازی صاحب نے علوم القران اور احکام القران کی پوری تاریخ ایسے پیش کر دی ہے جیسے کوئی کتاب ان کے سامنے کھلی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی میں مولانا ادریس کاندھلوی کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ اگر وہ مدارس میں ہوتے تو ڈاکٹر غازی جیسا کوئی شیخ الحدیث پورے پاکستان میں نہ ہوتا۔ 

انھوں نے کہا کہ ان تمام عہدوں اور علمیت کے باوجود ان کی تواضع اور انکسار کا یہ عالم تھا کہ رشتے میں جو بھی آدمی ان سے ایک دو سال بھی بڑا ہوتا، وہ اس کے جوتے اٹھا کر اس کے آگے رکھتے تھے۔ وہ مالی معاملات میں بے انتہا دیانت تھی۔ یونی ورسٹی کی گاڑی گھر کے کاموں کے استعمال میں نہیں آتی تھی۔ ایک مرتبہ کراچی میں ، جب وہ وفاقی وزیر تھے تو میں ان سے ملنے گیا اور ان سے معاشیات، بینکنگ پر گفتگو شروع ہو گئی جو چار پانچ گھنٹے تک چلتی رہی۔ جب اختتام ہوا تو میں نے اندازہ کیا کہ اس آدمی کا تخصص معاشیات میں نہیں ہے، لیکن ان کو بین الاقوامی اور پاکستانی معاشیات کے متعلق جو معلومات تھیں، وہ ایک عام اکانومسٹ بھی نہیں رکھتا۔ ابھی ان کے انتقال سے پندرہ بیس روز پہلے ہمارے ایک بھتیجے کا انتقال ہو گیا۔ وہاں ڈاکٹر غازی نے قبرستان میں مولانا مشرف علی تھانوی سے، جو بارہ چودہ برس ان سے بڑے تھے، کہا کہ اگر میر اانتقال ہو جائے تو میری نماز جنازہ آپ پڑھائیے گا۔ یہ انھوں نے وصیت کی اور پندرہ دن کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ اللہ نے انھیں تلاوت قرآن سے بھی بڑا شغف عطا فرمایا تھا۔ میرے بیٹے نے مجھے بتایا کہ اس موقع پر وہ اسلام آباد روانہ ہونے تک مسلسل تلاوت کرتے رہے۔ 

جامعہ ازہر میں شعبہ اردو کے استاذ الدکتور ابراہیم نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ڈاکٹر غازی عالم اسلام کے ایک مایہ ناز محقق اور فقیہ تھے۔ وہ مترجم اقبال شیخ صاوی شعلان کی صحبت میں اس وقت رہے جب حکومت پاکستان نے انھیں غالباً ۱۹۶۷ء میں پاکستان آنے کی دعوت دی۔ یہ عربی میں کلام اقبال بہترین منظوم ترجمہ ہے۔ صاوی شعلان کو ہیلن کیلر الشرق کہا جاتا تھا جو ایک اندھی، گونگی بہری خاتون تھی، لیکن نہایت بلند پایہ شاعرہ اور ادیبہ تھیں۔ صاوی شعلان بھی نابینا تھے اور انھیں کئی زبانوں پر عبور تھا جن میں اردو شامل نہیں تھی۔ انھیں اقبال کے کلام کی تفہیم کے لیے اردو دانوں کی ضرورت رہتی تھی اور محمد حسن اعظمی، عبد الباری انجم اور ڈاکٹر غلام محی الدین العربی نے ان کی معاونت کی۔ پاکستان میں قیام کے دوران غازی نے ان کی رفاقت اختیار کی اور جہاں وہ جانا چاہتے، غازی صاحب انھیں لے کر جاتے تھے۔ خاص طور پر علامہ اقبال کے مزارپر بیٹھ کر علامہ اقبال کے کلام پر گفتگو ہوتی تھی۔ غازی صاحب علامہ اقبال کے کلام کا نثری ترجمہ وتوضیح کرتے رہتے، تب جا کر شیخ صاوی علامہ کے کلام کو بہترین عربی جامہ پہناتے۔ اس سے ڈاکٹر غازی کے دونوں زبانوں پر عبور کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی جیسے معتدل فکر اور متوازن شخصیت کے مالک علما اورمحققین کی موجودگی تمام عالم اسلام کے لیے باعث رحمت تھی اور ان کی وفات عالم اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

رابطہ ادب اسلامی کے ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے کہا کہ ڈاکٹر غازی ایک نابغہ روزگار ہستی تھی جن پر پاکستان کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ اللہ نے اس دور کے لیے جو رجال کار پیدا کیے، ان میں ڈاکٹر غازی کا نام بہت بلندی پر اللہ نے لکھا۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب رابطہ ادب کے بنیادی ارکان میں سے تھے اور جب یہاں شاخ قائم ہوئی تو ڈاکٹر صاحب کا نام مولانا رابع حسن ندوی نے بھیجا تھا اور ڈاکٹر صاحب رابطہ کے تمام پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے رہے۔ رابطہ مولانا ندوی کا تحفہ ہے جس کی شاخیں چودہ ممالک میں کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے ’’ڈاکٹر محمود احمد غازی: مقاصد شریعہ کے شارح اور ترجمان‘‘ کے عنوان پر مقالہ لکھا ہے جو رابطہ الادب الاسلامی کے ترجمان ’’قافلہ ادب اسلامی‘‘ میں شائع ہوگا۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ کے سربراہ ڈاکٹر علی اصغر چشتی نے اپنے خطاب میں بتایا کہ میرا غازی صاحب کے ساتھ طویل عرصے تک قریبی تعلق رہا۔ ۸۲ء میں کیپ ٹاؤن میں قادیانیوں کے خلاف کیس کی کے سلسلیجو وفد گیا، اس میں ڈاکٹر غازی تشریف لے گئے تھے۔ اس پورے کیس کی تفصیلی رپورٹ ہفت روزہ ختم نبوت میں شائع ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۸۹ء میں جب غازی صاحب دعوہ اکیڈمی کے ڈی جی بنے تو انھوں نے مجھے بلایا اور کہا کہ تفسیر سے متعلق معلومات لوگوں کو درس قرآن اور خطبہ جمعہ سے کچھ نہ کچھ مل جاتی ہیں، اس لیے زیادہ ضرورت حدیث پر کورس تیار کرنے کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے کہنے پر میں نے اس کورس کے یونٹ لکھنے شروع کیے۔ ڈاکٹر صاحب اس کے مسودے کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کی اصلاح کرتے اور کہتے تھے کہ یونٹ مکمل کرنے کے بعد یہ کسی مڈل یامیٹرک پاس عام آدمی کو پڑھائیں اور اس سے پوچھیں کہ کیا وہ مسودہ اس کی سمجھ میں آتا ہے یا نہیں۔ ایک مرتبہ حیدر آباد سے کچھ نو مسلم آئے اور لٹریچر کا تقاضاکیا۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ لٹریچر دیا اور پھر مجھے بلایا کہ ہمارے پاس عام فہم لٹریچر نہیں ہے۔ مولانا تھانوی کے لٹریچر کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ پھر ہم نے عام فہم لٹریچر کا ایک منصوبہ تیار کیا۔ 

انھوں نے بتایا کہ علمی کاموں میں ڈاکٹر غازی کی دلچسپی عجیب وغریب تھی۔ ہر کام کو بہت باریکی میں جا کر دیکھتے اور پوچھتے تھے۔ سنٹرل ایشیا کے علما کا جب پہلا گروپ آیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کراچی میں جا کر ان کا استقبال کریں اور ایک ہفتہ انھیں وہاں رکھ کر گھمائیں پھرائیں اور مدارس اور ادارے دکھائیں۔ دعوہ اکیڈمی کے ہرپروگرا م میں ڈاکٹر صاحب کی پوری دلچسپی ہوتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب انتظامی معاملات میں بہت strict تھے، لیکن طلبہ کے ساتھ بے حد شفقت کا معاملہ کرتے تھے اور بہت نرم ہو جاتے تھے۔ انھوں نے کہاکہ یہ اسلامی یونیورسٹی کی خوش قسمتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب یہاں رہے، بلکہ اس یونیورسٹی کے وجود، اس کی تشکیل وترتیب میں ڈاکٹر غازی کا ذہن کارفرما ہے۔ 

ڈاکٹر محمد الغزالی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر غازی کو بچپن سے ہی حصول علم کا بہت ذوق وشوق تھا اور وہ کبھی بچپن میں بھی کھیل کھلونے میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ اگر کبھی والد صاحب نے اصرار کیا کہ بتاؤ، تمھارے لیے کیا لاؤں تو وہ کوئی کتاب بتا دیتے تھے۔ کتاب سے بہت زیادہ دلچسپی اور علم کا حصول ان کی اولین priority تھی۔ کوئی ambition نہیں تھی، دنیا کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ انھوں نے بچپن سے کتابیں جمع کیں اور کیا کسی عورت کو زیور سے دلچسپی ہوگی اور کسی اور شخص کو اپنی پسندیدہ چیز سے جو انھیں کتاب سے تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر غازی نے خالص درسی دائرہ سے باہر دینی علوم اور عصری علوم پر عربی اور اردو کے ذخیرے سے بہت ابتدائی زندگی سے ہی استفادہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جہاں کسی صاحب علم کو دیکھا، وہ بس اس کے ہو کر رہ جاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر غازی کو پچاس سال دیکھا ہے۔ وہ جس بات پرخوش ہوتے تھے، وہ یہی تھی کہ کوئی علمی کام ہو گیا، کوئی علمی نکتہ مل گیا، کوئی کتاب مل گئی، کوئی بات سمجھ میں آ گئی، کسی نے کوئی بات سمجھ لی، کوئی اچھا طالب علم ان کے پاس آکر اچھا کام کر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ علم دین کا حصول ، اس کا فروغ، اسی کے لیے وہ جیے، اور اس کے سوا کسی چیز میں دلچسپی نہیں لی۔

جامعہ اشرفیہ کے نائب صدر مولانا فضل الرحیم نے اختتامی کلمات میں کہا کہ ڈاکٹر غازی سے میرا بہت تعلق رہا۔ ان کی وزارت کے دور میں ایک حج کی سعادت بھی ان کی معیت میں ہوئی۔ جامعہ اشرفیہ میں عصری تعلیم کا آغاز کرنے میں میرے ساتھ ان کی تین چار محفلیں ہوئیں او رجب تک مجھ سے اس کام کا آغا زنہیں کروایا، مجھے چھوڑا نہیں۔ کئی کئی گھنٹے بیٹھ کر مجھ سے اس کام کے فوائد بیان کرتے رہے اور الحمد للہ اس وقت جامعہ اشرفیہ کے کم وبیش پچاس کے قریب فضلا پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس میرا ایک عزیز سفارشی رقعہ لینے کے لیے گیا تو انھوں نے اپنے پی اے سے کہا کہ ان کو ایک سفارشی خط لکھ دیں۔ اس نے الماری سے ایک کاغذ نکالا اور اس پر سفارشی رقعہ لکھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ دعوہ اکیڈمی کے لیٹر پیڈ پر کیوں نہیں لکھا تو اس نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحب نے منع کیا ہے کہ جہاں میرا ذاتی کام ہو، وہاں دعوہ اکیڈمی کا لیٹر پیڈ بھی استعمال نہ کیا جائے۔ میرے عزیز نے بتایا کہ پھر انھوں نے اس پر دستخط بھی اپنے ذاتی قلم سے کیے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے ایک عزیز کو داخلے کے لیے بھیجا تو انھوں نے کہا کہ میں داخلہ دے دیتا ہوں، لیکن ایک شرط پر۔ اس ملک کو سو تقی عثمانی کی ضرورت ہے۔ تم میرے ساتھ یہ وعدہ کرو کہ تم تقی عثمانی بنو گے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر غازی جاتے ہوئے ایک پیغام دے گئے ہیں کہ میں جا رہا ہوں، اب تمہاری باری ہے۔ اپنی فکر کرو۔ اپنی آخرت کا فکر کرو۔ انھوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر غزالی سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی نگرانی میں ڈاکٹر غازی کی ایک مفصل سوانح مرتب کروائیں۔ یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہترین پیغام ہوگا۔

اخبار و آثار

جنوری و فروری ۲۰۱۱ء

جلد ۲۲ ۔ شمارہ ۱ و ۲

حرفے چند
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ حیات و خدمات کا ایک مختصر خاکہ
ادارہ

شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الرحمٰن المینویؒ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے استاذ حدیث)
مولانا حیدر علی مینوی

میری علمی اور مطالعاتی زندگی ۔ (ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا ایک غیر مطبوعہ انٹرویو)
عرفان احمد

بھائی جان
ڈاکٹر محمد الغزالی

بھائی محمود
مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی

ہمارے بابا
ماریہ غازی

ایک معتمد فکری راہ نما
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک عظیم اسکالر اور رہنما
مولانا محمد عیسٰی منصوری

ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم
محمد موسی بھٹو

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ : ایک اسم با مسمٰی
جسٹس سید افضل حیدر

ایک باکمال شخصیت
پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ - نشانِ عظمتِ ماضی
ڈاکٹر قاری محمد طاہر

مولانا ڈاکٹر محمود احمد غازی ۔ کچھ یادیں، کچھ تأثرات
مولانا مفتی محمد زاہد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند خوشگوار یادیں
محمد مشتاق احمد

معدوم قطبی تارا
ڈاکٹر شہزاد اقبال شام

میرے غازی صاحب
ڈاکٹر حیران خٹک

علم و تقویٰ کا پیکر
قاری خورشید احمد

میری آخری ملاقات
ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر

مرد خوش خصال و خوش خو
مولانا سید حمید الرحمن شاہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ کچھ یادیں، کچھ باتیں
ڈاکٹر محمد امین

ایک بامقصد زندگی کا اختتام
خورشید احمد ندیم

اک دیا اور بجھا!
مولانا محمد ازہر

ایک معتدل شخصیت
مولانا محمد اسلم شیخوپوری

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ، ایک مشفق استاد
شاہ معین الدین ہاشمی

روئے گل سیر نہ دیدم و بہار آخر شد
ڈاکٹر حافظ سید عزیز الرحمن

یاد خزانہ
ڈاکٹر عامر طاسین

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ چند تاثرات
محمد عمار خان ناصر

ڈاکٹر محمود احمد غازی علیہ الرحمۃ
ڈاکٹر حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر غازیؒ ۔ چند یادداشتیں
محمد الیاس ڈار

ایک ہمہ جہت شخصیت
ضمیر اختر خان

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
مولانا حافظ محمد رشید

آفتاب علم و عمل
مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی

شمع روشن بجھ گئی
مولانا سید متین احمد شاہ

علم کا آفتاب عالم تاب
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ

دگر داناے راز آید کہ ناید
حافظ ظہیر احمد ظہیر

ایک نابغہ روزگار شخصیت
سبوح سید

تواریخ وفات ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
مولانا ڈاکٹر خلیل احمد تھانوی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ تعزیتی پیغامات و تاثرات
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ فکر و نظر کے چند نمایاں پہلو
ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

ڈاکٹر غازی مرحوم ۔ فکر و نظر کے چند گوشے
ڈاکٹر محمد شہباز منج

کاسموپولیٹن فقہ اور ڈاکٹر غازیؒ کے افکار
محمد سلیمان اسدی

آتشِ رفتہ کا سراغ
پروفیسر محمد اسلم اعوان

اسلام کے سیاسی اور تہذیبی تصورات ۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی کے افکار کی روشنی میں
مولانا حافظ محمد رشید

سلسلہ محاضرات: مختصر تعارف
ڈاکٹر علی اصغر شاہد

محاضراتِ قرآنی پر ایک نظر
حافظ برہان الدین ربانی

ڈاکٹر غازیؒ اور ان کے محاضرات قرآن
سید علی محی الدین

محاضرات فقہ: ایک مطالعہ
چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

محاضراتِ معیشت و تجارت کا ایک تنقیدی مطالعہ
پروفیسر میاں انعام الرحمن

تحریک سید احمد شہید رحمہ اللہ کا ایک جائزہ
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام میں تفریح کا تصور
ڈاکٹر محمود احمد غازی

اسلام اور جدید تجارت و معیشت
ڈاکٹر محمود احمد غازی

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ سے ایک انٹرویو
مفتی شکیل احمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ منتخب پیش لفظ اور تقریظات
ادارہ

مختلف اہل علم کے نام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کے چند منتخب خطوط
ڈاکٹر محمود احمد غازی

مکاتیب ڈاکٹر محمد حمیدؒ اللہ بنام ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ادارہ

ڈاکٹر غازیؒ کے انتقال پر معاصر اہل علم کے تاثرات
ادارہ

ریجنل دعوۃ سنٹر کراچی کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس
آغا عبد الصمد

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی یاد میں رابطۃ الادب الاسلامی کے سیمینار کی روداد
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام تعزیتی نشست
ادارہ

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ رسائل و جرائد کے تعزیتی شذرے
ادارہ

ایک نابغہ روزگار کی یاد میں
پروفیسر ڈاکٹر دوست محمد خان

Flag Counter