حدیث و سنت / علوم الحدیث

ضعیف اور موضوع احادیث کا فتنہ

ڈاکٹر یوسف القرضاوی

داعی کے لیے ضروری ہے کہ موضوع ہی نہیں بلکہ ضعیف اور منکر حدیثوں سے بھی اپنے کو دور رکھے۔ علماے امت نے موضوع حدیثوں کی روایت سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔ جواز کی صرف ایک صورت ہے جبکہ اس کا مقصد لوگوں کو ان کے خلاف آگاہی دینا ہو اور وہ ساتھ ہی صاف صاف بتاتا جائے کہ یہ روایت ’موضوع‘ ہے تاکہ اس کو پڑھنے اور سننے والے اپنے کو اس سے بچا کر رکھیں۔ امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ موضوع حدیث کی روایت حرام ہے اگر آدمی کو اس کا پتہ ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کا مضمون کیا ہے۔ وہ احکام سے متعلق ہے یا واقعات اور قصص سے یا ترغیب وترہیب وغیرہ سے۔ اس کے جواز کی صرف ایک صورت...

’’برصغیر میں مطالعہ حدیث‘‘ کے عنوان پر سیمینار

محمد عمار خان ناصر

ادارۂ تحقیقات اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد نے ’’برصغیر میں مطالعہ حدیث‘‘ کے عنوان پر ۲۱، ۲۲ اپریل ۲۰۰۳ء کو دوروزہ علمی سیمینار کا اہتمام کیا جس کے لیے ادارۂ تحقیقات اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری کی سربراہی میں ان کے رفقا کی ٹیم خاص طور پر ڈاکٹر سفیراختر اور ڈاکٹر سہیل حسن نے خاصی محنت کی۔ سیمینار کی پانچ نشستیں فیصل مسجد اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئیں جن میں حدیث نبوی علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے مختلف پہلوؤں پر بیسیوں مقالات پیش کیے گئے اور ان پر سوال جواب اور بحث ومباحثہ کا بھی اہتمام...

نقد روایت کا درایتی معیار ۔ مسلم فکر کے تناظر میں

محمد عمار خان ناصر

خبر کی اہمیت: انسانی علم کے عام ذرائع میں خبر بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا دائرۂ کار وہ امور ہیں جن تک انسان کے حواس اور عقل کی رسائی نہیں ہے۔ ہم اپنے حواس کی مدد سے صرف ان چیزوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوں اور ہم ان پر دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہوں۔ اسی طرح ہماری عقل صرف ان معلومات کو ترتیب دے کر مختلف نتائج اخذ کر سکتی ہے جو ہمارے حواس اس تک پہنچاتے...

مسلمان بھائی سے ہمدردی کا صلہ

شیخ التفسیر مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

یہ بڑی مشہور حدیث ہے جو اکثر سنی اور سنائی جاتی ہے۔ اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بہت سی باتیں بیان فرمائی ہیں جو حقیقت میں بے مثال جواہر پارے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو شخص دنیا میں کسی مومن کی تکلیف کو دور کرے گا، قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دے گا۔ کوئی شخص بیمار ہو جائے، کسی کو کوئی حادثہ پیش آجائے یا کوئی دیگر دنیوی تکلیف میں مبتلا ہو، اور دوسرا مسلمان اس تکلیف کو ہٹانے میں مصیبت زدہ کی اعانت کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایسے شخص کی پریشانیوں، تکالیف...

بدعت اور اس کا وبال

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

جوں جوں زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قرونِ مشہود لہا بلاخیر سے دور ہوتا جا رہا ہے، دوں دوں امورِ دین اور سنت میں رخنے پڑتے جا رہے ہیں۔ ہر گروہ اور ہر شخص اپنے من مانے نظریات و افکار کو خالص دین بنانے پر تلا ہوا ہے، اور تمام نفسانی خواہشات اور طبعی میلانات کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دین اور سنت ثابت کرنے کا ادھار کھائے بیٹھا ہے، الا ما شاء اللہ، اور ایسی ایسی باتیں دین اور کارِ ثواب قرار دی جا رہی ہیں کہ سلف صالحینؒ کے وہم و گمان میں بھی وہ نہ ہوں گی، حالانکہ دین صرف وہی ہے جو ان حضرات سے ثابت ہوا ہے اور انہی کے دامنِ تحقیق سے وابستہ...

علومِ حدیث کی تدوین — علماء امت کا عظیم کارنامہ

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور پیارے طریقوں کی حفاظت جس طرح اس امتِ مرحومہ نے کی ہے دنیا کی کسی قوم میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح جھوٹی اور غلط بات آپ کی طرف منسوب کرنے کی سختی سے تردید فرمائی ہے وہ اہلِ اسلام کے ہاں اظہر من الشمس ہے اور حدیث ’’من کذب علی متعمدا فالیتبوا مقعدہ من النار ‘‘ متواتر احادیث میں درجہ اول پر ہے۔ آپ کے الفاظ کی نگرانی مہماتِ شریعت اور اساسی و بنیادی امور کے متعلق تو الگ رہی حتٰی کہ الفاظ کی بھی نگرانی ہوتی...

احادیث کی تعداد پر ایک اعتراض

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون میں ہم یہ بات عرض کر دیں کہ حضراتِ محدثین کرامؒ جب یہ فرماتے ہیں کہ فلاں کو دو لاکھ اور فلاں کو چھ لاکھ اور فلاں کو دس لاکھ احادیث یاد تھیں، تو اس سے ان کی کیا مراد ہے؟ کم فہم یا کج بحث آدمی تو اس کو جھوٹ یا مبالغہ ہی تصور کرے گا جیسا کہ چودھری غلام احمد صاحب پرویز نے طنزًا لکھا ہے ’’ایک صاحب بخارا سے آتے ہیں اور انہیں چھ لاکھ حدیثیں مل جاتی ہیں جن میں سے وہ قریباً سات ہزار کو اپنے مجموعہ میں داخل کر لیتے ہیں، ان کے اساتذہ میں سے امام احمد بن حنبلؒ دس لاکھ اور امام یحیٰی بن معینؒ بارہ لاکھ حدیثوں کے مالک تھے ۔۔ الخ...

خبرِ واحد کی شرعی حیثیت

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

خبرِ واحد اگرچہ عقائد کے باب میں موجبِ علم نہیں لیکن عمل کے باب میں حجت ہے۔ چنانچہ شرح العقائد ص ۱۰۱ میں ہے کہ خبرِ واحد ظن کا فائدہ ہی دے گا بشرطیکہ اصولِ فقہ میں مذکورہ تمام شرائط اس میں موجود ہیں اور ان شرائط کے باوجود بنا بر ظنیت کے اعتقادیات میں اس کا کچھ اعتبار نہیں ہو گا۔ اور تقریباً اسی مفہوم کی عبارات شرح الموافق ص ۷۲۷، المسامرۃ ص ۷۸، اور شرح فقہ اکبر ملا علی ن القاریؒ ص ۶۸ میں بھی موجود ہیں۔ اور نبراس ص ۲۵۰ میں ہے کہ ظن کا اعتبار علمیات میں ہوتا ہے اور ظن کے ساتھ ثابت حکم واجب ہوتا...

ارشاداتِ نبویؐ کی حفاظت کے لیے صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کا یہ معمول تھا کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ جو کچھ سنتے تھے وہ سب لکھ لیتے تھے۔ بعض حضرات صحابہ کرامؓ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں، کبھی غصہ کی حالت میں گفتگو فرماتے ہیں اور کبھی خوشی کی حالت میں اور تم سب لکھ لیتے ہو؟ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مراجعت کی۔ آپؐ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بخدا اس سے جو کچھ نکلتا ہے اور جس حالت میں نکلتا ہے وہ حق ہی ہوتا ہے سو تم لکھ لیا کرو۔ (ابوداؤد ج ۲ ص ۱۵۸، دارمی ص ۶۷، مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۳ و مستدرک ج...

احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

بدقسمتی سے آج ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہے اور بایں ہمہ احادیث کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا اور ان سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ احادیث ظنی ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے متصادم ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، کبھی کہتا ہے کہ احادیث دوسری تیسری صدی کی پیداوار ہیں، کبھی کہتا ہے کہ یہ عجمیوں کی سازش ہے، اور کبھی جعلی اور موضوع احادیث کو چن چن کر بلاوجہ درمیان میں لا کر ان کی وجہ سے صحیح احادیث پر برستا ہے، کبھی ان کے معانی میں کیڑے نکالتا...
< 51-60 (60)🏠
Flag Counter