ترکی کی وزارت برائے مذہبی امور اور دینی وقف کا موضوعاتی حدیث منصوبہ: مختصر تعارف

انعام الحق

اس تحریر میں صرف منصوبے اور کتاب کے تعار ف پر اکتفا کیا گیا ہے، تفصیلی نقد وتبصرہ ان شاء اللہ مستقبل میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس تعارف کے لیے تین مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے:

۱) HIKEM ڈیٹا بیس کی ویب سائٹ: http://www.hikem.net/index.html

۲) مطبوعہ کتاب اور 

۳) اس کی ویب سائٹ : http://hadislerleislam.diyanet.gov.tr

ترکی وزارت مذہبی امور ، اور دینی اوقاف کی جانب سے ۲۰۰۶ میں موضوعاتی حدیث منصوبے پر کام شروع کیا گیا، اور اس کی تکمیل ۲۰۱۳ء میں ہوئی۔ اس منصوبے کی مختصر روداد و تعارف قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔ 

شرح حدیث کے باب میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد منصوبہ جس کو "موضوعاتی حدیث منصوبہ" نام دیا گیا، دراصل گیارہ سال قبل، ترکی حدیث کمیٹی کے پانچویں اجلاس منعقدہ ۲۲، ۲۳ جولائی ۲۰۰۶ میں پیش کی گئی ایک رائے کی عملی شکل ہے جس میں ترکی جامعات میں علوم حدیث سے منسلک پچاسی(85) اساتذہ کرام نے حصہ لیا، اور اس کی تکمیل میں چھ سال کا عرصہ صرف ہوا، جس کے نتیجے میں ترکی زبان میں ایک منفرد نوعیت کی کتاب " اسلام: احادیث کی روشنی میں/ شرح احادیث بذریعہ احادیث" سات جلدوں کی صورت میں ۲۰۱۳ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی گئی۔

منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں مواد کی دستیابی کے لیے HIKEM کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنائی گئی، یہ ویب سائٹ اب بھی کام کر رہی ہے۔ اس ویب سائٹ پر مکمل قرآن کریم ، صحیحین، موطا مالک، سنن اربعہ، سنن دارمی، مسند احمد بن حنبل، مصنف عبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند طیالسی، السنن الکبیر للبیہقی ، شمائل ترمذی،الادب المفرد، المعجم الکبیر للطبرانی، سنن الدارقطنی، مستدرک حاکم، معرفۃ السنن والاثار للبیہقی، انیس کتب حدیث کے مکمل متون کو جمع کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ مزید ۲۳۰ کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جن میں تفاسیر، کتب حدیث، سیر اور مغازی کی کتب شامل ہیں۔ ۲۰۱۲ کے اعداد وشمار کے مطابق ویب سائٹ پر موجود ان متون کی تعداد دو لاکھ پانچ ہزار ہے، جن کو چار ہزار پانچ سو عناوین کے تحت جمع کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ پر شرکا کا مختصر تعارف، مفید ڈاونلوڈز اور علوم الحدیث سے متعلق بعض کارآمد ویب سائٹوں کے لنک بھی موجود ہیں۔

منصوبے کا دوسرا اور مرکزی مرحلہ" اسلام : احادیث کی روشنی میں/ شرح احادیث بذریعہ احادیث" کے نام سے ایک عوامی نصاب کی تشکیل و طباعت تھی، جس کے مواد کی دستیابی کے لیے مذکورہ بالا ڈیٹا بیس تیار کیا گیا۔ کتاب میں مذکورہ بالا چار ہزار پانچ سو عناوین میں سے تین سو باون (352)مناسب ترین عناوین کو شامل کیا گیا ہے اور اس میں کتب احادیث کے عناوین کی پیروی کی گئی ہے۔ کتاب کی ترتیب کچھ یوں ہے:

استدعا، اکیڈمک کمیٹی ، اصطلاحات اور مخففات، پیش لفظ ،مقدمہ اور تمہید۔ 

اس کے بعد یہ آٹھ باب ہیں :۱۔ اللہ ، عالم،انسان اور دین ۲۔ علم ۳۔ ایمان ۴۔ عبادات ۵۔ اخلاق ۶۔ اجتماعی زندگی ۷۔ تاریخ اور تہذیب ۸۔ آخرت۔

اکیڈمک کمیٹی کے عنوان کے تحت ان تمام افراد کا مختصر تعارف ہے جن کا کتاب میں تحریری حصہ موجود ہے۔ کتاب کے پuS لفظ میں : کتاب کا مختصر تعارف، اس کی تصنیف کے ادوار کا جامع بیان ، اورموضوعات کے انتخاب وغیرہ کے حوالے سے کافی معلومات درج کی گئی ہیں۔ خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ترکی میں نشر ہونے والی شروحات حدیث میں سے کوئی بھی ایسی شرح نہیں ہے جو : مسجد میں جماعت اور گھر میں گھر والوں کے لیے ایک نصاب کی حیثیت سے پیش کی جا سکے۔ ترکی زبان میں احادیث کے مرتب کردہ مجموعہ جات میں ضعیف حتی موضوع روایات کا انبار جمع کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جو مبارک تعلیمات اس امت کے لیے ہیں، ان کو اپنے معاشرے کی زبان میں خوبصورت اور سہل انداز میں بیان کیا جائے جس کا بیڑا اس منصوبے کی شکل میں اٹھایا گیا ہے۔

کتاب کے شروع میں سو سے زائد صفحات پر مشتمل ایک مقدمہ ہے جس میں اصطلاحات (نبوت، سنت، حدیث، وغیرہ )، تاریخ حدیث، حدیث و سنت کی تفہیم کے بنیادی اصول، فہم حدیث و سنت، اور موضوعاتی حدیث منصوبے کے بارے میں معلومات درج کی گئی ہیں۔ پہلے یونٹ سے قبل مختصر تمہید ہے جس میں استعاذہ، بسم اللہ، الحمد للہ، اور صلوۃ علی النبی کی فہم کے حوالے سے عمدہ تحریریں شامل کی گئی ہیں۔

ہر موضوع کی داخلی ترتیب کچھ یوں ہے: شروع میں موضوع کے حوالے سے ایک عمومی نوعیت کی حدیث مع ترجمہ لائی جاتی ہے جس کو سر لوح حدیث کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے بعد موضوع کے مختلف پہلووں کو شامل اوسطاً پانچ احادیث اور پھر ان کا ترجمہ ذکر کیا جاتا ہے۔ موضوع کے اس حصہ میں درج احادیث کی صحت اور جامعیت ہر دو کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس حصہ میں احادیث کی ان انیس کتب سے استفادہ کیا جاتا ہے جن کا تذکرہ اوپر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد رواں متن کی صورت میں قرآن، حدیث، سیر کے حوالہ جات سے متعلقہ موضوع کی تشریح و تبیین ہوتی ہے۔ ہر موضوع کی تشریح کا آغاز قاری کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک مناسب واقعے سے ہوتا ہے۔ یہ واقعہ احادیث میں ذکر کردہ تفصیل، موقعہ محل، اور سبب ورود سے ماخوذ ہوتا ہے۔

تشریح پر مبنی یہ رواں متن اوسطاً تیس حوالہ جات کا ماحصل ہوتا ہے۔ متن کے الفاظ کی ایک حد: دو ہزار الفاظ سے ساڑھے تین ہزار الفاظ ہونے کے باعث طویل اقتباسات کو نقل کرنے کے بجائے ان کا خلاصہ اور مغز ذکر کیا جاتا ہے، تاکہ متن کی روانی برقرار رہے، اور طوالت بھی پیدا نہ ہو۔ ایسے میں صرف حوالہ دینے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔البتہ اس کتاب کی مطبوعہ صورت کے لیے مرتب کی گئی ویب سائٹ پر ہر حوالہ نمبر کے ساتھ لنک پر ماوس لے کر جانے سے متعلقہ اقتباس مع حوالہ سکرین پر ظاہر ہوجاتا ہے، جس سے استفادہ مزید سہل ، اور حوالے تک رسائی آسان ہوجاتی ہے۔ 

احادیث و موضوع کی تشریح کے لیے مذکورہ بالا کتب حدیث کے علاوہ جن کتب حدیث سے استفادہ کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں : شعب الایمان للبیہقی، مسند الحمیدی، معجم الاوسط، معجم الصغیر للطبرانی، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، مسند ابی یعلی۔

کتاب میں قرآن ، اور احادیث کے کل حوالہ جات کی تعداد پچیس ہزار ایک سو سینتالیس ہے جبکہ مکررات نکالی جائیں تو تعداد نو ہزار سات سو بیاسی بنتی ہے۔تفسیر کی سترہ کتب سے ڈیڑھ سو، شروحات حدیث کی پچیس کتب سے دوسو ستائیس، اور تاریخ و سیر کی ۴۰ کتب سے آٹھ سو اڑسٹھ حوالہ جات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ 

کتاب کی تحریر میں جن بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں: متن کتاب میں قرآن، سنت اور سیرت تینوں میں یکسانیت اور ہم آہنگی کی عکاسی، قرآن و سنت کی باہمی تکمیل، سنت کی داخلی باہمی تکمیل، احادیث کا ربط و ماحول، سبب ورود تک حتی الامکان رسائی، اور اسی روشنی میں تشکیل حدیث کے مراحل کا بیان، متون کی باہمی تکمیل کی کوشش، موجودہ زمانے کی زبا ن و ضروریات، مزاج اور حساسیت کو پیش نظر رکھنا، قرن اول کو موجودہ دور کی نظر سے دیکھنے سے اجتناب البتہ علوم جدیدہ سے استفادہ، لغوی مباحث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے استفادہ کرنے کی کوشش وغیرہ۔

چونکہ یہ ایک عوامی نصاب ہے اس وجہ سے تفسیر کے خالص علمی مباحث، حدیث کے رواۃ اور سند اور ان سے متعلقہ مباحث سے گفتگو نہیں کی گئی۔ فقہی احادیث کی تشریح میں فقہی مسائل سے بحث کرنے کے بجائے ان سے ماخوذ حکمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان تمام پہلووں کو دیکھ کر یہ رائے قائم کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک فکری اور تربیتی نصاب ہے۔

ابواب کے عناوین کے ساتھ ہی علیحدہ سے تشریحی نام بھی دیے گئے ہیں جو کافی دلچسپ ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں: 

۱۔ زمانہ : موجودات کی نبض، ۲۔ دنیا: آخرت کی کھیتی، ۳۔ سورج چاند اور تارے: آسمانوں کے چراغ

۴۔ہدایت: اسلام کا نورانی راستہ، ۵۔خواب: نیند کی دنیا، ۶۔نفس: اچھائی اور برائی کا میدان جنگ وغیرہ

مراحل: سب سے پہلے ویب سائٹ کا قیام، ویب سائٹ پر متون کی جمع و تدوین، کتاب کے لیے موضوعات کا انتخاب، تحاریر کے اصول و ضوابط کی ترتیب۔۔۔ اس کے بعد منتخب پچاسی اساتذہ کرام کو موضوعات فراہم کیے گئے جس پر انہوں نے مقالات جات تحریر کیے، جس کو اعلیٰ سطحی کمیٹی نے مواد اور اسلوب تحریر کے لیے مقرر کردہ قوانین کے مطابق پرکھا، اس کے بعد علمی چانچ کی گئی جس میں حوالہ جات کا مکمل طور پر جائزہ لیا گیا اور ان کااصل مراجع سے تقابل کیا گیا ، صحت حدیث کو متعلقہ اصولوں کی روشنی میں جانچا کیااور اس کی مطابق اصلاح کی گئی، اس کے بعد ادبی جانچ ہوئی جس میں زبان اور اسلوب تحریر کا جائزہ لیا گیا اور اصلاح کی گئی۔ اس کے بعد اعلیٰ سطحی کمیٹی نے از سر نو تحاریر کا مطالعہ کیا اور مکمل تشفی ہونے کے بعد طباعت کا کام شروع کیاگیا۔ مقالات جات اگرچہ مختلف لکھاریوں کی ہیں لیکن کتاب ایک اجتماعی تحریر کی صورت میں پیش کی گئی ہے۔ اس وقت کتاب میں کسی بھی تحریر کے ساتھ لکھاری کا نام نہیں ہے، اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی تحریر کس کی ہے۔ 

دینی اور سماجی علوم میں اختلاف نکتہ نظر ایک بالکل عام سی بات ہے ، ایسے میں ترکی کی فکری سطح میں بھی اختلافات کا ہونا یقینی بات ہے۔ جملہ تحاریر کو ایک اجتماعی تحریر قرار دینے کی وجہ سے جہاں ایک طرف اچھائیاں سب کی سانجھی قرار پاتی ہیں، وہیں خامیاں بھی سانجھی بن جاتی ہیں، ایسے میں سب مصنفین اس قول، عقیدے اورفکر کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں جن میں سے کسی ایک یا زیادہ کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں ہوتا، حتی وہ مصنف کی سوچ کے بالکل مخالف ہوتی ہے۔

اگرچہ کتاب ایک عام شہری کے ذہنی معیار کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے، لیکن اس کے اسلوب تحریر کی شستگی، انتخاب حدیث کی نزاکت، اور موضوعات سے وابستہ حکمتیں اور دروس اتنے اعلیٰ ہیں جن سے اہل علم اور داعیان اسلام کے لیے اس کتاب کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ اس اعتبار سے یوں کہاں جاسکتا ہے کہ یہ کتاب اسلام کا جامع تعارف، ایک بے نظیر عوامی نصاب اور انمول علمی تحفہ ہے۔

حدیث و سنت / علوم الحدیث