دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۲)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۳۔اصول حدیث کے مختلف موضوعات پر خصوصی تصنیفات

عصر حاضر تخصص و سپیشلائزیشن کا دور ہے، علوم و فنون کے شعبہ جات پر مستقل کام ہوا ہے ۔مصطلح الحدیث کی انواع پر بھی مستقل تصنیفات لکھی گئی ہیں۔ یہ تصنیفات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ ان میں ایک نوع سے متعلق تفصیلی مواد موجود ہوتا ہے اور اس کے جوانب و اطراف کا احاطہ ہوتا ہے۔ ذیل میں اس حوالے سے چند اہم کاوشیں ذکر کی جاتی ہیں۔ ان کتب کے تذکرے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جدید دور میں انواع علوم الحدیث پر ہونے والے کام کا احاطہ نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ اصول حدیث کی اہم انواع سے متعلق بعض اہم اور تفصیلی کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ چھوٹے رسائل اور مختصر کتب سے صرف نظر کیا گیا ہے۔ نیز جن کتب کا انتخاب کیا گیا ہے ،وہ تفصیلی اور موضوع سے متعلق اہم مباحث پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ذکر کی گئی ہیں ،ان کے ذکر سے ان کتب کے مباحث سے کلی اتفاق مراد نہ لیا جائے۔

۱۔سعودی عرب کے معروف داعی و مصنف عائض بن عبد اللہ قرنی نے مبتدع کی روایت پر البدعۃ واثرھا فی الدرایۃ و الروایۃ کے نام سے ایک تفصیلی کتاب لکھی ہے ،جس میں بدعتی کی روایت ،حکم اور اس حوالے سے علما کے مذاہب بیان کئے ہیں۔

۲۔اسعد سالم تیم نے علم طبقات پر ایک ضخیم کتاب علم طبقات المحدثین: اھمیتہ وفوائدہ کے نام سے لکھی ہے ،جس میں علم طبقات کی تاریخ ،اہم کتب اور اس علم کی اہمیت پر تفصیلی مواد موجود ہے۔

۳۔علم جرح و تعدیل پر اہم کتب سامنے آئی ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ضیاء الرحمان الاعظمی کی مفصل کتاب دراسات فی الجرح و التعدی،شیخ نور الدین عتر کی اصول الجرح والتعدیل،سید عبد الماجد غوری کی المدخل الی دراسہ علم الجرح والتعدیل اور شیخ محمد بن عبد العزیز کی ضوابط الجرح والتعدیل قابل ذکر ہیں۔

۴۔محمد بن طلعت نے معجم المختلطین کے نام سے ان رواۃ کو جمع کیا ہے جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہوگئے تھے۔

۵۔سید کسروی حسن نے ھدی القاصد الی اصحا ب الحدیث الواحد کے نام سے سات جلدوں پر مفصل کتاب میں ان رواۃ کا تذکرہ کیا ہے ،جن سے صرف ایک حدیث مروی ہے۔

۶۔احمد محمد نور یوسف نے آداب الحدیث پر ایک ضخیم کتاب من ادب المحدثین فی التربیۃ والتعلیم کے نام سے لکھی ہے۔

۷۔عبد المجید بیرم نے الروایۃ بالمعنی فی الحدیث النبوی و اثرھا فی الفقہ الاسلامی کے نام سے روایت بالمعنی اور اس کے اثرات پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے ۔

۸۔عبد الکریم اسماعیل صباح نے حدیث صحیح اور اس کے مختلف مباحث پر ایک ضخیم کتاب الحدیث الصحیح و منھج علماء المسلمین فی التصحیح کے نام سے لکھی ہے جس میں حدیث صحیح سے متعلق اہم مباحث کا احاطہ کیا ہے۔

۹۔المرتضی زین احمد نے مناھج المحدثین فی تقویۃ الاحادیث الحسنۃ والضعیفۃ کے نام سے ایک اہم کتاب لکھی ہے ،جس میں حدیث کے شواہد ،متابعات اور حدیث کی تقویت کے دیگر طرق پر بحث کی ہے۔

۱۰۔معروف محقق عمرو بن عبد المنعم سلیم نے حدیث حسن پر الحسن بمجموع الطرق فی میزان الاحتجاج بین المتقدمین والمتاخرین کے نام سے ایک نفیس کتاب لکھی ہے۔

۱۱۔عبد الکریم بن عبد اللہ الخضیر نے حدیث ضعیف پر ایک مفصل کتاب الحدیث الضعیف و حکم الاحتجاج بہ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں حدیث ضعیف کے مختلف مباحث پر نظر ڈالی ہے۔

۱۲۔محمد عزت حسین نے الحدیث الضعیف و انواعہ کے نام سے حدیث ضعیف پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔

۱۳۔ماہر منصور عبد الرزاق نے الحدیث الضعیف: اسبابہ و احکامہ کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ہے ،جس میں حدیث ضعیف کے مختلف گوشے نمایاں کیے گئے ہیں۔

۱۴۔ڈاکٹر عمر بن حسن بن عثمان فلاتہ نے حدیث موضوع پر تین جلدوں پر مفصل کتاب الوضع فی الحدیث لکھی ہے۔ موضوع حدیث کے مباحث پر اگر اسے عصر حاضر کی سب سے تفصیلی کتاب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ کتاب دراصل پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جس پر مقالہ نگار کو جامعہ ازہر سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔

۱۵۔ معروف مصنف عمر سلیمان الاشقر نے حدیث موضوع کے مباحث پر ایک جامع کتاب الوضع فی الحدیث النبوی: تعریفہ، خطورتہ، اسبابہ وطرق الکشف عنہ کے نام سے لکھی ہے۔

۱۶۔عصام الدین بن سید الصبابطی نے احادیث قدسیہ پر تین جلدوں پر ایک ضخیم موسوعہ جامع الاحادیث القدسیۃ: موسوعۃ جامعۃ مشروحۃ ومحققۃ کے نام سے تیار کیا ہے۔ اس میں حدیث قدسی پر اہم مباحث کے ساتھ ساڑھے گیارہ سو احادیث قدسیہ کا ذکر کیا ہے۔

۱۷۔معروف مصنف محمد متولی الشعراوی نے الاحادیث القدسیۃ کے نام سے چھ جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔

۱۸۔شعبان محمد اسماعیل نے حدیث قدسیہ سے متعلق حدیثی و فقہی مباحث پر الاحادیث القدسیۃ ومنزلتھا فی التشریع لکھی ہے ،جس میں اس موضوع کے مختلف گوشوں پر نظر ڈالی ہے۔

۱۹۔عبد اللہ ابو سعود بدر نے المرفوع وصیغ الرفع کے نام سے حدیث مرفوع کے مباحث پر ایک مفصل کتاب لکھی ہے۔

۲۰۔طارق اسعد حلمی نے علم ورود الحدیث پر ایک عمدہ کتاب علم اسباب ورود الحدیث و تطبیقاتہ عند المحدثین و الاصولیین کے نام سے لکھی ہے۔ساڑھے پانچ سو صفحات کی اس کتاب میں ورود الحدیث سے متعلقہ مباحث کا عمدہ احاطہ کیا گیا ہے۔

۲۱۔مشکل الحدیث اور احادیث نبویہ میں ایسی احادیث جو متنوع سوالات اور اشکالات کا باعث ہیں ،ان کے جواب پر مبنی متعدد کتب سامنے آئی ہیں ،جن میں عبد اللہ بن علی النجدی کی مشکلات الاحادیث النبویۃ و بیانھا اور احمد رضوان کی مسائل فی تاویل الاحادیث قابل ذکر ہیں۔

۲۲۔علم مختلف الحدیث معاصر مصنفین کا خصوصی موضوع رہا ہے۔ ان میں خاص طور پر اسامہ عبد اللہ خیاط کی مختلف الحدیث وموقف النقاد والمحدثین منہ، نافذ حسین حماد کی مختلف الحدیث بین الفقھاء والمحدثین اور عبد المجید محمد اسماعیل السوسوہ کی ضخیم کتاب منھج التوفیق والترجیح بین مختلف الحدیث واثرہ فی الفقہ الاسلامی قابل ذکر ہیں۔

۲۳۔حدیث مرسل کی حجیت کا مسئلہ قدیم زمانے سے معرکۃ الآرا رہا ہے۔ معاصر سطح پر اس مسئلے کا بھی مختلف جوانب سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ان کتب میں حفصہ بنت عبد العزیز کا دو جلدوں پر مشتمل ضخیم مقالہ الحدیث المرسل بین القبول و الرد، ابودور سید حامد کی الخبر المرسل عند الاصولیین: دراسۃ و تطبیق، علاء الدین حسن کی الاحتجاج بالمرسل واثرہ فی الفقہ الاسلامی اور فوزی محمد البتشتی کی ضخیم کتاب حجیۃ المرسل عند المحدثین والاصولیین والفقھاء قابل ذکر ہیں۔

۲۴۔تدلیس اور اس کی اقسام و احکام پر بھی اہم کتب لکھی گئیں ہیں۔ ان میں سید عبد الماجد غوری کی التدلیس والمدلسون: دراسۃ عامۃ، محمود عبد الوہاب عبد الحفیظ کی القول النفیس فی المقبول والمردود من التدلیس، صالح الجزائری کی التدلیس و احکامہ اور مسفر بن غرم اللہ الدمینی کی مفصل کتاب التدلیس فی الحدیث: حقیقتہ واقسامہ واحکامہ ومراتبہ والموصوفون بہ سر فہرست کتب ہیں۔

۲۵۔دور جدید میں خبر واحد کا مسئلہ بعض وجوہ سے اہمیت اختیار کرگیا ہے اور افراط و تفریط کا شکار ہوا ہے۔ اہل تجدد کے نزدیک خبر واحد سے دین کا کوئی نیا حکم اخذ نہیں کیا جاسکتا، جبکہ سلفی حضرات کے نزدیک خبر واحد سے عقائد کا بھی اثبات ہوسکتا ہے۔ اس لیے خبر واحد پر متعدد کتب لکھی گئی ہیں،ان کتب میں شیخ نور الدین عتر کی الاتجاھات العامۃ للاجتھاد ومکانۃ الحدیث الآحاد الصحیح فیھا اور ابو عبد الرحمان القاضی کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب خبر الواحد فی التشریع الاسلامی وحجیتہ قابل ذکر ہے۔

۲۶۔ علم علل الحدیث معاصر سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے ،اور اس سلسلے میں مفید کتب سامنے آئی ہیں۔ ان میں شیخ نور الدین عتر کی لمحات موجزۃ فی اصول علل الحدیث، سید عبد الماجد غوری کی المیسر فی علم علل الحدیث، ہمام عبد الرحیم کی العلل فی الحدیث، حمزہ عبد اللہ الملیباری کی الحدیث المعلول: قواعد وضوابط، ماہر یاسین فحل کی اثر علل الحدیث فی اختلاف الفقھاء،علی بن عبد اللہ الصیاح کی جھود المحدثین فی بیان علل الحدیث اور مقبل بن ہادی الوادعی کی احادیث معلۃ ظاھرھا الصحۃ قابل ذکر کتب ہیں۔

۲۷۔احادیث پر حکم لگانے اور سند و متن پر نقد کے اصول و قواعد پر معاصر سطح پر قابل قدر کام ہوا ہے۔ ان میں معروف محقق ڈاکٹر محمد مصطفی الاعظمی کی منھج النقد عند المحدثین نشاتہ وتاریخہ، معروف مصنف مسفر غرم اللہ دمینی کی مقاییس نقد متون السنۃ،محمد طاہر الجوابی کی جھود المحدثین فی نقد متن الحدیث الشریف، محمد علی قاسم العمری کی دراسات فی منھج النقد عند المحدثین اور حسین الحاج حسن کی دو جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب نقد الحدیث فی علم الروایۃ وعلم الدرایۃ قابل ذکر کتب ہیں۔

۲۸۔عربی کی بہ نسبت اردو میں اصول حدیث پر خصوصی تصنیفات بہت کم ہیں،کیونکہ اردو میں طبع زاد کتب کی بجائے عربی کتب کے ترجمہ و تشریح کی روایت زیادہ ہے۔ طبع زاد کتب کا جو سرمایہ موجود ہے،وہ خصوصیت کی بجائے عمومیت کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ اصول حدیث اور اس کی مختلف شاخوں پر معدودے چند کتب میں اصول حدیث اور علم حدیث کے تعارف پر ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب کی محاضرات حدیث، ڈاکٹر تقی الدین ندوی کی فن اسماء الرجال، غازی عزیر مبارکپوری کی ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت، ڈاکٹر سہیل حسن کی معجم اصطلاحات حدیث اور علم جرح و تعدیل،ڈاکٹر اقبال احمد اسحاق کی جرح و تعدیل،محمد ایوب رشیدی کی احناف حفاظ حدیث کی فن جرح و تعدیل میں خدمات ،محمد اکرم رحمانی کی حدیث موضوع اور ان کے مراجع،ڈاکٹر محمد اکرم ورک کی متون حدیث پر جدید ذہن کے اشکالات،ایک تحقیقی مطالعہ اور مولانا تقی امینی کی حدیث کا درایتی معیار قابل ذکر ہیں۔ اردو میں اصول حدیث پر خصوصی تصنیفات زیادہ تر ایم فل اور پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں ہیں جن کا ذکر مقالات کے عنوان کے تحت آئے گا۔

۴۔مصطلح الحدیث پر تطبیقی کام 

معاصر سطح پر اصول حدیث پر ہونے والے کام میں ایک جدت کا پہلو یہ آیا ہے کہ مصطلح الحدیث اور اس کے قواعد و ضوابط پر تطبیقی و تمرینی کتب لکھنے کا رواج پڑگیا ہے۔ اس طرز کی کتب میں اصول حدیث اور اس کی مختلف شاخوں کے لئے کتب حدیث و کتب رجال سے امثلہ و تمارین کا ذکر کیا جاتا ہے ،متنوع اسئلہ درج کی جاتی ہیں تاکہ مسائل اور اصول مثالوں سے ذہن نشیں ہو اور ان کی وضاحت ہوجائے۔جدید طرز کی یہ کتب بلا شبہ علم مصطلح الحدیث میں تجدیدی کارنامہ ہے،کیونکہ قدیم متون میں معدود ے چند مثالیں ہیں جنہیں بعد میں آنے والے ہر مصنف نے دہرایا ہے۔ اس سلسلے کی چند اہم کتب کی فہرست دی جارہی ہے :

۱۔ الواضح فی مصطلح الحدیث للمبتدئین مع اسئلۃ وتمارین للمناقشۃ، ابراہیم النعمہ ، دارالنفائس ،عمان 

۲۔ الجد الحثیث لتیسیر مسائل وفنون علم الحدیث بطریقۃ تطبیقیۃ وامثلۃ عملیۃ، ابراہیم محمود عبد الراضی ،دارالایمان ،اسکندریہ 

۳۔ علم مصطلح الحدیث التطبیقی، علی بن ابراہیم حشیش ،دار العقیدہ ،قاہرہ

۴۔ تحریر علوم الحدیث، شیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع

۵۔ المنھج الحدیث فی تسھیل علوم الحدیث، علی نایف بقاعی ،دارالبشائر ،بیروت 

۶۔ تیسیر و تخریج الاحادیث للمبتدئین، عمر وعبد المنعم سلیم ،دار عفان 

۷۔ تحریر علوم الحدیث، عمر عبد المنعم سلیم ،دار ابن قیم 

۸۔ المعلم فی معرفۃ علوم الحدیث وتطبیقاتہ العلمیۃ والعملیۃ، عمرو عبد المنعم سلیم ،دار ابن قیم 

۹۔ اربعون تدریبا فی نقد الاسانید والمتون، عمرو عبد المنعم سلیم 

۱۰۔ اصول التخریج ودراسۃ الاسانید، محمود طحان،دار القران الکریم ،بیروت 

چوتھی جہت :شروحات حدیث 

عصر حاضر کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑا حصہ کتب حدیث کی شروحات ، تعلیقات اور تراجم پر مشتمل ہے،ان میں زیادہ تر کتب ستہ اور موطا کی شروحات شامل ہیں ،یہ شروحات و تعلیقات مفصل بھی ہیں اور مختصر بھی ، بعض میں پوری کتاب کی اول تا آخر شرح کی گئی ہے جبکہ بعض شروحات کتاب کے مخصوص مقامات اور خاص حصوں کی تشریحات پر مشتمل ہیں۔ بعض کتاب پر متنوع دراسات و تحقیقات کی صورت میں ہیں ،جیسے اعلام کی تحقیق،الفاظ غریبہ کی تحقیق، کتاب کا متنوع پہلووں سے تجزیہ و تحلیل وغیرہ۔ اس عنوان کو درجہ ذیل چار ذیلی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے :

۱۔عربی شروحات و تعلیقات 

۲۔اردو شروحات 

۳۔درسی تقریرات و افادات 

۴۔کتب حدیث کے تراجم 

۱۔ عربی شروحات و تعلیقات 

عرب ممالک میں سلفیت کی لہر چلنے سے کتب حدیث خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گئیں اور صحاح ستہ سمیت حدیث کی دیگر کتب پر کما و کیفا دونوں اعتبار سے ممتاز کام ہوا ہے ،ذیل میں اہم کتب حدیث پر ہونے والے جدید کاموں کا ایک جائزہ لیا جاتا ہے :

۱۔صحیح بخاری

صحیح بخاری کی علمی حلقوں میں مقبولیت ایک مسلم امر ہے ،کتب حدیث میں بعض حوالوں سے ممتاز ہونے کی وجہ سے ہر دور میں اس پر ہونے والا کام بقیہ کتب کی بہ نسبت زیادہ رہا ہے ،دور جدید میں بھی صحیح بخاری پر متنوع دراسات و تحقیقات ہوئی ہیں۔ چند اہم کاموں کا تذکرہ کیا جاتا ہے :

۱۔صحیح بخاری پر جدید دور میں ہونے والا ممتاز کام نویں صدی ہجری کے معروف عالم ابن ملقن کی مفصل شرح التوضیح شرح الجامع الصحیح کی اشاعت و تحقیق ہے۔ قطر کی وزارت اوقاف نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور خالد الرباط اور جمعہ فتحی کی سربراہی میں بیس کے قریب محققین نے سات مخطوطات کے تقابل سے شرح ابن ملقن کی تحقیق کی اور صحیح بخاری کی یہ عظیم شرح چھتیس جلدوں میں منظر عام پر آگئی۔

۲۔صحیح بخاری کی جدید شروحات میں مفصل ترین شرح ترکی کے معروف عالم اور اٹھارویں صدی کے ممتاز محقق علامہ یوسف زادہ آفندی کی نجاح القاری فی شرح صحیح البخاری ہے، یہ شرح ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوسکی۔ چار ہزار لوحات پر مشتمل اس کا مفصل مخطوطہ اگر طبع ہوا تو ایک اندازے کے مطابق پچاس جلدوں میں منظر عام پر آئے گا۔ یہ مخطوطہ مکتبہ الاثار و امخطوطات ترکی میں محفوظ ہے ،اور معروف ویب سائٹ ملتقی اہل الحدیث پر بھی تیس جلدوں میں موجود ہے۔اس مخطوطہ کے بعض حصوں کی پی ایچ ڈی مقالات کی صورت میں تحقیق ہوئی ہے ،لیکن مکمل شرح ابھی تک محقق طباعت کی منتظر ہے۔

۳۔صحیح بخاری کے ابواب و تراجم پر مفصل کام شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے افادات ہیں ،جو آپ کے مختلف تلامذہ کی تحقیق کے ساتھ متعدد جلدوں میں چھپے ہیں ،ان افادات میں صحیح بخاری کے جملہ تراجم پر مفصل بحث شامل ہے ،صحیح بخاری کے ابواب و تراجم پر یہ اپنی نوعیت کی پہلی مفصل کاوش ہے۔

۴۔صحیح بخاری کی متعدد محققانہ طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں سے دو طبعات بعض وجوہ سے اہم ہیں :

الف:صحیح بخاری کی صحیح ترین طباعت عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید کی نگرانی میں ہونے والی طبعہ امیریہ کی اشاعت ہے۔ سلطان عبد الحمید نے جید علما کی مجلس اس کام کے لئے تشکیل دی اور صحیح بخاری کے معروف ناسخ اور آٹھویں صدی ہجری کے معروف حنبلی عالم حافظ یونینی کے نسخے کو اصل قرار دیا اور دیگر نسخوں کے ساتھ تقابل و تصحیح بھی کی۔ یوں دو سال کی تحقیق کے ساتھ نو جلدوں میں یہ نسخہ شائع ہوا ،سلطان نے اشاعت سے پہلے جامعہ ازہر کے سولہ جید علما کی موجودگی میں اس کی خواندگی کروائی ،اس نسخہ کے حاشیے میں صحیح بخاری کے دیگر نساخ و رواۃ کے فروق کو بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تقریباً پندرہ سال پہلے بیروت کے معروف ادارے دار طوق النجاۃ نے اسی اشاعت کو دوبارہ شائع کیا۔

ب:ممتاز شامی محقق ڈاکٹر مصطفی دیب البغا کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ اشاعت متنوع خوبیوں کی حامل ہے ،اس میں محقق نے احادیث کی ترقیم ،مکرر احادیث کی نشاندہی اور مشکل الفاظ کی تحقیق سمیت متنوع اطراف سے تحقیق کی ہے۔صحیح بخاری کی یہ اشاعت علمی حلقوں میں مرکزیت کی حامل ہے ۔

۵۔صحیح بخاری میں موجود صحابہ کی مرویات مسانید کی ترتیب پر معروف محقق فواد عبد الباقی نے جمع کی ہیں ،یہ تحقیق جامع مسانید صحیح البخاری کے نام سے دار الحدیث قاہرہ سے چھ جلدوں میں چھپ چکی ہے۔

۶۔صحیح بخاری میں حدیث کی تلاش ایک مشکل مرحلہ ہے ،کیونکہ امام بخاری ادنی مناسبت سے حدیث کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے کئی مقامات پر ذکر کرتے ہیں۔ اس مشکل کا حل سید عنبر عبد الرحیم نے ھدایۃ الباری الی ترتیب احادیث البخاری کی شکل میں نکالا ہے ،مصنف نے صحیح بخاری کی تمام احادیث کو حروف تہجی کی ترتیب سے جمع کیا ہے ،اور ہر حدیث کے ساتھ اصل کتاب کے باب اور راوی کا حوالہ دیا ہے۔ تین ضخیم جلدوں میں مطبعہ الاستقامہ قاہرہ سے چھپ چکا ہے۔

صحیح بخاری پر ہونے والے بعض اہم شروح و دراسات کی کی ایک فہرست دی جارہی ہے :

۱۔ الفجر الساطع علیٰ صحیح الجامع، محمد الفضیل بن الفاطمی ،مکتبہ الرشد ،بیروت (۱۷ مجلدات)

۲۔ عون الباری لحل ادلۃ البخاری، نواب صدیق حسن خان القنوجی ،دار الرشد ،شام (۵مجلدات)

۳۔ منار القاری شرح مختصر صحیح البخاری، حمزہ قاسم ،مکتبہ دارالبیان ،شام (۵مجلدات)

۴۔ ھدایۃ الساری الیٰ دراسۃ البخاری (مقدمہ صحیح بخاری)،مولنا امداد الحق السلہٹی ،دار الفکر الاسلامی، ڈھاکہ( مجلدین)

۵۔ روایات و نسخ الجامع الصحیح: دراسۃ وتحلیل، ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم ،دار امام الدعوہ، ریاض

۶۔ کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری، محمد الخضر الشنقیطی ،موسسہ الرسالہ ،بیروت (۴۱ مجلدات)

۷۔ المدلسین و مرویاتھم فی صحیح البخاری، فہمی احمد عبد الرحمان ،دار الکتب العلمیہ ، بیروت (مجلدین)

۸۔ شرح صحیح البخاری، محمد بن صالح العثیمین ،المکتبہ الاسلامیہ ،قاہرہ (۱۰ مجلدات)

۹۔ روایات الجامع الصحیح ونسخہ: دراسۃ نظریۃ تطبیقیۃ، جمعہ فتحی عبد الحلیم ،وزارہ الاوقاف ،قطر(مجلدین )

۱۰۔ منحۃ الملک الجلیل شرح محمد بن اسماعیل، عبد العزیز بن عبد اللہ الراجحی ،دار التوحید (۱۴ مجلدات)

۱۱۔ النظر الفسیح عند مضائق الانظار فی الجامع الصحیح، محمد طاہر بن عاشور ،الدار العربیہ، تیونس

۱۲۔ المنھل العذب الفرات فی شرح الاحادیث الامھات من صحیح البخاری، عبد العال احمد ،المکتبہ الازہریہ ،قاہرہ (۴مجلدات)

۱۳۔ معجم الامکنہ الواردہ ذکرہا فی صحیح البخاری، سعد بن عبد اللہ ،ادارہ الملک عبد العزیز، ریاض

۱۴۔ تیسیر صحیح البخاری، موسی شاہین لاشین ،مکتبہ الشروق ،قاہرہ (۳مجلدات)

۱۵۔ اتحاف القاری بمعرفہ جھود واعمال العلماء علی صحیح البخاری، محمد عصام عرار الحسینی، الیمامہ للطباعہ والنشر ،بیروت

۱۶۔ النور الساری من فیض صحیح الامام البخاری، حسن عدوی حمزاوی ،مطبعہ المصریہ ،قاہرہ (۵مجلدات)

۱۷۔ الحلل الابریزیۃ من التعلیقات البازیۃ علی صحیح البخاری، عبد العزیز عبد اللہ بن باز ،دار التدمیریہ (۴مجلدات)

۱۸۔ تحفہ القاری بحل مشکلات البخاری، مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ 

۱۹۔ نبراس الساری فی اطراف البخاری، محمد عبد العزیز محمد نور ،المطبع الکریمی ،لاہور

۲۰۔ فہارس البخاری، رضوان محمد رضوان ،دارلکتاب العربی،قاہرہ

۲۱۔ الکوثر الجاری فی حل مشکلات البخاری، محمد ابوالقاسم البنارسی 

۲۲۔ عون الباری لحل عویصات البخاری، شیخ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی 

۲۔صحیح مسلم

۱۔صحیح مسلم کی سب سے مفصل شرح معروف شافعی عالم ،مصنف اور حرم مکی کے معروف مدرس محمد امین بن عبد اللہ الھرری کی الکوکب الوہاج و الروض البہاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج ہے ،یہ شرح چھبیس جلدوں میں دار طوق النجاۃ بیروت سے شائع ہوچکی ہے۔

۲۔ علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کی معروف شرح فتح الملھم اور اس کا تکملہ جو شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کی تصنیف ہے ،کا شمار بلا شبہ جدید دور میں صحیح مسلم پر ہونے والے ممتاز کاموں میں ہوتاہے۔

۳۔ڈاکٹر محمد محمدی نورستانی نے المدخل الی صحیح الامام مسلم بن الحجاج کے نام سے ایک مفید کتاب لکھی ہے جس میں امام مسلم اور صحیح مسلم کا مکمل تعارف شامل ہے ،صحیح مسلم کے نسخے ،شروحات ،تحقیقات ،صحیح مسلم کے رواۃ کے طبقات اور امام مسلم کے منہج سمیت دیگر مباحث کا خوب استقصا کیا ہے۔یہ کتاب مکتب الشوون الفنیہ کویت سے شائع ہوئی ہے۔

۴۔صحیح مسلم کی متعدد طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں سب سے معروف اور اہل علم کے درمیان متداول نسخہ معروف محقق فواد عبد الباقی کی تحقیق و تعلیق کا حامل نسخہ ہے جو دارالکتب العلمیہ بیروت سے چھپ چکا ہے۔اس کے علاوہ معروف محدث اور صحیح مسلم کے شارح موسی شاہین لاشین اور احمد عمر ہاشم کا محقق شدہ نسخہ ہے جو موسسہ عزالدین بیروت سے پانچ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔

صحیح مسلم پر ہونے والی اہم تحقیقات و دراسات کی ایک فہرست پیش خدمت ہے :

۱۔ السراج الوھاج من کشف مطالب صحیح مسلم بن الحجاج، صدیق حسن خان القنوجی ،الشوون الدینیہ ،قطر (۱۱ مجلدات)

۲۔ فتح المنعم شرح صحیح مسلم، موسی شاہین لاشین، دار الشروق، بیروت (۱۰ مجلدات)

۳۔ منۃ المنعم فی شرح صحیح مسلم، صفی الرحمان مبارکپوری ،دارلسلام ،ریاض (۴مجلدات)

۴۔ قرۃ عین المحتاج فی شرح مقدمہ صحیح مسلم بن حجاج، محمد بن علی بن آدم الاثیوبی ،دار ابن جوزی ،سعودیہ (مجلدین)

۵۔ الامام مسلم ومنھجہ فی صحیحہ، محمد عبد الرحمان طوالبہ ،دار عمار ،عمان

۶۔ دراسات علمیۃ فی صحیح مسلم، علی حسن بن عبد الحمید ،دارالہجرہ ،ریاض

۷۔ روایات المدلسین فی صحیح مسلم،جمعھا وتخریجھا و الکلام علیھا، عواد حسین الخلف، دار البشائر الاسلامیہ ،بیروت

۸ ۔ عبقریۃ الامام مسلم فی ترتیب احادیث مسندہ الصحیح، دراسۃ تحلیلیۃ، حمزہ عبد اللہ الملیباری ،دار ابن حزم ،بیروت

۹۔ منھج الامام مسلم فی ترتیب کتابہ الصحیح ودحض شبھات حولہ، ربیع بن ہادی المدخلی ،مکتبہ الدار ،المدینہ المنورہ

۱۰۔ تنبیہ المسلم الی تعدی الالبانی علی صحیح مسلم،محمود سعید ممدوح ،مکتبہ الامام الشافعی، الریاض

۱۱۔ البحر المحیط الثجاج فی شرح صحیح الامام مسلم بن الحجاج، محمد بن علی بن آدم الاثیوبی، دار ابن جوزی ،سعودیہ (۲۴ مجلدات)

۱۲۔ شرح صحیح مسلم، محمد بن صالح العثیمین ،دار الرشد (۱۰ مجلدات)

۱۳۔ فھارس صحیح مسلم، محمد فواد عبد الباقی ،دار احیاء الکتب العربیہ ،قاہرہ

۳۔جامع ترمذی

۱۔جامع ترمذی کی سب سے مفصل معاصر شرح معروف اہل لحدیث عالم علامہ عبد الرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ کی تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی ہے ،حل کتاب اور حدیثی مباحث میں بلا شبہ یہ شرح لا جواب ہے، مبارکپوری صاحب نے اس کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ بھی لکھا ہے ،جو مستقل جلد میں شائع ہوا ہے۔ اس مقدمہ میں جامع ترمذی اور حدیث سے متعلقہ مباحث کا خوب استقصا کیا ہے۔یہ شرح بیروت سے دس جلدوں میں چھپ چکی ہے۔

۲۔محدث العصر حضرت مولانا یوسف بنوری رحمہ اللہ کی معارف السنن شرح جامع السنن عمدہ شرح ہے ،حضرت بنوری نے خاص طور پر اس شرح میں اپنے استاد اما م العصر حضرت انورشاہ کشمیری کے افادات کو جمع کر نے کی کی کوشش کی ہے ،یہ شرح کتاب الحج تک ہے ، اگر یہ شرح مکمل ہوتی تو بلاشبہ دور جدید میں جامع ترمذی کی مفصل اور جامع شروح میں شمار ہوتی۔

۳۔ معارف السنن کا تکملہ استاد محترم اور جامعہ امدادیہ کے نائب صدر حضرت مولانا زاہد صاحب دامت برکاتہم نے لکھنا شروع کیا ہے ،ابھی تک اس کی ایک ضخیم جلد منظر عام پر آئی ہے ،جو صرف کتاب الجنائز پر مشتمل ہے ،حدیث کی تشریح میں جدید مباحث کے حوالے سے ایک عمدہ کاوش ہے۔ اللہ کرے ،استاد محترم اس شرح کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

۳۔امام ترمذی عموماً حدیث کے ذکر کرنے کے بعد اس کے متابعات و شواہد کی طرف اشارہ کرنے کے لئے وفی الباب کہہ کر ان صحابہ کا ذکر کرتے ہیں ،جن سے حدیث کے متابعات و شواہد مروی ہیں۔ وفی الباب کی احادیث کی تخریج پر معاصر سطح پر عمدہ کام ہوا ہے ،جن میں دو کتب قابل ذکر ہیں :

الف:حسن بن حیدر الوائلی کی چھ جلدوں پر مشتمل مفصل کتاب نزھۃ الالباب فی قول الترمذی وفی الباب جامع کتاب ہے ،یہ کتاب در ابن جوزی ریاض سے چھپی ہے۔

ب:ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی کتا ب کشف النقاب عما یقولہ الترمذی و فی الباب اس سلسلے کی ایک عمدہ کتاب ہے ،لیکن یہ کتاب نامکمل ہے ،پانچ جلدوں میں مجلس الدعوہ و التحقیق کراچی سے چھپی ہے۔

۴۔معروف سلفی محدث ناصر الدین البانی نے متعدد کتب حدیث پر صحت و ضعف کے اعتبار سے تحقیقات کی ہیں، علامہ البانی نے جامع ترمذی پر بھی اسی نوعیت کا کام کیا اور جامع ترمذی کو صحیح سنن لاترمذی اور ضعیف سنن الترمذی میں تقسیم کرکے جامع ترمذی کے صحیح و ضعیف احادیث پر مبنی دو الگ نسخے تیار کئے۔اگرچہ بہت سے اہل علم نے علامہ البانی کی اس تحقیق سے اختلاف کیا ہے ،لیکن علمی و حدیثی حوالے سے اس کام کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔

۵۔جامع ترمذی کی متعدد طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں درجہ ذیل طبعات تحقیق کے حوالے سے اہم شمار ہوتی ہیں :

الف: جامع ترمذی بتحقیق شعیب الارناووط، موسسہ الرسالہ ،بیروت(۶مجلدات)

ب: جامع ترمذی بتحقیق بشار اعواد معروف، دار الغرب الاسلامی (۶مجلدات)

ج: جامع الترمذی بتحقیق احمد محمد شاکر، مکتبہ مصطفی البابی الحلبی (۵ مجلدات )

۶۔جامع ترمذی پر معاصر سطح کی سب سے مفصل تحقیق ،تعارف ، جامع ترمذی کے رواۃ اور امام ترمذی کے منہج پر تفصیلی بحث معروف شامی عالم ڈاکٹر عداب محمود الحمش نے کی ہے ،ڈاکٹر صاحب نے الامام الترمذی ومنھجہ فی کتابہ الجامع کے نام سے تین جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب لکھی ہے جو دراصل ان کا پی ایچ ڈی مقالہ ہے ،اس کتاب میں جامع ترمذی سے متعلق جملہ مباحث کا عمدہ استقصا کیا گیا ہے ،یہ کتاب دار الفتح للدراسات والنشر عمان سے چھپی ہے۔

جامع ترمذی پر ہو نے والی بعض اہم تحقیقات و دراسات کی ایک فہرست پیش کی جارہی ہے :

۱۔ فقہ الحدیث عند الائمہ السلف بروایہ الامام الترمذی، محمد بن احمد کنعان ،موسسہ المعارف، بیروت (مجلدین )

۲۔ فقہ الامام الترمذی فی سننہ و دراسۃ نقولہ للمذاھب، مازن عبد العزیز الحارثی ،جامعہ ام القری (مجلدین )

۳۔ الردود و التعقیب علی بعض الشارحین من المعاصرین لجامع الترمذی، عبد الرحمان بن یحییٰ المعلمی ،المکتبہ الملکیہ، مکہ مکرمہ

۴۔ حاشیۃ علیٰ جامع الترمذی، احمد علی سہارنپوری ،مطبعہ احمدیہ ،دہلی

۵۔ جامع الترمذی فی الدراسات المغربیۃ، روایۃ ودرایۃ، محمد حسین صقلی ،جامعہ محمد الخامس،رباط

۶۔ المدخل الی جامع الامام الترمذی، ڈاکٹر طاہر الازہر،مکتب الشوون الفنیہ ،کویت

۷۔ الامام الترمذی والموازنۃ بین جامعہ وبین الصحیحین، ڈاکٹر نور الدین عتر ،مطبعہ لجنہ التالیف 

۸۔ جائزۃ الاحوذی فی التعلیقات علی سنن الترمذی، ابی النصر ثناء اللہ المدنی ،ادارہ البحوث الاسلامیہ ،بنارس (۴ مجلدات)

۹۔ حسن صحیح فی جامع الترمذی دراسۃ و تطبیق، اعداد طلبہ قسم التخصص فی الحدیث دار العلوم دیوبند ،اکادیمیہ ،شیخ الہند ،دیوبند (مجلدین )

۱۰۔ تھذیب جامع الامام الترمذی، عبد اللہ التلیدی ،دار المعرفہ و الفکر ،بیروت(۳مجلدات)

۱۱۔ العطر الشذی فی حل الفاظ الترمذی، محمد منیر عبدہ الدمشقی 

(جاری ہے)

حدیث و سنت / علوم الحدیث