اصالتِ دین کی تلاش میں حدیث کا تاریخی کردار ۔ کائناتی تناظر میں ایک افقی و عمودی مطالعہ

پروفیسر میاں انعام الرحمن

جب سے انسان نے اس کُرّہ ارض پر قدم رکھا ہے، تب سے گوناں گوں چیلنجزاسے دعوتِ مبارزت دیتے چلے آ رہے ہیں۔ ہتھیار ڈالنے کے بجائے ڈٹ جانے کی جبلّی صلاحیت نے انسان کو اس کارزارِ حیات میں فتوحات سے نوازا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں کرہ ارض پر انسان کی موجودگی درحقیقت اپنے پیچھے انہی فتوحات کی عظیم الشان داستان لیے ہوئے ہے۔ اس دل گداز داستان میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں، جن میں کہیں تسخیر فطرت کے جھلملاتے تاب ناک مناظر سے سابقہ پڑتا ہے اور کہیں انسان کی ذات (man-himself) سے وابستہ خصوصیات (properties-virtues) کے، مختلف آلات میں منتقل ہونے کے اندوہ ناک واقعات سامنے آتے ہیں۔ 

واقعہ یہ ہے کہ اپنی فتوحات و ترقیات کے جس مرحلے میں انسان نے چھاپہ خانہ (press) ایجاد کیا، اس وقت سے اس کا حافظہ آہستہ آہستہ کم زور ہوتا چلا گیا اور انسان نے ’’یاد‘‘ رکھنے کی اپنی خصوصیت (property of memory) غیر محسوس انداز میں چھاپے خانے کو منتقل (transfer) کرنا شروع کر دی۔ اس کے بعد کمپیوٹر آیا جو حافظے کو معدوم کرنے کے درپے ہے۔ انسانی فتوحات و ترقیات کی دیگر کئی اقسام بھی، انسان کی بعض امتیازی خصوصیات (distinctive virtues of man) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ جس کے نتیجے میں اس کی داخلی شخصیت مسلسل کھوکھلی ہوتی جا رہی ہے اور انسان، بحیثیت انسان اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ کوئی بھی ترقی یا فتح اچانک حاصل نہیں ہو جاتی، بلکہ اس کے پیچھے(اصلاً) فاتحوں کی مخصوص ثقافت (cultural roots) کارفرما ہوتی ہے۔انسانی فتوحات کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالنے سے عیاں ہوتا ہے کہ انسانی ذات (man-himself) سے وابستہ خصوصیات (properties-virtues) کو، مختلف آلات کی نذر کرنے والی ’فتوحات‘ زیادہ تر مغربیوں کے حصے میں آئی ہیں۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ مغربیوں کے ہاں ذاتِ انسانی کی خصوصیات کو (انہیں explore کرنے کے نام پر) تج دے کر مختلف آلات میں منتقل کرنے کے طور طریقے (techniques)، مغربی ثقافت میں بنیاد لیے ہوئے ہیں۔ اسی لیے آج مغربی کرّے کا انسان نسبتاً زیادہ کھوکھلا ہے اور اس کا باطنی وجود، معدومیت کی آخری سرحدیں چھو رہاہے۔ مغرب کے مشہور نقاد ٹی۔ایس۔ایلیٹ نے شاعرانہ اظہار کو جذبات یا شخصیت کے اظہار کے بجائے ’’فرار‘‘ قرارد یتے ہوئے، غیر شعوری طور پراسی کھوکھلے پن کا اعتراف کیا ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ جدید مغربی ادب، جدید انسان کو معدومیت کی اتھاہ گہرائی میں دھکیل رہا ہے۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انسان کی فتوحات و ترقیات میں مسلم تہذیب نے بھی فراخ دلی سے حصہ لیا ہے۔ اس سلسلے میں یہ عظیم تہذیب ایک عظیم داستان کی حامل ہے۔ اس داستان کا یہ پہلو البتہ کافی حیرت انگیز ہے کہ چھاپے خانے اور کمپیوٹر جیسی ایجادات کے باوجود مسلم تہذیب کے ثقافتی رویے نے حفظِ قرآن کی روایت ترک نہیں کی۔ آج ہمارے اپنے دور میں قرآن مجید اربوں کی تعداد میں شائع ہو رہے ہیں، اور سی ڈیز ویڈیوز کے ذریعے قرات اور لہجے بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حفظِ قرآن کا مقصد (قرات اور لہجے سمیت) حفاظتِ قرآن ہے تو کیا وہ مقصد آج حفظ کے بغیر بخوبی پورا نہیں ہو رہا؟ کیا حفظ کی روایت کا انتقال (transformation) مطبوعہ قرآنی صحائف اور سی ڈیز ویڈیوز میں قابلِ اطمینان حد تک ہو نہیں گیا؟ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ مسلم ثقافت نے حفظِ قرآن کی ’’خوامخواہ کی مشقت‘‘ سے ابھی تک جان نہیں چھڑائی؟ بلکہ دیکھا جائے تو واقعاتی شواہد اس کے بالکل برعکس ملتے ہیں کہ حفظِ قرآن کی روایت سے وابستگی میں دن بدن مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 

مذہبیت سے قطع نظر (کہ نماز تراویح میں حفاظ کی ضرورت باقی رہتی ہے) واقعہ یہ ہے کہ مسلم تہذیب کے ثقافتی رویے میں حفظِ قرآن کی روایت کی روزافزوں مقبولیت اپنی اصالت میں، ایک انسانی خصوصیت ’حافظے‘ (property of memory) سے دست برداری کے خلاف مزاحمت کی زندہ و جاوید علامت ہے۔ اس کا ایک واضح مطلب یہ ہے کہ مسلم ثقافت، ذاتِ انسانی (man-himself) سے وابستہ کسی بھی بنیادی خصوصیت (main virtue or property) کے کسی آلے میں انتقال (transformation) میں اگرچہ مزاحم نہیں ہوتی، لیکن اس خصوصیت کی ذاتِ انسانی سے وابستگی کی بابت بہت حساس اور چوکنا رہتی ہے۔ اس لیے ہمیں مسلم تہذیب میں (مثلاً)چھاپے خانے اگرچہ بکثرت ملتے ہیں، کمپیوٹر کے استعمالات کے کئی نمونے ملتے ہیں، لیکن اس کے متوازی ذاتِ انسانی کے حیاتیاتی اثبات (biological assertion of man as man) کے مضبوط ثقافتی رویے بھی پوری شان کے ساتھ ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی انسانی خصوصیت جس شدت کے ساتھ کسی آلے میں منتقل ہو کر ہتھیار ڈال دیتی ہے، مسلم ثقافتی رویہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنا رنگ دکھاتاہے اور آلے کی افادیت تسلیم کرنے کے باوجود انتقال شدہ انسانی خصوصیت (transformed human virtue-property) کو ذاتِ انسانی سے وابستہ و پیوستہ رکھتا ہے۔ لہٰذا یہاں یہ اخذ کرنا درست ہو گا کہ حفظِ قرآن کی روایت، ایک انتہائی بنیادی انسانی خصوصیت، یاد اور حافظے کے تسلسل سے عبارت ہے اور اس تسلسل کا امین مسلم ثقافتی رویہ یا مسلم اجتماعی لاشعور ہے۔ 


یہ حقیقت مسلم تہذیب کے علمی مسلمات میں سے ہے کہ صدیوں کی مسافت کے باوجود قرآن مجید فرقان حمید، حرف حرف لفظ لفظ محفوظ چلا آ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود اٹھایا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کو اللہ رب العزت نے تاریخ کے سپرد نہیں کیا۔ تاریخ سے ورائیت کے ضمن میں یہی جان لینا کفایت کر سکتا ہے کہ تکمیلِ قرآن کے بعد، اس کی نزولی ترتیب کو بدل دیا گیا تھا۔ آج دنیا میں نزولی ترتیب کے مطابق قرآن مجید کا ایک بھی مستند نسخہ موجود نہیں ہے۔ نزولی ترتیب ایک خاص زمانے اور خاص سیاق و سباق کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ وہ خاص زمانہ ایک خاص (عربی) زبان کا حامل ہے اور خاص سیاق و سباق، شانِ نزول یا آیات کے نازل ہونے کے واقعاتی اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نزولی ترتیب سے منسلک یہ دونوں پہلو(خاص زمانہ اور خاص سیاق) قرآن مجید کو تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں کہ ان کی مدد کے بغیر قرآن کا درست فہم ( true understanding of Quran) حاصل نہیں ہو سکتا اور واقعہ یہ ہے کہ ان دونوں (خاص زمانہ اور خاص سیاق) تک رسائی تاریخی عمل کی تحلیل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا نزولی ترتیب سے قرآن مجید کا اٹھا دیا جانا اسے نہ صرف مخصوص زمانے کی مخصوص (عربی) زبان سے ماورا کر دیتا ہے (کہ قرآن کی عربی، عربی مبین ہے) بلکہ نزول کے مخصوص اسباب سے ماورا کرتے ہوئے کسی بھی تاریخی عمل کی بھینٹ چڑھنے سے بچا لیتا ہے، کہ آخر کو اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ رب العالمین نے اٹھایا ہوا ہے۔

یہاں ضمناً ایک سنگین فروگزاشت کی طرف توجہ دلانا برمحل ہو گا کہ بعض مذہبی حلقے فہمِ قرآن کے لیے جاہلیہ شاعری اور شانِ نزول کو انتہائی درجے میں اہمیت دیتے ہیں جس کے نتیجے میں قرآن کا فہم ایک مخصوص دور کی عربی زبان اور ایک مخصوص دور کے سیاق و سباق کی نذر ہو کر اپنے پیچھے یہ سوال چھوڑ جاتا ہے کہ اللہ رب العزت نے نزولی ترتیب پر ہی قرآن پاک کو قائم کیوں نہیں رکھا؟ واقعہ یہ ہے کہ نزولی ترتیب سے قرآن مجید کا اٹھا دیا جانا اسے ان علائق(تاریخی جبر) سے بالاتر کر دیتا ہے۔ اگر مخصوص مذہبی حلقے اپنے موقف پر بضد قائم ہیں تو انہیں سب سے پہلے نزولی ترتیب کے مطابق قرآن مجید کا کوئی ایڈیشن متعارف کروانا چاہیے اور پھر اسے ہی رواج دینے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ 


بحث کے اس مقام پر یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حدیث بھی قرآن مجید کے مانند تاریخ سے ماورا ہے؟ اس کا دیانت دارانہ جواب یہی ہے: نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حدیث کا تعلق تاریخ سے ہے۔ تدوینِ حدیث کے جواز کو مدِنظر رکھا جائے تو نہایت صراحت سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب امت کے اجتماعی عمل سے رخصت ہوتی چلی گئی تو یہ خدشہ پیدا ہو گیا کہ وہ وقت شاید بہت قریب ہے جب سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کثیر حصہ ’’تعاملِ امت‘‘ کی نذر ہو جائے گا اور بعد کی مسلمان نسلوں کے لیے نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ مطہرہ سے فیض یاب ہونا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔ اس لیے اصلاً، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے قرآنی حکم کے تتبع میں، تعاملِ امت کی کم زوری کااعتراف کرتے ہوئے امت کے حساس اذہان نے، سنتِ مطہرہ کے یکسر غائب ہونے کے متوقع سانحے کو بھانپتے ہوئے تدوینِ حدیث کی داغ بیل ڈال دی۔ 

واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے واضح قرآنی احکامات، سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو اگرچہ ٹھوس جواز فراہم کرتے ہیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تک رسائی کے لیے کوئی متعین راہ واضح نہیں کرتے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟اس سلسلے میں اگر قرآنی اسلوب پیشِ نظر رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سنت تو کجا، انبیا کرام علیھم السلام کی اکثریت کے نام تک کا ذکر قرآن مجید میں نہیں کیا گیا (اگر انبیا علیہم السلام کی تعداد سوا لاکھ کے قریب مان لی جائے)۔ اور پھر جن انبیا کرام علیھم السلام کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے ان کی زندگی کے تمام حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے گئے۔ قرآن مجید میں مذکور انبیا کرامؑ کے قصوں کا محتاط مطالعہ مترشح کرتا ہے کہ اللہ رب العزت نے انبیاکرام کے حالات میں سے انتہائی زیادہ اہمیت کے حامل محض ایسے واقعات بیان فرمائے ہیں جن کی حکمت کی تابانیاں دائمی اور آفاقی ہیں۔ اسی تسلسل اور رَو میں نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے بھی چنیدہ واقعات قرآن مجید کی زینت بن چکے ہیں۔ اگر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے نبوی پہلو کو دیکھا جائے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا، تو کہا جا سکتاہے کہ پورے کا پورا کلامِ پاک نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ۲۳برس(چالیس سے تریسٹھ) کی داستانِ حیات سمیٹے ہوئے ہے۔ اوپر کی سطروں میں جو سوال اٹھایا گیا کہ اطاعتِ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح قرآنی احکامات، سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو ٹھوس جواز فراہم کرنے کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تک رسائی کی کوئی متعین راہ کیوں نہیں دکھاتے؟ کا جواب یہاں بظاہر یہ ملتاہے کہ پورے کا پورا قرآن مجید (ایک اعتبار سے) سنت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داستان ہی تو ہے اور یہ داستان تاریخ سے ماورا ہونے کے ناتے بہت معتبر بھی ہے۔


اگر قرآن مجید ہی (ایک اعتبار سے) نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے تو تعامل امت میں سنت کے کم زور پڑنے یا اٹھ جانے کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ امت کے اجتماعی عمل میں فہمِ قرآن کی نبوی روایت افراط و تفریط کا شکار ہو گئی۔ اس لیے حدیث (کے علم و فن) کی ضرورت ان معنوں میں سنت کی حفاظت کے لیے نہیں ہے جس طرح ہمارے مذہبی حلقوں میں عام طور پر سمجھ لی گئی ہے، بلکہ حدیث کی اصلاً ضرورت، فہمِ قرآن کی روایت کی درستی کے لیے ہے جو اپنے نتیجے کے لحاظ سے اگرچہ سنت کا اثبات چاہتی ہے لیکن اس سنت کا جو دائمی آفاقی اور تاریخ سے ماورا ہے (کہ قرآن مجید ہی (ایک اعتبار سے) نبی خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے)۔ 

بحث کے اس مقام پر اب دیانت کا تقاضا ہے کہ یہ سوال اٹھایا جائے، کیا اللہ رب العزت نے تاریخ سے ماورا دائمی آفاقی سنت کو تاریخ (حدیث:علم و فن) کے سپرد کر دیا ہے؟ اس کا جواب ہے، جی ہاں۔ کیونکہ مسلم تاریخ کے جس مرحلے میں تعاملِ امت، سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی فہمِ قرآن کی نبوی روایت) سے منحرف ہونا شروع ہوا، اس نازک مرحلے پر مسلم تہذیب کا اجتماعی لاشعور دو راہے پر کھڑا تھا کہ: 

۱۔ تعاملِ امت کی کم زوری، جو کہ واقعاتی اور تکوینی اعتبارات سے درحقیقت منہ زوری تھی، کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں اور من مانی تشریحات و رسومات کے ماحول کو فروغ دیتے ہوئے قرآن کے نبوی فہم کو تاریخ کی نذر ہونے دیا جائے۔

۲۔ سنتِ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم سے انحراف پر مبنی تعاملِ امت کی منہ زوری کو نکیل ڈالی جائے اور تاریخی عمل کی مسلسل تحلیل کے ذریعے نبوی اعمال و اقوال کی جزئیات تک رسائی پاکر فہمِ قرآن کی روایت درست نہج پر لائی جائے۔ 

یہ حقیقت بھی مسلم تہذیب کے علمی مسلمات میں سے ہے کہ مسلم تہذیب کے اجتماعی لاشعور یا ثقافتی رویے نے اپنی تاریخ کے اس انتہائی نازک موڑ پر دوسری راہ کا انتخاب کیا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس راہ میں پھولوں کی وادیوں اور ستاروں کی کہکشاؤں سے واسطہ نہیں پڑے گا بلکہ دشت دشت سیاحی اور قدم قدم کانٹے بچھے ملیں گے۔ 

یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کی لاشعوری سطح(چاہے وہ اجتماعی ہو) کسی عمل کو ایسی سندِ جواز عطا کر سکتی ہے، جسے علمی گردانا جا سکے؟ ہماری رائے میں یہ نکتہ بحث طلب ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخی عمل کی مسلسل تحلیل کے ضمن میں حدیث (علم و فن) کی داغ بیل صرف اور صرف مسلم اجتماعی لاشعور کے حصے میں ہی نہیں آئی، بلکہ اس سلسلے میں اصلاً مسلم تہذیب کے ایسے اہلِ علم حضرات نے نہایت کلیدی کردار ادا کیا جن کا فہمِ قرآن تعاملِ امت کی منہ زوری کے مقابل، شعوری سطح پر نبوی روایت سے منسلک رہا۔ یہ اہلِ علم یہ سمجھنے میں بالکل درست تھے کہ قرآن مجید میں اطاعتِ رسول کا حکم (implied) ایک سندِجواز رکھتا ہے کہ اطاعت رسول کے لیے ’’درکاراقدامات‘‘ لازماً اٹھائے جائیں۔ جب تعامل امت کی کم زوری کے نتیجے میں اطاعتِ رسول(یا فہمِ قرآن کی نبوی روایت) صحیح معنوں میں ممکن نہ رہی تو اسی implied حکم کے تحت اہلِ علم حضرات نے حدیث کی تدوین کے قرآنی جواز کو ملحوظ رکھتے ہوئے فہمِ قرآن کی نبوی روایت کو افراط و تفریط سے بچانے کا اہتمام کیا اور عامۃالمسلمین کے لیے سنتِ تشریعی پر عمل کو ممکن بنایا۔ (اس بحث کا ایک مطلب یہ ہوا کہ ابتدائی چند صدیوں کے بعد تعاملِ امت اور سنتِ تشریعی آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ لہٰذا تعاملِ امت کو حجت گرداننے والے اصالتِ دین کے نام پر جس چیز کو فروغ دینا چاہتے ہیں، وہ سنت سے منحرف فہمِ قرآن کی بگڑی روایت کے سوا اور کچھ نہیں)۔ 


بحث کے اس مقام پر قدرتی طور پر ایک سوال ابھرتا ہے کہ اگر جاہلیہ شاعری اور شانِ نزول کے تناظر میں قرآن فہمی کی کوئی کوشش، قرآن کو ورائیت کے بجائے تاریخ کا حصہ بنا دیتی ہے، تو پھر حدیث (علم و فن) کے تناظر میں فہمِ قرآن کی کوششوں پر یہ اصول کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ کہ جاہلیہ شاعری کی دریافت کی طرح حدیث کی دریافت بھی تاریخی واردات کے ذریعے ہی ممکن ہو سکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر دو میں ثقاہت اور فقاہت کے اعتبار سے بہت ہی بنیادی فرق پایا جاتا ہے: 

۱۔ جاہلیہ شاعری اور حدیث تک رسائی میں تاریخی عمل کا کردار یکساں نہیں ہے۔ حدیث، تاریخ جانچنے کے کسی بھی معتبر پیمانے پر پورا اترتی ہے، جبکہ جاہلیہ شاعری کو یہ اعتبار حاصل نہیں۔ 

۲۔ جاہلیہ شاعری کے ذریعے قرآنی الفاظ کے معانی متعین کرنا، مخصوص قرآنی رنگ سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس رو گردانی یا انحراف سے مراد یہ ہے کہ جاہلیہ شاعری جن اشخاص سے منسوب ہے ان کا قرآن مجید سے براہ راست کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ جبکہ حدیث کی نسبت نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے جن پر قرآن مجید نازل ہوا۔ اس لیے جب یہ ثابت ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہی الفاظ نکلے ہیں تو قرآنی عربی (عربی مبین) کے معانی کے تعین میں یقیناًان سے مدد لی جا سکتی ہے بلکہ لازماً مدد لی جانی چاہیے۔ لہٰذا قرآن کو قرآن کے اپنے رنگ میں سمجھنے کی کوشش جاہلیہ شاعری کے بجائے حدیث کے ذریعے سے ہی ممکن ہے۔ 

۳۔ خالص لسانیاتی حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیہ شاعری میں برتی گئی عربی زبان یک دم وجود میں نہیں آ گئی تھی۔ یقیناً اس کی نوعیت بھی اسی طرح ارتقائی ہے جیسا کہ ہر زبان کی ہیت و ساخت میں اس کی ارتقائی نوعیت چھپی ہوتی ہے۔ اس لیے اس بابت دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ ہر زبان کے مانند جاہلیہ شاعری میں بھی اس کے الفاظ اور الفاظ کے معانی متعین کرنے میں اس کے پیچھے موجود ارتقا کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جاہلیہ شاعری کے ذریعے قرآنی الفاظ کے معانی متعین کرنے کی کوشش کی جائے گی تو کیا جاہلیہ شاعری کا مخصوص پس منظر اس سارے عمل میں کسی بھی اعتبار سے اثر انداز نہیں ہوگا؟ جب کہ حدیث کے ساتھ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک صفاتی نام امّی بھی ہے۔ اسی لیے حدیث میں برتی گئی زبان کا ویسا کوئی مخصوص پس منظر نہیں ہے جیسا کہ جاہلیہ شاعری کا ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کے امّی ہونے کی نسبت سے، حدیث مبارک کو (قرآنی الفاظ کے معانی کے تعین میں)قرآنی پس منظر کا درجہ مل جاتا ہے۔ 

۴۔ جاہلی شاعری، تعیناتِ معانی کے عمل میں ایجابی نوعیت لیے ہوئے ہے۔ ایک تو یہ قرآنی رنگ اور قرآنی پس منظر سے باہر ہے اس پر مستزاد اس کی ایجابی نوعیت۔ اس لیے یہ فہمِ قرآن کی نبوی روایت سے قریب آنے کے بجائے الگ راہ اپنا لیتی ہے۔ جبکہ حدیث اپنی عمومیت کے دائرے میں سلبی نوعیت کی حامل ہے۔ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کیا ہے؟ اس کا تعین نہیں کیا جا سکتا، جبکہ خدا کیا نہیں ہے اس کو کسی نہ کسی درجے میں طے کیا جا سکتا ہے، بالکل اسی طرح حدیث اپنے سلبی اعتبار کے ساتھ فہمِ قرآن کی روایت کو کہ وہ ’’کیا نہیں ہو سکتی‘‘ کسی نہ کسی درجے میں طے کر دیتی ہے، جبکہ وہ ’’کیا ہو سکتی ہے‘‘ کو امکانی سطح پر مستور رکھتی ہے۔ اس طرح حدیث کی سلبی نوعیت ’’تحدیدی توسع‘‘ کی راہ دکھاتی ہے، کہ اس کے توسط سے فہمِ قرآن میں مخصوص حد بندی کے ساتھ پھیلاؤ کے ان گنت امکانات موجود ہیں، جنہیں زرخیز اذہان وجود میں ڈھال سکتے ہیں۔ فہمِ قرآن کے امکانی توسعات پر حدیث کی کتر بیونت کا عمل اسے (فہمِ قرآن کو) قرآنی رنگ (سنتِ تشریعی) سے دور نہیں جانے دیتا۔ ہمارے خیال میں جاہلیہ شاعری سے اس سارے عمل کی توقع رکھنا عبث ہے۔ 


مذکورہ بحث کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی کلاسیکل علمی روایت سمیت عصری جدت پسندی کی رسائی ابھی تک، حفظِ قرآن کی روایت اور علمِ حدیث کے داخلی تعلق تک نہیں ہو پائی۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ حفظِ قرآن کی روایت نے بنفسہٖ، یاد اور حافظے کی محافظت میں تاریخ سے پختہ و شعوری وابستگی کے لیے مسلمانوں کو وہ ٹھوس بنیاد فراہم کی ، جس کی ضرورت بعد ازاں سنت (جو ابتدائی صدیوں میں تعاملِ امت کی صورت میں موجود تھی) سے حدیث تک کے فیصلہ کن مرحلے میں مسلمانوں کو پیش آئی۔ اس لیے سنت سے حدیث تک کا سفر اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ سفر محض سفر نہیں بلکہ رمز کی حامل ایک پوری داستان ہے۔ اس داستان کے باطن میں جھانکنے کی کبھی زحمت نہیں کی گئی۔ اس لیے کئی مذہبی حلقے، حدیث کے اصل مقام اور اس کی تشریعی حیثیت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کی وہ جہت جسے سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، حجت کی حامل اور تاریخ سے ماورا ہے۔ جبکہ حدیث کی وہ جہت جسے ’’علم و فن‘‘ کہا جاتا ہے، اپنی واقعیت کے اعتبار سے تاریخ کا حصہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جدید دور میں بعض حلقے، علم و فن کو حجت قرار دینے پر مصر ہیں تو دوسری طرف بعض حلقے حدیث کی اس جہت کے ہی سرے سے منکر ہیں جو اپنی حقیقت میں سنت ہے اور حجت کی حامل ہے۔ 

ہمارے خیال میں علم و فن کی سطح پر حدیث کو پرکھتے وقت یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید کی نزولی ترتیب کا بدل دیا جانا، اسے تاریخ سے ماورا کر دیتا ہے، جبکہ حدیث علم و فن کے اعتبار سے خالصاً تاریخ اور یادِ ماضی سے شعوری وابستگی کا دوسرا نام ہے۔ اوریہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مطالعہ تاریخ کا درست منہج، تاریخی واقعات کے پس منظراور تقدیم و تاخیر کی منطقی ترتیب سے کماحقہ آگاہی کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کے بغیر تاریخی عمل میں سے حقیقی صورتِ حال کے نِکھر کر سامنے آنے کے امکانات کم کم ہوتے ہیں۔ 

حدیث کی وہ جہت جسے ہم نے سنت سے تعبیر کیاہے، اصولی طور پر تشریعی ہونے کے باوجوداپنے تک رسائی اور اظہار کے لیے حدیث کی اس جہت کی مرہونِ منت ہے جسے علم و فن گردانا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدید دور میں سنت تک رسائی تعاملِ امت کے بجائے حدیث کے’ علم و فن‘ کے ذریعے سے ہی ممکن ہے اور یہ علم و فن اپنی اپروچ میں تاریخی عمل کی مسلسل تحلیل کا تقاضا کرتا ہے۔ اندریں صورت، متونِ حدیث کے سیاق و سباق کے اطراف کی جانکاری اور ایک ہی موضوع پر مختلف احادیث کے متون میں موجود فرق کا زمانی و مکانی ادراک، تلاشِ سنت کے عمل کا ایک ناگزیر لازمہ ٹھہرتا ہے۔ ہماری رائے میں علمِ حدیث پر مسلمانوں کے کلاسیکل لٹریچر میں اس ناگزیر لازمے کو اس توجہ سے نہیں نوازا گیا جس کا یہ حقیقت میں مستحق ہے۔ 


بحث کے اختتام پر ایک بنیادی نکتہ تنقیح طلب رہ جاتا ہے کہ اگر سنتِ تشریعی (فہمِ قرآن کی نبوی روایت) تک رسائی حدیث (علم و فن) کے ذریعے ہی ممکن ہے تو کیا یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ چونکہ حدیث (علم و فن) اپنی حقیقت میں تاریخ ہے، اس لیے جدید دور میں فہمِ قرآن کی درستی، تاریخ کے باطن میں جھانکنے کا تقاضا کرتی ہے؟ جی ہاں! سچ یہی ہے۔ اسی لیے مسلم ثقافت نے ماضی میں حفظِ قرآن کی روایت سے شہ پا کر نہ صرف حدیث(علم و فن) کی داغ بیل ڈالی، بلکہ عصرِ حاضر میں جب بظاہر اس (حفظِ قرآن) کی ضرورت باقی نہیں رہی، اسے ذاتِ انسانی کی بنیادی خصوصیت (یاد) کے تحفظ کی غرض سے مزید پروان چڑھا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں ایسی ترقی یا فتح جو انسان کی ذات سے وابستہ کسی بنیادی خصوصیت پر حملہ آور ہوئی ہے، مسلم ثقافت نے اسے ہمیشہ counter کیا ہے۔ (شاید counter کرنے کا یہ عمل کہیں کہیں encounter تک جا پہنچا ہے جس کی وجہ سے جدید مادی ترقی میں مسلم تہذیب کا کردار ویسا نہیں ہے جیسا کم از کم ہونا چاہیے تھا)۔ 

بحث سمیٹتے ہوئے ہم گزارش کریں گے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ انسان کی معلوم تاریخ (known history) میں تاریخ کو علمی بنیاد فراہم کرنے کا سہرا ایک مسلمان کے سر بندھاہے اور اسے تاریخ کا باوا آدم (founding father) گرداناگیاہے۔ جی ہاں! یہ ابنِ خلدون ہی ہے جس نے بڑی بوڑھیوں کے قصے کہانیوں والی تاریخ اور اس سے آنکھیں بند کر کے کی جانے والی وابستگی کے بجائے تجزیہ و استدلال پر مبنی شعوری وابستگی کو تاریخ قرار دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ’مقدمہ‘ کوئی مسلمان ہی تخلیق کر سکتا تھا، کیونکہ غیر مسلموں کی علمی روایت میں حفظِ قرآن اور حدیث کی طرز کا کوئی علم و فن نہیں پایا جاتا(اگرچہ یاد اور حافظے کو کم زور کرنے والے آلات؛ چھاپہ خانہ کمپیوٹر وغیرہ ضرور نظر آتے ہیں)۔ اس لیے حدیث (علم و فن) کی نوعیت کا غیر جانب دارانہ اور معروضی مطالعہ مترشح کرتا ہے کہ اس کی بنت و بافت کے پیچھے مسلم تہذیب کا ثقافتی رویہ یا مسلم اجتماعی لاشعور کارفرما ہے۔ لہٰذابلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ حدیث(علم و فن) بلا شبہ، مسلم تہذیب کی داخلی مضبوطی کا خارجی اظہار ہے اور تاریخی اعتبار سے اصالتِ دین کی تلاش میں اس کا کردار نہایت کلیدی ہے۔ 

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(اگست ۲۰۱۲ء)

Flag Counter