حدیث نبوی میں ’اخوان‘ کا مصداق

ریحان احمد یوسفی

’’الشریعہ‘‘ کے اکتوبر ۲۰۰۶کے شمارے میں برادرم عمار ناصر صاحب کاایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے مولانا وحید الدین خان صاحب کی ایک تحریر کے حوالے سے ان پر گرفت کی، جس میں مولانا وحیدالدین خان صاحب نے اپنے تشکیل کردہ دعوتی فورم سی پی ایس انٹرنیشنل پر گفتگو کی ہے۔

عمار صاحب کی تنقید مولانا پر دو پہلووں سے ہے۔ ایک یہ کہ انھوں نے مسلم کی اس روایت کاغلط مطلب سمجھا ہے جو مولانا نے نقل کی ہے۔ زیر بحث اصل روایت، اس کے حوالہ جات اور ترجمہ درج ذیل ہے۔واضح رہے کہ محدثین کے نزدیک یہ روایات سنداً صحیح ہے۔

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَی الْمَقْبَرَۃَ فَقَالَ:السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِیْنَ، وَاِنَّااِنْ شَاءَ اللّٰہُ بِکُمْ لاَحِقُوْنَ.وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَیْنَا اِخْوَانَنَا. قَالُوْا: أَوَلَسْنَا اِخْوَانَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: أَنْتُمْ أَصْحَابِیْ، وَاِخْوَانُنَا الَّذِیْنَ لَمْ یَأْتُوْا بَعْدُ.  (مسلم ، رقم۲۴۹۔ابن خزیمہ،رقم ۶۔بیہقی،رقم۷۰۰۱۔احمد،رقم۹۲۸۱۔ابو یعلیٰ،رقم ۶۵۰۲) 
’’ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک موقع پر) قبرستان تشریف لائے اور آپ نے( مُردوں کے لیے دعا کرتے ہوئے) فرمایا:اے مومنین کی جماعت،تم پر سلامتی ہو،اوربے شک، اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تمھارے پیچھے آنے ہی والے ہیں۔(پھر آپ نے فرمایا:)میری بڑی خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھیں۔ صحابہ (رضی اللہ عنہم)نے عرض کیا :اے اللہ کے رسول،کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟آپ نے فرمایا:تم لوگ تو میرے ساتھی اور رفیق ہو،ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی آئے ہی نہیں ہیں۔‘‘ 

مولانا نے اس روایت سے یہ سمجھا ہے کہ اس میں اصحاب رسول کے علاوہ بھی ایک خاص گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جو بعد کے زمانے میں آئے گا۔عمار صاحب کی تنقید یہ ہے کہ اس روایت میں کسی خاص گروہ کی پیش گوئی نہیں کی گئی ہے، بلکہ اپنے بعد آنے والے اہل ایمان کو اپنے بھائی کہا گیا ہے۔

عمار صاحب کی دوسری تنقید یہ ہے کہ مولانا نے اس گروہ کا مصداق سی پی ایس انٹرنیشنل کو قرار دیا ہے ۔اس دوسری بات کا جواب تو خیر مولانا کے ذمہ ہے ۔ میرے علم کی حد تک عمار صاحب کی یہ تنقید مولانا تک پہنچ چکی ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے ’’الرسالہ‘‘ کے کسی شمارے میں وہ اپنا نقطۂ نظر بیان کردیں گے۔ البتہ، ان کی پہلی تنقید چونکہ فہم حدیث سے متعلق ہے ، اس لیے اس بارے میں ،میں اپنا نقطۂ نظر پیش کرنا چاہتا ہوں۔

میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ اگر اس حدیث کے الفاظ کی نسبت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف درست ہے تو اس کے متن کا بغور مطالعہ اسی نتیجے تک پہنچاتا ہے جس تک مولانا وحید الدین خان صاحب پہنچے ہیں۔یعنی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد آنے والے عام مسلمانوں کی نہیں، بلکہ ان میں سے کچھ خاص لوگوں کی پیش گوئی کی ہے۔ میری بات کے دلائل حسب ذیل ہیں:

اس روایت میں حضور پاک نے بات کا آغاز یہاں سے کیا ہے کہ میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتے اور آخر میں حضور فرماتے ہیں کہ ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان ’’اخوان‘ ‘کی خصوصیت صرف اتنی ہے کہ وہ حضور کے بعد ایمان لے کر آئیں گے تو حضور کی اس خواہش کی معنویت واضح نہیں ہوپاتی کہ آپ انھیں دیکھ سکیں۔ اس لیے کہ حضور پاک کو یہ بات بھی معلوم تھی کہ آپ کو ایک روز دنیا سے رخصت ہونا ہے اور یہ بھی معلوم تھا کہ بہرحال اس کے بعد بھی لوگ ایمان لائیں گے۔ اس لیے مجرد طور پر یہ بات کہ اپنے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ایمان لانے والوں کو حضوردیکھ لیں، اپنی معنویت پوری طرح واضح نہیں کرپاتی، سوائے اس کے کہ ان ’’اخوان‘‘ کی خصوصیت صاحب ایمان ہونے کے علاوہ مزید کچھ اور بھی ہو۔

پھر عقل عام کی بات یہ ہے کہ حضور کے بعد ایمان لے کر آنا کسی طورپر بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں کہ حضورایسے لوگوں کے دیدار کے مشتاق ہوں۔ معلوم بات ہے کہ حضور پاک کی زندگی ہی میں اسلام کو وہ عظمت حاصل ہو گئی تھی کہ لوگ جوق در جوق ایمان لارہے تھے۔ خلافت راشدہ اور بعد کے ادوار میں اسلام کو وہ عروج واقتدار حاصل ہوچکاتھا کہ مسلمان ہوجانا آخرت ہی نہیں، بلکہ دنیامیں بھی نفع کا باعث تھا۔ ایسے میں لوگوں کا اسلام قبول کرلینا یا مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوجانا ان میں کوئی ایسی خصوصیت پیدا نہیں کرتا ہے کہ حضوران کے دیدار کے مشتاق ہوں۔

دوسری بات یہ ہے کہ حضور نے اخوان کی تعیین یہ کہہ کر نہیں کی کہ یہ لوگ وہ ہیں جو میرے بعد ایمان لائیں گے، بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے۔ یہ اسلوب خود ایک نوعیت کے تخصص کو پیدا کردیتا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ ان بعد میںآنے والوں کو حضور نے اپنے اور صحابۂ کرام کے ساتھ یہ کہہ کر منسلک کیا ہے کہ یہ ہمارے بھائی ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حضور کے صحابہ ہر گز ہرگز عام لوگ نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے نصرت دین کی ایک انتہائی غیر معمولی خدمت لی ہے۔ جب یہ بات واضح ہے تو پھرآپ سے آپ یہ بات نکلتی ہے کہ ’’ہمارے بھائیوں‘‘ کے اس اعلیٰ ترین خطاب کے حق دار کوئی عام لوگ نہیں ہوں گے، بلکہ دین کی خدمت سرانجام دینے والا یہ کوئی خاص گروہ ہی ہوگا۔

رہا سوال یہ کہ اخوان سے مراد کون لوگ ہیں تو یہ ایک ایسی بحث ہے جس میں ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں۔ تاہم میرے نزدیک بلاشک و شبہ مولانا وحید الدین خان صاحب کا یہ موقف بالکل درست ہے کہ اخوان رسول، صحابۂ کرام کی طرح ایک خصوصی حیثیت کا گروہ ہے۔ تاہم میری طالب علمانہ رائے میں گروہ کا لفظ استعمال کرنے سے غلط فہمی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ زیادہ درست الفاظ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں میں سے وہ لوگ ہوں گے جو ہر طرح کے حالات میں صحیح دین پر قائم رہنے والے اور لوگوں کو اسی کی دعوت دینے والے ہوں گے۔ ان کا زمانہ ایک ساتھ ہونا ضروری نہیں اور یہ بھی لازمی نہیں کہ وہ دنیا میں بھی ایک ہی گروہ کی حیثیت سے متعارف ہوں۔ 

میری اس رائے کی تائیدروایت کا اگلا حصہ کرتا ہے۔میں اسے ذیل میں نقل کررہا ہوں:

فَقَالُوْا:کَیْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ یَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ فَقَالَ: أَرَأَیْتَ لَوْأَنَّ رَجُلاً لَہٗ خَیْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَۃٌ بَیْنَ ظَہْرَیْ خَیْلٍ دُھْمٍ بُھْمٍ، أَلاَ یَعْرِفُ خَیْلَہٗ؟ قَالُوْا: بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ. قَالَ: فَاِنَّھُمْ یَأْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِیْنَ مِنَ الْوُضُوْءِ، وَأَنَا فَرَطُھُمْ عَلَی الْحَوْضِ. أَلاَ لَیُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِیْ کَمَا یُذَادُ الْبَعِیْرُ الضَّالُّ، أُنَادِیْھِمْ: أَلاَ ھَلُمَّ! فَیُقَالُ: اِنَّھُمْ قَدْ بَدَّلُوْا بَعْدَکَ. فَأَقُوْلُ: سُحْقًا سُحْقًا.
’’پھر اُنھوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول، آپ کی امت کے جو لوگ ابھی آئے نہیں ہیں، آپ ان کو (قیامت میں)کیسے پہچانیں گے؟ آپ نے ارشاد فرمایا:اگر انتہائی سیاہ رنگ کے گھوڑوں کے درمیان کسی آدمی کے ایسے گھوڑے موجود ہوں جن کی پیشانیاں اور پاؤں سفید ہوں توآپ کا کیا خیال ہے ،کیا وہ اپنے گھوڑوں کو پہچان نہیں پائے گا؟ صحابہ(رضی اللہ عنہم) نے جواب دیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!آپ نے فرمایا: یہ لوگ اس حال میں آئیں گے کہ وضو کے سبب سے ان کی پیشانیاں اور پاؤں سفید اور روشن ہوں گے۔اور میں ان سے پہلے حوض پر موجود ہوں گا۔ البتہ، یہ بات بھی جان لو کہ کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح واپس دھکیل دیا جائے گا،جس طرح ایک بھٹکے ہوئے اونٹ کو دھکیل دیا جاتا ہے۔ میں ان کو پکار پکار کر بلا رہا ہوں گا۔پھر مجھ سے کہا جائے گاکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے آپ کے بعد (دین میں) تبدیلی کردی تھی۔ (آپ فرماتے ہیں کہ) اس پر میں ان لوگوں سے کہوں گا: بربادی ہو تمھارے لیے،بربادی ہو۔‘‘

اس میں بتایاگیا ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے اعضا، وضو سے روشن ہوں گے اور اس موقع پر کچھ لوگ اور بھی ہوں گے جنھوں نے دین میں تبدیلی کردی تھی اور انھیں حوض سے دھکیل دیا جائے گا۔روایت کے یہ الفاظ صاف بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کا زمانہ حضورکے بعد کا وہ دورہوگا جب دین کے نام پر کھڑے ہوئے لوگ اصل دین میں تبدیلی کر چکے ہوں گے۔ یہ لوگ دین کی حقیقت اور اصل تعلیم پر پردے ڈال دیں گے۔ ایسے میں کہ جب دین کے نام پر دوسری چیزیں رائج ہوچکی ہوں، اصل دین کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا نصرت دین کا سب سے بڑا کام ہے۔دین کی تعلیمات بدلنے کی یہ کوشش مختلف زمانوں میں کی گئی ہے، اس لیے ہر دور کے ایسے لوگ اس خوش خبری میں شامل ہیں جو صحیح دین پر قائم رہے اور اسے ہی لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے۔ اس آخری زمانے میں چونکہ یہ سانحہ بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے اور اب اصل دین لوگوں کے سامنے پیش کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے، اس لیے اس زمانے کے صلحا اس خوش خبری کے سب سے بڑھ کر حق دار ہیں۔ یہ مضمون کم و بیش وہی ہے جو امام مسلم نے ’فطوبی للغرباء‘ والی روایت میں بیان کیا ہے ۔

یہ ناکارہ وحید الدین خان صاحب کی طرح صاحب نگاہ اور صاحب قلم ہے اور نہ عمار صاحب کی طرح صاحبعلم ہے، مگر امید ہے کہ اس عاجز کی بات واضح ہوگئی ہوگی۔


حدیث و سنت / علوم الحدیث