نقد روایت کا درایتی معیار ۔ مسلم فکر کے تناظر میں

محمد عمار خان ناصر

خبر کی اہمیت انسانی علم کے عام ذرائع میں خبر بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کا دائرۂ کار وہ امور ہیں جن تک انسان کے حواس اور عقل کی رسائی نہیں ہے۔ ہم اپنے حواس کی مدد سے صرف ان چیزوں کے بارے میں جان سکتے ہیں جو ہمارے سامنے ہوں اور ہم ان پر دیکھنے، سننے، چھونے، سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیتیں بروئے کار لا سکتے ہوں۔ اسی طرح ہماری عقل صرف ان معلومات کو ترتیب دے کر مختلف نتائج اخذ کر سکتی ہے جو ہمارے حواس اس تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن باقی امور کے علم کے لیے ہمیں دوسرے انسانوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے جو ہمیں ان تجربات کے بارے میں بتا سکیں جو انہیں حاصل ہوئے یا ان واقعات کی خبر دے سکیں جن کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہے۔ انسانی تمدن کی تشکیل اور ارتقا میں خبر نہایت اہم کردار کرتی ہے۔ اسی کے ذریعے سے ہم ان افراد اور گروہوں کے بارے میں جانتے اور ان کے حوالے سے مختلف علمی وعملی رویے اختیار کرتے ہیں جن سے ہمارا براہ راست واسطہ نہیں یا جو زمانی لحاظ سے ہم سے پہلے ہو گزرے ہیں اور اسی کے ذریعے سے نسل انسانی مختلف میدانوں میں اپنے تجربات واکتشافات کو محفوظ کر کے اگلی نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتی ہے۔ تاہم انسان کو حاصل ہونے والی دوسری تمام صلاحیتوں کی طرح، خبر کی صلاحیت بھی نقائص اور خامیوں سے پاک نہیں۔ خبر کی افادیت کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اس میں حقیقت واقعہ کو بالکل اسی طرح بیان کیا گیا ہو جیسی کہ وہ ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ہر خبر اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر کو روایت کرنے والے،جیسا کہ واضح ہے، انسانوں میں سے ہی کچھ افراد ہوتے ہیں اور اس کے مضمون کی ترتیب میں ان کی طبعی صلاحیتوں، مشاہدہ واستنباط کے طریقوں، ان کے گرد وپیش کے حالات اور ان کے کردار کا نہایت گہرا اثر ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل بالعموم واقعہ کی حقیقی تصویر کو خراب کرنے اور اس میں سے حقیقت کے عنصر کو کمزور کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ نقد خبر کا معیار اس نقص کے ازالہ کے لیے نسل انسانی کے عقلا نے صدیوں کے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں روایت کی جانچ پرکھ کے مختلف اصول وضع کیے ہیں جن کا اطلاق کر کے کسی بھی روایت کی تصدیق یا تکذیب کی جا سکتی اور ماخذ علم کے طور پر اس کا مقام متعین کیاجا سکتا ہے۔ یہ اصول وضوابط کیا ہیں؟ مولانا سید ابو الاعلی مودودیؒ کے حسب ذیل اقتباس میں نقد روایت کے بنیادی پہلو بیان کیے گئے ہیں: ’’ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کسی خبر کی تحقیق کا سخت سے سخت قابل عمل معیار کیا ہو سکتا ہے۔ فرض کیجئے زید نام کا ایک شخص اب سے سو برس پہلے گزرا ہے جس کے متعلق عمرو ایک روایت آپ تک پہنچاتا ہے۔ آپ کو تحقیق کرنا ہے کہ زید کے متعلق یہ روایت درست ہے یا نہیں؟ اس غرض کے لیے آپ حسب ذیل تنقیحات قائم کر سکتے ہیں : (۱) یہ روایت عمرو تک کس طریقے سے پہنچی؟ درمیان میں جو واسطے ہیں، ان کا سلسلہ زید تک پہنچتا ہے یا نہیں؟ درمیانی راویوں سے ہر راوی نے جس شخص سے روایت کی ہے، اس سے وہ ملا بھی تھا یا نہیں۔ ہر راوی نے روایت کس عمر اور کس حالت میں سنی؟ روایت کو اس نے لفظ بلفظ نقل کیا یا اس کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کیا؟ (۲) کیا یہی روایت دوسرے طریقوں سے بھی منقول ہے؟ اگر منقول ہے تو سب بیانات متفق ہیں یا مختلف؟ اور اختلاف ہے تو کس حد تک؟ اگر کھلا ہوا اختلاف ہے تو مختلف طریقوں میں سے کون سا طریق زیادہ معتبر ہے؟ (۳) جن لوگوں کے واسطے سے یہ خبر پہنچی ہے، وہ خود کیسے ہیں؟ جھوٹے یا بد دیانت تو نہیں؟ اس روایت میں ان کی کوئی ذاتی یا جماعتی غرض تو مخفی نہیں؟ ان میں صحیح یاد رکھنے اور صحیح نقل کرنے کی قابلیتتھی یا نہیں؟ (۴) زید کی افتاد طبع، اس کی سیرت، اس کے خیالات اور اس کے ماحول کے متعلق جو مشہور ومتواتر روایات یا ثابت شدہ معلومات ہمارے پاس موجود ہیں، یہ روایت ان کے خلاف تو نہیں ہے؟ (۵) روایت کسی غیر معمولی اور بعید از قیاس امر کے متعلق ہے یا معمولی اور قرین قیاس امر کے متعلق؟ اگر پہلی صورت ہے تو کیا طرق روایت اتنے کثیر، مسلسل اور معتبر ہیں کہ ایسے امر کو تسلیم کیا جا سکے؟ اور اگر دوسری صورت ہے تو کیا روایت اپنی موجودہ شکل میں اس امر کی صحت کا اطمینان کرنے کے لیے کافی ہے؟ یہی پانچ پہلو ہیں جن سے کسی خبر کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔‘‘ (۱) اس اقتباس کا تجزیہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ اس میں روایت کی تنقید کے دو مستقل اور جداگانہ معیاروں کا ذکر کیا گیا ہے : پہلا معیار ’’روایتی معیار‘‘ ہے جس میں اصل بحث راوی کی شخصیت، سند کے اتصال، روایت کے طریقوں اور اس کی مختلف سندوں سے ہوتی ہے۔ اقتباس میں مذکورپہلے تین امور اسی معیار سے متعلق ہیں۔ دوسرا معیار ’’درایتی معیار‘‘ ہے جس میں مذکورہ امورہ سے ہٹ کر دیگرعقلی قرائن کی روشنی میں روایت کے صحت واستناد کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اقتباس میں مذکور آخر ی دونوں امور اسی معیار کی وضاحت کرتے ہیں۔ درایت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم درایت کا لغوی معنی جاننا ہے۔ المعجم الوسیط میں ہے: دری الشئی : علمہ بضرب من الحیلۃ ’’کسی چیز کی درایت کا مطلب ہے تگ ودو اور کوشش کر کے اس کو معلوم کرنا۔‘ ‘ (۲) اصطلاحی مفہوم کے لحاظ سے ’’درایت‘‘ دو مختلف معنوں میں مستعمل ہے۔ پہلا مفہوم وہ ہے جو امام سیوطیؒ نے علامہ ابن الاکفانی ؒ سے نقل کیا ہے۔ ان کی تقسیم کے مطابق علم حدیث کی دو قسمیں ہیں : علم الروایہ اور علم الدرایہ۔ علم الروایہ کے تحت انہوں نے درج ذیل امور کا ذکر کیا ہے : نبی ﷺ کے اقوال وافعال، ان کی روایت، ان کا ضبط کرنا اور ان کے الفاظ کو تحریر میں لانا۔ جبکہ علم الدرایہ میں درج ذیل امور شامل ہیں : روایت کی حقیقت ، اس کی شرائط، انواع اور احکام، راویوں کے حالات اور ان کی شرائط، روایت کی مختلف اقسام اور ان سے متعلقہ امور۔ (۳) دوسرے معنی کے لحاظ سے درایت کا لفظ ، مذکورہ بالا وسیع مفہوم کے بجائے، نقد روایت کے محدود تناظر میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد ایسے قرائن کا علم اور اطلاق ہوتاہے جن کا لحاظ رکھنا ، عقل عام اور روز مرہ انسانی تجربات ومشاہدات کی روشنی میں، کسی بھی خبر کا مقام متعین کرنے میں ضروری ہے۔ زیر نظر مقالہ میں ہمارا مقصود مسلمانوں کی علمی روایت میں نقد خبرکے درایتی معیار اور اس کے عملی اطلاق کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرنا ہے۔ درایتی نقد کے مختلف پہلو سب سے پہلے تو اس بات پر غور کیجئے کہ کسی روایت کو بلحاظ درایت پرکھتے ہوئے کون کون سے امور زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے سابق الذکر اقتباس میں دو پہلو بیان کیے گئے ہیں : ۱۔ کسی شخص کے متعلق وارد روایت کے بارے میں یہ دیکھاجائے کہ وہ اس کی افتاد طبع، سیرت، خیالات اور اس کے ماحول کے متعلق ثابت شدہ معلومات کے خلاف تو نہیں ؟ ۲۔ یہ دیکھا جائے کہ اگر روایت کسی غیر معمولی اور بعید از قیاس امر کے متعلق ہے تو کیا اس کے راوی اتنے زیادہ اور معتبر ہیں کہ محض ان کی شہادت پر ایسے امر کو تسلیم کیا جا سکے؟ سیرت النبی کے مقدمہ میں علامہ شبلیؒ نے جو بحث کی ہے، اس کی روشنی میں اس پر درج ذیل امور کااضافہ کیا جا سکتا ہے : ۳۔ رواۃ کے مختلف مدارج کو ملحوظ رکھا جائے۔ نہایت ضابط، نہایت معنی فہم اور نہایت دقیقہ رس راویوں کی روایات کو عام راویوں کی روایات پر ترجیح ہونی چاہئے۔ بالخصوص ان روایتوں میں یہ فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہئے جو فقہی مسائل یا دقیق مطالب سے تعلق رکھتی ہیں۔ ۴۔ یہ دیکھا جائے کہ راوی جو واقعہ بیان کرتا ہے، اس میں کس قدر حصہ اصل واقعہ ہے اور کس قدر راوی کا قیاس ہے۔ (۴) مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ نے اس ضمن میں مزید چند امور کی نشان دہی کی ہے : ۶۔ واقعہ کے اصل راوی کے تعلقات صاحب واقعہ کے ساتھ کس قسم کے تھے؟ ۷۔ نفس واقعہ کی نوعیت کیا ہے؟ کیا وہ واقعہ اس ماحول میں پیش آ سکتا ہے؟ ۸۔ اگر واقعہ کو صحیح مان لیا جائے تو طبعا جو نتائج اس پر مرتب ہونے چاہئیں، وہ ہوئے ہیں یا نہیں؟ (۵) درایتی نقد کے یہ پہلوعام ہیں اور ان کا اطلاق ہر قسم کی روایات پر ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر زیر بحث روایت دینی لحاظ سے بھی اہمیت رکھنے والی ہویعنی اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہو تو مزید دو پہلو پیش نظر رہنے چاہئیں جن کی تائید عقل عام سے بھی ہوتی ہے اور جن کی تصریح جلیل القدر محدثین اور فقہاء نے بھی کی ہے : ۹۔ روایت قرآن مجید کی نصوص یا رسول اللہ ﷺ کی سنت مشہورہ کے خلاف تو نہیں؟ ۱۰۔ اس روایت کو تسلیم کرنے سے دین کے کسی مسلمہ اصول پر زد تو نہیں پڑتی؟ دین میں نقد درایت کی بنیاد روایت کی تحقیق کرتے ہوئے حالات وقرائن کی روشنی میں اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے کی تعلیم خود قرآن مجید نے دی ہے۔ سورۂ نور میں واقعہ افک کے ضمن میں ارشاد ہے : لو لا اذ سمعتموہ ظن المومنون والمومنات بانفسھم خیرا وقالوا ھذا افک مبین ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اس بات کو سنا تو مومن مردوں اور عورتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کیا اور کہا کہ یہ تو صریح بہتان ہے۔ (۶) اس آیت سے معلوم ہوا کہ بعض خبریں ایسی ہوتی ہیں جن کے بطلان کے قرائن اس قدر واضح ہوتے ہیں کہ ان کو سنتے ہی ان کی تردید کر دینی چاہئے۔ چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں روایت ہے کہ جب حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ بات سنی تو اپنی اہلیہ سے فرمایا: ’’یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اے ام ایوب، کیا تم ایسا کر سکتی ہو؟‘‘ انہوں نے کہا :بخدا نہیں۔ تو فرمایا : ’’اللہ کی قسم، عائشہؓ تم سے بہتر ہیں‘‘ (۷) مسند احمد میں حضرت ابو اسید الساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اذا سمعتم الحدیث تعرفہ قلوبکم وتلین لہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم قریب فانا اولاکم بہ واذا سمعتم الحدیث عنی تنکرہ قلوبکم وتنفر منہ اشعارکم وابشارکم وترون انہ منکم بعید فانا ابعدکم منہ جب تم کوئی ایسی حدیث سنو جس سے تمہارے دل مانوس ہوں اور تمہارے بال وکھال اس سیمتاثر ہوں اور تم اس کو اپنے سے قریب سمجھوتو میں اس کا تم سے زیادہ حق دار ہوں اور جب کوئی ایسی حدیث سنو جس کو تمہارے دل قبول نہ کریں اور تمہارے بال وکھال اس سے متوحش ہوں اور تم اس کو اپنے سے دور سمجھو تو میں تم سے بڑھ کر اس سے دور ہوں ۔ (۸) صحا بہ کرامؓ درایت کی بنیاد پر روایت کو پرکھنے کے طریقے کا آغاز حضرات صحابہ کرامؓ ہی کے زمانے میں ہو چکا تھا اور جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی آرا میں اس کے استعمال کے متعدد شواہد موجود ہیں : حضرت عائشہؓ: ام المومنین حضرت عائشہؓ کے ہاں قبول روایت کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور اصول شرع کے خلاف نہ ہو چنانچہ انہوں نے متعدد مواقع پر بعضصحابہ کرامؒ کی بیان کردہ روایتوں کو محض اس بنا پر رد کر دیا کہ وہ، ان کے نزدیک، اس معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں۔ امام سیوطیؒ نے یہ روایات اپنے رسالہ عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ میں درج کردی ہیں۔ (۹) یہاں ہم ان میں سے چند مثالیں نقل کرتے ہیں : ۱۔ حضرت ابن عمرؓ کی بیان کردہ یہ روایت جب حضرت عائشہؓ کے سامنے پیش کی گئی کہ ان المیت لیعذب ببکاء اھلہ علیہ (بے شک مرنے والے کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے) تو فرمایا : ’’ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات مومن کے بارے میں نہیں بلکہ کافر کے بارے میں فرمائی ہوگی۔ پھر فرمایا، تمہیں قرآن کافی ہے : لا تزر وازرۃ وزر اخری (کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی) ۲۔ حضرت عمرؓ نے یہ روایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین کی لاشوں سے، جو ایک کنویں میں پھینک دی گئی تھیں، مخاطب ہو کر کہا : فھل وجدتم ما وعد ربکم حقا (تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا، کیا تمہیں اس کا حق ہونا معلوم ہو گیا ہے؟) صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، کیا آپ مردوں سے مخاطب ہو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ما انتم باسمع منھم ولکن لا یجیبون (ان کی سننے کی صلاحیت تم سے کم نہیں ہے۔ بس اتنی بات ہے کہ یہ جواب نہیں دے سکتے) حضرت عائشہؓ نے یہ روایت سن کر کہا : آپ نے ایسا نہیں بلکہ یہ کہا ہوگا کہ اس وقت یہ لوگ جان چکے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا، وہ حق ہے۔ پھر آپؓ نے یہ آیات پڑھیں : انک لا تسمع الموتی (بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے) وما انت بمسمع من فی القبور (آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہوئے ہیں) ۳۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : الطیرۃ فی المراۃ والدابۃ والدار (نحوست عورت میں، سواری کے جانور میں اور گھر میں ہے) تو حضرت عائشہؓ نے کہا: اللہ کی قسم، رسول اللہ ﷺ ایسا نہیں کہتے تھے۔ آپ تو اہل جاہلیت کے بارے میں فرماتے تھے کہ وہ یوں کہتے ہیں۔ پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی : ما اصاب من مصیبۃ فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراھا ۔ (تمہیں زمین میں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے، وہ ایک کتا ب میں لکھی ہوئی یعنی طے شدہ ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود میں لائیں) ۴۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی نے ایک عورت کو ایک بلی کی وجہ سے دوزخ میں داخل کر دیا کیونکہ وہ نہ اس کو خود کھلاتی پلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لے۔ حضرت عائشہؓ نے یہ حدیث سن کر کہا : ’’اللہ کے ہاں مومن کا مرتبہ اس سے کہیں زیادہ ہے کہ وہ اس کو ایک بلی کی وجہ سے عذاب دے۔ یہ عورت ،درحقیقت، کافر تھی۔‘‘ ۵۔ جب حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ روایت بیان کی کہ ’’جو آدمی وتر کی نماز نہ پڑھے، اس کی کوئی نماز قبول نہیں ‘‘ تو حضرت عائشہؓ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا : ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو آدمی پانچ فرض نمازوں کی ، تمام شرائط کے ساتھ، پابندی کرے گا ، اللہ تعالی کے ہاں اس کا یہ حق ہے کہ وہ اس کو عذاب نہ دے۔‘‘ حضرت عمرؓ : سنن ابی داؤد میں روایت ہے کہ فاطمہ بنت قیس نے یہ روایت بیان کی کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عدت کے دوران میں ان کا نفقہ خاوند کے ذمے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا : ما کنا لندع کتاب ربنا وسنۃ نبینا لقول امراۃ لا ندری احفظت ام لا ۔ ’’ہم کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو ایک عورت کی بات پر نہیں چھوڑ سکتے جس کو پتہ نہیں بات یاد بھی رہی یا نہیں‘‘ (۱۰) حضرت ابن عباسؓ : ۱۔ جامع ترمذی میں ہے کہ ابو ہریرہؓ نے جب یہ حدیث بیان کی کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو عبد اللہ ابن عباسؓ نے اس کو خلاف عقل ہونے کی بنا پر قبول نہ کیا اور فرمایا : ’’کیا ہم چکناہٹ سے وضو کریں؟ کیا ہم گرم پانی کے استعمال سے وضو کریں؟ ‘‘ اس پر حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا : ’’جب تمہارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کی جائے تو باتیں نہ بنایا کرو۔‘‘ (۱۱) ۲۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ عمرو نے جابر بن زید سے پوچھا ، لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا ، حکم بن عمرو الغفاری تو یہی بات کہتے تھے لیکن عبد اللہ ابن عباسؓ اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور قرآن کی یہ آیت پڑھتے تھے : قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما (کہہ دو کہ مجھ پر جو وحی بھیجی گئی ہے، اس میں ان چار چیزوں یعنی مردار، خون، خنزیر کے گوشت یا غیر اللہ کے نام پر منت مانے ہوئے جانورکے سوا میں کوئی چیز حرام نہیں پاتا) (۱۲) حضرت ابو ایوب انصاریؓ : صحیح بخاری میں ہے کہ محمود بن الربیع نے یہ حدیث بیان کی کہ : ان اللہ قد حرم علی النار من قال لا الہ الا اللہ یبتغی بذلک وجہ اللہ (جس شخص نے اللہ کی رضا کی خاطر لا الہ الا اللہ پڑھ لیا اس پر اللہ نے جنت کو حرام کر دیا) حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ سنا تو فرمایا : واللہ ما اظن رسول اللہ ﷺ قال ما قلت قط (بخدا میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسی بات فرمائی ہوگی) حافظ ابن حجرؓ ان کے انکار کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث کا ظاہرمفہوم یہ ہے کہ گناہ گار موحدین جہنم میں نہیں جائیں گے حالانکہ یہ بات بہت سی آیات اور مشہور احادیث کے خلاف ہے۔ (۱۳) حضرت معاویہؓ : موطا امام مالک میں روایت ہے کہ حضرت معاویہؓ نے سونے یا چاندی کے کچھ برتن فروخت کیے اور بدلے میں ان کے وزن سے زیادہ سونا یا چاندی وصول کی۔ جب حضرت ابو الدرداءؓ نے انہیں بتایا کہ اس بیع سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے تو جواب دیا : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ (۱۴) گویا انہوں نے عقل وقیاس کی بنا پر روایت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ محدثین کرام محدثین نے جہاں روایت کی سند کی تحقیق کے سلسلے میں گراں قدر اصول وضع کیے ہیں، وہاں روایت کے متن کی تنقید کے سلسلے میں درایت کی اہمیت بھی تسلیم کی ہے۔ چنانچہ محدث عمر بن بدر الموصلی لکھتے ہیں : لم یقف العلماء عند نقد الحدیث من حیث سندہ بل تعدوا الی النظر فی متنہ فقضوا علی کثیر من الاحادیث بالوضع وان کان سندا سالما اذا وجدوا فی متونھا عللا تقضی بعدم قبولھا علما نے نقد حدیث کے معاملہ میں صرف سند پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس دائرے میں متن کو بھی شامل کیا ہے چنانچہ انہوں نے بہت سی ایسی حدیثوں کے موضوع ہونے کا فیصلہ کیا ہیجن کی سندیں اگرچہ درست تھیں لیکن ان کے متن میں ایسی خرابیاں پائی جاتی تھیں جو ان کو قبول کرنے سے مانع تھیں (۱۵) درایت کے اصولو ں کی وضاحت کرتے ہوئے خطیب بغدادیؒ اپنی کتاب الفقیہ والمتفقہ میں لکھتے ہیں: واذا روی الثقۃ المامون خبرا متصل الاسناد رد بامور: احدھا ان یخالف موجبات العقول فیعلم بطلانہ لان الشرع انما یرد بمجوزات العقول واما بخلاف العقول فلا۔ والثانی ان یخالف نص الکتاب او السنۃ المتواترۃ فیعلم انہ لا اصل لہ اومنسوخ۔ والثالث ان یخالف الاجماع فیستدل علی انہ منسوخ او لا اصل لہ لانہ لا یجوز ان یکون صحیحا غیر منسوخ وتجمع الامۃ علی خلافہ۔ ۔۔۔۔۔ والرابع ان ینفرد الواحد بروایۃ ما یجب علی کافۃ الخلق علمہ فیدل ذلک علی انہ لا اصل لہ لانہ لا یجوز ان یکون لہ اصل وینفرد ہو بعلمہ من بین الخلق العظیم۔ والخامس ان ینفرد بروایۃ ما جرت العادۃ بان ینقلہ اھل التواتر فلا یقبل لانہ لا یجوز ان ینفرد فی مثل ھذا بالروایۃ جب کوئی ثقہ اور مامون راوی ایسی روایت بیان کرے جس کی سند بھی متصل ہے تو اس کو ان امور کے پیش نظر رد کر دیا جائے گا : ایک یہ کہ وہ تقاضائے عقل کے خلاف ہو ۔ اس سے اس کا بطلان معلوم ہوگا کیونکہ شرع کا ورود عقل کے مقتضیات کے مطابق ہوتاہے نہ کہ عقل کے خلاف۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب اللہ کی نص یا سنت متواترہ کے خلاف ہو۔ اس سے معلوم ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں یا یہ منسوخ ہے۔ تیسرے یہ کہ وہ اجماع کے خلاف ہو۔ اس سے یہ استدلال کیا جائے گا کہ وہ منسوخ ہے یا اس کی کوئی اصل نہیں کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ صحیح اور غیر منسوخ ہو اور امت کا اس کے خلاف اجماع ہو جائے۔ چوتھے یہ کہ ایسے واقعہ کو صرف ایک راوی بیان کرے جس کا جاننا تمام لوگوں پر واجب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی کوئی اصل نہیں کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایسی بات کی کوئی اصل ہو اور تمام لوگوں میں سے صرف ایک راوی اس کو نقل کرے۔ پانچویں یہ کہ ایسی بات کو صرف ایک آدمی نقل کرے جس کو عادتا لوگ تواتر کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ یہ بھی قبول نہیں ہوگی کیونکہ جائز نہیں کہ ایسے واقعہ کو نقل کرنے والا صرف ایک آدمی ہو(۱۶) امام ابن الجوزیؒ فرماتے ہیں: ما احسن قول القائل : اذا رایت الحدیث یباین المعقول او یخالف المنقول او یناقض الاصول فاعلم انہ موضوع کسی کہنے والے نے کتنی اچھی بات کہی ہے کہ جب تم دیکھو کہ ایک حدیث عقل کے خلاف ہے یا ثابت شدہ نص کے مناقض ہے یا کسی اصول سے ٹکراتی ہے تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔ (۱۷) ذیل میں ہم وہ مثالیں پیش کرتے ہیں جن میں جلیل القدر محدثین نے ان اصولوں کو برتتے ہوئے درایتی معیار پر پورا نہ اترنے والی روایات کو ناقابل قبول قرار دیا ہے اگرچہ ان کے راوی نہایت ثقہ اور اسانید بالکل متصل ہیں۔ ۱۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ حضرت عباسؓ اور حضرت علیؓ ایک جھگڑے کے سلسلے میں حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔ حضرت عباسؓ نے حضرت عمرؓ سے کہا: اقض بینی وبین ھذا الکاذب الآثم الغادر الخائن میرے اور اس جھوٹے، گناہ گار، بد عہد اور خائن کے درمیان فیصلہ کیجئے۔ امام نوویؒ ، علامہ مازریؒ سے نقل کرتے ہیں: ھذا اللفظ الذی وقع لا یلیق ظاہرہ بالعباس وحاش لعلی ان یکون فیہ بعض ھذہ الاوصاف فضلا عن کلھا ولسنا نقطع بالعصمۃ الا للنبی ﷺ ولمن شھد لہ بہا لکنا مامورون بحسن الظن بالصحابۃ رضی اللہ عنھم اجمعین ونفی کل رذیلۃ عنھم واذا انسدت طرق تاویلھا نسبنا الکذب الی رواتھا اس روایت میں واقع یہ الفاظ بظاہر حضرت عباس سے صادر نہیں ہو سکتے اور یہ ناممکن ہے کہ سیدنا علیؓ کی ذات میں ان میں سے کوئی ایک وصف بھی ہو۔ اور ہمارا رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کے علاوہ جن کے بارے میں آپ نے شہادت دی، کسی کے بارے میں بھی معصوم ہونے کا عقیدہ نہیں ہے۔ ہمیں حکم ہے کہ صحابہؓ کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور ہر بری بات کی ان سے نفی کریں۔ جب تاویل کے تمام راستے بند ہو جائیں تو پھر ہم جھوٹ کی نسبت روایت کے راویوں کی طرف کریں گے۔ (۱۸) ۲۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو دیکھیں گے کہ ان پر ذلت اور سیاہی چچھائی ہوئی ہے تو اللہ تعالی سے عرض کریں گے کہ یا اللہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ قیامت کے دن تمہیں رسوا نہیں کروں گا۔ اللہ تعالی ارشاد فرمائیں گے کہ میں جنت کو کافروں پر حرام کر رکھا ہے۔ امام اسماعیلیؒ فرماتے ہیں: ھذا خبر فی صحتہ نظر من جھۃ ان ابراھیم علم ان اللہ لا یخلف المیعاد فکیف یجعل ما صار لابیہ خزیا مع علمہ بذالک س روایت کی صحت میں اشکال ہے۔ کیونکہ ابراہیم علیہ السلام جانتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا تو ان کے والد کا جو انجام ہوا، اس کو وہ کیسے اپنی رسوائی قرار دے سکتے ہیں؟ (۱۹) ۳۔ صحیح بخاری میں عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر کو دیکھا جس نے زنا کیا تھا۔ اس پر دوسرے بندروں نے جمع ہو کر اس کو سنگ سار کیا۔ حافظ ابن عبد البرؒ اس حدیث پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فیھا اضافۃ الزنا الی غیرمکلف واقامۃ الحد علی البھائم وھذا منکر عند اھل العلم اس میں زنا کی نسبت غیر مکلف کی طرف کی گئی ہے اور جانوروں پر حد لگانے کا ذکر ہے ۔ اہل علم کے نزدیک یہ بات بعید از قیاس ہے۔ (۲۰) ۴۔ صحیح بخاری میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ عبد اللہ بن ابی کے حامیوں اور آنحضرت ﷺ کے صحابہؓ کے مابین جھگڑا ہو گیا جس پر یہ آیت اتری: وان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما محدث ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے متعلق نہیں ہو سکتی کیونکہ اس میں دو مومن گروہوں میں صلح کرانے کا ذکر ہے جبکہ روایات کے مطابق عبد اللہ بن ابی اور اس کا گروہ اس وقت تک علانیہ کافر تھا۔ (۲۱) ۵۔ سن ابی داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کرتے ہوئے اپنے اعضا کو تین تین مرتبہ دھویا اور پھر فرمایا : من زاد علی ھذا او نقص فقد اساء وظلم (جس نے اس تعداد میں کمی بیشی کی، اس نے برا کیا اور ظلم کیا) حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : اسنادہ جید لکن عدہ مسلم فی جملۃ ما انکر علی عمرو بن شعیب لان ظاھرہ ذم النقص من الثلاث اس کی سند عمدہ ہے لیکن امام مسلم نے اس کو عمرو بن شعیب کے منکرات میں شمار کیا ہے کیونکہ ظاہرکے لحاظ سے یہ روایت تین مرتبہ سے کم دھونے والے کی مذمت کرتی ہے (حالانکہ صحیح روایات میں رسول اللہ ﷺ سے ایسا کرنا ثابت ہے) (۲۲) ۶۔ صحیح بخاری میں واقعہ معراج کی ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہوا۔ امام ابن حزمؒ اس پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اہل علم کا اتفاق ہے کہ واقعہ معراج رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد ہوا تھا اس لیے روایت میں مذکور بات درست نہیں ہو سکتی۔ (۲۳) ۷۔ صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابو سفیانؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو اپنی دختر حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ نکاح کی پیش کش کی۔ ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا حضرت ام حبیبہؓ کے ساتھ نکاح فتح مکہ سے بہت عرصہ پہلے ہو چکا تھا جبکہ ابو سفیانؓ ابھی ایمان نہیں لائے تھے، لہذا اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ (۲۴) ۸۔ صحیح بخاری میں واقعہ معراج کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ موسی علیہ السلام کے کہنے پر نمازوں میں تخفیف کے لیے بار بار اللہ تعالی کے پاس جاتے رہے ۔ آخری مرتبہ جب آپ واپس آئے اور موسی علیہ السلام نے پھرواپس جانے کو کہا تو آپ نے انہیں اللہ تعالی کا ارشاد سنایا کہ : ما یبدل القول لدی (اس حکم میں مزید کوئی تبدیلی نہیں ہوگی) لیکن موسی علیہ السلام نے پھر بھی آپ سے دوبارہ جانے کے لیے کہا۔ محدث داؤدی فرماتے ہیں کہ یہ با ت درست نہیں کیونکہ باقی تمام روایات اس کے برخلاف بات بیان کرتی ہیں نیز موسی علیہ السلام، اللہ تعالی کا ارشاد سننے کے بعد آپ ﷺ کو دوبارہ جانے کا نہیں کہہ سکتے۔ (۲۵) ۹۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺنے اپنی قمیص اس کے بیٹے کو دی اور حکم دیا کہ اس میں اس کو کفن دیا جائے۔ پھر آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے اٹھے تو حضرت عمرؓ نے کہا: کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ وہ منافق ہے اور اللہ تعالی نے آپ کو ان کے لیے استغفار کرنے سے منع بھی کیاہے؟ آپ نے فرمایا اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ اگر میں ستر مرتبہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کروں تو اللہ معاف نہیں کرے گا، اس لیے میں ستر سے زیادہ مرتبہ دعا کروں گا۔ اس کے بعد آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس روایت کو متعدد محدثین نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں : واستشکل فھم التخییر من الایۃ حتی اقدم جماعۃ من الاکابر علی الطعن فی صحۃ ھذا الحدیث مع کثرۃ طرقہ واتفاق الشیخین وسائر الذین خرجوا الصحیح علی تصحیحہ ۔۔۔۔۔ انکر القاضی ابوبکر صحۃ ھذا الحدیث وقال : لا یجوز ان یقبل ھذا ولا یصح ان الرسول قالہ انتھی۔ ولفظ القاضی ابی بکر الباقلانی فی التقریب : ھذا الحدیث من اخبار الاحاد التی لا یعلم ثبوتھا۔ وقال امام الحرمین فی مختصرہ : ھذا الحدیث غیر مخرج فی الصحیح۔ وقال فی البرھان : لا یصححہ اھل الحدیث۔ وقال الغزالی فی المستصفی : الاظھر ان ھذا الخبر غیر صحیح۔ وقال الداودی الشارح : ھذا الحدیث غیر محفوظ رسول اللہ ﷺ کا آیت سے اختیار کا مفہوم اخذ کرنا محل اشکال سمجھا گیا ہے اسی لیے اکابر اہل علم کی ایک جماعت نے ، باوجودیکہ اس حدیث کی سندیں بہت سی ہیں اور شیخین اور صحیح احادیث جمع کرنے والے دوسرے محدثین اس کے صحیح ہونے پر متفق ہیں، اس حدیث کی صحت پر اعتراض کیا ہے۔ قاضی ابوبکر نے اس حدیث کو صحیح ماننے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کو قبول کرنا جائز نہیں اور نہ رسول اللہ ﷺ ایسا فرما سکتے ہیں۔ تقریب میں قاضی ابوبکر الباقلانی کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ حدیث ان اخبار آحاد میں سے جن کا ثبوت مشکوک ہے۔ امام الحرمین کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح احادیث کے زمرے میں نہیں ہے۔ برہان میں کہتے ہیں کہ اس کو علماء حدیث صحیح تسلیم نہیں کرتے۔ غزالی مستصفی میں لکھتے ہیں کہ اس کا غیر صحیح ہونا بالکل واضح ہے۔ شارح داؤدی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محفوظ نہیں ہے۔ (۲۶) فقہاء حنفیہ فقہاء حنفیہ کے ہاں روایت کے درایتی نقد کو خاص اہمیت حاصل ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے نہایت مضبوط اصول وضع کیے ہیں۔ امام سرخسیؒ ان اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : فاما القسم الاول وھو ثبوت الانقطاع بدلیل معارض فعلی اربعۃ اوجہ :اما ان یکون مخالفا لکتاب اللہ تعالی او السنۃ المشھورۃ عن رسول اللہ او یکون حدیثا شاذا لم یشتھر فی ما تعم بہ البلوی ویحتاج الخاص والعام الی معرفتہ او یکون حدیثا قد اعرض عنہ الائمۃ من الصدر الاول بان ظھر منھم الاختلاف فی تلک الحادثۃ ولم تجر بینھم المحاجۃ بذلک الحدیث دوسری دلیل کے ساتھ تعارض کے اعتبار سے روایت کے منقطع ہونے کی چار صورتیں ہیں : یا تو روایت کتاب اللہ کے خلاف یا رسول اللہ ﷺ کی مشہور سنت کے خلاف ہو۔ یا عموم بلوی میں کوئی شاذ اور غیر مشہور حدیث وارد ہو جبکہ اس کی معرفت ہر خاص وعام کو ہونی چاہئے۔ یا کوئی ایسی حدیث ہو جس سے صدر اول کے ائمہ نے اعراض کیا ہو ۔ یعنی ان کے مابین اس مسئلے کے بارے میں بحث ہوئی ہو لیکن اس حدیث سے انہوں نے استدلال نہ کیا ہو۔ (۲۷) ایک دوسری بحث میں لکھتے ہیں : اذا انسد باب الرای فی ما روی وتحققت الضرورۃ بکونہ مخالفا للقیاس الصحیح فلا بد من ترکہ جب کسی روایت کے ماننے سے رائے کا باب بالکل بند ہوتا ہو اور اور ہر پہلو سے واضح ہو جائے کہ وہ قیاس صحیح کے مخالف ہے تو اس کو چھوڑنا لازم ہے (۲۸) فقہاء احناف نے ان اصولوں کی بنیا دپر جن روایتوں کو رد کیا ہے، وہ حسب ذیل ہیں : مخالف قرآن روایات ۱۔ ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو آدمی اپنی شرمگاہ کو چھوئے، اسے چاہئے کہ وہ وضو کر ے‘‘ سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت قرآن کے خلاف ہے کیونکہ قرآن مجید میں مسجد قبا کے نمازیوں کی تعریف کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے : فیہ رجال یحبون ان یتطھروا (اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ خوب طہارت حاصل کریں) یعنی پانی سے استنجا کریں۔ ظاہر ہے کہ پانی سے استنجا شرمگاہ کو ہاتھ لگائے بغیر نہیں ہو سکتا۔ چونکہ اللہ تعالی نے اس عمل کو طہارت حاصل کرنے سے تعبیر کیا ہے جبکہ مذکورہ حدیث میں،اس کے برخلاف، مس ذکر کو نقض طہارت کو سبب قرار دیا گیا ہے ،اس لیے یہ حدیث قابل قبول نہیں ۔ (۲) فاطمہ بنت قیس رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ ایسی عورت کا نفقہ خاوند کے ذمہ واجب نہیں جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں۔ سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت قرآن مجید کی اس آیت کے خلاف ہے : اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ’’تم ان کو ٹھہراؤ جہاں تم خود ٹھہرے ہو، اپنی طاقت کے مطابق‘‘ آیت میں اسکنوھن سے مراد انفقوھن ہے، جس سے معلوم ہوا کہ نفقہ خاوند کے ذمہ ہے، لہذا مذکورہ حدیث کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ (۳) صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض مقدمات میں ایک گواہ اور قسم کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ روایت کتاب اللہ کے اس حکم کے منافی ہے : واستشھدوا شھیدین من رجالکم ’’اور تم گواہ بناؤ اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کو‘‘ اس لیے ناقابل قبول ہے۔ سنت مشہورہ کے خلاف روایت (۱) حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے تر کھجور کے عوض میں خشک کھجور کی بیع کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : کیا تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم ہو جاتی ہے؟ سائل نے کہا، ہاں۔ آپ نے فرمایا : تو پھر یہ بیع جائز نہیں۔ سرخسی کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؓ نے اس روایت پر عمل نہیں کیا کیونکہ یہ سنت مشہورہ کے خلاف ہے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد میں ہے : التمر بالتمر مثل بمثل (کھجور کے بدلے میں کھجور لی جائے تو مقدار ایک جیسی ہونی چاہئے) اس حدیث میں ہم جنس اشیا کے باہمی مبادلہ کے لیے مطلق مماثلت کی (یعنی بوقت بیع) شرط لگائی گئی ہے، جبکہ سعدؓ کی مذکورہ روایت میں، اس کے برخلاف، یہ کہا گیا ہے کہ مماثلت اس حالت کے اعتبار سے ہونی چاہئے جبکہ تر کھجور خشک ہو جائے۔ عموم بلوی میں وارد خبر واحد سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ اس اصول کی بنا پر ہمارے علما نے درج ذیل روایات کو قبول نہیں کیا (۱) وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (۲) وہ روایات جن سے ثابت ہوتا ہے کہ جنازہ کی چارپائی اٹھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (۳) وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ کی تلاوت کی۔ (۴) وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے رفع یدین کیا کرتے تھے۔ وہ روایات جن سے صحابہؓ نے استدلال نہیں کیا سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ چونکہ درج ذیل روایات سے صحابہؓ نے، باوجودیکہ ان مسائل کے متعلق ان کے مابین مباحثہ واستدلال ہوا، استدلال نہیں کیا، اس لیے قابل قبول نہیں : (۱) الطلاق بالرجال والعدۃ بالنساء (طلاق مردوں کے اعتبار سے ہے اور عدت عورتوں کے اعتبار سے) (۲) ابتغوا فی اموال الیتامی خیرا کی لا تاکلھا الصدقۃ (زیر پرورش یتیموں کے مال کو کاروبار میں لگاؤ ، ایسا نہ ہو کہ مسلسل زکاۃ دینے سے وہ ختم ہو جائیں) (۲۹) قیاس کے خلاف روایات : اگر غیر فقیہ راوی ایسی روایت بیان کرے جو قیاس صحیح کے مخالف ہے، تو قیاس کو روایت پر ترجیح ہوگی۔ اس اصول پر حسب ذیل روایات سرخسیؒ کے ہاں ناقابل قبول قرار پاتی ہیں : (۱) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کا دودھ گاہک کو دھوکا دینے کے لیے کئی دنوں سے نہیں دوہا گیا تھا، تو اگر وہ اس کو رکھنے پر راضی ہو تو درست، ورنہ جانور کو واپس کر دے اور استعمال شدہ دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجوریں دے۔ سرخسیؒ کہتے ہیں کہ یہ روایت ہر لحاظ سے قیاس صحیح کے مخالف ہے کیونکہ استعمال شدہ دودھ کے تاوان کے طور پر یا تو اتنی ہی مقدار میں دودھ دینا چاہئے اور یا اس کی قیمت۔ ہر حالت میں ایک صاع کھجوروں کا تاوان دینے کی کوئی تک نہیں ہے۔ (۲) سلمہ بن المحبقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کی لونڈی سے مباشرت کر لی تو اگر اس میں لونڈی کی رضامندی شامل تھی تو اب وہ لونڈی خاوند کی ملکیت میں آگئی اور اس کے عوض میں وہ یبوی کو اس جیسی کوئی اور لونڈی دے دے۔ اور اگر خاوند نے لونڈی کو مجبور کیا ہے تو اب وہ آزاد ہے اور اس کے عوض میں خاوند اپنی بیوی کو اس جیسی کوئی اور لونڈی دے۔ سرخسیؒ فرماتے ہیں کہ ازروئے قیاس یہ حدیث ناقابل فہم ہے، لہذا قابل قبول نہیں۔ (۳۰) مسلمات کے خلاف روایات : ۱۔ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ قرآن مجید میںیہ حکم نازل ہوا تھا کہ حرمت رضاعت تب ثابت ہوگی جب بچے نے دس مرتبہ کسی عورت کا دودھ پیا ہو۔ اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ یہ حکم نازل ہوا کہ پانچ مرتبہ دودھ پینے سے وہ عورت بچے کی ماں بن جائے گی۔ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد بھی قرآن مجید میں تلاوت کی جاتی تھی۔ امام ابوبکر الجصاصؒ اس پر نقد کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اما حدیث عائشۃ فغیر جائز اعتقاد صحتہ علی ما ورد ۔۔۔۔ ولیس احد من المسلمین یجیز نسخ القرآن بعد موت النبی ﷺ فلو کان ثابتا لوجب ان تکون التلاوۃ موجودۃ اس حدیث کی صحت کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد قرآن میں نسخ کو جائز نہیں مانتا تو اگر یہ روایت درست ہوتی تو یہ آیت قرآن میں موجود ہوتی۔ (۳۱) اس روایت کے بارے میں یہی رائے امام سرخسیؒ نے بھی ظاہر کی ہے۔ (۳۲) ۲۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جب رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے آگے بڑھے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے آپ کو روکنے کی کوشش کی اور کہا : کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے جبکہ اللہ تعالی نے آپ کو اس سے منع کیا ہے؟ لیکن رسول اللہ ﷺ نے پھر بھی اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ امام طحاوی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : لان محالا ان یکون اللہ تعالی ینھی نبیہ عن شئی ثم یفعل ذلک الشئی ولا نری ھذا الا وھما من بعض رواۃ الحدیث یہ بات ناممکن ہے کہ اللہ تعالی اپنے نبی کو کسی کام سے منع کرے اور پھر نبی وہی کام کرے۔ ہمارے خیال میں یہ کسی راوی کا وہم ہے۔ اس کے بعد انہوں نے متعدد روایات سے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد اللہ بن ابی کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔ (۳۳) ۳۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ لبید بن اعصم یہودی نے رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا جس کا اثرآپ پر اس طرح ظاہر ہوا کہ آپ کام کرنے کے بعد بھول جاتے کہ آپ نے اسے کیا ہے۔ امام جصاصؒ اس روایت کی سخت الفاظ میں تردید کرتے ہیں : ومثل ھذہ الاخبار من وضع الملحدین ۔۔۔۔۔ والعجب ممن یجمع بین تصدیق الانبیاء علیہم السلام واثبات معجزاتھم وبین التصدیق بمثل ھذا من فعل السحرۃ اس طرح کی روایات ملحدین کی وضع کردہ ہیں۔ اور ان لوگوں پر تعجب ہے جو انبیا کی تصدیق کرتے اور ان کے معجزات کو مانتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ جادوگر انبیا پریہ عمل کر سکتے ہیں۔ (۳۴) فقہاء مالکیہ فقہاء مالکیہ کے ہاں بھی درایتی نقد کا استعمال نمایاں طور پر ملتا ہے۔ امام شاطبیؒ لکھتے ہیں: ھذا القسم علی ضربین : احدھما ان تکون مخالفتہ للاصل قطعیۃ فلا بد من ردہ۔ والآخر ان تکون ظنیۃ اما بان یتطرق الظن من جھۃ الدلیل الظنی واما من جھۃ کون الاصل لم یتحقق کونہ قطعیا وفی ھذا الموضع مجال للمجتھدین ولکن الثابت فی الجملۃ ان مخالفۃ الظنی لاصل قطعی یسقط اعتبار الظنی علی الاطلاق وھو مما لا یختلف فیہ ظنی دلیل اگر قطعی دلیل کے مخالف ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : ایک یہ کہ اس کا اصل کے مخالف ہونا قطعی ہو ، اس صورت میں اس کو رد کرنا لازم ہے۔ دوسری یہ کہ ا س کا اصل کے خلاف ہونا ظنی ہو، یاتو اس لیے کہ اصل کے ساتھ اس کی مخالفتظنی ہے اور یا اس لیے کہ اصل کا قطعی ہونا متحقق نہیں ہوا۔ اس دوسری صورت میں مجتہدین کے لیے اختلاف کی گنجائش ہے۔ لیکن اصولی طور پر یہ بات طے شدہ ہے کہ ظنی کا قطعی کے مخالف ہونا ظنی کو ساقط الاعتبار کر دیتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ (۳۵) چنانچہ امام مالکؒ کا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی روایت ظاہر قرآن، عمل اہل مدینہ اور قیاس قوی کے معارض ہو تو اس کو رد کر دیتے ہیں۔ اس اصول پر انہوں نے متعدد روایات کو قبول نہیں کیا ۔ مخالف قرآن روایات ۱۔ حدیث : من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ (جو آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ذمے روزے ہوں تو اس کا ولی ا سی طرف سے روزے رکھے) شاطبیؒ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : لمنافاتہ للاصل القرآنی الکلی نحو قولہ تعالی : الا تزر وازرۃ وزر اخری وان لیس للانسان الا ما سعی کیونکہ یہ قرآن کے بیان کردہ اس ضابطہ کے خلاف ہے کہ کوئی جان دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی اور یہ کہ انسان کے لیے وہی عمل کارآمد ہیں جو اس نے خود کیے ہوں (۳۶) ۲۔ ایسی احادیث جن میں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک بچہ پانچ یا دس مرتبہ کسی عورت کا دودھ نہ پی لے، حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ شاطبی فرماتے ہیں : ولم یعتبر فی الرضاع خمسا ولا عشرا للاصل القرآنی فی قولہ : وامھاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ وفی مذھبہ من ھذا کثیر امام مالک نے رضاع میں پانچ یا دس مرتبہ کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ قرآن کی اس آیت کے (عموم کے) خلاف ہے : وامہاتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ ۔ اور اس کی مثالیں ان کے مذہب میں بہت زیادہ ہیں۔ (۳۷) مخالف عمل اہل مدینہ ابن عبد البرؒ لکھتے ہیں : فجملۃ مذھب مالک فی ذلک ایجاب العمل بمسندہ ومرسلہ ما لم یعترضہ العمل بظاہر بلدہ امام مالک کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خبر واحد پر، چاہے وہ مسند یا ہو مرسل، عمل کرتے ہیں جب تک کہ وہ اہل مدینہ کے عمل کے خلاف نہ ہو۔ (۳۸) اس اصول پر انہوں نے حسب ذیل روایات رد کی ہیں : ۱۔ خیار مجلس کی احادیث ۔ ابن عبد البر لکھتے ہیں: ولا یری العمل بحدیث خیار المتبایعین ۔۔۔۔ لما اعترضھما عندہ من العمل امام مالکؒ خیار مجلس کی حدیث پر عمل نہیں کرتے کیونکہ یہ عمل اہل مدینہ کے معارض ہے۔ (۳۹) ۲۔ حضر کی حالت میں موزوں پر مسح کرنے کی روایات۔ ابو الولید ابن رشدؒ الجد لکھتے ہیں: وسئل عن المسح علی الخفین فی الحضر ایمسح علیہما؟ فقال لا، ما افعل ذلک ۔۔۔۔ وانما ھی ھذہ الاحادیث ۔ قال : ولم یروا یفعلون ذلک وکتاب اللہ احق ان یتبع ویعمل بہ امام مالکؒ سے حضر میں مسح علی الخفین کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا، میں ایسا نہیں کرتا۔ اس کے حق میں تو بس یہ حدیثیں ہی ہیں۔ جبکہ خلفاء راشدین (اور اہل مدینہ) کا عمل اس پر نہیں ہے۔ (اس صورت میں) کتاب اللہ کے حکم (غسل) پرہی عمل کرنا درست ہے (۴۰) مخالف قیاس ۱۔ وہ روایات جن میں حکم دیا گیا ہے کہ جب کتا برتن میں منہ ڈال جائے تو برتن کو سات مرتبہ دھویا جائے۔ شاطبیؒ امام مالکؒ سے نقل کرتے ہیں: جاء الحدیث ولا ادری ما حقیقتہ؟ وکان یضعفہ ویقول : یؤکل صیدہ فکیف یکرہ لعابہ؟ حدیث تو آئی ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی کمزوری بتاتے ہوئے امام مالکؒ فرماتے تھے کہ اگر کتے کا شکار کیا ہوا جانور کھایا جا سکتا ہے تو اس کا لعاب کیسے مکروہ ہو سکتا ہے؟ (۴۱) ۲۔ سات آدمیوں کی طرف سے ایک گائے یا اونٹ کی قربانی کی روایات۔ چونکہ قیاس یہ ہے کہ ہر آدمی کی طرف سے ایک ہی جانور قربان کیا جائے، اس لیے امام مالکؒ ان روایات پر عمل نہیں کرتے۔ ابن رشد الحفیدؒ لکھتے ہیں۔ رد الحدیث لمکان مخالفتہ للاصل فی ذلک اصل کی مخالفت کی وجہ سے امام مالکؒ نے اس حدیث کو رد کر دیا ہے۔ (۴۲) ۳۔ وہ روایات جن میں ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک موقع پر ان ہانڈیوں کو الٹنے کا حکم دیا جن میں مال غنیمت کے اونٹوں اور بکریوں کا گوشت، غنیمت کے تقسیم ہونے سے پہلے ہی پکایا جا رہا تھا۔ شاطبیؒ لکھتے ہیں: تعویلا علی اصل رفع الحرج الذی یعبر عنہ بالمصالح المرسلۃ فاجاز اکل الطعام قبل القسم لمن احتاج الیہ ان روایتوں کو امام مالکؒ نے رفع حرج یعنی مصالح مرسلہ کے اصول کے منافی ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیا۔ اس لیے وہ ضرورت مند کے لیے مال غنیمت کی تقسیم سے قبل بھی اس میں سے کھانے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (۴۳) اس تمام تفصیل سے واضح ہے کہ اسلام کی علمی روایت میں درایت ایک نہایت شاندار تاریخ رکھتی ہے۔ مختلف طریقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علما، محدثین اور فقہا نے اپنے اپنے زوق کے مطابق روایتوں کو پرکھنے کے مختلف عقلی اصول وضع کیے اور ان کو اپنی تحقیقات میں برتا۔ یہ تو ممکن ہے کہ ہم ان کی انفرادی تحقیقات سے اختلاف کریں اور کسی معقول تاویل سے یہ واضح کردیں کہ زیر بحث روایت، درحقیقت، خلاف اصول نہیں ہے لیکن ، اہل علم کی مجموعی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ درایت کی روشنی میں روایات کو پرکھنا ایک مسلمہ علمی اصول ہے اور جب کسی روایت کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ قرآن کی کسی نص، رسول اللہ ﷺ کی سنت ثابتہ، دین کے مسلمات یا عقل عام کے تقاضوں کے خلاف ہے تو اس کو یکسر رد کر دینا چاہئے، چاہے اس کی سند کتنی ہی صحیح اور اس کے طرق کتنے ہی کثیر ہوں۔ واللہ اعلم حوالہ جات (۱) مودودی، ابو الاعلی، سید : تفہیمات، لاہور : اسلامک پبلی کیشنز، ۲۰۰۰ء، حصہ اول، ص ۳۴۵ (۲) المعجم الوسیط، ایران : دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۴۰۸ھ، ص ۲۸۲ (۳) السیوطی، جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر: تدریب الراوی، ج ۱، ص ۴۰ (۴) شبلی نعمانی :سیرت النبی، لاہور : مکتبہ تعمیر انسانیت، ۱۹۷۵ء، ج ۱، ص ۱۰۱ (۵) سعید احمد اکبر آبادی : صدیق اکبرؓ، (۶) سورۃ النور ، آیت ۱۶ (۷) ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل: تفسیر القرآن العظیم، لاہور : امجد اکیڈیمی، ۱۹۸۲ء، ج ۳، ص ۲۷۳ (۸) الامام احمد: المسند ، گوجرانوالہ: ادارہ احیاء السنۃ، سن ندارد، ج ۴، ص ۵ (۹) عین الاصابہ فی ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابہ، مشمولہ سیرت عائشہ: سید سلیمان ندوی، لاہور : اسلامی کتب خانہ، سن ندارد، ص ۲۶۶ تا ۲۸۱ (۱۰) ابو داؤد، سلیمان بن اشعث السجستانی: سنن ابی داؤد، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ : دار السلام، ۲۰۰۰ء، کتاب الطلاق، باب فی نفقۃ المبتوتۃ، حدیث نمبر ۲۲۹۱ (۱۱) الترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی : جامع الترمذی، المملکۃ العربیۃ السعودیۃ : دار السلام، ۲۰۰۰ء، کتاب الطہارۃ، باب الوضوء مما غیرت النار، حدیث نمبر ۷۹ (۱۲) البخاری، محمد بن اسماعیل : الجامع الصحیح مع شرحہ فتح الباری، دمشق : مکتبۃ الغزالی ، سن ندارد، حدیث نمبر ۵۵۲۹، ج ۹، ص ۶۵۴ (۱۳) ابن حجر، احمد بن علی العسقلانی : فتح الباری، دمشق : مکتبۃ الغزالی، سن ندارد، ج ۳، ص ۲۶ (۱۴) الامام مالک : الموطا، کراچی : میر محمد کتب خانہ، سن ندارد، باب بیع الذھب بالورق عینا وتبرا ، ص ۶۸۲ (۱۵) تقی امینی : حدیث کا درایتی معیار،کراچی :قدیمی کتب خانہ، ۱۹۸۶ء، ص ۱۷۹، ۱۸۰ (۱۶) الخطیب، ابوبکر احمد بن علی البغدادی : الفقیہ والمتفقہ، بیروت : دار الکتب العلمیہ، ۱۹۸۰، ج ۱، ص ۱۳۲، ۱۳۳ (۱۷) تدریب الراوی، ج ۱ ، ص ۲۷۷ (۱۸) النووی، ابو زکریا یحی بن شرف : شرح صحیح مسلم، دمشق : مکتبۃ الغزالی، سن ندارد، ج ۱۲، ص ۷۲ (۱۹) فتح الباری : ج ۸، ص ۵۰۰ (۲۰) فتح الباری : ج ۷، ص ۱۶۰ (۲۱) فتح الباری : ج ۵، ص ۲۹۹ (۲۲) فتح الباری : ج ۱، ص ۲۳۳ (۲۳) الامیر الیمانی، محمد بن اسماعیل : توضیح الافکار، بیروت : دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۶ھ، ج ۱، ص ۱۲۸، ۱۲۹ (۲۴) المرجع السابق (۲۵) فتح الباری : ج ۱۳، ص ۴۸۶ (۲۶) فتح الباری، ج ۸، ص ۳۳۸ (۲۷) السرخسی، ابوبکر محمد بن احمد : اصول السرخسی، لاہور : دار المعارف النعمانیہ، ۱۹۸۱ء، ج ۱، ص ۳۶۴ (۲۸) اصول السرخسی : ج ۱، ص ۳۴۱ (۲۹) اصول السرخسی، ج ۱، ص ۳۶۴ تا ۳۷۰ (۳۰) اصول السرخسی : ج ۱، ص ۳۴۱ (۳۱) الجصاص، ابوبکر احمد بن علی الرازی، احکام القرآن، لاہور : سہیل اکیڈیمی، ۱۹۸۰، ج ۳، ص ۱۲۵ (۳۲) اصول السرخسی : ج ۲، ص ۷۹، ۸۰۔ (۳۳) الطحاوی، ابو جعفر احمد بن محمد : مشکل الآثار (۳۴) احکام القرآن : ج ۱، ص ۴۶ (۳۵) الموافقات : ج ۳، ص ۱۸ (۳۶) الموافقات : ج ۳، ص ۲۲ (۳۷) الموافقات : ج ۳، ص ۲۳ (۳۸) ابن عبد البر: التمہید ، لاہور : المکتبۃ القدوسیۃ، ۱۹۸۳ء، :ج ۱، ص ۳ (۳۹) المرجع السابق (۴۰) ابن رشد، ابو الولید القرطبی : البیان والتحصیل، بیروت : دار الغرب الاسلامی ، ۱۹۸۸ء، ج ۱، ص ۸۲ (۴۱) الموافقات : ج ۳، ص ۲۱ (۴۲) بدایۃ المجتہد: ج ۱، ص ۳۱۸ (۴۳) الموافقات : ج ۳، ص ۲۲

حدیث و سنت / علوم الحدیث