فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی

فقہ راوی کی شرط کی بنیاد کیا ہے؟

رہ گئی یہ بات کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو قلیل الفقہ کیوں کہاگیاہے۔اوران کی روایت کیوں مطلقاً قابل قبول نہیں ہے تواس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سرخسی کہتے ہیں۔

مع ھذا قد اشتھر من الصحابۃ رضی اللہ عنھم ومن بعدھم معارضۃ بعض روایاتہ بالقیاس، ھذا ابن عباس رضی اللہ عنھما لما سمعہ یروی ’’توضؤوا مما مستہ النار‘‘ قال: ارایت لو توضات بماء سخن اکنت تتوضا منہ؟ ارایت لو ادھن اھلک بھن فادھنت بہ شاربک اکنت تتوضا منہ؟ فقد رد خبرہ بالقیاس حتی روی ان ابا ھریرۃ قال لہ: یا ابن اخی، اذا اتاک الحدیث فلا تضرب لہ الامثال، ولا یقال انما ردہ باعتبار نص آخر عندہ، وھو ما روی ان النبی علیہ السلام اتی بکتف مؤربۃ فاکلھا وصلی ولم یتوضا لانہ لو کان عندہ نص لما تکلم بالقیاس ولا اعرض عن اقوی الحجتین او کان سبیلہ ان یطلب التاریخ بینھما لیعرف الناسخ من المنسوخ، او ان یخصص اللحم من ذلک الخبر بھذا الحدیث، فحیث اشتغل بالقیاس وھو معروف بالفقہ والرای من بین الصحابۃ علی وجہ لا یبلغ درجۃ ابی ھریرۃ فی الفقہ درجتہ عرفنا انہ استخار التامل فی روایتہ اذا کان مخالفا للقیاس، ولما سمعہ یروی ’’من حمل الجنازۃ فلیتوضا‘‘ قال: ایلزمنا الوضوء فی حمل عیدان یابسۃ؟ ولما سمعت عائشۃ رضی اللہ عنھا ان ابا ھریرۃ یروی ان ولد الزنا شر الثلاثۃ قالت: کیف یصح ھذا وقد قال اللہ تعالیٰ ’’ولا تزر وازرۃ وزر اخری‘‘ (المصدر السابق)

’’ باوجود اس کے کہ حضرت ابوہریرہ شرف صحابیت میں مشہور ہیں حضورپاک کے ساتھ سفر وحضر میں طویل وقت گزاراہے،صحابہ کرام اوربعد کے لوگوں نے ان کی روایتوں کا قیاس کے ساتھ معارضہ کیاہے۔یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں۔ جب انہوں نے سناکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جس چیز کو آگ نے چھولیاہے اس کو استعمال کرنے کے بعد وضو کرو توانہوں نے کہا کہ اگرمیں گرم پانی سے وضو کروں تو کیامیں پھر سے وضو کروں؟ اس کے علاوہ دیکھئے اگرآپ کی بیوی کو کوئی تیل ہدیہ کرے اوروہ یہ تیل آپ کی مونچھوں کو لگادیں توکیاآپ اس سے وضو کریں گے؟ خلاصہ کلام کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کی روایت کو قیا س سے رد کردیا۔ اس پر ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نہ نے کہا: اے بھتیجے، جب تم سے کوئی حدیث بیان کی جائے تواس کے لیے مثالیں نہ بیان کرو۔اس مثال پر کوئی یہ نہ کہے کہ حضرت ابن عباس نے اس کو دوسری حدیث سے رد کیاہے اوروہ حدیث یہ ہے کہ حضورپاک کے ساتھ دستی کا گوشت لایاگیاتواس کو کھایا اوروضو نہیں کیا، کیونکہ اگران کے پاس نص ہوتاتووہ قیاس سے کام نہ لیتے اور دو حجتوں میں سے زیادہ مضبوط حجت سے اعراض نہ کرتے یاپھر وہ یہ کرتے کہ دوحدیثوں کی تاریخ معلوم کرتے تاکہ ناسخ اورمنسوخ کو جان سکیں یااس حدیث سے گوشت کو خاص قراردیں، لیکن یہ سب نہ کرکے جب انہوں نے قیاس سے کام لیا۔ اور حضرات صحابہ کے درمیان حضرت ابن عباس فقہ وافتاء میں جتنے مشہور تھے، اس مقام تک حضرت ابوہریرہ نہیں پہنچتے ہیں۔ تواس سے ہم نے یہ بات جان لیاکہ انہوں نے روایت سننے کے بعد جب کہ وہ قیاس کے خلاف تھا، غوروفکر سے کام لیا۔اسی طرح حضرت ابن عباس نے جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سناکہ جو کوئی جنازہ کو کاندھادے تو وہ وضو کرے، اس پر انہوں نے کہاکہ کیاخشک لکڑیوں کو ڈھونے سے بھی ہم پر وضو لازم ہوگا؟ اسی طرح جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے سناکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زناسے پیداہونے والا بچہ تینوں میں سب سے برا ہے توانہوں نے کہا: یہ کیسے درست ہوسکتاہے، جب کہ اللہ کاارشاد ہے کہ کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘

اس کے علاوہ امام سرخسی اس کو بھی ذکر کرتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کثرت حدیث سے سختی سے منع کیاتھا اورتنبیہ کی تھی بلکہ خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی اعتراف ملتاہے کہ اگراس دور میں ہم نے حدیث کثرت سے بیان کی ہوتی تو ہم کو عمر کے درے کا خوف تھا۔ اس کے علاوہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر کثرت سے حدیث بیان کرنے پر انکار کیاہے۔علاوہ ازیں خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا اعتراف تھاکہ ان کی جانب سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے کثرت سے احادیث بیان کرنے پر لوگ متعجب ہیں۔ اس پر انہوں نے وضاحت بیان کی کہ میں چونکہ کسی اورمشغلہ میں الجھاہوانہیں تھا جب کہ مہاجرین کو تجارت اورانصار کو کھیتی باڑی کا مشغلہ رہتاتھااورمیں ہروقت حضورپاک کے ساتھ چمٹارہتاتھا۔اسی بنا پر رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں مجھ کو زیادہ یاد ہیں۔(المصدرالسابق)

حضرت ابوہریرہ پر حضرت عائشہ کے استدراکات

واضح رہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے اس کے علاوہ بھی استدراکات ہیں جس میں انہوں نے ان پر اعتراض کیاہے اورجواب میں کوئی حدیث نہیں بیان کی ہے بلکہ کبھی توقیاس سے کام لیاہے اورکبھی عمومات قرآن سے کام لیاہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے استدراکات کا دائرہ صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک نہیں بلکہ اس کے علاوہ دیگر صحابہ کرام پر بھی ہواہے جس کو زرکشی نے’’الاجابۃ لایراد ما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ میں جمع کردیاہے۔ اس سے بھی فی الجملہ امام سرخسی اورامام عیسیٰ بن ابان کے قول کی تائید ہوتی ہے۔

فقہ راوی کے ساتھ دیگر شرائط:

یہ سب بیان کرنے کے بعد امام سرخسی کہتے ہیں:

فلمکان مَا اشتھر من السّلف فی ھذا البَاب قلنَا: مَا وَافق القیاس من رِوَایتہ فھو معمول بہ، وما خالف القیاس فان تلقتہ الامۃ بالقبول فھو معمول بہ، والا فالقیاس الصحیح شرعا مقدم علی روایتہ فی ما ینسد باب الرای فیہ (اصول السرخسی 1/341)

’’اسی وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں بیان کی ہے کہ سلف نے حضرت ابوہریرہ کی بعض روایات پر انکار کیاہے۔ ہم نے کہاکہ ان کی جوروایتیں قیاس کے موافق ہوں گی اس پر عمل کیاجائے گا اورجوروایتیں خلاف قیاس ہوں گی تواگرخلاف قیاس روایت ایسی ہے جس کو امت نے قبول کرلیاہے تواس پر عمل کیاجائے، ورنہ قیاس صحیح جو شریعت کے موافق ہو،ان کی ایسی روایت پر مقدم کیاجائے جوبالکلیہ قیاس اوررائے کے خلاف ہو اوراس میں قیاس اوررائے کی کوئی بھی گنجائش نہ رہ گئی ہو۔‘‘

امام سرخسی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ کسی بات کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں،ایک چیز ایک لحاظ سے خلاف قیاس ہوتی ہے اوردوسرے لحاظ سے موافق قیاس ، توحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کوئی ایسی روایت جس پر امت نے عمل نہ کیا، صرف ایک پہلو سے نہیں بلکہ ہرپہلو سے خلاف قیاس ہوتواس وقت قیاس کو ان کی حدیث پر مقدم کیاجائے گا۔

امام سرخسی نے غیرفقیہ صحابی کی روایت کو خلاف قیاس ہونے کی صورت میں رد کرنے کیلئے چارشرطیں بیان کی ہیں:

  • اولاً: وہ روایت صرف اسی ایک غیرفقیہ صحابی کے واسطے سے مروی ہو، 
  • ثانیاً: امت نے اس پر عمل نہ کیاہو
  • ثالثاً: ہرلحاظ سے خلاف قیاس ہو، قیاس اوررائے کی ا س میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ 
  • خلاف قیاس ہونابالبداہت ثابت ہوجائے۔

اگر یہ تمام شرطیں پائی جائیں تب اس وقت قیاس کو مقدم کیاجائے گا۔ (ہم آگے چل کر اس پر بھی بات کریں گے کہ قیاس سے کون ساقیاس مراد ہے)۔

عدل وضبط کے بعد فقہ کی شرط کیوں؟

ایک سوال پھر پیداہوتاہے کہ جب وہ عادل ہیں اورجوسنتے ہیں وہ یاد رکھتے ہیں توپھر آپ ان کی روایت کو مطلقاً قبول کیوں نہیں کرتے۔خلاف قیاس اورموافق قیاس کے پھیر میں کیوں پڑتے ہیں؟ کیوں اس کے لئے کچھ الگ شرائط اورضوابط بناتے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے امام سرخسی علیہ الرحمہ کہتے ہیں:

ولکن نقل الخبر بالمعنی کان مستفیضا فیھم، والوقوف علی کل معنی ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکلامہ امر عظیم، فقد اوتی جوامع الکلم علی ما قال: اوتیت جوامع الکلم واختصر لی اختصارا، ومعلوم ان الناقل بالمعنی لا ینقل الا بقدر ما فھمہ من العبارۃ، وعند قصور فھم السامع ربما یذھب علیہ بعض المراد، وھذا القصور لا یشکل عند المقابلۃ بما ھو فقہ (لفظ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فلتوھم ھذا القصور قلنا: اذا انسد باب الرای فی ما روی وتحققت الضرورۃ بکونہ مخالفا للقیاس الصحیح فلا بد من ترکہ، لان کون القیاس الصحیح حجۃ ثابت بالکتاب والسنۃ والاجماع، فما خالف القیاس الصحیح من کل وجہ فھو فی المعنی مخالف للکتاب والسنۃ المشھورۃ والاجماع (اصول السرخسی 1/341)

’’بات یہ ہے کہ حدیث کو لفظ کے بجائے معنی کے ساتھ روایت کرناحضرات صحابہ کرام میں جاری وساری تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں کیاکیامراد لیاہے اس کااحاطہ کرنا مشکل اوربڑاکام ہے کیونکہ ان کو جوامع الکلم (بات مختصر لیکن مختصر بات میں معنی کی ایک دنیا فروزاں ہو)دیاگیاتھااوریہ سب کو معلوم ہے کہ جب بات کو معنی کے ساتھ نقل کیاجائے توآدمی اپنے عقل اورفہم کے اعتبار سے ہی نقل کرتاہے اور کبھی کبھی ایسابھی ہوتاہے کہ سننے والے کو سمجھنے میں غلطی ہوتی اورمطلب کا بعض پہلو اس سے اوجھل ہوتا ہے۔ اور یہ بات تب ظاہرہوتی ہے جب روایات کا مقابلہ کیاجائے اس کی روایت سے جس نے اس کو بہتر طور پر سمجھا ہے۔ اسی بنا پر کہ بعض دفعہ مطلب اورمراد کے کچھ پہلو وہم کی بنیاد پر یاکسی اوروجہ سے چھوٹ جاتے ہیں، جب کوئی ایسی روایت سامنے آئے جس سے قیاس ورائے کا ہرپہلوختم ہوجائے اور یہ بات بالبداہت ثابت ہوجائے کہ مذکورہ روایت خلاف قیاس ہے توایسی صورت میں روایت کو ترک کردیاجائے گا، کیونکہ قیاس صحیح کا حجت اوردلیل ہوناکتاب اللہ،سنت رسول اللہ ،اوراجماع سے ثابت ہے۔توجب کوئی روایت ہرپہلو سے خلاف قیاس ہو توگویا وہ کتاب اللہ، سنت مشہور اورجماع کے خلاف ہے۔‘‘

امام سرخسی نے جوبات کہی ہے،وہ امام عیسیٰ بن ابان سے ہی مستفاد ہے۔ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ نے اپنی بات تفصیل سے کہی ہے اوراپنی رائے کودلائل سے بیان کیاہے اس کے علاوہ انہوں نے راوی کی عدم فقاہت کے سبب قیاس کیخلاف اس کی روایت کورد کرنے میں مزید شرائط بیان کیے ہیں۔یہ افسوس کی بات ہے کہ امام عیسیٰ بن ابان کی کوئی کتاب ہم تک نہیں پہنچ سکی یاتاحال نہیں پہنچی ہے،بہرحال اس مسئلہ پر ان کے خیالات کا بڑاحصہ امام جصاص رازی نے اپنی تالیف الفصول فی الاصول میں نقل کردیاہے، لہٰذا اس بارے میں امام عیسیٰ بن ابا ن کی رائے ہم ان کے الفاظ میں اوران کے عہد سے بہت قریب امام جصاص رازی کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں۔

عیسیٰ بن ابان کا موقف

امام عیسیٰ بن ابانؒ خلاف قیاس ہونے کی صورت میں راوی کے فقیہ ہونے کے قائل ہیں اورغیرفقیہ کی مثال میں انہوں نے حضرت ابوہریرہ کانام پیش کیاہے۔حضرت ابوہریرہ کا نام اس لئے پیش کیاہے کہ انہوں نے دیکھاکہ متعدد صحابہ کرام نے ان کی روایت غوروفکر کے بعد لی ہیںیاان پر قیاس کے ذریعہ اعتراض کیاہے۔اس کے علاوہ انہوں نے دیکھاکہ ان پر امام ابراہیم نخعی نے بھی اعتراض کیاہے۔امام نخعی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بعض حدیث پر عمل کرتے اوربعض پر نہ کرتے۔ ایک دوسرے موقع سے امام ابراہیم نخعی زیادہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ لوگ یعنی تابعین کرام ان کی وہ روایتیں جو جنت وجہنم کے تعلق سے ہوتیں اس کو تولیتے اورجواس کے علاوہ ہوتیں اس کو نہ لیتے۔(الفصول فی الاصول3/127)

ابراہیم نخعی کا قول

امام نخعی کا یہ قول ثابت شدہ ہے، اس کو مشہور محدث ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں(67/3600) بھی ذکر کیاہے اورحافظ ذہبی نے سیراعلام النبلاء میں بھی ذکر کیاہے۔ابن عساکر نے اس مفہوم کی متعدد روایتیں ذکر کی ہیں۔ امام اعمش سے مروی ہے:

وکان ابو صالح یحدثنا عن ابی ھریرۃ قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)، فکنت آتی ابراھیم فاحدثہ بھا، فلما اکثرت علیہ قال لی ما کانوا یاخذون بکل حدیث ابی ھریرۃ۔

’’ابوصالح ہم سے حضرت ابوہریرہ کے واسطے سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول پاک نے فرمایا،رسول پاک نے فرمایا ،میں ابراہیم کے پاس آتااوران سے وہ حدیث بیان کرتا(امام اعمش کا ہی قول ہے کہ ابراہیم حدیث کے پرکھنے والے تھے الفاظ ہیں(کان ابراھیم صیرفیا فی الحدیث) جب میں ایسازیادہ کرنے لگایعنی حضرت ابوہریرہ کی احادیث ان کو زیادہ سنانے لگاتوانہوں نے مجھ سے کہا،ماقبل کے لوگ یعنی حضرات صحابہ وتابعین عظام حضرت ابوہریرہ کی تمام احادیث پر عمل نہیں کرتے تھے۔‘‘

سفیان عن منصور عن ابراھیم قال: ما کانوا یاخذون من حدیث ابی ھریرۃ الا ما کان من حدیث جنۃ او نار

’’ ابراہیم نخعی کہتے ہیں حضرات صحابہ وتابعین عظام حضرت ابوہریرہ کی وہی احادیث قبول کرتے تھے جس میں جنت اورجہنم کا ذکر ہوتا(حلال وحرام کے متعلق ان کی احادیث قبول نہ کرتے۔)‘‘

عن الاعمش قال: کان ابراھیم صیرفیا فی الحدیث، فکنت اذا سمعت من احد من اصحابہ اتیتہ بہ فاعرضہ علیہ، فحدثتہ ذات یوم بحدیث من حدیث ابی صالح عن ابی ھریرۃ فقال ابراھیم: کانوا یترکون شیئا من قولہ

اس کا مفاد بھی وہی ہے ماقبل میں ذکر کیاجاچکاہے۔ بس اتنا اضافہ ہے کہ ماقبل کے لوگ ان کے اقوال میں سے کچھ چھوڑ بھی دیاکرتے تھے۔

حافظ ذہبی سیراعلام النبلاء میں نقل کرتے ہیں:

شریک عن مغیرۃ عن ابراھیم قال: کان اصحابنا یدعون من حدیث ابی ھریرۃ (2/608)

’’ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب یعنی فقہائے کوفہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث کو یاحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادیث میں سے کچھ کو چھوڑدیتے تھے۔‘‘

من حدیث ابی ھریرۃ میں دوبات ہوسکتی ہے۔ یا تو من کو تبعیضیہ ماناجائے یعنی یہ بعض افراد کوبتانے کے لیے ہے یاپھر من کو زائد ماناجائے۔ اگر من کو زائد ماناجائے تو ترجمہ ہوگا کہ حضرت ابوہریرہ کی حدیث کو مطلقاً رد کردیاکرتے تھے۔ اور اگرتبعیض کے معنی میں لایاجائے تومعنی ہوگا کہ بعض احادیث کو رد کرتے تھے۔میری رائے میں من یہاں حدیث کے بعض جزء پر دلالت کرنے کے لیے ہے اوراس کی دلیل یہ ہے کہ کتاب العلل میں امام احمد بن حنبل کے واسطہ سے یہ روایت مذکور ہے جس میں واضح ہوجاتاہے کہ یہاں پر من تبعیض کے لیے ہے، زائد نہیں ہے:

حدثنا ابو اسامۃ عن الاعمش قال: کان ابراھیم صیرفیا فی الحدیث اجیۂ بالحدیث، قال: فکتب مما اخذتہ عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ، قال: کانوا یترکون اشیاء من احادیث ابی ھریرۃ (کتاب العلل لاحمد، ص 140)

ان اقوال کو حافظ ذہبی نے بھی سیراعلام النبلاء میں ذکر کیاہے اور پھر رد کیاہے۔حافظ ذہبی یہ قول اوردوسرے اقوال امام ابراہیم نخعی سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

قلت: ھذا لا شیء، بل احتج المسلمون قدیما وحدیثا بحدیثہ لحفظہ وجلالتہ واتقانہ وفقھہ، وناھیک ان مثل ابن عباس یتادب معہ ویقول: افت یا ابا ھریرۃ (سیر اعلام النبلاء 1/41)

’’ میں کہتاہوں ،یہ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ مسلمان ہمیشہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی احادث سیا ستدلال کرتے چلے آئے ہیں اوران کے حفظ،جلالت قدر ،پختگی اورفقہ کے قائل رہے ہیں۔ ان کی فقاہت کے لیے اتنا کافی ہے کہ حضرت ابن عباس جیسافقیہ ان کے ساتھ ادب کا معاملہ کرتاتھااورکہتاتھااے ابوہریرہ فتویٰ دیجئے۔‘‘

عیسیٰ بن ابان کے دلائل

بہرحال اس وقت ہماراموضوع حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کی فقاہت نہیں بلکہ امام عیسی بن ابان ہے۔ لہٰذا پھر سے اصل بحث کی جانب رخ کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ کوفقہ وفتویٰ میں غیرمعروف کہنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت خلاف قیاس ہونے کی صورت میں مطلقاً رد کردی جائے گی بلکہ اس کے لیے کچھ شرائط ہیں ،کچھ ضوابط ہیں۔

امام عیسیٰ بن ابان کہتے ہیں:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عدالت اورحفظ وضبط میں کوئی شک نہیں ہے، لیکن یہ بات ہے کہ ان کا فقہی مقام ومرتبہ وہ نہیں تھا جودیگر فقہ واجتہاد میں معروف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کاتھا۔ علاوہ ازیں بعض صحابہ کرام نے ان کی روایت کو قیاس کے ذریعہ رد کیاہے، جیسے حضرت عباس سے جب یہ بات کہی گئی کہ آگ کو مس کی ہوئی چیز استعمال کرنے سے وضو کرو تواس کا رد انہوں نے قیاس کے ذریعہ کیا۔ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیاکہ زناسے پیدا ہونے والا بچہ تینوں میں سے براہے (ماں باپ کے بعد)توحضرت عائشہ نے فرمایاکہ اگربات ایسی ہی ہے توپھر بدکاری کے الزام میں قابل حد حاملہ عورت کو بچہ جننے کی مہلت کیوں دی جاتی ہے؟ اس موقع سے حضرت عائشہ نے کوئی دوسری روایت نہ پیش کرکے قرآن کی آیت لاتزر وازرۃ وزر اخری کے عموم سے استدلال کیا۔ اسی طرح روایت میں آتاہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نیایک پاؤں میں موزہ پہن کر چلنے سے ممانعت کی روایت کی توحضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے اس کو تسلیم نہیں کیا۔

اس کے علاوہ عیسیٰ بن ابان دوسرے نظائر پیش کرتے ہیں جہاں صحابہ کرام نے ان کی کثرت روایت پر انکار کیااورتعجب کیا اورحضرت عائشہ نے توٹوکابھی کہ رسول پاک تمہاری طرح جلدی جلدی بات نہیں کرتے تھے ،وہ تواتنے ٹھہر کر بیان کرتے تھے کہ کوئی ان کی باتوں کو شمار کرناچاہے توشمار کرلے۔(الفصول فی الاصول 3/128)

یہ سب مثالیں عیسیٰ بن ابان سے نقل کرنے کے بعد امام جصاص رازی عیسی بن ابان رحمہ اللہ کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

قال ابوبکر رحمہ اللہ: جعل عیسی رحمہ اللہ ما ظھر من مقابلۃ السلف لحدیث ابی ھریرۃ بقیاس الاصول وتثبیتھم فیہ علۃ لجواز مقابلۃ روایاتہ بالقیاس، فما وافق القیاس منھا قبلہ وما خالفہ لم یقبلہ، الا ان یکون خبرا قبلہ الصحابۃ فیتبعون فیہ (الفصول فی الاصول3/129)

’’امام جصاص رازی کہتے ہیں سلف سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کاقیاس کے اصول سے معارضہ کرنے اوراس میں مزید غوروفکر نے اس پر آمادہ کیاکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کا قیاس سے مقابلہ کیاجائے توان کی جوروایت قیاس کے موافق ہوئی ،اسے انہوں نے قبول کرلیااورجوروایت قیاس کے خلاف ہوئی، اسے قبول نہیں کیا۔ہاں، اگر ان کی کسی خلاف قیاس خبر کو صحابہ وتابعین نے قبول کیاہے تواس کو قبول کیاجائے گا۔‘‘

غیرفقیہ راوی کی روایت کو رد کرنے کے لیے مزید شرائط

عیسیٰ بن ابان کے نزدیک کسی روایت کے خلاف قیاس ہونے کی صورت میں رد کے لیے حسب ذیل شرائط وضوابط ہیں:

یقبل من حدیث ابی ھریرۃ ما لم یردہ القیاس ولم یخالف نظائرہ من السنۃ المعروفۃ الا ان یکون شیء من ذلک قبلہ الصحابۃ والتابعون ولم یردوہ (الفصول فی الاصول 3/127)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے وہ حدیث قبول کی جائے گی جو قیاس کے خلاف نہ ہواوراس حدیث کے خلاف اس کی نظیر دوسری مشہور احادیث نہ ہوں۔ہاں اگران سب کے باوجود ایسی روایت کو صحابہ اورتابعین نے قبول کیاہوگاتوخلاف قیاس ہونے کے باوجود اس روایت کو قبول کیاجائے۔‘‘

ایک دوسرے مقام پر عیسی بن ابان کہتے ہیں:

ویقبل من حدیث ابی ھریرۃ ما لم یتم وھمہ فیہ لانہ کان عدلا (المصدرالسابق)

’’ اورحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث قبول کی جائے گی جس کے بارے میں مکمل طورپر پتہ چلے کہ ان کو وہم لاحق نہیں ہواہے، کیونکہ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وہ عادل تھے۔ ‘‘

اگریہ تمام شرائط پائی جائیں گی، تب جاکر ایسی روایت خلاف قیاس ہونے کی وجہ سے رد کردی جائے گی:

  • راوی فقہ اوراجتہاد میں معروف نہ ہو۔
  • اس مفہوم کی تائید کرنے والی دیگر روایات نہ ہو،یعنی دوسرے کسی صحابی سے وہی روایت یااسی مفہوم کی روایت مروی نہ ہو۔
  • صحابہ اورتابعین نے مذکورہ راوی کی دیگر روایات پر انکار کیا ہویاپھر زیر بحث خبر پر اعتراض کیاہو۔
  • دیگر مجتہدین صحابہ کرام اورتابعین نے اس پرعمل نہ کیاہو۔

ان چارشرائط کے اجتماع کے بعد ہی کسی روایت کو محض اس لئے رد کردیاجائے گاکہ وہ خلاف قیاس ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عیسیٰ بن ابان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیرمعروف یاغیرفقیہ مانتے ہیں ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے شرف صحابیت کا پوراخیال رکھتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ان کے عدل اورحفظ وضبط میں کوئی شبہ نہیں ہے اور فقاہت کے ہونے نہ ہونے سے کسی کے عدل وحفظ میں کوئی کمی نہیں آتی۔

بل الذی ذکر عیسی فی کتاب المشھور ھو ما قدمنا ذکرہ، مع تقدیمہ القول فی مواضع من کتبہ بانہ عدل مقبول القول والروایۃ، غیر متھم بالتقول علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا ان الوھم والغلط لکل بنی آدم منہ نصیب، فمن اظھر من السلف تثبتا فی روایۃ تثبتنا فیھا واعتبرناھا بما وصفنا (الفصول فی الاصول 3/130)

’’ بلکہ عیسیٰ بن ابان نے اپنی مشہور کتاب(کتاب الحجج)میں جوکچھ کہاہے وہ وہی ہے جو ہم نے ماقبل میں ذکر کیاہے(کہ حضرت ابوہریرہ عادل اورحفظ وضبط میں ممتاز ہیں)یہ بات انہوں نے اپنی مختلف کتابوں میں متعد د مقام پر کہی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عادل ہیں، قول اورروایت میں مقبول ہیں۔ رسول پاک پر جھوٹی بات گڑھنے والے نہیں ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ وہم اورغلطی بنی آدم کا خاصہ ہے توان کی جن روایتوں پر سلف نے انکار کیاہے اورتثبت سے کام لیاہے ،ہم بھی انہی اسلاف کے نقش قدم پر چلیں گے۔‘‘

ایک اعتراض کا جواب

اب یہاں پر ایک اعتراض ہوسکتاہے۔وہ اعتراض یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رسول اللہ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتاہے۔ بات یہ ہے کہ میں مسکین آدمی تھا، ہمیشہ رسول پاک سے چمٹارہتاتھا۔ انصار کو اپنے مشاغل تھے اورمہاجرین کو بازاروں کی مشغولیت رہتی تھی۔ اورمیں ایک مرتبہ رسول پاک کی مجلس میں حاضر تھا اور وہ فرمارہے تھے کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا تاکہ میں اپنی بات پوری کرلوں، پھر وہ اس کو لے لے تووہ کوئی ایسی بات نہ بھولے جومجھ سے سناہو۔تومیں نے اپنے اوپرپڑی چادر کو بچھایا، یہاں تک کہ نبی پاک نے اپنی بات پوری کرلی، پھر میں نے چادر کو لیا تو اس کے بعد میں کچھ بھی نہیں بھولا۔ حضرت ابوہریرہ نے حضورپاک کی باتوں کو یاد رکھاتھااوراس کی گواہی نبی پاک نے بھی دی ہے، اسی لئے ان کی روایتیں دوسروں سے زیادہ ہیں تواس کو ان پر وجہ طعن اوروہم کی بنیاد نہیں بناناچاہئے۔ (الفصول فی الاصول3/130)

اس کا جواب دیتے ہوئے امام جصاص رازی کہتے ہیں کہ اگرایسی ہی بات ہوتی کہ حضرت ابوہریرہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولنے والے ہوتے توان کی روایت کو تمام صحابہ کرام کی روایت پر مطلقاً ترجیح دی جاتی، کیونکہ تمام صحابہ کرام پر بہرحال بھول چوک اوروہم ونسیاں کا خطرہ برقرارتھا سوائے حضرت ابوہریرہ کے ؛لیکن ہم صحابہ کرام اورتابعین عظام کے حالات کاجب مطالعہ کرتے ہیں توپاتے ہیں کہ بات یہ نہیں تھی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایتوں کو اکابرصحابہ پر کبھی ترجیح نہیں دی ؛ بلکہ بسااوقات ایسابھی ہواہے کہ ان کی روایتوں کا معارضہ کیاگیاہے، خود ان پر رد کیاگیاہے۔حضرت عباس نے رد کیا،حضرت عائشہ نے رد کیا،ابراہیم نخعی نے رد کیا ،اس سے پتہ چلتاہے کہ بات وہ نہیں ہے جو معترض سمجھاہے، بلکہ یہ ہے کہ نہ بھولنے کی بات صرف اورصرف اس ایک مجلس کی تھی جس میں یہ واقعہ پیش آیا ،نہ کہ پوری زندگی پر محیط اورکسی بھی بات کے نہ بھولنے کی ضمانت۔

امام جصاص رازی لکھتے ہیں:

اما قولہ: انھم یزعمون ان ابا ھریرۃ یکثر الحدیث عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانہ یدل علی انھم قد کانوا انکروا کثرۃ روایتہ، واما حفظہ لما کان سمعہ حتی لا ینسی منہ شیئا فانہ لو کان کذلک لکانت ھذہ فضیلۃ لہ قد اختص بھا وفاز بحظھا من سائر الصحابۃ، ولو کانت ھذہ لعرفوا ذلک منہ واشتھر عندھم امرہ حتی کان لا یخفی علی احد منھم منزلتہ، ولرجعت الصحابۃ الیہ فی روایتہ، ولقدموھا علی روایات غیرہ لامتناع جواز النسیان علیہ وجوازہ علی غیرہ، ولکان ھذا التشریف والتفضیل الذی اختص بہ متوارثا فی اعقابہ کما خص جعفر بان لہ جناحین فی الجنۃ وخص حنظلۃ بان الملائکۃ غسلتہ (الفصول فی الاصول 3/131)

’’بہرحال حضرت ابوہریرہ کا یہ قول کہ "لوگ یہ گمان کرتے ہیں"یہ خود بتارہاہے کہ ان کے ہم عصروں نے ان کی کثرت روایت کو عجیب بات سمجھاہے۔یہ کہناکہ ان کاحافظہ ایساہوگیاہے کہ پھر وہ کچھ نہیں بھولتے تھے تواگرایساہی ہوتا تویہ ان کی خاص فضیلت ہوتی جس میں وہ دیگر تمام صحابہ کرام سے ممتاز ہوتے اوراس کی شہرت ہوتی یہاں تک کہ سبھی اس کو جان لیتے اورصحابہ کرام کے درمیان جب کوئی اختلاف ہوتاتووہ حضرت ابوہریرہ کی جانب رجوع کرتے اوران کی روایات کو دیگرتمام کی روایات پر ترجیح دیتے کیونکہ وہ نسیان اوربھول چوک سے بری ہوگئے تھے۔اوران کی یہ فضیلت خاص کاذکر ہردور میں جاری رہتا اورلوگوں میں شہرہ ہوتا جیساکہ حضرت جعفر ذوالجناحین کے لقب سے مشہور ہیں اورحضرت حنظلہ کو غسیل الملائکہ کہا جاتا ہے۔‘‘

فلما وجدنا امرہ عند الصحابۃ بضد ذلک لانھم انکروا کثرۃ روایتہ علمنا ان ما روی فی انہ لا ینسی شیئا سمعہ غلط، وکیف یکون کذلک وقد روی عنہ حدیث رواہ عن النبی علیہ السلام وھو قولہ فی ما اخبر: ’’لا عدوی ولا طیرۃ‘‘، ثم روی: ’’لا یوردن ممرض علی مصح‘‘، فقیل لہ: قد رویت لنا عن النبی علیہ السلام قبل ذلک لا عدی ولا طیرۃ فقال: ما رویتہ (المصدر السابق)

’’لیکن جائزہ کے بعد معاملہ برعکس ملتاہے کیونکہ متعدد صحابہ کرام نے ان کی کثرت روایت پر انکار کیاہے۔اس سے ہم نے جان لیاکہ یہ بات کہ وہ کچھ نہیں بھولیں گے غلط ہے اور ایساکیسے ہوسکتاہے جب کہ ان سے ہی منقول ہے کہ انہوں نے لاعدوی ولاطیرۃ کی حدیث نقل کی، پھر یہ حدیث نقل کی: لایوردن ممرض۔پھر جب لوگوں نے کہاکہ آپ نے توپہلے ایسی حدیث بیان کی تھی توکہاکہ نہیں، میں نے ایسی کوئی حدیث بیان نہیں کی ۔‘‘

اس کے بعد امام جصاص رازی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے نہ بھولنے کی دعا صرف ایک مجلس سے متعلق تھی۔(الفصول فی الاصول3/131)

امام جصاص رازی کی یہ تاویل کوئی بے جا اوردورازکار تاویل نہیں ہے کیونکہ اسی حدیث کے متعدد دیگر طرق میں اس کا ذکر موجود ہے کہ بات صرف اسی ایک مجلس کی تھی۔ہم بحث کو زیادہ نہ پھیلاتے ہوئے صرف بخاری اورنسائی کی روایت پیش کرتے ہیں جس میں تصریح ہے کہ اس ایک خاص مجلس کی بات نہ بھولنے کے بارے میں حضورپاک نے فرمایاتھا:

وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی حدیث یحدثہ انہ لن یبسط احد ثوبہ حتی اقضی مقالتی ھذہ ثم یجمع الیہ ثوبہ الا وعی ما اقول، فبسطت نمرۃ علی حتی اذا قضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقالتہ جمعتھا الی صدری، فما نسیت من مقالۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تلک من شیء (صحیح البخاری، الناشر: دار طوق النجاۃ3/52،رقم الحدیث:2047)

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،میری بات مکمل ہونے تک جو کوئی اپنے کپڑے کو پھیلائے رکھے اور بات ختم ہونے پر اسے سمیٹ لے تو جوکچھ میں نے کہاہے اسے یاد رہے گا۔یہ سن کر میں نے اپنی چادر بچھائی ،جب رسول پاک نے اپنی بات مکمل فرمالی تو میں نے اس کو سمیٹ کر اپنے سینے سے لگالیا ،اس کے بعد رسول پاک کی وہ بات میں کبھی نہیں بھولا۔‘‘

یہی روایت نسائی 5/372،رقم الحدیث:5835،ابن حنبل فی مسندہ ج 2/ ص 240 حدیث رقم: 7274 اور حلیۃ الاولیاء 1/381 وغیرہ میں بھی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن حضرات نے یہ موقف اختیار کیاہے کہ غیرفقیہ صحابہ کرام کی روایت خلاف قیاس ہونے کی صورت میں رد کردی جائے گی۔انہوں نے اسے مطلقاً قابل رد نہیں کہاہے بلکہ اس کے لیے کچھ دیگر شرائط اورضوابط کابھی لحاظ رکھا ہے۔ امام عیسیٰ بن ابان اورامام سرخسی سے مستفاد اصولوں کو ہم ترتیب وار پیش کرتے ہیں اور سبھی کی مختصر تشریح بھی کردیتے ہیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو:

1: وہ روایت صرف اسی ایک غیرفقیہ راوی کے واسطے سے منقول ہو۔

مثلاً ایک روایت صرف حضرت ابوہریرہ ہی سے مروی ہے۔وہ حضرات جن کے نزدیک فقاہت راوی بھی ایک شرط ہے۔ اگرغیرفقیہ راوی کی روایت کے ساتھ دوسرے صحابی کی روایت مل جائے تواس وقت یہ روایت خبرواحد نہ رہ کر مشہور ہوجائے گی اورایسی روایت کو قیاس پر مطلقاً مقدم کردیاجائے گا

2: ثانیاً امت نے اس پر عمل نہ کیاہو۔ اگرفقہاء اورمجتہدین نے اس سے استدلال کیاہے اوراس روایت پر عمل کیاہے توبھی روایت قیاس پر مقدم ہوگی۔

3: صحابہ کرام اورتابعین عظام نے اس پرنکیر کیاہو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جن احادیث پر حضرت صحابہ کرام نے اعتراض کیاہے، اس کی وجہ سے وہ حدیث اب اس لائق ہوگئی ہے کہ ایک مجتہد اس مین غوروفکر کرے اورغوروفکر کے بعداس کو قبول کرنے اورقبول نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔

4: اس مفہوم کی دوسری روایات اس کی تائید نہ کرتی ہوں۔

اس میں اورشرط نمبر 1 میں باریک سافرق ہے کہ اگرکسی دوسری روایت کے عموم سے یامفہوم سے بھی غیرفقیہ راوی کی روایت کی تائید ہوتی تو اس روایت کو قیاس پر مقدم کردیاجائے گا۔

5: کتاب وسنت کے دوسرے نظائر اس مروی حدیث کے خلاف ہوں۔

مثلاً حدیث مصراۃ کو ہی لیتے ہیں۔اب دوسری مشہور اورمقبول احادیث کا جومفہوم اورعموم ہے،وہ اس حدیث کے خلاف ہے۔ مثلاً الخراج بالضمان یاپھر اس مفہوم کی احادیث کہ سامان اورقیمت میں توازن ہوناچاہئے۔

6: ہرپہلوسے خلاف قیاس ہو، قیاس اوررائے کی ا س میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ 

فقہ میں قیاس کی دوبنیادی قسمیں ہیں: قیاس جلی اورقیاس خفی۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ صرف ایک پہلو ہی اپنے اندر نہیں رکھتا بلکہ متعدد پہلواپنے اندر رکھتاہے،خلاف قیاس ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ قیاس ہرپہلو سے خلاف قیاس ہو۔کسی بھی پہلو سے اس حدیث کا موافق قیاس ہونا ثابت نہ ہو۔

7: قیاس عقلی نہیں بلکہ قیاس شرعی کے خلاف ہو۔

قیاس کی دوقسمیں ہیں: قیاس عقلی اورقیاس شرعی۔ قیاس عقلی تو عقل سے اندازہ لگاناہے یہ دنیاوی چیزوں کے بارے میں ہوتاہے۔فلاں چیز ایسی ہے اور وہی خصوصیات فلاں چیز میں ہے تو وہ بھی ایسی ہی ہوگی یاہونی چاہئے، جبکہ قیاس شرعی کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک مسئلہ ایک مجتہد کے سامنے آتاہے تو وہ دیکھتاہے کہ آیا یہ حکم کتاب اللہ میں ہے۔ اگرہے توٹھیک ،نہیں ہے توسنت رسول میں دیکھتاہے۔ اگروہاں بھی نہیں ہے توحضرات صحابہ کرام اورماقبل کے مجتہدین کا متفقہ قول تلاش کرتاہے۔ اگرنہیں ملتاتووہ دیکھتاہے کہ اس مسئلہ کی بنیادی علت کیاہے۔پھر اس علت کو دیکھنا شروع کرتاہے کہ قرآن کریم کی آیتوں، فرامین رسول پاک اوراجماع صحابہ وتابعین میں میں سے کسی میں یہ علت پائی جا رہی ہے یانہیں۔ اگرپائی جارہی ہے تو وہ اس علت کو اس مسئلہ کی بنیاد بناکروہی حکم اس مسئلہ میں بھی جاری کرتاہے۔ اس کوقیاس شرعی کہتے ہیں کیونکہ یہ صرف کتاب اللہ ،سنت رسول اوراجماع پر ہی ہوتاہے۔

خبر پر قیاس کے مقدم کرنے کے لیے کیساقیاس معتبر ہے؟

قیاس شرعی میں بھی کچھ اقسام ہیں اور یہ اقسام علت کے اعتبار سے ہیں کہ قیاس کے لیے جس علت کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس علت کی خود پوزیشن کیاہے۔ کبھی علت منصوص ہوتی اوردلیل پر قطعی ہوتی ہے۔ کبھی علت منصوص ہوتی ہے اور دلالت پر ظنی ہوتی ہے، لیکن یہ علت جو منصوص اورظنی ہے، یہ اس خبر پر جس کے خلاف ہے، راجح ہوتی ہے۔ کبھی منصوص علت ظنی ہوتی ہے اور خبر کے مقابلے میں مرجوح ہوتی ہے۔کبھی ایساہوتاہے کہ دلیل کی قوت کے لحاظ سے منصوص علت اور خبر دونوں ہی برابرہوتے ہیں، ان حالات میں کہ اگر قیاس کی علت منصوص ہواوردلالت پر قطعی ہوتو پھر وہ خبرواحد پر مقدم ہوگی۔ اگرقیاس کی علت منصوص ہواورظنی ہو، لیکن دوسری وجوہات سے وہ خبرواحد پر رجحان رکھتی ہوتواس وقت بھی وہ خبرواحد پر مقدم ہوگی۔ اگرقیاس کی علت منصوص اورظنی ہے اورخبرواحد بھی ظنی ہے اوردلیل کی قوت کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں توایسے وقت میں مجتہد اس میں اجتہاد کرے گااوراس کا جس جانب رجحان ہو، اس کو مقدم کرے گا۔ اگرقیاس کی علت منصوص ہونے کے باوجود خبرواحد کے مقابلے میں مرجوح ہے توخبرواحد کو مقدم کیاجائے گا۔

علامہ ابن ہمام تحریر میں اوران کے شارح لکھتے ہیں:

(ان کان) ثبوت العلۃ (بقاطع) لان النص علی العلۃ کالنص علی حکمھا فحینئذ القیاس قطعی والخبر ظنی والقطعی مقدم قطعا، (فان لم یقطع) بشیء (سوی الاصل) ای بحکمہ (وجب الاجتھاد فی الترجیح) فیقدم ما یرجح اذ فیہ تعارض ظنین: النص الدال علی العلۃ وخبر الواحد، ویدخل فی ھذا ما اذا کانت العلۃ منصوصا علیھا بظنی، وما اذا کانت مستنبطۃ (والا) ان انتفی کلا ھذین (فالخبر) مقدم علی القیاس لاستواءھما فی الظن، وترجح الخبر علی النص الدال علی العلۃ بانہ یدل علی الحکم بدون واسطۃ، بخلاف النص الدال علی العلۃ فانہ انما یدل علی الحکم بواسطۃ العلۃ (التقریر والتحبیر علی تحریر الکمال ابن الھمام 2/299)

’’اگرعلت کا ثبوت قطعی ہو کیونکہ علت کی نص ویسی ہی ہوتی ہے جیسے نص کسی حکم پر ہوتی ہے توایسی حالت میں علت کے قطعی ہونے کی صورت میں قیاس قطعی ہوگا اورخبرظنی ہوگی توقیاس کو خبرپرمقدم کیاجائے گا۔ اوراگرقطعی نہ ہو اوراصل کے اعتبار سے دونوں برابر ہوں تواس وقت ترجیح کے لیے اجتہاد کیاجائے گا۔ اور اس کو مقدم کیاجائے گا جو راجح ہو کیونکہ یہاں پر دوظن میں تعارض ہے۔ ایک خبرواحد اورایک قیاس کی منصوص علت۔ علت کے منصوص ہونے میں شامل ہے کہ وہ براہ راست نص سے ثابت ہو یانص سے مستنبط کیا گیا ہو۔ اگریہ دونوں صورتیں نہ ہوں یعنی نہ علت قطعی ہو اورنہ منصوص اورظنی ہوتو خبرواحد کو مقدم کیاجائے گا۔‘‘

علامہ ابن ہمام ایک سوال کا جواب دے رہے ہیں کہ خبرواحد کو آپ ظنی مانتے ہیں اورقیاس بھی ظنی ہے تو پھر آپ قیاس اورخبرواحد کے تعارض کی صورت مین مذکورہ دوبالاشرط کیوں لگارہے ہیں کہ ایساایساہوگاتو قیاس مقدم ہوگا اور ایسانہیں ہوگاتو خبرمقدم ہوگی۔ اصول کا تقاضا تویہ ہوناچاہئے تھاکہ جب دونوں ظنی ہیں توچاہے قیاس کی علت منصوص ہویانہ ہو قطعی ہو یانہ ہو، ہرحال میں وجہ ترجیح دیکھی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ قیاس میں کسی حکم کااثبات علت کے واسطے سے ہوتاہے اورخبرواحدمیں اسی حکم کااثبات بغیر علت کے اوربراہ راست ہوتاہے، لہٰذا جب ایک جانب صرف قیاس اوردوسری جانب خبرواحد ہوتوخبرواحد کو مقدم کیاجائے گا۔

8: خبر سے حلال وحرام کی بات کا اثبات ہورہاہے۔ اگرصرف استحباب ،سنت یاافضل وغیرافضل کی بات ہو توبھی قیاس پر خبرواحد کو مقدم کیاجائے گا خواہ راوی فقیہ ہویاغیرفقیہ، چنانچہ امام جصاص رازی لکھتے ہیں:

انما قصد عیسی رحمہ اللہ فی ما ذکرہ الی بیان حکم الاخبار الواردۃ فی الحظر او الایجاب او فی الاباحۃ ما قد ثبت حظرہ بالاصول التی ذکرھا او حظر ما ثبت اباحتہ مما کان ھذا وصفہ، فحکمہ جار علی المنھاج الذی ذکرنا فی القبول او الرد۔ واما الاخبار الواردۃ فی تبقیۃ الشیء علی اباحۃ الاصل او نفی حکم لم یکن واجبا فی الاصل او فی استحباب فعل او تفضیل بعض القرب علی بعض، فان ھذا عندنا خارج عن الاعتبار الذی قدمنا، وذلک لانہ لیس علی النبی علیہ السلام بیان کل شیء مباح ولا توقیف الناس علیہ بنص یذکرہ، بل جائز لہ ترک الناس فیہ علی ما کان علیہ حال الشیء من الاباحۃ قبل ورود الشرع، وکذلک لیس علیہ تبیین منازل القرب ومراتبھا بعد اقامۃ الدلالۃ لنا علی کونھا قربا، کما انہ لیس علیہ ان یبین لنا مقادیر ثواب الاعمال (الفصول فی الاصول 3/122)

’’ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ نے احادیث کے قبول وعدم قبول کا ماقبل میں جو معیار بتایاہے، وہ ان احادیث کے لیے ہے جوکسی چیز کو حرام کرتی یاحلال کرتی ہیں یاکسی چیز کو فرض وواجب کرتی ہیں۔جواحادیث ایسی ہوں گی تواس کو اسی معیار پر پرکھاجائے جس کو ہم نے ذکر کیاہے۔باقی رہ گئی وہ حدیثیں جو کسی چیز کو اصل پر باقی رکھتی ہیں یعنی وہ پہلے بھی حلال تھی اورحدیث میں بھی اس کی حلت کا ذکر ہے یاکسی چیز سے منع کیاگیاہے جو پہلے بھی واجب نہیں تھی یاکسی فعل کے استحباب کے بارے میں یابعض اعمال کو بعض پر فضیلت دینے کے بارے میں تو وہ ہماری بحث سے خارج ہے یعنی ایسی حادیث پر ان شرائط کا اطلاق نہیں ہوگا۔ا س کی وجہ یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ذمہ داری نہی ہے کہ وہ تمام مباحات کو بتائیں اورنہ یہ کہ تمام لوگوں کو اس کے بارے میں نص کے ذریعہ باخبرکرائیں، بلکہ ان کے لیے جائز ہے کہ لوگوں کو اس حال پر چھوڑ دیں جس پر وہ شریعت کے نزول سے پہلے تھے۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بھی ضروری نہیں کہ بعض اعمال کے درجات اورمراتب کے بارے میں بتائیں جب کہ آپ نے اس کے عبادت ہونے کو بیان کردیاہو جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعمال کے ثواب کے درجات کا بتاناضروری نہیں ہے۔‘‘

خلاصہ کلام

فقاہت راوی کی شرط اور قیاس کے خبر واحد پر مقدم ہونے کانظریہ ائمہ احناف سے منقول نہیں،یہ عیسیٰ بن ابان کا تخریج کردہ نظریہ ہے اور بعد کے بعض فقہاء نے اس معاملے میں ان کی پیروی کی ہے، عیسیٰ بن ابان کا یہ نظریہ بھی مطلقاً نہیں ہے، بلکہ وہ راوی کے فقیہ نہ ہونے کی صورت میں خبر واحد پرقیاس کو مقدم کرنے کے لیے چند شرائط وضوابط کالحاظ کرتے ہیں اور ان شرائط وضوابط کے لحاظ اورخیال کے بعد فقاہت راوی کی شرط کے ماننے والے اورنہ ماننے والے عملی طورسے ایک ہی صف میں ہوجاتے ہیں۔

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(نومبر ۲۰۱۷ء)

نومبر ۲۰۱۷ء

جلد ۲۸ ۔ شمارہ ۱۱

Flag Counter