احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین
صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی خدمات

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

بدقسمتی سے آج ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو خود کو مسلمان کہلاتا ہے اور بایں ہمہ احادیث کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا اور ان سے گلوخلاصی کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ احادیث ظنی ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ قرآن کریم سے متصادم ہیں، کبھی کہتا ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہیں، کبھی کہتا ہے کہ احادیث دوسری تیسری صدی کی پیداوار ہیں، کبھی کہتا ہے کہ یہ عجمیوں کی سازش ہے، اور کبھی جعلی اور موضوع احادیث کو چن چن کر بلاوجہ درمیان میں لا کر ان کی وجہ سے صحیح احادیث پر برستا ہے، کبھی ان کے معانی میں کیڑے نکالتا ہے۔ الغرض مشہور ہے کہ ’’خوئے بدرا بہانہ ہائے بسیار‘‘۔

حافظ ابن تیمیہؒ نے بجا فرمایا کہ ہر زندیق اور منافق کا اس علم کو باطل کرنے کے لیے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دے کر بھیجا ہے، یہ عمدہ ہتھیار ہے کہ وہ کبھی تو یہ کہتا ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں نے ایسا فرمایا ہے؟ اور کبھی کہتا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس سے ان کی مراد  کیا ہے؟ اور جب ان کے قول اور اس کے معنی کے علم ہی کی پیغمبر سے نفی ہو گئی اور علم ان کی طرف سے حاصل نہ ہوا تو اس کے بعد احادیث (حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے معارضہ سے مامون ہو کر زندیق اور منافق جو چاہتا ہے اپنی طرف سے کہتا ہے، کیونکہ اسلام کی سرحدیں ان دو تیروں سے محفوظ ہیں ( ایک الفاظِ حدیث اور دوسرا ان کے معانی)۔ اور پھر آگے لکھتے ہیں اگرچہ زبانی کلامی زندیق اور منافق حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تعظیم و کمال کا اقرار بھی کرتا ہے (محصلہ نقص المنطق ص ۷۵ طبع القاہرہ) ۔ اور کبھی کہتا ہے کہ اگر احادیث حجت ہیں تو آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرامؓ نے وہ کیوں نہیں لکھیں اور لکھوائیں؟ اور کبھی کہتا ہے کہ آپؐ نے اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے احادیث کو مٹانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

یہاں ہمیں یہ عرض کرنا ہے کہ اہلِ عرب کو اللہ تعالیٰ نے بڑے قوی حافظے دیے تھے اور وہ کتابت سے زیادہ حفظ پر بھروسہ کرتے تھے اور کتابت کو چنداں وقعت نہ دیتے تھے اور نری کتابت پر اعتماد کو وہ ایک کم درجے کی حیثیت دیتے تھے۔ چنانچہ امام ابو عمر یوسفؒ بن عبد البر المالکیؒ (المتوفی ۴۶۳ھ) اس سلسلہ میں چند قیمتی باتیں نقل کرتے ہیں جو اہل عرب اور اربابِ ذوق کے لیے فائدہ سے خالی نہیں۔

(۱) قال اعرابی حرف فی تامورک خیر من عشرۃ فی کتبک (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)

’’بدو کہتا ہے کہ ایک حرف جو تیرے دل میں محفوظ ہے ان دس باتوں سے بہتر ہے جو تیری کتابوں میں درج ہے۔‘‘

اندازہ لگائیں کہ عرب کا بدو کتابوں کا طومار دیکھ کر کس طرح مذاق اڑاتا تھا اور یہ فقرہ بدوؤں میں عام  چلتا ہوا فقرہ تھا اور یہ محض اس لیے تھا کہ وہ دولتِ حفظ سے نوازے گئے تھے۔

(۲) مذھب العرب انھم کانوا مطبوعین علی الحفظ مخصوصین بذالک (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)

’’عرب کا طریقہ ہی یہ تھا کہ حفظ کی دولت ان کی فطرت اور طبیعت میں پیوست تھی اور وہ اس دولت سے مختص تھے۔‘‘

اس عبارت سے ان کی فطری صلاحیت اور حفظ کے ساتھ اختصاص بالکل واضح ہے۔

(۳) قال الخلیل رحمہ اللہ تعالیٰ ؎

لیس العلم ما حوی القمطر
ما العلم الا ما حواہ الصدر

’’امام خلیل بن احمدؒ (المتوفی ۱۷۴ھ) فرماتے ہیں کہ علم وہ نہیں جو کاغذوں اور کتابوں میں درج ہے بلکہ علم وہ ہے جو سینہ میں محفوظ ہے۔‘‘

(۴) یونس بن حبیبؒ نے ایک شخص سے سنا (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹) ؎

استودع العلم قرطاسا فضیعہ
و بئس مستودع العلم القراطیس

’’یعنی اس نے علم کو کاغذ کے سپرد کر دیا اور علم کو ضائع کر دیا اور علم کا برا ظرف اور مکان کاغذ ہیں۔‘‘

(۵) منصور فقیہ فرماتے ہیں (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹) ؎

علمی معی حیث ما یممت احملہ
بطنی دعاء لہ بطن صندوقی
ان کنت فی البیت کان العلم فیہ معی
او کنت فی السوق کان العم فی السوقٖ

’’یعنی میرا علم میرے ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی میں قصد کرتا ہوں اسے اٹھائے پھرتا ہوں۔ میرا پیٹ علم کا برتن ہے نہ کہ صندوق کا پیٹ۔ اگر میں گھر میں ہوتا ہوں تو علم بھی میرے ساتھ گھر میں ہی ہوتا ہے اور اگر میں بازار میں ہوتا ہوں تو علم بھی میرے ساتھ بازار میں ہوتا ہے۔‘‘

(۶) ان حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ایسا غضب کا حافظہ دیا تھا کہ غیر ارادی طور پر بھی وہ جو کچھ سن لیتے وہ بھی ان کے سینہ میں محفوظ رہتا۔ چنانچہ امام زہریؒ کا بیان ہے کہ

انی لامر البقیع فاسد اذانی مخافۃ ان یدخل فیھا شئ من الخنافوا اللہ ما دخل اذنی شئ قط خفیتہ۔ (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹)

’’میں بقیع کے پاس سے گزرتا ہوں تو اپنے کان بند کر لیتا ہوں اس ڈر کے مارے کہ میرے کانوں میں کوئی فحش قسم کے گانے نہ داخل ہو جائیں۔ بخدا کبھی کوئی چیز میرے کان میں داخل نہیں ہوئی کہ پھر وہ مجھے بھول گئی ہو۔‘‘

جن حضرات کو اللہ تعالیٰ نے ایسے غضب کے حافظے مرحمت فرمائے تھے وہ بھلا اپنے پیارے پیغمبر کی باتوں کو بھول سکتے تھے جب کہ آپؐ کے ایک بال کے متعلق حضرت عبیدہؒ (بن عمرو السلمانیؒ المتوفی ۷۲ھ) یہ فرماتے ہیں:

لان تکون عندی شعرۃ منہ احب الی من الدنیا و ما فیھا۔ (بخاری ج ۱ص ۲۹)

’’یعنی آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بالوں میں سے ایک بال بھی میرے پاس ہو تو دنیا و ما فیھا سے وہ مجھے زیادہ محبوب ہے۔‘‘

خیال فرمائیں کہ جو حضرات صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بال مبارک کو دنیا و مافیھا سے بہتر سمجھتے تھے وہ آپؐ کی حدیثوں کو کس عقیدت و محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔

(۷) امام ابن عبد البرؒ لکھتے ہیں کہ

ان العرب قد خصت بالحفظ کان احدھم یحفظ اشعار بعض فی سمعۃ واحدۃ وقد جاء ان ابن عباسؓ حفظ قصیدۃ عمر بن ابی ربیعۃ امن آل نعم انت عاد فبکر فی سمعۃ واحدۃ الخ۔ (جامع بیان العلم ج ۱ ص ۶۹ و ۷۰)

’’اہل عرب حافظہ کے ساتھ مختص تھے، ان میں ایسے بھی تھے جو ایک ہی دفعہ بعض کے اشعار سن کر یاد کر لیتے تھے اور حضرت ابن عباسؓ نے عمر بن ابی ربیعہ کا قصیدہ امن من آل الخ (یعنی کیا آل نعم سے توکل بہت ہی سویرے چلے گا الخ) ایک ہی دفعہ سن کر یاد کر لیا تھا (یہ قصیدہ تقریبًا ستر یا اسی اشعار پر مشتمل تھا)۔‘‘

(۸) امام شعبیؒ فرماتے ہیں:

ما کتبت سوداء فی بیضاء و ما استعدت حدیثًا من انسان۔ (طبقات ابن سعدؒ دارمی ص ۱۲۵ طبع دمشق و تہذیب التہذیب ج ۵ ص  ۶۷)

’’یعنی میں نے کبھی سیاہی کے ساتھ کاغذ پر کچھ نہیں لکھا (سب سینے میں محفوظ کیا ہے) اور میں نے کبھی کسی انسان سے حدیث دہرانے کی خواہش نہیں کی۔‘‘

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو دینی ذوق ان حضرات کو تھا وہ بعد والوں کو حاصل نہیں ہو سکا اور قرآن کریم کے بعد دین کا منبع حدیث شریف اور آثار حضرات صحابہؓ ہیں اور حفظ کی خداداد دولت بھی ان کو وافر نصیب تھی اور انہوں نے پوری ہمت اور استقلال کے ساتھ اس کا ثبوت بھی دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا کوئی قول اور فعل بلکہ کوئی حرکت و ادا ان سے اوجھل نہ رہے تو پھر یہ کیسے متصور ہو سکتا ہے کہ اس کو محفوظ رکھنے کے سلسلے میں انہوں نے کسی بھی قسم کی کوئی کوتاہی کی ہو۔ اس دور کے مسلمانوں کی اکثریت قرآن کریم کے  بعد احادیث کی حافظ ہوتی تھی۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ حدیثیں ازبر ہوتی تھیں اور ہر مسلمان چلتی پھرتی سنت تھا۔

جب خیر القرون سے بُعد ہوتا گیا تو وہ برکات نہ رہیں جو ان مبارک قرون میں ہوتی تھیں اور علم و عمل کا وہ ذوق و شوق بھی کم ہوتا چلا گیا اور جید اور قابل اعتبار علماءِ ملت کو فکر ہوئی کہ کتب حدیث کی باقاعدہ تدوین کیے بغیر یہ قیمتی ذخیرہ محفوظ اور باقی نہیں رہ سکتا۔ اس لیے انہوں نے آنے والی نسلوں کے لیے حدیث کو کتابت کی شکل میں محفوظ رکھنا ضروری سمجھا اور ان کی اس نیک اور مخلصانہ کوشش اور کاوش سے حدیث کی تدوین ہوئی۔

الغرض کتابتِ حدیث تو دورِ زوال و انحطاط کی یادگار ہے اور اس دور کی کارروائی تو منکرینِ حدیث کے نزدیک قابلِ سند اور حجت ہے مگر صد افسوس ہے کہ دورِ کمال اور زمانۂ عروج کی ارفع و معتمد علیہ کارروائی ان کے نزدیک مشکوک ہے اور ان کا یہ عذر لنگ محض حدیث سے رستگاری کے لیے ہے کہ کلیتًا حدیث سے انکار کے بعد دین کی جو صورت ان کے ماؤف ذہن اور نارسا عقل میں آئے گی وہ دین تصور ہو گی ۔۔۔ اور جو کچھ بقول ان کے عقل کے خلاف ہو گا یا ان کے نفسِ امارہ پر شاق اور گراں گزرے گا تو وہ بزعم ان کے عجمیوں کی سازش ہو گی اور ناقابل اعتماد ذخیرہ ہو گا۔ اگر ان کے نزدیک کتابت ہی حجت اور قابل اعتبار حقیقت ہے تو ذیل کے ٹھوس اور مفصل حوالوں سے بخوبی اس کا اندازہ بھی ہو جائے گا کہ ان مبارک ادوار میں کتابت حدیث کی بھی کوئی کمی نہ تھی اور لکھنے والے باقاعدہ لکھا بھی کرتے تھے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل ہدایت نامہ جس میں دین کی بنیادی باتوں کا تذکرہ ہے تحریر کروا کر اور مہر لگا کر بدست حضرت دحیہؓ بن خلیفہ ہرقل روم کو بھیجا تھا (بخاری ج ۱ ص ۴، مسلم ج ۲ ص ۹۷)۔ اور اسی طرح بنام کسرٰی شاہ ایران آپؐ کا دعوت نامہ جو بحرین کے گورنر المنذر بن ساوٰی کی وساطت سے آپؐ نے بھیجا تھا اس کا تذکرہ بخاری ج ۱ ص ۱۵ وغیرہ میں موجود ہے اور مسلم ج ۲ ص ۹۹ کی روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسرٰی، قیصر، نجاشی اور ہر جابر کو اللہ تعالیٰ (کے دین) کی طرف دعوت دیتے ہوئے خطوط لکھ کر بھیجے اور اس روایت میں نجاشی سے مراد وہ نجاشی نہیں جس کا جنازہ آپؐ نے پڑھایا تھا۔ ان کا نام اصحمہؓ تھا اور وہ مسلمان ہو چکے تھے اور اسی طرح دیگر بعض بادشاہوں اور مقتدر شخصیتوں کو آپ نے اسلام کے دعوت نامے بھیجے۔

حضرت ابو شاہ یمنی ؓ کی درخواست پر جو خطبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر ارشاد فرمایا تھا وہ آپؐ نے لکھوا کر ان کو دیا تھا اور اسی میں آپؐ کے صریح الفاظ ہیں ’’اکتبولا بی شاہؓ‘‘ کہ یہ ابو شاہؓ کو لکھ کر دو (بخاری ج ۱ ص ۲۲ و ج ۱ ص ۳۲۹ و مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۸)۔

کتبِ حدیث و تاریخ اور سیر پر گہری نگاہ رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ آپؐ کا حجۃ الوداع کا خطبہ کتنا طویل اصول و فروع کے اہم مسائل پر حاوی اور جامع و مانع تھا۔ اگر آپؐ کے ارشادات کا لکھنا ناجائز ہوتا تو آپؐ صاف طور پر فرما دیتے کہ لکھنے کی اجازت نہیں ہے اس کو صرف زبانی طور پر یاد رکھو اور نیز اگر آپؐ کے ارشادات حجت نہ ہوتے تو اولًا حضرت ابو شاہؓ کو ان کے لکھوا کر محفوظ رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، و ثانیًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما دیتے کہ (معاذ اللہ) میری باتیں تو صرف مجمع کو جمع کرنے اور اس کو خوش کرنے کے لیے ہوتی ہیں اور یہ صرف دماغی اور ذہنی عیاشی ہے تم لکھنے کے بیکار کام  کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہو؟ غرضیکہ ہر حق جو اس سے حقیقت کو پا سکتا ہے اور یہ ایک خالص حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں حضرات صحابہ کرامؓ کے جتنے اجتماعات ہوئے حجۃ الوداع کا اجتماع ان سب سے بڑا، نرالا اور آخری اجتماع تھا۔ اور ابن ماجہ ص ۲۲ کی روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے شمار انسان جمع تھے (بشر کثیر) اور سب یہ چاہتے تھے کہ آپؐ کی پیروی کریں اور آپؐ کے عمل جیسا عمل کریں اور یہی نیک جذبہ ان کو آپؐ کے گرد جمع کیے ہوئے تھا۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک جن حضرات نے آپؐ سے حدیثیں سنیں اور آپؐ کو دیکھا جن میں مرد اور عورتیں سبھی شامل ہیں ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی (اصابۃ فی تذکرۃ الصحابۃؓ ج ۱ ص ۳)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ (المتوفی ۶۳ھ) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میرے بغیر کسی کو اتنی حدیثیں معلوم نہیں ۔۔۔۔۔ (حضرت ابوہریرہؓ سے ۵۳۷۴ حدیثیں مروی ہیں)  جتنی حضرت عبد اللہ بن عمروؓ کو معلوم ہیں کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا (بخاری ج ۱ ص ۲۲ و ترمذی ج ۲ ص ۲۲۴ و دارمی ص ۶۷ و مستدرک ج ۱ ص ۱۰۵)۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ کا حدیثیں نہ لکھنے (اور نہ لکھوانے) کا واقعہ ابتدائی دور کا ہے، آخر میں حضرت ابوہریرہؓ سے کتابتِ حدیث کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر الحسن بن عمروؒ بن امیہؓ سے سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہؓ کے پاس ایک حدیث بیان کی گئی اور انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر لے گئے اور انہوں نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کی لکھی ہوئی کتابیں دکھلائیں اور فرمایا کہ یہ میرے پاس لکھی ہوئی ہیں۔

امام ابن عبد البرؒ فرماتے ہیں کہ ہمام کی روایت (جس میں عدم کتابت کا ذکر ہے) زیادہ صحیح ہے اور دونوں روایتوں میں جمع اور تطبیق بھی ممکن ہے۔ وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دور میں وہ نہیں لکھتے تھے اور پھر بعد کے زمانہ میں لکھتے تھے (فتح الباری ج ۱ ص ۲۱۷)۔ حضرت ابوہریرہؓ کے ایک مجموعہ کا جو مروان نے حکمتِ عملی سے لکھوایا تھا اور جس میں بہت سی حدیثیں درج تھیں ذکر پہلے ہو چکا ہے اور ان کی کچھ احادیث کا مجموعہ حضرت ہمامؒ بن منبہؒ نے تیارکیا تھا جو صحیفۂ ہمامؒ کے نام سے احادیث میں مشہور ہیں، اس سے کچھ حدیثیں حضرت امام احمدؒ نے مسند ج ۲ ص ۳۴ تا ص ۳۱۸ میں نقل کی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں و صحیفۃ ہمام مشہورۃ (تہذیب التہذیب ج ۱ ص ۲۱۶) کہ ہمامؒ کا صحیفہ مشہور ہے۔ اور اسی طرح حضرت بشیر بن نہیکؒ نے بھی حضرت ابوہریرہؓ کی روایتوں کا ایک مجموعہ لکھا ہے اور پھر ان سے اس کی روایت کی اجازت بھی لی (کتاب العلل ترمذی ج ۲ ص ۲۳۹ و دارمی ص ۶۸)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(مارچ ۱۹۹۰ء)

مارچ ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۳

اسلامی بیداری کی لہر اور مسلم ممالک
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

احادیثِ رسول اللہؐ کی حفاظت و تدوین
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

مولانا عزیر گلؒ
عادل صدیقی

مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

نظامِ خلافت کا احیاء
مولانا ابوالکلام آزاد

حرکۃ المجاہدین کا ترانہ
سید سلمان گیلانی

عیسائی مذہب کیسے وجود میں آیا؟
حافظ محمد عمار خان ناصر

اخلاص اور اس کی برکات
الاستاذ السید سابق

چاہِ یوسفؑ کی صدا
پروفیسر حافظ نذر احمد

شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ
ڈاکٹر حافظ محمد شریف

آپ نے پوچھا
ادارہ

قافلۂ معاد
ادارہ

Flag Counter