فقاہت راوی کی شرط اور احناف کا موقف (۱)

مولانا عبید اختر رحمانی

تمہید

احناف پر مختلف قسم کے اعتراض کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک توہین صحابہ یاصحابہ کی تنقیص کا بھی اعتراض ہے اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ بعض فقہائے احناف نے حضرت ابوہرہ رضی اللہ عنہ کو فقہ میں غیر معروف یاغیرفقیہ کہاہے، اس سے انہوں نے یہ نتیجہ استخراج کرلیاکہ کسی صحابی کو غیرفقیہ کہنا ان کی توہین وتنقیص ہے؛ چونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی قدر کو بعض مستشرقین اورآزاد خیال افراد نے تنقید کا نشانہ بنایاہے، اس بناء پربعض حضرات اس طرح کا تاثرپیش کرنے لگے کہ ایسے تمام لوگ جنہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پرطعن وتشنیع کیا ہے، ان کو یہ ہمت اورحوصلہ احناف سے ہی ملاہے، یاپھر احناف نے حضرت ابوہریرہ کو غیرفقیہ کہہ کر دشمنان دین کے مقصد کو پورا کیا ہے اور اس طرح پورے ذخیرہ احادیث کو مشتبہ بنادیاہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ اعتراضات کم علمی بلکہ لاعلمی اورجہالت کی پیداوار ہیں اوراحناف کے موقف کو صحیح طورپر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ اگراحناف کے موقف کو صحیح طورپر سمجھاجاتاتوپھر یہ اعتراض نہ کیاجاتاکہ حضرت ابوہریرہ کو غیرفقیہ کہہ کر ان کی توہین کی گئی ہے یاغیرفقیہ کی روایت کو قبول نہ کرنے کی بات کہہ کر پورے ذخیرہ احادیث کو مشتبہ بنایا گیا ہے۔ چونکہ مسلکی طورپر احناف اور اورشوافع ہمیشہ مدمقابل رہے ہیں، لہٰذا بعض شوافع حضرات نے بھی احناف پر صحابہ کرام کی توہین وتنقیص کا الزام لگایا، اس کے جواب میں شیخ ابوالفضل کرمانی کہتے ہیں:

ذکر الشیخ ابو الفضل الکرمانی فی اشارات الاسرار ان بعض اصحاب الشافعی شنع علینا ونسب اصحابنا الی الطعن علی ابی ھریرۃ وامثالہ من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکان ذلک منہ سلوکا للمعاندۃ (کشف الاسرار ۲/۳۸۳)

’’شیخ ابوالفضل الکرمانی نے اشارات الاسرار میں ذکر کیاہے کہ بعض شافعیہ نے ہم پر اس مسئلہ میں طعن وتشنیع کی اورہمارے ائمہ کو ابوہریرہ پر طعن سے اوراسی جیسی دوسری باتوں سے منسوب کیا،ان کاایساکرنا (علمی تحقیق نہیں بلکہ) بطور عناد تھا۔‘‘

بعض صحابہ کرام کے غیرفقیہ ہونے اور اس بناء پر ان کی روایات کو خلاف قیاس ہونے کی صورت میں روایت پر قیاس کو مقدم کرنے کی بات سب سے پہلے عیسیٰ بن ابان نے کہی تھی، لہٰذا ان کی ذات پر بھی مخالف صحابہ ہونے اورصحابہ کی توہین کاالزام لگایاگیا؛بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان پر بے بنیاد جھوٹے الزامات اورتہمتیں بھی لگائی گئیں ۔ امام جصاص رازی نے الفصول میں عیسیٰ بن ابان کا پرزور دفاع کیا ،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

حکی بعض من لا یرجع الی دین ولا مروء ۃ ولا یخشی من البھت والکذب ان عیسی ابان رحمہ اللہ طعن فی ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ انہ روی عن علی بن ابی طالب کرم اللہ وجھہ انہ قال: سمعت النبی علیہ السلام یقول: انہ یخرج من امتی ثلاثون دجالا وانا اشھد ان ابا ھریرۃ منھم، وھذا کذب منہ علی عیسی رحمہ اللہ، ما قالہ عیسی ولا رواہ ولا نعلم احدا روی ذلک عن علی فی ابی ھریرۃ وانما اردنا بما ذکرنا ان نبین عن کذب ھذا القائل وبھتہ وقلۃ دینہ (الفصول فی الاصول ۳/۱۳۰)

’’بعض ایسے لوگوں نے کہ جن کے اندر نہ دینداری ہے اورنہ مروت اورنہ وہ کسی پر بہتان اورجھوٹاالزام لگانے سے بازرہتے ہیں، عیسیٰ بن ابان کے بارے میں نقل کیاہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر طعن کیاہے اوریہ روایت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے نقل کی ہے کہ’’ میں نے سناہے کہ میری امت میں تیس دجال ہوں گے اورمیں گواہی دیتاہوں کہ ان میں سے ایک ابوہریرہ ہے‘‘۔یہ حضرت عیسیٰ بن ابان پر گڑھاہواجھوٹ ہے۔ نہ عیسیٰ بن ابان نے یہ بات کہی اورنہ ایسی کوئی روایت کی ،اورنہ ہم جانتے ہی کہ کسی نے بھی اس مکذوب روایت کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیاہو ،ہماراارادہ اس کے ذکر سے صرف اتناہے کہ ہم اس جھوٹے اوردروغ گو شخص کاپول کھولیں ،اس کے بہتان کو نمایاں کریں اوربتائیں کہ وہ دین کے اعتبار سے کس کمتر حیثیت کاہے۔‘‘

حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا موقف

حقیقت یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کا مسلک صاف سیدھا اورواضح رہاہے کہ اولاً کتاب اللہ سے استدلال کیا جائے، ثانیاً رسول پاک کے اقوال وفرمودات اوراعمال وتقریر کو دلیل بنایاجائے۔ ثالثاً اگرصحابہ کسی قول پرمتفق ہیں تواس متفق علیہ قول کو اختیار کیاجائے۔ رابعاً اگرصحابہ میں کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تواس کو لیاجائے جو زیادہ مدلل ہو۔ ہاں، اگربات تابعین جیسے مجاہد،سعید بن جبیر ،سعید بن المسیب اوردیگر کی ہوتوان کے اقوال کو امام ابوحنیفہ حجت نہیں مانتے۔اورکہتے ہیں جس طرح انہوں نے اجتہاد کیاہے اسی طرح ہمیں بھی اجتہاد کاحق حاصل ہے۔

یحیی بن الضریس یقول: شھدت الثوری واتاہ رجل فقال ما تنقم علی ابی حنیفۃ؟ قال: وما لہ؟ قال سمعتہ یقول: آخذ بکتاب اللہ، فما لم اجد فبسنۃ رسول اللہ والآثار الصحاح عنہ التی فشت فی ایدی الثقات عن الثقات، فان لم اجد فبقول اصحابہ آخذ بقول من شئت، واما اذا انتھی الامر الی ابراھیم والشعبی والحسن وعطاء فاجتھد کما اجتھدوا (اخبار ابی حنیفۃ واصحابہ ۱/۲۴)

’’یحییٰ بن الضریس کہتے ہیں کہ میں امام سفیان ثوری کی مجلس میں حاضر تھاکہ ایک شخص آیا،اوراس نے کہاکہ آپ کو امام ابوحنیفہ پر کیااعتراض ہے یاپھر کیوں نکتہ چینی کرتے ہیں؟ سفیان ثوری نے پوچھا،اس اعتراض کا مقصد کیا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: میں نے ابوحنیفہ کو کہتے ہوئے سناہے کہ میں کسی مسئلہ میں اولاً کتاب اللہ سے دلیل حاصل کرتا ہوں، پھر اللہ کے رسول کی سنت اور ان آثار سے جو ثقات سے ثقات تک منتقل ہوکر ہم تک پہنچتی ہے۔ اگرکتاب اللہ اورسنت وآثاررسول میں دلیل نہ ملے تومیں صحابہ کرام میں سے کسی ایک کاقول لے لیتا ہوں۔ ہاں، جب معاملہ ابراہیم، شعبی،حسن،عطاء تک پہنچتاہے تومیں ان کا پابند نہیں رہتا بلکہ میں بھی اسی طرح اجتہاد کرتاہوں جیساان لوگوں نے کیاہے۔‘‘

اس اقتباس میں دیکھاجاسکتاہے کہ امام ابوحنیفہ نے اختصار کے ساتھ اپنااصولی منہج بیان کیاہے لیکن اس میں سنت وحدیث میں فقہ راوی کاکوئی ذکر موجود نہیں ہے۔علاوہ ازیں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ سے کہیں بھی منقول نہیں ہے کہ امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ نے یہ کہاہو کہ فلاں صحابی چونکہ غیرفقیہ ہے اس لئے اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے۔

ولم ینقل ھذا القول عن اصحابنا ایضا بل المنقول عنھم ان خبر الواحد مقدم علی القیاس ولم ینقل التفصیل (کشف الاسرار ۲/۳۸۳)

’’(ابوالحسن الکرخی کہتے ہیں)یہ قول(کہ خلاف قیاس کی صورت میں غیرفقیہ راوی کی روایت پر قیاس مقدم کیاجائے گا)ہمارے اصحاب سے منقول نہیں ہے بلکہ ان سے تویہ منقول ہے کہ خبرواحد قیاس پر مقدم ہوگی اوراس سلسلے میں کوئی تفصیل منقول نہیں ہے۔‘‘

علامہ ابن ہمام کی رائے

علامہ ابن ہمام اوران کے شارحین نے تو (التقریر والتحبیر علی تحریرالکمال ابن الھمام ۲/۲۹۸) میں صاف سیدھالکھاہے کہ امام ابوحنیفہ مطلقاً قیاس پرخبرواحد کو مقدم کرتے ہیں،چاہے خلاف قیاس ہونے کی صورت میں حدیث کا راوی فقیہ ہویاغیرفقیہ، اور اس مسئلے میں ان کو امام شافعی اورامام احمد بن حنبل کا ہم نواقراردیاہے۔

مسالۃ اذا تعارض خبر الواحد والقیاس بحیث لا جمع بینھما ممکن قدم الخبر مطلقا عند الاکثر منھم ابو حنیفۃ والشافعی واحمد (التقریر والتحبیر ۲/۲۹۸)

’’ مسئلہ:جب خبرواحد اورقیاس میں تعارض ہو کہ دونوں کے درمیان تطبیق کی کوئی صورت نہ نکل سکتی ہو تو اکثرائمہ کے نزدیک ہرحال میں خبر کو قیاس پر مقدم کیاجائے۔ ان ائمہ میں سے امام ابوحنیفہ،امام شافعی اورامام احمد بھی ہیں۔‘‘

فقیہ راوی کی روایت کو غیرفقیہ پر ترجیح

ہاں امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کایہ طریق کار ضرور تھاکہ وہ دوراویوں کی روایت میں اس کو اختیار کرتے تھے ،جس کا راوی فقیہ ہواور غیرفقیہ پر اس کو ترجیح دیتے؛لیکن یہ امام ابوحنیفہ کااختراع نہیں تھابلکہ محدثین کرام بھی اسی روش اورطرز کے قائل تھے،جیساکہ حازمی نے بھی کتاب الاعتبار می وجوہ ترجیحات میں سے اس کو ذکر کیاہے، وہ لکھتے ہیں:

الوجہ الثالث والعشرون: ان یکون رواۃ احد الحدیثین مع تساویھم فی الحفظ والاتقان فقھاء عارفین باجتناء الاحکام من مثمرات الالفاظ، فالاسترواح الی حدیث الفقھاء اولی، وحکی علی بن خشرم قال قال لنا وکیع ای الاسنادین احب الیکم، الاعمش عن ابی وائل عن عبد اللہ او سفیان عن منصور عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبد اللہ؟ فقلنا الاعمش عن ابی وائل عن عبد اللہ، فقال یا سبحان اللہ، الاعمش شیخ وابو وائل شیخ وسفیان فقیہ ومنصور فقیہ وابراھیم فقیہ وعلقمۃ فقیہ، وحدیث یتداولہ الفقھاء خیر من ان یتداولہ الشیوخ (الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ من الآثار للحازمی، ص ۱۵)

’’تیئیسویں وجہ روایت کی ترجیح کی یہ ہے کہ حفظ اورضبط میں راوی برابر ہوں لیکن ایک روایت کا راوی فقیہ ہو، الفاظ سے احکام کے استنباط کا طریقہ جانتاہو تو فقیہ راوی کی روایت کواختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔ علی بن خشرم کہتے ہیں ہم سے وکیع نے کہا کہ تمہیں کون سی سند زیادہ محبوب ہے؟اعمش عن ابی وائل عن عبداللہ (اس میں حضرت عبداللہ تک صرف دوراوی ہیں)یاپھر سفیان عن منصور عن علقمہ عن عبداللہ ؟ اس پر ہم نے کہاکہ اعمش والی سند توفرمایا: سبحان اللہ! اعمش شیخ ہیں، ابووائل شیخ ہیں جب کہ اس کے بالمقابل سفیان فقیہ ہیں، منصور فقیہ ہیں، ابراہیم فقیہ ہیں، علقمہ فقیہ ہیں اورفقہاء کی سند والی حدیث شیوخ کی سند والی حدیث سے بہتر ہے۔‘‘

فقاہت راوی کی شرط تخریج کردہ ہے

ہاں یہ ضرور ہے کہ امام ابوحنیفہ نے احادیث کے ردوقبول میں بعض اصول کو اختیار کیاہے ،ان اصول کو دیکھ کر بعد کے اہل علم نے ان کے اجتہادات سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے کہ جس راوی کی روایت قبول کی جائے اس کے لیے فقیہ ہونا ضروری ہے یانہیں، اوراگرغیرفقیہ کی روایت قیاس کے خلاف ہو توقیاس کو ترک کرکے حدیث پر عمل کیا جائے، یاغیرفقیہ راوی کی روایت کو ترک کرکے قیاس پر عمل کیاجائے،امام ابوحنیفہ کے بعد کے عہد میں اصول فقہ پر لکھنے والی جلیل القدر شخصیت امام کرخی کی ہے، امام کرخی امام طحاوی کے ہم عصر ہیں اور امام ابوالحسن الکرخی توصاف سیدھی یہ بات کہتے ہیں کہ راوی کی روایت قبول کرنے کے لیے فقاہت کوئی شرط نہیں ہے اورراوی فقیہ ہویانہ ہو، اس کی روایت بہرحال قبول کی جائے اوراس روایت کی موجودگی میں چاہے راوی غیرفقیہ ہو، قیاس کو ترک کردیاجائے گا۔چنانچہ امام کرخی اس تعلق سے وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’عیسیٰ بن ابان کا نظریہ ہمارے اصحاب سے منقول نہیں ہے، بلکہ ان سے یہ قول روایت کی گئی ہے کہ خبرواحد علی الاطلاق قیاس سے مقدم ہے۔اس ضمن میں کوئی تفصیل مذکور نہیں کہ راوی فقیہ ہے یاغیرفقیہ۔‘‘

اس کے بعد عیسیٰ بن ابان کے دلائل کامثلاً حدیث مصراۃ اورحدیث عرایا پر عمل نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ہمارے اصحاب ان احادیث پر اس لئے عمل نہیں کرتے کہ یہ کتاب اللہ اورسنت مشہورہ کے خلاف ہیں نہ کہ اس لئے کہ راوی فقیہ نہیں۔ حدیث مصراۃ کتاب وسنت دونوں کے خلاف ہے جیساکہ قبل ازیں بیان ہوچکاہے۔ حدیث عریہ سنت مشہورہ کے خلاف ہے۔ راوی کا فقیہ نہ ہونا اس کا سبب نہیں اور وہ سنت مشہور ہے: التمر بالتمر مثل بمثل کیل بکیل۔ہم یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہیں تھے۔ آپ یقیناًایک بڑے فقیہ تھے اور آپ میں پوری طرح اسباب اجتہاد جمع تھے۔ صحابہ کے زمانہ میں آپ فتویٰ دیاکرتے تھے، حالانکہ اس زمانہ میں ایک مجتہد فقیہ کو ہی فتویٰ نویسی کا اہل سمجھاجاتاتھا۔ آپ رسول اکرم کے جلیل القدر صحابہ میں سے تھے۔ آپ نے ان کے حق میں دعائے خیرفرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاقبول فرمائی۔ آپ نے بڑانام پایااور آپ سے روایت کردہ احادیث کا بڑاچرچاہوا۔‘‘ (حیات امام ابوحنیفہ اردو ص ۵۰۲۔۵۰۳،بحوالہ کشف الاسرار ۲/۷۰۳)

اس نتیجہ سے بات صاف ہوگئی کہ امام ابوالحسن الکرخی جو فقہ حنفی کے ایک معتبر امام ہیں، وہ اپناااوراپنے اصحاب کے بارے میں یعنی ائمہ احناف کے بارے میں صاف سیدھے لفظوں میں یہ بات کہتے ہیں کہ ان سے راوی کی عدم فقاہت کے وقت قیاس کو خبر پر مقدم کرنے کی کوئی نص موجود نہیں ہے۔

امام عیسیٰ بن ابان کا موقف

ہاں امام عیسیٰ بن ابان سے اوران سے متاثردیگر کچھ فقہائے احناف نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ جب خبرواحد اورقیاس میں تعارض ہوگاتو راوی کی فقاہت کو دیکھاجائے گا۔بعض لوگ توکہتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ کایہ قول ایجادبندہ ہے، لیکن یہ کہنادرحقیقت لاعلمی اورجہالت ہے۔ ماقبل میں یہ بات کہی گئی ہے کہ امام ابوحنیفہ اوردیگر کبارائمہ احناف سے اس بارے میں کچھ بھی منقول نہیں ہے، نہ نفی میں اورنہ اثبات میں۔

عیسیٰ بن ابان نے یہ نظریہ تخریج کیاہے

امام عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ نے جب امام ابوحنیفہ کے اجتہادات میں غورکیاتوبعض نظائر سے ان کو یہ لگاکہ امام ابوحنیفہ فقہ راوی کوشرط مانتے ہیں جب کہ خبرواحد قیاس کے خلاف ہو۔ توعیسیٰ بن ابان کایہ کہنادرحقیقت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ کے اجتہادات میں غوروفکر کے بعد ممکن ہوسکاہے۔یہ ان کی اپنی گڑھی ہوئی بات نہیں ہے۔یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے غوروفکر کے بعد جونتیجہ نکالا، وہ درست ہے یانہیں ہے۔لیکن اس کو عیسیٰ بن ابان کا اختراع کہناظلم ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام جصاص رازی لکھتے ہیں:

قال ابوبکر رحمہ اللہ: قد حکیت جملۃ ما ذکرہ عیسی فی ھذا المعنی، وھو عندی مذھب اصحابنا وعلیہ تدل اصولھم (الفصول فی الاصول ۳/۱۲۲)

’’امام جصاص رازی کہتے ہیں کہ اس مفہوم کی بات کا کچھ حصہ جوعیسیٰ بن ابان نے ذکر کیاہے، اس کو میں نے نقل کیاہے اوروہ میرے نزدیک ائمہ احناف کا موقف ہے اوراسی پران کے اصول دلالت کرتے ہیں۔‘‘

عیسیٰ بن ابان کافقہ راوی میں کیاموقف ہے؟

باوجود اس قیل وقال کے عیسیٰ بن ابان سے بھی یہ بات مطلقاً مروی نہیں ہے کہ اگرراوی غیرفقیہ ہے تواس کی روایت ہرحال میں رد کردی جائے گی اوراس کی روایت کو کسی حال میں قبول نہیں کیاجائے۔ بلکہ اس کے لیے انہوں نے جو شروط اورقیود لگائے ہیں، اس کو دیکھنے کے بعد میراتوخیال یہی ہے کہ یہ صرف لفظی بحث رہ جاتی ہے۔ کیونکہ ان شروط وضوابط کے بعد کسی روایت کو محض اس لئے رد کردیناکہ اس کا راوی غیرفقیہ ہے، ناممکن سے رہ جاتاہے اورذخیرہ حدیث میں میرے علم کی حد تک ایسی روایت باوجود تلاش کے نہیں ملتی اوراگرہوگی بھی تومجھے امید ہے کہ محدثین کرام نے پہلے ہی اس پر سندی اعتبار سے جرح کررکھی ہوگی۔ ہذاماعندی واللہ اعلم بالصواب

ایک اہم بات کی طرف توجہ

(نوٹ)امام عیسیٰ بن ابان نے تعارض کے وقت غیرفقیہ راوی کی روایت رد کرنے کے لیے جن شرائط کا ذکر کیاہے، اس پر تفصیلی کلام کرنے سے پہلے ہم یہ واضح کردیناچاہتے ہیں کہ جن مصنفین نے، چاہے اصول الشاشی کے مصنف کی طرح قدیم ہو یاپھر ہمارے زمانے سے قریب تر ،اگران کی عبارت میں فقاہت کا ذکر مطلقاً ہے توبھی وہ ساری قیود اور شرائط جوامام عیسیٰ بن ابان نے خبر کے رد کے لیے ٹھہرائی ہیں، ان کو شامل ماناجائے، کیونکہ اکثرکتبِ اصولِ فقہ متون کے طورپرلکھی گئیں اورمتون میں اختصار ملحوظ ہوتا ہے۔ مثلاً اصول الشاشی کے مصنف لکھتے ہیں:

وَالقسم الثَّانِی من الروَاۃ ھم المعروفون بِالحِفظِ وَالعَدَالَۃ دون الِاجتَِھاد وَالفَتوَی کابی ھریرۃ وانس بن مَالک، فاِذا صحت رِوَایَۃ مثلھمَا عندک، فَاِن وَافق الخَبَر القیَاس فَلَا خَفَاء فِی لزوم العَمَل بِہ، وَاِن خَالفہ کَانَ العَمَل بالقیاس اولی (اصول الشاشی ۱/۲۷۵)

’’ راویوں کی دوسری قسم وہ ہے جو حفظ اورعدالت میں تو مشہور ہیں لیکن بطور مجتہد اورمفتی مشہور نہیں تھے جیسے حضرت ابوہریرہ اورانس بن مالک رضی اللہ عنہما،توجب ان کی روایت صحیح ہو تواگران کی روایت قیاس کے موافق ہو تواس پر عمل کیا جائے اور اگر قیاس کے مخالف ہو تو قیاس پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔‘‘

یہاں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اصول الشاشی کے مصنف نظام الدین ابوعلی احمد بن محمدبن اسحاق الشاشی (متوفی344) نے بغیر کسی شرط کے راوی کے فقیہ نہ ہونے کی صورت میں قیاس پر عمل کرنے کی بات کہی ہے۔اسی طرح کچھ دوسری کتابوں میں بھی یہ بات ہے لیکن یہ واضح رہے کہ یہ تمام کتابیں یاتومتون کے طورپر لکھی گئی ہیں لہذا اس میں شرائط کا ذکر نہیں کیاگیا۔یاپھر امام جصاص رازی کی کتاب جس میں انہوں نے عیسی بن ابان کی کتاب سے براہ راست نقل کیاہے ان کی رسائی نہ ہوسکی اس لئے وہ ان شرائط سے آگاہ نہ ہوسکے۔

اسی لئے ہم نے کوشش کی ہے کہ عیسی بن ابان علیہ الرحمہ کے خیالات خود ان کے اپنے الفاظ مین ذکر کردیے جائیں کیونکہ مصنف اپنے مقصد سے زیادہ واقف ہوتاہے۔ کوئی شخص اپنے مراد اورمطلب کو جس طرح واضح کرسکتاہے دوسرانہیں کرسکتا۔اورچونکہ متقدمین کی بات اس باب میں زیادہ لائق اعتماد ہے اس لئے ہم نے اولا امام جصاص رازی کی کتاب الاصول فی الفصول اورامام سرخسی علیہ الرحمہ کی کتاب اصول السرخسی کو اپنے بحث کی بنیاد بنایاہے۔

امام سرخسی کی وضاحت

چونکہ امام سرخسی بھی اس مسئلہ پر امام عیسی بن ابان کے ہم خیال ہیں؛ لہذا بہتر ہے کہ اولاامام سرخسی کی رائے نقل کی جائے،امام سرخسی لکھتے ہیں:

اعلم بان الرواۃ قسمان: معروف ومجھول، فالمعروف نوعان: من کان معروفا بالفقہ والرای فی الاجتھاد، ومن کان معروفا بالعدالۃ وحسن الضبط والحفظ ولکن قلیل الفقہ (اصول السرخسی ۱/۳۳۹)

’’ جان لو کہ راویوں کی دوقسمیں ہیں۔ معروف اورمجہول،پھر معروف کی دوقسمیں ایک تویہ کہ راوی فقہ اوراجتہاد میں مشہور ہودوسری قسم یہ ہے کہ عدالت اورضبط وحفظ میں تومشہور ہو لیکن فقہ مین اس کا حصہ تھوڑاہو۔‘‘

امام سرخسی معروف کی پہلی قسم پر کلام کرنے کے بعد اوراس میں خلفاء اربعہ اوردیگر ممتاز فقہائے صحابہ کرام کو گنوانے کے بعد لکھتے ہیں:

فاَما المَعروف بِالعَدَالَۃِ والضبط وَالحِفظ کابی ھریرَۃ وانس بن مَالک رَضِی اللہ عَنھمَا وَغیرھمَا مِمَّن اشتھر بالصحبۃ مَعَ رَسول اللہ صلی اللہ عَلَیہ وَسلم وَالسَّمَاع مِنہ مدَّۃ طَوِیلَۃ فِی الحَضَر وَالسّفر فَان اَبَا ھریرۃ مِمَّن لَا یشک احد فِی عَدَالَتہ وَطول صحبتہ مَعَ رَسول اللہ صلی اللہ عَلیہ وَسلم حَتَّی قَالَ لَہ (زر غبا تَزدَد حبا) وکذالک فِی حسن حفظہ وَضَبطہ۔ (اصول السرخسی ۱/۳۳۹)

’’ ایسے راوی جو عدالت اورضبط وحفظ میں مشہور ہیں جیسے کہ حضرت ابوہریرہ وانس بن مالک رضی اللہ عنہما جن کا رسول پاک کاصحابی ہونامشہور ہے اورانہوں نے رسول پاک سے ایک مدت تک ان کے اقوال وفرامین سنے سفر وحضر میں سنے بھی ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عدالت اوررسول پاک کے ساتھ طویل وقت گزارنے میں کسی کو شک نہیں ہے یہاں تک کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاایک دن ناغہ کرکے ملاکر تاکہ محبت زیادہ ہو،اسی طرح ان کے حافظہ اورباتوں کو یاد رکھنے کے بارے میں بھی کسی کو شک نہیں ہے۔‘‘

(جاری)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

(اکتوبر ۲۰۱۷ء)

Flag Counter