دور جدید کا حدیثی ذخیرہ۔ ایک تعارفی جائزہ (۳)

مولانا سمیع اللہ سعدی

۴۔ سنن ابی داود

۱۔سنن ابی داود کی اہم ترین شرح معروف مصری عالم محمود محمد خطاب سبکی مالکی کی المنھل العذب المورود شرح سنن ابی داود ہے ، دس ضخیم جلدوں میں مصر سے چھپی ہے، ترتیب کے اعتبار سے نفیس شرح ہے۔ مصنف ہر حدیث کے تحت شرح السند،معنی،فقہ اور آخر میں حدیث کی تخریج کے عنوانات باندھ کر حدیث کی تشریح و توضیح کرتے ہیں۔یہ شرح نامکمل تھی، اس کا تکملہ مصنف کے صاحبزادے امین محمود سبکی نے فتح الملک المعبود کے نام سے چار جلدوں میں لکھا ہے۔

۲۔سنن ابی داود کی دوسری اہم شرح مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ کی بذل المجھود فی حل ابی داود ہے ۔ کتاب اختصار و جامعیت کا عمدہ نمونہ ہے،یہ شرح شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ کے حواشی کے ساتھ بیس جلدوں میں دار الکتب العلمیہ سے چھپی ہے۔

۳۔ معروف اہلحدیث عالم مولانا شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ نے ابو داد شریف پر ایک مفصل شرح غایۃ المقصود اور ایک مختصر حاشیہ عون المعبود کے نام سے لکھا ہے۔ غایۃ المقصود نامکمل ہے، صرف تین جلدیں المجمع العلمی کراچی سے چھپی ہیں،جبکہ عون المعبود دار الکتب العلمیہ سے خالد عبد الفتاح شبل کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ نو جلدوں میں چھپ کر آئی ہے۔

۴۔ سنن ابی داود پر دور جدید میں ہونے والے کاموں میں سے اہم کام نویں صدی ہجری کے معروف شافعی عالم و صوفی ابن رسلان کی شرح ابن رسلان کی اشاعت ہے،یہ شرح تحقیق کے ساتھ دار الفلاح رباط سے بیس جلدوں میں چھپی ہے۔ابو داود شریف کی مفصل شروحات میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

۵۔ سنن ابی داود کی اہم طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،ان میں درجہ ذیل طبعات تحقیق کے لحاظ سے اہم سمجھی جاتی ہیں:

۱۔سنن ابی داود ،تحقیق شعیب الارناووط و محمد کامل بللی ،دار الرسالہ العالمیہ ،دمشق (۷مجلدات)

۲۔ سنن ابی داود ،تحقیق محمد عوامہ ،موسسہ الریان ،بیروت(۵مجلدات)

۳۔سنن ابی داود مع احکام الالبانی ،مکتبہ المعارف ،ریاض (مجلد ضخیم)

۴۔ سنن ابی داود ،تحقیق عصام ہادی ،دار الصدیق السعودیہ (مجلد ضخیم)

۵۔سنن ابی داود ،تحقیق ابی تراب عادل ابن محمد ،ابی عمرو عماد الدین ،دار التاصیل ،قاہرہ (۸ مجلدات)

موخر الذکر تازہ ترین اشاعت ہے ،یہ دو سال پہلے شائع ہوئی ہے ، سنن بی داود کے اٹھارہ مخطوطات کی مدد سے یہ نسخہ تیار کیا گیا ہے ، شروع میں ساڑھے چار سو صفحات کا طویل مقدمہ بھی ہے جس میں سنن ابی داود سے متعلقہ مباحث کا خوب استقصا کیا گیا ہے۔

۶۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے کثیر التصانیف عالم اور مدینہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ڈاکٹر محمد محمدی نورستانی نے المدخل الی سنن الامام ابی داود السجستانی کے نام سے ایک مفصل کتاب لکھی ہے ،جس میں سنن ابی داود اور اس سے متعلقہ مباحث پر عمدہ روشنی ڈالی ہے ،یہ کتاب مکتب الشوون الفنیہ کویت سے چھپی ہے۔

۷۔سنن ابی داود پر معاصر سطح کی سب سے ممتاز اور انوکھی تحقیق معاصر مصری محقق ابو عمرو یاسر بن محمد فتحی نے کی ہے۔ مصنف نے سنن ابی داود کی مفصل تخریج کا کام شروع کیا ہے جس میں ہر حدیث کی تخریج، رواۃ پر مفصل کلام، حدیث سے متعلق محدثین کا کلام اور دیگر مباحث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ قابل قدر تحقیق فضل الرحیم الودود تخریج سنن ابی داود کے نام سے دس جلدوں میں دار ابن جوزی سے چھپی ہے۔ ان دس جلدوں میں سنن ابی داود کی صرف ایک ہزار احادیث پر کلام کیا گیا ہے۔ اگر یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا تو ایک اندازے کے مطابق ساٹھ جلدوں میں منظر عام پر آئے گا۔اللہ تعالیٰ مولف کو اس کام کی تکمیل کی توفیق دے۔

۸۔جامع ترمذی کی طرح شیخ البانی نے سنن ابو داود کو بھی صحیح و ضعیف دو قسموں میں تقسیم کر کے اس کی روایات کی فرداً فرداً تحقیق کی ہے،یہ تحقیق صحیح سنن ابی داود اور ضعیف سنن ابی داود کے نام سے الگ الگ چھپی ہے۔

سنن ابی داود پر دور جدید میں ہونے والے اہم کاموں کی فہرست پیش خدمت ہے:

۱۔ افادۃ المقصود باختصار و شرح سنن ابی داود، شیخ مصطفی دیب البغا

۲۔ انجاز الوعود بزوائد ابی داود علی الکتب الخمسۃ، کسروی حسن،دار الکتب العلمیہ ،بیروت (مجلدین)

۳۔ تغلیق التعلیق علی سنن الامام ابی داود، علی بن ابراہیم عجین ،مکتب الرشد ،ریاض (۴مجلدات)

۴۔ ما سکت عنہ الامام ابوداود مما فی اسنادہ ضعف، الدکتور محمد بن ہادی المدخلی ،جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

۵۔ مقولا ت ابی داود النقدیۃ فی کتابہ السنن،محمد سعید حوی ،الجامعہ الاردنیہ

۶۔ الامام ابو داود و مکانۃ کتابہ السنن، الدکتور تقی الدین الندوی ،مکتبہ الامدادیہ ،مکہ مکرمہ

۷۔ الامام ابو داود السجستانی و کتابہ السنن، شیخ عبد اللہ بن صالح البراک

۸۔ بذل المجھود فیما حکم علیہ ابن الجوزی بالوضع من سنن ابی داود، محمد زکی عبد المجید، دار الطباعہ ،قاہرہ

۹۔ حاشیۃ علیٰ سنن ابی داود، شیخ احمد علی سہارنپوری

۱۰۔ سنن ابی داود فی الدراسات المغربیۃ، روایۃ و درایۃ، ادریس الخرشفی ،جامعہ محمد الخامس،رباط

۱۱۔ عون الودود شرح سنن ابی داود، ابو الحسنات محمد بن عبداللہ الفنجانی ، اصح المطابع ،لکھنو(مجلدین )

۱۲۔ سکوت ابی داود فی سننہ ،مفہومہ و آثارہ، نہاد عبد الحلیم عبید

۱۳۔ زوائد سنن ابی داود علی الصحیحین والکلام علی علل بعض حدیثہ، عبد العزیز من مرزوق الطریفی ، مکتبہ الرشد، ریاض (مجلدین)

۵۔سنن نسائی

۱۔ سنن نسائی کی سب سے مفصل اور ضخیم شرح حرم مکی کے معروف مدرس و مصنف محمد بن علی بن آدم الاثیوبی نے لکھی ہے، یہ شرح ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبی کے نام سے دار المعراج ریاض سے چالیس جلدوں میں چھپی ہے۔

۲۔ شیخ البانی نے سنن نسائی کی احادیث پر بھی فرداً فرداً تحقیق کر کے صحیح سنن النسائی، ضعیف سنن النسائی دو الگ الگ نسخے تیار کیے۔ صحیح سنن النسائی تین جلدوں میں جبکہ ضعیف سنن نسائی ایک جلد میں مکتبہ المعارف ریاض سے چھپی ہے۔

۳۔معروف عالم سید بن کسروی حسن نے بقیہ کتب خمسہ پر سنن نسائی کے زوائد کو جمع کیا ہے ،یہ تحقیق اسعاد الرائی بافراد زوائد النسائی علی الکتب الخمسۃ کے نام سے دار الکتب العلمیہ بیروت سے دو جلدوں میں چھپی ہے۔

۴۔ سنن نسائی کی درجہ ذیل طبعات قابل ذکر ہیں :

۱۔ سنن نسائی بشرح السیوطی وحاشیہ السندی، تحقیق عبد الفتاح ابو غدہ، مکتب المطبوعات الاسلامیہ، حلب (۹ مجلدات)

۲۔سنن نسائی، تحقیق و اشراف صالح عبد العزیز ال شیخ ،دار السلام ،ریاض (مجلد ضخیم)

۳۔سنن نسائی، تحقیق بیت الا فکار الدولیہ ،ریاض(مجلد ضخیم )

۴۔ سنن نسائی باحکام الالبانی،تحقیق مشہور بن حسن ال سلیمان،مکتبہ المعارف ،ریاض (مجلد ضخیم)

۵۔ سنن نسائی ،طبع دار التاصیل ،قاہرہ (۹مجلدات)

موخر الذکر محقق ترین اشاعت ہے، دار التاصیل کا یہ نسخہ سنن نسائی کے آٹھ مخطوطات کو سامنے رکھ کر تیارکیاگیا ہے۔ دار التاصیل کے محققین کی ایک ٹیم نے یہ تحقیق کی ہے۔

۵۔ امام نسائی کی فقہی آرا ء اور ترجیحات پر حمید سید حسن علی نے الاتجاہ الفقھی للامام النسائی من خلال سننہ فی ضوء المذاھب کے نام سے ایک ضخیم مقالہ لکھا ہے جس میں تمام فقہی ابواب میں امام نسائی کی ترجیحات و مواقف پر بحث کی ہے ،یہ مقالہ دارالکلیہ قاہرہ سے چھپا ہے۔

۶۔ معروف مصنف ڈاکٹر محمد محمدی نورستانی نے امام نسائی اور سنن نسائی کے مفصل تعارف پر مشتمل المدخل الی سنن الامام النسائی کے نام سے ایک ضخیم کتاب لکھی ہے ،یہ کتاب مکتب الشون الفنیہ کویت سے چھپی ہے۔

سنن نسائی پر اہم دراسات و تحقیقات کی فہرست پیش خدمت ہے :

۱۔ الاحادیث التی اعلھا النسائی بالاختلاف علی الرواۃ فی کتابہ المجتبی جمعا و دراسۃ، عمر ایمان ابو بکر ،جامعہ الامام محمد بن سعود

۲۔ الا مام النسائی ومنھجہ فی السنن، الہادی روشو،جامعہ الزیتونیہ

۳۔ تقریب النائی من مراسیل النسائی، ابو عبد اللہ سیدکسروی حسن ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت

۴۔ حاشیۃ علیٰ سنن النسائی، محمد بن عبد اللہ تھانوی

۵۔ زوائد الامام النسائی علی الکتب الاربعۃ: البخاری، مسلم، ابوداود، الترمذی، جمعا ودراسۃ، جامعہ القاہرہ (مجلدین)

۶۔ سنن الامام النسائی فی الدراسات المغربیہ :روایۃ و درایۃ، مریم بربور ،جامعہ محمد الخامس، الرباط

۷۔ شروق انوار المنن الکبری الالھیۃ بکشف اسرار السنن الصغری النسائیۃ، محمد المختار الشنقیطی، مطبعہ المدنی ،قاہرہ (۳ مجلدات)

۸۔ مختصر سنن النسائی ،مصطفی دیب البغا،الیمامہ للطباعہ و النشر،دمشق

۹۔ بذل الاحسان بتقریب سنن النسائی ابی عبد الرحمن، ابو اسحاق الحوینی الاثری،حجازی بن محمد ،مکتبہ التربیہ الاسلامیہ، قاہرہ (مجلدین )

۱۰۔ التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی، عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ،مکتبہ سلفیہ ،لاہور (۵مجلدات)

۱۱۔ الرجال الذین تکلم فیھم النسائی بجرح او تعدیل، ڈاکٹر قاسم علی سعد ،جامعہ الامام محمد بن سعود (۵ مجلدات)

۱۲۔ الامام النسائی و کتابہ المجتبی، الدکتور عمر ایمان ابی بکر ،مکتبہ المعارف ،ریاض

۱۳۔ الرواۃ الذین ترجم لھم النسائی فی کتابہ الضعفاء والمتروکین واخرج لھم فی سننہ، الدکتور عواد الخلف،جامعہ الشارقہ

۱۴۔ التعریف بالامام النسائی والصناعۃ الحدیثیۃ فی کتابہ السنن، سعد بن ضیدان السبیعی، موقع صید الفوائد

۱۵۔ الکمتفی بحل المجتبی، احمد حسین بن داود پٹنی مظاہری ،مکتبہ الحرم ،گجرات (مجلد ضخیم )

۱۶۔ الامام النسائی ومنھجہ فی السنن، ثابت حسین مظلوم الخزرجی،جامعہ بغداد

۶۔سنن ابن ماجہ

۱۔ سنن ابن ماجہ کی مفصل شرح سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے معروف اہل حدیث عالم شیخ محمد علی جانباز رحمہ اللہ نے لکھی ہے،یہ شرح انجاز الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ کے نام سے دار النوادر بیروت سے نو جلدوں میں چھپی ہے۔

۲۔سنن ابن ماجہ کی ایک اور اہم شرح مراکش کے معروف عالم عبد الحفیظ کنون نے لکھی ہے،یہ شرح اتحاف ذوی التوشف والحاجہ الی قراء سنن ابن ماجہ کے نام سے موسوم ہے، وزارۃ الاوقاف المغربیہ مراکش سے بارہ جلدوں میں چھپی ہے۔

۳۔ سنن ابن ماجہ کی ایک متوسط و جامع شرح معروف محدث شیخ صفا عدوی نے لکھی ہے،یہ شرح دار الیقین بحرین سے اھداء الدیباج بشرح سنن ابن ماجہ کے نام سے پانچ جلدوں میں چھپی ہے۔

۴۔ سنن ابن ماجہ اور امام بن ماجہ کا مفصل تعارف معروف محدث علامہ عبد الرشید نعمانی صاحب نے اپنی کتاب ما تمس الیہ الحاجۃ لمن یطالع سنن ابن ماجہ کے نام سے لکھا ہے ،یہ ضخیم کتاب معروف محقق عبد الفتاح ابوغدہ کی تحقیق کے ساتھ الامام ابن ماجہ وکتابہ السنن کے نام سے مکتب المطبوعات الاسلامیہ حلب سے چھپی ہے۔یہ کتاب حدیث کی تاریخ و تدوین اور دیگر حدیثی مباحث کا عمدہ خزانہ ہے۔

۵۔ سنن ابن ماجہ کی درجہ ذیل طبعات اہم سمجھی جاتی ہیں :

۱۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق بشار اعواد معروف ،دار الجیل ،بیروت (۵مجلدات)

۲۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق شعیب الارناوط و رفقا ء ہ،الرسالہ العالمیہ ،بیروت(۵مجلدات)

۳۔سنن ابن ماجہ،تحقیق عصام موسی ہادی ، موسسہ الریان ،بیروت (مجلد ضخیم)

اس اشاعت میں سات مخطوطات کو سامنے رکھ کر تحقیق کی گئی ہے۔

۴۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق فواد عبد الباقی ،دار احیا ء الکتب العربیہ ،قاہرہ (مجلدین )

یہ اشاعت عمومی طور پر متداول ہے۔

۵۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق محمد مصطفی الاعظمی ،شکر الطباعہ السعودیہ ،ریاض (۴مجلدات)

۶۔سنن ابن ماجہ مع احکام الالبانی ،تحقیق مشہور بن حسن ال سلیمان ،مکتبہ المعارف ریاض (مجلد ضخیم )

۷۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق بیت الافکار الدولیہ ،ریاض

۸۔سنن ابن ماجہ ،تحقیق شیخ خلیل مامون شیحا ،دار المعرفہ بیروت

۹۔سنن ابن ماجہ ،دار التاصیل ،قاہرہ (۴مجلدات)

موخر الذکر اشاعت دار التاصیل کے بیس محققین کی تحقیق و کاوش ہے ،شروع میں تقریباً دو سو صفحات کا مفصل مقدمہ ہے جس میں ابن ماجہ کے مخطوطات ، سابقہ طبعات میں اغلاط و اخطاء اور دیگر متعلقہ مباحث تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

۶۔شیخ البانی نے سنن ابن ماجہ کی احادیث کو بھی فرداً فرداً تحقیق کی بھٹی سے گزارا اور صحیح سنن ابن ماجہ و ضعیف سنن ابن ماجہ دو نسخے تیار کئے ،صحیح سنن ابن ماجہ المکتب الاسلامی بیروت سے دو جلدوں اور ضعیف سنن ابن ماجہ اسی مکتبہ سے ایک جلد میں شائع ہوئی ہے۔

۷۔نور الدین بن عبد السلام مسعی نے امام ابن ماجہ اور سنن ابن ماجہ کا جامع تعارف المدخل الی سنن الامام ابن ماجہ کے نام سے لکھا ہے جس میں سنن ابن ماجہ سے متعلق اہم مباحث کو اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے، ڈیڑ ھ سو صفحات کی یہ کتاب مکتب الشوون الفنیہ کویت سے شائع ہوئی ہے۔

سنن ابن ماجہ پر اہم دراسات و تحقیقات کی فہرست پیش خدمت ہے :

۱۔ اتمام الحاجۃ الی سنن ابن ماجہ، عبد اللہ الصالح ،دار المنار ،السعودیہ

۲۔ الامام ابن ماجہ وکتابہ المسند، دراسہ و تقویم ،محمد فقیر التمسمانی،جامعہ محمد الخامس رباط

۳۔ مختصر سنن ابن ماجہ، مصطفی دیب البغا ،الیمامہ للطباعہ والنشر،بیروت

۴۔ مسائل العقیدۃ فی سنن ابن ماجہ، طارق بن عبد الرحمان الحواس،جامعہ الامام محمد بن سعود (۳مجلدات)

۵۔ نور مصباح الزجاجۃ علی سنن ابن ماجہ، علی سلیمان المغربی ،مطبعہ الوہبی (مجلد ضخیم )

۶۔ الکواکب الوھاجۃ شرح سنن ابن ماجہ، محمد المنتقی الکشناوی ،دار العربیہ ،بیروت(مجلدین)

۷۔ مشارق الانوار الوھاجۃ ومطالع الاسرار البھاجۃ فی شرح سنن ابن ماجہ، محمد بن علی الاثیوبی، دار المغنی (۴مجلدات)

۸۔ احادیث العقیدۃ فی شرح سنن ابن ماجہ ،شرح و دراسۃ، شیخ صفا عدوی ،

۹۔ انجاح الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ، شیخ عبد الغنی مجددی ،مطبع حسین محمد ،دہلی

۱۰۔ مفتاح الحاجۃ بشرح سنن ابن ماجہ، محمد بن عبد اللہ العلوی ،اصح المطابع ،لکھنو

۱۱۔ المتروکون الذین لھم انفرد بھم ابن ماجہ، عبد اللہ مراد علی، جامعہ ام القری

۱۲۔ ابن ماجہ و سننہ، فواد عبد الباقی

۱۳۔ منھج الامام ابن ماجہ، حمادہ الرقی ،دار اطلس الخضرا ،ریاض

۱۴۔ التعلیق علی سنن ابن ماجہ، شیخ عبد العزیز الطریفی

۱۵۔ آراء الامام ابن ماجہ الاصولیۃ من خلال تراجم ابواب سننہ، الدکتور سعد بن ناصر الشسری

۷۔موطا امام مالک

موطا امام مالک اگرچہ جمہور کے نزدیک صحاح ستہ میں شامل نہیں ہے ،لیکن حدیث کی اولین تصنیفات میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر دور میں محققین کی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔ موطا امام مالک پر دور جدید میں حسب ذیل کام قابل ذکر ہیں:

۱۔موطا امام ملک کی مفصل شرح شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ نے اوجز المسالک کے نام سے لکھی ہے،اس کے شروع میں ایک طویل مقدمہ بھی شامل ہے ،جس میں امام مالک اور موطا کے تعارف پر عمدہ مواد موجود ہے ،یہ ضخیم شرح تقی الدین ندوی کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ دار القلم دمشق سے اٹھارہ جلدوں میں چھپی ہے ،موطا امام مالک پر کسی بھی حنفی کی یہ سب سے پہلی مفصل شرح ہے۔

۲۔ مراکش کے معروف عالم ڈاکٹر عز الدین معیار نے موطا کے متداول نسخے روایت یحییٰ مصمودی میں موجود اخطاء اوہام کا ایک جائزہ لیا ہے ،یہ ضخیم کتاب المطبعہ و الوراقہ مراکش سے اوھام واخطاء منسوبہ الی یحیی بن یحیی اللیثی فی روایتہ للموطا کے نام سے چھپی ہے۔

۳۔ شیخ البانی کے شاگرد اور معروف سلفی عالم سلیم بن عید الہلالی نے موطا کی آٹھ معروف روایات (یحییٰ اللیثی، القعنبی، الزہری، الحدثانی، ابن بکیر، ابن القاسم، ابن زیاد، محمد ابن الحسن الشیبانی )کو جمع کیا اور تحقیق، تخریج اور ان روایات میں اختلافات کی نشاندہی کی ،یہ قابل قدر کام الموطا برویاتہ الثمانیۃ، بزیاداتھا و زوائدھا و اختلاف الفاظھا کے نام سے مکتبہ الفرقان التجاریہ سے چار ضخیم جلدوں میں چھپا ہے۔

۴۔معروف مالکی فقیہ و مفسر شیخ طاہر بن عاشور نے موطا پر ایک مختصر لیکن مفید شرح لکھی ہے ،جس میں احادیث کی توضیح کے ساتھ الفاظ حدیث اور موطا کی روایات میں اختلافات کی نشاندہی کی ہے ،یہ جامع کام دار سحنون تیونس سے کشف المغطا من المعانی و الالفاظ الواقعۃ فی الموطا کے نام سے ایک ضخیم جلد میں چھپا ہے۔

۵۔ڈاکٹر طاہر الازہری نے موطا کے مفصل تعارف ، رواۃ،نسخ ،شروح اور دیگر متعلقہ مباحث پر ایک مفید کتاب لکھی ہے ،یہ کتاب المدخل الی موطا مالک بن انس کے نام سے مکتب الشوون الفنیہ کویت سے چھپی ہے۔

۶۔معروف مالکی عالم سید محمد علوی مالکی نے موطا پر قابل قدر کام کیا ہے ،محقق مذکور نے موطا پر درجہ ذیل کتب لکھی ہیں: 

(۱) دراسات حول الموطا

(۲) انوار السالک الی روایات موطا امام مالک، دار الکتب العلمیہ ،بیروت

(۳) فضل الموطا و عنایۃ الامۃ الاسلامیہ بہ، مطبعۃ السعادۃ، قاہرہ

(۴) شبھات حول الموطا و ردھا

۷۔حسان عبد المنان نے موطا کی تیئیس روایات کو یکجا کر کے ان میں اختلافات و زوائد کی نشاندہی کی ہے ،یہ کتاب الموطا للاما م مالک بن انس تحقیق حسان عبد المنان کے نام سے بیت الافکار الدولیہ ریاض سے ایک ضخیم جلد میں چھپی ہے۔

۸۔ موطا کی درجہ ذیل طبعات تحقیق کے اعتبار سے اہم سمجھی جاتی ہیں:

(۱) الموطا (روایۃ اللیثی )تحقیق مصطفی اعظمی ،موسسہ زاید بن سلطان ،ابو ظہبی (۸ مجلدات)

(۲) الموطا(روایۃ اللیثی) تحقیق فواد عبد الباقی ،دار احیا التراث العربی ،بیروت (مجلدین)

(۳) الموطا (روایۃ ابی مصعب الزہری )تحقیق بشار عواد معروف و محمود خلیل،موسسہ الرسالہ ،بیروت(مجلدین )

(۴) الموطا (روایۃ اللیثی ) تحقیق بشار عواد معروف ،دار الغرب الاسلامی ،تیونس (مجلدین)

(۵) الموطا (روایۃ الشیبانی ) تحقیق تقی الدین ندوی ،دار القلم (۳ مجلدات)

(۶) الموطا (روایۃ القعنبی ) تحقیق عبد المجید ترکی ،دار الغرب الاسلامی ،تیونس (مجلد ضخیم)

(۷) الموطا (روایۃ ابن القاسم )تحقیق سید علوی المالکی ، المجمع الثقافی ،ابوظہبی

(۸) الموطا (روایۃ اللیثی و زیادات الزہری و الشیبانی )تحقیق کلال حسن علی ،موسسہ الرسالہ ،بیروت(مجلد ضخیم)

(۹) الموطا (روایۃ عبد اللہ بن وہب )تحقیق ،ہشام اسماعیل الصینی ،دار ابن جوزی ،دمام

(۱۰) الموطا (روایۃ اللیثی )تحقیق لجنۃ المحققین (دس محققین ) ،المجلسی العلمی الاعلی ،مراکش (مجلدین )

(۱۱) الموطا (روایۃ محمد بن الحسن الشیبانی )تحقیق ،عبد الوہاب عبد اللطیف ،وزارۃ الاوقاف ،قاہرہ

۹۔ موطا امام مالک اور مسند احمد بن حنبل کی صحاح ستہ پر زوائد کو صالح احمد شامی نے جمع کیا ہے ،یہ تحقیق زوائد الموطا والمسند علی الکتب الستۃ کے نام سے دار کنوز اشبیلیا سے تین جلدوں میں چھپی ہے۔

۱۰۔ احمد عبد اللہ فرہود نے موطا کے مشکل الفاظ کی لغوی تحقیق پر ایک مفید معجم تیار کیا ہے ،یہ معجم المضی فی شرح الموطا کے نام سے دار القلم حلب سے دو جلدوں میں چھپا ہے۔

۱۱۔ نذر حمدان نے موطا کے تعارف ،روایات ،نسخ ،منہج ،خصوصیات و دیگر متعلقہ مباحث پر ایک ضخیم کتاب لکھی ہے، یہ کتاب الموطآت للام مالک کے نام سے دار القلم دمشق سے چھپی ہے۔

موطا پر اہم تحقیقات و دراسات کی فہرست پیش خدمت ہے :

۱۔ اسالیب الانشاء والدلالۃ البلاغیۃ فی احادیث الموطا للامام مالک، محمد براہیم طیاش ، الجامعۃ الاسلامیہ ،مدینہ منورہ

۲۔ اسالیب الطلب فی الحدیث النبوی الشریف،دراسۃ لغویۃ بیانیۃ فی الموطا، محمد سعید عبد اللہ ،دار الثقافہ ،قاہرہ

۳۔ اسانید الحدیث النبوی فی ضوء نظم المعلومات المعاصرۃ،دراسۃ تطبیقیۃ بالحاسب الآلی علی موطا الامام مالک، کمال الدین عبد الغنی المرسی ،دار المعرفہ الجامعیہ ،قاہرہ (مجلدین)

۴۔ اضاء ۃ الحالک من الفاظ دلیل السالک الی موطا الامام مالک، محمد حبیب اللہ الشنقیطی، دار البشائر الا سلامیہ، بیروت

۵۔ اقرب المسالک الی موطا الامام مالک، محمد تہامی کنون ،وزارۃ الاوقاف،رباط

۶۔ قراآت فی مجتمع المدینہ المنورہ من خلال الموطا، محمد طاہر رزقی ،مکتبہ الرشد ،ریاض

۷۔ الموطا فی الدراسات المغربیۃ، روایۃ ودرایۃ، الحسن الہمساس الیوبی ،جامعہ محمد الخامس، رباط

۸۔ الموطا قیمتہ العلمیہ وروایاتہ، محمد حسن بن علوی المالکی

۹۔ یحییٰ بن یحییٰ اللیثی وروایتہ الموطا، محمد شرحبیلی ،دار الحدیث الحسنیہ ،رباط

۱۰۔ مقدمہ موطا الامام مالک، محمدعلی السنوسی الادریسی ،مطبعہ حجازی ،قاہرہ

۱۱۔ موسوعۃ شروح الموطا، تحقیق عبد اللہ الترکی ،دار ہجر

۱۲۔ الا مام مالک وعملہ بالحدیث من خلال کتابہ الموطا، محمد یحییٰ مبروک،دار ابن حزم

۱۳۔ زوائد الموطا علی الصحیحین، عبد السلام محمد العامر، دار الصمیعی

۱۴۔ صحیح و ضعیف الموطا، سلیم الہلالی ،دار ابن حزم (مجلدین)

۸۔دیگر کتب حدیث پر ہونے والا کام

صحاح ستہ و موطا کی بہ نسبت دیگر کتب حدیث پر ہونے والا کام کم ہے،اگرچہ متون حدیث میں سے تقریباً ہر ایک پر کام ہوا ہے ،ذیل میں دیگر متون حدیث پر ہونے والے کام کا ایک تعارفی جائزہ پیش کیا جاتا ہے :

۱۔مسند امام احمد بن حنبل پر معاصر سطح کا سب سے بڑا کام مسند کی جوامع و سنن کے مطابق تبویب ہے ،اس سلسلے میں سب سے پہلا کام احمد عبد الرحمان الساعاتی نے کیا،الساعاتی نے الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد بن حنبل الشیبانی کے نام سے مسند کی جملہ احادیث کو ابواب کی ترتیب سے جمع کیا ،یہ قابل قدر تحقیق دار الشہاب قاہرہ سے بارہ ضخیم جلدوں میں چھپی ہے۔

۲۔ الساعاتی کے کام کو مزید منقح و مرتب انداز میں سعودی عرب کے معروف عالم عبد اللہ بن ابراہیم القرعاوی نے پیش کیا ،القرعاوی نے الفتح الربانی کی تہذیب و تنقیح کی،مکرر احادیث کو یکجا کیا ،ابواب و فصول کا اضافہ کیا ،یہ کام المحصل لمسند الامام احمد بن حنبل کے نام سے دار العاصمہ ریاض سے پچیس جلدوں میں چھپا ہے۔

۳۔ مسند احمد کی متعدد محقق طبعات منظر عام پر آئی ہیں ،جن میں درجہ ذیل قابل ذکر ہیں :

۱۔المسند ،تحقیق احمد محمد شاکر ،حمزہ احمد زین ،دار الحدیث قاہرہ (۲۰ مجلدات)

۲۔ المسند ،تحقیق شعیب الارناوط ،عادل مرشد،موسسہ الرسالہ ،بیروت (۵۰ مجلدات)

یہ تحقیق کے اعتبار سے سب سے اہم اشاعت ہے۔

۳۔المسند ،تحقیق محمد عبد القادر عطا ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت (۱۲ مجلدات)

۴۔المسند ،تحقیق لجنۃ المحققین ،عالم الکتب ،بیروت (۸ مجلدات)

۵۔المسند ،تحقیق جمعیۃ المکنز الاسلامی باشراف الدکتور احمد معبد عبد الکریم، دار منہاج، جدہ (۱۵ مجلدات)

کتاب کی لجنۃ تحقیق کے بقول اس کی تحقیق میں سولہ سال لگے اور تینتیس مخطوطات کی مدد سے یہ نسخہ تیار کیا گیا۔یہ مسند احمد کی تازہ ترین طباعت ہے، ۲۰۱۱ میں دار منہاج جدہ سے چھپی ہے۔

۴۔ مسند احمد پر دور جدید کی ایک اہم کاوش بارہویں صدی ہجری کے معروف عالم ابو الحسن محمد بن عبد الہادی السندی کی لکھی ہوئی شرح کی اشاعت ہے ،یہ شرح شیخ نور الدین طالب کی تحقیق کے ساتھ دار النوادر سے سترہ جلدوں میں چھپی ہے۔

۵۔مسند احمد پر ایم فل و پی ایچ ڈی مقالات کی شکل میں عمدہ تحقیقات و دراسات ہوئی ہیں،جن میں مختلف موضوعات کی احادیث کی جمع و ترتیب ،معروف صحابہ کے مسانید کی تحقیق و توضیح وغیرہ شامل ہیں،ان مقالات کی فہرست کے لئے المعجم المصنف لمولفات الحدیث الشریف اور دلیل المولفات الحدیث المطبوعۃ کی طرف رجوع کیا جائے۔

۶۔محمد ضیاء الرحمن الاعظمی نے امام بیہقی کی السنن الصغری پر ایک تفصیلی شرح لکھی ہے ،یہ شرح المنۃ الکبری شرح و تخریج السنن الصغری کے نام سے مکتبۃ الرشد ریاض سے نو جلدوں میں چھپی ہے۔

۷۔مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمہ اللہ نے شرح معانی الاثار پر ایک مفصل شرح لکھی ہے ،اس شرح کی صرف چار جلدیں امانی الاحبار شرح معانی الآثار کے نام سے مکتبہ یحیویہ سہارنپور سے چھپی ہیں ،جبکہ باقی مخطوط کی شکل میں ہے۔ اس کے شروع میں ایک مفصل مقدمہ بھی شامل ہے ، جس میں امام طحاوی اور شرح معانی الاثار سے متعلق عمدہ مباحث ہیں۔

۸۔مسند دارمی کی تحقیق ،تشریح ،فہارس ،رجال کی تحقیق اور دیگر مباحث پر نبیل بن ہاشم الغمری نے قابل قدر تحقیق کی ہے ،مصنف نے سنن دارمی پر دو قابل قدر کتب لکھی ہیں ،ایک فتح المنان کے نام سے ،جس میں سنن دارمی کی شر ح وتوضیح ہے ،یہ کتاب دار البشائر الاسلامیہ بیروت سے دس جلدوں میں چھپی ہے ، دوسری اتمام الاھتمام بمسند ابی محمد بن بھرام الدارمی کے نام سے ہے،جس میں سنن دارمی کے اطراف ،رجال اور دیگر مباحث شامل ہیں ،یہ دار قرطبہ بیروت سے ایک ضخیم جلد میں چھپی ہے۔

۹۔مشکوۃ المصابیح پر شیخ الحدیث مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ نے التعلیق الصبیح علی مشکوۃ المصابیح کے نام سے عمدہ شرح لکھی ہے ،یہ شرح دار احیاء التراث العربی بیروت سے سات جلدوں میں چھپی ہے۔ دوسری مفصل شرح مولانا عبید اللہ بن محمد مبارکپوری نے مرعاۃ المفاتیح کے نام سے لکھی ہے، یہ شرح مکتبہ السلفیہ بنارس سے نو جلدوں میں چھپی ہے۔

۱۰۔ عالم عرب میں خاص طور پر ریاض الصالحین، اربعین نووی، عمدۃ الاحکام اور بلوغ المرام پر قابل قدر شروحات لکھی گئی ہیں۔ان کتب کی احادیث چونکہ زیادہ تر صحاح ستہ سے ماخو ذ ہیں، اس لئے ان کی شروحات کی الگ تفصیل درج کرنے کی ضرورت نہیں۔ نیز یہ کتب اصلی متون حدیث میں شمار نہیں ہوتیں،زیر نظر مضمون میں شروحات حدیث کے سلسلے میں زیاد ہ تر اساسی متونِ حدیث کی شروحات و دراسات ذکر کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 

(جاری ہے)

حدیث و سنت / علوم الحدیث

Flag Counter