ترکی میں احادیث کی نئی تعبیر و تشریح کا منصوبہ

محمد عمار خان ناصر

مارچ ۲۰۰۸ ءکے دوسرے ہفتے میں عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی کہ ترکی کی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام احادیث کے حوالے سے ایک منصوبے پر کام جاری ہے جس کا بنیادی مقصد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط طور پر منسوب کی جانے والی احادیث کی تردید اور بعض ایسی احادیث کی تعبیر نو ہے جن کا غلط مفہوم مراد لے کر انھیں ناانصافی کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ منصوبہ، جس پر پینتیس اسکالر کام کر رہے ہیں، ۲۰۰۶ میں شروع کیا گیا تھا اور توقع ہے کہ حالیہ سال کے اختتام تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا۔

ترکی کی مذہبی امور سے متعلق اتھارٹی ’’دیانت‘‘ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد گورمیز کے حوالے سے، جنھوں نے برطانیہ میں تعلیم وتربیت پائی ہے اور انقرہ یونیورسٹی میں حدیث کے سینئر استاذ ہیں، اس منصوبے کی نوعیت اور مقاصد کے حوالے سے جو بیانات ذرائع ابلاغ میں نشر ہوئے ہیں، ان میں سے بعض اہم بیانات حسب ذیل ہیں:

  • منصوبے کا بنیادی مقصد احادیث کو نئی تعبیر وتشریح کے ذریعے سے آج کے لوگوں کے لیے زیادہ قابل فہم بنانا ہے اور ہمارے کام کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ’’تعبیر نو‘‘ ہی درست اصطلاح ہے۔
  • اس منصوبے کا مقصد مذہب کی الٰہیاتی بنیادوں کو تبدیل کرنا نہیں۔ یہ ایک علمی مطالعہ ہے جس کا مقصد الٰہیاتی بنیادوں کو سمجھنا اور ان کی تعبیر کرنا ہے۔
  • یہ منصوبہ اسلام کی اس تعبیر نو سے راہنمائی حاصل کرتا ہے جو جدیدیت سے ہم آہنگ ہے اور تعبیر نو اسلام کے بنیادی ڈھانچے کا ایک حصہ ہے۔ منصوبے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مذہب کو روایتی ثقافتی عناصر سے ممتاز کیا جائے۔
  • ہم اسلام کے مثبت پہلووں کو اجاگر کرنا اور ایک ایسی تعبیر سامنے لانا چاہتے ہیں جو شخصی احترام، انسانی حقوق، انصاف، اخلاق پسندی، خواتین کے حقوق، اور دوسروں کے احترام کو فروغ دے۔ 
  • آج مشرق اور مغرب میں پیغمبر اسلام اور ان کی تعلیمات کے حوالے سے بے حد کنفیوژن پایا جاتا ہے اور ہم اس کنفیوژن کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 
  • بہت سی احادیث کا مفہوم متعین کرنا اب ممکن نہیں رہا اور بعض روایات کا ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر بھلایا جا چکا ہے۔ 
  • متعدد احادیث کی آج کے دور میں نئی تعبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر بعض احادیث میں خواتین کو خاوند کی اجازت کے بغیر تین دن کی مدت کے سفر پر جانے سے روکا گیا ہے اور ایسی احادیث مستند ہیں، لیکن یہ کوئی مذہبی نوعیت کی پابندی نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خواتین تنہا حفاظت کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی تھیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک عارضی نوعیت کی پابندی کو لوگوں نے مستقل حکم کی صورت دے دی ہے۔
  • کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ خواتین کے اپنے سروں کو ڈھانپنے کے حوالے سے کوئی نئی انقلابی سوچ پیش کی جائے گی۔ یہ ایک علمی مطالعہ ہے اور اس میں آپ کو ایسی کوئی کوشش دکھائی نہیں دے گی جس کا مقصد اسلام کو مغربی دنیا کے لیے زیادہ خوب صورت بنا کر پیش کرنا ہو۔ 
  • ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس منصوبے سے مسلم دنیا میں خواتین کے بارے میں رائج تصورات میں تبدیلی پیدا کرنے میں مدد ملے گی؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلامی نصوص میں غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے یا شادی شدہ زانی کو سنگ سار کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ اسلام کو غلط سمجھا جا رہا ہے۔ مثلاً آپ سلطنت عثمانیہ کے چھ سو سالہ دور میں ایک مثال بھی ایسی نہیں دکھا سکتے جس میں کسی شخص کو سنگ سار کیا گیا ہو یا کسی چور کا ہاتھ کاٹا گیا ہو۔

اس ضمن میں انقرہ یونیورسٹی میں شعبہ حدیث کے سربراہ اسماعیل حقی انال نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جانے والی بعض احادیث قرآن سے ٹکراتی ہیں۔ قرآن ہمارا بنیادی راہنما ہے اور جو چیز بھی اس سے ٹکراتی ہو، ہم اسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے مثال کے طور پر بعض روایات پر مبنی اس رائے کا حوالہ دیا کہ خواتین کو پڑھنے لکھنے کی تعلیم دینا ممنوع ہے یا یہ کہ وہ عقل اور دین کے اعتبار سے کم تر ہیں۔انھوں نے کہا کہ خواتین کے عقل اور دین کے لحاظ سے کم تر ہونے کی بات گزرے زمانوں میں کسی استدلال کے بغیر درست مان لی گئی تھی، لیکن آج یہ بات درست نہیں مانی جا سکتی، اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز حیات اور خود قرآن کے مطابق نہیں ہے، اس لیے قبول نہیں کی جا سکتی۔ اسماعیل حقی انال نے مزید کہا کہ ’’ہم اس کو کوئی ’’اصلاح‘‘ نہیں سمجھتے، بلکہ اسلام کی اصل بنیادوں کی طرف واپسی کی کوشش سمجھتے ہیں۔‘‘

استنبول کے ایک مبصر مصطفی اکیول نے کہا ہے کہ منصوبے کے نتائج کے طور پر خواتین سے متعلق بعض احادیث کو حذف یا مسترد کیے جانے کا امکان ہے جو ایک جرات مندانہ اقدام ہوگا، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسے تشریحی نوٹس کا اضافہ کر دیا جائے جو یہ بتائیں کہ ان احادیث کو ایک مختلف تاریخی سیاق کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

منصوبے پر کام کرنے والے محققین نے مزید بتایا ہے کہ احادیث کا یہ مجموعہ احادیث کی روشنی میں جدید ترین سوالات کا جواب بھی فراہم کرے گا، مثلاً یہ کہ گاڑی چلانے والوں کو کس طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے (کیونکہ ترکی دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں حادثات کا تناسب بہت زیادہ ہے) اور یہ کہ کرۂ ارض کے ماحول میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔ 

مذکورہ رپورٹوں او ر بیانات سے کافی حد تک اس منصوبے کے محرکات اور ان ذہنی وفکری الجھنوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جو اسلامی احکام کی تعبیر وتشریح کے حوالے سے آج کے مسلمان اسکالرز کو درپیش ہیں۔ اس منصوبے کو ترکی جیسے اہم مسلم ملک کی سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور اس سے اس کی اہمیت اور متوقع اثرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ’الشریعہ‘ کے رئیس التحریر نے اسی تناظر میں ایک خط کے ذریعے سے برصغیر کی اہم علمی شخصیات اور اداروں کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ وہ ترکی میں ہونے والی اس پیش رفت کی اہمیت اور نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اس سلسلے میں ترکی کی وزارت مذہبی امور کو متوازن فکری راہنمائی مہیا کریں ۔ یہ خط درج ذیل ہے:


باسمہ سبحانہ

مکرمی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟
برادر مسلم ملک ترکی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے جو اس عریضہ کے ساتھ منسلک ہے کہ اس کی وزارت مذہبی امور نے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور نئی تعبیر وتشریح کے کام کا سرکاری سطح پر آغاز کیا ہے جو اس حوالے سے یقیناًخوش آئند ہے کہ ترکی نے اب سے کم وبیش ایک صدی قبل ریاستی وحکومتی معاملات سے اسلام اور مذہبی تعلیمات کی لاتعلقی کا جو فیصلہ کیا تھا، یہ اس پر نظر ثانی کا نقطہ آغاز محسوس ہوتا ہے جس کا بہرحال خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
ترکی نے خلافت عثمانیہ کے عنوان سے صدیوں عالم اسلام کی قیادت کی ہے اور اسلام کی سربلندی کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرہ میں اس کی ترویج وتنفیذ کے لیے شاندار کردار ادا کیا ہے، اس لیے خلافت اور دینی تعلیمات سے ریاستی سطح پر ترکی کی دست برداری پر دنیاے اسلام میں عمومی طور پر دل گرفتگی اور صدمہ کا اظہار کیا گیا تھا اور اب تک کیا جا رہا ہے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے ترکی کے اس فکری وثقافتی انقلاب کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے اسباب میں اپنے اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ ترکی قوم اپنے مزاج کے حوالے سے ایک عسکری قوم ہے جو مغربی ثقافت اور اسلام کے درمیان علمی وثقافتی کشمکش میں علمی واجتہادی صلاحیتوں کو بروے کار نہ لا سکی جس کی وجہ سے وہ مغرب کی ثقافت وفلسفہ کا علمی وفکری میدان میں مقابلہ کرنے کی بجائے پسپائی پر مجبور ہو گئی، جبکہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے اس ضمن میں لکھا ہے کہ ترکی کے علما ومشائخ اس ’’غزو فکری‘‘ (Intellectual Onslaught) کی اہمیت کا احساس نہ کر سکے اور اس کی طرف ضروری توجہ دینے کے لیے اپنے اوقات کو فارغ نہ کر سکے جس کی وجہ سے یہ عظیم سانحہ رونما ہوا۔
اس پس منظر میں احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور ان کی نئی تعبیر وتشریح کے بارے میں ترکی حکومت کے اس فیصلے کو ماضی کی طرف لوٹنے کا نقطہ آغاز سمجھنے کے باوجود اس سلسلے میں کچھ تحفظات کو سامنے رکھنا ضروری ہے اور عالم اسلام کے دینی وعلمی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سارے عمل کے پس منظر اور دیگر متعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ترکی کی وزارت مذہبی امور کے اس کارخیر میں اس سے تعاون کریں۔ چنانچہ مختلف علمی اداروں، شخصیات اور مراکز سے ہم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی طرف سے بطور تجویز یہ گزارش کر رہے ہیں کہ وہ احادیث نبویہ کی درجہ بندی اور تعبیر وتشریح کے لیے محدثین کرام اور فقہاے عظام کی اب تک کی علمی خدمات، احادیث نبویہ کے بارے میں مستشرقین اور ان کے خوشہ چینوں کی طرف سے پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات نیز آج کے حالات وضروریات اور ملت اسلامیہ کی مسلمہ علمی حدود کے دائرے میں تعبیر نو کے ضروری تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک جامع بریفنگ رپورٹ ترکی کی وزارت مذہبی امور کو بھجوائیں جو عربی یا انگلش زبان میں ہو اور اس مسئلے میں ترکی کی وزارت مذہبی امور کی ضروری علمی وفکری راہ نمائی کی ضرورت پوری کرے۔
امید ہے کہ آنجناب اس تجویز پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے اور اس سلسلے میں اپنی رائے اور پیش رفت سے ہمیں بھی آگاہ فرمائیں گے۔ شکریہ

ابو عمار زاہد الراشدی

۱۲ مارچ ۲۰۰۸ء


حدیث و سنت / علوم الحدیث