امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی اصول پرستی

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک قومی اخبار کی خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں۔ یاد رہے کہ یہ پٹیشن ایک ایسے وقت میں تیار کی گئی ہے جب پومیو نے سال ہا سال سے چلی آنے والی امریکی پالیسی کے برعکس بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اب فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو خلاف قانون نہیں سمجھتا۔ اس بیان پر عرب ممالک، عالم اسلام اور عالمی برادری کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ امریکی کانگریس کے ارکان کا کہنا ہے کہ ۱۹۷۸ء میں امریکہ نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف اصولی موقف اختیار کیا تھا جس میں ان بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں امریکی موقف میں یہ یوٹرن ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہے اس لیے کہ فلسطین میں برطانوی نوآبادیاتی دور سے اب تک اسرائیل کے قیام، یہودی آبادکاری میں مسلسل توسیع، فلسطینیوں کو ان کے وطن اور شہری و انسانی حقوق سے بتدریج محروم کرتے چلے جانے، اور عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک کو مختلف قسم کے تزویری حربوں کے ذریعے فلسطینیوں کی حمایت سے دست کش یا کم از کم خاموش کر دینے کا جو عمل گزشتہ ایک سو سال کی تاریخ ہمارے سامنے پیش کرتی ہے، وہ اسی قسم کی پالیسیوں سے عبارت ہے، اور کوئی ایک مرحلہ بھی اس دوران ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہو کہ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ نے خود اپنے طے کردہ اصولوں کا کوئی دائرہ بھی قائم رہنے دیا ہو۔

اصول اور اصولی موقف کی گزشتہ تاریخ سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ دنیا کے کسی خطہ میں اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے مرحلہ وار پالیسیوں کو ’’اصول‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے، ایک مرحلہ مکمل ہونے پر وہ اصول تکمیل تک پہنچ جاتا ہے، اور دوسرا مرحلہ شروع ہونے کے بعد اس کے اختتام پذیر ہونے تک نئی پالیسی اور حکمت عملی کو ’’اصول‘‘ کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کھیل کا دائرہ صرف مشرق وسطٰی تک محدود نہیں ہے بلکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی اصولوں کے نام سے یہی ’’ناٹک‘‘ جاری ہے۔ مثال کے طور پر مسئلہ کشمیر کا حال بھی اس سے مختلف نہیں:

  • اس کا آغاز امریکہ کی سرپرستی میں اقوام متحدہ کی اس مبینہ اصول پرستی سے ہوا تھا کہ کشمیری عوام سری نگر کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف جہاد روک دیں، ان کا مسئلہ کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے ساتھ استصواب رائے کے ذریعے حل کیا جائے گا، اور اس کا اہتمام اقوام متحدہ کے ذمہ ہوگا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ تک یہ راگ مسلسل الاپا جاتا رہا۔
  • پھر اصول بدل گیا جس نے ۱۹۷۱ء میں پاکستان کے دو حصوں میں بٹ جانے کے بعد مستقل شکل اختیار کر لی کہ یہ مسئلہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا نہیں بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ ایک باہمی تنازعہ ہے جسے باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اس راگ کی بھی مدت طے کر لی گئی تھی جو شاید پوری ہو گئی ہے۔
  • اور اب نئے اصول کے تحت یہ مسئلہ بھارت کا داخلی مسئلہ ہوگیا ہے جس میں صرف اس کی یہ ذمہ داری رہ گئی ہے کہ وہ کشمیریوں کو کسی طرح مطمئن کر لے اور ان کے شہری حقوق کے بارے میں دنیا کو اعتماد میں رکھے، باقی اللہ اللہ خیر صلّا۔

عالم اسلام کے یہ دونوں مسئلے یعنی فلسطین اور کشمیر مغربی ممالک کی اس مرحلہ وار ’’اصول پرستی‘‘ کا شاہکار ہیں، اور نہ صرف امریکہ اور دیگر مغربی ممالک اس میں پیش پیش ہیں بلکہ عالم اسلام میں ان کے حواری بھی اسی نام نہاد اصول پرستی کے پیچھے تالیاں پیٹتے نظر آرہے ہیں۔ چنانچہ امریکی کانگریس کے ۱۳۵ ارکان نے اس پر جو احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اس کی حیثیت اور افادیت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ان قراردادوں سے زیادہ دکھائی نہیں دیتی جو گزشتہ پون صدی سے امت مسلمہ کے مسائل پر منظور کی جا رہی ہیں۔ جبکہ ہمارے خیال میں یہ مسئلہ ان کا نہیں ہے بلکہ مسلم حکمرانوں اور حکومتوں کا ہے کہ جب تک ان کی غیرت نہیں جاگتی، یہ ڈرامے اسی طرح جاری رہیں گے۔

عالم اسلام اور مغرب

Flag Counter