سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی جس میں اسلام اور جہاد کے جذبہ کے ساتھ شریک ہو کر قربانیاں دینے والوں نے امریکہ کی یہ جنگ لڑی ہے۔

میرا نقطۂ نظر مختلف تھا، میں نے عرض کیا کہ اس جنگ کا آغاز امریکہ نے نہیں کیا تھا بلکہ افغان عوام نے سوویت یونین کی فوج کشی کے بعد اپنے وطن کی آزادی اور تہذیبی و اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے یہ جنگ شروع کی تھی جس میں دنیا بھر سے ان کے اس موقف کی حمایت کرنے والے لوگ جہاد کے عنوان سے شریک ہو گئے تھے۔ آغاز کے دو چار سال تک اس جنگ کو مذاق بلکہ جنون سمجھا جاتا رہا مگر افغان مجاہدین کو بے سروسامانی کے باوجود مسلسل آگے بڑھتے دیکھ کر امریکی کیمپ نے اس کو تقویت دینے کا فیصلہ کر لیا جو بڑھتے بڑھتے اس جنگ کو ’’ہائی جیک‘‘ کر لینے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس موقع پر سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑنے والے افغان مجاہدین کے آٹھ گروپوں کا اتحاد قائم ہوا جس کے سیکرٹری جنرل حرکت انقلاب اسلامی کے مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ تھے جو میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے، جبکہ افغان گروپوں کو یکجا کرنے میں ایک موقع پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور شیخ الحدیث مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک کا کردار بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ اور اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب کے ساتھ معاملات طے کرنے میں جو کچھ عملاً ہوا، مولانا نصر اللہ منصورؒ کی رائے اس سے مختلف تھی، وہ مکمل خودسپردگی کی بجائے بنیادی معاملات پر اپنا کنٹرول قائم رکھتے ہوئے کچھ شرائط کے ساتھ مغرب کی حمایت و تعاون قبول کرنے کے حق میں تھے، اور اپنی بات نہ مانے جانے پر انہوں نے جنگ سے لا تعلق ہو کر خوداختیاری جلاوطنی کا راستہ اختیار کر لیا تھا۔

اسلام آباد میں لیفٹ کے دانشوروں کے ساتھ مذکورہ نشست میں جب بحث نے طول پکڑا تو میں نے دوستوں سے عرض کیا کہ تھوڑا اور انتظار کر لیں اگر اس خطہ کے لیے امریکہ کے نئے علاقائی ایجنڈے کو افغان مجاہدین نے قبول کر لیا اور اس میں ایڈجسٹ ہو گئے تو میں آپ کا موقف کھلے دل سے تسلیم کر لوں گا کہ افغانوں نے سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑی ہے۔ اور اگر وہ امریکہ کے ایجنڈے میں سیٹ نہ ہوئے تو آپ دوستوں کو میری بات ماننا ہو گی کہ افغانوں نے اپنی جنگ لڑی ہے جو افغانستان کی آزادی اور افغان قوم کے اسلامی و تہذیبی تشخص کے تحفظ کی جنگ تھی جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے مسلم مجاہدین جہاد کے شرعی فریضہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ اس میں جوق در جوق شامل ہوتے چلے گئے، جبکہ امریکہ اس میں اپنے مفاد کے لیے شریک ہوا کہ اسے اس میں اپنے سردجنگ کے حریف روس کی شکست کے امکانات دکھائی دے رہے تھے۔

البتہ باہمی معاملات کے تعین و تشکیل میں افغان مجاہدین ’’دام ہمرنگ زمیں‘‘ کا شکار ہو گئے چنانچہ ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کے عنوان سے افغانستان میں مغرب کا نیا کھیل شروع ہوا جس کے نتیجے میں افغانستان کو ’’جہادِ افغانستان‘‘ کے منطقی ثمرات یعنی نفاذِ شریعت اور غیر ملکی مداخلت سے آزاد قومی خودمختاری سے محروم رکھنے کے لیے خانہ جنگی کے نئے راؤنڈ کا آغاز ہو گیا تو افغان مجاہدین کے انہی گروپوں میں سے نظریاتی اور تہذیبی ایجنڈا رکھنے والے لوگوں نے ’’طالبان‘‘ کے نام سے اپنی نئی تشکیل کی۔ اور چونکہ افغان عوام کی اکثریت کے لیے اپنی طویل جنگ کے نظریاتی اور تہذیبی ثمرات سے محرومی بہرحال ناقابل برداشت تھی اس لیے طالبان نے بڑھتے بڑھتے قندھار اور پھر کابل کا کنٹرول حاصل کر کے جہاد افغانستان کے منطقی ثمرات کا رخ متعین کر دیا جو اس خطہ کے لیے امریکہ اور نیٹو کے ایجنڈے سے متصادم تھا۔

چنانچہ افغان مجاہدین اور سوویت یونین کے درمیان لڑی جانے والی جنگ طالبان اور امریکہ کے درمیان نئی جنگ کی صورت اختیار کر گئی جبکہ ان دونوں جنگوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کو دنیا بھر بالخصوص امریکہ اور عالم اسلام کی بھرپور حمایت حاصل تھی مگر طالبان کو یہ جنگ تنہا لڑنا پڑی۔ اور تاریخ ان کے اس کردار کو کبھی اپنے صفحات سے محو نہیں کر سکے گی کہ انہوں نے بیس سال تک تنہا جنگ لڑ کر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مسلح افواج کو یہ کہتے ہوئے واپسی پر مجبور کر دیا کہ ’’ہم جنگ میں فتح حاصل نہیں کر سکے‘‘ جو ارشاد خداوندی ’’تلک الایام نداولھا بین الناس‘‘ کا مصداق ہے۔ اسے افغان قوم کی سخت جانی کہہ لیجئے یا ان کی اسلام کے ساتھ بے لوث وابستگی اور اپنی تہذیبی روایات کے ساتھ بے لچک وفاداری کا کرشمہ سمجھ لیجئے کہ یہ واقعہ ہو چکا ہے، البتہ اس کے نتائج و ثمرات کا رخ ایک بار پھر اپنے اپنے مفادات کی طرف موڑنے کے لیے بہت سی طاقتیں کسی نئے ’’جنیوا معاہدہ‘‘ کا تانابانا بننے میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔

آج اسلام آباد کی مذکورہ نشست میں ہونے والی بحث کا نتیجہ بحمد اللہ تعالیٰ سامنے آ گیا ہے کہ افغان قوم نے جہادِ افغانستان میں امریکہ کی جنگ نہیں لڑی تھی بلکہ امریکہ نے ان کی اس جنگ کو اپنے مقاصد کے لیے ہائی جیک کر لیا تھا جس میں اسے بالآخر ناکامی ہوئی ہے اور افغان قوم اپنی خودمختاری، اسلامیت اور تہذیب و ثقافت کے تحفظ کا پرچم آج بھی پورے عزم و استقامت کے ساتھ تھامے کھڑی ہے، البتہ ان کی زیرلب گنگناہٹ کے یہ الفاظ ہر واقفِ حال کو سنائی دے رہے ہیں کہ

’’ہمیں ہمارے دوستوں سے بچالو، دشمنوں سے ہم خود نمٹ لیں گے۔‘‘


عالم اسلام اور مغرب

(اگست ۲۰۲۱ء)

Flag Counter