شرعی قوانین کے حوالے سے برطانیہ میں جاری بحث

مولانا محمد عیسٰی منصوری

فروری ۲۰۰۸ کے شروع میں چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز نے، جو دنیا بھر کے پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے عالمی سربراہ ہیں، برطانیہ میں اسلامی شریعت کے چند قوانین کے نفاذ پر غور وفکر کی دعوت دے کر یہاں کی فضا میں ارتعاش بلکہ تہلکہ بپا کر دیا ہے۔ آرچ بشپ ڈاکٹر روون نے یہ تجویز غور وفکر کے لیے اپنی سنڈ (چرچ آف انگلینڈ کی پارلیمنٹ) میں پیش کی تھی، مگر یہاں کے میڈیا نے، جس پر صہیونیت کی گہری چھاپ ہے، اس طرح ہنگامہ برپا کر دیا گویا صلاح الدین ایوبی نے برطانیہ پر حملہ کر دیا ہو۔ مغربی میڈیا کو، جس نے نائن الیون کے بعد ’’اسلامی خطرے‘‘ کا جو ہوا کھڑا کیا ہے، اسلام کے خلاف شور وشغف کا بہانہ مل گیا، چنانچہ میڈیا کی شرارت کے سبب ڈاکٹر روون ولیمز کو غصے سے بھرے، دھمکی آمیز اور ناشائستہ الفاظ میں بہت سے فون، خطوط اور ای میل ملے۔ آرچ بشپ کی طرف سے شریعت کے بعض قوانین کی حمایت میں ہم دردانہ حمایت کے غیر متوقع بیان پر میڈیا تو ان کی مخالفت میں پیش پیش تھا ہی، خود چرچ کے بعض ممبران اور سابق آرچ بشپ آف کنٹربری لارڈ کیری نے بھی برطانیہ میں شریعت اسلامی کے بعض قوانین کے نفاذ پر غور وفکر کی دعوت کو خطرناک قرار دے کر ڈاکٹر روون پر تنقید کی، حتیٰ کہ برطانوی پارلیمنٹ میں بشپ ولیمز کے استعفے کی گونج بھی سنائی دی۔ کینٹ پولیس کے سینئر ذرائع نے صورت حال کو دیکھتے ہوئے آرچ بشپ کو چوبیس گھنٹے پولیس تحفظ کی پیش کش کی اور ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا، لیکن آرچ بشپ ڈاکٹر ولیمز نے پولیس کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے پریس کو بتایا کہ وہ نہ اپنے بیان پر معذرت کریں گے اور نہ ہی استعفا دیں گے اور وہ اپنا موقف پریس کے بجائے اپنی سنڈ میں پیش کریں گے۔

اس بات پر برطانوی میڈیا نے اسلام کے خلاف جذبات میں آگ لگا دی جس میں سیاست دانوں سمیت اکثر طبقات بہہ گئے اور ہر طرف سے روون ولیمز پر تیروں کی بارش ہونے لگی۔ ایسے میں ان کو اصل حمایت ان کی سنڈ اور ان کے اپنے طبقہ سے ملی۔ ان کے حق میں ایک مضبوط آواز چرچ آف اسکاٹ لینڈ کی سربراہ ریورنڈ شیلا کیسٹک کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ بعض افراد نے جان بوجھ کر آرچ بشپ کے الفاظ کو غلط معنی پہنائے اور انھیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا ہے جو انتہائی افسوس ناک ہے۔ میں ڈاکٹر ولیمز کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ ہم خوش قسمت ہیں جن کے پاس ایک ایسا رہنما موجود ہے جو بعض اہم اور نازک مسائل میں گہری سوچ بچار سے بحث کا آغاز کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ 

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چرچ آف انگلینڈ کی پارلیمنٹ نے آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کے ریمارکس کے خلاف میڈیا کے عام رد عمل پر مایوسی کا اظہار کیا اور آرچ بشپ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ سنڈ (پارلیمنٹ) کا اجلاس شروع ہونے سے قبل بشپ آف لچفیلڈ جوناتھن گلیڈیل نے کہا کہ ڈاکٹر ولیمز کے ریمارکس کو غلط سمجھا گیا ہے۔ آرچ بشپ کوئی فیصلہ نہیں دے رہے تھے، محض غور وخوض کے لیے ایک مسئلہ اٹھا رہے تھے۔ سنڈ میں جب ڈاکٹر ولیمز نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ان کی بات کو غلط انداز میں لیا گیا ہے، ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ برطانیہ میں مسلم کمیونٹی بعض اسلامی قوانین پر پہلے ہی عمل پیرا ہے، اس سے ایک وقت آئے گا جب اس عمل کو قانون کا حصہ بنانا ہوگا۔ اس پر انھیں سنڈ کے ارکان کی طرف سے بھرپور حمایت ملی اور برطانوی میڈیا کی غوغا آرائی اور طوفان سمندر کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ 

ڈاکٹر روون ولیمز نے برطانیہ میں کسی متوازی عدالتی نظام کی تجویز پیش نہیں کی، بلکہ صرف یہ کہا ہے کہ شادی بیاہ، طلاق ووراثت جیسے معاملات میں بعض اسلامی قوانین کی جگہ موجود ہے اور اسلامی شریعت کے چند قوانین اختیار کر لینے سے برطانیہ میں بسنے والی مسلمان کمیونٹی کو سماجی طور پر قریب کرنے میں مدد ملے گی۔ آرچ بشپ نے بڑے پتے کی بات کہی ہے اور یہ خوشی کی بات ہے کہ مسیحی مذہب کے اعلیٰ ترین رہنما نے زمینی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی قوانین کے متعلق ایک مثبت بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بحث کا مقصد ایک سیکولر نظام میں رہنے والی اقلیتی کمیونٹیز کے لوگوں کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق زیادہ سے زیادہ سہولتیں پہنچانا اور ملکی قوانین اور مذاہب کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اس کا اطلاق صرف اسلام یا مسلمانوں تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ بتدریج دوسرے مذاہب کے لوگوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچے گا۔

یہ بات قابل غور ہے کہ مسلم راہنماؤں اور تنظیموں کا رد عمل اکثر منفی تھا۔ بیرون سعیدہ وارثی نے کہا کہ شرعی قوانین سے اتحاد کے بجائے تقسیم میں اضافہ ہوگا۔ دوسرے کئی مسلم راہنما شریعت سے براء ت کا اعلان کرتے نظر آئے۔ بعض ماڈرن خواتین نے برملا کہا کہ ہمیں شریعت نہیں چاہیے، اور برطانوی قانون نہایت عمدہ ہے۔ دینی تنظیموں اور علماے کرام نے عام طور پر اس بحث میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ شاید ان کے نزدیک حالات وحقائق سے آنکھیں بند رکھنا ہی سب سے مسائل کا حل ہے۔

برطانیہ ومغرب کے زمینی حقائق

برطانیہ میں اس وقت کم وبیش دو ملین یعنی بیس لاکھ مسلمان بستے ہیں۔ فرانس میں تقریباً ۵۰ لاکھ، جرمنی میں ۳۰ لاکھ، اسی طرح بیلجیم اور ہالینڈ سمیت تمام یورپی ممالک میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ سوئٹزر لینڈ میں سرکاری طور پر اسلام کو دوسرا بڑا مذہب تسلیم کیا گیا ہے۔ عملاً اسلام یورپ وامریکہ کا دوسرا بڑا مذہب بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں جن چھ سات ملکوں نے یورپی یونین میں شمولیت اختیار کی، ان میں بڑی تعداد میں مقامی مسلمان بستے ہیں۔ مثلاً بلغاریہ میں تقریبا تیس فی صد ترکی نسل کے مسلمان آباد ہیں۔ آئندہ جلد ہی جو ممالک یورپ کا حصہ بننے والے ہیں، ان میں کوسووو، بوسنیا، اور البانیہ جیسے مسلم علاقے اور ممالک بھی ہیں۔ عالم اسلام کا عظیم ملک ترکی بھی داخلے کے لیے یورپ کے دروازے پر کھڑا ہے۔ ایک جوہری فرق یہ ہے کہ پرانے یورپ (برطانیہ، فرانس، جرمنی وغیرہ) میں اکثر مسلمان تارکین وطن کے قبیل سے تھے یعنی باہر سے آکر آباد ہوئے تھے جبکہ جو ممالک حالیہ ای ای سی (آل یورپ) کا حصہ بنے ہیں یا عنقریب بننے والے ہیں، ان میں بسنے والے مسلمان اسی زمین کے فرزند اور اسی یورپی نسل سے ہیں۔ امریکہ ویورپ میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خطرے کو بھانپ کر ہی صہیونی صلیبی گٹھ جوڑ نے نہایت مہارت وچابک دستی سے نائن الیون کا واقعہ انجام دے کر اسے مسلمانوں کے ذمے لگا دیا تاکہ ایک طرف مغرب کو عالم اسلام پرفوجی یلغار کر کے تباہ کرنے کا بہانہ فراہم ہو اور دوسری طرف یہاں اسلام کے خلاف نفرت کی آندھی چلا کر بڑھتی ہوئی مسلم آبادی پر بریک لگائی جا سکے۔

یہاں یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ شروع ہی سے مغرب میں اسلام کا مطالعہ کرنے والے تقریباً تمام ہی طبقات (مورخین، ادیب، شعرا) کا تعلق ارکان کلیسا اور چرچ سے رہا ہے۔ ان کے نزدیک یورپ پر بیرونی مسلمانوں کے عسکری وسیاسی دباؤ کا واحد تحفظ اسلام کے خلاف نفرت انگیز جھوٹا پراپیگنڈا تھا۔ جب صلیبی جنگوں میں پورا یورپ تین صدیوں تک اپنی پوری طاقت جھونک کر بھی اسلام کو ختم نہیں کر سکا تو ریمنڈ لل اور راجر بیکن جیسے اسکالرز نے پوپ کے سامنے اسلام کی بیخ کنی کے لیے اسلام کے مطالعہ کی تجاویز رکھیں۔ طویل بحث ومباحثہ کے بعد اسے منظوری مل گئی، چنانچہ شروع ہی سے مغرب کے مطالعہ اسلام کا بنیادی مقصد اسلام کی خامیاں تلاش کرنا اور اسلام پر نظریاتی حملوں کے لیے مواد جمع کرنا تھا۔ جب تک مغرب کو مسلمانوں سے عسکری خطرہ رہا، اس وقت تک مستشرقین کی تحریریں شدید تر عناد ونفرت میں ڈوبی رہیں۔ جیسے جیسے خطرہ کم ہوتا گیا، کھلے عناد ونفرت کی شدت میں بظاہر کمی آتی گئی۔ بیسویں صدی میں جب مغرب کو عالم اسلام پر ہمہ جہتی غلبہ حاصل ہو گیا اور مسلمان عسکری، سیاسی، علمی، فکری طور پر مغلوب ہو گئے، تب اسلام کو سمجھنے کی کوشش شروع ہوئی۔ غرض مغرب میں اسلام کا مطالعہ کرنے والے گروہ (مستشرقین) کی حیثیت ہمیشہ یہاں کی حکومتوں کے آلہ کار اور ہراول دستے کی رہی اور ان کی تحریروں کی نوعیت اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کی تھی، اس لیے سترہویں صدی کی تحریروں کی زبان انتہائی تلخ، پر عناد اور اسلوب جارحانہ تھا۔ اٹھارویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے کمزور ہو جانے کے باعث زبان نے کچھ متانت اور سنجیدگی لے لی۔ کچھ کچھ اسلامی، معاشرتی، تاریخی، علمی اثرات دبی زبان سے تسلیم کیے جانے لگے۔ پہلے مغربی مورخین ومصنفین اسلام کا مطالعہ ترکی سے شروع کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی میں سائمن اوکلے نے وصال نبوی سے شروع کیا۔ پھر انیسویں صدی عالم اسلام کے ابتلا اور شکست کی صدی تھی۔ اب مغرب نے عالم اسلام کو سیاسی، اقتصادی اور علمی وفکری طو رپر شکنجے میں جکڑ لیا تھا۔ اب اسلام کے کچھ مزید محاسن تسلیم کیے جانے لگے۔ مگر انیسویں وبیسویں صدی کے مغربی اہل قلم کی تحریریں احساس برتری سے لبریز ہیں کہ اصل تہذیب، مذہب وقانون مغرب کا ہے، اسلام کا جتنا اس کے موافق ہے، اچھا ہے اور غیر موافق خراب۔ اب تکبر کے احساس نے طعن وتشنیع، دل آزاری اور انتقامی انداز نمایاں ہوا۔

غرض مغربی اسکالرز اور دانش وروں کی تحریریں ہمیشہ سے سرد جنگ کا حصہ تھیں۔ ان کا پراپیگنڈا اس قدر شدید اور طاقت ور ہے کہ ہمارا جدید تعلیم یافتہ طبقہ، جس نے اسلام کو اپنے اصل مآخذ کے بجائے مغربی تحریروں سے پڑھا ہے، اس کی سوچ وفکر مکمل طور پر مغربی اہل قلم ومستشرقین سے ہم آہنگ ہے۔ مغرب میں روزگار کی خاطر آنے والے مسلمانوں کی بھاری اکثریت اسلام کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہے۔ نظریاتی بے یقینی معاشرے کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے۔ نیز طاقت ور حریف انھیں بآسانی اپنے ہی معاشرے کے خلاف آلہ کار بنا لیتا ہے، جیسا کہ برطانیہ میں ہزاروں مسلمان M15 (برطانوی انٹیلی جنس) کے لیے کام کر رہے ہیں جن میں بے شمار مولوی بھی ہیں۔ یہ علمی سرد جنگ جو تقریباً پانچ صدیوں سے جاری ہے، اس کا ازالہ تو کجا، ابھی تک اس کے بیشتر گوشے پردۂ راز میں مستور ہیں۔ تاہم تاریخ میں پہلی بار اب موقع آیا ہے کہ آج گلوبل ولج کے عنوان سے مغرب اور اس کے واسطے سے پوری دنیا میں عالمی ضابطہ اخلاق اور معاشرتی اقدار کی جو تدوین وترتیب ہو رہی ہے، اس میں اسلام، قرآن اور شریعت کے انسانی معاشرہ کے لیے مفید، بہبود کے ضامن اور مثبت پہلووں سے مغرب کو روشناس کرایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انسانی معاشرتی واجتماعی مسائل کے حل کے لیے سیرت نبوی کے بہت سے گوشے ممد ومعاون ہو سکتے ہیں۔ 

آج کی دنیا ایک بستی یا گاؤں (گلوبل ولج) اور مختلف ممالک اس کے محلے بن چکے ہیں۔ ہر ملک ملٹی نیشن، ملٹی کلچر اور ملٹی ریلیجن ملک ہے۔ دنیا کے ہر بڑ ے شہر میں ایک پڑوسی کرسچین، دوسرا یہودی، تیسرا سوشلسٹ یا بدھسٹ ہونا عام بات ہو گئی ہے۔ نیز سیکولرازم، ڈیما کریسی، انسانی حقوق کو عصری دنیا بطور ایک عقیدہ ومذہب کے تسلیم کر چکی ہے اور سیکولر ازم کے معنی کسی خاص مذہب یا تمدن کی ترجیح کے بجائے ہر مذہب وکلچر کو مساوی حقوق دینا اور سب کے لیے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ ہر مذہب وکلچر کا فرد باہمی رواداری، قربت، محبت سے رہ کر ملک وقوم کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ آج دنیا کا سب سے اہم مسئلہ یہی باہمی قربت، افہام وتفہیم، اور رواداری کا ماحول ہے۔ جب تک دنیا کی دو بڑی قوموں یعنی مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان یہ رواداری اور افہام وتفہیم کی روایت قائم نہیں ہوگی، دنیا میں اس کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ ان دو بڑی قوموں کے درمیان ٹکراؤ اور کشیدگی سے صرف اور صرف صہیونی نسل پرستوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے کہ اس طرح انھیں دونوں قوموں پر اپنے خونی پنجے گاڑنے کا مزید موقع ملے گا۔ یہ بات مغرب جتنی جلدی سمجھ لے، اس کے اور انسانیت کے حق میں بہتر ہوگا۔

اس وقت دنیا کا سب سے مقبول سیاسی فلسفہ سیکولرزم اور نظام جمہوریت ہے جس پر مغرب کا نہ صرف ایمان واثق ہے بلکہ وہ اس کی خاطر قوموں کی نسل کشی پر بھی آمادہ ہے۔ افغانستان وعراق میں اپنی خونریزی کو جواز دینے کے لیے امریکہ ونیٹو کا یہی دعویٰ ہے کہ ہم ڈیماکریسی اور سیکولرزم کی برکات بانٹنے آئے ہیں۔ سیکولرزم اور جمہوریت، دونوں کی روح یہ ہے کہ حکومت اور قوانین معاشرہ کی مرضی ومنشا کے مطابق ہوں نہ کہ باہر سے مسلط کیے جائیں، حتیٰ کہ دنیا کی کسی پارلیمنٹ کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ عوام کی مرضی کے خلاف کسی سپر پاور کے دباؤ میں آ کر قوانین معاشرہ پر مسلط کرے۔ غرض یہ عصر حاضر کی بنیادی ضرورت ہے کہ رواداری اور افہام وتفہیم کا ماحول قائم کرنے کے لیے اقوام عالم چند مشترکہ نکات پر اتحاد کریں۔ چودہ سو سال پہلے قرآن نے تینوں آسمانی مذاہب کے لیے مفاہمت واتحاد کا تین نکاتی فارمولا دیا تھا: 

۱۔ خالق کے سوا کسی کی حقیقی عبادت وتابع داری نہ کی جائے۔

۲۔ اس عبادت واطاعت میں کسی بھی طاقت وقوت کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔

۳۔ اقوام عالم ایک دوسرے پر رب وخالق بن کر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔

پہلے دو نکات یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں مسلم ہیں۔ یہ تینوں آسمانی مذاہب توحید کے قائل اور شرک سے بے زار ہیں، البتہ مغرب تیسرے نکتے کے خلاف ڈیڑھ ہزار سال سے پاپا کریسی میں مبتلا رہا ہے۔ مسیحیت کے مذہبی طبقے سے بنیادی غلطی یہی ہوئی کہ انھوں نے خالق کا اطاعت وقانون سازی کا حق پوپ کو دے کر اسے عملاً رب وخالق کا درجہ دے دیا۔ ہزار سال تک پوپ مطلق العنان بن کر مذہبی، معاشرتی، سیاسی حتیٰ کہ شہنشاہوں کے عزل ونصب کے فیصلے کرتا رہا۔ یہ فیصلے محض اس کی ذاتی مرضی وصواب دید پر منحصر ہوتے تھے اور دنیا کی کسی عدالت میں انھیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سے فائدہ اٹھا کر پوپ نے اپنے اقتدار کی خاطر یورپ کے عوام اور معاشرہ پر اپنی غلامی مسلط کر دی، سوچ او ر فکر پر پہرے بٹھا دیے۔ ہزار سال پوپ کے مطلق العنان اقتدار کے تاریک دور کے بعد علم اور سائنس کا دور شروع ہوا تو چرچ نے استبداد کی طاقت سے بے شمار اہل فکر ومحققین کو قتل کر کے اور زندہ جلا کر علم اور سائنس کی راہ روکنی چاہی۔ یورپ نے مسیحیت کی اس غلطی (پاپا کریسی) کا صدیوں تک خمیازہ بھگتا۔ علم اور مذہب کی اس جنگ میں اعلیٰ اخلاقی قدریں زوال پذیر ہوئیں اور مغرب میں اخلاقی انارکی کا دور شروع ہوا۔ گزشتہ دو صدیوں میں سازش، سرمایہ اور میڈیا کی بدولت ایک مٹھی بھر شاطر ٹولے نے یورپ کے معاشرہ کو بے بس کر کے یرغمال بنا لیا ہے۔ اب مغرب کے عوام کو اس گھناؤنی سازش کا احساس ہونے لگا ہے چنانچہ یہ شیطانی ٹولہ (جی ایٹ وسرمایہ دار ملٹی نیشنل کمپنیاں) جہاں کہیں جمع ہوتا ہے، نفرت کی صورت میں عوام کا رد عمل سامنے آتا ہے۔ اب تک انسانیت کے سارے وسائل پر قابض ہونے کی وجہ سے یہ ٹولہ کامیاب ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا حشر بھی پاپاکریسی کی طرح ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بقول ایک مفکر کے تاریخ کا پہیہ اگرچہ آہستہ چلتا ہے مگر پیستا باریک ہے۔ لگتا ہے مغرب کا معاشرہ ایک بار پھر بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا ہو کر بکھراؤ کی طرف چل پڑا ہے۔ اگر مغرب کے مفکرین واہل دانش نے گلوبل ویلج معاشرہ کے لیے اقدار اور ضابطے تلاش نہ کیے تو تباہی سامنے کی بات ہے۔ یہ مسلم علماواہل دانش کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ عالمی انسانی بہبود کی ضمانت دینے والی اقدار اور ضابطوں کے تعین میں شریعت، فقہ اسلامی کا رول کیا ہو؟ اگر ہمارے علما واہل دانش اپنی سوچ وفکر اور علمی کاوشوں کا رخ اس خلا کو پر کرنے کی طرف موڑ سکیں تو اسلام ہی کی نہیں، پوری انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہوگی۔

اسلامی قانون وشریعت کا امتیازیہ ہے کہ یہ بنیادی طور پر غیر سرکاری قانون ہے جس کے بنانے، مرتب کرنے اور توسیع دینے میں کبھی بھی کسی حکومت، ریاست، طاقت ور طبقہ کی مداخلت نہیں رہی۔ یہ عوامی عمل کے ذریعے مرتب ہوا۔ امام ابوحنیفہ قانون تاریخ کے عظیم ترین دماغوں میں ایک تھے جن کی تعبیر قانون کو مسلمانوں کا دو تہائی کے قریب حصہ تسلیم کرتا ہے۔ وہ کسی حکومتی قانون ساز ادارے کے رکن نہیں تھے۔ امام احمد بن حنبل جن کے فقہی اقوال کو آج سعودی عرب میں قانون کی حیثیت حاصل ہے، ان کو کسی بادشاہ نے قانون سازی کے لیے مقرر نہیں کیا تھا۔ اسلام کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ اگر کبھی کسی حکمران یا فوجی ڈکٹیٹر نے طاقت کے زور پر کوئی قانون نافذ کرنا چاہا تو مسلم عوام نے اسے مسترد کر کے علما وفقہا وعابدین کی آرا پر عمل کیا جبکہ دنیا کے تمام قوانین شہنشاہوں اور طاقت ور حکمرانوں کی مرضی کے مطابق مرتب ہوئے حتیٰ کہ نیقہ کی کونسلوں کے گہرے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسیحیت کے بنیادی مذہبی عقائد تک تمام قوانین اور فیصلے رومن شہنشاہ کی مرضی سے بنتے رہے۔ مذکورہ کونسلوں کے اراکین جو صرف مذہبی پادری ہوتے تھے، ان کی آرا سے لے کر دنیا کے تمام قوانین ودساتیر کی تاریخ یہی ہے کہ پہلے ریاست قائم ہوئی، پھر اس نے اپنی طاقت سے قانون بنا کر نافذ کیا، مگر اسلام میں قانون پہلے بنا، پھر اس کے مطابق ریاست قائم ہوئی۔ اسلام میں ریاست کا جواز صرف اس وقت تک ہے جب تک وہ قانون شریعت کی حفاظت ونفاذ کرے، ورنہ وہ اپنا قانون جواز کھو بیٹھتی ہے۔

آج مغرب بلکہ دنیا کا ایک بڑا مسئلہ جرائم کی بہتات وکثرت ہے۔ ہر سال کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ قتل، چوری، ڈکیتی، زنا بالجبر سمیت تمام جرائم دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ انھیں ختم کرنے بلکہ کم کرنے کی ہر کوشش ناکام ہے۔ دنیا کی سب سے ترقی یافتہ ومتمدن کہلانے والی قوم امریکہ میں ہر روز بلکہ ہر گھنٹہ کے جرائم کے ہوش ربا اعداد وشمار اس بات کی دلیل ہیں کہ مغربی قوانین جرائم کی روک تھام میں بالکل ناکام ہو چکے ہیں۔ مغرب کے ہر ملک میں جتنی جیلیں تعمیر ہوتی ہیں، ناکافی ہو جاتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی تہذیب میں سب سے زیادہ حقوق مجرموں اور قاتلوں کے ہیں۔ امریکہ میں ایک شخص سو کے قریب معصوم بچوں کو اغوا کر کے ان سے بدفعلی وبدکاری کر کے انھیں بے دردی سے قتل کر دیتا ہے اور جب پکڑا جاتا ہے تو امریکہ کے بہت سے نامور وکیل انسانی ہمدردی میں اسے پھانسی سے بچانے کے لیے میدان میں آ جاتے ہیں، جبکہ یہ معلوم تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کا قانون وشریعت جرائم کو جڑ سے اکھاڑ کر ناپید کر دیتے ہیں۔ ۱۴ سو سالہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی اسلامی قانون وشریعت سے کسی ملک وقوم نے فائدہ اٹھایا تو سوسائٹی کو جرائم سے پاک کرنے میں انتہائی مدد ملی۔ آج سعودی عرب میں اسلامی قانون وشریعت کے صرف ایک چھوٹے سے حصے (حدود وقصاص) کے نفاذ کی وجہ سے وہاں جرائم کی تعداد دنیا میں سب سے کم ہے۔ کیا یہ بات اقوام عالم اور مغرب سمیت ہر تمدن ومعاشرہ سے غور وفکر کا تقاضا نہیں کرتی؟ 

گلوبل ولج کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ رنگ ونسل، قومیت وطبقہ کی حد بندیوں سے بالاتر ہو کر کھلے دل سے دنیا کے تمام قوانین وشرائع اور دساتیر کا جائزہ لیا جائے۔ مطمح نظر صرف جرائم کا خاتمہ اور انسانی بہبود ہو، نہ کہ کسی خاص تمدن وآئین کا تسلط۔ آرچ بشپ ڈاکٹر ولیمز کے ریمارکس سے برطانیہ میں مسلمانوں کو شریعت کے حوالے سے شریعت کا صحیح موقف پیش کرنے کا سنہری موقع ہاتھ آیا تھا مگر مسلمان اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس کے برخلاف اسلام دشمن طاقتوں نے میڈیا کے ذریعے اسلام کا ہوا کھڑا کر کے اقوام یورپ کو ڈرا دیا حتیٰ کہ وضاحت کے بہانے ڈاکٹر روون ولیمز کو بھی ایک حد تک پسپائی اختیار کرنا پڑی، لیکن اس بحث سے مثبت نتائج بھی نکلیں گے۔ چنانچہ ۲۸ فروری کو برطانیہ کے دو روزناموں فائنانشل ٹائمز اور ٹیلی گراف نے خبر دی ہے کہ حکومت سنجیدگی سے سوچ رہی ہے کہ برطانیہ میں بسنے والے مسلم علما کو اسلامی قانون اور شریعت کی باقاعدہ ٹریننگ دی جائے۔ اس مسئلے میں برطانیہ کی اسلام دشمن اور اسلام کے متعلق سخت گیر پالیسیوں کی حامی قوتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ شرعی قانون کی تعبیر وتشریح مغربی نقطہ نظر کے مطابق ہو یا دوسرے الفاظ میں مغربی اقدار اور نظام کو کسوٹی بنا کر کی جائے، لیکن قدرت نے ہمارے لیے بہت سے مواقع پیدا کر دیے ہیں کہ ہم انسانی سوسائٹی کی فلاح وبہبود سے متعلق اسلام اور شریعت کے فائدہ مند پہلووں کو سامنے لائیں جن میں ایک یہ ہے کہ اسلام نے اس دور میں جب ایک مذہب اور تمدن کے لوگوں کے درمیان دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا زندہ رہنا مشکل تھا، دوسرے مذاہب وشرائع کے اپنے اپنے مذہبی قوانین کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان پر عمل پیرا ہونے کی مکمل ضمانت دی۔ پیغمبر اسلام کے میثاق مدینہ میں یہودیوں اور مدینہ اور اس کے اطراف کے غیر مسلم بت پرست قبائل کو پوری آزادی کے ساتھ ان کے قوانین پر چلنے کی آزادی دی۔ اسی طرح دور خلفاے راشدین میں یروشلم، عراق، وسطی ایشیا کے تمام مفتوحہ ممالک میں تمام مذاہب واقوام کو ان کے قوانین پر چلنے کی آزادی وتحفظ فراہم کیا۔ آج بھی مصر کے قبطی مسیحی ہوں یا عرب دنیا کے یہودی، سب آزادی سے اپنے قوانین وشرائع پر عمل پیرا ہیں۔ اگر یہی حق اکیسویں صدی میں مغرب میں بسنے والی مختلف مذاہب کی کمیونٹیز کو مل جاتا ہے تو اس سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا نہ یہاں کے عدالتی سسٹم وقانون کے لیے کوئی خطرہ یا مسئلہ پیدا ہوگا، بلکہ ملک میں بسنے والی تمام کمیونٹیز میں باہمی ہم آہنگی اور قربت کا ذریعہ بنے گا۔ 

جب آرچ بشپ کے ذریعے برطانوی میڈیا میں یہ بحث چھڑ گئی ہے تو ہماری پوری کوشش ہونی چاہیے کہ بحث کو مثبت رنگ دیں اور شریعت کے انسانیت ومعاشرہ کے لیے نفع بخش پہلووں کو سامنے لائیں۔ خاص طور پر اس غلط فہمی کا ازالہ کریں کہ شریعت صرف چور کا ہاتھ کاٹنے یا زانی کے سنگسار کرنے کا نام ہے۔ حدود وقصاص کا نفاذ اسلام میں معاشرہ کی مکمل اصلاح اور معاشرہ کے مکمل طور پر آخری آسمانی تعلیمات پر استوار ہونے کے بعد ہی ممکن ہے۔

عالم اسلام اور مغرب