اسلامو فوبیا ۔ کیا ہم خود بھی ذمہ دار نہیں؟

ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

چند دن پہلے امریکہ میں آنے والے صدارتی انتخابات کے ایک امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ مطالبہ کر کے امریکیوں سمیت بہتوں کوحیران کر دیا کہ مسلمانوں کو امریکہ میں داخلہ کی اجازت نہ دی جائے۔ ان کے بیان کی شدید مذمت امریکہ میں بھی ہوئی ہے اور برطانیہ میں تو اب تک تیس ہزار لوگوں نے ان کے خلاف ایک دستخطی مہم پر اپنے دستخط ثبت کیے ہیں، تاہم ان کے بیان سے مغرب میں اسلامو فوبیا کا وجود عیاں ہو کر سامنے آگیا ہے۔ اسلامو فوبیا کا لفظی مفہوم ہے: اسلام سے خطرہ محسوس کرنا یا مسلمانوں سے نفرت کا اظہار۔ اس اصطلاح کوپہلے پہل مغرب کے بعض لکھنے والوں نے استعمال کیااور اب مغربی میڈیاکے ذریعے اس کا استعمال بہت عام ہوگیاہے۔اس پر ریسرچ ہورہی ہے، اس کے بڑھتے ہوئے مظاہر پر مغربی مسلمانوں کے ساتھ خود مغرب کی حکومتیں بھی تشویش کا اظہارکررہی ہیں اوراس کا مقابلہ کرنے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

ویسے توجب مسلمان اپنے دور عروج میں تھے، مغرب میں اسلامو فوبیا اس وقت بھی شباب پر تھا۔ متعصب عیسائی پادری اور رہنما پورے یورپ میں گھوم گھوم کر اسلام، پیغمبر اسلام اورمسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے اور انھیں بتاتے تھے کہ مسلمان ’’محمد‘‘ نام کے بت کی پوجاکرتے ہیں۔یہ بدقماش نبی اکرم کا نام بگاڑکر اس کو Mohmed, Mohamet یا Mohamend بولتے تھے اور آپ کو(نعوذباللہ) ظالم وجابربادشاہ، جھوٹانبی، شہوت پرست حاکم باور کراتے تھے۔ صلیبی جنگیں انھی جھوٹے پروپیگنڈوں کی بنیادپر مذہبی جوش وخروش سے لڑی گئیں۔ استشراق کی کلاسیکل تحریروں میں اس گمراہ کن پروپیگنڈے کی تفصیل موجودہے۔ پھراستشراق کا دوسرادورآیااوراُس نے علمی وتحقیقی رنگ اختیارکرلیاتواِس گمراہ کن پروپیگنڈے کی شدت میں کمی آئی۔ پھرجب مسلمان زوال کا شکارہوئے اور مغربی سامراج کوعروج ملا تو مختلف اسباب سے مسلمانوں نے مغرب کا رخ کرناشروع کردیا۔ نئی دنیا امریکہ میں اسپین اور افریقہ سے جبری مزدوری کے لیے ہزاروں مسلمان (مورسکو)لے جائے گئے تھے جن کی نسلیں وہیں کی باشندہ ہوگئیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعدجرمنی کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیاگیا۔ جرمنی کے لوگوں کواپنے ملک کی تعمیرنوکے لیے غیرممالک سے افرادی قوت کی ضرورت پڑی جس کو ترکی کے مزدوروں نے پوراکیا۔ یہ مزدورجرمنی میں ہی رہ پڑے۔ اسی طرح الجزائراپنی آزادی سے پہلے فرانس کے مقبوضات میں تھا، اس لیے الجزائرسے بھی بڑی تعدادمیں مزدورپیرس وفرانس میں جاکرآبادہوگئے۔ پھرشام ومصراورعراق کے بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں سے تنگ آکران ملکوں سے مذہب پسند نیز اشتراکی لوگ اور انقلابی عناصر سیاسی پناہ، امن وسکون، بہترتعلیمی، رہائشی اورروزگار کے مواقع کی تلاش میں عام طور پر مغرب کا رخ کرنے لگے۔ برصغیرسے بھی بہت سے لوگ تعلیم اور ملازمت کے لیے وہاں پہنچے۔ اس کے بعد فلسطین کے المیہ، اسرائیل کے قیام اور اس سے مسلمانوں کے جبری انخلا کے بعدمغرب کی طرف اس مہاجرت میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔

امریکہ، انگلینڈ اور یورپ کے دوسرے ممالک میں پہنچنے والے یہ تارکین وطن جب تک اپنی مزدوری یا ملازمت میں لگے رہے، کوئی مسئلہ وہاں کے لوگوں کوپیش نہیں آیا، مگر چونکہ ان تارکین وطن میں مذہب پسندبھی بڑی تعدادمیں تھے لہٰذاجب انہوں نے مسجدوں اور اسلامک مراکزکے قیام کے ذریعے اپنے مذہبی وتہذیبی تشخص کا اظہارشروع کردیا، تب سے مسئلہ پیداہونے لگا۔ تاہم چونکہ مغرب کا پورامعاشرہ سیکولر، جمہوری اورآزادی پسندہے (جس کی بعض اقدارسے یقیناًاختلاف ہو سکتاہے) لہٰذا اپنے انھی اصولوں کی بنیادپر اہل مغرب مجبورتھے کہ مشرق اورخاص کرعرب دنیا سے آنے والے مسلمانوں کومذہبی وکلچرل آزادیاں دیں اور انہوں نے دیں۔ لیکن تلخ حقیقت یہی ہے کہ تارکین وطن کا مذہبی اورتہذیبی تشخص کا Aggressive اظہار ہی وہ پوائنٹ تھاجب مغرب میں شدت سے اسلاموفوبیاکا ظہور ہونا شروع ہوا۔

حقیقت تویہ ہے کہ انتہا پسندی ہر سماج میں اور ہر مذہبی اکائی میں موجود ہے۔ مسلمانوں میں بھی ہے اور غیر مسلموں میں بھی۔ مغرب میں مسلمانوں کے خلاف اسی انتہاپسندی کی ایک شکل اسلاموفوبیا ہے جس کے مظاہر مختلف صورتوں میں سامنے آرہے ہیں۔ جرمنی میں اس کا ظہور نیو نازی ازم کی تحریک میں ہوا ہے توامریکہ میں ایونجلیکل فرقہ اس کی نمائندگی کرتاہے۔ ڈنمارک اورانگلینڈمیں بعض سیاسی پارٹیاں اورلیڈراس کی آوازاٹھاتے ہیں۔ اونجلیکل چرچ سے وابستہ کئی گروپ اورپادری اسرائیل کے ہم نوا ہیں اور عربوں اور مسلمانوں سے نفرت کا اظہارکرتے ہیں۔ اور بھی گروپ ہیں جو اس کے لیے سرگرم ہیں۔ کئی مسیحی پادری قرآن کو جلانے کی مہم میں پیش پیش ہیں۔ کئی پادری اور خواتین ڈبیٹر اپنی اسلام مخالف تقریروں کے لیے مشہورہیں اوریوٹیوب پر ان کی ہرزہ سرائیاں سنی جاسکتی ہیں۔ 9/11کے المیہ کے بعدامریکہ میں ایک اسلاموفوب گروپ نے Bomb The Caaba (کعبہ کوبم سے اڑادو)کا مکروہ نعرہ بھی لگایا تھا۔ فرانس میں الٹرا سیکولر گروپوں اورحکومت کومسلمان عورت کے حجا ب(اسکارف )سے ڈرلگتاہے۔ ڈنمارک میں ان کو مساجدکے میناروں سے خوف آتاہے۔ سویڈن اورپیرس میں پیغمبراسلام کے استہزائیہ کارٹون بناکراس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانہ پرمفلس اور خانماں بربادشامی مہاجرین کی یورپ کومنتقلی سے بھی مغرب میں بعض لوگوں پر نہ جانے کیوں دہشت طاری ہے! اس لے میں میڈیاکے بڑ ے بڑے گروپ، فرائیڈمین جیسے اسرائیل نوازصحافی، جیری فالویل جیسے پادری،ڈینیل پائپس اور برنارڈلویس جیسے بڑے مستشرق سر میں سر ملائے ہوئے ہیں۔ ٹرینڈاڈ میں مقیم ہندنژادنوبل انعام یافتہ مصنف وی ایس نائپال کی تحریریں مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ کے فوکس نیوز، CNBC ,CNN وغیرہ اپنی رپورٹوں اورتجزیوں میں ان کے بارے میں جانب دار نہیں ہیں۔ ان کے اکثراینکر اور رپورٹرز مسلمانوں اور عربوں سے عناد اور اسرائیل کے لیے نر م گوشہ رکھتے ہیں۔

اسلاموفوبیاکے علمبردارگروپ عام طورپراسلام اورمسلمانوں کے خلاف وہی الزام لگاتے ہیں جوہندوستان میں فسطائی قوتیں لگاتی ہیں۔ یہ کہ مسلمان کئی کئی شادیاں کرتے اورزیادہ بچے پیداکرتے ہیں، اگران کی یورپ کونقل مکانی نہ روکی گئی تویہ کچھ ہی دنوں میںآبادی کا حلیہ اورتناسب بدل دیں گے ،ان کی اکثریت ہوجائے گی تویہ Rule کریں گے اورہماری آزادیوں اورتہذیب کوبربادکردیں گے۔ یہ امن عالم کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ یہ اپنے مذہب کی روسے دوسرے مذاہب کے ساتھ امن اور چین سے نہیں رہ سکتے۔ یہ مغربی تہذیب وتمدن کے لیے اورمغربی اقدارکے لیے خطرہ ہیں۔ عورت کویہ غلام بناکررکھتے ہیں، انسان کواظہارخیال کی آزادی یہ نہیں دیتے، تہذیب کے ارتقا میں اِن کا کوئی کردار نہیں ہے ،وغیرہ۔ بلاشبہ بعض لوگوں کواسلام کے بارے میں غلط فہمیاں بھی ہوں گی مگراکثریہ پروپیگنڈاجان بوجھ کر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلاموفوبیاکا ایک مستقل ہتھیار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس شخصیت کی اہانت ہے جس کے لیے وہ کارٹون بناتے ہیں، سیرت پر کتابیں شائع کرتے ہیں اورچن چن کرایسے واقعات پر فوکس کرتے ہیں جن سے رسو ل اللہ کی شخصیت مجروح ہواوربدقسمتی سے سارامسالہ ان کومسلمانوں کے ہاں رائج اورجعلی روایات پر مبنی سیرت لٹریچرسے مل جاتاہے۔ مغرب میں بہت سی کتابیں ایسی بھی لکھی گئی ہیں اورلکھنے والے اہم مصنف اورناول نگار ہیں جن میں مغرب کے زوال کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ان کا کہناہے کہ اگرعربوں کی پیش قدمی نہ روکی گئی تویورپ، یورپ نہیں رہے گا، یوروسلام بن جائے گا۔

9/11کے حادثہ سے پہلے ہی اسلاموفوبیامغرب میں موجودتھا، چنانچہ مراکش کے ایک ریسرچ اسکالرنے اس مسئلہ کا جائزہ لیا تو پایا کہ صرف دو دہائیوں کے عرصہ میں تقریباً پچیس ہزار کتابیں، کتابچے، فلمیں، کارٹون اور ہینڈبل اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شائع کیے گئے۔ البتہ یہ بات ضرورکہی جاسکتی ہے کہ گیارہ ستمبرکے بعداس میں تیزی آئی اور اب القاعدہ اورداعش جیسے دہشت گردمسلمان گروپوں کی مجنونانہ، غیراسلامی، غیرانسانی وغیرعقلی حرکتوں، دہشت گردی اور معصوموں کے قتل عام کی وارداتوں سے اِس لے میں بہت ہی شدت آگئی ہے۔حدتویہ ہے کہ دولت اسلامیہ کے مقابلہ میں دولت مسیحیہ کے عنوان سے ایک شدت پسند تنظیم کانام بھی سامنے آیاہے۔

اسلاموفوبیاکے ان خارجی مظاہرکے ساتھ کچھ داخلی اسباب بھی ہیں اوران کوبھی لازماًقارئین کے سامنے لایا جانا چاہیے۔ مثال کے طورپر کئی مسلمانوں نے نہ صرف مغرب میں بلکہ انڈیامیں بھی جمہوریت اورسیکولرزم کے خلاف لفظی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ بعض سرپھرے سیکولرجمہوریت کوکفروشرک بتاتے ہیں اوراپنے اس مطلق فتوے میں وہ بدلے حالات وزمانہ کی رعایت یامسلم اکثریت یااقلیت کے حالات کے اختلاف کی بھی کوئی پروانہیں کرتے۔ روایتی مسلم علما، اسلام کے قانون جہادکی معقول عصری تشریح کرنے میں ناکام ہیں جو جدید ذہن کو اپیل کر سکے۔ ان میں سے بہت سے آج بھی تبدیلئ مذہب پر لوگوں کی گردن ناپنے کے لیے تیارہیں، آج بھی لونڈی غلام کے پرانے عرف ( جس کی آج کوئی گنجائش نہیں) کی وکالت کرتے ہیں۔ اور بعض لوگ تومغرب میں بیٹھ کر، اس کی آزادیوں سے فیض یاب ہو کر وہاں اسلامی خلافت کے قیا م کی بے وقت کی راگنی گاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غیرمسلموں سے نفرت اسلام کا تقاضا ہے، شوکت کفر( Power) کو توڑنامسلمانوں کا فرض ہے۔ یہ اسلامی حجاب کی بھی یک رخی تشریح کرتے ہیں۔ جہاد کی غلط تشریح کرنے والے یہ لوگ اگرچہ زیادہ نہیں، لیکن یہی مٹھی بھرلوگ اپنی انتہاپسندانہ سوچ اوراقدامات سے اسلام اور مسلمانوں کی غلط ترجمانی کاسبب بن جاتے ہیں کیونکہ میڈیااِنھی کی باتیں اچک لیتااوران پرمباحثے کرنے بیٹھ جاتا ہے جن میں اسلام کا صحیح فہم رکھنے والوں کو اکثر نہیں بلایا جاتا۔ 

مذہب کے اِنھی ٹھیکہ داروں کی غیرعقلی، غیراسلامی، من مانی، یک رخی، غیرحقیقت پسندانہ تشریحِ دین ہی اسلام ومسلمانوں کی منفی شبیہ بنانے کی سب سے بڑی ذمہ دارہے۔ برطانیہ میں مذکورہ باتوں کی تبلیغ کرنے والے دوعرب شیوخ ابوحمزہ المصری اورعمرالبکری کے چرچے تواخبارات میں بھی آئے۔ جمہوریت کی مخالفت کرنے والے اورعالمی خلافت کے نعرے لگانے والے یہ شعورنہیں رکھتے کہ وہ اپنے زمانہ کی روح سے لڑرہے ہیں اورزمانہ کی روح سے لڑنا صرف اپنے آپ کوشکست دیناہے۔ اس وقت جمہویت پوری دنیاکے اجتماعی شعورکا حصہ بن چکی ہے اوراس کی خواہ مخواہ کی مخالفت اپنے آپ کوصرف نکو بناناہے اورایسی مہم ہے جس کامقدرہی ناکامی ہے۔ اسلام سراسرحقیقت پسندی کا دین ہے اور اسوہ نبوی میں ہمیں قدم قدم پر حقیقت پسندی کی تعلیم ملتی ہے، لیکن آج ہم نے گویاقسم کھارکھی ہے کہ حقیقت پسندی سے کوئی ناتا نہ رکھیں گے ۔

ہمارے بیشتراقدامات ردعمل میں اور جذباتی اور ’’غیر‘‘ سے نفرت پرمبنی ہوتے ہیں۔ شریعت کی تفہیم ہمارے علما عموماً ایسے بے لچک اورRigid انداز میں کرتے ہیں جس سے نئی نسل اورجدیدذہن کو لگتا ہے کہ شریعت بھی چرچ ہی کی ایک شکل ہے، خاص کرجب ان کے سامنے عملی نمونہ وہ ہوجوطالبان کا ہے یادولت اسلامیہ کا۔خالص اسلام کی دعوت چھوڑ کر مسلک ومشرب کی دعوت دی جارہی ہے جوبڑی مصیبت بن رہی ہے۔ کوئی سیاسی اسلام کی طرف بلارہاہے، کوئی صوفی اسلام کی طرف اورکوئی کسی اوراسلام کی طرف۔ ان مختلف طرح کے اسلاموں کے وکیلوں کی تحریریں کل حزب بما لدیہم فرحون (ہرگروہ اپنے ہی خیالات پر نازاں ہے) کی تصویرہوتی ہیں۔

سچ ہمیشہ کڑواہوتاہے، مگرمجھے کہنے دیجیے کہ اکثرمسلمان علماودانشوروں کی تحریروں میں مغرب والوں کے لیے جو نفرت وکراہیت پائی جاتی ہے، وہ مسلمانوں میں انتہاپسندی اورجذباتی ردعمل کوہوادیتی ہے۔ہمارے ہاں بہت سے لکھنے بولنے والے شروعات ہی مغرب کولعن طعن اورصلواتیں سنانے سے کرتے ہیں، حالانکہ مغربی تہذیب کے منفی پہلوؤں کے ساتھ بہت سے پہلویقیناًمثبت اور اچھے بھی ہیں جن کوappreciate کرنا چاہیے۔ دوسری قوموں اور انسانوں سے ہمارا مذہبی طبقہ کتنی نفرت کرتا ہے، اس کے لیے ان کی تحریروں اورتقریروں پر ایک سرسری سی نظرڈال لینا کافی ہوگا۔ ایک ندوی عالم وادیب نے اپنی ضخیم عربی کتاب میرے پاس تبصرہ کے لیے بھیجی۔ آٹھ سو صفحہ سے زیادہ کی اس کتاب میں جگہ جگہ یہودیوں کو اولاد وحفدۃ الخنازیر (سورکے بچے ) لکھا گیا ہے۔ راقم نے اپنے تبصرہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ پوری قوم یہودکے لیے ایسے الفاظ استعمال کرناشائستگی اورتہذیب کے خلاف توہے ہی، اسلامی روایات کے اور حقیقت واقعہ کے بھی خلاف ہے۔ کیونکہ اسرائیل کتنا ہی ظالم سہی، بہت سے یہودی دانشور بلکہ مذہبی راہ نما بھی اس کے شدیدناقداورفلسطینی کازکے حامی ہیں۔ اور علما وداعیوں کو تو خاص کرایسی زبان استعمال کرنے سے بچنا چاہیے۔

پڑھے لکھے مسلمانوں کا ایک بڑاحلقہ سازشی تھیوری میں جیتاہے اور ہر واقعہ کی توجیہ اسی تھیوری سے کرتا اور اپنوں کی تمام غلطیوں ونادانیوں سے صرف نظرکر لیتا ہے۔ چنانچہ پیرس میں دہشت گردی کے واقعہ کوبھی اردوکے کئی بڑے کالم نگار یک گونہ جوازدیتے نظر آئے۔ ہمارے بہت سے علمابھی بالعموم مسلم عناصرکے ذریعہ انجام دی جانے والی دہشت گردی کو اپنے ’’اگرمگر‘‘ سے جوازدیتے رہے ہیں اور اگر کبھی اس کی مذمت بھی کرتے ہیں تومسلکی رنگ میں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارایہ رویہ کیاغیروں کوہم سے اور زیادہ برانگیختہ نہیں کرے گا؟

ایک اورپہلوبھی غورکرنے کا ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کی طرف سے جان بوجھ کراوربڑی پلاننگ سے عالمی سطح پر بھی اور وطن عزیزمیں بھی مسلمانوں کوچھوٹے چھوٹے مسئلوں اور نان ایشوز میں الجھایا اور پھنسا دیا جا تا ہے۔ ان کی ساری قوتیں بے سرے احتجاجوں، ناکام مظاہروں اوربے نتیجہ دھرنوں اورمشتعل جلوسوں اورتشددکی نذرہوجاتی ہیں۔ اہانت رسول کے بدبختانہ واقعات، ملعون زمانہ کارٹون اوراسی قسم کے شوشے اسلاموفوبیاکا ضروری حصہ ہیں۔ ہوناتویہ چاہیے تھاکہ ہماری دینی وملی قیادت زیادہ بیدارمغزی کا ثبوت دیتی اورقوم کوبے فائدہ مظاہروں میں لگانے کی بجائے وہ ناموس رسالت کی حفاظت کے کچھ مثبت اورمتحرک متبادل ڈھونڈتی اورقوم کی تربیت ان خطوط پر کی جاتی کہ اِس طرح کے شوشوں کونظرانداز کرنابھی اسو ۂ نبوی کا ہی ناگزیرحصہ ہے ،اورموجودہ زمانہ میں تواِس کی پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو شاید حالات آج اتنے خراب نہ ہوتے جن کا عالمی وملکی سطح پر آج ہم کو سامنا ہے!

عالم اسلام اور مغرب

مارچ ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۳