مغرب اور اسلام کیرن آرمسٹرانگ کی نظر میں

ڈاکٹر محمد شہباز منج

نامور برطانوی اسکالر کیرن آرمسڑانگ مستشرقین کے جم غفیر میں ان چند استثنائی مثالوں میں سے ایک ہیں جو اسلام سے متعلق حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کی حامل ہیں۔ ۲؍فروری ۲۰۰۸ء کے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے انٹرویو میں انہوں نے اسلام کے بارے میں جن خیالات کااظہارکیا ہے، وہ اسلام کے حوالے سے ان کے اس مبنی برعدل واعتدال موقف کاتسلسل ہیں جس کو وہ گزشتہ کئی برس سے اپنی تصانیف میں پیش کرتی چلی آرہی ہیں۔ اپنے مذکورہ انٹرویو میں موصوفہ نے مغرب میں اسلام سے متعلق غلط تصورات کی موجودگی کا واضح لفظوں میں اعتراف کیاہے۔ اس حقیقت کومس کیرن نے اپنی کتاب Muhammad: a Western Attempt to understand Islam میں پورے تاریخی پس منظر کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہاں انہوں نے تفصیل سے لکھا ہے کہ مغرب میں کس طرح ا بتدا ہی جان بوجھ کر اسلام اور پیغمبر اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی رہی ہے اور کس طرح قرطبہ کے ’’مسیحی شہیدوں‘‘ (وہ عیسائی جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی پاداش میں قرطبہ کی اسلامی عدالت کی طرف سے سزاے موت دی گئی تھی) اور قرون وسطیٰ کے داستان سراؤ ں سے لے کر عصرحاضر تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بے بنیاد الزامات واتہامات کی بوچھاڑ کی جاتی رہی ہے۔ موصوفہ کے مطابق قرو ن وسطیٰ کے وہ توہمات جن کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذباللہ) عیاش، کذاب اور تشدد پسند قرار دیا جاتا تھا، ان کے آثار آج بھی مغرب میں آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ آج بھی لوگ ان خیالات پر یقین رکھتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مذہب کودنیاوی کامیابیوں کے لیے استعمال کیا۔ آج بھی یہ خیال عام ہے کہ اسلام تلوار کادین ہے۔ مغرب میں آج بھی بعض لوگ یہ سن کر حیرا ن ہوتے ہیں کہ مسلمان اسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی عبادت یہودی اور عیسائی کرتے ہیں۔ مغرب میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمثیلی حیثیت نے لوگوں کے لیے اس بات کومشکل بنادیاہے کہ وہ آپ کوایک ایسے تاریخی کردارکی شکل میں دیکھیں جو اسی طرح کے سنجیدہ سلوک کامستحق ہے جس کے مستحق نپولین اور اسکندر اعظم تھے۔ کیرن آرمسٹرانگ نے یہ حقائق برسوں قبل منظر عام پرآنے والی اپنی مذکورہ کتاب میں پیش کیے تھے، لیکن اب انہوں نے نائن الیون کے بعد کی بدلی ہوئی صورت حال میں نام نہاد War on Terror کے تناظر میں پھریہی بات دہرائی ہے کہ مغرب میں اسلام سے متعلق غلط تصورات رائج ہیں۔ 

کیرن نے سوفیصد درست کہا ہے۔ مسیحی مغر ب میں اسلام کا غلط تصور اور اسلام دشمن رویہ شروع سے آج تک ایک تسلسل کے ساتھ موجود چلا آ رہا ہے۔ آج کا مغرب اسلام دشمن رویے کو عہد رفتہ کاگڑا مردہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کرنے میں کسی طور حق بجانب نہیں کہلا سکتا۔ کیا ۲۰۰۵ء میں ڈنمارک اور بعدازاں دیگرمغربی ممالک کے اخبارات میں سرور انبیا کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور پھر خاکے شائع کرنے والے ملعون صحافیوں کا اعلیٰ انعامات کے لیے منتخب کیا جانا اور ابھی کچھ ہی ماہ پیشتر یہودی ومسیحی مصنفین کی طرف سے شان رسالت ماب میں کی گئی ہزرہ سرائیوں کو لفظ بلفظ دہرانے والے ملعون سلمان رشدی کو’’سر‘‘ کا خطاب ملنا اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت نہیں کر رہا کہ مغرب میں آج بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کی مسخ شدہ تصویر ہی کو پذیرائی ملتی ہے اور مغرب آج بھی ہراس چیز کی طرف جھپٹتاہے جس میں اسلام اور پیغمبر اسلام سے متعلق نفرت اور عداوت کا کوئی پہلو نکلتاہو؟

یہ بات تو درست مانی جا سکتی ہے کہ عام اہل مغرب کے اسلام کے بارے میں غلط تصورات، ناقص اورناکافی معلومات اور اصل اسلامی ماخذ سے عدم استفادہ کانتیجہ ہیں، لیکن یہ بات قطعاً خلاف واقعہ ہے کہ عام اہل مغرب کواسلامی معلومات فراہم کرنے والے مستشرقین بھی اکثر وبیشتر اصلی اسلامی مصادر سے بے بہرہ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین کو بالعموم اسلام کے اصلی مصادر تک رسائی حاصل تھی لیکن بمصداق فرمان خداوندی ’’الذین آتینھم الکتاب یعرفونہ کمایعرفون ابناء ھم وان فریقا منھم لیکتمون الحق وھم یعلمون‘‘ّ (البقرہ ،۱۴۶۔ جن لوگوں ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبرآخرالزمانؑ ) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کوپہچانا کرتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک گروہ حق کوجان بوجھ کر چھپاتاہے) انہوں نے اپنے خصوصی اسلام مخالف اہداف کے پیش نظر اسلامی تصورات کو دانستہ مسخ کرکے پیش کیا۔ مثلاً میڈرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پلاسیوس (Placious) کی تحقیق کے مطابق اٹلی کے مشہور شاعر دانتے (۱۲۶۵ تا ۱۳۲۱ء) نے، جو صرف اٹلی کی نشاۃ ثانیہ کا جد امجد ہی نہیں، یورپ کی نشاۃ ثانیہ کاپیامبر بھی ہے، اپنی شہرۂ آفاق نظم The Divine Comedy میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث معراج، ابن عربی کی ’’فتوحات مکیہ‘‘ اور المصری کے ’’رسالہ الغفران‘‘ سے استفادہ کیاتھا، لیکن ایسے اہم اسلامی مصادر تک رسائی رکھنے والے اس مستشرق شاعر نے اپنے ’’خیالات عالیہ‘‘ میں حضور کو (نعوذباللہ) عیسائیت میں تشتت وافتراق کامجرم قرار دیا، جہنم کے آٹھویں درجے میں مثلہ کردہ زیر عتاب بتایا اور حضرت علیؓ اور حضور کے دیگر اصحاب قدسی صفات کو روتے چلاتے مبتلائے عذاب ظاہر کیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ دانتے کی بات پرانی ہے اور اس وقت اہل مغرب کواسلامی مصادر تک کماحقہ رسائی حاصل نہ تھی نیز مغربی اہل قلم صلیبی جنگوں کے تعصبات میں مبتلاتھے، بنابریں وہ اسلام سے متعلق معروضی رویہ اپنانے پر آمادہ نہ ہوسکے اور یہی وجہ ہے کہ جب معروضی تحقیق کاچلن عام ہو ا توخود مغربی اہل قلم نے اپنے پیشرووں کے غیر معروضی اور متعصبانہ رویے کو نشانہ تنقید بنایا، لیکن کیا کیجیے کہ جدید مغربی معروضیت بھی اکثر وبیشتر (استنثا ہر جگہ موجود ہوتا ہے) قدیم غیر معروضیت کی اسیر نظر آتی ہے۔ مثال کے طورپر مشہور مستشرق منٹگمری واٹ جواپنی کتاب Muhammad: Prophet and Statesman میں صلیبی تعصبات کے نتیجے میں عیسائیوں کی طرف سے اسلام پرہونے والی زیادتی پر نوحہ کناں ہیں، ان کی اپنی معروضیت اور غیر جانبداری کا اندازہ واٹ کی مذ کورہ کتاب ہی میں موجود ان کے ا س ’’تجزیے‘‘ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’اسلامی جہاد قدیم عر بوں کے ہاں مروج ڈاکہ زنی اور لوٹ کھسوٹ کے عمل کا تبدیل شدہ نام ہے۔‘‘ گویا یورپ آج بھی قدیم تعصبات میں مبتلاہے۔ نائن الیون کے موقع پر جناب بش کی زبان سے ’’فی البدیہہ‘‘ crusade کے لفظ کانکلنا عیسائی ذہن میں ہنوز صلیبی تعصبات کی موجودگی کاواضح عکاس ہے۔

اس کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم اسلام اور عیسائیت کے پیروکاروں کے مابین ڈائیلاگ کی ضرورت سے انکاری ہیں۔ ایک مسلمان تو ڈائیلاگ سے پہلو تہی کرہی نہیں سکتا،کیونکہ اسلام ہی نے توسب سے پہلے ڈائیلاگ پر زور دیتے ہوئے کہاتھا کہ یااھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ (آل عمران، ۶۴) ’’اے اہل کتاب! آؤ اس بات کی طرف جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کوشریک نہ بنائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔‘‘ ڈائیلاگ کی یہی وہ بنیاد ہے جس کی طرف مس کیرن نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں اشارہ کیاہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عیسائی، مسلمان اور یہودی، سب کاخدا ایک ہے اور وہ ایک دوسرے کی الہامی کتابوں کو تسلیم کرتے ہیں توپھر ایک دوسرے کی بات کیوں نہیں سن سکتے؟ انہوں نے کہا کہ مذاہب میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ اسلام اس سلسلے میں رہنما کردار اداکرسکتاہے کیونکہ اسلام تمام دیگرمذاہب کے احترام کا درس دیتا ہے۔ 

کاش عام مستشرقین یورپ، دیگر مسیحی اہل مغرب اور یہودی بھی مس کیرن کی آواز پر کان دھرتے ہوئے اور ان کی طرح وسعت قلبی کامظاہر ہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی الہامی کتاب اور ان کے پیغمبر سے متعلق احترام کا وہی رویہ اختیار کر سکیں جو ان کی الہامی کتابوں اور پیغمبروں سے متعلق مسلمان رکھتے ہیں۔ کیایہودی اور عیسائی اس وسعت قلبی کا مظاہرہ کریں گے کہ قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کواسی طرح اپنے ایمان کاحصہ بنائیں جس طرح مسلمان تورات وانجیل اور موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کے احترام کو اپنے ایمان کاحصہ سمجھتے ہیں؟ توقع اور دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ مغرب سے کیرن جیسی مزید محبت بھری آوازیں اٹھیں اور مغرب اور امریکہ کے ارباب بست وکشاد کویہ باور کرانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ کا فلسفہ درست نہیں ہے اور انتہا پسندی اور دہشت گردی صرف اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے کہ محروموں کی محرومیاں ختم کی جائیں اور کمزوروں پر ظلم بند کر دیا جائے۔ مس کیرن آرمسٹران! خوف و وحشت اور قتل وخونریزی کی آگ میں بھسم انسانیت آج آپ جیسے محبت کے سفیروں ہی کی راہ تک رہی ہے۔

عالم اسلام اور مغرب

(مارچ ۲۰۰۸ء)

Flag Counter