استشراق کا تازہ رخ اور اہل علم کی ذمہ داری

محمد شاہد عالم

مغرب کے لیے اسلامی معاشروں کو گوارا کرنا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا۔ ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے کو محیط ایک طویل دور وہ تھا جب مغرب اور اسلام، دونوں ایک دوسرے کے وجود کے لیے خطرہ سمجھے جاتے تھے۔ اسلامی خطرے کو روکنے اور اسے پہلے ارض مقدسہ اور جنوب مغربی یورپ اور بعد ازاں جنوب مشرقی یورپ سے پسپا کرنے کے لیے عوامی طاقت وحمایت کو تحریک دینے کی غرض سے یورپی مصنفین اسلام کی تصویر کشی مسیحیت کی ایک بگڑی ہوئی شکل، شیطان کے پجاری مذہب، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دھوکہ اور فریب اور عرب بدووں کی فتوحات کے لیے قائم کیے جانے والے ایک دہشت پسند اور عسکری مذہبی گروہ کی حیثیت سے کرتے رہے۔ ان تاریک اوصاف کی فہرست میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) اور تحریک تنویر (Enlightenment) کے مفکرین نے مزید اضافہ کیا اور اب اس تصور کو بھی فروغ حاصل ہوا کہ اسلامی معاشرے آمریت، تقدیر پر اندھے اعتبار، جنونیت، بے عقلی اور جستجو کے فقدان سے عبارت ہیں اور سائنس کے مخالف اور ترقی کے دشمن ہیں۔ جب یورپ کو انیسویں صدی میں عسکری بالاتری حاصل ہوئی تو مذکورہ استشراقی خیالات کو اسلامی ممالک پر قبضہ کر کے انھیں یورپی نو آبادیاں بنانے کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔

تاہم مغربی مفکرین کی ایک محدود تعداد نے، جس کی ابتدا انیسویں صدی میں ہوئی، اسلام اور اسلامی معاشروں کے حوالے سے استشراق کے معیاری تصورات کو مسترد کرنا اور معاملات کو ویسے دیکھنا شروع کیا جیسا کہ انھیں مسلم مآخذ میں بیان کیا جاتا ہے۔ انھوں نے فلسفہ، سائنسی علوم، آرٹ اور فن تعمیر میں مسلمانوں کے کارناموں سے متعلق معلومات بہم پہنچائیں اور اسلام کی مساوات پسند روح، نسلی تعصبات کی غیر موجودگی، اور دوسرے مذہبی گروہوں کے حوالے سے روادارانہ رویے کو اجاگر کیا۔ اسلام کو اس کا جائز مقام دینے کا طریقہ اختیار کرنے والے ان یورپی مصنفین میں سے بیشتر یہودی تھے جنھیں حال ہی میں اپنی الگ تھلگ آبادیوں (ghettos) سے آزاد ہو کر مغرب کے علمی اداروں میں داخل ہونے کا موقع ملا تھا۔ ماضی میں یہ یہودی ایک دوسری سامی قوم (یعنی عربوں) کی کامیابیوں کو اپنے کھاتے میں ڈالتے رہے۔ اسلامی معاشروں کی رواداری کی طرف توجہ مبذول کرا کر وہ بڑے مہذب طریقے سے اہل یورپ کو اس امر کی یاد دہانی کرا رہے تھے کہ انھیں انسانی اقدار پر مبنی ایک بورژوا تہذیب کی تشکیل کے لیے ابھی بہت سا سفر طے کرنا ہے۔ ذرا سخت الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ یہودی ناقدین مغرب کے حریف مسلم مشرق کو بلند تر مقام دے کر مسیحی مغرب کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

استشراق کے مزاج میں دوسری تبدیلی ۱۹۵۰ء کی دہائی میں رونما ہوئی اور اس کو زیادہ فروغ حاصل ہوا۔ اس کے بعد اسلام اور اسلامی معاشروں کے مطالعہ وتحقیق کے مرکزی دھارے سے تعلق رکھنے والے محققین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے سابقہ مستشرقین کے بعض مسلمات کو لازمی قرار دینے والے ذہنی رویوں سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش شروع کی۔ یہ تبدیلی کم از کم تین عوامل کا نتیجہ تھی جن میں سے سب سے زیادہ طاقت ور عامل جنگ عظیم دوم کے بعد مغربی نوآبادیوں کے عوام کی مغربی طاقتوں کے چنگل سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد تھی۔ سرد جنگ کے تناظر میں مغربی طاقتوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ پچھلی چار صدیوں سے اہل مغرب جن اقوام کو حقیر سمجھتے رہے، اب ان کی ثقافت، مذہب اور تاریخ کے بارے میں نسبتاً محتاط طرز عمل اختیار کیا جائے۔ چنانچہ ان موضوعات کے حوالے سے احترام اور توقیر کا اظہار مستشرقین کی تحریروں میں ایک خوبی کی چیز سمجھا جانے لگا۔

مغربی علمی اداروں میں مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اہل علم کی شمولیت نے بھی مستشرقین کے محتاط رویہ اختیار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان میں فلپ کے ہٹی، البرٹ حورانی، جارج مقدسی، محسن مہدی، سید حسین نصر اور فضل الرحمن شامل ہیں، جنھوں نے اسلامی معاشروں سے متعلق اپنی تحقیقات میں خیالات اور احساسات کے اشتراک اور تفہیم وافہام کے عناصر کو شامل کیا۔ ایڈورڈ سعید کا تعلق بھی اسی گروہ تھا جس نے استشراق کے مناہج پر عالمانہ اور مسلسل تنقید کر کے منفرد طور پر اس رجحان کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالا۔ ایڈورڈ سعید کی تنقید کا تعلق ایک وسیع تر علمی وفکری تحریک سے بھی تھا جس کے پس پشت، جزوی طور پر، غیر مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے محققین تھے۔ اس تحریک نے نہ صرف مستشرقین کے مسخ شدہ تصورات کا پردہ چاک کیابلکہ ایشیائی اور افریقی معاشروں کی تاریخ نسبتاً ہمدردانہ زاویہ نگاہ سے لکھ کر ان کی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی بھی کوشش کی۔ دوسرے لفظوں میں اس دور میں مغرب کے بعض حلقوں نے ذرا مایوسی کے ساتھ یہ تسلیم کرنا شروع کر دیا کہ مغرب کے سماجی علوم اور مطالعہ انسان سے متعلق شعبوں میں نسل پرستی اور عدم رواداری کا رویہ سرایت کیے ہوئے ہے۔

۵۰ء کی دہائی میں ہی اسلام نے مغرب کے روحانی جستجو رکھنے والے بعض مفکرین کی توجہ بھی حاصل کی۔ یہ مفکرین اپنے معاشروں میں رائج روحانی روایت کی کم مائیگی سے مایوس ہو کر اس طرف متوجہ ہوئے تھے۔ انھوں نے مستند صوفیوں (یعنی ایسے مسلمان جو شریعت کے احکام کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ اسلام کے داخلی پہلووں کو بھی تربیت حاصل کرتے ہیں) کے ساتھ روابط کے ذریعے سے اسلام کا جو گہرا فہم حاصل کیا، اس نے انھیں اسلام کے مابعد الطبیعیاتی اور روحانی زاویہ نگاہ سے متعلق، خواہ اس کی عکاسی اسلام کے پیروکاروں کے عمل کی صورت میں ہو رہی ہو یا اسلامی دنیا کے فن خطاطی، فن تعمیر اور اب تک چلے آنے والے روایتی ہنروں میں اس کا اظہار ہو رہا ہو، متعدد غیر معمولی کتابیں تصنیف کرنے کا موقع فراہم کیا۔ رینے گینوں، ٹائٹس برک ہارڈ، Frithjof Schuon، مارٹن لنگز، Charles Le Gai Eaton اور دیگر مفکرین نے اس بات کے قطعی شواہد پیش کیے کہ اسلام ایک بالکل منفرد روحانی زاویہ نگاہ پیش کرتا ہے جو ایک گہری مذہبی زندگی کے لیے سہارا بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم مذکورہ تبدیلی کے بالکل مخالف سمت میں استشراق کا ایک بالکل نیا رجحان بھی جنگ عظیم کے بعد کے دور میں تشکیل پا رہا تھا۔ اس رجحان کی بنیاد اسلام کے کسی نئے تصور پر نہیں، بلکہ زیادہ تر پرانے استشراقی خیالات کی ترتیب نو پر تھی اور اس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے عمل دخل میں اضافہ اور ان کے تسلط کو قائم کرنا تھا۔ برنارڈ لیوس کی قیادت میں اس نئی استشراقی مکتب فکر نے یہ دعویٰ کیا کہ مسلم دنیا ایک ناکام تہذیب ہے۔ بعض دوسرے شواہد کے علاوہ اس مکتب فکر کا استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشرے جدیدیت کو اپنانے میں ناکام ہو گئے ہیں کیونکہ اسلام میں سیاست اور مذہب کا امتزاج اس کے لیے جمہوریت کو ناقابل قبول ٹھہراتا ہے، اسلام خواتین اور اقلیتوں کے لیے مساوی حقوق کا قائل نہیں، اور اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ جب تک ساری دنیا پر اسلامی قانون کی بالادستی قائم نہ ہو جائے، وہ مسلسل جنگ جاری رکھیں۔مختصراً یہ کہ جدیدیت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے میں ناکامی اور اپنے بے لچک رویے کے باعث اسلام موجودہ تہذیب یعنی مغربی مفادات کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ 

نئے روپ میں سامنے آنے والی اس استشراقی فکر میں جدت کا پہلو بس یہ ہے کہ اس کے عزائم، اس کے علم بردار اور وہ دشمن جس کی تباہی کو وہ اپنا ہدف قرار دیتی ہے، نئے ہیں۔ اس کے عزائم یہ ہیں کہ مشرق وسطیٰ کو نسلی، فرقہ وارانہ اور مذہبی بنیادوں پر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کے لیے امریکا کی پشت پناہی حاصل کی جائے، یعنی مغرب کی دست نگر ریاستوں کا ایک نیا نظام وجود میں لایا جائے جو علاقے پر اسرائیل کے طویل مدتی تسلط کو قائم رکھنے کے لیے مددگار ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم استشراقی فکر کی اس ترتیب نو میں جن محققین کا حصہ سب سے زیادہ ہے، وہ زیادہ تر یہودی ہیں جو اب ماضی کے بالکل برعکس کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی براہ راست وجہ مشرق وسطیٰ کے قلب میں نوآبادیاتی طریقے پر آباد کاری کرنے والی ایک یہودی ریاست کا قیام ہے۔ صہیونی جانتے تھے کہ اسرائیل کے قیام میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس کی طویل المدت بقا اسلام اور مغرب کے مابین جنگ کے شعلے بھڑکانے پر منحصر ہوگی۔ صہیونیت نے اس مقصد کے حصول کے لیے خود بھی عربوں کے خلاف جنگیں لڑی ہیں اور ۱۹۶۷ کے بعد سے مغربی کنارے اور غزہ پر اپنا ظالمانہ قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے اسرائیل کے ہاتھوں عربوں کی بربادی کے لیے امریکی پشت پناہی حاصل کرنے کی کوششوں میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔

نئے استشراقی مفکرین جو جنگ برپا کرنا چاہتے ہیں، اس کا ہدف وہ مختلف تعبیرات کی صورت میں اسلامی بنیاد پرستی، اسلامی دہشت پسندوں، اسلامی فاشسٹوں یا اسلامی دہشت گردوں کو قرار دیتے ہیں۔ اصطلاح جو بھی استعمال کی جائے، اس کے دائرے میں وہ تمام اسلامی تحریکیں آ جاتی ہیں، خواہ تشدد کے سیاسی استعمال کے حوالے سے ان کا موقف کچھ بھی ہو، جو ۱۹۴۵ء سے مشرق وسطیٰ کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم کے مقابلے کے لیے مقامی، قومی اور عالم اسلام کی سطح پر مزاحمت کو مہمیز دینے کے لیے اسلامی علامات اور حوالوں کو استعمال کرتی ہیں۔یہ اسلامی مزاحمتی تحریکیں جو قومی سطحوں پر بھی سرگرم عمل ہیں اور قومی سرحدوں سے بالاتر ہو کر بھی، ان سیکولر قوم پرستوں کی جگہ لے چکی ہیں جنھیں ان کے مقاصد کے حصول میں ناکامی کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے اسلامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے اپنی صفوں میں شامل کر لیا۔

گزشتہ چند دہائیوں میں رونما ہونے والے واقعات ، مثلاً مسلم مزاحمت کا ظہور، امریکہ اور اسرائیل کا باہمی مفادات پر مبنی گٹھ جوڑ، اور اسلامی دنیا کے خلاف چھیڑی جانے والی حالیہ جنگ، ان سب کی پیش بینی کی جا سکتی تھی، بلکہ جب برطانیہ نے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی ذمہ داری اٹھائی تو فی الحقیقت ان حالات کی پیش بینی کر لی گئی تھی۔ بین الاقوامی امور پر لکھنے والے ایک امریکی قلم نگار ہربرٹ ایڈمز گبنز نے برطانوی اور صہیونی منصوبوں کے طویل المدت نتائج کے بارے میں اس وقت کے صف اول کے مغربی مدبرین کے مقابلے میں زیادہ بصیرت کا ثبوت دیا۔ جنوری ۱۹۱۹ء میں اس نے لکھا: ’’اگر امن کانفرنس یہودیوں کوفلسطین میں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس علاقے میں یہودیوں کی نقل مکانی اور علاقے کی ترقی کی ضمانت صرف اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب ایک اچھی خاصی فوج غیر معینہ مدت کے لیے علاقے میں موجود رہے۔ نہ صرف فلسطین میں آباد نصف ملین مسلمانوں کو بلکہ قرب وجوار کے ممالک کے کروڑوں مسلمانوں کو طاقت کی مسلسل نمایش اور بعض اوقات اس کے استعمال کے ذریعے سے تابعداری پر مجبور رکھنا پڑے گا۔‘‘

اس سے بھی زیادہ درست پیش گوئی کرتے ہوئے Anstruther MacKay نے، جو جنگ عظیم اول میں فلسطین کے ایک علاقے میں فوجی گورنر تھا، لکھا کہ صہیونی منصوبہ ’’ان مغربی طاقتوں کے خلاف جنھوں نے اس کی اجازت دی، مسلمانوں میں خوف ناک نفرت اور جنونیت پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ اس مخاصمت کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے اور اس سے شام، عراق، مصر اور انڈیا میں مسائل پیدا ہوں گے۔ مستقبل کے مورخین سفید اور براؤن نسلوں کے مابین چھڑنے والی عظیم جنگ کا سبب بھی اسی کو قرار دیں گے ، اور اس جنگ میں امریکہ کو بلاشبہ گھسٹنا پڑے گا۔‘‘

اس وقت ہم اسی مستقبل میں جی رہے ہیں جس کی پیش گوئی گبنز اور میک کے نے کی تھی۔ مسلم مزاحمت کو منصہ شہود پر آنے میں کچھ وقت لگا لیکن اب یہ ایک یا دوسری شکل میں شام، عراق، مصر اور انڈیا سے لے کر مسلم دنیا کے دور دراز کونوں تک بلکہ مغرب میں مقیم مسلم تارکین وطن میں بھی پھیل چکی ہے۔ اہل علم کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اس نئے استشراقی محاذ کو ٹھیک ٹھیک سمجھیں، اس کے اثرات وعواقب کو متعین کریں، اس کا تناظر طے کریں اور اس کی تردید کریں۔ ہمیں دنیا کو اور بالخصوص مغربی دنیا کو، جو ٹی وی اسکرین پر دکھائے جانے والے (پرتشدد) مناظر کے سحر میں گرفتار ہے، یہ بات مسلسل یاد دلاتے رہنے کی ضرورت ہے کہ ان کی امن کی امیدوں کو پریشان کرنے والے ان مناظر کے پیچھے مغرب کی پھیلائی ہوئی تباہ کاریوں، جنگوں، نوآبادیاتی نظام، غلامی، نسلوں کے خاتمے، استحصال، فریب اور منافقت کی ایک طویل تاریخ ہے اور ان کی جڑیں سنگین نا انصافیوں میں پیوست ہیں۔

تاریخ مظلوموں کی ساتھی ہے۔ وہی اس کو درست طور پر بیان کر سکتے ہیں۔ تاریخی حقائق کی نفی کرنے کی ضرورت ظالموں کو پیش آتی ہے جواپنے مظالم کو چھپانے کے لیے من گھڑت تاریخ بنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ بغاوتوں، دہشت گرد حملوں، عالمی امن کو لاحق خطرات اور مہذب نظام کے خلاف تشدد کو کچلنے کی ضرورت پر مسلسل اور بے تکان زور دیتے رہیں۔ ہمیں بھی گزشتہ چار صدیوں میں مغربی تباہ کاریوں کی تاریخ کو بار بار سامنے لانا ہوگاتاکہ ہم دنیا کی موجودہ بدحالی کے اسباب مغرب کی شرم ناک تاریخ میں دکھا سکیں۔

(بشکریہ ڈان۔ ترجمہ: ابو طلال)

عالم اسلام اور مغرب